Home Blog Page 15

وزیر ایکسائز سید فخرجہان کا رستم تا امبیلہ مین شاہراہ کے ترقیاتی منصوبے کے حوالے سے ایڈیشنل چیف سیکریٹری منصوبہ بندی و ترقیات سے ملاقات

خیبرپختونخوا کے وزیر ایکسائز، ٹیکسیشن و نارکوٹکس کنٹرول سید فخر جہان نے بدھ کے روز ایڈیشنل چیف سیکریٹری محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات اسلام زیب سے ان کے دفتر میں ملاقات کی۔ملاقات کے دوران صوبائی وزیر نے رستم تا امبیلہ مین شاہراہ کے مواصلاتی ترقیاتی منصوبے کے لیے فنڈز کے اجراء اور منصوبے سے متعلق مالی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔صوبائی وزیر سید فخر جہان نے اس موقع پر کہا کہ رستم تا امبیلہ شاہراہ علاقے کے عوام کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہے اور اس منصوبے کی تکمیل سے نہ صرف مقامی آبادی کو بہتر سفری سہولیات میسر آئیں گی بلکہ علاقے میں تجارتی، معاشی اور سماجی سرگرمیوں کے فروغ میں بھی مدد ملے گی۔انہوں نے ایڈیشنل چیف سیکریٹری سے گزارش کی کہ اس اہم عوامی مفاد کے منصوبے کو پراونشل ڈیولپمنٹ ورکنگ پارٹی (PDWP) سے منظوری کے لیے جلد از جلد ضروری کارروائی مکمل کی جائے تاکہ منصوبے کے لیے فنڈز کی فراہمی یقینی بناتے ہوئے عملی کام کو آگے بڑھایا جا سکے۔ منصوبے کی تکمیل سے بونیر، مردان اور گردونواح کے عوام براہِ راست مستفید ہوں گے۔ایڈیشنل چیف سیکریٹری محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات نے صوبائی وزیر کو یقین دہانی کرائی کہ رستم تا امبیلہ مین شاہراہ کے منصوبے کو فنڈز کی فراہمی اور منظوری کے لیے آئندہ ہفتے ہونے والے پی ڈی ڈبلیو پی اجلاس کے ایجنڈے میں شامل کیا جائے گا۔صوبائی وزیر سید فخر جہان نے یقین دہانی پر ایڈیشنل چیف سیکریٹری کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ صوبائی حکومت عوام کو بہتر مواصلاتی سہولیات کی فراہمی اور پسماندہ علاقوں کو ترقی کے قومی دھارے میں شامل کرنے کے لیے اہم ترقیاتی منصوبوں پر خصوصی توجہ دے رہی ہے۔

وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ سمیع اللہ خان کی زیر صدارت اجلاس

وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ سمیع اللہ خان کی زیر صدارت بدھ کے روز محکمہ ٹرانسپورٹ کے ذیلی و ملحقہ شعبوں کی مجوزہ ریسٹرکچرنگ کے حوالے سے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں سیکرٹری ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ محمد ذبیر، سیکرٹری پراونشل ٹرانسپورٹ اتھارٹی نوید اکبر، ایڈیشنل سیکرٹری ٹرانسپورٹ سمیت محکمہ کے دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران محکمہ ٹرانسپورٹ کے ذیلی و ملحقہ شعبوں، جن میں ڈائریکٹوریٹ آف ٹرانسپورٹ، پراونشل ٹرانسپورٹ اتھارٹی (PTA) اور ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹیز (RTAs) شامل ہیں، کے مختلف ڈھانچوں کو پراونشل ٹرانسپورٹ اتھارٹی کے آرگنائزیشنل سٹرکچر کے تحت ایک مربوط نظام میں شامل کرنے کے لیے تیار کیے گئے مجوزہ ریسٹرکچرنگ ماڈل کے ابتدائی خاکے کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں بتایا گیا کہ مجوزہ ماڈل کا بنیادی مقصد محکمہ ٹرانسپورٹ کے مختلف ونگز کے تحت انجام دیے جانے والے پیشہ ورانہ امور اور عوامی خدمات کو ایک مربوط نظام کے ذریعے مزید مؤثر اور آسان بنانا ہے، جس سے محکمہ کی استعدادِ کار میں اضافہ ہوگا اور سروس ڈیلیوری کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جا سکے گا۔اجلاس کو بتایا گیا کہ نئے مجوزہ ماڈل کے نفاذ سے ٹرانسپورٹ شعبے کے پیشہ ورانہ امور میں یکسوئی آئے گی، ذمہ داریوں کی ادائیگی میں بہتری، کام کی رفتار میں اضافہ اور عملداری کے نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے گا۔مجوزہ ریسٹرکچرنگ کے تحت محکمہ کے ضلعی سطح پر فنکشنز کو بھی مضبوط کیا جائے گا، جس سے عوام کو ٹرانسپورٹ سے متعلق مسائل کے حل اور ضروری خدمات کے حصول کے لیے ایک ہی پلیٹ فارم دستیاب ہوگا۔اجلاس میں معاون خصوصی سمیع اللہ خان نے مجوزہ ریسٹرکچرنگ ماڈل کو محکمہ ٹرانسپورٹ کی پیشہ ورانہ ترقی اور شعبے کی جدید خطوط پر استواری کے لیے اہم قرار دیا اور اس میں مزید بہتری کے لیے اپنی تجاویز پیش کیں۔انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ مجوزہ ماڈل کے ابتدائی خاکے پر مزید کام مکمل کیا جائے اور تمام ضروری پہلوؤں کا جائزہ لینے کے بعد اسے متعلقہ فورمز سے منظوری کے لیے پیش کرنے کے اقدامات کیے جائیں۔

وزیراعلی خیبرپختونخوا کے مشیر برائے جنگلات و ماحولیات پیر مصور خان کی زیر صدارت فارسٹ ڈویلپمنٹ کارپوریشن میں اہم اجلاس

وزیراعلی خیبرپختونخوا کے مشیر برائے جنگلات ماحولیات و جنگلی حیات پیر مصور خان کی زیر صدارت فارسٹ ڈویلپمنٹ کارپوریشن کے دفتر میں اہم اجلاس منعقد ہوا، اِجلاس میں کابینہ کے فیصلے کی روشنی میں چترال میں پڑی ٹمبر کی مقررہ مدت کے اندر نکاسی، محفوظ مقامات تک منتقلی، شفاف نیلامی اور آمدن کی بروقت وصولی کے لیے جامع حکمت عملی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے۔اجلاس میں سیکرٹری جنگلات و ماحولیات جنید خان سمیت محکمہ جنگلات کے دیگر افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں ٹمبر کی بروقت نکاسی و منتقلی، شفاف طریقہ کار کے تحت نیلامی اور ریونیو کی وصولی یقینی بنانے کے لیے مؤثر اقدامات پر غور کیا گیا ہے۔ جبکہ مشیر جنگلات نے ان اقدامات کو عملی جامہ پہنانے کے لیے مربوط حکمت عملی بنانے کی ہدایت کی۔ اجلاس سے اپنے خطاب میں مشیر وزیراعلی پیر مصور خان نے تمام مراحل میں شفافیت و میرٹ یقینی بنانے کی ہدایات کی ہے۔ انہوں جنگلات کے تحفظ کو یقینی بنانے پر زور دیا ہے جبکہ محکمہ جنگلات کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

اقلیتی برادری کو حقوق کی فراہمی یقینی بنانے کے سلسلے میں قائم ون مین کمیشن کے اجلاس کا پشاور میں انعقاد

سپریم کورٹ آف پاکستان کی ہدایات کی روشنی میں اقلیتی برادری کو حقوق کی فراہمی یقینی بنانے کے سلسلے میں قائم ون مین کمیشن کے چیئرمین ڈاکٹر محمد شعیب سڈل نے اقلیتی برادری کو آئینی و قانونی حقوق کی فراہمی یقینی بنانے میں خیبرپختونخوا حکومت کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ اقلیتی برادری کو آئینی و قانونی حقوق کی فراہمی کے متعلق اعلیٰ عدلیہ کی ہدایات پر عملدرآمد میں خیبرپختونخوا نے کافی پیش رفت کی ہے جو قابلِ تعریف ہے۔کمیشن کا ایک اہم اجلاس پشاور میں ڈاکٹر شعیب سڈل کی سربراہی میں منعقدہ ہوا جس میں خیبرپختونخوا کی اقلیتی برادری کے نمائندوں، انتظامی سیکرٹریز اور پولیس حکام نے شرکت کی۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر شعیب سڈل نے کہا کہ کہ اقلیتی روزگار کوٹے کے تحت اگر مطلوبہ اہلیت و معیار کے حامل امیدوار نہ ملیں تو مزید آپشنز پر غور کیا جائے تاکہ خالی رہ جانے والی آسامیوں پر بروقت بھرتی مکمل ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ اقلیتی نوجوانوں کو بااختیار بنانے کے لیے استعداد کار بڑھانے کی اکیڈمی قائم کی جائے جو انہیں روزگار کے مواقعوں سے فائدہ اٹھانے میں معاون ثابت ہو۔خیبرپختونخوا کی اقلیتی برادری کے لیے سپریم کورٹ کی ہدایات کی روشنی میں پانچ فیصد روزگار کوٹے پر عملدرآمد کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے حکام نے کمیشن کو آگاہ کیا کہ صوبے میں اقلیتی برادری کے لیے مجموعی طور پر 3380 آسامیاں مختص ہیں، جن میں سے 1282 پر اقلیتی برادری کے اہل امیدوار بھرتی کیے جا چکے ہیں جبکہ 2106 آسامیاں تاحال خالی ہیں۔ چیئرمین ڈاکٹر شعیب سڈل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ خالی نشستوں پر اقلیتی برادری کے امیدواروں کے لیے مزید آسانیاں پیدا کی جائیں۔سرکاری جامعات میں دو فیصد اقلیتی طلبہ کوٹے کے نفاذ کے حوالے سے محکمہ اعلیٰ تعلیم کے حکام نے کمیشن کو بریف کرتے ہوئے بتایا کہ تین دن قبل تمام جامعات کے حکام کے ساتھ اجلاس ہوا، جس میں انہوں نے آئندہ داخلوں میں مذکورہ کوٹہ سسٹم پر مکمل عملدرآمد کی یقین دہانی کرائی ہے۔ کمیشن کو گوردوارہ سارا گڑھی، سنگھ سبھا ہنگو کی سیکیورٹی سے متعلق آگاہ کیا گیا کہ مذکورہ گوردوارے کو سیکیورٹی فراہم کی جا چکی ہے، جبکہ محکمہ اوقاف خیبرپختونخوا کے ساتھ رجسٹریشن مکمل ہوتے ہی مزید ضروری اقدامات بھی اٹھائے جائیں گے۔ اس پر چیئرمین ڈاکٹر شعیب سڈل نے ہدایت کی کہ متعلقہ حکام گوردوارے کی رجسٹریشن کے عمل میں تعاون فراہم کریں۔کمیشن کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ تعلیمی و دیگر اداروں میں خدمات انجام دینے والے اقلیتی برادری کے افراد کی تقرری و تبادلے کے حوالے سے ایک کمیٹی تشکیل دی جائے، جس کی سربراہی ون مین کمیشن کے چیئرمین خود کریں گے۔ مذکورہ کمیٹی تبادلے اور تقرری کے عمل سے متعلق واضح پالیسی رہنما اصول مرتب کرے گی۔ اجلاس میں اقلیتی برادری کے حقوق سے متعلق دیگر اہم نکات پر بھی غور کیا گیا۔

محکمہ ایکسائز کا پشاور میں منشیات کے خلاف تازہ کارروائیاں، چرس و ہیروئن برآمد، چار ملزمان گرفتار

محکمہ ایکسائز وٹیکسیشن اور نارکوٹکس کنٹرول خیبرپختونخوا نے پشاور شہر میں منشیات کے خلاف تازہ کارروائیوں میں بھاری مقدار میں منشیات برامد کرکے ملزمان کو گرفتار کرلیا ہے۔ صوبائی حکومت کی منشیات کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اور وزیر ایکسائز سید فخرجہان کی ہدایات کے تحت صوبہ بھر میں جاری کارروائیوں کے تحت ایکسائز انٹیلیجنس اور تھانہ ایکسائز پشاور کی جانب سے منشیات سپلائرز کے خلاف جاری کریک ڈاؤن کے دوران مختلف کارروائیوں میں مجموعی طور پر 5800 گرام منشیات برآمد کرکے چار ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا۔محکمہ ایکسائز سے موصولہ تفصیلات کے مطابق ایکسائز انٹیلیجنس سکواڈ I -B نے جوائنٹ چیک پوسٹ پر کارروائی کرتے ہوئے گاڑی نمبر CAG -868کی تلاشی کے دوران 1200 گرام چرس برآمد کی۔ کارروائی کے دوران ملزم دانش سفطین ملک ولد محمد سفطین ملک کو موقع پر گرفتار کر لیا گیا جس کے خلاف مزید تفتیش اور قانونی کارروائی کے لیے تھانہ ایکسائز پشاور میں مقدمہ درج کر دیا گیا ہے۔ایک اور کارروائی کے دوران ایکسائز انٹیلیجنس سکواڈ I -B نے ایچ گول چوک کے مقام پر کارروائی کرتے ہوئے 1000 گرام ہیروئن اور 1200 گرام چرس برآمد کی۔ کارروائی کے دوران دو ملزمان جلات خان ولد شہزادہ اور فضل ہادی ولد سلام بر خان کو گرفتار کر لیا گیا۔ ملزمان کے خلاف تھانہ ایکسائز پشاور میں مقدمہ درج کر کے مزید قانونی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔اسی طرح تھانہ ایکسائز پشاور نے خفیہ اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے ایچ گول چوک کے مقام پر اسکول بیگ کی آڑ میں منشیات اسمگل کرنے کی کوشش ناکام بنا دی۔ دوران تلاشی 2400 گرام چرس برآمد کرکے ملزم کمین خان ولد آدم خان کو موقع پر گرفتار کر لیا گیا۔ ملزم کے خلاف تھانہ ایکسائز پشاور میں مقدمہ درج کر دیا گیا ہے۔

صوبائی وزیر اطلاعات شفیع جان کا اپنے حجرے میں کھلی کچہری / پبلک ڈے، عوامی مسائل کے فوری حل کا حکم

خیبر پختونخوا کے وزیرِ اطلاعات، سائنس و ٹیکنالوجی و انفارمیشن ٹیکنالوجی شفیع جان نے کوہاٹ میں ہنگو پاٹک میں اپنے حجرے پر کھلی کچہری / پبلک ڈے کا انعقاد کیا جس میں مختلف سرکاری محکموں اور اداروں کے متعلقہ افسران و ذمہ داران نے شرکت کی۔ پبلک ڈے کا مقصد شہریوں کو اپنے مسائل براہِ راست صوبائی وزیر کے سامنے پیش کرنے اور متعلقہ حکام کی موجودگی میں ان کے فوری حل کی راہ ہموار کرنا تھا۔ پبلک ڈے کے دوران علاقے سے آنے والے شہریوں نے مختلف نوعیت کے مسائل، شکایات اور عوامی مشکلات صوبائی وزیر کے سامنے رکھیں۔ شفیع جان نے شہریوں کی شکایات کو غور سے سنا اور متعلقہ محکموں کے افسران سے مسائل کے بارے میں بریفنگ لیتے ہوئے انہیں ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کیلئے ضروری ہدایات جاری کیں۔

وزیر اطلاعات نے اس موقع پر کہا کہ عوامی خدمت حکومت کی اولین ذمہ داری ہے اور سرکاری اداروں کی کارکردگی کا اصل معیار یہی ہے کہ عام شہری کو اس کی دہلیز پر بروقت اور بلاامتیاز سہولیات فراہم کی جائیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ عوامی خدمات کی فراہمی میں کسی قسم کی غفلت، کوتاہی یا غیر ضروری تاخیر ہر گز قابلِ قبول نہیں ہوگی۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ شہریوں کی جانب سے پیش کئے جانے والے مسائل کو محض شکایات تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ ان کے حل کیلئے عملی اقدامات کئے جائیں۔ ہر درخواست اور شکایت پر مقررہ وقت کے اندر پیشرفت یقینی بنائی جائے اور عوام کو ان کے مسائل کے حل کے حوالے سے واضح جواب دیا جائے۔ شفیع جان نے کہا کہ سرکاری افسران اور اہلکار عوام کے خادم ہیں اور انہیں اپنے فرائض پوری ذمہ داری، خلوصِ نیت، شفافیت اور احساسِ جوابدہی کے ساتھ انجام دینے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اور عوام کے درمیان براہِ راست رابطہ مضبوط بنانا مؤثر طرزِ حکمرانی کیلئے ضروری ہے جبکہ پبلک ڈے جیسے اقدامات سے شہریوں کو اپنے مسائل اعلیٰ حکام تک پہنچانے کا براہِ راست موقع ملتا ہے۔ شفیع جان نے کہا کہ چیئرمین عمران خان کے عوامی طرزِ حکمرانی کے وژن اور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی کی قیادت میں صوبائی حکومت عوامی مفاد، میرٹ، شفافیت اور جوابدہی کو ترجیح دے رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومتی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کو سہولیات کی فراہمی میں رکاوٹیں دور کریں اور شہریوں کے جائز مسائل کے حل کیلئے مؤثر اقدامات اٹھائیں۔ وزیر موصوف نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ پبلک ڈے کے دوران موصول ہونے والی شکایات اور درخواستوں پر فوری کارروائی کی جائے اور غیر ضروری تاخیر سے گریز کیا جائے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ عوام کو درپیش مسائل کے حل اور انہیں بنیادی سہولیات کی فراہمی کیلئے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔

شوکت علی یوسفزئی نے رائٹ ٹو پبلک سروسز کمیشن خیبر پختونخوا کے کمشنر کا چارج سنبھال لیا

ریٹائرڈ پی ایم ایس گریڈ-20 کے آفیسرشوکت علی یوسفزئی نے رائٹ ٹو پبلک سروسز کمیشن، خیبر پختونخوا کے کمشنر کی حیثیت سے اپنے عہدے کا چارج سنبھال لیا۔ انہیں وسیع انتظامی تجربہ حاصل ہے اور وہ کمشنر مردان، کمشنر بنوں، کمشنر ہزارہ اور کمشنر ملاکنڈ کے اہم انتظامی عہدوں پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔ ان کا تعلق بنیادی طور پر سوات سے ہے اور انہوں نے اپنے شاندار انتظامی کیریئر کے دوران مختلف اہم عہدوں پر ذمہ داریاں نبھائی ہیں۔چارج سنبھالنے کے بعد نئے کمشنر نے آر ٹی ایس کمیشن کے ہیڈکوارٹر کا دورہ کیا اور چیف کمشنر سمیت کمیشن کے افسران سے ملاقات کی۔ اس موقع پر انہیں کمیشن کے مینڈیٹ، طریقہ کار، جاری اقدامات اور عوامی آگاہی کی سرگرمیوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔بعد از، عملے کے ساتھ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کمشنر شوکت علی یوسفزئی نے کہا کہ عوام کو بروقت، شفاف اور شہریوں کی ضروریات کے مطابق عوامی خدمات کی فراہمی بہتر طرزِ حکمرانی کی بنیادی ضرورت ہے۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ آر ٹی ایس کمیشن شہریوں کے اس قانونی حق کے تحفظ کے لیے مؤثر کردار ادا کرتا رہے کہ انہیں مقررہ مدت کے اندر نوٹیفائیڈ عوامی خدمات فراہم کی جائیں۔کمشنر نے مزید کہا کہ عوامی خدمات کی فراہمی میں حائل رکاوٹوں کی نشاندہی، سروس ڈلیوری کی نگرانی اور متعلقہ اداروں کی جوابدہی یقینی بنانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی، ڈیٹا پر مبنی نگرانی اور مؤثر عوامی رابطہ کاری کو مزید فروغ دینے کی ضرورت ہے۔انہوں نے اپنے وژن کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کی ترجیح آر ٹی ایس نظام کو مزید قابلِ رسائی، مؤثر، شفاف اور عوام دوست بنانا ہوگی، تاکہ عام شہریوں کو غیر ضروری تاخیر، مشکلات اور رکاوٹوں کے بغیر سرکاری خدمات حاصل ہو سکیں۔کمیشن کے افسران اور ملازمین نے شوکت علی یوسفزئی کو کمشنر کا عہدہ سنبھالنے پر خوش آمدید کہا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ ان کی رہنمائی میں صوبے میں رائٹ ٹو پبلک سروسز کے نظام کو مزید مضبوط اور مؤثر بنانے کے لیے بھرپور کردار ادا کریں گے۔

مشیر کھیل و امورِ نوجوانان تاج محمد ترند سے نئے تعینات ڈی جی اسپورٹس اشفاق احمد کی ملاقات

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیر برائے کھیل و امورِ نوجوانان تاج محمد خان ترند سے محکمہ کھیل و امورِ نوجوانان کے نئے تعینات ڈائریکٹر جنرل اشفاق احمد نے ملاقات کی۔ملاقات کے موقع پر سیکرٹری کھیل و امورِ نوجوانان محمد آصف بھی موجود تھے۔ ملاقات میں محکمہ کھیل و امورِ نوجوانان کی مجموعی کارکردگی، جاری سرگرمیوں اور مستقبل کے منصوبوں سمیت صوبے میں کھیلوں کے فروغ سے متعلق مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔مشیر کھیل تاج محمد خان ترند نے صوبے میں کھیلوں کے فروغ، نوجوانوں کو مثبت اور صحت مند سرگرمیوں کے مواقع فراہم کرنے اور کھیلوں کے بنیادی ڈھانچے کو مزید بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے نوجوانوں میں بے پناہ صلاحیتیں موجود ہیں، حکومت ان صلاحیتوں کو اجاگر کرنے اور کھلاڑیوں کو بہتر سہولیات و مواقع فراہم کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کر رہی ہے۔ صوبے میں کھیلوں کی سرگرمیوں کو نچلی سطح تک وسعت دینا اور باصلاحیت نوجوان کھلاڑیوں کو آگے آنے کے مواقع فراہم کرنا حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔اس موقع پر نئے تعینات ڈائریکٹر جنرل کھیل اشفاق خان نے محکمہ کھیل سے متعلق مختلف امور پر مشیر کھیل کو بریفنگ دی اور صوبے میں کھیلوں کے فروغ کے لیے اپنی ترجیحات اور آئندہ کے لائحہ عمل سے آگاہ کیا۔ملاقات میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ صوبے میں کھیلوں کے فروغ اور نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں کی جانب راغب کرنے کے لیے محکمہ کھیل اپنی ذمہ داریاں مزید مؤثر انداز میں ادا کرے گا۔

وزیر اعلیٰ کے مشیر برائے سماجی بہبود،عشروزکواۃ وترقی خواتین،ملک لیاقت علی خان کی زیر صدارت ضلع ملاکنڈ میں خصوصی افراد کے مسائل کے حل کیلئے کھلی کچہری کا انعقاد۔

وزیر اعلیٰ کے مشیر ملک لیاقت نے ملاکنڈ میں خصوصی افراد کے سکولوں کیلئے دو عدد گاڑیاں حوالے کیں۔ رواں ماہ ملاکنڈ میں چائلڈ پروٹیکشن سنٹر کے قیام کا اعلان بھی کیا۔ایک بزرگ شہری کو علا ج کیلئے فوری طورپر 50ہزار روپے نقد ادا کردئیے۔
ضلع ملاکنڈ کے ڈسٹرکٹ سوشل ویلفیئر آفس میں خصوصی افراد کے مسائل کے حل کیلئے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے سماجی بہبود،عشر وزکواۃ اور ترقی خواتین، ملک لیاقت علی خان کی زیر صدارت کھلی کچہری کا انعقاد ہوا۔ کھلی کچہری میں ایڈیشنل سیکرٹری محکمہ سماجی بہبود عمر رحمن، ڈپٹی کمشنر ملاکنڈ محمد فیاض خان شیرپاؤ، ضلعی آفیسر محکمہ سماجی بہبود صابر خان سمیت خصوصی افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ کھلی کچہری میں خصوصی افراد،بزرگ شہریوں، نابینا افراد، بیوہ خواتین اور یتیموں نے اپنے مسائل بیان کئے جن میں محکمہ سماجی بہبود اور محکمہ زکواۃ سے متعلق مسائل کی نشاندہی کی گئی جبکہ بعض افراد نے مختلف بیماریوں کیلئے فنڈز کی فراہمی کا مطالبہ کیا۔ اس کے علاوہ سرکاری نوکریوں میں خصوصی افراد کے 2فیصد کوٹے پر عملدرآمد کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔وزیر اعلیٰ کے مشیر ملک لیاقت خان نے تمام مسائل غور سے سنے اور ان میں سے بعض پر فوری حل کے احکامات جاری کردئے۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ملک لیاقت خان نے کہا کہ میں خصوصی افراد کا وکیل ہوں اور خصوصی افراد کی بحالی اور ان کے تمام مسائل حل کرنے کیلئے اقدامات اٹھائیں جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ کے حکم پر تمام اضلاع کے دورے کر رہا ہوں تاکہ عوام کے مسائل سن کر فوری حل کر سکوں۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ نے احکامات جاری کئے ہیں کہ وزراء اپنے دفتروں میں نہیں بیٹھیں گے بلکہ اضلاع کے دورے کرکے عوام کے مسائل ان کے دہلیز پر سنیں گے۔ انھوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے تمام اضلاع سے ڈیٹا مانگا ہے تاکہ ہمیں پتہ چلے کہ صوبے میں خصوصی افراد، یتیم اور بیوہ خواتین کی تعداد کتنی ہے تاکہ ان کے مستقبل سنوارنے کیلئے پائیدار اقدامات کئے جاسکیں۔ انھوں نے کھلی کچہری کے دوران جہیز فنڈ، علاج معالجے، وہیل چیئر اور سلائی مشینوں کے حوالے سے پیش کئے گئے مطالبات کو منظور کرتے ہوئے کہا کہ وہیل چیئر اور سلائی مشینیں فوری طورپر فراہم کردی جائیں گی جبکہ جہیز فنڈ اور بیماریوں کے علاج کیلئے فنڈز مانگنے والے افراد فوری طورپر محکمہ زکواۃ کیساتھ درخواستیں جمع کریں تاکہ ان پر کاروائی ہوسکے۔ انہوں نے اس موقع پر کہا کہ امید کارڈ، سہارا کارڈ اور خوشحال کارڈ کی تعداد میں اضافہ کرینگے اور اس کی رقم بھی بڑھائیں گے۔ اس کے علاوہ خصوصی افراد کو مختلف ہنر سکھائیں گے اور خاص طورپر قالین بافی کی تربیت دینگے تاکہ وہ خود کفیل ہوسکے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ خصوصی افراد کے 2فیصد کوٹے پر ہر صورت میں عملدرآمد یقینی بنایا جائیگا۔ انہوں نے بتایا کہ خصوصی افراد کو بلاسود قرضوں کی فراہمی کیلئے 700ملین روپے اخوت فاؤنڈیشن کو دئیے گئے ہیں جبکہ انہیں انٹرن شپ کے مواقع فراہم کرنے کیلئے 500ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔ وزیر اعلیٰ کے مشیر نے اس موقع پر اعلان کیا کہ ضلع ملاکنڈ میں چائلڈ پروٹیکشن سنٹر رواں ماہ قائم کیا جائیگا۔ اس موقع پر ملک لیاقت خان نے خصوصی افراد کے سکولوں کے لئے 2گاڑیوں کی چابیاں بھی محکمہ سماجی بہبود ملاکنڈ کو حوالے کیں۔

ڈبل شفٹ سکولز کے حوالے سے اہم اجلاس کا انعقاد

سکو لوں میں ڈبل شفٹ کے حوالے سے ایک اہم اجلاس بدھ کے روز پشاور میں منعقد ہواجس میں سیکرٹری ابتدائی و ثانوی تعلیم، چیف پلاننگ آفیسر اور دیگر افسران نے شرکت کی جبکہ خیبر پختونخوا کے تمام اضلاع کے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسرز زنانہ و مردانہ نے اجلاس میں ورچوئلی شرکت کی۔اجلاس میں نئے ڈبل شفٹ سکولز کے قیام کے حوالے سے ڈی ای اوز کی جانب سے موصول ہونے والی درخواستوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔شرکاء نے سکولوں میں طلبہ کے بڑھتے ہوئے اندراج، کلاس رومز کی کمی اور وسائل کے بہتر استعمال کے تناظر میں ڈبل شفٹ سسٹم کی اہمیت پر تبادلہ خیال کیا۔ اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ ڈبل شفٹ سکولز کے ذریعے زیادہ سے زیادہ بچوں کو تعلیمی سہولیات فراہم کی جا سکیں گی، بالخصوص ان علاقوں میں جہاں سکولوں کی عمارتوں کی کمی ہے۔اجلاس کے اختتام پر متعلقہ حکام کو ہدایت کی گئی کہ ڈی ای اوز کی درخواستوں کا میرٹ کی بنیاد پر جائزہ لیا جائے اور نئے ڈبل شفٹ سکولز کے قیام کے لیے فوری سفارشات تیار کی جائیں تاکہ بچوں کو تعلیم کے یکساں مواقع فراہم کیے جا سکیں۔