بی آر ٹی پشاور اور کنٹونمنٹ بورڈ کے مالی واجبات کے معاملے پر اجلاس

خیبرپختونخوا کے وزیرِ قانون، انسانی حقوق و پارلیمانی امور آفتاب عالم کی زیرِ صدارت پشاور میں بس ریپڈ ٹرانزٹ (بی آر ٹی) پشاور اور کنٹونمنٹ بورڈ پشاور کے درمیان مالی واجبات کے معاملے پر اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں معاملے کے قانونی، مالی اور انتظامی پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں مشیرِ خزانہ مزمل اسلم، معاونِ خصوصی برائے ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ سمیع اللہ خان، سیکرٹری محکمہ قانون، سیکرٹری محکمہ ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ، چیف ایگزیکٹو آفیسر بی آر ٹی، پی ڈی اے کے حکام اور دیگر متعلقہ محکموں کے افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں بی آر ٹی منصوبے کے سلسلے میں کنٹونمنٹ بورڈ پشاور کے ساتھ مالی واجبات، سابقہ معاہدوں، ادائیگیوں اور دونوں اداروں کے درمیان ہونے والی خط و کتابت کا جائزہ لیا گیا۔ متعلقہ حکام کی جانب سے معاملے کے پس منظر، مالی ذمہ داریوں اور اب تک ہونے والی پیش رفت سے اجلاس کو آگاہ کیا گیا۔اس موقع پر مشیرِ خزانہ مزمل اسلم نے واضح کیا کہ محکمہ خزانہ کی پیشگی رضامندی (کنکرنس) کے بغیر کوئی بھی سرکاری ادارہ ایسا معاہدہ نہیں کرسکتا جس سے صوبائی حکومت پر مالی ذمہ داری عائد ہو۔ محکمہ خزانہ کی منظوری کے بغیر کیے گئے کسی معاہدے کی ذمہ داری صوبائی حکومت پر عائد نہیں ہوگی۔انہوں نے کہا کہ سرکاری اداروں کو مالی معاملات میں مقررہ قواعد و ضوابط کی سختی سے پابندی کرنی چاہیے اور کسی بھی مالی ذمہ داری کو قبول کرنے سے قبل محکمہ خزانہ کی منظوری حاصل کرنا ضروری ہے۔وزیرِ قانون آفتاب عالم نے کہا کہ بی آر ٹی ایک اہم عوامی منصوبہ ہے، اس سے متعلق مالی اور قانونی معاملات کو باہمی مشاورت اور قانون کے مطابق حل کیا جائے گا۔ انہوں نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ ادارے سابقہ معاہدوں، فیصلوں اور خط و کتابت کا مکمل ریکارڈ پیش کریں تاکہ معاملے کی قانونی اور مالی حیثیت واضح ہوسکے۔انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کسی بھی ادارے کے جائز واجبات سے انکار نہیں کرتی، تاہم ادائیگی یا مالی ذمہ داری کا تعین قانون، معاہدے کی شرائط، دستیاب ریکارڈ اور محکمہ خزانہ کے قواعد کے مطابق ہی کیا جائے گا۔اجلاس میں پی ڈی اے اور بی آر ٹی حکام کو ہدایت کی گئی کہ کنٹونمنٹ بورڈ پشاور کے ساتھ ہونے والی تمام سابقہ خط و کتابت اور متعلقہ دستاویزات کا جائزہ لے کر محکمہ قانون اور محکمہ خزانہ کو فراہم کی جائیں، تاکہ معاملے کے حل کے لیے قانونی طور پر قابلِ عمل طریقہ کار وضع کیا جاسکے۔اجلاس میں اس امر پر اتفاق کیا گیا کہ تمام متعلقہ ادارے باہمی رابطے اور مشاورت کے ذریعے معاملے کو آگے بڑھائیں گے اور کسی بھی مالی ادائیگی یا ذمہ داری کا فیصلہ مکمل قانونی و مالی جانچ پڑتال کے بعد کیا جائے گا۔

مزید پڑھیں