وزیرِ صحت خیبر پختونخوا خلیق الرحمن نے ضلع ایبٹ آباد کے خصوصی دورے کے موقع پر مقتولہ لیڈی ڈاکٹر وردہ مشتاق کے گھر جا کر اہلِ خانہ سے دلی تعزیت کی، مرحومہ کے لیے فاتحہ خوانی کی اور غمزدہ خاندان کو ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کروائی۔اس موقع پر صوبائی وزیرِ صحت خلیق الرحمن نے کہا کہ“ڈاکٹر وردہ مشتاق کا بے رحمانہ قتل انتہائی افسوسناک سانحہ ہے۔ حکومت اس واقعے کو بہت سنجیدگی سے لے رہی ہے، اور ہم ہر قیمت پر انصاف کی فراہمی یقینی بنائیں گے۔ ملزمان قانون کی گرفت سے ہرگز نہیں بچ سکیں گے۔”بعد ازاں صوبائی وزیر نے بے نظیر ٹیچنگ ہسپتال ایبٹ آباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے نمائندوں سے بھی ملاقات کی۔ انہوں نے کہا کہ“ڈاکٹرز کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ صحت کے شعبے میں خدمات انجام دینے والے ہمارے لیے قابلِ قدر اثاثہ ہیں۔ اس افسوسناک واقعے کی شفاف تحقیقات کے لیے جے آئی ٹی تشکیل دے دی گئی ہے، جو مکمل پیشہ ورانہ انداز میں اپنی ذمہ داری نبھا رہی ہے۔”انہوں نے مزید کہا کہ“حکومت صحت کے عملے کو محفوظ ماحول فراہم کرنے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے گی۔ ہم ڈاکٹر کمیونٹی کے ساتھ کھڑے ہیں اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔”اس موقع پر ڈپٹی کمشنر ایبٹ آباد سرمد سلیم اکرم اور ڈی ایچ او ایبٹ آباد بھی صوبائی وزیر کے ہمراہ موجود تھے۔
وزیر بلدیات مینا خان آفریدی کا نائیبرہوڈ کونسلز کے دفاتر کا اچانک دورہ، ناقص کارکردگی پر سیکرٹری معطل کرنے کی ہدایت
رپورٹ: ریاض غفور
خیبرپختونخوا کے وزیر بلدیات مینا خان آفریدی نے پشاور شہر میں متعدد نائیبرہوڈ کونسلز کے دفاتر کا اچانک دورہ کیا، جہاں انہوں نے ملازمین کی حاضری، صفائی کی صورتحال، عوامی خدمات کی فراہمی اور دیگر انتظامی امور کا تفصیلی جائزہ لیا۔ وزیر بلدیات نے نائیبرہوڈ کونسلز 46، 52، 49 اور 47 سمیت مختلف یونٹس کا معائنہ کیا۔دورے کے دوران وزیر بلدیات نے نائیبرہوڈ کونسلز 46 اور 52 میں صفائی ستھرائی کی ناقص صورتحال، عوامی شکایات اور سروس ڈلیوری میں سنگین خامیوں کا نوٹس لیتے ہوئے دونوں کونسلز کے سیکرٹری کو معطل کرنے کی ہدایت جاری کی۔وزیراعلیٰ کی ہدایات کے مطابق وزیر بلدیات مینا خان آفریدی نے کہا کہ پشاور سمیت پورے صوبے میں بلدیاتی خدمات کی بہتری حکومت کی اولین ترجیح ہے، اور اس مقصد کے لیے وہ خود دیگر اضلاع میں بھی نائیبرہوڈ اور ویلج کونسلز کی کارکردگی کا جائزہ لیں گے۔مینا خان آفریدی نے کہا کہ عوام نے صوبائی حکومت کو بہترین خدمات کی فراہمی کا مینڈیٹ دیا ہے، لہٰذا یہ کسی صورت قابلِ قبول نہیں کہ عوامی ٹیکسز پر چلنے والے ادارے اپنی بنیادی ذمہ داریاں پوری نہ کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ محکمہ بلدیات کے ہر سطح پر کام کرنے والے ملازمین اپنی کارکردگی بہتر بنائیں، ورنہ سخت کارروائی کی جائے گی۔وزیر بلدیات نے کہا کہ صوبے کی ترقی، شہری سہولیات کی بہتری اور صاف ستھرا ماحول یقینی بنانا حکومت کی مشترکہ ذمہ داری ہے، اس لیے ناقص کارکردگی اور غفلت کے لیے محکمے میں کوئی گنجائش نہیں رہے گی۔
وزیرِ صحت خیبر پختونخوا خلیق الرحمٰن کی زیرِ صدارت محکمہ صحت پشاور میں خیبر پختونخوا ہیلتھ فاؤنڈیشن کے اقدامات، جاری منصوبوں، درپیش مسائل اور مستقبل کے لائحہ عمل کے حوالے سے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا
وزیرِ صحت خیبر پختونخوا خلیق الرحمٰن کی زیرِ صدارت محکمہ صحت پشاور میں خیبر پختونخوا ہیلتھ فاؤنڈیشن کے اقدامات، جاری منصوبوں، درپیش مسائل اور مستقبل کے لائحہ عمل کے حوالے سے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا۔ جس میں فاؤنڈیشن کے منیجنگ ڈائریکٹر نے فاؤنڈیشن کی کارکردگی اور انتظامی امور پر تفصیلی بریفنگ دی۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ آؤٹ سورس شدہ تمام صحت سہولیات میں موجود عارضی انتظامات کا جائزہ لیا جائے گا تاکہ بلا تعطل سروس کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔ محکمہ صحت، فاؤنڈیشن کے اشتراک سے جاری اور آئندہ تمام منصوبوں کے لیے ایک مضبوط اور جامع حکمت عملی بھی وضع کرے گا تاکہ پائیدار نظامِ کار ممکن بنایا جا سکے۔فورم نے آؤٹ سورس شدہ صحت سہولیات کی مؤثر نگرانی کو مزید بہتر بنانے پر اتفاق کیا۔ اس مقصد کے لیے ایک ڈیجیٹل ڈیش بورڈ تیار کیا جائے گا جس کے ذریعے اوپی ڈی، آئی پی ڈی، عملے کی حاضری اور سہولیات کے استعمال سمیت کارکردگی کی نگرانی کی جا سکے گی۔یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ موجودہ کارکردگی کی بنیاد پر مالی کٹوتی اور ادائیگی کے نظام کا ازسرِ نو جائزہ لیا جائے گا اور تمام آؤٹ سورس شدہ سہولیات کے لیے ایک یکساں کارکردگی پر مبنی مالی نظام متعارف کرایا جائے گا تاکہ معیاری خدمات کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔صوبائی وزیرِ صحت نے ہدایت کی کہ فاؤنڈیشن آؤٹ سورس شدہ ہسپتالوں کے تمام میڈیکل سپرنٹنڈنٹس اور سہولت منیجرز کے ساتھ باقاعدگی سے کارکردگی جائزہ اجلاس منعقد کرے تاکہ بہتر رابطہ قائم رکھا جا سکے، بروقت مسائل حل ہوں اور مجموعی کارکردگی میں بہتری آئے۔اجلاس میں اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ فاؤنڈیشن معاہدوں اور منظور شدہ معیار کے مطابق ضروری انسانی وسائل اور تمام کلینیکل و نان کلینیکل سہولیات کی دستیابی یقینی بنائے۔ غیر مطابقت رکھنے والے اداروں کو فوری طور پر خامیاں دور کرنے کے لیے نوٹسز جاری کیے جائیں، خصوصاً اہم خدمات میں کوتاہی کی صورت میں۔زیرِ التواء معاہدوں کے حوالے سے بتایا گیا کہ دارازندہ، سرائے مولہ خان، شگرام، مامد گٹ اور دیگر سہولیات کے معاہدوں کی جانچ پڑتال اور حتمی منظوری کے عمل کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیا جائے گا تاکہ ان صحت مراکز کو بلا تاخیر مکمل طور پر فعال کیا جا سکے۔سوشل میڈیا پر ناقص سہولیات سے متعلق گردش کرنے والی اطلاعات کے تناظر میں فاؤنڈیشن کو ہدایت کی گئی کہ وہ زمینی سطح پر سروس ڈیلیوری کا مکمل جائزہ لے اور جہاں ضرورت ہو وہاں فوری اصلاحی اقدامات کرے تاکہ معیاری طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔اجلاس میں ڈی ایچ کیو ہسپتال داسو کے مسائل پر بھی تفصیلی غور کیا گیا۔ خیبر پختونخوا ہیلتھ فاؤنڈیشن ہسپتال کے انفراسٹرکچر اور سروس ڈیلیوری کا جامع جائزہ لے گا اور بہتری کے لیے ایک تفصیلی رپورٹ محکمہ صحت کو پیش کرے گا۔اجلاس میں منسلک اداروں کے کیپٹیشن فیس ماڈل کا بھی ازسرِ نو جائزہ لینے کا فیصلہ کیا گیا تاکہ تعلیم و تربیت کے معیار اور مجموعی طور پر صحت سہولیات کی استعداد میں بہتری لائی جا سکے۔
خیبر پختونخوا کے وزیر برائے ابتدائی و ثانوی تعلیم ارشد ایوب خان نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ ضلع ہری پور کے تعلیمی منصوبوں کی اعلیٰ معیار کے ساتھ بروقت تکمیل کو یقینی بنایا جائے
خیبر پختونخوا کے وزیر برائے ابتدائی و ثانوی تعلیم ارشد ایوب خان نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ ضلع ہری پور کے تعلیمی منصوبوں کی اعلیٰ معیار کے ساتھ بروقت تکمیل کو یقینی بنایا جائے جبکہ نئے سکولوں میں باغات اور پودے لگانے کا خاص خیال رکھا جائے موجودہ حکومت محکمہ پلانگ اینڈ ڈیویلپمنٹ سے تعمیراتی کاموں کی دیکھ بھال کے لیے ایک حکمت عملی واضح کرے گی جس کے تحت صوبے میں تعلیمی اداروں کی تعمیرات کی نگرانی ممکن ہوگی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ضلع ہری پور میں نئی سکولوں کے تعمیری کاموں کے حوالے سے منگل کے روز پشاور میں منعقدہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں ممبر صوبائی اسمبلی ا کبر ایوب خان،سیکرٹری ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن محمد خالد خان، سپیشل سیکرٹری تعلیم مسعود،چیف پلاننگ آفیسرذین اللہ محکمہ مواصلات و تعمیرات اور محکمہ تعلیم کے دیگر افسران بھی موجود تھے۔ اس موقع پر محکمہ مواصلات و تعمیرات کی جانب سے ضلع ہری پور میں سالانہ ترقیاتی پروگرام کے تحت نئے تعمیر کئے جانے والے سکولوں کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ صوبائی وزیر نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ وہ دور افتادہ علاقوں میں سکولوں کی تعمیر کا خاص خیال رکھیں اور نئے سکولوں کی عمارات میں پودے لگانے کا بھی بندوبست کریں۔ انہوں نے کہا کہ ضلع ہری پور میں سکولوں کے عملہ کی کمی کو پورا کیا جائے گا جبکہ دیگر ضروریات کے لیے بھی محکمہ خزانہ سے ربطہ کر کے عوامی سکیموں کو جلد از جلد پائیا تکمیل تک پہنچایا جائے گا۔
ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل رپورٹ کے مطابق صوبوں میں کرپشن کا تصور پنجاب میں سب سے اوپر جبکہ خیبر پختونخوا میں سب سے نیچے ہے۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم
مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی جاری کردہ کرپشن رپورٹ پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ صوبوں میں کرپشن کے تصور کے مطابق پنجاب میں سب سے اوپر جبکہ خیبر پختونخوا میں تناسب سب سے نیچے ہے۔ مزمل اسلم نے کہا کہ نیشنل کرپشن پرسیپشن سروے 2025 کی رپورٹ جاری ہوگئی ہے اور مبینہ اعداد و شمار کے مطابق پولیس 24 فیصد کے ساتھ پاکستان کا سب سے زیادہ کرپٹ شعبہ تصور کیا جاتا ہے۔ مزمل اسلم نے کہا کہ صوبائی سطح پر پولیس کے بارے میں کرپشن کا سب سے زیادہ تصور پنجاب میں 34 فیصد ہے۔ اس کے بعد بلوچستان 22 فیصد جبکہ سندھ 21 فیصد ہے اور خیبر پختونخوا کا نمبر سب سے نیچے 20 فیصد ہے۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا نے کہا کہ عوامی خدمات میں رشوت کے لحاظ سے بھی خیبر پختونخوا کا سکور سب سے کم جبکہ سندھ، پنجاب کا زیادہ ہے۔ مزمل اسلم نے کہا کہ الحمدللہ خیبر پختونخوا ڈیجیٹل ایپ دستک نے 2025 کا ایوارڈ جیت لیا جبکہ دوسری جانب دوسرے صوبے کرپشن کے تمام ایوارڈ جیت رہے ہیں۔
مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم کا ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کے جاری کرپشن رپورٹ پر ردعمل
صوبوں میں کرپشن کا تصور پنجاب سب سے اوپر جبکہ خیبر پختونخوا سب سے نیچے ہے۔ مزمل اسلم
نیشنل کرپشن پرسیپشن سروے 2025 کا رپورٹ جاری ہوگیا۔ مزمل اسلم
اعداد و شمار کے مطابق پولیس 24 فیصد کے ساتھ پاکستان کا سب سے زیادہ کرپٹ شعبہ تصور کیا جاتا ہے۔ مزمل اسلم
صوبائی سطح پر پولیس کے بارے میں کرپشن کا سب سے زیادہ تصور پنجاب میں 34 فیصد ہے۔ مزمل اسلم
اس کے بعد بلوچستان 22 فیصد جبکہ سندھ 21 فیصد ہے۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا
صوبوں میں خیبر پختونخوا کا نمبر سب سے نیچے 20 فیصد ہے۔ مزمل اسلم
عوامی خدمات میں رشوت کے لحاظ سے بھی خیبر پختونخوا کا اسکور سب سے کم جبکہ سندھ، پنجاب کا زیادہ ہے۔ مزمل اسلم
انور خان خٹک اسسٹنٹ ڈائریکٹر/ پی آر او ٹو مشیر خزانہ خیبرپختونخوا
عالمی یوم انسداد بدعنوانی کے موقع پر نشتر ہال پشاور میں سیمینار/ معاون خصوصی برائے اطلاعات شفیع جان کا خطاب
سیمینار میں چیف سیکرٹری شہاب علی شاہ، سابق مشیر انسداد بدعنوانی مصدق عباسی سمیت اعلیٰ سرکاری افسران کی شرکت
وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کی ہدایت پر 8 سے 13 دسمبر تک خیبر پختونخوا میں ہفتہ انسداد بدعنوانی منایا جائے گا، شفیع جان
سرکاری محکموں کے زیر اہتمام انسداد بدعنوانی کے حوالے سے آگاہی واکس اور سیمینارز منعقد کیے جائیں گے، شفیع جان
انسداد بدعنوانی کا دن یاد دلاتا ہے کہ کرپشن صرف قانون شکنی نہیں بلکہ قوم کے مستقبل پر حملہ ہے، شفیع جان
بانی چیئرمین عمران خان کے وژن کے مطابق صوبائی حکومت بدعنوانی کے خاتمے کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے، شفیع جان
وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کی قیادت میں صوبے میں بدعنوانی کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر مکمل عملدرآمد جاری ہے، شفیع جان
بدعنوانی کا خاتمہ پاکستان تحریک انصاف کے منشور کا بنیادی نکتہ اور صوبائی حکومت کی اولین ترجیح ہے، شفیع جان
بہتر طرز حکمرانی کے لیے اداروں میں شفافیت کا فروغ بنیادی شرط ہے، شفیع جان
آئی ایم ایف کو دعوت دیتے ہیں کہ خیبر پختونخوا میں طرز حکمرانی اور بدعنوانی پر ڈائیگناسٹک رپورٹ تیار کرے، شفیع جان
وفاقی حکومت کی طرح رپورٹ روکی نہیں جائے گی، شفیع جان
پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ بدعنوانی ہے، اشرافیہ کی کرپشن ملک کی بنیادیں کھوکھلی کر رہی ہے، شفیع جان
کرپشن کے باعث ملک میں سرمایہ کاری نہیں آتی اور ترقی کا عمل رک جاتا ہے، شفیع جان
ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے بدعنوانی کا مکمل خاتمہ ناگزیر ہے، شفیع جان
مسلم لیگ (ن) کی وفاقی حکومت کی نظر میں کرپشن کوئی مسئلہ نہیں، شفیع جان
آئی ایم ایف کی حالیہ رپورٹ میں وفاقی حکومت کی 5300 ارب روپے کی کرپشن کی نشاندہی ایک چارج شیٹ ہے، شفیع جان
مذکورہ رقوم سے بڑے ڈیمز سمیت صحت اور تعلیم جیسے اہم شعبوں میں سرمایہ کاری ممکن ہے، شفیع جان
مقصود چپڑاسی، ٹی ٹی کیس، اومنی اور دیگر بڑے کرپشن کیسز پوری دنیا کے سامنے ہیں، شفیع جان
صوبائی حکومت صوبے کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے،عوامی مسائل کے حل کے لیے اقدامات کررہی ہے، شفیع جان
صوبائی وزیر صحت کا ڈاکٹر وردہ کے المناک قتل پر گہرے دکھ، افسوس کا اظہار واقع کی شدید مذمت
خیبر پختونخوا کے وزیر صحت خلیق الرحمٰن نے نوجوان ڈاکٹر، ڈاکٹر وردہ مشتاق جو ڈی ایچ کیو ایبٹ آباد ہسپتال میں سی ایم او تھی کے بے رحمانہ، غیر انسانی اور المناک قتل پر گہرے رنج و غم، تشویش اور دلی ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے اس افسوسناک واقعے کو نہایت دل دہلا دینے والا اور دردناک امرقرار دیتے ہوئے کہا کہ اس نوعیت کی درندگی کسی صورت برداشت کے قابل نہیں اور ملوث عناصر کو ہرگز معاف نہیں کیا جائے گا۔صوبائی وزیر صحت نے کہا کہ جیسے ہی ڈاکٹر وردہ کی گمشدگی کی اطلاع موصول ہوئی،وہ اسی وقت سے ضلعی انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ قریبی رابطے میں ہیں۔ فوری اور سنجیدگی کے ساتھ ذاتی طور پر کیس کی پیش رفت کی نگرانی کرتے رہے۔ تاہم، انتہائی افسوس اور دکھ کے ساتھ ان کی لاش کی برآمدگی نے پورے صوبے کو غم اور صدمے سے دوچار کر دیا ہے۔صوبائی وزیر صحت نے اس بات کی یقین دہانی کراء کہ اس کے حوالے سے ایک اعلی سطح کی انکوائری کرائی جا?گی اور آئی جی خیبر پختونخوا سے اس حوالے سے مکمل فیکٹ فائینڈنگ رپورٹ طلب کی گء ہے۔ ڈاکٹروں کی سیکیورٹی کے حوالے سے ایک پروٹیکشن ایکٹ بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ اس قسم کے حالات کا سامنا مسقبل میں نا ہو۔ صوبائی وزیر نے ان جیسے حالات اور واقعات کے روک تھام کے لئیے محکمہ صحت کے اعلی حکام کے ساتھ مل کر مشاورت شروع کی ہے اور یہ یقین دہانی کرائی ہے کہ ڈاکٹر وردہ مشتاق کا قتل پوری ڈاکٹر برادری اور عوام کے لیے باعث تکلیف ہے۔ خلیق الرحمٰن نے اس بربریت اور غیر انسانی فعل کی شدید مذمت کرتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ اس سنگین جرم میں ملوث تمام مجرموں کو قانون کے مطابق انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا اور انہیں سخت سے سخت سزا دی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس گھناؤنے جرم میں شامل کوئی بھی فرد قانون سے بچ نہیں سکے گا اور حکومت ڈاکٹر وردہ کو مکمل انصاف دلانے کے لیے پرعزم ہے۔صوبائی وزیر صحت نے سوگوار خاندان سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے انہیں محکمہ صحت کی جانب سے مکمل اخلاقی، قانونی اور انتظامی تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ انہوں نے مزید کہا کہ پوری طبی برادری اور محکمہ صحت اس غم کی گھڑی میں ڈاکٹر وردہ کے اہلِ خانہ کے ساتھ کھڑے ہیں۔صوبائی وزیر صحت نیدعا کی کہ اللہ تعالی مرحومہ کے درجات بلند فرمائیاور سوگوار خاندان کوصبرِ جمیل عطا فرمائے۔
محکمہ ایکسائز خیبرپختونخوا نے صوبے کے مختلف علاقوں میں منشیات فروشوں اور سمگلروں کے خلاف کارروائیاں کرتے ہوئے متعدد ملزمان کو گرفتار کرکے بھاری مقدار میں منشیات برآمد کرلیں
خیبرپختونخوا حکومت کے منشیات کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اور صوبائی وزیر ایکسائز،ٹیکسیشن اور نارکوٹکس کنٹرول سید فخرجہان کی ہیدایات پر جاری آپریشن کے سلسلے میں گزشتہ تین دنوں کے دوران محکمہ ایکسائز نے ملاکنڈ،پشاور اور مردان میں الگ الگ کاروائیاں عمل میں لائیں۔ملاکنڈ میں عاکف نواز خان سرکل آفیسر کی نگرانی میں ازلان اسلم ایس ایچ او تھانہ ایکسائز سوات نے ملاکنڈ کے علاقے خار میں کارروائی کرتے ہوئے نشہ فروشی میں ملوث سہولت کار سلمان کو رنگے ہاتھوں گرفتار کیا۔ ملزم کے قبضے سے 135 گرام چرس برآمد ہوئی۔پشاور کارخانوں مارکیٹ میں ماجد خان ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن آفیسر نارکوٹکس کنٹرول کی نگرانی،فیصل خان سرکل آفیسر خیبر کی سربراہی میں ماجد حسین ایس ایچ او نے کارخانوں مارکیٹ میں دکان پر چھاپہ مارا۔ کارروائی کے دوران 208 عدد (187 گرام) نشہ آور گولیاں برآمد ہوئیں جبکہ مزاحمت کے باوجود ملزم کو گرفتار کرکے مقدمہ درج کرلیا گیا۔اسی طرح سعود خان گنڈا پور پراوینشل انچارج بیورو آف اینٹیلیجنس اینڈ انویسٹیگیشن کی نگرانی میں فخر عالم خان انسپکٹر اور شیر شاہ سوری سب انسپکٹر نے مردان،نوشہرہ روڈ پر کارروائی کرتے ہوئے دو کم عمر لڑکوں کے ذریعے آئس راولپنڈی سمگل کرنے کی کوشش ناکام بنادی۔ دونوں لڑکوں کے پیروں سے بندھی ہوئی 2000 گرام آئس برآمد کی گئی جس کے سلسلے میں مقدمہ درج کرکے ملزمان کے پورے نٹ ورک تک پہنچنے کیلئے تحقیقات جاری ہیں۔
ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے بدعنوانی کا مکمل خاتمہ ناگزیر ہے، شفیع جان
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و تعلقات عامہ شفیع جان نے کہا ہے کہ ہر سال 9 دسمبر کو عالمی سطح پر یوم انسداد بدعنوانی منایا جاتا ہے جو ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ کرپشن محض قانون شکنی نہیں بلکہ قوم کے مستقبل پر ایک ڈاکہ ہے،بدعنوانی ملک کی جڑیں کھوکھلا کرتی ہے اور معاشرے کے لیے ناسور کی حیثیت رکھتی ہے،ان خیالات کا اظہار انہوں نے صوبائی اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کے زیر اہتمام عالمی یوم انسداد بدعنوانی کے موقع پر نشتر ہال پشاور میں منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا،اس موقع پر چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا شہاب علی شاہ، سابق مشیر برائے انسداد بدعنوانی مصدق عباسی، سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ذوالفقار علی شاہ، کمشنر پشاور ڈویژن ریاض محسود، صوبائی محکموں کے انتظامی سیکرٹریز، تعلیمی اداروں کے طلبہ اور نوجوانوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی،سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے شفیع جان نے کہا کہ اس وقت ملک کو سب سے بڑا چیلنج کرپشن کی صورت میں درپیش ہے جو قومی بنیادوں کو کمزور کرتی اور معاشرتی نظام کو تباہی کی طرف دھکیلتی ہے، انہوں نے کہا کہ بدعنوانی کا خاتمہ پاکستان تحریک انصاف کے منشور کا بنیادی نکتہ اور صوبائی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔شفیع جان نے کہا کہ بانی چیئرمین عمران خان کے وژن کے مطابق صوبائی حکومت بدعنوانی کے خاتمے کے لیے سنجیدہ اور مؤثر اقدامات کر رہی ہے جبکہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی کی قیادت میں صوبے بھر میں کرپشن کے حوالے سے زیرو ٹالرنس پالیسی پر مکمل عملدرآمد کیا جا رہا ہے، وزیر اعلی کی ہدایت پر 8 تا 13 دسمبر ہفتہ انسداد بدعنوانی کے دوران سرکاری محکموں کے زیر اہتمام آگہی واکس، سیمینارز اور مختلف تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا،شفیع جان نے کہا کہ ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے بدعنوانی کا مکمل خاتمہ ناگزیر ہے کیونکہ کرپشن کے باعث سرمایہ کاری کا عمل متاثر ہوتا ہے اور ترقی کا پہیہ رک جاتا ہے، جس کا براہ راست نقصان عوام کو ہوتا ہے۔ بہتر طرز حکمرانی کے لیے اداروں میں شفافیت کا فروغ بنیادی شرط ہے،انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت عوامی مسائل کے حل اور صوبے کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے بھرپور اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کرپشن کے معاملے پر مسلم لیگ (ن) کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی وفاقی حکومت کی نظر میں کرپشن کوئی مسئلہ ہی نہیں،بدقسمتی سے ٹرانسپیرینسی انٹرنیشنل کرپشن انڈیکس میں پاکستان کا 135 واں نمبر ہے،شفیع جان نے کہا کہ آئی ایم ایف کی حالیہ رپورٹ میں 5300 ارب روپے کی کرپشن کی نشاندہی کی گئی جو اصل میں وفاقی حکومت کے خلاف ایک واضح چارج شیٹ ہے، دیگر پارٹیوں کے مقصود چپڑاسی، ٹی ٹی کرپشن کیس، اومنی کیس اور دیگر بڑے کرپشن اسکینڈلز پوری دنیا کے سامنے ہیں،انہوں نے کہا کہ ائی ایم ایف رپورٹ میں زکر کردہ کرپشن کی رقم سے بڑے ڈیمز تعمیر کیے جا سکتے ہیں اور صحت و تعلیم جیسے اہم شعبوں پر سرمایہ کاری ممکن ہو سکتی ہے۔انھوں نے کہا کہ وہ بحیثیت صوبائی حکومت کے ایک نمایندہ آئی ایم ایف کو دعوت دیتے ہیں کہ خیبر پختونخوا میں طرز حکمرانی اور کرپشن کے حوالے سے ڈائگناسٹک رپورٹ ترتیب دے، ہماری حکومت اس رپورٹ پر سو فیصد عملدرآمد بھی یقینی بنائے گی، وفاقی حکومت کی طرح رپورٹ روکیں گے نہیں۔
