Home Blog Page 127

نورالبشر نوید کے اعزاز میں رنگا رنگ مازیگرے

پشاور میں نیاز ادبی سنگر کے زیرِ اہتمام پشتو ادب کے نامور شاعر، ادیب، صحافی، ڈرامہ نگار اور ترقی پسند فکری رہنما نورالبشر نوید کے اعزاز میں“رنگا رنگ مازیگرے”کے عنوان سے ایک شاندار اور پروقار تقریب منعقد ہوئی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نیاز ادبی سنگر کے سرپرست ڈاکٹر کاظم نیاز نے کہا کہ پشتو محض ایک زبان نہیں بلکہ مکمل ضابطہ حیات اور طرزِ زندگی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پشتو زبان اور ادب کی خدمت کرنے والے افراد ہمارے لیے باعثِ افتخار ہیں اور نورالبشر نوید جیسی شخصیات خصوصی قدر و منزلت کی مستحق ہیں۔ ڈاکٹر کاظم نیاز نے مزید کہا کہ نورالبشر نوید پشتو ادب کا ایک عظیم اور لازوال کردار ہیں۔ پریذیڈیم میں نیاز ادبی سنگر کے چیئرمین پروفیسر اسیر منگل، نامور پشتو شاعر رحمت شاہ سائل، پاکستان ٹیلی وژن پشاور کے سابق سینئر پروڈیوسر و ہدایتکار صلاح الدین، سابق سینئر پروڈیوسر و پروگرام منیجر مسعود احمد شاہ، سابق کمشنر و صوبائی سیکرٹری سید محمد جاوید، پشتو اکیڈمی پشاور یونیورسٹی کی ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر فرخندہ لیاقت، نیاز ادبی سنگر کے کابینہ رکن محمد زبیر خان اور سنگر کی “آرٹ ونگ” کے سربراہ نورالبشر نوید موجودتھے۔نورالبشر نوید نے اپنی گفتگو میں نیاز ادبی سنگر کے سرپرست ڈاکٹر کاظم نیاز سمیت سنگر کی پوری کابینہ، کلچر ونگ، ہنری ونگ اور تقریب میں شریک تمام معزز مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے روزنامہ وحدت کے ایڈیٹر سید ہارون شاہ اور دیگر دوستوں کا بھی خصوصی طور پر شکریہ ادا کیا جنہوں نے انہیں شیلڈز، گلدستے اور تحائف پیش کیے۔ نورالبشر نوید نے کہا کہ شرکاء کی محبت اور خلوص نے ان کے دل میں سب کے لیے محبت اور دوستی کو مزید مضبوط کر دیا ہے۔پروفیسر اسیر منگل نے کہا کہ نورالبشر نوید ایک اعلیٰ معیار کے قوم پرست ادیب، فکری جدوجہد کرنے والے دانشور اور ترقی پسند شاعر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پشتونوں کا اتحاد اور اتفاق بشر نوید کی شاعری، صحافت اور سیاسی فکر کا مرکزی پیغام ہے اور ان کا نظریہ ایک آفاقی انسانی نظریہ ہے۔
نامور شاعر رحمت شاہ سائل نے کہا کہ نورالبشر نوید فکر و عمل کے میدان وسیع ہیں اور جس میدان میں بھی انہوں نے قدم رکھا، محبت اور اخلاص کے ساتھ کامیابی حاصل کی۔ انہوں نے نیاز ادبی سنگر کو زندہ شخصیات کے اعزاز میں تقریبات منعقد کرنے پر خراجِ تحسین پیش کیا۔اس موقع پرصلاح الدین نے کہا کہ نورالبشر نوید گہرے فکری شعور کے حامل ڈرامہ نگار ہیں اور ڈاکٹر محمد اعظم اعظم کے بعد وہ پشتو کے نمایاں ڈرامہ نویس ہیں۔مسعود احمد شاہ نے کہا کہ نورالبشر نوید سنجیدہ اور مزاحیہ دونوں اقسام کی ڈرامہ نگاری میں اعلیٰ مقام رکھتے ہیں۔نیاز ادبی سنگر کے وائس چیئرمین اور قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد کے ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر حنیف خلیل نے کہا کہ نورالبشر نوید کی فکری و عملی خدمات شاعری، افسانہ، ڈرامہ، کالم نگاری، ادبی صحافت اور قومی ترقی پسند سیاسی فکر پر مشتمل ہیں، اور وہ ان تمام میدانوں میں منفرد مقام رکھتے ہیں۔نورالبشر نوید کے صاحبزادے منصور نوید نے کہا کہ انہیں فخر ہے کہ آج ان کے والد کے اعزاز میں یہ شاندار تقریب منعقد ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے والد نے ادب، صحافت اور سیاست میں مقام حاصل کرنے کے لیے سخت جدوجہد کی اور وہ ان کے استاد، دوست اور رہنما ہیں۔تقریب میں پروفیسر ڈاکٹر محمد زبیر حسرت، فرید اللہ شاہ حساس اور نیاز ادبی سنگر کے میڈیا سیکرٹری صادق امن زئی نے نورالبشر نوید کی زندگی اور فن پر مقالے پیش کیے، جبکہ معروف ادیب و صحافی روخان یوسفزئی نے ان پر خاکہ پیش کیا۔نامور شعرا رحمت شاہ سائل، ڈاکٹر کاظم نیاز، فضل سبحان عابد، نمروز قیس، جوہر خلیل اور حمیدالرحمان نادان جبکہ نیاز ادبی سنگر کے وائس چیئرمین امجد علی خادم نے معروف ادیب و شاعر نورالبشر نوید کو منظوم عقیدت پیش کی۔اس سے قبل ذہین بچوں حسن منیر اور فریال منیر نے مکالماتی انداز میں نورالبشر نوید سے اپنی محبت اور ان کی شفقت کا خوبصورت اظہار کیا، جسے حاضرین نے بے حد سراہا۔رنگا رنگ مازیگرے کی دوسری نشست میں ثقافتی پروگرام کا انعقاد کیا گیا، جس میں نیاز ادبی سنگر کے کلچر ونگ کے سربراہ فیاض خان خیشگی، سنگر کی کابینہ کے رکن وقار لائق، کلچر ونگ کے اراکین واجد لائق اور شمال نیاز نے موسیقی کے ساتھ نورالبشر نوید کا منتخب کلام پیش کیا، جس سے تقریب کی خوبصورتی اور رنگینی میں مزید اضافہ ہوا۔اس موقع پر کلچر ونگ کے معاون سربراہ شاکر زیب نے امریکہ سے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی اور نوید کی خوبصورت کلام موسیقی کے ساتھ پیش کیا۔تقریب کے اختتام پر نیاز ادبی سنگر کی جانب سے نورالبشر نوید کو پشتو زبان، ادب اور ثقافت کے لیے گراں قدر خدمات کے اعتراف میں لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ دیا گیا۔ اس موقع پر مختلف ادبی حلقوں کی جانب سے شیلڈز، گلدستے اور خصوصی تحائف بھی پیش کیے گئے۔تقریب میں نیاز ادبی سنگر کے جنرل سیکرٹری فریدون خان, سنگر کابینہ کے اراکین قیصر کاکاخیل, آرٹ ونگ کے معاون سربراہ جمشید علی خان, ستار خان, کشر ہارون الرشید سمیت صوبے کے مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والی ممتاز شخصیات، ادیبوں، شاعروں، صحافیوں، فنکاروں اور سماجی کارکنوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

سیکریٹری محکمہ ایکسائز و ٹیکسیشن اور نارکوٹکس کنٹرول کی زیر صدارت ماہانہ ریکوری،کارکردگی اور محکمہ میں جاری ریفارمز بارے جائزہ اجلاس

خیبرپختونخوا کے سیکریٹری محکمہ ایکسائز و ٹیکسیشن اور نارکوٹکس کنٹرول خالد الیاس کی زیر صدرات رواں مالی سال 2025-26 کے سات ماہ (جولائی تا جنوری) محصولات ریکوری اور مقررہ اہداف کے حوالے سے جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں ڈائریکٹر جنرل ایکسائز و ٹیکسیشن اور نارکوٹکس کنٹرول عبدالحلیم خان، ڈائریکٹر ایڈمن شہریار قمر خٹک، متعلقہ ڈائریکٹرز، اور ضلعی ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن آفیسرز موجود تھے۔اس موقع پر سیکریٹری ایکسائز کو تمام ضلعی ایکسائز دفاتر کے مقررہ اہداف اور محصولات ریکوری پر تفصیلی بریفنگ دی گئی جبکہ محکمہ میں جاری مختلف انتظامی اور عوامی سہولیات کے ریفارمز پر پیش رفت سے بھی سیکریٹری ایکسائز کو آگاہ کیا گیا۔ سیکریٹری ایکسائز نے مقررہ اہداف کے حصول کو یقینی بنانے اور محصولات ریکوری کیلئے کوششیں مزید تیز کرنے کے احکامات جاری کئے۔ انھوں نے اس موقع پر مزید احکامات جاری کرتے ہوئے کہا کہ صوبہ بھر میں بڑے ٹیکس نادھندان کے خلاف قانون کے مطابق خصوصی مہم کا آغاز کیا جائے، ٹوکن ٹیکس نادہندہ گان اور غیر رجسٹرڈ گاڑیوں /موٹر سائیکلوں کے خلاف کاروائیاں تیز کی جائے۔انھوں نے کہا کہ ریجنل ڈائریکٹرز ایکسائز اور ضلعی ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن آفیسرز محکمہ کی کارکردگی اور محاصل ریکوری مزید بہتر بنانے کیلئے خصوصی اقدامات اٹھائے اور عوام کو ہر ممکن سہولت فراہم کی جائے اور کسی قسم شکایت کا موقع نہ دیا جائے۔سیکریٹری ایکسائز نے کہا کہ ڈسپلن کی خلاف ورزی اور ڈیوٹی میں غفلت کسی صورت برداشت نہیں کی جائیگی، خلاف ورزی کرنے والے افسران و اہلکاروں کے خلاف سخت قانونی کاروائی عمل لائی جائیگی۔

خیبر پختونخوا اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کا اجلاس پیر کے روز صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ میں منعقد ہوا

خیبر پختونخوا اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کا اجلاس پیر کے روز صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ میں منعقد ہوا، جس کی صدارت چیئرمین قائمہ کمیٹی و ممبر صوبائی اسمبلی افتخار علی مشوانی نے کی۔ اجلاس میں اراکین قائمہ کمیٹی وممبران صو بائی اسمبلی محمد عبدالسلام افریدی، عدنان خان، محترمہ ثوبیہ شاہد، محترمہ شہلا بانو اور محترمہ نیلوفر بابر نے شرکت کی۔ اس کے علاوہ سیکرٹری ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن، محکمہ قانون، چیئرمین ٹیکس بورڈ پشاور، پی اینڈ ڈی ڈیپارٹمنٹ اور صوبائی اسمبلی خیبر پختونخوا کے متعلقہ افسران بھی اجلاس میں موجود تھے۔اجلاس میں 7 فروری 2026 کو ہونے والے گزشتہ اجلاس میں دیے گئے احکامات پر عملدرآمد کا جائزہ لیا گیا۔ متعلقہ محکمے نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ صوبے کے مختلف اضلاع میں بعض اسکولوں کی زمینوں پر مالکان کی جانب سے قبضے کیے گئے ہیں، جن کا مؤقف ہے کہ انہوں نے زمین اس شرط پر دی تھی کہ ایک کلاس فور ملازم ان کے خاندان سے رکھا جائے گا۔ اس پر کمیٹی اراکین نے ہدایت کی کہ ایسے تمام سکولوں کا ضلعی تفصیلی ڈیٹا آئندہ اجلاس میں اسمبلی کے سامنے پیش کیا جائے۔محترمہ نیلوفر بابر کے سوال پر کمیٹی کو بتایا گیا کہ ضلع چترال میں اسکولوں کی ضروری مرمت اور نئے کمروں کی تعمیر کا کام جاری ہے، جن میں سے پانچ اسکولوں کا کام مکمل ہو چکا ہے۔ محترمہ ثوبیہ شاہد نے ضلع دیر میں 1960 میں تعمیر ہونے والی اسکول عمارتوں کی خستہ حالی اور طلبہ کی کم گنجائش کا مسئلہ اٹھایا اور ان کی فوری ازسرنو تعمیر کے احکامات جاری کرنے پر زور دیا۔ رکن صوبائی اسمبلی محمد عبدالسلام آفریدی کے سوال پر سیکرٹری ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن نے وضاحت کی کہ گریڈ 12 سے 18 تک کے اساتذہ اور دفتری عملے، جو ایک ہی سکول یا ضلع میں دو سال مکمل کر چکے ہیں، کو طے شدہ ٹرانسفر فارمولے کے تحت تبادلہ کیا جائے گا۔سیکرٹری نے مزید بتایا کہ صوبائی کابینہ نے 200 سکولوں کو آؤٹ سورس کرنے کی منظوری دی ہے، جبکہ پہلے مرحلے میں 500 اسکولوں کو اس نظام کے تحت لایا جا رہا ہے تاکہ انرولمنٹ میں اضافہ اور تعلیمی معیار کو بہتر بنایا جا سکے۔ چیئرمین ٹیکس بورڈ پشاور نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ رواں سال درسی کتب کی چھپائی میں تین کروڑ 40 لاکھ روپے کی بچت ہوئی ہے، جس سے سرکاری خزانے کو بڑا فائدہ پہنچا۔ اجلاس کے اختتام پر چیئرمین قائمہ کمیٹی افتخار علی نشوانی نے ہدایت کی کہ صوبے بھر میں تمام خستہ حال اسکول عمارتوں اور کمروں کو فوری طور پر منہدم کر کے نئی محفوظ عمارتیں تعمیر کی جائیں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔

خیبر پختونخوا کے وزیرِ قانون، انسانی حقوق و پارلیمانی امور آفتاب عالم اور وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیرِ خزانہ مزمل اسلم کی زیرِ صدارت خیبر پختونخوا فِسکل ریسپانسبلٹی اینڈ ڈیٹ مینجمنٹ ایکٹ میں مجوزہ ترامیم سے متعلق ایک اہم اجلاس پشاور میں منعقد ہوا

خیبر پختونخوا کے وزیرِ قانون، انسانی حقوق و پارلیمانی امور آفتاب عالم اور وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیرِ خزانہ مزمل اسلم کی زیرِ صدارت خیبر پختونخوا فِسکل ریسپانسبلٹی اینڈ ڈیٹ مینجمنٹ ایکٹ میں مجوزہ ترامیم سے متعلق ایک اہم اجلاس پشاور میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں سیکرٹری محکمہ قانون اختر سعید ترک، محکمہ خزانہ اور دیگر متعلقہ محکموں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران ایکٹ میں مجوزہ ترامیم کے قانونی، مالی اور انتظامی پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور موجودہ شقوں، مجوزہ تبدیلیوں اور ان کے اغراض و مقاصد پر بریفنگ دی گئی۔ خاص طور پر صوبے میں مالی نظم و ضبط، قرضہ جاتی حدود، بجٹ خسارے اور سرمایہ کاری سے متعلق امور پر غور کیا گیا، جن میں قرض لینے کے مقاصد کو محدود کرنا، عارضی کیش ضروریات کے لیے قرض لینے کی شق ختم کرنا، غیر مالی اثاثوں میں سرمایہ کاری کی شرح بڑھانا اور قرضوں کی ادائیگی کی حد کم کرنے کی تجاویز شامل تھیں۔متعلقہ حکام نے بتایا کہ مجوزہ ترامیم کا مقصد صوبے میں مالی نظم و ضبط کو مزید مضبوط بنانا، قرضہ جات کے مؤثر انتظام کو یقینی بنانا اور مالی شفافیت کے تقاضوں سے ہم آہنگ قانون سازی کرنا ہے۔ اس سلسلے میں مجموعی عوامی قرضوں اور گارنٹیز کی حد کم کرنے، پنشن واجبات سے متعلق شق ختم کرنے اور سرکاری اداروں کے قرضوں کو مجموعی حد کے تحت منظم کرنے پر اتفاق کیا گیا۔اجلاس میں قرضہ جاتی نظم و نسق سے متعلق قانون کی شق 11 میں ترمیم پر بھی غور کیا گیا۔وزیرِ قانون آفتاب عالم نے کہا کہ صوبائی حکومت ذمہ دارانہ مالی پالیسی، شفاف حکمرانی اور آئینی تقاضوں کے مطابق قانون سازی پر یقین رکھتی ہے، اور ہدایت کی کہ مجوزہ ترامیم کو قانونی تقاضوں کے مطابق حتمی شکل دے کر صوبائی کابینہ اور اسمبلی میں پیش کیا جائے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ آئندہ کوئی بھی محکمہ قرض لینے سے قبل صوبائی کابینہ کی منظوری کا پابند ہوگا جبکہ گرانٹس کی منظوری وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا دیں گے، اور خودمختار ادارے صوبائی حکومت کی اجازت کے بغیر قرض نہیں لے سکیں گے۔مشیرِ خزانہ مزمل اسلم نے کہا کہ ان اصلاحات کا مقصد محکموں کو کم سے کم قرض لینے اور اپنے وسائل پیدا کرنے کی حوصلہ افزائی کرنا ہے، جس سے صوبے کے خسارے اور غیر ضروری اخراجات میں کمی آئے گی۔ اجلاس میں اس امر پر بھی اتفاق کیا گیا کہ قانون سازی سے قبل تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کو یقینی بنایا جائے تاکہ مجوزہ ترامیم قابلِ عمل اور صوبے کے مالی مفاد کے مطابق ہوں۔

پاکستان کی پڑوسی ممالک سے تجارت تقریباً ختم ہے افغانستان کے ساتھ تجارت پچھلے تین ماہ سے تعطل کا شکار ہے۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم

مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے پاکستان کی معیشت کے حوالے سے ویڈیو بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کی پڑوسی ملکوں کے ساتھ تجارت تقریباً ختم ہو گئی ہے بھارت کے ساتھ پہلے سے ختم ہے ایران کے ساتھ تجارت امریکا کی وجہ سے نہیں ہو رہی اور پچھلے تین مہینوں سے افغانستان کے ساتھ بھی تجارت تعطل کا شکار ہے۔ مزمل اسلم نے کہا کہ جنوری میں برآمدات مثبت سرپرائز تھی کیونکہ تین ارب ڈالر سے زیادہ برآمدات ریکارڈ کی گئی اگر یہ مومینٹم برقرار رھا تو پاکستان کیلئے خوش آئند ہے۔ مزمل اسلم نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان نے ایک تقریب میں ایکسپورٹرز کیلئے اعلانات کیے جن میں ایک اعلان یہ تھا کہ ایکسپورٹرز کو ایکسپورٹ ریفنانس میں ساڑھے چار فیصد کے حساب سے برآمدات پر قرض ملے گا مطلب تین فیصد ریلیف ایکسپورٹرز کو دیا گیا جو ایکسپورٹرز کیلئے اچھی خبر تھی اور یہ ریلیف حکومت نے بینکوں کے کھاتے میں ڈال دیا۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا نے کہا کہ حکومت نے صنعتی بجلی کی یونٹ تقریباً چار روپے کم کرنے کا اعلان کیا ہے جس سے صنعتکار خوش ہوگئے جبکہ ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 200 یونٹس اور 500 یونٹس بجلی والے صارف تقریباً 2 کروڑ 85 لاکھ ہیں جس کے فکسڈ چارجز میں 200 سے 650 روپے تک اضافہ کیا جائے گا جس سے تقریباً 120 ارب روپے حاصل کیے جائیں گے جس سے صنعتکاروں کو 4 روپے فی یونٹ بجلی میں ریلیف دی جائیگی۔ مزمل اسلم نے کہا کہ صنعتکاروں کو بلکل ریلیف دینی چاہیے لیکن جس ملک کی 45 فیصد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہی ہے اس سے پیسے لیکر صنعتکاروں کو دینا ظلم ہے کیا عام عوام کی آمدن بڑھ گئی ہے۔ مزمل اسلم نے کہا کہ 200 یونٹس تک اور پھر 500 یونٹس تک کے صارفین کو بجلی آمدن کے لحاظ سے بہت مہنگی ہے اسلئے بہت سارے چھوٹے صارفین سولر بجلی پر آگئے ہیں۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اپنے اخراجات کم نہیں کر رہی اور نہ ہی اسکادھیان اپنے غلط کیے گئے معاہدے پر جاتا ہے بلکہ غریب کے ساتھ مزید زیادتی کرنے پر اتر آئی ہے۔ کم بجلی والے صارفین پر فکسڈ چارجز میں اضافے سے مزید بوجھ آئے گا۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا نے متحدہ عرب امارات سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ متحدہ عرب امارات نے ویزہ پر سختی عائد کی ہے اور جو دو ارب ڈالر پاکستان کو بطور قرض دئیے تھے وہ پہلے سال کیلئے رول اوور کرتے تھے اب ایک مہینے کیلئے کیے ہیں اور جس پر سود شرح کی ساڑھے چھ فیصد ڈیمانڈ کی ہے۔ ساڑھے چھ فیصد شرح سود 130 ملین ڈالر بنتے ہیں جو پاکستانی روپے میں 36 ارب روپے بنتے ہیں۔حکومت کو خودداری دیکھا کر اس فیصلے پر نظر ثانی کرنی چاہیے۔

ملک بھر میں کامیاب پہیہ جام اور شٹر ڈاؤن ہڑتال مینڈیٹ چور حکومتوں کے خلاف عوامی ریفرنڈم ہے، شفیع جان

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و تعلقات عامہ شفیع جان نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا سمیت ملک بھر میں کامیاب پہیہ جام اور شٹر ڈاؤن ہڑتال مینڈیٹ چور حکومتوں کے خلاف عوامی ریفرننڈم ہے،دو سال قبل عوام نے پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان کو بھاری اکثریت سے مینڈیٹ دیا، مگر بدقسمتی سے اس عوامی مینڈیٹ کو چوری کر کے وفاق، پنجاب، بلوچستان اور سندھ میں کٹھ پتلی حکمران عوام پر مسلط کیے گئے،انہوں نے کہا کہ اتوار کی کامیاب پہیہ جام اور شٹر ڈاؤن ہڑتال جعلی حکومتوں کے خاتمے کی جانب عوام کا پہلا واضح پیغام ہے، صوبے بھر میں کارکنان نے تاریخی ریلیاں نکال کر مینڈیٹ چوری کے خلاف پُرامن احتجاج کیا جو اس بات کا ثبوت ہے کہ عوام جعلی، مینڈیٹ چور اور عوام دشمن حکومتوں کو مسترد کر چکے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ عوام کو ان جعلی حکومتوں سے جلد نجات دلائی جائے گی۔شفیع جان نے کہا کہ عوام کے منتخب حقیقی وزیراعظم عمران خان کو غیر قانونی اور جھوٹے مقدمات میں قید رکھا گیا ہے مگر اس کے باوجود وہ آج بھی عوام کے دلوں میں بستے ہیں،انہوں نے کامیاب شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال پر تاجر برادری اور ٹرانسپورٹرز کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان کی بھرپور حمایت سے یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ وہ بھی وفاقی حکومت کی ناقص معاشی پالیسیوں سے تنگ آ چکے ہیں۔ وفاقی حکومت کے پاس نہ تو ملک کو معاشی طور پر مستحکم کرنے کا کوئی واضح روڈمیپ ہے اور نہ ہی عوامی مسائل کے حل کے لیے کوئی مؤثر پالیسی،معاون خصوصی نے پنجاب میں سرکاری سطح پر بسنت منانے کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد میں دہشت گردی کے واقعے کے باوجود اس تہوار کو جاری رکھنا پنجاب حکومت کی سنگین بے حسی کا ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب پر مسلط جعلی وزیراعلیٰ نے بسنت کی آڑ میں سرکاری وسائل کو ذاتی تشہیر کے لیے استعمال کیا، جبکہ جعلی پنجاب حکومت کی کارکردگی سے عوام شدید نالاں ہیں۔ بسنت کے نام پر عوام کے ٹیکس کا پیسہ بے دریغ ضائع کیا گیا، جو ایک غیر ذمہ دارانہ اقدام ہے،خاص طور پر ایسے وقت میں جب ملک دہشت گردی اور سنگین معاشی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے،انہوں نے مزید کہا کہ پنجاب حکومت کی ناقص پالیسیوں کے باعث کسان رُل گئے ہیں اور جعلی حکومت عوام کے حقیقی مسائل سے مکمل طور پر لاعلم ہے۔ وفاق اور پنجاب کی غیر قانونی اور غیر آئینی حکومتیں عوام کی حقیقی خیرخواہ نہیں ہو سکتیں،صرف عوام کے منتخب نمائندوں کی حکومت ہی عوامی مسائل اور مشکلات کا حقیقی ادراک رکھتی ہے،شفیع جان نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت عوام کے ٹیکس کے پیسوں پر ذاتی تشہیر نہیں کرتی اور سرکاری اشتہارات میں وزیراعلیٰ کی تصویر لگانے پر بھی پابندی ہے۔ سرکاری وسائل کا استعمال سیاسی شوز اور جعلی تشہیری مہمات کے بجائے شفاف انداز میں عوامی فلاح کے لیے ہونا چاہیے۔ قوم وفاقی اور پنجاب حکومتوں کے اس غیر ذمہ دارانہ رویے کو کبھی قبول نہیں کرے گی۔

خیبر پختونخوا کے وزیر برائے ابتدائی و ثانوی تعلیم ارشد ایوب خان نے ٹراما سنٹر ضلع ہری پور کا اچانک دورہ کیا۔ اس موقع پر میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر منور خان آفریدی اپنے اسٹاف کے ساتھ موجود تھے۔

دورے کے دوران صوبائی وزیر نے ایمرجنسی، مختلف وارڈز اور دیگر شعبہ جات کا تفصیلی معائنہ کیا اور مریضوں کو فراہم کی جانے والی سہولیات کا جائزہ لیا۔ انہوں نے ہسپتال میں صفائی کی مجموعی صورتحال پر زور دیتے ہوئے ہدایت کی کہ عوام کو بہتر، معیاری اور بروقت طبی سہولیات کی فراہمی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔
صوبائی وزیر نے متعلقہ حکام کو واضح ہدایات جاری کیں کہ ایمرجنسی اور دیگر وارڈز میں صفائی کے نظام کو مزید مؤثر بنایا جائے اور مریضوں کے علاج معالجے میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ عوام کو صحت کی بہتر سہولیات فراہم کرنا حکومت خیبرپختونخوا کی اولین ترجیحات میں شامل ہے اور اس سلسلے میں تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔

A westerly weather system is likely to affect the upper parts of Khyber Pakhtunkhwa from the night of 8th February to 10th February 2026

According to the Pakistan Meteorological Department (PMD), Regional Meteorological Office Peshawar, a westerly weather system is likely to affect the upper parts of Khyber Pakhtunkhwa from the night of 8th February to 10th February 2026.
Under the influence of this system, rain accompanied by winds and thunderstorms, with snowfall over hilly areas, is expected in Abbottabad, Haripur, Mansehra, Upper and Lower Chitral, Upper and Lower Dir, Swat, Buner, Malakand, Battagram, Shangla, Upper and Lower Kohistan, Kolai Pallas, Torghar, Peshawar, Mardan, Swabi, Nowshera, Charsadda, Bajaur, Mohmand, Khyber, Orakzai, Kurram, Kohat, Hangu, Karak, Bannu, North and South Waziristan, Lakki Marwat, Tank and Dera Ismail Khan, while hailstorms may also occur at isolated places.
Moreover, snowfall may cause slippery road conditions in Naran, Kaghan, Dir, Swat, Kalam, Chitral, Kohistan, Mansehra and Shangla, with chances of landslides and avalanches in upper hilly areas, along with a noticeable drop in daytime temperatures. The general public has been advised to avoid unnecessary travel, especially to hilly and tourist areas, seek shelter in safe and sturdy buildings during adverse weather, stay away from weak structures, electric poles, trees and signboards, and avoid crossing flooded roads, rivers and streams. Tourists have also been advised to check weather and traffic conditions before travel, avoid trekking, hiking and camping, use experienced local drivers, and carry sufficient food, water, medicines and power banks, as road blockages are possible. In case of any emergency, PDMA Khyber Pakhtunkhwa toll-free helpline 1700 may be contacted, which remains operational round the clock.

خیبر پختونخوا کے وزیرِ صحت خلیق الرحمان نے آج دیگر متعلقہ افسران کے ہمراہ بیسک ہیلتھ یونٹ (BHU) وزیر گڑھی کا دورہ کیا۔ اس موقع پر صوبائی وزیرِ صحت نے بی ای ایم او این سی (بنیادی ہنگامی زچگی و نوزائیدہ نگہداشت) یونٹ کے قیام کی افتتاحی تقریب میں شرکت کی۔ یہ یونٹ حمل، زچگی اور بعد از زچگی کے دوران پیدا ہونے والی پیچیدگیوں سے نمٹنے کے لیے جان بچانے والی طبی سہولیات فراہم کرے گا۔

0

بی ایچ یو وزیر گڑھی میں نئے بلاک کی توسیع اور تعمیر کا منصوبہ ہیومن کیپیٹل انویسٹمنٹ پراجیکٹ خیبر پختونخوا کے تعاون سے مکمل کیا جا رہا ہے۔ اس موقع پر ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر نوشہرہ جناب اکرام بھی موجود تھے۔ رکنِ صوبائی اسمبلی اشفاق خان اور رکنِ قومی اسمبلی ذوالفقار خان بھی صوبائی وزیرِ صحت کے ہمراہ تھے کیونکہ یہ علاقہ ان کے حلقہ انتخاب میں شامل ہے۔
توسیعی منصوبے اور نئی عمارت کی تعمیر سے نئے بلاکس اور یونٹس کے لیے اضافی جگہ میسر آئے گی جس سے صحت کی سہولیات میں نمایاں توسیع اور عوام کو بہتر طبی سہولیات کی فراہمی ممکن ہو سکے گی۔ صوبائی وزیرِ صحت کو منصوبے کے دائرہ کار اور علاقے میں بنیادی صحت کی خدمات کو مضبوط بنانے سے متعلق اس کے متوقع اثرات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
دورے کے دوران صوبائی وزیرِ صحت نے بی ایچ یو کے مختلف شعبہ جات کا معائنہ بھی کیا جہاں مریضوں کو طبی سہولیات فراہم کی جا رہی تھیں۔ انہوں نے لیبارٹری، ایکس رے روم اور مائنر پروسیجر روم کا دورہ کیا جہاں ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل اسٹاف اپنی ذمہ داریاں انجام دے رہے تھے اور مریض موجود تھے۔
صوبائی وزیرِ صحت نے میڈیکل آفیسر انچارج کو ہدایت کی کہ مریضوں کے لیے ادویات کی بلا تعطل دستیابی کو یقینی بنایا جائے اور اس بات پر زور دیا کہ بنیادی سطح کے صحت مراکز میں عوام کو طبی سہولیات کی فراہمی میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔
خلیق الرحمان نے کہا کہ محکمہ صحت کو پہلے ہی ہدایت دی جا چکی ہے کہ نئے ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل اسٹاف کی بھرتی کے عمل کو تیز کیا جائے تاکہ تمام بنیادی سطح کے صحت مراکز میں مطلوبہ افرادی قوت کی دستیابی یقینی بنائی جا سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان مراکز میں ضروری طبی آلات کی فراہمی کے لیے بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
حکومت کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے صوبائی وزیرِ صحت نے کہا کہ محکمہ صحت بنیادی سطح پر صحت کے نظام کی بہتری اور بڑے اصلاحاتی اقدامات پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔ ان اصلاحات سے اضلاع کی سطح پر بنیادی صحت کی سہولیات مضبوط ہوں گی، غریب اور مستحق مریضوں کو بروقت علاج میسر آئے گا اور ثانوی و ثالثی سطح کے ہسپتالوں پر بوجھ میں نمایاں کمی آئے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ صوبائی حکومت اور محکمہ صحت ضرورت کے مطابق نئے بڑے ہسپتال قائم کرنے کے عمل میں بھی مصروف ہیں تاکہ پشاور کے سرکاری ہسپتالوں پر بڑھتے ہوئے دباؤ اور رش کو کم کیا جا سکے۔ صوبائی وزیرِ صحت نے اس امید کا اظہار کیا کہ آنے والی ہیلتھ پالیسی سے صحت کے نظام میں پائیدار بہتری آئے گی اور صوبے کے عوام جلد مثبت تبدیلیاں محسوس کریں گے، ان شاء اللہ۔

خیبرپختونخواحکومت کاضلع سوات میں 22کلومیٹرنئی ٹرانسمیشن لائن بچھانے کا فیصلہ

خیبرپختونخواحکومت نے اپنے وسائل سے جاری توانائی منصوبوں سے پیداہونے والی سستی پن بجلی کی ترسیل کے سلسلے میں نیپراکی ہدایات کی روشنی میں ضلع سوات میں ایک نئی ٹرانسمیشن لائن بچھانے کے منصوبے کا فیصلہ کیاہے۔ پشاورالیکٹر ک سپلائی کمپنی (پیسکو) اورپختونخواانرجی ڈیویلپمنٹ آرگنائزیشن (پیڈو) کے درمیان ضلع سوات میں 22کلومیٹرطویل ٹرانسمیشن لائن کی تعمیر کے سلسلے میں اتفاق رائے ہوگیا ہے۔ منصوبے پر آئندہ چند روز میں تعمیراتی کام کا بھی جلد آغازہوجائیگا۔جس سے صوبے کو سالانہ اربوں روپے کی بچت اورآمدن ہوگی۔ اس سلسلے میں سیکرٹری توانائی وبرقیات نثاراحمد کی زیرصدارت ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہواجس میں چیف ایگزیکٹو پیڈوانجینئرانوارالحق،ایڈیشنل سیکرٹری پاوراینڈایڈمن انورخان شیرانی،چیف انجینئرحبیب اللہ شاہ سمیت پیسکوکے ڈائریکٹرجنرل MIRADعاطف جواد،چیف انجینئرڈیویلپمنٹ حبیب الرحمان اوردیگرسینئرافسران نے شرکت کی۔اجلاس میں محکمہ توانائی کے ذیلی ادارے پیڈوکے سوات کوریڈورمیں جاری پن بجلی کے منصوبوں کی تکمیل اورمٹلتان سوات سے بحرین تک 40کلومیٹرٹرانسمیشن لائن کے جاری منصوبے اوراسکے خدوخال کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔ اس موقع پر پیڈوکے آئندہ 2سے 5سالوں کے دوران مکمل ہونے والے پن بجلی منصوبوں کی تکمیل کے بعد بجلی کی موثر ترسیل یقینی بنانے کے سلسلے میں ضلع سوات میں مدین گرڈ سٹیشن سے لے کرخوازہ خیلہ گرڈ سٹیشن تک 22کلومیٹر طویل ٹرانسمیشن لائن کی تعمیرپر اتفاق کیا گیاہے جبکہ منصوبے کے تیکنیکی پہلوں کا جائزہ لینے کے لئے مختلف تجاویز بھی پیش کی گئیں۔ اس موقع پر سیکرٹری توانائی وبرقیات نثاراحمدنے پیڈوکی ٹرانسمیش لائنوں کوبچھانے کے لئے آئندہ سالوں میں مکمل ہونے والے توانائی منصوبوں کے لئے گیم چینجرقراردیا جس سے صوبے کو اپناٹرانسمیشن نیٹ ورک دستیاب ہونے کے ساتھ ساتھ معیشت کے لئے اہم سنگ میل قراردیا۔ انہوں نے پیسکواورپیڈوحکام کو منصوبے کی ریشنلائزیشن،ٹائم لائن اور لاگت کے عمل کو فوری طورپر مکمل کرنے پرزوردیا تاکہ عوامی فلاح کے منصوبے پر جلد کام کا آغاز کیا جاسکے۔واضح رہے کہ مذکورہ منصوبے پر اٹھنے والے اخراجات نیپرا کے اوپن ایکسس ریگولیشن 2022 پروگرام کے تحت ادا کیے جائیں گے۔