
خیبر پختونخوا کے وزیر قانون، انسانی حقوق و پارلیمانی امور آفتاب عالم کی زیر صدارت کابینہ کی تشکیل کردہ قانون ساز کمیٹی کا اجلاس بدھ کے روز پشاور میں منعقد ہوا، جس میں صوبے میں قانون سازی سے متعلق مختلف اہم امور اور مسودات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں وزیر اعلیٰ کے مشیر برائے سماجی بہبود وومن ایمپاورمنٹ و سپیشل ایجوکیشن ملک لیاقت علی خان، ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا شاہ فیصل اتمان خیل،سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو،سیکرٹری محکمہ قانون،سیکرٹری محکمہ ایکسائز ٹیکسیشن و نارکوٹکس کنٹرول،سی ایم آفس کے حکام، بورڈ آف ریونیو، سماجی بہبود،پی ایس آر اے، محکمہ انڈسٹری اور دیگر متعلقہ محکموں کے حکام نے شرکت کی۔اجلاس میں قانون سازی کے عمل کو مؤثر، جامع اور عوامی مفاد سے ہم آہنگ بنانے کے لیے متعلقہ امور پر غور کیا گیا۔اجلاس میں مجوزہ خیبر پختونخوا احساس سوشل پروٹیکشن اینڈ ریزیلینس اتھارٹی ایکٹ 2026 کا جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی نے سماجی تحفظ کے نظام کو مزید مؤثر بنانے، مستحق اور کمزور طبقات کے لیے معاونت کے دائرہ کار کو بہتر بنانے اور قدرتی و دیگر بحرانوں کے دوران عوامی سطح پر لچک اور بحالی کی صلاحیت کو مضبوط بنانے سے متعلق قانونی پہلوؤں پر غور کیا۔اجلاس میں لینڈ ایکوزیشن بل 2026 بھی زیر غور آیا۔ کمیٹی نے اراضی کے حصول کے عمل سے متعلق قانونی طریقہ کار، متاثرہ مالکان کے حقوق، شفافیت اور عوامی منصوبوں کے لیے اراضی کے حصول کے دوران تمام متعلقہ فریقین کے جائز مفادات کے تحفظ سے متعلق مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا۔کمیٹی نے تمباکو سیس اور نیٹ ہائیڈل پرافٹ سے متعلق ڈرافٹ بل پر بھی تفصیلی غور کیا۔ اجلاس میں صوبائی محصولات، مالی حقوق اور صوبے کے وسائل سے متعلق قانونی و آئینی پہلوؤں کا جائزہ لیتے ہوئے اس امر پر توجہ دی گئی کہ مجوزہ قانون سازی آئینی تقاضوں، صوبائی مفاد اور قابلِ عمل مالیاتی طریقہ کار سے ہم آہنگ ہو۔اسی طرح خیبر پختونخوا رجسٹریشن آف گودامز ایکٹ اینڈ رولز 2026 کے ڈرافٹ پر بھی غور کیا گیا۔ مجوزہ قانون سازی کے ذریعے گوداموں کی رجسٹریشن، نگرانی اور متعلقہ انتظامی و قانونی معاملات کو باقاعدہ بنانے کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا تاکہ گوداموں سے متعلق نظام میں شفافیت، جواب دہی اور مؤثر انتظام کو فروغ دیا جا سکے۔کمیٹی نے خیبر پختونخوا پرائیویٹ سکولز ریگولیٹری اتھارٹی ایکٹ 2017 میں ترمیم کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ اجلاس میں نجی تعلیمی اداروں کی مؤثر نگرانی، ریگولیٹری نظام میں بہتری، طلبہ و والدین کے مفادات کے تحفظ اور نجی شعبے میں معیاری تعلیم کے فروغ سے متعلق قانونی پہلوؤں پر غور کیا گیا۔وزیر قانون آفتاب عالم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں قانون سازی کو جدید تقاضوں، عوامی ضروریات اور آئینی و قانونی اصولوں سے ہم آہنگ بنانا حکومت کی ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر مجوزہ قانون کا باریک بینی سے جائزہ لے کر اس کی قانونی حیثیت، عملی افادیت اور عوامی مفاد کو یقینی بنایا جائے گا، جبکہ متعلقہ محکموں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کی قابلِ عمل تجاویز کو بھی قانون سازی کے عمل کا حصہ بنایا جائے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ مؤثر قانون سازی ہی مضبوط انتظامی نظام، عوام کے حقوق کے تحفظ اور صوبے میں بہتر طرز حکمرانی کی بنیاد ہے، اس لیے قانون ساز کمیٹی کے فورم پر ہر مسودے کا جامع اور غیر جانب دارانہ قانونی جائزہ لیا جا رہا ہے۔
