Home Blog Page 2

اساتذہ کی پیشہ ورانہ تربیت کے نظام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ بنایا جائے، ڈاکٹر عامر عبداللہ

ممبر ایڈوائزری کونسل برائے تعلیم ڈاکٹر عامر عبداللہ کو بدھ کے روز محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم خیبرپختونخوا کے ذیلی ادارے نظامتِ پیشہ ورانہ ترقی کے امور کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ اس موقع پر انہیں ادارے کی جانب سے سرکاری اساتذہ کی پیشہ ورانہ تربیت اور تدریسی مہارتوں میں بہتری، نئے بھرتی ہونے والے اساتذہ کے لیے تربیتی پروگراموں اور پیشہ ورانہ ترقی کے سلسلے میں ادارے کی دیگر ذمہ داریوں کے حوالے سے تفصیلی آگاہی فراہم کی گئی۔اجلاس میں ایڈیشنل سیکرٹریز ابتدائی و ثانوی تعلیم پیر محمد اور محمد حیات شاہ، ڈائریکٹر پروفیشنل ڈویلپمنٹ عارف علی خان اور ادارے کے دیگر افسران نے شرکت کی۔اس موقع پر ممبر ایڈوائزری کونسل نے نئے بھرتی ہونے والے اساتذہ کے انڈکشن پروگرام کے لیے ادارے کے لرننگ مینجمنٹ سسٹم پورٹل کو مزید مؤثر بنانے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ پورٹل میں اساتذہ سے رابطے، تربیتی سرگرمیوں کی نگرانی اور دیگر ضروری سہولیات شامل کی جائیں۔ اس مقصد کے لیے لوکل گورنمنٹ ٹریننگ اسکول حیات آباد کے ایل ایم ایس کا جائزہ لے کر اس کے تجربات سے استفادہ کیا جائے اور ادارے کے اپنے نظام کو بہتر بنایا جائے۔ نہوں نے اس ضمن میں تین دن کے اندر رپورٹ پیش کرنے اور تین ہفتوں کے اندر اپنے پورٹل کو ازسرِنو بہتر بنانےکی ہدایت کی۔ڈاکٹر عامر عبداللہ نے ہدایت کی کہ ادارے کے پورٹل میں خودکار رپورٹنگ کا نظام بھی متعارف کرایا جائے جس کے تحت تربیت حاصل کرنے والے اساتذہ کی غیر حاضری کی صورت میں ان کے متعلقہ نگران حکام کو بروقت اطلاع فراہم کرنے کی سہولت موجود ہو۔انہوں نے ادارے کے سالانہ تربیتی کیلنڈر کو جدید تقاضوں کے مطابق مؤثر اور فعال بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ اس میں تربیتی پروگراموں کا شیڈول، ٹائم لائن اور دورانیہ واضح طور پر درج ہونا چاہیے تاکہ اساتذہ کو اپنی تربیت کے مقررہ شیڈول سے پیشگی آگاہی حاصل ہو۔ انہوں نے تربیتی کیلنڈر کو ایجوکیشن مانیٹرنگ انفارمیشن سسٹم سے منسلک کرنے اور متعلقہ معیاری عملی ضابط? کارکا حصہ بنانے کی بھی ہدایت کی۔ممبر ایڈوائزری کونسل نے اساتذہ کے تربیتی پروگراموں کے معیار کو بہتر بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پیشہ ورانہ تربیت کے حوالے سے ادارے کی کارکردگی میں بہتری لائی جائے اور تربیتی پروگراموں کے معیار کو اس انداز میں یقینی بنایا جائے کہ کسی قسم کی شکایت کی گنجائش نہ رہے۔ انہوں نے اس مقصد کے لیے نجی شعبے سے تکنیکی معاونت حاصل کرنے کی غرض سے مفاہمت کے عمل کو خوش آئند قرار دیا۔انہوں نے اساتذہ کی پیشہ ورانہ ترقی کے مخصوص اشاریوں کو ان کی ملازمتی ترقی کے ساتھ منسلک کرنے کی تجویز بھی پیش کی اور اس سلسلے میں ایڈیشنل سیکرٹری ابتدائی و ثانوی تعلیم کو ایک تصوراتی نوٹ تیار کرکے فراہم کرنے کی ہدایت کی۔ڈاکٹر عامر عبداللہ نے اساتذہ کی بھرتی کے عمل میں موزوں اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے حامل امیدواروں کو ترجیح دینے کے حوالے سے پالیسی میں ضروری ساختی تبدیلی یا پیشہ ورانہ تربیت اور متعلقہ کورسز میں حاصل کردہ نمبروں کو بھرتی کے عمل میں ترجیح دینے کے امکان پر بھی غور کرنے کی ہدایت کی۔ اس ضمن میں سیکرٹری ابتدائی و ثانوی تعلیم کی مشاورت سے ایک ہفتے کے اندر تجاویز مرتب کرکے پیش کرنے کی ہدایت کی گئی۔ممبر ایڈوائزری کونسل نے اساتذہ کی پیشہ ورانہ تربیت کے اداروں میں ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے انکلوسیو سکول منصوبے کی طرز پر ریسورس رومز قائم کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے اس مقصد کے لیے درکار تمام ضروری سہولیات اور لوازمات پر مشتمل تصوراتی دستاویز پندرہ دن کے اندر تیار کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو نوشہرہ میں فاؤنڈیشن کے انکلوسیو اسکول کا تجرباتی دورہ کرنے کی بھی ہدایت کی تاکہ وہاں رائج طریق? کار اور دستیاب سہولیات کا جائزہ لے کر ان سے استفادہ کیا جا سکے۔بعد ازاں ممبر ایڈوائزری کونسل برائے تعلیم نے محکمہ اعلی تعلیم کے تحت پر تشدد انتہا پسندی کے روک تھام کیلئے قائم ادارے کی ذمہ داریوں، کارکردگی اور خدمات کے حوالے سے تعارفی اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس میں سیکریٹری اعلی تعلیم عابداللہ کاکا خیل، ممتاز ماہر ڈاکٹر حسن الامین اور ادارے کے افسران نے شرکت کی۔ انھوں نے مرکز کو تشدد پسندانہ خیالات کے حامل دستیاب افرادی اعداد وشمار کے انڈکس مرتب کرنے کی ہدایت کی۔ ڈاکٹر عامر عبداللہ نے کہا کہ مرکز کے وقتی سرانجام دینے والے خدمات جامعات کی سطح پر بھی موجود ہیں لہذا اس مرکز کو ان جامعات کیلئے ایک ماڈل بنا دینے کی ضرورت ہے تاکہ وہ ان پر عمل پیرا ہوں۔ انھوں نے کہا کہ مرکز اردو اور پاکستان سٹڈیز کے تعلیمی نصاب میں بھی تعاون فراہم کرے۔ ممبر ایڈوائزری کونسل نے انسداد پر تشدد انتہا پسندی مرکز کے حکام کو تحقیقی سرگرمیوں کے فروغ پر بھی زور دیا۔

پانی کا اک خاموش قطرہ… اور ڈینگی کی دستک

یہ چھوٹی سی لاپروائی کسی بڑی بیماری کا سبب بن سکتی ہے۔ یاد رکھیں، ڈینگی سے بچاؤ کا سب سے بہترین طریقہ افزائش کی روک تھام ہی اصل دفاع ہے

آج ہی درج ذیل باتوں پر عمل یقینی بنائیں

چھتوں، گملوں، ٹائروں، کولروں اور بوتلوں میں پانی جمع نہ ہونے دیں۔
پانی کی ٹینکیوں اور برتنوں کو ہمیشہ ڈھانپ کر رکھیں۔

آئیے! آج ہی سے شروعات کریں۔

صاف ماحول… محفوظ زندگی

#DGIPR #KPGovernment #DengueAwareness #StopDengue #PublicHealth #CleanKP #SafaeiNisfEman #KhyberPakhtunkhwa

نیشنل ایکشن پلان پر اس کی اصل روح کے مطابق عمل درآمد ناگزیر ہے، ثمر ہارون بلور

ممبر ایڈ وائزری کونسل برائے اطلاعات و تعلقات عامہ ثمر ہارون بلور، اور ممبر ایڈوائزری کونسل برائےصحت لفٹیننٹ (ر) نگار جوہر اور ممبر ایڈوازری کونسل برائے انڈسٹری اینڈ کامرس ڈاکٹر محمد ارشاد کی شہید بچوں کے گھر آمد، لواحقین سے تعزیت اور دلی ہمدردی کا اظہار۔اس موقع پر شہید بچوں کے لیے دعائے مغفرت اور سوگوار خاندانوں کے لیے صبر و استقامت کی دعا کی گئی۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ثمر ہارون بلور نے کہا کہ حکومت اس مشکل گھڑی میں متاثرہ خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہے اور انہیں ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ بچے صرف اپنے والدین کے نہیں بلکہ ہم سب کے بچے تھے۔ ان معصوم جانوں کا ضیاع پوری قوم کا نقصان ہے اور ان کا خون رائیگاں نہیں جانے دیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ سانحے کی مکمل تحقیقات کی جائیں گی اور جہاں بھی غفلت یا لاپروائی ثابت ہوئی، ذمہ دار افراد اور متعلقہ اداروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔ اگر کسی سطح پر سیاسی دباؤ کے باعث فرائض کی انجام دہی میں کوتاہی ہوئی ہے تو اس پہلو کی بھی تحقیقات کی جائیں گی اور ذمہ داروں کا تعین کیا جائے گا۔
ثمر ہارون بلور نے کہا کہ بدقسمتی سے گزشتہ حکومت نے نیشنل ایکشن پلان کو پسِ پشت ڈال دیا، حالانکہ اس میں مدارس کی رجسٹریشن کے حوالے سے ایک اہم شق شامل تھی۔ کسی بھی تعلیمی ادارے کی رجسٹریشن کے عمل میں عمارت کا معائنہ، ضروری دستاویزات اور حفاظتی انتظامات کی جانچ پڑتال بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ افسوس کہ ان ضابطہ جاتی تقاضوں پر مؤثر انداز میں عمل درآمد نہیں کیا گیا۔ انہوں نے زور دیا کہ نیشنل ایکشن پلان پر اس کی اصل روح کے مطابق عمل درآمد ناگزیر ہے تاکہ مستقبل میں ایسے افسوسناک سانحات کی روک تھام ممکن بنائی جا سکے۔انہوں نے مزید کہا کہ اسکولوں اور مدارس سمیت تمام تعلیمی اداروں کی عمارتوں کی حفاظت یقینی بنانا متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے۔ عمارتوں کی حالت، رجسٹریشن، لائسنس اور دیگر ضروری دستاویزات کی جانچ پڑتال میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جا سکتی۔ جہاں بھی کوتاہی ثابت ہوئی، ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔گورنر ہاؤس میں سانحے کے حوالے سے منعقدہ اجلاس کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ گورنر صاحب نے متعلقہ حکام کو سخت ہدایات جاری کی ہیں اور تعلیمی اداروں کے معائنے کے لیے ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔ یہ ٹیمیں مختلف علاقوں میں تعلیمی اداروں کی عمارتوں، حفاظتی انتظامات اور ضروری دستاویزات کا جائزہ لیں گی۔ غیر محفوظ عمارتوں یا مطلوبہ قانونی تقاضے پورے نہ کرنے والے اداروں کے خلاف ضابطے کے مطابق کارروائی کی جائے گی، جبکہ ضروری حفاظتی اقدامات اور تحقیقات مکمل ہونے تک ایسے اداروں کو دوبارہ کھولنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔مشیرِ اطلاعات نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اپنے علاقوں اور محلوں میں موجود خستہ حال اور غیر محفوظ اسکولوں، مدارس اور دیگر تعلیمی اداروں کی نشاندہی کرکے متعلقہ حکام کو فوری طور پر مطلع کریں تاکہ بروقت اقدامات کے ذریعے قیمتی انسانی جانوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔علاقے میں بنیادی شہری سہولیات کی صورتِ حال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ٹوٹی ہوئی سڑکیں، کھلے مین ہولز اور گٹر شہریوں کی زندگیوں کے لیے خطرہ ہیں۔ ہر شہری کو محفوظ ماحول اور بنیادی سہولیات کی فراہمی اس کا حق ہے۔ عوامی مسائل کو متعلقہ فورمز پر اٹھایا جائے گا اور شہریوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے مؤثر آواز بلند کی جائے گی۔انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ متاثرہ خاندانوں کو تنہا نہیں چھوڑا جائے گا، حکومت ہر ممکن تعاون جاری رکھے گی اور سانحے کے ذمہ داروں کا تعین کرکے انہیں قانون کے کٹہرے میں لانے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔اللہ تعالیٰ شہید بچوں کی مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند کرے اور سوگوار خاندانوں کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین۔

ثمر ہارون بلور، ممبر ایڈوائزری کونسل برائے اطلاعات و تعلقاتِ عامہ خیبرپختونخوا، صوبے میں سکولوں کی خستہ حال عمارتوں کی نشاندہی اور معائنے کے لیے عوامی تعاون کی اپیل کے حوالے سے ویڈیو پیغام

ثمر ہارون بلور، ممبر ایڈوائزری کونسل برائے اطلاعات و تعلقاتِ عامہ خیبرپختونخوا، صوبے میں سکولوں کی خستہ حال عمارتوں کی نشاندہی اور معائنے کے لیے عوامی تعاون کی اپیل کے حوالے سے ویڈیو پیغام جاری کر رہی ہیں۔

KP Law Department Activates Grievance Redressal Cell to Ensure Timely Resolution of Complaints

A Grievance Redressal Cell has been made operational in the Khyber Pakhtunkhwa Law Department on the special directives of Member Advisory Council on Law and Parliamentary Affairs Amir Javed.

Law Secretary Shahid Sohail directed the relevant officials to ensure the prompt, impartial and transparent resolution of complaints through proper inquiries. The initiative aims to enhance transparency, improve public service delivery and facilitate the timely resolution of public grievances.

It was stated that negligence and delays in the delivery of public services would not be tolerated, while the performance of the grievance cell would be reviewed regularly to ensure timely relief and justice for the public and concerned stakeholders.

دیر کالونی سکول حادثہ، صوبے بھر کے تعلیمی اداروں میں حفاظتی انتظامات کا ازسرِنو جائزہ لینے اور عمارتوں کا سروے کرانے کا حکم

ممبر ایڈوائزری کونسل برائے تعلیم ڈاکٹر سید عامر عبداللہ نے دیر کالونی میں سکول کی چھت گرنے کے افسوسناک واقعے کے تناظر میں سیکریٹری ابتدائی و ثانوی تعلیم عنایت اللہ وسیم کو ہدایت کی ہے کہ صوبے بھر کے تعلیمی اداروں میں حفاظتی قواعد و ضوابط کا ازسرِنو جائزہ لیا جائے اور ان پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے جامع طریقہ کار وضع کیا جائے۔انہوں نے تعلیمی اداروں کی عمارتوں کا سروے کرا کر اسکی رپورٹ چار دن کے اندر فراہم کرنےکا حکم دیا تاکہ عمارتوں کی موجودہ حالت اور حفاظتی انتظامات کا جائزہ لے کر ممکنہ خطرات کی نشاندہی کی جا سکے اور طلبہ کی جان و سلامتی کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں۔ڈاکٹر سید عامر عبداللہ نے دیر کالونی سکول حادثے میں بچوں کی شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تعلیمی اداروں میں طلبہ کی حفاظت اولین ترجیح ہونی چاہیے اور اس مقصد کے لیے تمام ضروری حفاظتی اقدامات یقینی بنانا ناگزیر ہے۔ممبر ایڈوائزری کونسل برائے تعلیم ڈاکٹر سید عامر عبداللہ نے حادثے میں شہید ہونے والے بچوں کی اجتماعی نمازِ جنازہ میں شرکت کی اور سوگوار خاندانوں سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا۔ انہوں نے شہید بچوں کے لیے دعائے مغفرت اور لواحقین کے لیے صبرِ جمیل کی دعا کی

اقلیتی برادری کی فلاح و بہبود کے منصوبوں پر ترجیحی بنیادوں پر کام کیا جائے، مولانا طیب قریشی

مولانا طیب قریشی ممبر ایڈوائزری کونسل برائے اوقاف ، حج ، مذہبی و اقلیتی امور کی زیر صدارت محکمہ حج، اوقاف، مذہبی و اقلیتی امور مولانا طیب قریشی کا تعارفی اجلاس منعقد ہوا، جس میں سیکرٹری محمد ادریس، ایڈیشنل سیکرٹری حبیب خان آفریدی، ایڈمنسٹریٹر اوقاف سمیت محکمے کے دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں محکمہ کی ادارہ جاتی ساخت، مروجہ قوانین اور مختلف محکمانہ امور کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اس موقع پر اقلیتی برادری کی فلاح و بہبود کے لیے جاری اقدامات اور مستقبل کے منصوبوں پر بھی تفصیلی غور کیا گیا۔ مولانا طیب قریشی نے ہدایت کی کہ اقلیتی برادری کی فلاح و بہبود کے منصوبوں پر ترجیحی بنیادوں پر کام کیا جائے اور ان کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے مؤثر اقدامات اٹھائے جائیں۔ انہوں نے اقلیتی برادری کے کسی فرد کے انتقال کی صورت میں مالی امداد فراہم کرنے اور اقلیتوں کو خدمات فراہم کرنے والے اداروں میں ہیلپ ڈیسک قائم کرنے کی بھی ہدایت کی، تاکہ انہیں درپیش مسائل کے حل اور ضروری سہولیات کی فراہمی میں آسانی ہو۔انہوں نے مزید ہدایت کی کہ مساجد اور اقلیتی برادری کی عبادت گاہوں کو شمسی توانائی پر منتقل کرنے کے لیے
اقدامات کیے جائیں، تاکہ توانائی کے اخراجات میں کمی لائی جا سکے اور عبادت گاہوں کو بجلی کی فراہمی میں سہولت حاصل ہو۔اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ اقلیتی برادری کی فلاح و بہبود کے لیے مختلف منصوبوں پر کام جاری ہے، جن میں اقلیتی نوجوانوں کی استعداد کار بڑھانے کے منصوبے، تعلیمی وظائف، مقابلے کے امتحانات کی تیاری کے لیے تربیتی پروگرام اور دو انڈومنٹ فنڈز شامل ہیں۔ مزید بتایا گیا کہ اقلیتی برادری کو ان کی عبادت گاہوں کے لیے ضروری اشیائ فراہم کی گئی ہیں، جبکہ اقلیتی برادری کے مذہبی رہنماؤں کو ماہانہ دس ہزار روپے اعزازیہ دینے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ممبر ایڈوائزری کونسل مولانا طیب قریشی نے دینی مدارس کے طلبائ و طالبات کو لیپ ٹاپ فراہم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ دینی مدارس کے طلبائ و طالبات کو جدید تعلیمی سہولیات کی فراہمی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ دینی مدارس کے طلبائ کو جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ کرکے ان کے لیے اعلیٰ تعلیم اور تحقیق کے نئے مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں.اجلاس میں محکمہ اوقاف کی پراپرٹیز سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی گئی، جس میں اوقاف کی جائیدادوں کی مجموعی صورتحال، ریکارڈ، موجودہ استعمال، آمدن اور انتظامی امور سے آگاہ کیا گیا۔ اس موقع پر اوقاف کی جائیدادوں کے مؤثر انتظام، شفافیت کو یقینی بنانے، غیر قانونی قبضوں کے خاتمے اور آمدن میں اضافے کے لیے ضروری اقدامات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ مولانا طیب قریشی نے ہدایت کی کہ اوقاف کی املاک کا تحفظ یقینی بنایا جائے اور ان سے حاصل ہونے والی آمدن کو عوامی فلاح و بہبود اور متعلقہ دینی و فلاحی مقاصد کے لیے مؤثر انداز میں استعمال کیا جائے۔

عامر جاوید ممبر ایڈوائزری کونسل برائے قانون و پارلیمانی امورنے کہا ہے کہ جب تک معاشرے میں انسانی ہمدردی، رواداری اور احساس کا جوہر موجود نہیں ہوگا، تب تک ایک متوازن اور فلاحی معاشرہ قائم نہیں ہو سکتا

عامر جاوید ممبر ایڈوائزری کونسل برائے قانون و پارلیمانی امورنے کہا ہے کہ جب تک معاشرے میں انسانی ہمدردی، رواداری اور احساس کا جوہر موجود نہیں ہوگا، تب تک ایک متوازن اور فلاحی معاشرہ قائم نہیں ہو سکتا؛ اس مقصد کے حصول کے لیے نظامتِ عامہ قانون و انسانی حقوق کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سرکاری نظام کو چلانے والے تمام عمال و افسران کی بہترین کاوشوں کی بھرپور پذیرائی کی جائے گی، جبکہ فرائض میں معیار پر پورا نہ اترنے والے عملے کا محاسبہ اور سرزنش کی جائے گی۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ عوام الناس کو خدمات کی بلا تاخیر فراہمی ہی کسی بھی حکومت کی اصل روح ہے اور اس معاملے میں کسی قسم کی غفلت یا لاپرواہی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے پشاور میں نظامتِ عامہ قانون و انسانی حقوق کے تعارفی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں سیکرٹری محکمہ قانون اور ڈائریکٹر جنرل قانون و انسانی حقوق سمیت دیگر متعلقہ اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ یہ ادارہ صوبے میں قانون اور انسانی حقوق کی پاسداری کا اہم ترین ادارہ ہے، جو حکومت کے تمام قانونی مقدمات کی نگرانی کے علاوہ بین الاقوامی معاہدوں اور عالمی تجارتی رعایتوں (جی ایس پی پلس) سے متعلق رپورٹنگ کا ذمہ دار ہے۔ ادارے کے دو اہم شعبے ہیں؛ شعبہ انسانی حقوق (ہیومن رائٹس ونگ) بنیادی حقوق کی ترویج، تحفظ اور نفاذ کو یقینی بناتا ہے، جبکہ شعبہ وکالت (اٹارنی ونگ) عدالتوں میں حکومت کے سول (دیوانی) مقدمات کا دفاع کرتا ہے۔اجلاس میں مشیرِ قانون عامر جاوید نے دیوانی مقدمات میں ضلع وکلائ (ڈسٹرکٹ اٹارنیز) کے کردار کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے ہدایت کی کہ ان کی پیشہ ورانہ کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے ششماہی یا سالانہ رپورٹ باقاعدگی سے پیش کی جائے۔

پراونشل سیڈ کونسل کے 48ویں اجلاس میں ایف ایس سی اینڈ آر ڈی سے منظور شدہ پنجاب کی گندم کی 9 نئی اقسام کی خیبر پختونخوا میں ربیع سیزن 2026-27کے لئے باقاعدہ کاشت کرنے کی منظور ی دے دی گئی۔

سیکرٹری زراعت خیبرپختونخوا عامر آفاق کی زیر صدارت صوبائی سیڈ کونسل کا 48واں اجلاس منعقد ہوا، جس میں صوبے میں معیاری بیجوں کی فراہمی، گندم کی نئی اقسام کی منظوری اور زرعی تحقیق کے فروغ سے متعلق اہم امور پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اجلاس میں پنجاب کی ایف ایس سی اینڈ آر ڈی سے منظور شدہ گندم کی 9 اقسام پیش کی گئیں جن میں ساویرا 2024، عروج 2022، فخرِ بھکر، بھکر اسٹار، نواب 21، فلک 2024، نشان، چیمپئن اور وفاق 2022 شامل ہیں اجلاس میں پیش کردہ گندم کی اقسام کی خیبر پختونخوا میں کاشت کی باقاعدہ منظوری دے دی گئی۔اجلاس میں ڈائریکٹر جنرل زراعت تحقیق ڈاکٹر عبدالروف، ڈائریکٹر جنرل زراعت توسیع مراد اور ایڈیشنل ڈائر یکٹر ایف ایس سی اینڈ آر ڈی صوبائی سیڈ کونسل کے دیگر ممبران نے شرکت کی۔اجلاس میں ذیلی ٹیکنیکل کمیٹی کی جانب سی تجویز کردہ پنجاب کی 9 نئی اقسام زیر بحث آئیں جن کی بہترپیداواری صلاحیت اور بیماریوں کے خلاف مزاحمت کی خصوصیات کی حامل ہونے کی بنیاد پر منظوری دی گئی۔سیکرٹری زراعت عامر آفاق نے کہا کہ زرعی پیداوار میں اضافے اور غذائی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے معیاری بیجوں کی فراہمی بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ صوبائی حکومت زرعی تحقیق کے اداروں کی استعداد کار بڑھانے، نئی اقسام کی تیاری اور جدید زرعی تحقیق کے فروغ کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔انہوں نے محکمہ زراعت توسیع کو ہدایت کی کہ منظور شدہ بیجوں کی زمینداروںکو بروقت فرہمی کو یقینی بنانے کے لئے بھر پور اقدامات کئے جائیں۔

پشاور دیر کالونی سکول حادثہ، مشیر اطلاعات ثمر ہارون بلور کا جائے حادثہ کا دورہ؛ ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان

ثمر ہارون بلور، ممبر ایڈوائزری کونسل برائے اطلاعات و تعلقاتِ عامہ خیبرپختونخوا نے جمعرات کے روز دیر کالونی میں حادثے کا شکار ہونے والے سکول کا دو رہ کیا اور افسوسناک واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔ اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ثمر ہارون بلور نے کہا کہ یہ انتہائی افسوسناک سانحہ ہے، جس نے ہر دل کو غمگین کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ متاثرہ خاندانوں کا غم ہمارا اپنا غم ہے اور ہم ان کے دکھ درد میں برابر کے شریک ہیں۔ثمر ہارون بلور نے کہا کہ عمارت کی حالت سے بظاہر انتظامی غفلت کا پہلو سامنے آتا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ عمارت کا باقاعدہ معائنہ اور نگرانی کیوں نہیں کی گئی؟ ان کا کہنا تھا کہ تین منزلہ عمارت کو ناقص تعمیر کے باوجود استعمال میں لانا بھی غفلت ہے جس کی وجہ سے ہمارے بچے اتنے بڑے سانحے کا شکار ہوئے۔ثمر ہارون بلور نے واضح کیا کہ سانحے کے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ عمارت کے مالک کو گرفتار کر لیا گیا ہے، جبکہ سیکرٹری تعلیم نے واقعے کی بڑے پیمانے پر انکوائری کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔انہوں نے کہا کہ انسانی جانوں کا کوئی نعم البدل نہیں، تاہم متاثرہ خاندانوں کو معاوضہ دیا جائے گا۔نیشنل ایکشن پلان کا حوالہ دیتے ہوئے ثمر ہارون بلور نے کہا کہ اس میں مدارس کی رجسٹریشن اور ضابطہ بندی بھی شامل تھی، مگر افسوس کہ اس پر صوبے میں مؤثر عمل درآمد نہیں ہوا۔ انہوں نے زور دیا کہ متعلقہ ادارے اپنی ذمہ داریاں پوری کریں اور مستقبل میں ایسے افسوسناک واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔زخمی بچوں کی عیادت اور ان کے علاج معالجے کا جائزہ لینے کے لیے ممبر ایڈوائزری کونسل ثمر ہارون بلور نے لیڈی ریڈنگ ہسپتال کا بھی دورہ کیا، جہاں انہوں نے زیرِ علاج بچوں کی خیریت دریافت کی اور ان کے لیے دعائے صحت کی۔ اس موقع پر انہوں نے متاثرہ خاندانوں سے ملاقات کی، ان کے غم میں شریک ہوئیں اور انہیں یقین دلایا کہ اس مشکل گھڑی میں حکومت ان کے ساتھ کھڑی ہے۔ انہوں نے ہسپتال انتظامیہ کو ہدایت کی کہ زخمی بچوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں اور ان کے علاج و دیکھ بھال میں کسی قسم کی کوتاہی نہ برتی جائے۔