کابینہ کی قائمہ کمیٹی کا اجلاس، سرکاری جامعات کی اراضی کے حصول سے متعلق ڈکریٹل واجبات کی ادائیگی کا جامع پلان طلب

خیبرپختونخوا کے وزیر قانون، انسانی حقوق و پارلیمانی امور آفتاب عالم کی زیرِ صدارت کابینہ کی تشکیل کردہ قائمہ کمیٹی کا اہم اجلاس بدھ کے روز محکمہ اعلیٰ تعلیم کے کمیٹی روم، پشاور میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں مردان میں واقع مختلف سرکاری جامعات اور تعلیمی اداروں کے لیے حاصل کی گئی اراضی کے ڈکریٹل واجبات اور ان کی بروقت ادائیگی سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں کابینہ اراکین مینا خان آفریدی، فضل شکور خان، مزمل اسلم، رکن صوبائی اسمبلی ظاہر شاہ طورو، سیکرٹری محکمہ اعلیٰ تعلیم ڈاکٹر عنبر علی خان، ایم ڈی پی کے ایچ اے عثمان غنی، ڈسٹرکٹ اٹارنی مردان، انعام یوسفزئی (اے اے جی)، محمد سلیم، اعجاز الحسن (اے ایس ری/ڈیپ/آئی بی)، شاہد اصغر (اے ڈی جی/ڈی ایس ایل اے)، قیصر عالم (سالیسٹر، محکمہ قانون)، ظہور رحمان (سینئر سی پی او، محکمہ زراعت)، حسن خان (رجسٹرار، عبدالولی خان یونیورسٹی مردان)، پروفیسر ڈاکٹر جواد احمد (ڈین، بی کے ایم سی مردان)، پروفیسر ڈاکٹر محمد عثمان اور پروفیسر ڈاکٹر صدیق الجن (یو ای ٹی مردان)، ڈاکٹر عبدالسلام (رجسٹرار، زرعی یونیورسٹی پشاور)، پروفیسر سرزمین خان، پروفیسر ڈاکٹر گلزار (وائس چانسلر، ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز یونیورسٹی) سمیت دیگر متعلقہ محکموں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔اجلاس میں عبدالولی خان یونیورسٹی مردان، زرعی یونیورسٹی پشاور، یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی (یو ای ٹی) مردان، باچا خان میڈیکل کالج مردان اور امیر محمد خان کیمپس مردان کے لیے حاصل کی گئی اراضی کے ڈکریٹل واجبات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی نے اس امر پر زور دیا کہ تمام واجبات کی ادائیگی شفاف، قانونی تقاضوں کے مطابق اور جامع مالی منصوبہ بندی کے تحت یقینی بنائی جائے۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر قانون آفتاب عالم نے کہا کہ صوبائی حکومت عدالتی فیصلوں پر مؤثر عملدرآمد، سرکاری اداروں کے مالی مفادات کے تحفظ اور اراضی مالکان کے جائز حقوق کی بروقت ادائیگی کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام متعلقہ محکمے باہمی رابطے کے ذریعے درست اعداد و شمار اور قابلِ عمل مالی حکمت عملی مرتب کریں تاکہ مستقبل میں قانونی پیچیدگیوں سے بچا جا سکے۔کمیٹی کے چیئرمین نے ڈپٹی کمشنر آفس مردان کو، جو اس معاملے میں کولیٹر کی حیثیت رکھتا ہے، ہدایت جاری کی کہ آئندہ اجلاس کے لیے ایک جامع پریزنٹیشن تیار کی جائے۔ پریزنٹیشن میں اصل واجب الادا رقم (Principal Amount) کے ساتھ 2 فیصد، 3 فیصد اور 4 فیصد مارک اپ کی بنیاد پر چار، پانچ اور چھ سالہ ادائیگی کے مختلف شیڈولز پیش کیے جائیں تاکہ مالی بوجھ اور ادائیگی کے ممکنہ طریقہ کار کا تقابلی جائزہ لیا جا سکے۔مزید برآں کمیٹی نے ہدایت کی کہ آئندہ اجلاس میں مجموعی طور پر واجب الادا اراضی کا رقبہ، اراضی مالکان کی کل تعداد، اب تک کی جانے والی ادائیگیوں کی مکمل تفصیلات، بقایا واجبات کی مالیت، مجموعی مالی تخمینہ اور باقی ماندہ ادائیگیوں کا جامع ریکارڈ بھی پیش کیا جائے تاکہ حقائق پر مبنی فیصلہ سازی ممکن ہو۔وزیر قانون آفتاب عالم نے اس موقع پر اس عزم کا اعادہ کیا کہ صوبائی حکومت عوامی وسائل کے مؤثر استعمال، قانونی ذمہ داریوں کی بروقت تکمیل اور ترقیاتی منصوبوں کو درپیش مالی و قانونی رکاوٹوں کے مستقل حل کے لیے تمام ضروری اقدامات جاری رکھے گی۔

مزید پڑھیں