وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے زراعت میاں محمد عمر نے ضلع ملاکنڈ میں محکمہ زراعت توسیع ملاکنڈ کے دفتر میں کاشتکاروں کیلئے کھلی کچہری کا انعقاد کیا۔ کھلی کچہری میں ایڈیشنل سیکرٹری محکمہ زراعت دل نواز، ڈپٹی کمشنر ملاکنڈ محمد فیاض شیرپاؤ، ڈائریکٹر زراعت توسیع ضم اضلاع مراد علی، ڈسٹرکٹ ڈائریکٹر محکمہ زراعت توسیع ملاکنڈ محمد وسیم، ڈپٹی ڈائریکٹر زراعت فراد سمیت کاشتکاروں کی بڑی تعداد موجود تھے۔ مشیر زراعت میاں محمد عمر نے کھلی کچہری میں کاشتکاروں کے مسائل تفصیل سے سنے اور بعض مسائل موقع پر حل کرنے کے احکامات جاری کئے۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے مشیر زراعت میاں محمد عمر نے کہا کہ ضلع ملاکنڈ کے کسانوں کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کئے جائیں گے اور اس سلسلے میں تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔ ضلع ملاکنڈ کے کاشتکاروں کو چھوٹی مشینری سستی قیمت پر تین مہینے بعد دی جائیگی اس کے علاوہ سبسڈائز قیمت پر ڈریپ ایریگیشن سسٹم، سپرنکل ایریگیشن سسٹم اور فری ورٹیکل فارمنگ بھی دی جائیگی۔ مشیر زراعت نے ضلع ملاکنڈ میں رائس ریسرچ سنٹر اور لوئر دیر میں زرعی ریسرچ اسٹیشن کے قیام کا بھی اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ضلع ملاکنڈ کے کاشتکاروں کو سبسڈائزنرخ پر لینڈ لیولنگ کی سہولت بھی فراہم کی جائیگی تاکہ وہ آسانی کیساتھ کاشتکاری کرسکیں۔ انہوں نے کہا کہ کاشتکاروں کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کیلئے شکایات سیل قائم کیا ہے جس میں ای منسٹر پورٹل اور موبائل فون نمبرکے ذریعے شکایات درج کی جاتی ہے اور اس پر فوری موثر کاروائی ہوتی ہے۔ اگر کوئی بھی آفیسر کمیشن یا رشوت کی ڈیمانڈ کرتاہے تو اس کیخلاف فوری طورپر شکایت درج کریں۔انہوں نے کہا کہ کرپشن کیخلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر سختی سے عملدرآمد کیا جائے گا۔اس سے قبل مشیر زراعت نے ضلع ملاکنڈ کے زراعت توسیع دفتر میں میوہ دار پودا لگاکر مون سون شجرکاری مہم کا افتتاح کیا۔انہوں نے کہا کہ ضلع ملاکنڈ کے کاشتکاروں میں ڈسٹرکٹ فنڈ سے3900 مفت میوہ دار پودے تقسیم کئے جائیں گے جس میں آم، امرود، انجیر،انار اور لوکاٹ شامل ہیں۔ علاوہ ازیں مشیر زراعت میاں محمد عمر نے ضلع ملاکنڈ کے زراعت توسیع، واٹر منیجمنٹ، سائل اینڈ واٹرکنزرویشن آفیسران کیساتھ اجلاس کا بھی انعقاد کیا۔ مشیر زراعت نے کہا کہ کوئی بھی آفیسر غلط کام نہ کریں اور کرپشن کیخلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنائے۔انہوں نے آفیسران پر زور دیا کہ وہ ایمانداری سے کام کریں اور کسی کے پریشر میں نہ آئے۔ کسانوں کو ریلیف دینا ہماری بنیادی ذمہ داری ہے۔
