Home Blog Page 167

مشیر صحت احتشام علی کا پولیس اینڈ سروسز ہسپتال میں جدید تشخیصی سہولیات کا افتتاح

مشیر صحت خیبر پختونخوا احتشام علی نے پولیس اینڈ سروسز ہسپتال میں سی ٹی سکین، اینڈوسکوپی اور ای ٹی ٹی سروسز کا باضابطہ افتتاح کر دیا۔جمعرات کے روز اپنے دورہ کے دوران مشیر صحت احتشام علی نے ریڈیالوجی ڈیپارٹمنٹ میں سی ٹی سکین، کارڈیالوجی شعبہ میں ای ٹی ٹی جبکہ گیسٹروانٹرولوجی ڈیپارٹمنٹ میں اینڈوسکوپی سروسز کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر ایم ایس پولیس اینڈ سروسز ہسپتال ڈاکٹر مشتاق آفریدی، متعلقہ شعبہ جات کے سربراہان اور طبی عملہ بھی موجود تھا۔احتشام علی نے اس موقع پر کہا کہ ان سروسز کی فراہمی سے پولیس اینڈ سروسز ہسپتال کی تشخیصی صلاحیت میں نمایاں بہتری آئے گی اور سرکاری ملازمین کو بروقت علاج میسر ہوگا۔ ماضی میں سرکاری ملازمین کو ان سروسز کے لیے دیگر ہسپتالوں کا رُخ کرنا پڑتا تھا، مگر اب یہ سہولیات انہی کے اپنے ہسپتال میں دستیاب ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ پولیس اینڈ سروسز ہسپتال لاکھوں سرکاری ملازمین اور ان کے خاندانوں کے علاج و معالجے کے لیے ایک اہم ادارہ ہے، اور ایم ایس ڈاکٹر مشتاق اور ان کی ٹیم اس شاندار کاوش پر داد و تحسین کی مستحق ہے۔اس موقع پر ایم ایس ڈاکٹر مشتاق آفریدی نے بتایا کہ ان سروسز کے آغاز سے او پی ڈی میں تین گنا اضافہ متوقع ہے، کیونکہ یہ اہم تشخیصی مراحل پہلے دوسرے ہسپتالوں میں ریفر کیے جاتے تھے۔ اب پورے صوبے کے سرکاری ملازمین اور ان کے اہل خانہ ان سہولیات سے براہِ راست مستفید ہو سکیں گے۔

ہنگو تا سروزئی مین ہائی وے منصوبے کا افتتاح – معاونِ خصوصی کا ترقیاتی وعدوں کی تکمیل پر زور

وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاونِ خصوصی برائے مواصلات و تعمیرات محمد سہیل آفریدی نے جمعرات کے روز ہنگو تا سروزئی مین ہائی وے منصوبے کے تعمیراتی کام کا باقاعدہ افتتاح کیا۔ افتتاحی تقریب میں رکن قومی اسمبلی یوسف خان اور رکن صوبائی اسمبلی شاہ تراب خان بھی شریک ہوئے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ اس اہم منصوبے کی منظوری میں وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کا کلیدی کردار ہے۔ یہ شاہراہ علاقے کی عوامی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے تعمیر کی جارہی ہے اور حکومت کی بھرپور کوشش ہے کہ اس کا کام جلد از جلد مکمل ہو۔ انہوں نے کہا کہ پورے صوبے میں مرکزی شاہراہوں کی تعمیر و مرمت کو ترجیحی بنیادوں پر ہدف بنایا گیا ہے اور یہ منصوبہ ان ہی ترجیحات کا حصہ ہے۔ سیاسی صورتحال پر بات کرتے ہوئے محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ ہم بجٹ اور فنڈز کی سیاست کے بجائے ایک حقیقی عوامی انقلاب کے لیے میدان میں نکلے ہیں۔ عمران خان نے آئین، قانون کی بالادستی، عدلیہ کی آزادی اور امن کا جو وژن دیا ہے، ہم اسی نظریے کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب تک عمران خان کا مؤقف بجٹ سے متعلق واضح طور پر سامنے نہیں آتا، 30 جون تک کوئی بجٹ پاس نہیں کیا جا سکتا۔ محمد سہیل آفریدی نے مزید کہا کہ ہمارے خلاف جھوٹے مقدمات قائم کئے گئے لیکن ان ہتھکنڈوں سے ہمیں پختونوں کے حقوق کی آواز بلند کرنے سے نہیں روکا جا سکتا۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایم پی اے شاہ تراب خان نے کہا کہ ہنگو تا سروزئی سڑک کئی سالوں سے کھنڈرات کا منظر پیش کر رہی تھی، اور اب اس کی بحالی علاقے کے عوام کے لیے کسی بڑی خوشخبری سے کم نہیں۔ ایم این اے یوسف خان نے منصوبے کو ہنگو کے لیے ایک اہم ترقیاتی پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ سڑک عوام کے دیرینہ مطالبے کی تکمیل ہے اور مخالفین کے منفی پروپیگنڈے کا مؤثر جواب بھی۔

مشیر صحت احتشام علی کا گردہ عطیہ کرنے والے جواد خان کو شاندار خراج تحسین، انسٹی ٹیوٹ آف کڈنی ڈیزیز میں ٹرانسپلانٹ یونٹ جواد خان کے نام سے منسوب

خیبر پختونخوا کے مشیر برائے صحت، احتشام علی نے انسٹی ٹیوٹ آف کڈنی ڈیزیز میں منعقدہ ایک خصوصی تقریب میں شرکت کی اور نوعمر جواد خان کو شاندار خراج عقیدت پیش کیا، جنہوں نے اپنے اعضا عطیہ کر کے پانچ قیمتی جانیں بچائیں۔ اس موقع پرانسٹی ٹیوٹ آف کڈنی ڈیزیز کے ٹرانسپلانٹ یونٹ کو مرحوم جواد خان کے نام سے منسوب کر دیا گیا۔ تقریب میں مرحوم جواد خان کے والد، دادا دادی اور چچا کے علاوہ ایم ٹی آئی ایچ ایم سی اور ڈائریکٹر آئی کے ڈی اور ان کے سٹاف سمیت ایم ٹی آر اے و دیگر متعلقہ اہلکاروں نے شرکت کی۔ تقریب میں نویں جماعت کے مرحوم جواد خان کے والدین کو بھی خصوصی خراج تحسین پیش کیا گیا۔ مشیر صحت احتشام علی نے مرحوم جواد کے والد کو گلے لگا کر ان کا شکریہ ادا کیا اور حکومت خیبر پختونخوا کی جانب سے انہیں اعزازی شیلڈ پیش کی۔ انہوں نے اعضا ٹرانسپلانٹ کرنے والی ٹیم کو بھی توصیفی اسناد سے نوازا۔اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے احتشام علی نے کہا، ”یہ خیبر پختونخوا کی تاریخ میں پہلا موقع ہے کہ اتنی کم عمر میں کسی نے اپنے اعضا عطیہ کیے ہوں۔ رستم سے تعلق رکھنے والے مرحوم جواد خان نے اپنے اعضا کا عطیہ دے کر نہ صرف پانچ زندگیاں بچائیں بلکہ ہمارے معاشرے کے لیے ایک قابل تقلید مثال قائم کی۔”انہوں نے مزید کہا، ”ہمیں جواد جیسے انسانوں کی اشد ضرورت ہے جو جاتے ہوئے انسانیت کے لیے کچھ کر جائیں۔ مرحوم جواد اپنے اعضا کا عطیہ کرکے ہمیشہ کے لیے امر ہوگیا ہے۔ حکومت خیبر پختونخوا اور محکمہ صحت جواد مرحوم اور ان کے والدین کا یہ احسان ہمیشہ یاد رکھے گی۔”مشیر صحت نے امید ظاہر کی کہ مرحوم جواد کے بعد اعضا عطیہ کرنے کا یہ سلسلہ رُکنے والا نہیں ہے۔ انہوں نے کہا، ”مرحوم جواد نے آپ عوام کو موقع دیا ہے کہ آپ بھی اپنے اعضا انسانیت کی بقا کے لیے عطیہ کریں۔ میں ایم ٹی آئی ایچ ایم سی اور ایم ٹی آر کی ٹیم کو سیلوٹ کرتا ہوں جنہوں نے مختصر وقت میں یہ کارنامہ انجام دیا۔”

وزیر خوراک خیبرپختونخوا ظاہر شاہ طورو سے مختلف وفود کی ملاقاتیں، عوامی فلاح و بہبود سے متعلق امور پر تبادلہ خیال

وزیر خوراک خیبرپختونخوا ظاہر شاہ طورو سے ان کے دفتر پشاور میں مختلف وفود نے ملاقاتیں کیں، جن میں حلقہ نیابت کے معززین، پارٹی کارکنان اور دیگر مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد شامل تھے۔ملاقاتوں کے دوران وفود نے وزیر خوراک کو اپنے اپنے علاقوں کو درپیش مسائل، عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں اور بنیادی سہولیات کی فراہمی سے متعلق امور سے آگاہ کیا۔ اس موقع پر وزیر خوراک نے تمام وفود کی شکایات اور تجاویز کو نہایت توجہ اور سنجیدگی سے سنا، اور متعلقہ حکام کو فوری اقدامات کی ہدایات جاری کیں۔ظاہر شاہ طورو نے کہا کہ عوامی مسائل کا بروقت حل صوبائی حکومت کی اولین ترجیح ہے صوبائی حکومت کی کاوش ہے کہ عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ عوامی رابطے کو مضبوط بنانے کے لیے ان کا دفتر ہر وقت عوام کے لیے کھلا ہے اور وہ خود براہ راست عوامی مسائل سے آگاہی حاصل کرتے ہیں تاکہ مؤثر اور پائیدار حل کو یقینی بنایا جا سکے۔

صوبہ بھر سے منتخب نوجوانوں کے لیے سی جی پی اے کے زیر اہتمام ”یوتھ لیڈرشپ پروگرام” کا انعقاد

کمشنر رائٹ ٹو پبلک سروسز کمیشن جج عاصم امام نے صوبے بھر سے منتخب نوجوانوں کے لیے ایک غیر سرکاری تنظیم سینٹر فار گورننس اینڈ پبلک اکاونٹیبلٹی (سی جی پی اے) کے زیر اہتمام ”یوتھ لیڈرشپ پروگرام” میں رائٹ ٹو پبلک سروسز کمیشن کی نمائندگی کی۔ کمشنر آر ٹی ایس جج محمد عاصم امام نے نوٹیفائیڈ پبلک سروسز تک رسائی کو یقینی بنانے میں آر ٹی ایس ایکٹ اور کمیشن کے اہم کردار پر زور دیا۔ انہوں نے بتایا کہ یہ کس طرح سماجی بدامنی کو روکنے میں مدد کرتا ہے۔ انہوں نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ صوبے میں ترقی کے لیے عوامی اداروں کا شفاف طریقے سے کام کرنا اور جوابدہ ہونا کتنا ضروری ہے۔ جب انصاف پسندی کو برقرار نہیں رکھا جاتا اور عوامی معاملات میں ناانصافی ہوتی ہے تو یہ تشدد اور انتہا پسندی کو جنم دیتا ہے۔ صوبے میں خوشحالی اور ترقی کو فروغ دینے کے لیے خدمات کے حق کے قانون کی مضبوطی انتہائی ضروری ہے۔ رائٹ ٹو پبلک سروسز کمیشن کے پی کی ضرورت کو دیکھتے ہوئے، انہوں نے سی جی پی اے سمیت شامل تمام افراد کے ساتھ مل کر کام کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

دیر بالا کے سیاحتی مقامات پر فوڈ اتھارٹی کی کارروائی، ناقص صفائی اور زائدالمیعاد اشیاء برآمد، بھاری جرمانے عائد

وزیر خوراک خیبرپختونخوا ظاہرشاہ طورو کی خصوصی ہدایات پر خیبرپختونخوا فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھارٹی نے دیر بالا کے معروف سیاحتی مقامات تھل اور کمراٹ میں اشیائے خوردونوش کے کاروباروں کا تفصیلی معائنہ کیا۔ترجمان فوڈ اتھارٹی کے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق تھل اور کمراٹ کے علاقے میں معائنے کے دوران متعدد ہوٹلز، ریسٹورنٹس اور جنرل اسٹورز میں صفائی کی ناقص صورتحال، زائدالمیعاد اشیاء کی موجودگی اور فوڈ سیفٹی قوانین کی خلاف ورزی پائی گئی، جس پر موقع پر ہی بھاری جرمانے عائد کیے گئے۔ انسپیکشن کے دوران پچیس کلوگرام سے زائد مضر صحت، غیر معیاری اور ممنوعہ خوراک کی اشیاء کو تلف کر دیا گیا، جبکہ کاروباری مالکان کو اصلاح کے لیے سخت وارننگز اور نوٹسز جاری کیے گئے۔ترجمان نے کہا کہ کارروائی کے دوران کئی ہوٹلز اور دکانوں کے ایکسپائرڈ لائسنسز کی تجدید کی گئی، جبکہ کئی نئے لائسنس بھی موقع پر جاری کیے گئے تاکہ کاروبار فوڈ سیفٹی کے ضابطوں کے دائرے میں لائے جا سکیں۔سیاحوں نے فوڈ اتھارٹی کے اس بروقت اقدام کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات سے نہ صرف صحت عامہ کا تحفظ یقینی بنتا ہے بلکہ علاقے میں محفوظ سیاحت کے رجحان کو بھی فروغ ملتا ہے۔ڈائریکٹر جنرل فوڈ اتھارٹی واصف سعید نے ٹیم کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ سیاحتی مقامات پر خوراک سے وابستہ کاروباروں کی باقاعدہ نگرانی اور چیکنگ کا عمل مزید مؤثر بنایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا فوڈ اتھارٹی سیاحوں اور مقامی شہریوں کو محفوظ، معیاری اور حلال خوراک کی فراہمی کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے۔

محکمہ تعلیم خیبر پختونخوا میں عنقریب نئے پروگرام علم پیکٹ(ILMpact)کا اغاز کیا جائے گا۔ پروگرام سے صوبے کے 8 اضلاع کے 80 ہزار طلباء مستفید ہوں گے۔ وزیر تعلیم فیصل خان ترکئی

خیبر پختونخوا کے وزیر تعلیم فیصل خان ترکئی نے کہا ہے کہ محکمہ تعلیم میں عنقریب نئے پروگرام علم پیکٹ(ILMpact) کا آغاز کیا جائے گا جس کا افتتاح وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈاپور کریں گے۔ پروگرام سے صوبے کے 8 اضلاع کے 80 ہزار طلباء و طالبات مستفید ہوں گے۔ پروگرام سے آؤٹ آف سکول کو کنٹرول کرنے اور سکولوں میں موجود طلبہ کو کوالٹی ایجوکیشن کی فراہمی کے لیے اقدامات کئے جائیں گے۔ اساتذہ کو دور جدید کے تقاضوں سے ہم آہنگ تربیت فراہم کی جائے گی۔ ماسٹر ٹرینرز اور لیڈ ماسٹر ٹرینرز تیار کئے جائیں گے۔ اور تربیت کے پروگرام کو منتخب تمام سکولوں تک توسیع دی جائے گی۔ پیرنٹس ٹیچرز کونسلز اور سکول مینجمنٹ کمیٹیوں کو مزید فعال بنایا جائے گا اور ان کی استعداد کار کو مزید بڑھانے کے لئے اقدامات کیے جائیں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے علم پیکٹ پروگرام کی سٹیرنگ کمیٹی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں سیکرٹری ایجوکیشن مسعود احمد، سپیشل سیکرٹری ایجوکیشن خواجہ فہیم سجاد، مینجنگ ڈائریکٹر مرجڈ ایریاز ایجوکیشن فاؤنڈیشن میاں عین اللہ، ایڈیشنل سیکرٹری ریفارمز فیض عالم، ڈائریکٹر ایجوکیشن ناہید انجم، ڈائریکٹر ڈی پی ڈی مطہر خان، پارٹنر آرگنائزیشنزاور محکمہ تعلیم کے دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ وزیر تعلیم فیصل خان ترکئی نے کہا کہ اس پروگرام کے تحت منتخب اضلاع بٹگرام، مانسہرہ، صوابی، بنیر شانگلہ، خیبر، مہمند اور ڈی آئی خان میں پارٹنر ارگنائزیشنز کے ساتھ کے جی، گریڈ ون، گریڈ ٹو اور پرائمری کے دیگر کلاسز کو ٹارگٹ کر کے 80 ہزار طلبہ کو تعلیمی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ اس میں ان طلبہ کو ٹارگٹ کیا جائے گا جو یا تو سکول گئے ہی نہیں یا پھر ڈراپ آؤٹ ہو گئے ہیں ان پر خصوصی توجہ دی جائے گی اور یہ پروگرام ان ہی کے لیئے ڈیزائن شدہ ہے اور منتخب اضلاع کے ہزاروں کی تعداد میں اساتذہ کو بھی تربیت فراہم کی جائے گی۔ اس پروگرام کے لیے لیڈ پارٹنر برٹش کونسل ہوگا جبکہ اضلا کی سطح پر دیگر آرگنائزیشن منتخب کی جا چکی ہیں تربیت کے طریقہ کار اور تربیتی مواد کی تیاری پر کام شروع کیا جا چکا ہے۔ وزیر تعلیم نے ایجوکیشن حکام کو ہدایت کی کہ پارٹنر آرگنائزیشنز کو تمام اضلاع میں این او سی کے حصول میں معاونت فراہم کی جائے تاکہ پروگرام کا جلد از جلد باقاعدہ آغاز کیا جا سکے اور پروگرام کے ثمرات طلبہ تک منتقل ہو سکیں۔ پروگرام کیلئے سکولوں کے انتخاب کے لئے فوری اقدامات کیے جائیں اور فرسٹ شفٹ اور سیکنڈ شفٹ سکولوں کے انتخاب کو جلد از جلدحتمی شکل دی جائے انہوں نے لیڈ آرگنائزیشنز اور پارٹنرز کو ہدایت کی کہ ٹائم لائن کے مطابق پراگرس شروع کی جائے۔ اضلاع میں ٹیم کو محدود رکھیں اور غیر ضروری اخراجات پر بھی مکمل کنٹرول رکھا جائے۔ تمام تر توجہ طلبہ کو کوالٹی ایجوکیشن کی فراہمی، آؤٹ آف سکول کو کنٹرول کرنے اور ڈراپ آؤٹ بچوں کو سکولوں میں واپس لانے پر دی جائے اور کوشش کریں کہ مقامی رہنماؤں اور مقامی کمیونٹی کو بھی اپنے پروگرام میں شامل کریں۔ وزیر تعلیم فیصل خان ترکئی سے تمام پارٹنر آرگنائزیشن کے حکام نے بھی ملاقات کی اور اپنی آرگنائزیشنز کی طرف سے کئے گئے اقدامات اور مستقبل کے لائحہ عمل پر بھی تفصیلی بریفنگ دی۔

توانائی کے جاری منصوبوں کی بروقت تکمیل ترجیح،تاخیرناقابل برداشت ہے،معاون خصوصی وسیکرٹری توانائی کاخطاب

خیبرپختونخواحکومت اپنے وسائل سے توانائی کے جاری منصوبوں پرتیزی سے کام کررہی ہے جن میں متعددمنصوبے تکمیل کے آخری مراحل میں داخل ہوچکے ہیں جومستقبل میں صوبے کی معیشت کے استحکام اورصنعتی شعبے کی ترقی کے لئے معاون ثابت ہونگے۔رواں سال 53میگاواٹ کے 2پن بجلی منصوبے مکمل ہوجائیں گے جن سے پیداہونے والی بجلی سے صوبے کو سالانہ تقریباً 2.4 ارب روپے سے زائد کی آمدن متوقع ہے اسی طرح آئندہ سال ضلع سوات میں 84میگاواٹ گورکین مٹلتان پن بجلی منصوبہ بھی مکمل ہوکربجلی کی پیداوارشروع کردے گا۔پن بجلی منصوبوں کے ساتھ ساتھ عوام کو فوری ریلیف پہنچانے کے لئے لاکھوں غریب گھرانوں کو مفت سولرسسٹم کی فراہمی کے منصوبے پربھی جلدعملی کام کا آغازکیا جائے گا۔ پیڈو جیسے اہم ترین ادارے کو ٹیم ورک کے تحت ماہرین کی سپورٹ سے صوبے کا ترقیافتہ اورسب سے زیادہ سالانہ اربوں روپے آمدن دینے والاادارہ بنایا جائے گا۔ان خیالات کا اظہار معاون خصوصی برائے توانائی انجینئرطارق سدوزئی اورسیکرٹری توانائی وبرقیات محمدزبیر خان نے پیڈوہاؤس میں توانائی کے جاری منصوبوں میں ہونے والی پیشرفت کے بارے میں منعقدہ جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔چیف ایگزیکٹو پیڈوعرفان اللہ خان نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پیڈو کی نگرانی میں اس وقت ہائیڈرو،سولرپاورسمیت ٹرانسمیشن لائن کے متعدد توانائی منصوبوں پر کام جاری ہے۔پیڈونے پن بجلی کے8منصوبے کامیابی کے ساتھ مکمل کئے ہیں جن سے مجموعی طورپر172میگاواٹ بجلی پیداکی جارہی ہے جس سے صوبے کو سالانہ5ارب روپے سے زائد کی آمدن ہورہی ہے جبکہ12منصوبوں جن میں 300میگاواٹ بالاکوٹ مانسہرہ،157میگاواٹ مدین سوات،88میگاواٹ گبرال کالام،84میگاواٹ مٹلتان سوات،69میگاواٹ لاوی چترال،40.8میگاواٹ کوٹودیر،11.8میگاواٹ کروڑہ شانگلہ،10.5میگاواٹ چپری چارخیل کرم اور6.9میگاواٹ مجاہدین پاورپراجیکٹ تورغر منصوبوں پر تیزی سے کام جاری ہے جن سے مجموعی طورپر 778میگاواٹ بجلی پیداکی جائے گی اور صوبے کو سالانہ 45ارب روپے سے زائد کی آمدن ہوگی۔ان منصوبوں میں سے بیشترمنصوبے تکمیل کے آخری مراحل میں ہیں۔رواں سال ضلع دیر میں کوٹوپن بجلی پراجیکٹ40.8میگاواٹ اورشانگلہ میں کروڑہ پن بجلی پراجیکٹ مکمل ہوکربجلی کی پیداوارشروع کردینگے۔ اجلاس میں معاون خصوصی توانائی طارق سدوزئی اورسیکرٹری توانائی زبیر خان نے پیڈوپراجیکٹ ڈائریکٹرز اورحکام کو سختی سے ہدایات جاری کیں کہ وہ جاری منصوبوں کو مقررہ ٹائم لائنز میں ہی مکمل کریں اوراب مزید کسی بھی قسم کی تاخیر ناقابل برداشت ہے۔ اجلاس کے آخرمیں سیکرٹری توانائی زبیرخان نے پیڈوحکام کو سختی سے ہدایا ت جاری کیں کہ 1لاکھ 30ہزارگھرانوں کومفت سولرسسٹم فراہمی کے منصوبے پرجلدعملی کام کا آغازکیا جائے اورسوات کوریڈورپرٹرانسمیشن لائن کی تعمیر کے منصوبے پربھی کام مزید تیزکیا جائے تاکہ عوامی مفاد کے ترقیات منصوبوں سے عوام ثمرات سے جلدمستفید ہوسکیں۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاونِ خصوصی برائے سائنس و انفارمیشن ٹیکنالوجی ڈاکٹر شفقت ایاز

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاونِ خصوصی برائے سائنس و انفارمیشن ٹیکنالوجی ڈاکٹر شفقت ایاز اور معاونِ خصوصی برائے فنی تعلیم طفیل انجم کی زیرِ صدارت سائنس و آئی ٹی اور فنی تعلیم کے محکموں کے درمیان ایک اہم بین الاداراتی اجلاس منعقد ہوا، جس میں دونوں محکموں کے اعلیٰ حکام اور ماہرین نے شرکت کی۔اجلاس کا بنیادی موضوع خیبرپختونخوا میں فنی تعلیم (Technical Education) کے شعبے کو مکمل طور پر ڈیجیٹلائز کرنے سے متعلق تھا۔ اجلاس میں اس اہم مقصد کے حصول کے لیے متعدد ٹھوس اور قابلِ عمل تجاویز پیش کی گئیں، جن میں ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کی تشکیل، آن لائن کورسز، ہنر سے متعلقہ جدید ٹولز، اور ادارہ جاتی اشتراک شامل تھے۔مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ دور کی معاشی اور صنعتی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے فنی تعلیم کا نصاب، طریقہ تدریس اور تربیت کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔ ڈیجیٹل ٹیکنیکل ایجوکیشن کا فروغ نوجوانوں کو مقامی اور بین الاقوامی مارکیٹس کے لیے تیار کرے گا اور انہیں روزگار کے بہتر مواقع فراہم کرے گا۔یہ اجلاس چیئرمین عمران خان اور وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کے وژن کے تحت مربوط اور مؤثر پالیسی سازی کی علامت ہے، جو خیبرپختونخوا کو ٹیکنالوجی، تعلیم اور ترقی کے میدان میں صفِ اول میں آ نے کے لیے پرعزم ہے۔

صوبائی بجٹ میں محکمہ لائیو سٹاک و فیشریز کے ترقیاتی منصوبوں کے لئے 4078 ملین روپے مختص، بجٹ میں ضم اضلاع پر خصوصی توجہ مرکوز کی گئی ہے

خیبر پختونخوا کے وزیر لائیو سٹاک، فشریز و کوآپریٹیو فضل حکیم خان یوسفزئی نے کہا کہ لائیو سٹاک سیکٹر و مویشی پال زمیندار کی فلاح و بہتری صوبائی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔ بانی و چیئرمین عمران خان کے وژن اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین خان گنڈاپور کی قیادت میں لائیو سٹاک و فیشریز کے ضم و بندوبستی اضلاع میں منصوبے شروع کئے جارہے ہیں جس کا مقصد مویشی پال زمیندار و فارمر کو فائدہ پہنچانا اور گوشت و دودھ کی پیداوار میں اضافہ کرنا ہے۔ صوبائی وزیر فضل حکیم خان یوسفزئی نے ترقیاتی منصوبوں کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ لائیو سٹاک سیکٹر کو مضبوط بنانے کے لئے صوبائی بجٹ میں محکمہ لائیو سٹاک و فیشریز کے ترقیاتی منصوبوں کے لئے 4078 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں اور بجٹ میں ضم اضلاع پر خصوصی توجہ مرکوز کی گئی ہے۔مزید تفصیل بتاتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ پولٹری بریڈرز اور ہیچریوں کی ترقی کے سروے و اسسمنٹ سٹڈی کے منصوبے کے لئے 250 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں،ضم اضلاع میں ماہی پروری اور آبی حیات کی ترقی کے منصوبے کے لئے 300 ملین روپے، خیبرپختونخوا میں گھوڑوں کی افزائش کی سہولیات کے قیام کے منصوبے کے لیے 500 ملین روپے، ضم اضلاع میں دودھ اور گوشت کی پیداوار میں اضافہ کے ذریعے غربت کے خاتمے کے منصوبے کے لئے 300 ملین روپے، صحت مند مال مویشیوں کی افزائش نسل اور گانٹھ والی جلد، پاؤں اور منہ کی بیماری کے لئے ویکسین کی خریداری کے لیے 630 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔