Home Blog Page 152

صوبائی وزیر اعلیٰ تعلیم مینا خان آفریدی نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت اعلیٰ تعلیم باالخصوص

صوبائی وزیر اعلیٰ تعلیم مینا خان آفریدی نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت اعلیٰ تعلیم باالخصوص انجنئیرنگ اور ٹیکنالوجی کے تعلیم کے فروغ کے لیے تمام وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔ حکومت نے اعلیٰ تعلیم کا بجٹ نگران دور کے ایک ارب 90 کروڑ کے مقابلے میں حالیہ بجٹ میں 10 ارب کر دیا ہے۔ یونیورسٹیاں روایتی انجینئرنگ کے ساتھ آرٹیفیشل انٹیلیجنس اور سائبر سیکورٹی کے شعبوں میں ماہرین کی تیاری پر توجہ دیں جو جدید دور کا تقاضہ اور ہماری حکومت اور عمران خان کا ہی وژن ہے۔ وہ یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی مردان میں ٹیک وژن فائنل ائیر پراجیکٹ ایکسپو کے موقع پر میڈیا سے بات چیت اور طلبہ و فیکلٹی سے خطاب کر رہے تھے۔ اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ساجد خان، یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر گل محمد، ڈین ڈاکٹر عمران، انڈسٹری کے نمائندگان، فیکلٹی ممبرز اور طلبہ و طالبات کی بڑی تعداد موجود تھی۔ ایکسپو میں 30 مختلف انڈسٹریز اور فائنل ائیر کے طلبہ و طالبات نے اپنے مصنوعات اور پراجیکٹس کے 66 سٹالز لگائے تھے۔ وزیر برائے اعلیٰ تعلیم نے تمام سٹالز کا دورہ کیا اور طالب علموں سے ان کے پراجیکٹس کے بارے میں تبادلہ خیال کیا۔ بیسٹ پراجیکٹ ایوارڈ سول انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ نے حاصل کیا۔ صوبائی وزیر نے اس موقع پر یونیورسٹی میں حال ہی میں قائم شدہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس سنٹر اور یونیورسٹی کی جانب سے مکمل شدہ دو سو کلو واٹ سولر سسٹم کا افتتاح کیا۔ سنٹر برائے آرٹیفیشل انٹیلیجنس کاقیام ملک میں اس شعبے میں ترقی کے حوالے سے ایک سنگ میل ثابت ہوگا۔ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر گل محمد نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انجنیرنگ کے طلبہ و طالبات کو ملازمت کے پیچھے بھاگنے کی بجائے مختلف ہنر سیکھ کر ایک انٹرپرینور کے طور پر لوگوں کو روزگار دے کر ملک و قوم کی خدمت کرنی چاہئیے۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر برائے اعلیٰ تعلیم مینا خان آفریدی نے کہا کہ وہ اس ایکسپو میں طلبہ و طالبات کے مختلف پروجیکٹس سے از حد متاثر ہوئے ہیں اور یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی مردان کے طالب علموں نے یہ ثابت کیا کہ ہمارے نوجوان بھرپور ٹیلنٹ کے حامل ہیں اور تھوڑی سی توجہ دے کر ان کی صلاحیتوں کو ملک وقوم کے حق میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے یو ای ٹی مردان کے وائس چانسلر اور فیکلٹی کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی کاوشیں ان کامیاب پراجیکٹس میں واضح طور پر جھلک رہی ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ یونیورسٹیوں کو انڈسٹریز کے ساتھ لنک کرنے سے نہ صرف روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے بلکہ نئی تحقیق سے عوام کو بہترین سہولیات بھی میسر آسکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ سنٹر برائے اے آئی کے تحت بی ایس لیول کے چار نئے پروگراموں کے اجراء سے یونیورسٹی مزید آگے بڑھے گی اور اس نئی ٹیکنالوجی کو فروغ ملے گا۔ مینا خان آفریدی نے ایکسپو میں نمائش کے لیے رکھے گئے پراجیکٹس کے حامل طالب علموں کو 30 ہزار روپے فی پراجیکٹ کیش ایوارڈ بھی دئیے۔ جبکہ بہترین آئیڈیاز پیش کرنے والوں میں 20/20 ہزار روپے کیش پرائز تقسیم کیے۔ اس موقع پر وائس چانسلر ڈاکٹر گل محمد نے وزیر برائے اعلیٰ تعلیم مینا خان آفریدی اور ڈی جی سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ساجد خان کو شیلڈز پیش کئے۔

بیرسٹر ڈاکٹر سیف کی بانی پی ٹی آئی عمران خان سے اہم ملاقات

ملاقات میں سیاسی امور سمیت خیبرپختونخوا بجٹ کے حوالے سے تفصیلی گفتگو ہوئی، بیرسٹر ڈاکٹر سیف

وزیر اعلی خیبر پختون خوا کے مشیر اطلاعات و تعلقات عامہ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے بانی پی ٹی آئی عمران خان سے اہم ملاقات کی ہے اس حوالے سے بیرسٹر ڈاکٹر سیف کا کہنا ہے کہ ملاقات کے دوران سیاسی امور سمیت خیبرپختونخوا بجٹ کے حوالے سے تفصیلی گفتگو کی گئی اور عمران خان کو بجٹ سے متعلق قانونی و آئینی پیچیدگیوں سے آگاہ کیاگیا۔انہوں نے کہاکہ اگر مقررہ آئینی مدت میں بجٹ پاس نہ کیا جاتا تو سنگین قانونی و آئینی مسائل پیدا ہو سکتے تھے، پیچیدگیوں کے باعث نہ تو تنخواہیں دی جا سکتی تھیں اور نہ ہی حکومتی اخراجات پورے کیے جا سکتے تھے، بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے مزید کہا کہ
بجٹ کی عدم منظوری سے صوبے میں بحران کی صورتحال جنم لے سکتی تھی، عمران خان کو بجٹ کی منظوری نہ دینے کی اپوزیشن کی ممکنہ چالوں سے بھی آگاہ کیا، علاوہ ازیں
گورنر ہاؤس میں اپوزیشن کی سازشی بیٹھک سے بھی عمران خان کو آگاہ کیا گیا، بیرسٹر ڈاکٹر سیف
نے کہا کہ اپوزیشن نے بجٹ کی منظوری نہ نہ دینے کی صورت پورا لائحہ بنایا تھا، خیبرپختونخوا حکومت نے بجٹ پر تفصیلی مشاورت کی اور آئینی ماہرین کی رائے حاصل کی، پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں بھی بجٹ کی منظوری پر بھرپور مشاورت ہوئی اورمشاورت کے بعد کے پی حکومت نے بجٹ کو مشروط طور پر منظور کرنے کا فیصلہ کیا۔بیرسٹر ڈاکٹر سیف

نے کہا کہ علی امین خان گنڈاپور اور مزمل اسلم کی عمران خان سے ملاقات کے بعد بجٹ میں ردوبدل ممکن ہے، عمران خان نے بجٹ کی منظوری پر رضامندی کا اظہار کیا، وزیر اعلی اور مزمل اسلم کی عمران خان سے ملاقات میں وہ بجٹ سے متعلق ہدایات جاری کریں گے، عمران خان کی ہدایات کے مطابق بجٹ میں ردوبدل کیا جائے گا، وزیراعلیٰ علی امین خان گنڈاپور اور مزمل اسلم کو بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی تھی،مجھے آج عمران خان سے ملاقات کی اجازت مل گئی، میں نے وہ تمام نکات عمران خان کے سامنے رکھے جو وزیراعلیٰ اور مزمل اسلم اٹھانا چاہتے تھے، وزیراعلیٰ کی ہدایات کے مطابق عمران خان کو بجٹ پر مکمل بریفنگ دی گئی،

مشیر صحت احتشام علی کی ساتھ خیبرپختونخوا ڈاکٹر کونسل کے نمائندہ وفد کی ملاقات،

وزیر اعلی خیبر پختو خوا کےمشیر صحت احتشام علی نے خیبرپختونخوا ڈاکٹر کونسل کے نمائندہ وفد کو دفتر مدعو کرکے ان سے ملاقات کی اور طبی عملے کو درپیش مسائل بارے سیر حاصل گفتگو کی۔
ملاقات میں سپیشل سیکرٹری ہیلتھ سمیت انصاف ڈاکٹرز فورم کے صوبائی صدر ڈاکٹر نبی جان آفریدی بھی موجود تھے۔ ملاقات میں طبی عملے کے مسائل پر غور و حوض ہوا۔ مشیر صحت احتشام علی نے پچھلے ہفتے آئے ڈاکٹرز جرگہ کے محکمہ صحت میں تھوڑ پھوڑ پر افسوس کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ پڑھے لکھے لوک ایسے کام کرینگے تو عام آدمی سے کیا توقع کی جاسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی نمائندہ تنظیم کسی بھی وقت میرے دفتر آسکتی ہے لیکن غیر شائستہ گفتگو اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانا قابل قبول نہیں۔ مشیر صحت نے واضح کیا کہ ڈاکٹرز کے مطالبات پر پہلے ہی 80 فیصد کام مکمل ہوچکا ہے۔ اس بابت انصاف ڈاکٹرز فورم نے بطور نمائندہ طبی عملے کے زیادہ تر مسائل پر پہلے ہی کام مکمل کرلیا ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ کنٹریکٹ بھرتی کا عمل جاری ہے۔ مختلف ایم ٹی آئیز میں بھی بھرتی کا عمل مسلسل جاری ہے۔ پبلک سروس کمیشن کے زریعے بھی ڈسٹرکٹ سپیشلسٹ کی بھرتی کا عمل شروع ہوا تھا جو کہ قانونی پیچیدگیوں کی وجہ سے فی لوقت معطل ہے۔ مشیر صحت احتشام علی نے یہ بھی بتایا کہ ڈاکٹرز کی تنخواہوں میں اضافے کا عمل بھی آخری مراحل میں ہے اور بہت جلد ڈاکٹرز کمیونٹی کو اچھی خبر سنائیں گے۔ طبی عملے کے مسائل کا ادراک ہے اور یہ مسائل سیاست سے بالاتر ہوکر حل کرینگے۔

جدید ٹیکنالوجی اور انٹرکراپنگ سے کسانوں کی پیداواری صلاحیت بڑھائی جائے گی، نجی شعبہ زراعت کا لازمی حصہ ہے – صوبائی وزیر زراعت

جدید ٹیکنالوجی اور انٹرکراپنگ سے کسانوں کی پیداواری صلاحیت بڑھائی جائے گی، نجی شعبہ زراعت کا لازمی حصہ ہے – صوبائی وزیر زراعت

خیبر پختونخوا کے وزیر زراعت میجر (ر) سجاد بارکوال نے کسانوں کی پیداواری صلاحیت میں اضافے، جدید زرعی ٹیکنالوجیز کی تربیت، اور زرعی یونیورسٹیوں میں عملی تعلیم پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ محکمہ زراعت صوبے میں زرعی شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے پرعزم ہے۔بین الاقوامی زرعی کانفرنس و ایکسپو کے اختتامی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر زراعت نے کہا کہ کسانوں کی فصلات کے حوالے سے صلاحیت بڑھانا ہماری اولین ترجیح ہے۔ محکمہ زراعت کسانوں کو جدید ترین ٹیکنالوجیز کے بارے میں موثر تربیت فراہم کرے۔ ساتھ ہی، زرعی یونیورسٹیوں کو چاہیے کہ وہ طلباء کو عملی اور میدانی سطح کا علم بھی فراہم کریں تاکہ وہ مستقبل میں جدید زراعت کے چیلنجز کا مقابلہ کر سکیں۔صوبائی وزیر زراعت نے صوبے میں زرعی زمین کی قلت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انٹرکراپنگ کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا میں صرف 1.7 ملین ہیکٹر زمین ہی زراعت کے لیے دستیاب ہے۔ ایسی صورت میں، کسانوں کو انٹرکراپنگ جیسی جدید تکنیکوں کی تربیت دے کر ہی ان کی فی ایکڑ پیداوار اور مجموعی آمدنی میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے محکمہ زراعت کو ہدایت کی کہ وہ انٹرکراپنگ کی تربیت اور اس کے فروغ کے لیے موثر اقدامات کرے۔سجاد بارکوال نے زرعی ترقی میں نجی شعبے کے کردار کو انتہائی اہم قرار دیا اور انکے کردار کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اگر نجی شعبے کو زراعت کے سیکٹر سے باہر کیا جاتا ہے تو اس کا مطلب درحقیقت زراعت کو پسماندگی کی طرف دھکیلنا ہے۔ نجی سرمایہ کاری، مارکیٹ رابطے اور جدید انتظام زرعی ترقی کے لیے انتہائی اہم ہیں۔ محکمہ زراعت صوبے میں نجی شعبے کی بھرپور معاونت اور شراکت کے لیے پرعزم ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ محکمہ زرعی تحقیق کے پی نے زیادہ پیداوار دینے والی اور پائیدار فصلوں کی 129 نئی اقسام تیار کی ہیں۔ یہ اقسام کسانوں کو بہتر پیداوار اور ماحولیاتی چیلنجز کا مقابلہ کرنے میں مددگار ثابت ہوں گی۔ اسی طرح، انہوں نے محکمہ زراعت توسیع کی کاوشوں کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ محکمہ زراعت توسیع زرعی برادریوں میں جدید زرعی ٹیکنالوجیز کی تشہیر اور ان کے استعمال کو فروغ دینے کے لیے نئے اور مؤثر رجحانات قائم کر رہا ہے۔اپنے خطاب کے اختتام پر وزیر زراعت سجاد بارکوال نے اس کامیاب کانفرنس کے انعقاد پر منتظمین، شرکاء اور خصوصاً میڈیا نمائندوں کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ محکمہ زراعت اور اس سے وابستہ تمام ادارے مل کر صوبے کے کسانوں کی فلاح و بہبود اور زرعی شعبے کی ترقی کے لیے اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔ اس موقع پر سیکرٹری زراعت خیبر پختونخوا عطاالرحمان خلیل نے خطاب کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ یہ کانفرنس و ایکسپو محکمہ زراعت اور صوبے کے کسانوں کے لیے انتہائی مفید ثابت ہوئی ہے۔ نامیاتی کاشتکاری (آرگینک فارمنگ) ایک نئی ٹیکنالوجی ہے جس پر پینل ڈسکشن کے دوران تفصیل سے بات چیت ہوئی۔ انہوں نے موجودہ پانی کے موثر استعمال کو وقت کی اہم ترین ضرورت قرار دیتے ہوئے بتایا کہ پینل ڈسکشن میں اس موضوع پر مؤثر طریقے سے گفتگو ہوئی۔ سیکریٹری زراعت نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے موسمی حالات زیتون کی کاشت کے لیے موزوں ہیں اور محکمہ اس کی مالیاتی اہمیت کو اجاگر کرنے اور کسانوں کو اس کے منافع بخش پہلوؤں سے آگاہ کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ نئی زرعی ٹیکنالوجیز کو موسمیاتی تبدیلیوں کے تناظر میں ڈیزائن کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے تقریب کے اختتام پر صوبے میں زرعی ترقی کے لیے نجی شعبے کی کاوشوں کی تعریف کی۔ یہ قابل ذکر ہے کہ اس تقریب میں غیر ممالک کے ماہرین، صوبوں کے محققین اور خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع سمیت پورے پاکستان سے تعلق رکھنے والے کسانوں نے بھی شرکت کی۔کانفرنس کے اختتام پر صوبائی وزیر زراعت نے منتظمین میں شیلڈ ز بھی تقسیم کیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وزیر خوراک ظاہر شاہ طورو کی جانب سے پیش کردہ محکمہ خوراک کے تین بڑے مطالباتِ زر خیبرپختونخوا اسمبلی سے بھاری اکثریت سے منظور

وزیر خوراک خیبرپختونخوا ظاہر شاہ طورو نے مالی سال 2025-26 کے اخراجاتِ جاریہ کے ضمن میں خیبرپختونخوا اسمبلی میں محکمہ خوراک تین اہم مطالباتِ زر پیش کیے، جو ایوان نے بھاری اکثریت سے منظور کر لیے۔ ان مطالبات کا مقصد خوراک کے شعبے میں پالیسی اہداف کی تکمیل، فوڈ سیکیورٹی کو یقینی بنانا، اور ضم اضلاع میں گندم و چینی سے متعلقہ امور کی انجام دہی کے لیے مالی وسائل کی فراہمی ہے۔وزیر خوراک نے محکمہ خوراک کے مطالبہ زر نمبر 49 میں ایوان سے درخواست کی کہ 1 کھرب 13 ارب 10 کروڑ 47 لاکھ 74 ہزار روپے کی رقم اسٹیٹ ٹریڈنگ اِن فوڈ گرین اینڈ شوگر کے مد میں مختص کی جائے تاکہ مالی سال 30 جون 2026 تک اس شعبے کے اخراجات پورے کیے جا سکیں۔ ایوان نے یہ مطالبہ زر بھاری اکثریت سے منظور کر لیا۔
ظاہر شاہ طورو نے مطالبہ زر نمبر 35 میں فوڈ سیکیورٹی نیٹ کے پالیسی اہداف کے لیے 10 ارب 60 کروڑ 1 لاکھ 2 ہزار روپے جاری کرنے کی درخواست پیش کی، تاکہ مالی سال کے دوران درکار اہم اخراجات بروقت ادا کیے جا سکیں۔ یہ مطالبہ بھی اسمبلی نے بھاری اکثریت سے منظور کر لیا۔
اسی طرح وزیر خوراک نے محکمہ خوراک کے مطالبہ زر (ضم اضلاع) نمبر 66 میں مزید 37 کروڑ 9 لاکھ 7 ہزار روپے کی منظوری کی درخواست پیش کی، تاکہ ضم شدہ اضلاع میں اسٹیٹ ٹریڈنگ اِن فوڈ گرین اینڈ شوگر سے متعلق امور کے لیے ضروری فنڈز میسر آ سکیں۔ یہ مطالبہ بھی صوبائی اسمبلی نے اکثریت سے منظور کر لیا۔

دیرپا امن سب کے اشتراکِ عمل سے ہی ممکن ہے: چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا

چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا شہاب علی شاہ نے کہا ہے کہ کسی بھی علاقے کا پائیدار اور مستقل امن وہاں کے عوام کے خلوص نیت، محنت اور باہمی تعاون کی مرہونِ منت ہوتا ہے۔ اس مقصد کے لیے تمام سٹیک ہولڈرز کو ایک جگہ بیٹھ کر باہمی اعتماد بحال کرنا ہوتا ہے اور ایسے فیصلے ہی دیرپا اور مؤثر ثابت ہوتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت امن کے قیام کے لیے شب و روز کوشاں ہے لیکن اس میں کامیابی سب کے اشتراکِ عمل سے ہی ممکن ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کے روز کوہاٹ پولیس کلب میں ماہ محرم الحرام میں امن و رواداری کو یقینی بنانے کے سلسلے میں منعقدہ گرینڈ ڈویژنل امن جرگے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔جرگے سے صوبائی وزیر قانون افتخار عالم ایڈووکیٹ، اراکینِ قومی اسمبلی شہریار آفریدی، حمید حسین اور یوسف خان، اراکینِ صوبائی اسمبلی شفیع جان، اورنگزیب اورکزئی اور علی ہادی، انسپکٹر جنرل خیبرپختونخوا پولیس ذوالفقار حمید، کمشنر کوہاٹ ڈویژن سید معتصم باللہ شاہ، ڈی آئی جی کوہاٹ عباس مجید مروت، سابق چیف جسٹس سید ابن علی، اور اہل سنت و اہل تشیع کے اکابرین نے بھی خطاب کیا اور محرم الحرام کے دوران پُرامن ماحول کے لیے بھرپور تعاون کی یقین دہانی کرائی۔اس موقع پر جی او سی نائن ڈویژن کوہاٹ میجر جنرل ذوالفقار علی بھٹی، کوہاٹ، کرم، اورکزئی اور ہنگو کے ڈپٹی کمشنرز، ڈی پی اوز، اور دونوں مکاتبِ فکر کے علماء کرام و مشران بھی موجود تھے۔چیف سیکرٹری نے کہا کہ منتخب عوامی نمائندوں اور مشران کی گفتگو سن کر محسوس ہوا کہ اتفاق باہمی کے لئے سب یک زبان ہیں اور سب کے دل ایک ساتھ دھڑکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ جذبہ حب الوطنی نوجوانوں میں بھی منتقل کیا جائے اور انہیں باور کرایا جائے کہ سب مسلمان بھائی بھائی ہیں، ہمارے درمیان کوئی تفریق نہیں۔انہوں نے کہا کہ موجودہ عالمی حالات کے تناظر میں زیادہ ہوشیار اور بیدار رہنے کی ضرورت ہے۔ دشمن ہمیں عسکری لحاظ سے شکست نہیں دے سکتا، لیکن وہ ہمیں اندرونی طور پر کمزور کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جس میں بھارتی خفیہ ایجنسی “را” براہ راست ملوث ہے۔شہاب علی شاہ نے کہا کہ جب سب مسلمان ہیں تو ہمارے لیے بندوق اٹھانے کا کوئی جواز نہیں بنتا، مگر بدقسمتی سے دشمن ہمیں فرقہ وارانہ بنیادوں پر تقسیم کرکے لاحاصل جنگ میں الجھانے کی ناکام کوشش کر رہا ہے۔ضلع کرم کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہاں امن تیزی سے بحال ہو رہا ہے اور انشاء اللہ جلد ہی مرکزی شاہراہ عام ٹریفک کے لیے کھول دی جائے گی۔ تاہم، انہوں نے مقامی لوگوں پر زور دیا کہ وہ رضاکارانہ طور پر اسلحہ جمع کرانے کا عمل تیز کریں، بصورت دیگر یہ اسلحہ بحقِ سرکار ضبط کر لیا جائے گا۔
چیف سیکرٹری نے امید ظاہر کی کہ محرم الحرام 2025 میں بھی اہل تشیع اور اہل سنت حسبِ روایت محبت، بھائی چارے کا مظاہرہ کریں گے، اور انشاء اللہ نہ صرف محرم بلکہ ہر آنے والا مہینہ خیریت اور سکون کے ساتھ گزرے گااور مکّار دشمن اپنی چالوں میں کبھی کامیاب نہیں ہو سکے گا۔

معاونِ خصوصی برائے مواصلات و تعمیرات محمد سہیل آفریدی نے منصوبوں کا افتتاح کیا

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاونِ خصوصی برائے مواصلات و تعمیرات محمد سہیل آفریدی نے خیبرپختونخوا روڈ ایسٹ مینجمنٹ سسٹم یونٹ اور مصنوعی ذہانت پر مبنی روڈ ڈائیگناسٹک سافٹ ویئر منصوبوں کا افتتاح کیا۔اس حوالے سے پشاور میں منگل کے روز افتتاحی تقریب منعقد ہوئی جس میں خیبرپختونخوا روڈ ایسٹ مینجمنٹ سسٹم یونٹ آفس اور جدید مصنوعی ذہانت پاورڈ روڈ ڈائیگناسٹک سافٹ ویئر دونوں منصوبوں کا افتتاح کیا۔تقریب میں سیکرٹری مواصلات و تعمیرات محمد اسرار، ڈائریکٹر ریمز انجینئر عنایت الرحمٰن، محکمہ مواصلات و تعمیرات اور سیڈ پروگرام کے نمائندوں نے شرکت کی۔یہ جدید سافٹ ویئر سیڈ پروگرام کے تحت محکمہ مواصلات و تعمیرات کے لیے تیار کیا گیا ہے، جو مصنوعی ذہانت کی مدد سے سڑکوں کی حالت کی نگرانی کرے گا، ویڈیو، پیومنٹ اور پلوں کے تجزیے کے ذریعے سڑکوں کے نقصان کی نشاندہی کرے گا، اور پی سی آئی انڈیکس کی خودکار کیلکولیشن فراہم کرے گا۔ اس نظام کے ذریعے خیبرپختونخوا کی تمام سڑکوں کا ڈیٹا مرتب کیا جائے گا، تاکہ روڈ نیٹ ورک کی حالت کا درست اندازہ لگایا جا سکے اور بروقت مرمت کو یقینی بنایا جا سکے۔اس منصوبے کا مقصد سڑکوں کے اثاثہ جات کا مکمل ڈیٹا بیس تیار کرنا، نیٹ ورک کی موجودہ صورتحال کو جانچنا اور سڑکوں کو معیاری سطح پر برقرار رکھنا ہے۔ سڑکوں کی مؤثر دیکھ بھال نہ صرف اقتصادی ترقی کے لیے اہم ہے بلکہ یہ عوام کو روزگار، صحت، تعلیم اور دیگر بنیادی سہولیات تک رسائی دینے میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے محمد سہیل آفریدی نے سیڈ پروگرام اور محکمہ مواصلات و تعمیرات کی ٹیم کی کاوشوں کو سراہا اور کہا کہ یہ سسٹم صوبے کی ترقی کی راہ میں سنگِ میل ثابت ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام محکمہ مواصلات و تعمیرات کو مکمل طور پر ڈیجیٹلائز کرنے کی طرف ایک بڑا قدم ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ایک مؤثر روڈ نیٹ ورک غربت کے خلاف جنگ میں اہم کردار ادا کرتا ہے اور یہ منصوبہ خیبرپختونخوا کی عوام کے لیے دیرپا فوائد لے کر آئے گا۔

ہاؤسنگ منصوبوں کی تفصیلات طلب، اداروں کے ساتھ تعاون یقینی بنایاجائے۔ چیئرپرسن جلال خان

خیبر پختونخوا اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے ہاؤسنگ کا اجلاس چیئرپرسن و رکن صوبائی اسمبلی جلال خان کی زیر صدارت پشاور میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں اراکین صوبائی اسمبلی ریحانہ اسماعیل، محمد عثمان بٹنی، زبیر خان، سجاد اللہ، احمد کنڈی اور ملک طارق اعوان نے شرکت کی۔ اس موقع پر شرکائے اجلاس کو جلوزئی اور سروزئی ہاؤسنگ منصوبوں کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی، جس میں بجلی اور گیس کے کنکشنز سے متعلق پیش رفت سے آگاہ کیا گیا۔ کمیٹی نے ہاؤسنگ ڈیپارٹمنٹ کو ہدایت کی کہ آئندہ اجلاس میں تمام جاری اور مکمل شدہ منصوبوں کی مکمل تفصیلات پیش کی جائیں۔کمیٹی ممبران نے ایس این جی پی ایل اور پیسکو کو بھی ہدایت کی کہ وہ ہاؤسنگ ڈیپارٹمنٹ کے ساتھ مکمل تعاون یقینی بنائیں تاکہ ان منصوبوں کے ثمرات عوام تک جلد از جلد پہنچ سکیں۔اجلاس میں نیو پشاور ویلی کے منصوبے کی تفصیلات بھی طلب کی گئیں، جبکہ پی ایچ اے فلیٹس حیات آباد کے حوالے سے بھی مکمل رپورٹ مانگی گئی ہے۔چیئرپرسن کمیٹی جلال خان نے کہا کہ عوامی مفاد کے ان منصوبوں میں شفافیت اور بروقت تکمیل حکومت کی اولین ترجیح ہے، اور متعلقہ ادارے اس ضمن میں اپنی ذمہ داریاں بخوبی ادا کریں۔

خیبر پختونخوا کے وزیر برائے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ پختونیار خان نے بنوں پریس کلب کی حلف برداری

 پختونخوا کے وزیر برائے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ پختونیار خان نے بنوں پریس کلب کی حلف برداری تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سیاسی و انتظامی معاملات پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ گورنر نے بجٹ سمری پر دستخط کے باوجود دانستہ طور پر سمری چھپا کر آئینی عمل میں رُکاؤٹ ڈالی تاکہ بجٹ کو غیر مؤثر قرار دیا جا سکے اُنہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ ہم نے شکست خوردہ شخص کو عزت دی، عالیشان گھر دیا، لیکن اگر چاہیں تو زبردستی خالی بھی کرا سکتے ہیں پختونیار خان نے وفاقی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ عمران خان سے اڈیالہ جیل میں ملاقات کی بارہا کوششیں کی گئیں، تاکہ بجٹ میں مجوزہ فلاحی اقدامات اور منصوبہ جات سے متعلق رہنمائی حاصل کی جا سکے، مگر وفاق کی جانب سے مسلسل رکاوٹیں کھڑی کی جا رہی ہیں بین الاقوامی منظرنامے پر بات کرتے ہوئے صوبائی وزیر نے اسرائیل و ایران کے درمیان کشیدگی میں امریکی مداخلت کی شدید مذمت کی ان کا کہنا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی حکومت برادر اسلامی ملک ایران کے ساتھ کھڑی ہے اور وفاقی حکومت کو چاہیے کہ وہ اس معاملے پر قومی اسمبلی میں مذمتی قرارداد منظور کر کے قوم کے جذبات کی ترجمانی کرے۔ملک پختونیار خان نے میڈیا سے متعلق کہا کہ صحافی برادری سچائی کی علم بردار ہیں اور میڈیا کو حقائق سامنے لانے سے نہیں روکنا چاہیے۔ امن و امان کے قیام میں میڈیا کے کردار کو سراہتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ صحافی معاشرے کا ضمیر ہیں اس موقع پر بنوں پریس کلب کے صدر پیر نیاز علی شاہ، جنرل سیکرٹری محمد وسیم، سرپرست اعلیٰ عبدالسلام بیتاب اور کابینہ کے دیگر ارکان نے حلف اٹھایا تقریب میں صوبائی وزیرپختونیار خان، آر پی او سجاد خان، ڈپٹی کمشنر فہیم خان، ڈی پی او سلیم عباس کلاچی، ریجنل انفارمیشن آفیسر محمد سرور خٹک، ٹی ایم او یوسف خان، سینئر صحافی (مرحوم) حاجی عبدالمنان عادل، حاجی اجمل قمر خان، خان ضمیر خان اور محمد خطاب خان کو اعزازی شیلڈز بھی پیش کی گئیں تقریب سے معروف کاروباری شخصیت ملک شیرین مالک نے بھی خطاب کیاصوبائی وزیر نے اس موقع پر پی ٹی آئی حکومت کے تاریخی بجٹ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا کی تاریخ میں پہلی بار 2 ہزار ارب روپے کا ٹیکس فری بجٹ پیش کیا گیا ہے جس میں تمام اضلاع کو مساوی ترقیاتی حصہ دیا گیا ہے اُنہوں نے کہا کہ اس بجٹ میں صحت و تعلیم کو اولین ترجیح دی گئی، صحت کارڈ پلس پروگرام کے تحت اب اعضاء کی پیوندکاری بھی مفت ممکن ہو گئی ہے جبکہ بنوں میں پشاور انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کا افتتاح جلد متوقع ہے اسی طرح بنی گل سٹی کے نام سے دس ہزار کنال اراضی پر ایک نیا شہر بسایا جا رہا ہے جس پر کام شروع ہے اُنہوں نے کہا کہ بنوں کے ہسپتالوں کو جو فنڈز فراہم کئے گئے ہیں، ان کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی ملک پختونیار خان نے واضح کیا کہ سیاسی مخالفین جھوٹا کریڈٹ لینے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن نگران حکومت کے دوران وہ منصوبے کیوں نہ مکمل کئے جا سکے، اس کا جواب انہیں دینا ہوگااُنہوں نے بتایا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین خان گنڈا پور نے بنوں سمیت جنوبی اضلاع کے امن و امان کی صورتحال پر کھل کر بات کی ہے اور تمام مسلح گروہوں کی نشاندہی کی جا چکی ہے تاکہ خطے میں پائیدار امن یقینی بنایا جا سکے پریس کلب کے صدر کی جانب سے پیش کئے گئے سپاسنامہ کا جواب دیتے ہوئے صوبائی وزیر پختون یارخان نے یقین دہانی کرائی کہ صحافیوں کی فلاح و بہبود کے لئے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے سامنے تجاویز رکھی جائیں گی اور بنوں پریس کلب کے صحافیوں کو توقعات سے بڑھ کر ریلیف فراہم کیا جائے گا۔۔

چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا کی زیرصدارت ہفتہ وار جائزہ اجلاس، گورننس، انفراسٹرکچر اور عوامی خدمات میں پیشرفت کا جائزہ

چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا شہاب علی شاہ کی زیرصدارت ہفتہ وار جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں انتظامی سیکرٹریوں اور متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں گورننس، ترقیاتی منصوبوں، اور عوامی خدمات سے متعلق جاری اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں پشاور تا ڈیرہ اسماعیل خان موٹروے منصوبے کے لیے اسٹیئرنگ کمیٹی کے قیام کا نوٹیفکیشن جاری کرنے پر پیشرفت کا بھی جائزہ لیا گیا۔ چیف سیکرٹری نے ہدایت کی کہ منصوبے کی بروقت تکمیل کے لیے بین المحکمہ جاتی روابط کو مؤثر بنایا جائے۔ضروری اشیائے خوردونوش کی قیمتوں کا تفصیلی تجزیہ بھی اجلاس میں پیش کیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ چیف سیکرٹری کی حالیہ ہدایات کے مثبت اثرات سامنے آئے ہیں اور قیمتوں پر قابو پانے میں بہتری آئی ہے۔ صوبے کے تمام ڈپٹی کمشنرز مارکیٹ کمیٹیوں اور متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ قریبی رابطے میں ہیں تاکہ قیمتوں میں استحکام برقرار رکھا جا سکے۔ چیف سیکرٹری نے سپلائی چین پر سخت نگرانی کی ہدایت کی تاکہ ذخیرہ اندوزی اور قیمتوں میں مصنوعی اضافے کی روک تھام کی جا سکے۔اجلاس میں صوبائی ترقیاتی منصوبہ جات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ چیف سیکرٹری نے ہدایت کی کہ ایسے منصوبے جو تکمیل کے قریب ہیں ان کو ترجیح دی جائے تاکہ عوام کو جلد از جلد سہولیات کی فراہمی ممکن ہو۔سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لیے اجلاس میں بتایا گیا کہ اس ہفتے 30 اہم سرمایہ کاری منصوبوں پر مشتمل ”پچ بک” جاری کی جائے گی، جس کا مقصد ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاروں کو راغب کرنا اور عوامی و نجی شراکت داری کو فروغ دینا ہے۔اجلاس میں پشاور بیوٹیفیکیشن پلان پر بھی بریفنگ دی گئی جس پر باقاعدہ عملدرآمد شروع ہو چکا ہے۔ منصوبہ شہری تزئین و آرائش، گرین اسپیسز میں اضافہ اور ماحول کی بہتری پر مرکوز ہے۔سیاحت کے مقامات پر صفائی و ستھرائی اور ماحولیاتی تحفظ کے لیے متعلقہ حکام کو ویسٹ مینجمنٹ کے جامع پلان پیش کرنے کی ہدایت کی گئی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ حکومتی ہدایات کی روشنی میں گزشتہ ایک ہفتے کے دوران سیاحتی علاقوں کے 73 ہوٹلوں اور ریسٹورانٹس میں ڈرینیج اور سیوریج کے نظام کو بہتر بنایا گیا ہے۔اسی طرح شہری منصوبہ بندی اور تعمیراتی قوانین پر عملدرآمد کے لیے لینڈ یوز اینڈ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کو فعال کر دیا گیا ہے۔چیف سیکرٹری نے شفافیت اور مؤثر نظام حکمرانی کو اجاگر کرتے ہوئے بتایا کہ اس ہفتے خیبرپختونخوا گڈ گورننس روڈ میپ کے اجراء کی کانفرنس منعقد کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ منصوبہ بندی اور خریداری کے نظام میں ڈیجیٹائزیشن اصلاحات کا مرکزی ستون ہے۔اس حوالے سے بتایا گیا کہ ای-پیڈز (الیکٹرانک پروکیورمنٹ اینڈ ڈاکیومنٹیشن سسٹم) کی کارکردگی میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ اب تک اس نظام پر 3,014 ٹینڈرز اپ لوڈ ہو چکے ہیں جبکہ 199 ٹھیکے دیے جا چکے ہیں، جو سرکاری خریداری میں شفافیت اور کارکردگی کی عکاسی کرتا ہے۔