صوبے میں ڈیجیٹل گورننس کی طرف ایک اہم اقدام کے طور پر صوبائی کابینہ اجلاسوں کو پیپر لیس بنادیا گیاہے ۔ وزیر اعلی خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈاپور کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کا 36 واں اجلاس منگل کے روز سول سیکرٹریٹ پشاور میں منعقد ہوا، یہ صوبائی کابینہ کا پہلا پیپر لیس اجلاس تھا جس میں کوئی فائل اور کاغذ استعمال نہیں کیا گیا۔ پیپر لیس سسٹم کے تحت کابینہ اجلاس کا تمام ایجنڈا ڈیش بورڈ پر کابینہ اراکین کو فراہم کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ کابینہ اجلاس کی تمام سمریاں بھی ڈیجیٹل سسٹم کے تحت پراسس کی گئیں ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے پیپر لیس اجلاس شروع کرنے پر کابینہ اراکین کو مبارکباد دی اور اس منفرد اقدام کا اجراءیقینی بنانے پر متعلقہ حکام کو خراج تحسین پیشکیا۔ وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ پیپر لیس اجلاس کے انعقاد سے فائلوں کا بوجھ ختم ہوگا ، ڈیجیٹل گورننس کو تقویت ملے گی اور نتیجتاً سرکاری اُمور کو شفاف ، موثر اور تیزرفتار انداز میں نمٹانے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت عمران خان کے وژن کے مطابق ڈیجیٹیل خیبر پختونخوا بنانے کے لئے ایک مربوط حکمت عملی کے تحت اقدامات اٹھارہی ہے، پیپر لیس کابینہ اجلاس کی شروعات بھی انہی کاوشوں کا تسلسل ہے جس کے مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا پیفٹیک کا افتتاح، صوبہ دہشتگردی کے تدارک کے لیے نیا انٹیلیجنس سسٹم متعارف کرانے والا پہلا صوبہ بن گیا
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈاپور نے منگل کے روز محکمہ داخلہ کا دورہ کیا اور محکمہ میں نو قائم شدہ پراونشل انٹیلیجنس فیوژن اینڈ تھریٹ اسسمنٹ سنٹر ( پیفٹیک ) کا افتتاح کیا۔ چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا شہاب علی شاہ بھی وزیر اعلیٰ کے ہمراہ تھے۔ ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ محمد عابد مجید کی جانب سے وزیر اعلیٰ کو نو قائم شدہ پیفٹیک بارے تفصیلی بریفنگ دی گئی ۔وزیراعلیٰ کو بتایا گیا کہ خیبر پختونخوا پیفٹیک قائم کرنے والا ملک کا پہلا صوبہ بن گیا ہے۔ پراونشل انٹیلیجنس فیوژن اینڈ تھریٹ اسسمنٹ سنٹر 210 ملین روپے کی لاگت سے 2 ماہ کے قلیل عرصے میں قائم کیا گیا ہے۔ نو قائم شدہ پیفٹیک وفاقی سطح پر قائم نیفٹیک کے ساتھ منسلک ہے۔ مزید بتایا گیا کہ یہ ملک میں دہشتگردی کی سرگرمیوں کے تدارک اور ملک بھر سے انٹیلیجنس شئیرنگ اینڈ اسسمنٹ کا ڈیجیٹل اور اینٹگریٹڈ نظام ہے۔ اس سسٹم کے تحت وفاقی حکومت اور تمام صوبائی حکومتوں کو انٹگریٹ کیا گیا ہے۔ پفٹیک کے ذریعے دیگر صوبوں اور وفاق سے تھریٹ سے متعلق انٹیلیجنس اور ڈیٹا شیئرنگ کا یکساں نظام قائم کیا رہا ہے۔ مزید بتایا گیا کہ پفٹیک میں ایف آئی اے، نادرا، پی ٹی اے، اینٹلجنس اداروں سمیت 14 مختلف متعلقہ اداروں کو ایک یکساں سسٹم کے تحت یکجا کیا گیا ہے۔ اس کے علاو¿ہ صوبے کے 36 اضلاع کی ڈسٹرکٹ کوارڈینیشن کمیٹیز پفٹیک کے ساتھ براہ راست منسلک ہونگی۔ پیفٹیک کے ذریعے ملک بھر میں رئیل ٹائم اینٹیلجنس شیئرنگ ممکن ہوگی جبکہ اس سسٹم کی مدد سے دہشتگری کی سرگرمیوں کے خلاف یکساں، موثر، بروقت اور منظم کاروائیاں عمل میں لائی جائیں گی اور اس جدید نظام سے انٹیلیجنس اداروں کی استعداد کار کو بڑھانے میں مدد ملے گی۔ وزیر اعلیٰ نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی سطح پر پیفٹیک کا قیام دہشتگردی کے موثر تدارک کے لئے ایک اہم اقدام ہے، دہشتگردی کے خلاف جنگ ایک قومی ایجنڈا ہے اس میں حکومت، عوام اور اداروں سمیت سب کو ایک پیچ پر ہونا ہے۔ دہشتگردی سے موثر انداز میں نمٹنے کے لیے ایک ہمہ جہت سسٹم کا ہونا نا گزیر ہے، امید ہے دہشت گردی کی سرگرمیوں سے متعلق بروقت انٹیلیجنس اور ان کے تدارک میں پیفٹیک اہم کردار ادا کرے گا۔
خیبرپختونخوا میں عوامی مقامات پر فری وائی فائی منصوبہ، پشاور سے پائلٹ سروس کا آغاز ہوگا۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاونِ خصوصی برائے سائنس و ٹیکنالوجی و انفارمیشن ٹیکنالوجی کی صدارت خیبرپختونخوا کے عوامی مقامات پر فری وائی فائی کی فراہمی کے لیے اجلاس کا انعقاد
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین خان گنڈا پور کی ہدایت اور پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے ڈیجیٹل خیبرپختونخوا کے وژن کے تحت، معاونِ خصوصی برائے سائنس و ٹیکنالوجی و انفارمیشن ٹیکنالوجی ڈاکٹر شفقت ایاز نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت عوام کو ڈیجیٹل سہولتوں کی فراہمی کے لیے پرعزم ہے اور اس مقصد کے تحت خیبرپختونخوا کے تمام عوامی مقامات خاص کر جنرل بس سٹینڈ، بازار، عوامی پارکس اور دیگر اہم جگہوں پر مفت وائی فائی کی سہولت فراہم کی جائے گی۔ اس حوالے سے انہوں نے ایک اجلاس کی صدارت کی جس میں دوسروں کے علاوہ ڈی جی سائنس و ٹیکنالوجی بھی موجود تھے۔ اجلاس میں منصوبے کی تفصیلات اور عملدرآمد پر غور کیا گیا۔ڈاکٹر شفقت ایاز نے کہا کہ منصوبے کے پہلے مرحلے میں بطور پائلٹ پروجیکٹ پشاور میں فری وائی فائی سروس شروع کی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ جہاں سرکاری دفاتر یا سرکاری ادارے موجود ہیں، وہاں حکومت یہ سہولت براہِ راست فراہم نہیں کرے گی بلکہ متعلقہ ادارے اپنے فنڈز سے یہ سہولت مہیا کریں گے۔انہوں نے کہا کہ اگر کسی ہسپتال میں یہ سہولت درکار ہو تو ہسپتال اپنی فنڈنگ سے عوام کو فری وائی فائی فراہم کرے گا، جبکہ دیگر عوامی مقامات پر حکومت اپنی سطح پر یہ سروس فراہم کرے گی۔ڈاکٹر شفقت ایاز نے کہا کہ یہ منصوبہ نہ صرف عوام کو انٹرنیٹ تک آسان رسائی فراہم کرے گا بلکہ ڈیجیٹل معیشت، تعلیم، صحت اور عوامی آگاہی میں بھی مددگار ثابت ہوگا۔ انہوں نے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ وہ اس منصوبے کی بروقت اور شفاف تکمیل کے لیے قریبی رابطہ رکھیں، تاکہ چیئرمین عمران خان کے وژن اور وزیراعلیٰ علی امین خان گنڈا پور کی قیادت میں خیبرپختونخوا ڈیجیٹل ترقی کی راہ میں ایک نئی مثال قائم کر سکے۔
وزیر اعلیٰ کی چترال کے لئے ترقیاتی اقدامات کی ہدایت، بلدیاتی نمائندوں سے عوامی مسائل پر مشاورت
وزیر اعلی خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور سے چترال اپر اور لوئر کے تحصیل چئیرمینوں نے پیر کے روز وزیر اعلی ہاوس میں ملاقات کی اور چترال میں بلدیاتی حکومتوں سے جڑے امور اور علاقے میں نچلی سطح کے عوامی مسائل کے حل سے متعلق معاملات پر گفتگو کی۔ صوبائی وزیر بلدیات ارشد ایوب، تحصیل چئیرمین ڈی آئی خان سٹی عمر امین گنڈاپور اور سیکرٹری لوکل گورنمنٹ ثاقب رضا اسلم کے علاوہ پی ٹی آئی چترال کے مقامی قائدین بھی ملاقات میں موجود تھے۔ تحصیل چئیرمینوں نے اپنے اپنے علاقوں میں عوامی مسائل کے بارے میں وزیر اعلی کو آگاہ کیا۔ وزیر اعلی نے ان مسائل کے حل کے لئے موقع پر ہی متعلقہ حکام کو ضروری احکامات جاری کئے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ چترال میں پلے گراونڈز کے لئے زمینوں کی فراہمی کا کیس منظوری کے لئے اگلے کابینہ اجلاس میں پیش کیا جائے اورچترال اپر اور لوئرکو برفباری اور لینڈ سلائیڈنگ سے بند سڑکیں کھولنے کے لئے ملٹی پرپز مشینیں فراہم کی جائیں۔ وزیر اعلی نے مزید ہدایت کی کہ ٹی ایم ایز دروش کے پرانے بقایاجات کی ادائیگیوں کے لئے درکار فنڈز کا بندوبست کیا جائے جبکہ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر بونی میں پینے کے پانی کے مسئلے کے حل کے لئے ضروری اقدامات کئے جائیں۔ منتخب بلدیاتی نمائندوں کے مطالبے پر وزیر اعلی نے ہدایت کی کہ بہتر دیکھ بال کے لیے چترال کے دور افتادہ علاقوں میں ٹی ایم ایز کے تحت مقامی رابطہ سڑکوں کو محکمہ مواصلات کے حوالے کئے جائیں، ٹی ایم اے تور کہو موڑ کہو کے دفتر کی تعمیر کے لئے درکار فنڈز کی فراہمی کے لئے اقدامات کئے جائیں اور گرم چشمہ میں ریسکیو 1122 سب اسٹیشن کے قیام کے لئے ضروری کارروائی عمل میں لائی جائے۔ اپنے گفتگو میں وزیر اعلی کا کہنا تھا کہ عوامی مسائل کو مقامی سطح پر حل کرنے میں بلدیاتی حکومتوں کا اہم کردار ہے اس لئے موجودہ صوبائی حکومت بلدیاتی حکومتوں کو با اختیار بنانے کے لئے اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے اس بات زور دیا کہ بلدیاتی ادارے میونسپل سروسز، بیوٹیفکیشن اور مینٹینس کے کاموں پر فوکس کریں، صوبائی حکومت بہت جلد دیہی علاقوں میں صفائی ستھرائی پروگرام کا اجراء کرنے جا رہی ہے جس کے تحت ویلج کونسلز کی سطح پر صفائی عملہ کی بھرتی کے علاوہ ضروری آلات فراہم کئے جائیں گے اور منتخب بلدیاتی نمائندے اس پروگرام کو موثر اور کامیاب بنانے کے لئے کردار ادا کریں۔ منتخب بلدیاتی نمائندوں نے چترال کی ترقی اور وہاں کے مسائل کے حل میں خصوصی دلچسپی لینے پر وزیر اعلی کا شکریہ ادا کیا۔
سوات میں یتیم بچوں اور بیواؤں میں روشن مستقبل و سہارا کارڈز کی تقسیم، ماہانہ مالی امداد فراہم کی جائے گی۔
خیبر پختونخوا کے وزیر لائیو سٹاک، فشریز و کوآپریٹیو فضل حکیم خان نے صوبائی حکومت کی جانب سے یتیم بچوں اور بیواؤں میں روشن مستقبل اور سہارا کارڈز تقسیم کیے۔ اس موقع پر ضلعی عشر و زکوٰۃ کمیٹی کے چیئرمین ملک آصف علی شہزاد، پی ٹی آئی مینگورہ سٹی صدر و چیئرمین حیدرعلی، پارٹی کارکنان و عہدیداران، مختلف ویلج کونسلوں کے چیئرمین اور متعلقہ حکام بھی موجود تھے۔حلقہ پی کے-6 کے لیے مرحلہ وار 160 یتیم بچوں میں روشن مستقبل کارڈز اور 120 بیواؤں میں سہارا کارڈز تقسیم کیے جائیں گے۔ اس سلسلے میں انصاف ہاؤس سوات میں ایک سادہ مگر پروقار تقریب منعقد ہوئی جس میں صوبائی وزیر نے 25 یتیم بچوں میں روشن مستقبل کارڈز اور 15 بیواؤں میں سہارا کارڈز تقسیم کیے۔ ان کارڈز کے تحت مستحقین کو ماہانہ دس ہزار روپے فراہم کیے جائیں گے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فضل حکیم خان نے کہا کہ یہ کارڈز نہ صرف مالی امداد کا ذریعہ ہیں بلکہ صوبائی حکومت کے عوامی خدمت کے جذبے کی علامت بھی ہیں، ہماری خواہش ہے کہ صوبے کا کوئی فرد بنیادی سہولیات سے محروم نہ رہے۔ روشن مستقبل اور سہارا کارڈز کا مقصد معاشرے کے کمزور طبقے کو مالی تحفظ فراہم کرنا ہے تاکہ وہ روزمرہ ضروریات زندگی کے مسائل سے بہتر طور پر نمٹ سکیں۔انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت قائد عمران خان کے وژن اور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور کے عوام دوست اقدامات کے تحت اس قسم کے فلاحی پروگرامز کو مزید وسعت دے گی تاکہ ہر مستحق فرد تک یہ سہولت پہنچ سکے۔ واضح رہے کہ یہ اقدام حکومت خیبر پختونخوا کی جانب سے فلاحی ریاست کے قیام کی سمت ایک مثبت قدم ہے جسے عوامی حلقوں میں خوب سراہا جا رہا ہے۔
صوبائی وزیر زراعت کے فنڈز سے لشتی کورونہ-حسن بانڈہ روڈ کی تعمیراتی کام کا باقاعدہ آغازکردیاگیا۔
خیبرپختونخواکے وزیر زراعت میجر (ر) محمدسجاد بارکوال کا وعدوں سے تکمیل تک کا عملی سفر کامیابی سے جاری ہے۔وزیر موصوف کی خصوصی ہدایت اور عملی کوششوں کے نتیجے میں لشتی کورونہ – حسن بانڈہ روڈ کی تعمیراتی کام کا باقاعدہ آغاز بھی اسی سفر کا حصہ ہے۔ اس منصوبے کو علاقے کی عوام طویل عرصے سے اپنی بنیادی ضرورت کے طور پر دیکھ رہی تھی۔یہ سڑک علاقے کے باسیوں کیلئے آمدورفت میں آسانی، زرعی اجناس کی منڈیوں تک بروقت ترسیل، تعلیمی و طبی اداروں تک بہتر رسائی اور مقامی معیشت کی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گی۔ منصوبے کی تکمیل سے حسن بانڈہ، لشتی کورونہ اور گردونواح کے ہزاروں مکین مستفید ہوں گے۔منصوبے کے تحت جدید معیار کی سڑک تعمیرکی جا رہی ہے تاکہ عوام کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ کام کی نگرانی محکمہ مواصلات و تعمیرات کر رہا ہے جبکہ متعلقہ انجینئرز کو معیاری مواد اور طے شدہ مدت میں منصوبہ مکمل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔وزیر زراعت سجاد بارکوال کا اس موقع پر کہناتھا کہ ”عوام سے کئے گئے تمام وعدے ایک ایک کر کے پورے ہو رہے ہیں۔ ہماری حکومت کا مقصد صرف منصوبے شروع کرنا نہیں بلکہ انہیں مکمل کر کے عوام کو سہولت اور خوشحالی فراہم کرنا ہے”۔مقامی رہائشیوں نے اس ترقیاتی اقدام کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے وزیر زراعت اور صوبائی حکومت کا شکریہ ادا کیا اور امید ظاہر کی کہ آئندہ بھی علاقے کے ترقیاتی مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کئے جائیں گے۔
ڈاکٹر شفقت ایاز کی میٹرکس پاکستان یوتھ سمٹ میں بطور مہمانِ خصوصی شرکت
وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاونِ خصوصی برائے سائنس و ٹیکنالوجی و انفارمیشن ٹیکنالوجی ڈاکٹر شفقت ایاز نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کے ویژن کے مطابق نوجوانوں کو جدید ٹیکنالوجی، آئی ٹی اور نئی مہارتوں کی تربیت فراہم کر رہی ہے تاکہ وہ ملکی و بین الاقوامی سطح پر اپنا لوہا منوا سکیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہری پور میں منعقدہ میٹرکس پاکستان یوتھ سمٹ (ساتواں ایڈیشن) میں بطور مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہی۔ تقریب میں بڑی تعداد میں نوجوانوں، آئی ٹی ماہرین، ٹیکنالوجی اسٹارٹ اپس کے نمائندوں اور تعلیمی اداروں کے سربراہان نے شرکت کی۔ڈاکٹر شفقت ایاز نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں سِٹیزن فسیلیٹیشن سینٹرز، ڈیجیٹل کنیکٹس اور آئی ٹی پارکس نوجوانوں کو روزگار، تربیت اور کاروباری مواقع فراہم کر رہے ہیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ ہری پور ڈیجیٹل سٹی جلد مکمل ہوگی، جو مقامی اور ملکی سطح پر آئی ٹی انڈسٹری کے لیے ایک سنگِ میل ثابت ہوگی۔انہوں نے مزید کہا کہ صوبائی حکومت نوجوانوں کے لیے اسکل ڈویلپمنٹ پروگرامز، اسٹارٹ اپ سپورٹ اسکیمز، ای لرننگ پلیٹ فارمز اور ڈیجیٹل اکانومی سے متعلق منصوبوں پر تیزی سے عمل کر رہی ہے، تاکہ خیبرپختونخوا کو ڈیجیٹل ہب بنایا جا سکے۔ڈاکٹر شفقت ایاز نے تقریب کے شرکاء پر زور دیا کہ وہ جدید آئی ٹی اسکلز سیکھنے میں دلچسپی لیں اور ٹیکنالوجی کو مثبت مقاصد کے لیے استعمال کریں، کیونکہ یہی آنے والے وقت کی سب سے بڑی طاقت ہے۔
وقت کی قدر کامیابی کی ضمانت ہے، نوجوان اسے انسانیت کی خدمت میں صرف کریں، بیرسٹر ڈاکٹر محمد علی سیف
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے اطلاعات و تعلقاتِ عامہ بیرسٹر ڈاکٹر محمد علی سیف نے کہا ہے کہ نوجوان اپنے قیمتی وقت کا بہترین استعمال یقینی بنائیں اور اسے بنی نوع انسان کی فلاح و بہبود کے لیے صرف کریں۔ وہ ہفتہ کے روز ہری پور میں حکیم عبدالسلام لائبریری میں منعقدہ میٹرکس سمٹ کانفرنس کے ساتویں ایڈیشن سے مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے خطاب کر رہے تھے۔ اس موقع پر ڈسٹرکٹ یوتھ آفیسر ہری پور طلال محمد، یوتھ سمٹ کے منتظمین، آئی ٹی ماہرین اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے نوجوان بڑی تعداد میں موجود تھے۔بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا کہ زندگی میں ترقی کے سفر کے دوران رکاوٹیں آتی ہیں، لیکن یہ عارضی ہوتی ہیں۔ جو لوگ جہدِ مسلسل سے ان رکاوٹوں کو عبور کرتے ہیں وہ کامیابی کی بلندیوں کو چھوتے ہیں، جبکہ ہمت ہارنے والے پچھتاوے کا شکار رہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وقت توانائی کی ایک قسم ہے، اور جو لوگ اس کی قدر کرتے ہیں دنیا ان کی عزت کرتی ہے۔ وقت کی اہمیت انسانی جسم میں خون کی مانند ہے، جیسے زندگی کے لیے خون ضروری ہے ویسے ہی ترقی کے لیے وقت کی قدر اور اس کا درست استعمال ناگزیر ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو وقت کی قدر سمجھنے کی صلاحیت دے کر اشرف المخلوقات کا درجہ عطا کیا اور اسی بنا پر اس پر ذمہ داریاں بھی عائد کیں۔ سورۃ العصر میں زمانے کی قسم کھا کر انسان کو خبردار کیا گیا ہے کہ وقت ضائع کرنے والے دنیا و آخرت میں نقصان اٹھاتے ہیں۔
کرم امن جرگہ اختتام پذیر، قبائلی عمائدین کا امن قائم رکھنے اور حکومت سے مکمل تعاون کا اعلان
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈاپور کی میزبانی میں امن و امان سے متعلق علاقائی جرگوں کا سلسلہ اختتام پذیر ہو گیا۔ اس سلسلے میں چوتھا اور آخری مشاورتی جرگہ ہفتہ کے روز وزیر اعلیٰ ہاوس پشاور میں منعقد ہوا جس میں ضلع کرم اپر، سنٹرل اور لوئر کے قبائلی مشران، سیاسی جماعتوں کے نمائندوں اورمتعلقہ ممبران صوبائی و قومی اسمبلی نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ وزیر اعلیٰ کے مشیر برائے اطلاعات و تعلقات عامہ بیرسٹر محمد علی سیف، سینیٹر نور الحق قادری، چیف سیکرٹری شہاب علی شاہ اور آئی جی پی ذولفقار حمید کے علاوہ متعلقہ کمشنر، ڈپٹی کمشنر اور پولیس حکام بھی جرگے میں شریک ہوئے۔ جرگے نے اپنی سفارشات میں امن و امان کے لئے قبائلی عمائدین کے جرگے منعقد کرنے پر وزیر اعلی کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ کرم کے مسئلے کو پر امن انداز میں حل کرنے اور علاقے کے لئے خصوصی ترقیاتی پیکج دینے پر وزیر اعلیٰ اور صوبائی حکومت کے مشکور ہیں، مشکل وقت میں کرم کے لئے ہیلی کاپٹر سروس شروع کرنے اور عوام کا بھر پور ساتھ دینے پر بھی وزیر اعلی کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ وزیر اعلیٰ کی خصوصی کاوشوں سے کرم میں فی الوقت امن بحال ہوا ہے، اس کو دوام دینے کی ضرورت ہے۔ کرم کے اہل سنت اور اہل تشیع دونوں علاقے کے امن کے لئے ایک ہیں اور اس سلسلے میں حکومت کے ساتھ ہر ممکن تعاون کے لئے تیار ہیں۔ امن ہماری بنیادی ضرورت ہے، امن ہوگا تو ترقی ہوگی۔ جرگہ اراکین نے کہا کہ ہم ہر طرح کی دہشت گردی کے خلاف ہیں، امن کے لئے حکومت کے ساتھ ہیں، مسئلے کے مستقل حل کے لئے وفاقی اور صوبائی حکومتوں، سکیورٹی اداروں کے نمائندوں اور علاقہ مشران پر مشتمل با اختیار جرگہ تشکیل دے کر افغانستان کے ساتھ مذاکرات کئے جائیں کیونکہ کرم کے امن کا مسئلہ افغانستان کے ساتھ جڑا ہے۔ علاقے کے لوگوں کو روزگار دینے کے لئے افغانستان کے ساتھ تجارتی راستے کھولے جائیں۔
خیبرپختونخوا میں سیاحت کے فروغ اور ہوٹل مالکان کے مسائل کے حل کے لیے جامع اقدامات کا اعلان
وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین خان گنڈاپور سے نتھیا گلی ہوٹل ایسوسی ایشن کے وفد نے جمعرات کو وزیر اعلیٰ ہاؤس پشاور میں ملاقات کی، جس میں سیاحتی علاقوں میں ہوٹل مالکان کے مسائل، سیاحوں کو معیاری سہولیات کی فراہمی اور سیاحت کے فروغ پر بات چیت ہوئی۔ صوبائی وزراء خلیق الرحمن، مزمل اسلم اور متعلقہ محکموں کے حکام بھی شریک تھے۔ وفد نے نتھیا گلی، ناران اور کاغان کے مسائل سے آگاہ کیا۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں سیاحت کے فروغ کے وسیع مواقع ہیں اور حکومت عمران خان کے وژن کے مطابق اسے جدید خطوط پر استوار کر رہی ہے۔ نجی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی اور سرمایہ کاروں کو سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں، جبکہ قدرتی ماحول کے تحفظ کو بھی اولین ترجیح دی جا رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ تین نئے سیاحتی مقامات کو فروغ دیا جا رہا ہے، رابطہ سڑکوں کی تعمیر اور ٹیکس وصولی کے نظام کو ڈیجیٹائز کرنے کے لیے اقدامات جاری ہیں۔ ہوٹل مالکان کے لیے یونیفارم ٹیکسیشن پالیسی اور پانچ سالہ ٹیکس پالیسی متعارف کرائی جائے گی، جبکہ مختلف ٹیکسوں کی وصولی ایک ادارے کے ذریعے ہوگی۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ نتھیا گلی میں پانی کے مسئلے کا مستقل حل نکالا جا رہا ہے، ناران اور کاغان میں سیاحوں کے لیے ہسپتال بنایا جائے گا اور تین کلومیٹر رابطہ سڑک کی بحالی بھی ہوگی۔ انہوں نے غیر رجسٹرڈ ہوٹلوں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے حکومت سے تعاون کی اپیل کی۔ وفد نے تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
