خیبر پختونخوا کےوزیر قانون آفتاب عالم کی زیرصدارت قانون ساز کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں ضابطہ فوجداری (خیبرپختونخوا) ترمیمی بل 2025 کے قانونی، آئینی اور انتظامی پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں ایڈوکیٹ جنرل خیبرپختونخوا شاہ فیصل اتمان خیل، سپیشل سیکرٹری محکمہ داخلہ میڈم شگفتہ، ایڈووکیٹ جنرل آفس، پشاور ہائی کورٹ، محکمہ قانون، محکمہ داخلہ، محکمہ خزانہ، بورڈ آف ریونیو اور دیگر متعلقہ محکموں کے نمائندوں نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران مجوزہ ترمیمی بل کی مختلف دفعات پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا اور اس کے صوبے کے فوجداری نظام، تفتیشی عمل، عدالتی کارروائی اور انصاف کی بروقت فراہمی پر ممکنہ اثرات کا جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی نے بالخصوص انسدادی (Preventive) اور عدالتی (Adjudicative) مجسٹریسی سے متعلق مجوزہ اصلاحات پر تفصیلی بحث کی، جن کا مقصد دونوں شعبوں کے اختیارات اور دائرۂ کار کو واضح بنانا، فوجداری نظامِ انصاف کو مزید مؤثر بنانا، اداروں کے درمیان بہتر ہم آہنگی پیدا کرنا اور قانونی کارروائی کو زیادہ مؤثر اور منظم بنانا ہے۔کمیٹی نے اس امر پر زور دیا کہ مجوزہ اصلاحات کو آئین، موجودہ قوانین اور عوامی مفاد سے مکمل ہم آہنگ رکھا جائے تاکہ فوجداری نظامِ انصاف کو مزید شفاف، مؤثر اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ بنایا جا سکے۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر قانون آفتاب عالم نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت نظامِ انصاف کو مضبوط بنانے اور قانونی اصلاحات کے عمل کو تیز کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قانون سازی کا بنیادی مقصد ایسے قوانین متعارف کرانا ہے جو شہریوں کے حقوق کا مؤثر تحفظ کریں، عدالتی نظام کی کارکردگی میں بہتری لائیں اور فوجداری نظامِ انصاف کو مزید فعال اور جدید خطوط پر استوار کریں۔انہوں نے مزید کہا کہ انسدادی اور عدالتی مجسٹریسی سے متعلق مجوزہ اصلاحات کا مقصد مجسٹریٹوں کے اختیارات اور ذمہ داریوں کو زیادہ واضح اور مؤثر بنانا، قانونی ابہام کا خاتمہ کرنا، قانون کی حکمرانی کو مضبوط بنانا اور انصاف کی فراہمی کے عمل میں شفافیت، مؤثریت اور بنیادی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔اجلاس میں متعلقہ محکموں کے نمائندوں، قانونی ماہرین اور دیگر اسٹیک ہولڈرز نے بھی مجوزہ بل کے مختلف قانونی، تکنیکی اور عملی پہلوؤں پر اپنی آراء اور تجاویز پیش کیں۔ کمیٹی نے سفارش کی کہ تمام متعلقہ فریقین کی آراء کو مدنظر رکھتے ہوئے مسودۂ قانون کو مزید بہتر بنایا جائے تاکہ ایک جامع، قابلِ عمل اور مؤثر قانون مرتب کیا جا سکے۔اجلاس اس عزم کے ساتھ اختتام پذیر ہوا کہ خیبرپختونخوا میں عوام دوست، شفاف اور مؤثر نظامِ انصاف کے قیام کے لیے قانونی اصلاحات کا عمل آئندہ بھی تسلسل کے ساتھ جاری رکھا جائے گا۔
