خیبر پختونخوا کے وزیر برائے قانون، انسانی حقوق و پارلیمانی امور آفتاب عالم کی زیر صدارت ضلع کوہاٹ بشمول ضم اضلاع میں زرعی شعبے سے متعلق جاری ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت کا جائزہ لینے کیلئے ایک اہم اجلاس بدھ کے روز پشاور میں منعقد ہوا۔اجلاس میں ڈائریکٹر جنرل سوائل اینڈ واٹر کنزرویشن، ڈائریکٹر جنرل ایگریکلچر ایکسٹینشن، ڈائریکٹر جنرل ایگریکلچر انجینئرنگ، پراجیکٹ ڈائریکٹر کے ڈی ڈی پی کوہاٹ سمیت متعلقہ حکام اور افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں ضلع کوہاٹ اور ضم شدہ علاقوں میں جاری زرعی ترقیاتی منصوبوں، بارانی علاقوں میں زراعت کے فروغ، جدید زرعی ٹیکنالوجی، فارم میکنائزیشن، سولرائزیشن، باغبانی، زیتون کی کاشت، آف سیزن فارمنگ اور کسانوں کو فراہم کی جانے والی سہولیات پر تفصیلی غور کیا گیا۔وزیر قانون آفتاب عالم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کوہاٹ کے پہاڑی علاقوں میں سوائل کنزرویشن کے بیش بہا مواقع موجود ہیں اور وسائل کی منصفانہ تقسیم سے ہی زرعی شعبے میں ترقی کے مقاصد حاصل کئے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ ترقیاتی منصوبوں میں شفافیت، مؤثر نگرانی اور بروقت تکمیل کو یقینی بنایا جائے۔اجلاس میں زرعی شعبے میں سولرائزیشن کے منصوبوں پر خصوصی توجہ دی گئی۔ محکمہ زراعت کے حکام نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ زرعی ٹیوب ویلز اور آبپاشی نظام کو شمسی توانائی پر منتقل کرنے کیلئے مختلف اقدامات جاری ہیں تاکہ کسانوں کو مہنگے ایندھن اور بجلی کے اخراجات سے نجات دلائی جا سکے۔ حکام نے بتایا کہ سولرائزیشن کے ذریعے نہ صرف زرعی لاگت میں نمایاں کمی آئے گی بلکہ دور دراز اور بجلی سے محروم علاقوں میں بھی آبپاشی کا نظام مؤثر بنایا جا سکے گا۔وزیر قانون آفتاب عالم نے کہا کہ موجودہ توانائی بحران اور بڑھتی ہوئی زرعی لاگت کے تناظر میں سولرائزیشن وقت کی اہم ضرورت بن چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شمسی توانائی سے چلنے والے ٹیوب ویلز، واٹر پمپس اور جدید آبپاشی نظام کسانوں کیلئے انقلابی سہولت ثابت ہوں گے، جس سے زرعی پیداوار میں اضافہ اور پانی کے بہتر استعمال کو یقینی بنایا جا سکے گا۔انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ سولرائزیشن منصوبوں میں شفافیت، میرٹ اور معیاری آلات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے تاکہ کسان برادری حکومتی اقدامات سے حقیقی معنوں میں مستفید ہو سکے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سولرائزیشن خصوصاً بارانی اور پسماندہ علاقوں میں زرعی ترقی کیلئے گیم چینجر ثابت ہو سکتی ہے۔محکمہ زراعت کے حکام نے اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ورٹیکل نیٹ فارمنگ، آف سیزن فارمنگ، بانس فروٹس پروڈکشن، بالخصوص آمرود کی پیداوار کے فروغ، زرعی مشینری کی تنصیب اور زرعی کیمیکلز کی فراہمی کے مختلف منصوبوں پر کام جاری ہے۔ وزیر قانون نے مذکورہ ان پٹس کی تقسیم کے طریقہ کار میں شفافیت کو لازم قرار دیتے ہوئے ہدایت کی کہ تمام سہولیات میرٹ اور ضرورت کی بنیاد پر کسانوں تک پہنچائی جائیں۔اجلاس میں حکام نے ٹیلی فارمنگ اور کسانوں تک معلومات کی بروقت فراہمی کے نظام پر بھی بریفنگ دی جبکہ بینیفیشریز لسٹ اور متعلقہ ریکارڈ کے حوالے سے تفصیلات بھی پیش کی گئیں۔آفتاب عالم نے کہا کہ فارم میکنائزیشن کے سلسلے میں مختص کی گئی قیمتی زرعی مشینری کو خستہ حال ہونے سے بچانے کیلئے جامع اقدامات ناگزیر ہیں تاکہ حکومتی وسائل کا مؤثر استعمال یقینی بنایا جا سکے۔محکمہ زراعت کے حکام نے اجلاس کو مزید بتایا کہ زیتون کی کاشت کے فروغ کیلئے وائلڈ اولیو فارمنگ کے تحت 12 ہزار پودوں کی کاشت مکمل کی جا چکی ہے اور فی پودہ 21 کلو تک پیداوار حاصل کی جا رہی ہے۔اس موقع پر وزیر قانون نے کہا کہ فارسٹ ڈپارٹمنٹ کی جانب سے منصوبوں میں کامیابی کی شرح 80 فیصد جبکہ محکمہ زراعت کی جانب سے کامیابی کی شرح 30 فیصد ہے، جس میں مزید بہتری کی گنجائش موجود ہے۔ انہوں نے منصوبوں کی مؤثر تکمیل اور شفاف عملدرآمد کیلئے مانیٹرنگ کے نظام کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ خود ان منصوبوں پر پیش رفت کا جائزہ لینے کیلئے مختلف علاقوں کے دورے کریں گے۔
