ترقی کا انحصار روایتی ڈگریوں کی بجائے فنی تعلیم پر ہے،صوبائی وزیر قانون

خیبر پختونخوا کے وزیرِ قانون، انسانی حقوق و پارلیمانی امور آفتاب عالم نے کہا ہے کہ کسی بھی قوم کی مستقل اور پائیدار ترقی کا اصل انحصار روایتی ڈگریوں کی بجائے ٹیکنیکی و فنی تعلیم پر ہے۔ نوجوانوں کو جدید فنی مہارتوں سے آراستہ کرنا صوبائی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے کیونکہ تکنیکی طور پر پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے حامل نوجوان صوبے اور ملک کی معاشی ترقی میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے ٹیکنیکل ایجوکیشن محمد عثمان خان بیٹنی کے ہمراہ پشاور میں گورنمنٹ کالج آف ٹیکنالوجی (جی سی ٹی) کوہاٹ کے حوالے سے منعقدہ ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں ایم ڈی ٹیوٹا میاں عبد القادر شاہ، ڈائریکٹر ٹیوٹا،ڈائریکٹر ایکیڈیمک ٹیوٹا، پرنسپل جی سی ٹی کوہاٹ اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ آفتاب عالم نے کوہاٹ کا تناظر پیش کرتے ہوئے کہا کہ 25 سے 30 لاکھ کی آبادی والے اس اہم ضلع میں اگر فنی تعلیمی ادارے فعال نہ ہوں اور نوجوانوں کو جدید ہنر نہ سکھایا جائے، تو اس کا براہِ راست معاشی بوجھ صوبائی ہیڈکوارٹر پشاور پر پڑتا ہے جہاں روزگار کی تلاش میں نقل مکانی بڑھ جاتی ہے۔ اس صورتِ حال کے پیشِ نظر انہوں نے ٹیکنیکل ایجوکیشن کی ترقی، بنیادی اصلاحات اور پبلک سیکٹر کے اداروں کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے سنجیدہ اقدامات پر زور دیا۔اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ 99 کنال رقبے پر محیط جی سی ٹی کوہاٹ NAVTTC سے تسلیم شدہ ہے، جہاں بی ایس سی انجینئرنگ ٹیکنالوجی، ڈی اے ای (سول، الیکٹریکل، مکینیکل) اور ڈی آئی ٹی کے پروگرامز جاری ہیں۔ تعلیمی سال 2025-26 کے دوران ڈی اے ای میں 314 جبکہ بی ایس ٹیک میں 18 طلبہ زیرِ تعلیم ہیں۔ ادارے کو ماڈل انسٹیٹیوٹ کے طور پر منتخب کیا گیا ہے اور تمام ڈی اے ای ٹیکنالوجیز کے لیے CBT سلیکشن کا عمل جاری ہے۔بریفنگ میں کوہاٹ میں آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (OGDCL) کی موجودگی کو مدِ نظر رکھتے ہوئے کالج میں پٹرولیم ٹیکنالوجی کا نیا پروگرام شروع کرنے کی تجویز پیش کی گئی، تاکہ صنعت کے ساتھ روابط قائم کر کے روزگار کے نئے مواقع پیدا کیے جا سکیں۔ اس کے علاوہ طلبہ کو دی جانے والی مختلف اسکالرشپس (KDDP، KCCL اور ZAMA) سمیت ہاسٹل کی سولرائزیشن، این ٹی ایس امتحانی مرکز، پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اور کریش کورسز کے اجرا سے متعلق تجاویز پر بھی غور کیا گیا۔۔ اجلاس میں گورنمنٹ ٹیکنیکل اینڈ ووکیشنل سنٹر فار وومن کوہاٹ کے حوالے سے ادارے کی کارکردگی، طلبہ کی انرولمنٹ، سٹاف کی دستیابی، انفراسٹرکچر اور پیشہ ورانہ تربیتی پروگراموں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس کو گورنمنٹ ٹیکنیکل اینڈ ووکیشنل سنٹر فار وومن کوہاٹ کے انسٹی ٹیوشنل پروفائل کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ادارے میں اس وقت چار مختلف پروگرامز میں مجموعی طور پر 103 طالبات زیر تعلیم ہیں، جبکہ ادارے کی کل سٹاف سٹرینتھ 20 ہے۔ اجلاس میں ادارے میں انرولمنٹ کی کم شرح اور دستیاب وسائل کے باوجود مطلوبہ تعداد میں طالبات کو تربیتی پروگراموں کی جانب راغب نہ کیے جانے پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔اجلاس کو بتایا گیا کہ نیشنل ووکیشنل اینڈ ٹیکنیکل ٹریننگ کمیشن (NAVTTC) کی جانب سے ادارے کو بی گریڈ دیا گیا ہے، تاہم اس کے باوجود ووکیشنل ٹریننگ سنٹر فار وومن کوہاٹ میں انرولمنٹ کی کمی ایک اہم مسئلہ ہے، جس کے تدارک کے لیے مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے۔وزیر قانون آفتاب عالم نے کہا کہ خواتین کو فنی اور پیشہ ورانہ تعلیم و تربیت کی فراہمی حکومت کی اہم ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ ادارے میں انرولمنٹ بڑھانے کے لیے مؤثر آگاہی مہم چلائی جائے اور مقامی سطح پر طالبات اور ان کے والدین کو فنی تعلیم کے فوائد اور روزگار کے مواقع سے متعلق آگاہ کیا جائے۔انہوں نے ادارے کے انفراسٹرکچر کو بہتر بنانے، دستیاب سہولیات کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے اور طالبات کے لیے بہتر تعلیمی و تربیتی ماحول کی فراہمی پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ صرف ادارے کا موجود ہونا کافی نہیں بلکہ اس کے وسائل اور تربیتی پروگراموں سے زیادہ سے زیادہ خواتین کو مستفید ہونا چاہیے تاکہ وہ ہنر حاصل کرکے باعزت روزگار کے مواقع حاصل کرسکیں۔آفتاب عالم نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ ادارے کی کارکردگی، انرولمنٹ اور سہولیات کا باقاعدگی سے جائزہ لیا جائے اور جہاں ضروری ہو وہاں فوری اصلاحی اقدامات اٹھائے جائیں، تاکہ گورنمنٹ ٹیکنیکل اینڈ ووکیشنل سنٹر فار وومن کوہاٹ کو خواتین کی فنی تربیت کا ایک مؤثر اور فعال مرکز بنایا جاسکے۔اجلاس کے اختتام پر وزیرِ قانون نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ وہ جی سی ٹی کوہاٹ کے تدریسی عملے کی کمی، لیبارٹریز کی اپ گریڈیشن، عملے کی رہائشی کالونی، امتحانی ہال اور لینگویج لیب کے قیام سمیت تمام پیش کردہ تجاویز کا تفصیلی جائزہ لے کر فوری اور قابلِ عمل اقدامات اٹھائیں تاکہ طلبہ کو معیاری تعلیمی سہولیات کی فراہمی اور صنعت کے ساتھ مؤثر رابطہ یقینی بنایا جا سکے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مزید پڑھیں