Home Blog Page 148

محکمہ خوراک کیخلاف مسلسل بدعنوانی کا جھوٹا پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے، اگر کسی کے پاس ثبوت ہیں کو سامنے لے آئے، وزیر خوراک ظاہر شاہ کی پریس کانفرنس

مہنگائی اور غیر معیاری و ملاوٹی خوراک کی کڑی نگرانی کے لیے مانیٹرنگ ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں، ظاہر شاہ طورو

خیبرپختونخوا کے وزیر خوراک ظاہر شاہ طورو نے کہا ہے کہ محکمہ خوراک کو ایک منظم ایجنڈے کے تحت مسلسل بدنام کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کروڑوں روپے خرچ کرکے فارم 47 کی پیداوار سے توجہ ہٹانے کے لیے نامعلوم عناصر بدعنوانی کا پروپیگنڈا کر رہے ہیں۔پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر خوراک نے کہا کہ وفاقی حکومت خیبرپختونخوا کو اس کا جائز حق فراہم نہیں کر رہی، جس کے باوجود حکومت خیبرپختونخوا نے ایک سالہ اچھی کارکردگی دکھائی ہے جس کی رپورٹ بہت جلد پبلک کی جائے گی انہوں نے کہا کہ کچھ نامعلوم عناصر کروڑوں روپے خرچ کرکے مسلسل بغیر ثبوت کے صوبائی وزراء اور وزیر اعلیٰ کے خلاف کرپشن کا پروپیگنڈا کر رہے ہیں۔ظاہر شاہ طورو نے کہا کہ ان کے خلاف پروپیگنڈا ناکام ہونے کے بعد اب وزیر اعلیٰ کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہماری پارٹی میں اندرونی احتساب کا عمل جاری ہے، جو کسی اور سیاسی جماعت میں نہیں ہو رہا۔صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ جن لوگوں نے عمران خان کو جیل میں قید کر رکھا ہے، ان سے خیبرپختونخوا حکومت کی ایک سالہ کارکردگی ہضم نہیں ہو رہی صوبائی وزیر نے وضاحت کی کہ خیبرپختونخوا حکومت نے گندم کی خریداری وفاقی حکومت کے مقرر کردہ نرخوں پر کی ہے اور مقامی کاشتکاروں سے گندم خرید کر صوبے کو 9 ارب روپے کی بچت دی گئی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اگر یہ بچت جرم ہے، تو یہ جرم ہم کرتے رہیں گے۔ وزیر خوراک نے اس بات کی بھی وضاحت کی کہ اب تک نہ وزیر اعلیٰ اور نہ انکے بھائی نے محکمہ خوراک کے امور میں کوئی مداخلت نہیں کی۔ ظاہر شاہ طورو کا یہ بھی کہنا تھا کہ صوبائی حکومت نے معیاری گندم خریدی ہے اور اگر کسی کے پاس بدعنوانی کے ثبوت ہیں وہ سامنے لے آئے ہم سزا کیلئے تیار ہیں۔انہوں نے 40 کنال زمین کے الزام کو جھوٹا قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے خاندان کو بھی اس کا علم نہیں اور وہ اللہ کو حاضر ناظر جان کر کہتے ہیں کہ اس الزام میں کوئی صداقت نہیں۔ انہوں نے چیلنج دیا کہ اگر ان پر لگایا گیا الزام ثابت ہو گیا، تو وہ ہر قسم کی سزا کے لیے تیار ہیں۔رمضان میں مہنگائی اور غیر معیاری خوردونوش اشیاء کی تدارک کے حوالے سے ظاہر شاہ طورو کا کہنا تھاکہ خیبرپختونخوا فوڈ اتھارٹی میں خصوصی شکایات سیل قائم کیا گیا ہے انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ جہاں بھی گراں فروشی ہو وہ اس کی نشاندہی کریں تاکہ فوری ایکشن لیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ مہنگائی اور غیر معیاری و ملاوٹی خوراک کی کڑی نگرانی کے لیے مانیٹرنگ ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں،

فوڈ سیفٹی اتھارٹی کا پشاور حاجی کیمپ میں کارخانے پر چھاپہ، ہزاروں کلو گرام سے زائد ملاوٹی مصالحہ جات، خراب تیل، چوکر اور رنگ برآمد، کارخانہ سیل کر دیا

مردان موٹروے سروس ایر یا میں بھی کاروائی، زائدالمیعاد بریڈ،مشروبات، غیر معیاری و مس لیبل سویٹس اور چپس برآمد کرکے ضبط کر لی گئیں، ترجمان فوڈ اتھارٹی

وزیر خوراک ظاہر شاہ طورو کی ہدایت پر رمضان سے قبل فوڈ سیفٹی اتھارٹی نے مضر صحت اور غیر معیاری خوراک کے خلاف گھیرا تنگ کر دیا، صوبہ بھر میں فوڈ سیفٹی ٹیموں کی جانب سے مختلف شہروں میں بڑی کارروائیاں کی گئیں،ترجمان فوڈ اتھارٹی نے تفصیلات جاری کرتے ہوئے بتایا کہ پشاور حاجی کیمپ میں مصالحہ جات یونٹ پر چھاپے کے دوران 1 ہزار کلو سے زائد مضر صحت مصالحہ جات، 450 لیٹرز خراب تیل، 500 کلو سے زائد چوکر اور 2 کلو رنگ برآمد کر کے قبضے میں لے لیا۔فوڈ سیفٹی ٹیم نے یونٹ کو سیل کرتے ہوئے مزید قانونی کاروائی کا آغاز کر دیا۔دوسری جانب فوڈ سیفٹی ٹیم مردان نے موٹروے سروس ایریا اور نوشہرہ روڈ میں خوراک سے وابستہ مختلف شاپس کا معائنہ کیا اور زائدالمیعاد بریڈ،مشروبات، غیر معیاری و مس لیبل سویٹس اور چپس برآمد کرکے ضبط کر لیے۔ترجمان نے مزید بتایا کہ بنوں روڈ ڈی ائی خان میں ایک دکان سے معائنے کیدوران ممنوع چائنہ سالٹ برآمد ہونے پر جرمانہ بھی عائد کیا گیا۔وزیر خوراک ظاہر شاہ طورو نے کامیاب کارروائیوں پر فوڈ سیفٹی ٹیموں کو داد دیتے ہوئے کہاکہ رمضان میں ذخیرہ اندوزی اور مضر صحت خوراک کی فروخت کے خلاف گھیرا مزید تنگ کیا جائے اور کاروائیاں مزید تیز کی جائیں

وزیراعلی خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے ٹیکنیکل ایجوکیشن طفیل انجم سے جرمنی کے نائب سفیر مسٹر Amo kirchof کی ملاقات

وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے ٹیکنیکل ایجوکیشن طفیل انجم نے کہا ہے کہ احساس ہنر پروگرام کا آغاز نوجوانوں کو آپنا روزگار شروع کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کے روز جرمنی کے نائب سفیر مسٹر ایمو کرچوف سے ملاقات کے دوران کیا ہے۔ اس موقع پر جی ائی ذی (GIZ) کوآرڈینیٹر Ms.Romina kochius اور ڈائریکٹر جنرل خیبرپختونخوا ٹیکنیکل ایجوکیشن اینڈ ووکیشنل ٹریننگ اتھارٹی منصور قیصر بھی موجود تھے۔ معاون خصوصی کے ہمراہ وفد نے سنٹر اف ایکسیلنس گورنمنٹ ٹیکنیکل ٹریننگ سنٹر حیات آباد کا دورہ کیا۔ وفد کو سنٹر اف ایکسیلینس گورنمنٹ ٹیکنیکل سنٹر کے منیجمنٹ نے کارکردگی پرتفصیلی بریفننگ دی ہے۔ اس موقع پر وفد نے سنٹر کے ورکشاپ،لیبارٹری آف سی این سی، پی ایل سی، ہاسپیٹیلیٹی،بیوٹیشن ڈریس میکنگ اور فیشن ڈیزائننگ کا تفصیلی معائنہ کیا اور طلباء کی مہارتوں کو سراہا گیا۔اس دوران معاون خصوصی نے وفد کے ساتھ کارکردگی اور مستقبل کے لائحہ عمل کے بارے میں بھی تفصیلی گفتگو کی ہے۔اس دوران معاون خصوصی برائے ٹیکنیکل ایجوکیشن طفیل انجم نے وفد سے بات کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا کی موجودہ صوبائی حکومت نے احساس ہنر پروگرام کا باقاعدہ آغاز کیا ہے جس کے ذریعے فارغ التحصیل ہنر مند افراد کو بلاسود قرضے فراہم کئے جائیں گے جس سے وہ اپنے لئے خود روزگار شروع کر سکینگے۔ وفد نے صوبائی حکومت اور ٹیوٹا کی صوبے میں فنی تعلیم کے فروغ کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کو سراہا ہے۔ معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ ہماری کوشش ہے کہ فنی تعلیم کو مزید بہتر کیا جائے تاکہ صوبے کے نوجوانوں کو روزگار کے مواقع میسر آسکیں۔

وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے اطلاعات و تعلقاتِ عامہ، بیرسٹر ڈاکٹر سیف

وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے اطلاعات و تعلقاتِ عامہ، بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے پشاور میں ڈسٹرکٹ پریس کلب کرک کی نومنتخب کابینہ کی حلف برداری کی تقریب میں شرکت کی اور کابینہ کے اراکین سے حلف لیا۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے انہوں نے صحافت کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ایک آزاد اور ذمہ دار میڈیا جمہوریت کی بنیادوں کو مضبوط کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ انتہا پسندانہ رویوں کے خاتمے اور سماجی ہم آہنگی کے فروغ میں صحافیوں کا کردار ناقابلِ فراموش ہے، کیونکہ ایک ذمہ دار اور آزاد میڈیا نہ صرف عوام کو درست معلومات فراہم کرتا ہے بلکہ رائے عامہ کی تشکیل اور مثبت بیانیے کو فروغ دینے میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صحافیوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ حقائق پر مبنی رپورٹنگ کے ذریعے معاشرتی ہم آہنگی کو مضبوط کریں اور ایسے عناصر کی حوصلہ شکنی کریں جو انتشار اور غلط فہمیوں کو ہوا دیتے ہیں۔ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے حکومت کی جانب سے صحافیوں کی فلاح و بہبود کے لیے جاری اقدامات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ آزاد اور پیشہ ورانہ صحافت کے فروغ کے لیے وسائل کی فراہمی کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ میڈیا ورکرز کو جدید مہارتوں سے آراستہ کرنے اور ان کے حقوق کے تحفظ کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کرک کے صحافی عوامی مسائل کو اجاگر کرنے، حکومتی پالیسیوں پر تعمیری تنقید کرنے اور مثبت تبدیلی میں اپنا کردار ادا کرنے میں ہمیشہ پیش پیش رہے ہیں، جو کہ قابلِ ستائش ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ صحافیوں کو درپیش مسائل کے حل کے لیے صوبائی حکومت ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔ حکومت میڈیا کے پیشہ ور افراد کی فلاح و بہبود کے لیے مختص فنڈز کا شفاف اور مؤثر استعمال یقینی بنائے گی تاکہ وہ جدید ٹیکنالوجی اور نئے دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہو سکیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایک باشعور اور بااختیار میڈیا نہ صرف حکومتی پالیسیوں کی درست سمت متعین کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے بلکہ عوام اور حکومت کے درمیان پل کا کردار بھی ادا کرتا ہے۔کرک پریس کلب کے صدر خالد خٹک نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے حکومتی سرپرستی کو سراہا اور امید ظاہر کی کہ مستقبل میں بھی حکومت صحافتی برادری کے لیے عملی اقدامات جاری رکھے گی۔ انہوں نے مشیر اطلاعات کو ضلع کرک کے باضابطہ دورے کی دعوت دی تاکہ وہ یہاں کے مسائل اور صحافیوں کو درپیش مشکلات کا قریب سے جائزہ لے سکیں۔تقریب میں ایڈیشنل سیکرٹری اطلاعات و تعلقاتِ عامہ خیبر پختونخوا حیات شاہ، ڈائریکٹر جنرل اطلاعات سلیم خان اور دیگر حکومتی عہدیداران نے بھی شرکت کی۔ تقریب کے اختتام پر تمام شرکاء نے اس امید کا اظہار کیا کہ کرک پریس کلب اپنی مثبت اور ذمہ دارانہ صحافت کے ذریعے عوامی مسائل کے حل میں اپنا کردار مؤثر طریقے سے ادا کرتا رہے گا۔ اس موقع پر ڈسٹرکٹ پریس کلب کرک کی نومنتخب کابینہ کے اراکین نے مشیر اطلاعات بیرسٹر ڈاکٹر سیف کو اعزازی شیلڈ بھی پیش کی۔

*وفاقی حکومت نے اپنے وعدے کے مطابق این ایف سی کی مد میں ضم اضلاع کے لیے فنڈز جاری نہیں کیے، معاون خصوصی برائے جنگلات پیر مصور خان *

وزیراعلی خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے جنگلات، ماحولیات، جنگلی حیات و موسمیاتی تبدیلی پیر مصور خان نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت نے اپنے وعدے کے مطابق این ایف سی کی مد میں ضم اضلاع کے لیے فنڈز جاری نہیں کیے،صوبائی حکومت اپنے دستیاب وسائل کو بروئے کار لاکر ضم اضلاع کی ترقی کے لئے اقداما ت اٹھارہی ہے، ضم اضلاع سمیت پورے صوبے کی ترقی کے لیے کوشاں ہے، ان خیالات کا اظہار انھوں نے لنڈی کوتل ضلع خیبر میں موسم بہار شجرکاری مہم کی مناسبت سے منعقدہ تقریب سے خطاب اور بعد ازاں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کیا، اس موقع پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر خیبر احسان اللہ، کنزرویٹر فارسٹ حیات اللہ، اسسٹنٹ کمشنر لنڈی کوتل،محکمہ جنگلات کے دیگر افسران سمیت مقامی سکولوں کے طلبا اور لوگ بھی کثیر تعداد میں موجود تھے، اس موقع پر موسم بہار شجرکاری مہم کے تحت محکمہ جنگلات کے اہلکار وں اور مقامی سکولوں کے طلبا نے ملکر مختلف انواع کے 2200 پودے لگائے جبکہ مقامی لوگوں کو شجرکاری کے لئے مزید 10 ہزار پودے دئیے جائینگے، معاون خصوصی پیر مصور خان نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے ملک کو موسمیاتی تبدیلی جیسے چیلنج کا سامنا ہے جس سے نبردآزما ہونے کے لئے ہر ممکن اقدامات اٹھارہے ہیں، انھوں نے کہا کہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے خیبرپختونخوا کو جنگلات سمیت دیگر بے شمار قدرتی وسائل سے نوازا ہے، صوبے میں جنگلات کے فروغ اور تحفظ کے لئے بانی چیئرمین عمران خان کے ویژن کے مطابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی بھرپور حمایت حاصل ہے، ضلع خیبر میں نگہبان فورس کے 225 اہلکاروں کو چھ ماہ کی تنخواہوں کی ادائیگی کے لئے فنڈز جاری ہوچکے ہیں، جلد ہی انھیں تنخواہیں مل جائیں گی،انھوں نے موقع پر موجود کنزرویٹر فارسٹ کو ہدایات جاری کیں کہ مقامی لوگوں کے ساتھ بیٹھ کر انکی تجاویز کو سنیں اور انھیں ضرورت کے مطابق پودے فراہم کئے جائیں، مقامی مشران اور لوگوں کی رائے کا احترام کیا جائے گا، معاون خصوصی نے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کو ہدایت کی کہ ضلع خیبر کے ضلعی ایجوکیشن افسران کے اجلاس منعقد کریں، سکولوں اور دیگر سرکاری عمارتوں میں پودے لگائے،انھوں نے مقامی لوگوں پر زور دیا کہ جنگلات کے تحفظ کے لئے حکومت کا ساتھ دیں کیونکہ کسی بھی شعبے میں ترقی کے لئے عوام کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہوتا ہے، معاون خصوصی پیر مصور خان نے ٹمبر اسمگلنگ اور جنگلات کی کٹائی پر بات کرتے ہوئے کہا اس سلسلے میں زیرو ٹالیرنس پالیسی پر عمل پیرا ہے، ٹمبر اسمگلنگ میں ملوث افراد ا پنا قبلہ درست کریں بصورت دیگر انکے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ تقریب کے آخر میں معاون خصوصی پیر مصور خان نے محکمہ جنگلات کے اہلکاروں کو بہترین کارکردگی پر شیلڈز بھی دیں، بعد ازاں معاون خصوصی برائے جنگلات پیر مصور خان نے تاریخی مچنی پوسٹ کابھی دورہ کیا جہاں انھیں خیبر پاس سمیت دیگر تاریخی مقامات کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے بہبود آبادی ملک لیاقت خان نے کہا ہے کہ

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے بہبود آبادی ملک لیاقت خان نے کہا ہے کہ فیمیلی پلاننگ پر عملدرآمد کرنا ضروری ہے اور صوبائی و وفاقی حکومتیں ملکر بڑھتی ہوئی آبادی کے کنٹروکیلئے اقدامات اٹھائیں۔ملک کے تعلیمی نصاب میں آگاہی کی نسبت سے فیملی پلاننگ کو نصاب کا حصہ بننا چاہئے۔وفاقی حکومت خیبر پختونخوا کو آبادی کنٹرول کیلئے دس ارب کا کیا گیا وعدہ پورا کرے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایک نجی ہوٹل میں نیشنل ہیلتھ پالیسی اور ملک کے تمام صوبوں کے محکمہ بہبود آبادی کی انتظامیہ سیکرٹریز اور سینئر حکام پر کی ایک ورکشاپ سے خطاب کیا۔اس موقع پر سیکرٹری خیبر پختونخوا بہبود آبادی،امجد خان،ڈی جی نیشنل ہیلتھ سائنسز،ڈائریکٹر پاکستان بیورو آف شماریات،یو این ایف پی اے حکام،ڈی جی بہوبود آبادی پنجاب اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔اجلاس کے حکام نے معاون خصوصی کو آبادی کنٹرول کے سلسلے میں ملک کی سطح پر جاری اقدامات سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ملک لیاقت خان نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس ضمن میں خیبر پختونخوا میں پہلی مرتبہ علماء کانفرنس منعقد کر کے آبادی کی روک تھام کے حوالے تفصیلی مشاورت کی گئی۔اُنہوں نے کہا کہ متوازن خاندان کا ذکر اسلامی تعلیمات میں بھی موجود ہے۔ہمیں ماں کی صحت اور بچے کی تعمیل وتربیت کی طرف بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے اور ایسے معاشرہ کی تشکیل چاہتے ہیں جس میں بچوں کی تعلیم و تربیت،روزگار اور ماں کی صحت کے حوالے سے بہتر انتظامات اور سہولیات میسر ہوں۔انکا کہنا تھا کہ انسانیت کی خدمت ہمارا دینی فریضہ ہے۔معاشرہ میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری کیخلاف اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔ملک لیاقت خان نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت آبادی کی روک تھام کیلئے ٹھوس اقدامات اٹھا رہی ہے۔

لیبیا کشتی حادثے کے شہدا کے خاندانوں کے ساتھ حکومت ہر ممکن تعاون کرے گی۔ معاون خصوصی برائے ریلیف

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے ریلیف، بحالی و آباد کاری ملک نیک محمد خان داوڑ نے جمعرات کے روز باچا خان ایئرپورٹ پشاورپر لیبیا کشتی حادثے میں شہید ہونے والے شہداء کے جسد خاکی وصول کئے اور ہیلی کاپٹر کے ذریعے ان کے آبائی علاقوں تک پہنچانے کے لیے خصوصی انتظامات کی نگرانی کی۔اس موقع پر انہوں نے شہدا کے خاندانوں کے لواحقین سے ملاقات بھی کی اور حکومت خیبر پختونخوا کا تعزیتی پیغام پہنچایا۔ انہوں نے اس موقع پر رب العالمین کے حضور شہدا کے درجات کی بلندی اور پسماندگان کے لئے صبر جمیل کی دعا کی۔ معاون خصوصی ملک نیک محمد خان داوڑ نے کہا کہ حکومت شہداء کے غمزدہ خاندانوں کے دکھ میں برابر کی شریک ہے اور انہیں ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے گا۔وزیرِاعلیٰ خیبرپختونخوا کی خصوصی ہدایت پر معاون خصوصی ملک نیک محمد خان داوڑ نے شہداء کے لواحقین کے لیے فی کس 10 لاکھ روپے شہداء پیکج کا اعلان بھی کیا۔اس موقع پر سیکرٹری ریلیف یوسف رحیم، ڈائریکٹر جنرل ریسکیو 1122، سول ایوی ایشن کے اعلیٰ حکام اور دیگر متعلقہ اداروں کے افسران بھی موجود تھے۔

محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم کا تعلیم دوست نیا اقدام، ”منسٹر اِن اے کلاس” کا آغاز

محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم کی جانب سے صوبے کے تعلیمی معیار کو بہتر بنانے اور طلباء کے مسائل کو براہ راست سمجھنے کے لیے ایک نئے اقدام ”منسٹر اِن اے کلاس” کا آغاز کیا ہے۔ اس سلسلے میں وزیر تعلیم خیبر پختونخوا، فیصل خان ترکئی نے گورنمنٹ ہائیر سیکنڈری سکول لیڈی گریفتھ پشاور کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے طلباء سے ملاقات کی اور ان کے ساتھ کلاس میں شریک ہوئے۔ دوسرے مرحلے میں یہ اقدام پورے صوبے کی سطح پر پھیلایا جائے گا۔ اس موقع پر ڈائریکٹر ایجوکیشن ثمینہ الطاف، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر (فیمیل) پشاور صوفیہ، اور متعلقہ سکول کی پرنسپل بھی وزیر تعلیم کے ہمراہ تھیں۔وزیر تعلیم فیصل خان ترکئی نے اس اقدام کے مقاصد اور اپنے وژن سے طلباء، اساتذہ اور انتظامی افسران کو آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد طلباء کے تعلیمی مسائل کو براہ راست سمجھنا اور ان کے حل کے لیے مؤثر حکمت عملی تیار کرنا ہے۔ اساتذہ اور طلباء کے درمیان بہتر رابطے کو فروغ دینا اور تدریسی معیار کو بلند کرنا اس پروگرام کے بنیادی مقاصد میں شامل ہے۔ انکا مذید کہنا تھا کہ تعلیمی اداروں میں انتظامی امور کا جائزہ لینا اور ان میں بہتری کے لیے عملی اقدامات کرنا اس اقدام کا اہم حصہ ہے۔ مزید براں، طلباء کی حوصلہ افزائی اور ان کی تعلیمی کارکردگی کو بڑھانے کے لیے ان کے ساتھ براہ راست مکالمہ قائم کرنا بھی اس پروگرام کا مقصد ہے۔وزیر تعلیم نے طلباء کے سوالات کے جوابات دیے اور انہیں محنت، لگن اور مثبت سوچ کے ساتھ تعلیم کے میدان میں آگے بڑھنے کی ترغیب دی۔ اس موقع پر انہوں نے اساتذہ سے بھی گفتگو کی اور تدریسی عمل کو مزید مؤثر بنانے کے لیے ان کی تجاویز کو سراہا۔یہ اقدام نہ صرف تعلیمی معیار کو بہتر بنانے میں معاون ثابت ہوگا بلکہ طلباء کی حوصلہ افزائی اور ان کے مسائل کو براہ راست سننے کا بہترین ذریعہ بھی ثابت ہوگا۔

لائیو سٹاک و فیشریز کے نئے ترقیاتی منصوبوں کی مویشی پال کسانوں کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے منصوبہ بندی کی جائے تاکہ مویشی پال زمینداروں کو فوائد پہنچ سکیں۔ فضل حکیم خان یوسفزئی

صوبائی وزیر برائے لائیو سٹاک، فیشریز و کوآپریٹیو فضل حکیم خان یوسفزئی کی زیرصدارت سالانہ ترقیاتی پروگرام اور نئے منصوبوں کی منصوبہ بندی کے حوالے سے اجلاس کا انعقاد

اجلاس میں مویشی پال کسانوں کی بہتری کے لیے مختلف منصوبوں پر غور

خیبر پختونخوا کے وزیر برائے لائیو سٹاک، فیشریز و کوآپریٹیو فضل حکیم خان یوسفزئی کی زیرصدارت مالی سال2025-26کے لائیو سٹاک، فیشریز و کوآپریٹیو کے سالانہ ترقیاتی پروگرام کا جائزہ اجلاس پشاور میں منعقد ہوا جس میں، ڈائریکٹر جنرل لائیوسٹاک توسیع ڈاکٹر اصل خان، ڈائریکٹر لائیو سٹاک ریسرچ ڈاکٹر اعجاز علی، ڈائریکٹر لائیو سٹاک ریسرچ ڈاکٹر خسرو کلیم، کوآپریٹیو رجسٹرار محمد اسحاق، ڈائریکٹر فشریز اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران صوبے میں محکمہ لائیو سٹاک توسیع و ریسرچ، فیشریز و کوآپریٹیو کے تحت شروع کئے جانے والے اربوں روپے کے ترقیاتی منصوبوں پر غورخوص کیا گیا۔ لائیو سٹاک کے سالانہ ترقیاتی پروگرام کے تحت منصوبوں میں مرغی کی پیداوار میں اضافے کیلئے پولٹری ہچری کے قیام کا منصوبہ بھی شامل ہے تاکہ ہمارا صوبہ پولٹری کے شعبے میں خودکفیل ہوسکے۔صوبائی وزیر لائیو سٹاک فضل حکیم خان یوسفزئی نے سوات میں چارباغ ریسرچ سٹیشن پر سانین بکریوں پر لائیو سٹاک ریسرچ کی فلیگ شپ سرگرمی کو بہت سراہا اور ہدایت کی کہ ان اعلیٰ پیداوار والی عالمی شہرت یافتہ بکریوں پر تحقیق کا دائرہ مزید وسیع کریں۔ اجلاس میں یونیورسٹی آف وٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز کو درپیش مسائل پر بھی تفصیل سے گفتگو ہوئی۔ منصوبے کے حوالے سے محکمہ پی اینڈ ڈی کے مشاہدے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ صوبائی وزیر فضل حکیم خان یوسفزئی نے پراجیکٹ ڈائریکٹر کو ہدایت کی کہ وہ اس مسئلے کو محکمہ پی اینڈ ڈی کے ساتھ اٹھائیں۔اجلاس میں فیشریز کے حوالے سے بتایا گیا کہ سالانہ ترقیاتی پروگرام میں فیشریز کے چار منصوبے شامل ہیں۔ جسمیں بائیو ڈیؤرسٹی سنٹر، ڈی آئی خان میں فیشریز ہچری کا قیام، ایرا اسکیموں کی تکمیل کے منصوبے شامل ہیں۔صوبائی وزیر نے کوآپریٹیو حکام کو ہدایت کی کہ فرنٹیئر پراونشل کوآپریٹو بینک لمیٹڈ (FPCBL) کو کاشتکار برادری کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے بحال کیا جائے۔ تمام مسائل کو ان کے نوٹس میں لایا جائے تاکہ انہیں بروقت اور موثر طریقے سے حل کیا جا سکے۔ انہوں نے رجسٹرار کوآپریٹیو سوسائٹیز خیبرپختونخوا کو ہدایت کی کہ وہ ایف پی سی بی ایل کی بحالی کے لیے تشکیل دی گئی کمیٹی کے اجلاس کو جلد بلانے کے لیے محکمہ پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ خیبر پختونخوا سے رجوع کریں۔ کرک میں ہنی فلٹریشن پلانٹ کے حوالے سے انہوں نے ہدایت کی کہ ہنی فلٹریشن پلانٹ میں سولر سسٹم کی تنصیب کے لیے عملی اقدامات اٹھائے جائیں۔ تاکہ کاشتکار اپنے کچے شہد کو مقامی علاقے میں کم قیمت پر فلٹر کر سکیں۔ انہوں نے مزید ہدایت کی کہ 2025-26 کے لیے تقریباً 500 ملین روپے کی لاگت سے ایک اے ڈی پی سکیم تجویز کی جائے تاکہ محکمہ کوآپریٹو خیبر پختونخوا کے زیر سایہ کام کرنے والی موجودہ دستکاری سوسائٹیوں کو مضبوط کیا جا سکے۔

جنوری 2025 میں صرف 63,000 لوگ نوکری کے لئے ملک سے باہر گئے ہیں اس رن ریٹ سے سالانہ 750,000 لوگ نوکری کے حصول کے لئے ملک سے ہجرت کر رہے ہیں۔مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم

وزیر اعظم اور وزراء شرمندہ ہونے کی بجائے ملک میں بیروزگاری اور کاروبار ختم ہونے کی مبارکباد دیتے تھکتے نہیں ہیں۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم

مشیر خزانہ و بین الصوبائی رابطہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے کہا ہے کہ ادارہ شماریات کے مطابق جنوری 2025 میں صرف 63,000 لوگ نوکری کے لئے ملک سے باہر گئے ہیں اس رن ریٹ سے سالانہ 750,000 لوگ نوکری کے حصول کے لئے ملک سے ہجرت کر رہے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے اپنے دفتر سے جاری ہونے والے بیان میں کیا۔ مزمل اسلم نے کہا کہ وزیر اعظم اور وزراء شرمندہ ہونے کی بجائے ملک میں بیروزگاری اور کاروبار ختم ہونے کی مبارکباد دیتے تھکتے نہیں ہیں جبکہ پی ڈی ایم اور شھباز شریف حکومت کے اقتدار میں ملک سے 20 لاکھ لوگ ہجرت کر چکے ہیں۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا نے کہا کہ پاکستانی تاریخ کی سب سے بڑی ہجرت ہے اور اندازہ کے مطابق اگر یہی 20 لاکھ لوگ 75,000 روپے ماہانہ گھر ب بھیجتے ہیں تو سالانہ 6.5 ارب ڈالر آرہے ہیں۔ مزمل اسلم نے کہا کہ ان ترسیلات میں اضافہ ملک کی ترقی نہیں پستی کی نشاندھی ہے اور اندازہ لگائیں ملک کے 20 لاکھ پڑھے لکھے ٹرینڈ لوگ ملک چھوڑ چکے ہیں اب کیا خاک ترقی ہوگی۔ مزمل اسلم نے کہا کہ ریکارڈ کے لئے پاکستان کی شرح نموع کی اوسط تین سالوں کی 1.5 فیصد بھی نہیں جبکہ پاکستان کی آبادی میں صرف 2.5 فیصد سے اضافہ ہو رہا ہے۔