Home Blog Page 188

صوبائی وزیر محنت و افرادی قوت فضل شکورخان کی ہدایت پر ورکرز ویلفیئر بورڈ کی سالانہ کارکردگی رپورٹ جاری

صوبے کی مختلف صنعتوں میں کام کرنے کرنے والے 17 خوش نصیب مزدور مفت حج کیلیے منتخب
امسال 1578 بچوں اور بچیوں کی اعلیٰ تعلیم کے لئے 62 کروڑ 75 لاکھ روپے جاری کیے گئے،ر پورٹ
خیبر پختونخوا کے وزیر برائے محنت و افرادی قوت فضل شکورخان کی ہدایات پر ورکرز ویلفیئر بورڈ نے سالانہ کارکردگی رپورٹ جاری کر دیا۔مالی سال 25-2024 رپورٹ کے مطابق ورکرز ویلفیئر بورڈ کی حج کمیٹی نے قرعہ اندازی کے ذریعے صوبے کی مختلف صنعتوں میں کام کرنے والے 17 خوش نصیب مزدوروں کو مفت حج کرانے کے لئے منتخب کیا ہے جس کی کل لاگت تقریباً 1کروڑ 88 لاکھ روپے ہے جبکہ فی کس تقریباً 11 لاکھ پانچ ہزار روپے خرچہ آئے گا۔ رپورٹ کے مطابق مزدوروں کی میرج گرانٹ میں 341 کیسز کے لئے 13 کروڑ 1لاکھ روپے اور ڈیتھ گرانٹ کے 44کیسز کے لئے3 کروڑ روپے جاری کئے گئے۔ طلباء سکالرشپ کی مد میں صوبے کے مختلف اعلیٰ تعلیمی اداروں سے میڈیکل، انجینئرنگ، بزنس ایڈمنسٹریشن اور دیگر پروگرامز میں تعلیم حاصل کرنے والے 1578 بچوں اور بچیوں کے لئے62 کروڑ 75 لاکھ روپے جاری کیے گئے ہیں۔ ان میں سے1009 طلباء زیر تعلیم جبکہ 569 طلباء تعلیم مکمل کر چکے ہیں۔اسی طرح نئے داخل ہونے والے تقریبا2314 طلباء کے لئے سکالرشپ صوبائی سکروٹنی کمیٹی کی منظوری کے بعد دی جائیں گی۔رپورٹ کے مطابق صوبے میں ورکرز ویلفیئر بورڈ کے 7میٹرک ٹیک انسٹیٹیوٹس میں سال 25-2024 کے دوران میٹرک کے فنی تعلیم میں 688 طلباء نے داخلہ لیا جن میں سے 622 نے امتحان پاس کیا اور نتیجے کا مجموعی تناسب 90.25 فیصد رہا۔ 8مونو ٹیک انسٹی ٹیوٹس میں 1414طلباء نے ایسوسی ایٹ انجینئرنگ ڈپلومہ میں داخلہ لیاجن میں 1234 پاس ہوئے اورنتیجے کا تناسب 87.24فیصد رہا جبکہ الیکٹرک کے مختصر کورسز میں 2220 طلباء نے داخلہ لیا اور تمام نے امتحان میں کامیابی حاصل کی۔3پولی ٹیک انسٹیٹیوٹس میں کل 4322طلباء نے امتحانات میں حصہ لیاجن میں میں 4076طلباء نے کامیابی حاصل کی اور مجموعی طور پر92.50فیصد نتیجہ رہا۔ ورکرز ویلفیئر بورڈ کے زیر انتظام ورکنگ فالکس گرائمر سکولوں میں سال 25-2024 میں 21587 طلباء نے داخلہ لیا جبکہ سال 26 -2025 میں مزید 300نئے داخلے ہوں گے۔رواں سال ان سکولوں نے بورڈ امتحانات میں بہترین نتائج دیئے۔میٹرک امتحانات میں 1220 طلباء میں سے 1141 پاس ہوئے اور نتیجہ 94فیصد رہا جبکہ انٹرکے امتحانات میں 464طلباء میں سے445 نے کامیابی حاصل کی اورنتیجہ 96فیصد رہا۔رپورٹ کے اعداد و شمار کے مطابق ورکرز ویلفیئر بورڈ نے ان سکولوں میں سال 25-2024 ک لئے کتابوں، یونیفارم اور ٹرانسپورٹ کی مد میں تقریباً 19 کروڑ 17 لاکھ روپے جاری کئے۔

مشیر اطلاعات و تعلقات عامہ خیبرپختونخوا بیرسٹر ڈاکٹر محمد علی سیف نے کہا کہ وزیر اعلیٰ

خیبر پختونخوا کابینہ کا 31 واں اجلاس جمعرات کے روز وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈا پور کی زیر صدارت پشاور میں منعقد ہوا جس میں کابینہ اراکین، چیف سیکرٹری، ایڈیشنل چیف سیکرٹریز، سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو، انتظامی سیکرٹریز اور ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا نے شرکت کی۔اجلاس کی تفصیلات بتاتے ہوئے مشیر اطلاعات و تعلقات عامہ خیبرپختونخوا بیرسٹر ڈاکٹر محمد علی سیف نے کہا کہ وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین خان گنڈا پور نے پہلگام واقعہ کے بعد بھارتی حکومت کے رویے کی شدید مذمت کی ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ واقعے کے تناظر میں بھارتی حکومت کا جارحانہ رویہ افسوسناک اور ناقابل برداشت ہے، ہم بھارت کے کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کے لئے ہر طرح سے تیار ہیں، وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے کہا کہ مودی سرکار ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت پہلگام واقعے کو پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کی ناکام کوشش کر رہی ہے اور یہ واقعہ بھارتی حکومت کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے،وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے واقعے میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہارکیا اور کہا کہ بھارتی حکومت اپنی نااہلی چھپانے کے لئے پاکستان کے خلاف زہر اگل رہی ہے،اگر بھارتی حکومت اس واقعے کی آڑ میں کسی بھی جارحیت کی کوشش کی تو اسے بھاری قیمت چکانی پڑے گی،ملک کی سا لمیت اور قومی مفاد کے لئے ہم سب متحد ہیں اور اس سلسلے میں کسی بھی قربانی کے لئے تیار ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ بھارتی حکومت کا جارحانہ رویہ ہمیشہ سے خطے کے امن کے لئے خطرہ رہا ہے۔کابینہ کے فیصلوں کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بیرسٹر ڈاکٹر محمد علی سیف نے کہا کہ کابینہ نے خیبرپختونخوا چیریٹیز ایکٹ 2019 کے سیکشن 12 میں ترامیم کے لیے مجوزہ بل کی منظوری دے دی ہے۔ اس ترمیم کے تحت خیراتی اداروں کی رجسٹریشن ہر دو سال بعد ازسرنو کی جائے گی۔اسی طرح کابینہ نے ویسٹ پاکستان لینڈ ریونیو رولز 1968 میں ایک نیا حصہIX-Aشامل کرنے کی منظوری دی، جو کہ ویسٹ پاکستان لینڈ ریونیو ایکٹ 1967 کے سیکشنز 121، 122(2)، 129(1)، 148 اور 182 کی روشنی میں کیا گیا ہے۔ اس نئی ترا میم میں زمین کی حد بندی اور ناجائز قابضین کی بے دخلی سے متعلق اصول وضع کیے گئے ہیں۔کابینہ نے خیبرپختونخوا آئی ٹی بورڈ کے دو ممبران کی تقرری کی منظوری بھی دی۔ علاوہ ازیں، کابینہ نے خیبرپختونخوا بورڈ آف انویسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ کو بچت شدہ فنڈز میں سے 2 کروڑ 50 لاکھ روپے کی رقم تنخواہوں اور دفتری اخراجات کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دی۔کابینہ نے پشاور بی آر ٹی سروسز کی رواں مالی سال میں بلا تعطل روانی کے لیے ایک ارب روپے کی سبسڈی/گرانٹ کی منظوری بھی دی۔بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا کہ کابینہ نے خیبرپختونخوا اسمبلی کی منظور شدہ مشترکہ قرارداد نمبر 132 کو وفاقی حکومت کو بھیجنے کی منظوری دی، جس میں کہا گیا ہے کہ ”خیبرپختونخوا اسمبلی مجوزہ ترامیم برائے پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (پیکا) کو قطعی طور پر مسترد کرتی ہے کیونکہ یہ آزاد صحافت اور اظہار رائے کی آزادی کے اصولوں کے منافی ہے۔ اسمبلی صحافتی برادری کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتی ہے اور صحافتی آزادی پر پابندی اور ان کو دبانے کی کسی بھی کارروائی کی شدید مذمت کرتی ہے۔ ہم صوبائی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وفاقی حکومت کو سفارش کرے کہ ان تمام متنازعہ، غیر جمہوری اور جابرانہ ترامیم کو واپس لیا جائے۔”بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے بتایا کہ کابینہ نے سوشل ویلفیئر، سپیشل ایجوکیشن اور ویمن ایمپاورمنٹ ڈیپارٹمنٹ سے متعلق بزنس رولز 1985 میں ترمیم کی منظوری دی، جس کے تحت یہ محکمہ ہر سال جینڈر پیرٹی کی رپورٹ صوبائی اسمبلی کے سامنے پیش کرے گا۔

صحت کارڈ” ٹرانسپلانٹ اینڈ ایمپلانٹ” کے تحت حیات آباد میڈیکل کمپلیکس میں گردوں کی پیوندکاری اور قوتِ سماعت کی بحالی کا کامیاب آغاز

مشیر صحت خیبرپختونخوا احتشام علی نے ایم ٹی آئی حیات آباد میڈیکل کمپلیکس میں ”ٹرانسپلانٹ اینڈ ایمپلانٹ” صحت کارڈ سکیم کے تحت گردوں کی پیوندکاری اور قوتِ سماعت کی بحالی (کواکولر ایمپلانٹ) سروسز کا باقاعدہ افتتاح کیا۔اس موقع پر مختصر تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں بچوں کو سماعت کی مشینیں لگائی گئیں اور دو مریضوں کے کامیاب گردوں کے ٹرانسپلانٹ کیے گئے۔ ہسپتال ڈائریکٹر ڈاکٹر فیصل شہزاد نے مشیر صحت کو سروسز کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی۔احتشام علی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کی قیادت میں حکومت صحت کی سہولیات کو عام آدمی کی دہلیز تک پہنچانے کے مشن پر گامزن ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ سکیم عوام کے لیے نئی زندگی کی نوید ہے۔اس موقع پر مشیر صحت نے گردوں کے ٹرانسپلانٹ شدہ مریضوں کی عیادت کی جنہوں نے وزیراعلیٰ کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔ تقریب کے دوران بچوں کو کواکولر ایمپلانٹ مشینز لگائی گئیں جنہوں نے پہلی بار اردگرد کی آوازیں سن کر ردِعمل دیا۔مشیر صحت نے کہا کہ اب تک ای این ٹی ڈیپارٹمنٹ میں 15 بچوں کو یہ جدید سماعتی آلات لگائے جا چکے ہیں۔ یہ سہولت ”ٹرانسپلانٹ اینڈ ایمپلانٹ” کارڈ کا مستقل حصہ بن چکی ہے۔

ڈائریکٹوریٹ جنرل آف سپورٹس خیبرپختونخوا کے زیراہتمام تبدیل ہونے والے ڈائریکٹر جنرل عبدالناصر خان اور نو تعینات ڈی جی سپورٹس تاشفین حیدر کے اعزاز میں تقریب

صوبائی وزیر کھیل و امور نوجوانان سید فخر جہان نے تبدیل ہونے والے ڈی جی سپورٹس کے خدمات کو خراج تحسین پیش کیا

ڈائریکٹوریٹ جنرل آف سپورٹس خیبر پختونخوا کے زیر اہتمام جمعرات کے روز تبدیل ہونے والے ڈائریکٹر جنرل سپورٹس عبدالناصر خان کو الوداعی اور نو تعینات ڈی جی سپورٹس تاشفین حیدر کے اعزاز میں ویلکم پارٹی کا انعقاد کیا گیا جسمیں خیبر پختونخوا کے وزیر کھیل و امور نوجوانان سید فخر جہان کے علاؤہ سیکرٹری سپورٹس خیبر پختونخوا ضیائالحق،سابق ڈی جی عبدالناصر خان،نئے ڈائریکٹر جنرل سپورٹس تاشفین حیدر اور ڈائریکٹریٹ سپورٹس کے افسران سمیت دیگر ملازمین نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ اس موقع پر وزیر کھیل خیبر پختونخوا سید فخر جہان نیسپورٹس کے شعبہ میں عبدالناصر خان کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی سربراہی میں صوبے میں سپورٹس کو بہت فروغ حاصل ہوا اور محکمہ کھیل کے لیے انکے گراں قدر خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ انھوں نیکہا کہ سرکاری ملازمت خلوص سے فرائض کی ادائیگی کا ذریعہ اور عام آدمی کی مشکلات اور شکایات کے ازالہ کا بہترین موقع بھی فراہم کرتا ہے جبکہ مخلوق خدا کی خدمت سے اللہ اور اس کے رسول کی خوشنودی حاصل کرنے کا اس سے بہترین کوئی اور ذریعہ نہیں ہے۔ تقریب سے سیکریٹری سپورٹس محمد ضیاء الحق اور دیگر مقررین نے کہا کہ خود کوحقیقی معنوں میں عوام دوست سرکاری ملازم سمجھ کر مسائل کے حل کیلئے صدق دل سے اقدامات کرنے والوں کو لوگ ہمیشہ قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور ہمارا اصل اثاثہ بھی یہی ہے کہ عام آدمی ہماری تعیناتی کے دوران اور ٹرانسفر کی صورت میں اچھے لفظوں میں یاد رکھیں۔مقررین نے کہا کہ ٹرانسفر ہونے والے ڈی جی عبد الناصر خان کا شمار خیبر پختونخوا کے قابل افسران میں ہوتا ہے اور محکمہ کھیل کے لیے انکے گراں قدر خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا انھوں نے کہا کہ ٹرانسفر ہونے والے ڈائریکٹر جنرل نے تعیناتی کے دوران شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور صوبہ میں کھیلوں کے فروغ کے لئے اہم کردار ادا کیا ہے وہ آج سپورٹس کا بہترین انفراسٹرکچر چھوڑ کر جارہا ہے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے محکمہ کھیل خیبر پختونخوا سے تبدیل ہونے والے ڈی جی عبدالناصر خان نے کہا کہ دوران تعیناتی سربراہان سے بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا اور فرائض کی ادائیگی کے سلسلے میں بھرپور تعاون اور رہنمائی حاصل رہی جس پر میں محکمہ کے تمام ملازمین کا شکر گزار ہوں،تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نو تعینات ڈائریکٹر جنرل سپورٹس تاشفین حیدر نے کہا کہ محکمہ سپورٹس کی بہتری کے لئے دن رات کام کریں گے اور عبد الناصر خان کے مشن کو پورا کریں گے۔ اخر میں وزیر کھیل سید فخر جہان نے عبد الناصر خان کو سوینئر پیش کیا۔

ڈائریکٹر جنرل یورپی سول پروٹیکشن اینڈ ہیومینیٹیرین ایڈ کی چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا سے ملاقات

یورپی سول پروٹیکشن اینڈ ہیومینیٹیرین ایڈ آپریشنز کے ڈائریکٹر جنرل، آندریاس پاپا کانسٹانٹینو نے چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا، شہاب علی شاہ سے پشاور میں ملاقات کی۔ملاقات میں ایڈیشنل چیف سیکرٹری ہوم اینڈ ٹرائبل افیئرز اور سیکرٹری ریلیف بھی موجود تھے۔ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور, پائیدار ترقی کے لئے مختلف شعبوں میں تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔اس موقع پر حکومت خیبرپختونخوا کی جانب سے یورپی یونین کے ساتھ اسٹریٹجک تعاون کو مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔

خیبر پختونخوا کے وزیربرائے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ پختون یار خان کا رحم دلی پر مبنی اقدام،

خیبر پختونخوا کے وزیربرائے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ پختون یار خان کا رحم دلی پر مبنی اقدام، درخت سے لٹکے پرندے کو ریسکیو کرایا صوبائی وزیر برائے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ پختون یار خان نے جمعرات کی صبح اپنی رہائش گاہ پشاور کے احاطے میں ایک درخت پر لٹکے پرندے کو دیکھ کر فوراً رحم دلی کا مظاہرہ کیا اُنہوں نے پرسنل سیکرٹری کے ذریعے فوری طور پر ریسکیو 1122 کو اطلاع دی ریسکیو 1122ٹیم بروقت موقع پر پہنچی اور احتیاط سے پرندے کو بحفاظت آزاد کر کے ابتدائی طبی امداد فراہم کی صوبائی وزیر نے ٹیم کی پیشہ ورانہ کارکردگی کو سراہتے ہوئے موقع پر ہی اہلکاروں کو نقد انعام سے نوازا اس موقع پرصوبائی وزیر پختون یار خان نے کہا کہ ہر جاندار کی زندگی قیمتی ہے اور ایسے جذبے ہی ایک ذمہ دار معاشرے کی پہچان ہیں اُنہوں نے ریسکیو اہلکاروں کی خدمت خلق کے جذبے کو قابل تقلید قرار دیا۔

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے خصوصی معاون برائے سائنس و انفارمیشن ٹیکنالوجی ڈاکٹر شفقت ایاز نے

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے خصوصی معاون برائے سائنس و انفارمیشن ٹیکنالوجی ڈاکٹر شفقت ایاز نے پشاور میں عوامی ملاقاتوں کے دوران لوگوں سے مسائل سنے اور فوری حل کے لیے ہدایات جاری کیں۔ انہوں نے زور دیا کہ عوامی مسائل کا بروقت حل حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ ڈاکٹر شفقت ایاز نے محکمہ سائنس ٹیکنالوجی کے عہدیداران کے ساتھ اجلاس میں جدید ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل اسکلز، اور نوجوانوں کے لیے نئے مواقع پر بریفنگ لی۔ معروف آئی ٹی ماہرین کی ٹیم نے ڈاکٹر شفقت ایاز سے ان کے دفتر میں ملاقات کی جہاں سوات میں جدید“آئی ٹی ویلی”کے قیام پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ بعد ازاں وہ ماہرین کے ہمراہ خیبر پختونخوا بورڈ آف انویسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ کے دفتر پہنچے، جہاں وائس چیئرمین سے ملاقات میں“ایکسن ویلی”میں سرمایہ کاری اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ پر گفتگو ہوئی۔ڈاکٹر شفقت ایاز نے کہا کہ چیئرمین عمران خان اور وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور کے وژن کے مطابق خیبرپختونخوا کو ایک جدید، ڈیجیٹل ماڈل صوبہ بنایا جا رہا ہے تاکہ نوجوان بااختیار ہوں اور ترقی کی راہ پر گامزن ہوں۔

خیبر پختونخوا کے وزیر لائیو سٹاک، فشریز و کوآپریٹیو فضل حکیم خان نے کہا ہے کہ

خیبر پختونخوا کے وزیر لائیو سٹاک، فشریز و کوآپریٹیو فضل حکیم خان نے کہا ہے کہ موجودہ ملکی سیاسی اور معاشی صورتحال کو دیکھتے ہوئے یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ پاکستان کو اس وقت ایک دلیر اور عوامی قائد عمران خان کی اشد ضرورت ہے پاکستان تحریکِ انصاف کے عمران خان وہ واحد لیڈر ہیں جو ملک کو درپیش چیلنجز سے نکالنے کی صلاحیت رکھتے ہیں انہوں نے کہا کہ ملک ایک نازک دوراہے پر کھڑا ہے جہاں معاشی بدحالی، انصاف کی عدم فراہمی اور عوامی بیچینی نے جنم لیا ہے ایسے میں عمران خان کی قیادت، اُن کا وژن اور اُن کی عوامی مقبولیت پاکستان کو ایک نئے راستے پر گامزن کر سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ عمران خان کو فوری طور پر رہا کیا جائے تاکہ ملکی سیاست میں بھرپور کردار ادا کرسکیں ان خیالات کا اظہار صوبائی وزیر نے اپنے دفتر میں مختلف وفود سے ملاقات کے موقع پر کیا اس موقع پر صوبائی وزیرفضل حکیم خان نے اپنے دفتر میں مختلف عوامی وفود سے ملاقاتیں کیں جنہوں نے اپنے اپنے علاقوں کے مسائل سے صوبائی وزیر کو آگاہ کیا۔ وفود نے بنیادی سہولیات، ترقیاتی کاموں میں پیش رفت، اور عوامی فلاح و بہبود سے متعلق متعدد امور پر گفتگو کی۔صوبائی وزیر نے مسائل غور سے سنے اور ان کے فوری حل کیلئے متعلقہ محکموں کے افسران کو واضح ہدایات جاری کیں۔ فضل حکیم خان نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف عوامی خدمت پر یقین رکھتی ہے اور ہم عوام کے مسائل کے حل کو اپنی اولین ترجیح سمجھتی ہے انہوں نے کہا کہ قائد عمران خان ہمارے قائد ہیں جنہوں نے قوم کو خودداری، حریتِ فکر اور انصاف کا شعور دیا انہوں نے کہا کہ عمران خان کی قیادت میں ہم نے ہمیشہ اصولی سیاست کی ہے اور آئندہ بھی عوامی خدمت کے مشن کو جاری رکھیں گے۔صوبائی وزیر نے کہا کہ ہم اپنے قائد عمران خان کے ساتھ کھڑے ہیں اور عمران خان اور پاکستان تحریک انصاف کے مفاد میں ہر قسم کی قربانی کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان تحریک انصاف ایک نظریاتی جماعت ہے اور اس کے کارکنان ہر آزمائش میں ثابت قدم رہے ہیں۔انہوں نے کارکنان اور عوام سے اپیل کی کہ وہ سازشوں اور منفی پراپیگنڈے پر کان نہ دھریں اور عمران خان کے وژن کے مطابق پاکستان کو ایک مضبوط، خوشحال اور خوددار ملک بنانے کے لیے تحریک انصاف کا ساتھ دیں۔

خیبر پختونخوا کے وزیر سماجی بہبود سید قاسم علی شاہ سے معذور افراد

خیبر پختونخوا کے وزیر سماجی بہبود سید قاسم علی شاہ سے معذور افراد کی تحریک”بول اُٹھو” کے وفد نے ملاقات کی۔ وفد نے معذور افراد کے مسائل سے وزیر موصوف کو آگاہ کیا۔ملاقات میں سابق رکن صوبائی اسمبلی ڈاکٹر سمیرا شمش بھی موجود تھیں۔ وفد نے خیبرپختونخوا میں معذور افراد کے حقوق سے متعلق متعدد اہم تجاویز بھی پیش کیں جن میں معذوروں کے لیے مجوزہ قانون (Disability Bill) کی جلد منظوری، ہسپتالوں، پبلک ٹرانسپورٹ، تعلیمی اداروں اور دیگر عوامی مقامات پر آسان رسائی کے لیے اقدامات، اعلیٰ تعلیم میں فیس معافی اور خصوصی کوٹہ، بصارت سے محروم طلبہ کے لیے بریل ٹول کٹس کی فراہمی، سماجی کاروبار کے فروغ، اور الیکٹرک وہیل چیئرز سمیت خصوصی کارڈ کے اجرا کی تجاویز شامل تھیں۔صوبائی وزیرنے وفد کی تجاویز کو نہایت سنجیدگی سے سنتے ہوئے کہا کہ معذور افراد کو قومی دھارے میں شامل کرنا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے مجوزہ اقدامات پر عملدرآمد کے لیے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی اور کہا کہ محکمہ سوشل ویلفیئر معذور افراد کی فلاح و بہبود کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے گا۔یہ ملاقات معذور افراد کے حقوق کے تحفظ کی جانب ایک مثبت قدم قرار دی جا رہی ہے، جس سے مستقبل قریب میں عملی تبدیلیوں کی امیدہے۔

خیبر پختونخوا اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے زراعت کا اجلاس

خیبر پختونخوا اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے زراعت کا اجلاس کمیٹی کے چیئرمین اور رکن صوبائی اسمبلی عبدالسلام آفریدی کی زیر صدارت صوبائی اسمبلی کے کانفرنس روم پشاور میں منعقدہ ہوا۔اجلاس میں وزیر زراعت میجر ریٹائر سجاد بارکوال، اراکین قائمہ کمیٹی و ممبران اسمبلی،، علی شاہ خان،میاں شرافت، شیر علی آفریدی اوراکرام اللہ، سمیت محکمہ زراعت کے متعلقہ حکام نے شرکت کی۔اس موقع پر کمیٹی کے گزشتہ اجلاس میں کئے گئے فیصلوں پر عمل در آمد کا جائزہ لیا گیا۔اسی طرح زراعت کی ترقی کے لئے مختلف امور پر غورخوض کرنے کے ساتھ زرعی زمینوں کے تحفظ،موسمیاتی تبدیلیوں سے فصلوں پر پڑنے والے اثرات کی روک تھا م آبپاشی کے نظام کی بہتری اور کاشت کاری میں اضافے کے امور سے متعلق اراء و سفارشات پیش کی گئیں۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے زراعت عبدالسلام آفریدی نے کہا کہ زرعی زمین غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائیٹیوں اور برھتی ہوئی آبادیوں کی وجہ سے ختم ہورہی ہے اور یہ باعث تشویش بات ہے اور ضرورت اس امر کی ہے کہ اس کی روک تھام کی جائے۔ انہوں نے بتایا کہ اس حوالے سے صوبے کے اضلاع سے بھی رپورٹیں مانگی گئی ہیں جو کمیٹی کے آئندہ اجلاس میں پیش کی جائیں گی۔ اسی طرح اسٹیبلشمنٹ،لوکل گورنمنٹ اور زراعت کے محکموں سے بھی آئندہ اجلاس میں بریفنگ دینے کی تاکید کی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ زرعی اراضی کے تحفظ کے لئے بہر صورت سخت اقدامات اٹھاتے ہوئے قانون سازی کی جائیگی۔ پہلے سے جو قوانین موجود ہیں لیکن ان پر اگرعمل درآمد نہیں ہو رہا تو ان پر عمل دآمد یقینی بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک زرعی ملک ہے لیکن بد قسمتی سے بہتر پلاننگ نہ ہونے کے باعث یہاں خوراک کم پڑ جاتی ہے۔ چیئرمین کمیٹی ک کا مزید کہنا تھا کہ آئندہ اجلاس میں زرعی اراضی، ایگریکلر ایکٹ اور زراعت کے دیگرمتعلقہ قونین سے متعلق تفصیلی بریفنگ لی جائے گی تاکہ پیش کردہ رپورٹ کی روشنی میں سفارشات پر عمل در آمد کرتے ہوئے زرعی زمین کو بچایا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ زیر زمین پانی کی مقدار کم ہو رہی ہے جو آنے والی نسلوں کے لئے نقصان دہ ہے اس لئے ضروری ہے کہ ٹیوبویلوں کی بجائے سمال ڈیم، چیک ڈیم، اور بارش کے پانی کے تالاب بنانے کی جانب توجہ دی جائے جس کے باعث زیر امین پانی کی سطح بھی برقرار رہے گی۔