خیبر پختونخوا کے وزیر زراعت میجر (ر) سجاد بارکوال نے کہا ہے کہ کے علمی اور پالیسی سطح کے ایونٹس زرعی ترقی کے لیے دور رس نتائج کے حامل ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان، بالخصوص خیبرپختونخوا جیسے وسائل سے محدود اور موسمی شدت والے صوبوں میں زراعت کو درپیش چیلنجز کا سامنا ہے، مگر اس کے باوجود محکمہ زراعت قابلِ قدر اقدامات اٹھا رہا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے انٹرنیشنل کانفرنس آن سسٹینئیبل ایگریکلچر کے دوسرے ایڈیشن سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔ کانفرنس میں سیکرٹری زراعت خیبر پختونخوا عطاء الرحمن، سینٹر ممبر بورڈ آف ریونیو جاوید مروت، وائس چانسلر زرعی یونیورسٹی پشاور جہان بخت، وائس چانسلر زرعی یونیورسٹی سوات داؤد جان، تمام ونگز کے ڈائریکٹر جنرل، پاکستان میڈیا ڈیولپمنٹ فاؤڈیشن کے چیئرمین دردانہ شہاب اورصوبہ بھر سے فارمرز اور دیگر سٹیک ہولڈرز نے شرکت کی۔اپنے خطاب میں وزیر زراعت نے اس بات کا اعتراف کیا کہ گزشتہ کئی دہائیوں میں ملک کو عدم استحکام کا سامنا رہا، جس کے باعث زراعت کے شعبے میں مؤثر اقدامات نہ ہو سکے، تاہم یہی دہائیاں ہماری اجتماعی تربیت کا ذریعہ بھی بنی ہیں۔میجر (ر) سجاد بارکوال نے کہا کہ خیبرپختونخوا کو سابق وزیرِ اعظم عمران خان کے زرعی وژن کے مطابق زرعی ترقی کا سنٹر آف ایکسیلنس بنایا جا رہا ہے۔ اس ضمن میں ضروری قانون سازی کا عمل جاری ہے، جبکہ زراعت میں نجی شعبے کی شمولیت کے لیے پشاور اور سوات میں دو جدید سنٹرز آف ایکسیلنس قائم کیے جا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اکیڈمیا کے تعاون سے صوبے میں قومی سطح پر قابلِ ستائش تحقیقی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ زراعت سے وابستہ محکمے اور عملہ ہمارے لیے باعثِ فخر ہیں، جو محدود وسائل کے باوجود بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وزیرِ اعلیٰ خیبرپختونخوا، علی امین خان گنڈا پور جو خود بھی ایک ماہرِ زراعت ہیں کی سربراہی میں صوبے میں 18 نئے زرعی منصوبے متعارف کروائے جا رہے ہیں، جن میں جنوبی اضلاع کے ویسٹ لینڈز کو قابلِ کاشت بنانے کے لیے 40 فیصد بجٹ مختص کیا گیا ہے۔ اسی طرح، چھوٹے کسانوں کے لیے مائیکرو فائنانس سکیموں کے تحت قرضوں کی فراہمی کے منصوبے بھی زیر عمل ہیں۔میجر(ر) سجاد بارکوال نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی آج زراعت کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے، جس سے نمٹنے کے لیے جدید اقسام کے بیج، نئی تحقیق، اور زرعی سٹیک ہولڈرز میں شعور اجاگر کرنے کی فوری ضرورت ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ موسمیاتی اثرات سے نمٹنے کے لیے مربوط اور دیرپا پالیسی کے حامل اقدامات ناگزیر ہیں۔انہوں نے پاکستان میڈیا ڈیوپلمنٹ فاؤنڈیشن کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس ادارے سے توقع ہے کہ وہ مستقبل میں بھی زرعی پالیسی، تحقیق اور عوامی شعور کی تشکیل میں کلیدی کردار ادا کرتا رہے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈونرز، میڈیا، اور نجی شعبے کا تعاون زراعت کو پائیدار بنانے میں سنگِ میل ثابت ہو سکتا ہے۔پائیدار زراعت پر یہ بین الاقوامی کانفرنس پاکستان کا دوسرا اہم قدم قرار دی جا رہی ہے۔ اس کا انعقاد پاکستان میڈیا ڈیولپمنٹ فاؤنڈیشن کے زیرِ اہتمام، محکمہ زراعت خیبرپختونخوا کے تعاون سے عمل میں آیا۔اس بین الاقوامی ایونٹ کے کامیاب انعقاد میں جن اداروں کا خصوصی تعاون شامل رہا ان میں ایگری فرٹیلائزرز، جی ایف، سجنٹا، بائر، نیشنل بینک آف پاکستان، بینک آف خیبر، فاطمہ فرٹیلائزرزجی پی آئی فاؤنڈیشن، اور دیگر قابلِ ذکر اسپانسرز شامل ہیں۔
وزیر بلدیات کی زیر صدارت محکمہ بلدیات کو مزید فعال بنانے کے لئے کمپیوٹرائزڈفنانشل مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم کے نفاذ کے حوالے سے اجلاس کا انعقاد
خیبر پختونخوا کے وزیر بلدیات وانتخابات ا و ردیہی ترقی ارشد ایوب خان کی زیر صدارت پیر کے روز پشاور میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں بلدیاتی نظام کومزید فعال اور مؤثر بنا نے کے ساتھ ساتھ محکمہ کے اندر شفافیت کو فروغ دینے کے لئے ورلڈ بینک کے تعاون سے کمپیوٹرائزڈفنانشل مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم کو شروع کرنے کے بارے میں غورو خوض کیا گیا اوراس سسٹم کوادارہ جاتی شکل دیتے ہوئے خیبر پختونخوا میں ٹی ایم اے کی سطح پر نافذ کرنے کے لئے تجاویز پیش کی گئیں۔اجلاس میں سیکرٹری بلدیات ڈاکٹرامبر علی خان، سیکرٹری لوکل کونسل بورڈ وحید الرحمان، اور ورلڈ بینک کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اس موقع پر بریفنگ دیتے ہوئے ورلڈ بینک کے نمائندوں نے شرکاء اجلاس کو بتایا کہ کمپیوٹرائزڈفنانشل مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم پر عمل درآمد سے بجٹ سازی، ادائیگیاں، اخراجات، آمدن کے ریکارڈ اور مالیاتی رپورٹنگ مکمل طور پر ڈیجیٹلائز ہوں گی،یہ سسٹم خودکار طور پر بل بھی تیار کرتاہے اور یہ نظام صوبہ پنجاب میں کامیابی سے گامزن ہے۔۔اس موقع پر وزیر بلدیات ارشد ایوب خان نے ہدایت کی کہ کمپیوٹرائزڈفنانشل مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم کی افادیت اورکارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا جائے اور اگر سود مندثابت ہو تو اسے مستقل طور پر محکمہ بلدیات کے آئی ٹی یا ایم آئی ایس ونگ کے اندر قائم کیا جائے۔انہوں نے مزید کہا کہ شفافیت اور نظام کی بہتری کے لیے ہمیں اس جدید ڈیجیٹل نظام کو اپنانے پر غور خوض کرنا ہوگاتاکہ بلدیاتی نظام کو مؤثر، جوابدہ اور جدید بنایا جا سکے۔
خیبر پختونخوا کے وزیر برائے محنت، فضل شکور خان نے کہا ہے کہ موجودہ صوبائی حکومت
خیبر پختونخوا کے وزیر برائے محنت، فضل شکور خان نے کہا ہے کہ موجودہ صوبائی حکومت محنت کش مزدوروں کو تمام تر سہولیات کی فراہمی اور اُن کی فلاح و بہبود کے لیے ٹھوس اقدامات کر رہی ہے۔ محنت کش طبقے کو اُن کا جائز حق دیا جائے گا اور کسی کی حق تلفی یا استحصال برداشت نہیں کیا جائے گا صوبائی وزیر نے ان خیالات کا اظہار اپنے دفتر میں ورکرز ویلفیئر بورڈ خیبر پختونخوا کے حوالے سے منعقدہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔اجلاس میں ورکرز ویلفیئر بورڈ کے ڈائریکٹر ایڈمن سیف اللہ ظفر ڈپٹی ڈائریکٹر ایڈمن شعیب اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔ اس موقع پر مزدور کالونیوں میں کوارٹرز کی شفاف اور میرٹ پر الاٹمنٹ، غیر قانونی قابضین کا خاتمہ اور تجاوزات جیسے کئی اہم امور زیرِ غور لائے گئے۔صوبائی وزیر نے کہا کہ مزدور طبقہ معیشت کی ترقی اور استحکام میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ ہم محنت کشوں کو نظر انداز نہیں کرسکتے مزدوروں کی سہولیات اور حقوق کا تحفظ خیبر پختونخوا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیاکہ لیبر کالونیوں میں غیر قانونی طور پر مقیم افراد کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی اور خالی کرائے گئے کوارٹرز کو میرٹ اور شفاف طریقے سے مستحق مزدوروں کو الاٹ کیا جائے گا۔صوبائی وزیر کا مزید کہنا تھا کہ محکمے کی ریونیو میں اضافے اور بہتر کارکردگی کے لیے مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ حال ہی میں لیبر کالونیوں میں واقع دکانوں کی مارکیٹ ریٹ کے مطابق نیلامی کی گئی ہے، جس کی وجہ سے محکمے کی ریونیو میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ محکمے میں متعارف کرائی گئی اصلاحات کا سلسلہ جاری ہے اور اس کے مثبت اور دور رس نتائج بہت جلد سامنے آئیں گے۔وزیر محنت نے افسران کو ہدایت کی کہ مزدوروں کی فلاح و بہبود اور محکمے کی کارکردگی میں مزید بہتری کے لئے اقدامات کیے جائیں
مون سون بارشوں اور سیلاب کے ممکنہ خطرات سے نمٹنے کیلئے پیشگی اقدامات، چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا
چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا شہاب علی شاہ کی زیرصدارت منعقدہ اجلاس میں مون سون بارشوں اور سیلاب کے نقصانات سے بچنے کیلئے پیشگی اقدامات اور اس حوالے سے تیاریوں کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں متعلقہ انتظامی سیکرٹریز، ڈی جی پی ڈی ایم اے سمیت دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں کمشنرز بھی ویڈیو لنک کے ذریعے شریک ہوئے۔اجلاس میں جن علاقوں میں سیلاب کا خطرہ موجود ہے وہاں ضروری اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ 2022 کے سیلاب کو مدنظر رکھتے ہوئے حفاظتی اقدامات کئے جارہے ہیں اور اس حوالے سے ایک جامع مون سون پلان ترتیب دیا گیا ہے۔ چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا کا کہنا تھا کہ ضلعی انتظامیہ دریاؤں اور نالوں کی اطراف غیر قانونی تعمیرات اور ناجائز تجاوزات کیخلاف کاروائیاں جاری رکھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سیلاب سے بچاؤ کے لئے فنڈز کی دستیابی یقینی بنائی جارہی ہے۔ ڈی جی پی ڈی ایم اے نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ جن اضلاع میں اربن فلڈنگ کا خطرہ ہے وہاں پی ڈی ایم اے نے ریسکیو 1122 کو 50 ڈی واٹرنگ پمپس مہیا کئے ہیں ان اضلاع میں ڈی آئی خان، لکی مروت، کوہاٹ، پشاور، نوشہرہ، مردان، ملاکنڈ (بٹ خیلہ)، سوات (مینگورہ)، مانسہرہ اور ایبٹ آباد شامل ہیں۔ اس کے علاوہ پی ڈی ایم اے پشاور میں ڈی واٹرنگ یونٹ بھی قائم کررہی ہے۔ اجلاس میں کسی بھی ممکنہ سیلابی صورتحال سے نمٹنے کیلئے پی ڈی ایم اے کو درکار وسائل کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ پی ڈی ایم اے کنٹرول روم اور ہیلپ لائن 1700 کسی بھی ایمرجنسی مدد کے لئے ہمہ وقت فعال ہے۔چیف سیکرٹری نے ہدایت کی کہ جن اضلاع میں سیلاب کا خطرہ موجود ہے وہاں انتظامیہ پہلے سے اشیائے خوردونوش، پیٹرول اور ادویات وغیرہ کے وافر ذخیرہ کی دستیابی یقینی بنائے۔ چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا کا کہنا تھا کہ ممکنہ طوفانی بارشوں، آندھی اور سیلاب کے نتیجے میں نقصانات سے بچنے کیلئے تمام ادارے پیشگی اقدامات بروقت مکمل کریں اور ادارے آپس میں باہمی رابطہ برقرار رکھیں۔چیف سیکرٹری کا کہنا تھا کہ محکمہ ایریگیشن دریاؤں اور نالوں کی اطراف سیلاب سے بچاؤ کے لئے حفاظتی بندوں کا معائنہ کرے اور حفاظتی انتظامات پر خصوصی توجہ دی جائے جبکہ محکمہ بلدیات سیوریج لائنز کی صفائی یقینی بنائے۔ سیاحتی اضلاع میں سیاحوں کی آمد کے پیش نظر بھی ضروری اقدامات کئے جائیں اور باقاعدگی سے ٹریول ایڈوائزری جاری کی جائے۔ اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ دفعہ 144 کے تحت پلاسٹک بیگز کے استعمال اور دریاؤں میں نہانے پر پابندی لگائی جارہی ہے۔ اس کے علاوہ محکمہ صحت بھی پانی کے ذریعے پھیلنے والی بیماریوں کے حوالے سے پیشگی اقدامات کے لئے انتظامات کررہی ہے۔
منصوبوں کی بروقت تکمیل اور کرپشن فری گورننس حکومت خیبرپختونخوا کی اولین ترجیح ہے، ظاہر شاہ طورو
وزیر خوراک خیبرپختونخوا ظاہر شاہ طورو کی زیر صدارت ضلع مردان میں ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل، معیار کی پاسداری اور شفاف طرزِ حکمرانی کے حوالے سے ایک اہم اجلاس گزشتہ روز ڈپٹی کمشنر آفس مردان کے کانفرنس روم میں منعقد ہوا، جس میں ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت، درپیش مسائل اور ان کے حل کے لیے قابلِ عمل حکمتِ عملی پر تفصیلی غور کیا گیا۔اجلاس میں ڈپٹی کمشنر مردان ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر فنانس و پلاننگ، پی کے ایچ اے (PKHA)، سوئی نادرن گیس (SNGPL)، پیسکو (PESCO)، اسپورٹس ڈیپارٹمنٹ، ٹی ایم اے مردان، مردان ڈویلپمنٹ اتھارٹی، سی اینڈ ڈبلیو، پبلک ہیلتھ اور فوڈ ڈیپارٹمنٹ اور دیگر محکموں کے ضلعی اعلیٰ افسران شریک ہوئے۔اجلاس کے دوران وزیر خوراک کو ضلع مردان میں جاری اہم ترقیاتی منصوبوں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ بریفنگ میں طورو تا مردان روڈ کی کشادگی، پارکوں کی تعمیر و بحالی، شہر میں صفائی و ستھرائی کی مہمات، شاہراہ N-45 اور دیگر سڑکوں پر اسٹریٹ لائٹس کی تنصیب و مرمت، کھیل کے میدانوں کی اپگریڈیشن، شیخ ملتون ٹاؤن میں جمنازیم کی تعمیر اور سالڈ ویسٹ مینجمنٹ جیسے منصوبوں پر ہونے والی پیشرفت سے آگاہ کیا گیا۔اس موقع پر وزیر خوراک ظاہر شاہ طورو نے کہا کہ حکومت تمام ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل میں سنجیدہ ہے اور ان میں حائل تمام رکاوٹیں ترجیحی بنیادوں پر حل کرانے کے لئے اقدامات بھی اٹھا رہی ہے۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو واضح ہدایات جاری کیں کہ تمام منصوبے مقررہ مدت میں مکمل کیے جائیں، معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا جائے اور منصوبہ بندی، عملدرآمد اور نگرانی کے تمام مراحل میں شفافیت اور گڈ گورننس کے اصولوں پر سختی سے عمل کیا جائے۔وزیر خوراک نے خبردار کیا کہ وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کی قیادت میں کرپشن فری خیبرپختونخوا حکومت کا بنیادی مشن ہے، اور اگر کسی افسر یا اہلکار بدعنوانی میں ملوث پایا گیا تو اس کے خلاف سخت تادیبی کارروائی کی جائے گی۔
خیبرپختونخوا میں 140 نوجوان محققین کو سائنس و ٹیکنالوجی میں نمایاں کارکردگی پر ایوارڈز
خیبر پختونخوا حکومت نے پشاور میں 140 نوجوانوں کو سائنس و ٹیکنالوجی کے میدان میں نمایاں ریسرچ کرنے پر ایک پروقار ایوارڈز تقریب میں اعزاز ات سے نوازا۔ڈائریکٹوریٹ جنرل آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ڈی جی ایس ڈی، خیبر پختونخوا کے تعاون سے تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ تقریب کے مہمانِ خصوصی وزیر اعلی خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے سائنس ٹیکنالوجی و انفارمیشن ٹیکنالوجی ڈاکٹر شفقات ایاز، کے علاوہ تقریب میں سیکریٹری سائنس، ٹیکنالوجی و آئی ٹی امجد علی خان، ڈی جی ایس ڈی کے ڈائریکٹر جنرل ساجد شاہ، اور آئی ٹی بورڈ کے منیجنگ ڈائریکٹر کے علاوہ مختلف یونیورسٹیوں کے وائس چانسلر اور طلباء بھی موجود تھے۔ اس موقع پر تقریباً 30 سے زائد جامعات کے 140 طلبہ و طالبات کو ڈی جی ایس ڈی کے دو اہم پروگرامز کے تحت ایوارڈز دئے گئے، انڈر گریجویٹ ریسرچ سپورٹ کے 80 فائنلسٹ طلبہ کو فی 150,000 پاکستانی روپے دیے گئے۔ اور ماسٹرز انٹر ڈسیپلنری ریسرچ پروگرام کے 60 گریجویٹس کو مجموعی طور پر 600,000 پاکستانی روپے گرانٹ دی گئی۔ ماسٹرز پروگرام خیبر پختونخوا کی 11 اسٹریٹجک شعبوں سے منسلک ہے خیراتی شعبے، جواہرات، پھل و سبزیاں، شہد، جڑی بوٹیاں، مچھلیاں، شہری ماحول، مائیکرو ہائیڈرو انرجی، آثارِ قدیمہ اعلیٰhigh tech Moon shoot اعلیٰ مواد، بائیومیڈیسن، اور خلائی سائنسز کے طلباء کو منصوبوں کے ذریعے نئے سائنسی نتائج کے تلاش کرنے کے اہل ہوں گے۔ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخواکے معاون خصوصی برائے سائنس ٹیکنالوجی و انفارمیشن ٹیکنالوجی ڈاکٹر شفقت ایاز نے نوجوانوں اور ڈی جی ایس ڈی کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ“ہم خیبر پختونخوا میں سائنس و ٹیکنالوجی کے میدان میں تحقیقی کلچر کے فروغ کے لئے ضروری اقدامات بروئے کار لا رہے ہیں۔ اور صوبائی حکومت نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کے لئے خصوصی اقدامات اٹھا رہی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ طبی شعبے میں سائنس و ٹیکنالوجی کی فروغ اور تحقیق مریضوں کو سہولتیں فراہم کرنے میں مددگار ہوگی، اور مستقبل کے چیلنجز سے نمٹنے کیلئے نوجوانوں کو بااختیار بنانے کا وژن چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کا ہے اور صوبائی حکومت اس پر عملدرآمد کیلئے عملی اقدامات اٹھا رہی ہے۔ سیکریٹری ST&IT امجد علی خان نے کہاکہ آج کے دور میں جن قوموں نے سائنس و ٹیکنالوجی میں ترقی کی ہے وہ آزاد اور خودمختار ہوتی ہیں۔ڈائریکٹر جنرل ساجد شاہ نے اس موقع پر اپنے خطاب میں کہا کہ یہ ایوارڈز ہمارے اس عزم کی عکاسی کرتے ہیں کہ سائنس و ٹیکنالوجی صرف قومی ترجیح نہیں، بلکہ صوبائی ضرورت بھی ہیں۔ نوجوان محققین کو فنڈ دے کر ہم خیبر پختونخوا میں علم، خود انحصاری اور جدت کے بیج بو رہے ہیں۔یہ تقریب خیبر پختونخوا کے تحقیقی ماحول کو مستحکم کرنے، مقامی مسائل کے حل کے لیے عملی تحقیق کو فروغ دینے، اور نوجوانوں کو مستقبل کی مضبوط بنیاد فراہم کرنے کے لیے ایک اہم قدم ہے۔ تقریب کے اختتام پر معاون خصوصی برائے سائنس ٹیکنالوجی و انفارمیشن ٹیکنالوجی شفقت ایاز نے نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے ریسرچر میں توصیفی اسناد اور سرٹیفکیٹ تقسیم کئے۔
آر ٹی ایس کمیشن میں چھ عوامی شکایات کی شنوائی، خدمات تک بروقت رسائی عوام کا حق ہے، کمیشن
رائٹ ٹو پبلک سروسز کمیشن میں چھ عوامی شکایات کی شنوائی ہوئی۔ کمیشن کے دو کمشنرز محمد عاصم امام اورذاکر حسین آفریدی نے شہریوں کے درخواستوں پر سماعت کی۔ پشاور سے فیصل خان نے فرد کی حصول کے لیے کمیشن سے رجوع کیا تھا۔ حلقہ پٹواری دو سماعتوں پر پیش نہیں ہوا۔ کمیشن نے تنخواہ بند کرنے کے احکامات جاری کیے۔ چارسدہ سے رحیم شاہ نامی شہری نے ایف آئی آر کے اندراج کے لیے کمیشن کو درخواست دی تھی۔ پولیس کا موقف جاننے اور شہری کو سننے کے بعد کمیشن نے ڈی پی او چارسدہ کو فوراً ایف آئی آر کے اندراج کے احکامات جاری کیے۔ مانسہرہ اور ہری پور سے ڈرائیونگ لائسنس کے اجراء کے متعلق عوامی شکایات پر ڈائریکٹر ٹرانسپورٹ کو سمن جاری کیا گیا۔ خیبر سے عنایت اللہ نے ایف آئی آر کے اندراج کے لیے کمیشن کو درخواست دی ہے۔ کمیشن نے ڈی پی او خیبر کو انکوائری کر کے رپورٹ جمع کروانے کے ہدایت دی۔ مانسہرہ سے رفیلہ بی بی نے ایف آئی آر کے اندراج کے لیے درخواست دی تھی۔ دو بار غیر حاضری اور رابطہ نہ ہونے پر کمیشن نے درخواست خارج کردی۔ انم شہزاد نے ہری پور سے اپنی پھوپی کی ڈیتھ سرٹیفکیٹ کی حصول کے لیے کمیشن کو درخواست دی تھی۔ کمیشن نے لکھا کہ خاتون کا ڈیتھ سرٹیفکیٹ انکی بچوں کو جاری ہو چکا، کوئی اور نہیں لے سکتا، کیس کو خارج کر دیا۔ کرک سے اویس نے زمین کی حد براری کے لیے درخواست دی تھی۔ کمیشن نے کہا کہ مذکورہ کیس عدالت میں چل رہا ہے اور درخواست کنندہ کو سٹے بھی ملاہوا ہے، کمیشن کیس کو نہیں سن سکتا۔کمیشن نے سرکاری افسران کو عوام کی ضروریات کو مؤثر طریقے سے پورا کرنے اور خدمات کی فراہمی کے عمل کو بہتر بنانے پر زور دیا۔ بنیادی خدمات کا حصول عوام کا حق ہے نا کہ ان پر حکومت کا احسان۔
مشیر صحت احتشام علی کا پولیس اینڈ سروسز ہسپتال میں جدید تشخیصی سہولیات کا افتتاح
مشیر صحت خیبر پختونخوا احتشام علی نے پولیس اینڈ سروسز ہسپتال میں سی ٹی سکین، اینڈوسکوپی اور ای ٹی ٹی سروسز کا باضابطہ افتتاح کر دیا۔جمعرات کے روز اپنے دورہ کے دوران مشیر صحت احتشام علی نے ریڈیالوجی ڈیپارٹمنٹ میں سی ٹی سکین، کارڈیالوجی شعبہ میں ای ٹی ٹی جبکہ گیسٹروانٹرولوجی ڈیپارٹمنٹ میں اینڈوسکوپی سروسز کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر ایم ایس پولیس اینڈ سروسز ہسپتال ڈاکٹر مشتاق آفریدی، متعلقہ شعبہ جات کے سربراہان اور طبی عملہ بھی موجود تھا۔احتشام علی نے اس موقع پر کہا کہ ان سروسز کی فراہمی سے پولیس اینڈ سروسز ہسپتال کی تشخیصی صلاحیت میں نمایاں بہتری آئے گی اور سرکاری ملازمین کو بروقت علاج میسر ہوگا۔ ماضی میں سرکاری ملازمین کو ان سروسز کے لیے دیگر ہسپتالوں کا رُخ کرنا پڑتا تھا، مگر اب یہ سہولیات انہی کے اپنے ہسپتال میں دستیاب ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ پولیس اینڈ سروسز ہسپتال لاکھوں سرکاری ملازمین اور ان کے خاندانوں کے علاج و معالجے کے لیے ایک اہم ادارہ ہے، اور ایم ایس ڈاکٹر مشتاق اور ان کی ٹیم اس شاندار کاوش پر داد و تحسین کی مستحق ہے۔اس موقع پر ایم ایس ڈاکٹر مشتاق آفریدی نے بتایا کہ ان سروسز کے آغاز سے او پی ڈی میں تین گنا اضافہ متوقع ہے، کیونکہ یہ اہم تشخیصی مراحل پہلے دوسرے ہسپتالوں میں ریفر کیے جاتے تھے۔ اب پورے صوبے کے سرکاری ملازمین اور ان کے اہل خانہ ان سہولیات سے براہِ راست مستفید ہو سکیں گے۔
ہنگو تا سروزئی مین ہائی وے منصوبے کا افتتاح – معاونِ خصوصی کا ترقیاتی وعدوں کی تکمیل پر زور
وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاونِ خصوصی برائے مواصلات و تعمیرات محمد سہیل آفریدی نے جمعرات کے روز ہنگو تا سروزئی مین ہائی وے منصوبے کے تعمیراتی کام کا باقاعدہ افتتاح کیا۔ افتتاحی تقریب میں رکن قومی اسمبلی یوسف خان اور رکن صوبائی اسمبلی شاہ تراب خان بھی شریک ہوئے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ اس اہم منصوبے کی منظوری میں وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کا کلیدی کردار ہے۔ یہ شاہراہ علاقے کی عوامی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے تعمیر کی جارہی ہے اور حکومت کی بھرپور کوشش ہے کہ اس کا کام جلد از جلد مکمل ہو۔ انہوں نے کہا کہ پورے صوبے میں مرکزی شاہراہوں کی تعمیر و مرمت کو ترجیحی بنیادوں پر ہدف بنایا گیا ہے اور یہ منصوبہ ان ہی ترجیحات کا حصہ ہے۔ سیاسی صورتحال پر بات کرتے ہوئے محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ ہم بجٹ اور فنڈز کی سیاست کے بجائے ایک حقیقی عوامی انقلاب کے لیے میدان میں نکلے ہیں۔ عمران خان نے آئین، قانون کی بالادستی، عدلیہ کی آزادی اور امن کا جو وژن دیا ہے، ہم اسی نظریے کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب تک عمران خان کا مؤقف بجٹ سے متعلق واضح طور پر سامنے نہیں آتا، 30 جون تک کوئی بجٹ پاس نہیں کیا جا سکتا۔ محمد سہیل آفریدی نے مزید کہا کہ ہمارے خلاف جھوٹے مقدمات قائم کئے گئے لیکن ان ہتھکنڈوں سے ہمیں پختونوں کے حقوق کی آواز بلند کرنے سے نہیں روکا جا سکتا۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایم پی اے شاہ تراب خان نے کہا کہ ہنگو تا سروزئی سڑک کئی سالوں سے کھنڈرات کا منظر پیش کر رہی تھی، اور اب اس کی بحالی علاقے کے عوام کے لیے کسی بڑی خوشخبری سے کم نہیں۔ ایم این اے یوسف خان نے منصوبے کو ہنگو کے لیے ایک اہم ترقیاتی پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ سڑک عوام کے دیرینہ مطالبے کی تکمیل ہے اور مخالفین کے منفی پروپیگنڈے کا مؤثر جواب بھی۔
مشیر صحت احتشام علی کا گردہ عطیہ کرنے والے جواد خان کو شاندار خراج تحسین، انسٹی ٹیوٹ آف کڈنی ڈیزیز میں ٹرانسپلانٹ یونٹ جواد خان کے نام سے منسوب
خیبر پختونخوا کے مشیر برائے صحت، احتشام علی نے انسٹی ٹیوٹ آف کڈنی ڈیزیز میں منعقدہ ایک خصوصی تقریب میں شرکت کی اور نوعمر جواد خان کو شاندار خراج عقیدت پیش کیا، جنہوں نے اپنے اعضا عطیہ کر کے پانچ قیمتی جانیں بچائیں۔ اس موقع پرانسٹی ٹیوٹ آف کڈنی ڈیزیز کے ٹرانسپلانٹ یونٹ کو مرحوم جواد خان کے نام سے منسوب کر دیا گیا۔ تقریب میں مرحوم جواد خان کے والد، دادا دادی اور چچا کے علاوہ ایم ٹی آئی ایچ ایم سی اور ڈائریکٹر آئی کے ڈی اور ان کے سٹاف سمیت ایم ٹی آر اے و دیگر متعلقہ اہلکاروں نے شرکت کی۔ تقریب میں نویں جماعت کے مرحوم جواد خان کے والدین کو بھی خصوصی خراج تحسین پیش کیا گیا۔ مشیر صحت احتشام علی نے مرحوم جواد کے والد کو گلے لگا کر ان کا شکریہ ادا کیا اور حکومت خیبر پختونخوا کی جانب سے انہیں اعزازی شیلڈ پیش کی۔ انہوں نے اعضا ٹرانسپلانٹ کرنے والی ٹیم کو بھی توصیفی اسناد سے نوازا۔اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے احتشام علی نے کہا، ”یہ خیبر پختونخوا کی تاریخ میں پہلا موقع ہے کہ اتنی کم عمر میں کسی نے اپنے اعضا عطیہ کیے ہوں۔ رستم سے تعلق رکھنے والے مرحوم جواد خان نے اپنے اعضا کا عطیہ دے کر نہ صرف پانچ زندگیاں بچائیں بلکہ ہمارے معاشرے کے لیے ایک قابل تقلید مثال قائم کی۔”انہوں نے مزید کہا، ”ہمیں جواد جیسے انسانوں کی اشد ضرورت ہے جو جاتے ہوئے انسانیت کے لیے کچھ کر جائیں۔ مرحوم جواد اپنے اعضا کا عطیہ کرکے ہمیشہ کے لیے امر ہوگیا ہے۔ حکومت خیبر پختونخوا اور محکمہ صحت جواد مرحوم اور ان کے والدین کا یہ احسان ہمیشہ یاد رکھے گی۔”مشیر صحت نے امید ظاہر کی کہ مرحوم جواد کے بعد اعضا عطیہ کرنے کا یہ سلسلہ رُکنے والا نہیں ہے۔ انہوں نے کہا، ”مرحوم جواد نے آپ عوام کو موقع دیا ہے کہ آپ بھی اپنے اعضا انسانیت کی بقا کے لیے عطیہ کریں۔ میں ایم ٹی آئی ایچ ایم سی اور ایم ٹی آر کی ٹیم کو سیلوٹ کرتا ہوں جنہوں نے مختصر وقت میں یہ کارنامہ انجام دیا۔”
