
خیبر پختونخوا اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی برائے محکمہ آبپاشی کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس بدھ کے روز صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ پشاور میں منعقد ہوا، جس کی صدارت ذیلی کمیٹی کے چیئرمین افتخار علی مشوانی نے کی۔ اجلاس میں کمیٹی کے ممبران رکن صوبائی اسمبلی انور خان نے شرکت کی، جبکہ احمد کنڈی اور ساجد اللہ بذریعہ ویڈیو لنک شریک ہوئے۔ اجلاس میں سیکرٹری محکمہ آبپاشی، متعلقہ محکمانہ افسران، محکمہ قانون، محکمہ خزانہ، محکمہ آڈٹ اور صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ کے متعلقہ افسران بھی موجود تھے۔اجلاس کے دوران ڈائریکٹر آڈٹ نے محکمہ آبپاشی سے متعلق مختلف نوعیت کے آڈٹ اعتراضات کمیٹی کے سامنے پیش کیے، جن میں انکم ٹیکس، سروس ٹیکس، ملازمین کو سفری و آمدورفت الاؤنسز کی ادائیگی سمیت دیگر مالی معاملات شامل تھے۔ چیئرمین اور کمیٹی ارکان نے ہر آڈٹ اعتراض کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے متعلقہ حکام سے اعتراضات کی وجوہات، محکمانہ کارروائی اور مالی معاملات میں اختیار کیے گئے طریقہ کار سے متعلق وضاحتیں طلب کیں۔کمیٹی نے بعض آڈٹ اعتراضات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے استفسار کیا کہ متعلقہ معاملات میں محکمانہ اور قبل از محکمانہ جانچ پڑتال کا عمل بروقت کیوں مکمل نہیں کیا گیا۔ چیئرمین افتخار علی مشوانی نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ آئندہ تمام مالی معاملات میں قواعد و ضوابط کی مکمل پابندی یقینی بنائی جائے اور ایسے معاملات جن پر محکمانہ یا قبل از محکمانہ جانچ پڑتال ضروری ہو، انہیں نظرانداز نہ کیا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سرکاری وسائل کے استعمال میں شفافیت، مالی نظم و ضبط اور مقررہ قواعد پر عمل درآمد کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔اجلاس میں پیش کیے گئے آڈٹ اعتراضات کا ایک ایک کرکے تفصیلی جائزہ لیا گیا اور متعلقہ حکام کی جانب سے فراہم کردہ وضاحتوں اور ریکارڈ کی روشنی میں بعض اعتراضات کو نمٹا دیا گیا، جبکہ دیگر اعتراضات کو مزید تصدیق اور جانچ پڑتال کے لیے محکمہ آڈٹ کی تصدیق سے مشروط کیا گیا۔ کمیٹی نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ زیرِ التوا اعتراضات کے حوالے سے تمام ضروری ریکارڈ اور دستاویزات بروقت فراہم کیے جائیں تاکہ ان معاملات کو قواعد کے مطابق حتمی طور پر نمٹایا جا سکے۔اجلاس کے اختتام پر پبلک اکاؤنٹس کی ذیلی کمیٹی کے چیئرمین افتخار علی مشوانی نے محکمہ آبپاشی کے حکام کو ہدایت کی کہ ذیلی کمیٹی کی جانب سے کیے گئے فیصلوں اور جاری کردہ ہدایات پر من و عن عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے مزید ہدایت کی کہ کمیٹی کے فیصلوں پر عمل درآمد اور زیرِ التوا آڈٹ اعتراضات سے متعلق تفصیلی پیش رفت رپورٹ آئندہ اجلاس سے قبل ذیلی کمیٹی کے سامنے پیش کی جائے، تاکہ سرکاری مالی معاملات میں شفافیت اور جوابدہی کے عمل کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔
