ڈائریکٹر جنرل خیبرپختونخوا فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھارٹی کاشف اقبال جیلانی نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے رمضان المبارک سے متعلق ہدایت نامے کے تحت خیبرپختونخوا فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھارٹی نے رمضان المبارک سے قبل اور دورانِ رمضان غیر معیاری، مضرِ صحت اور ملاوٹ شدہ خوراک کے خلاف خصوصی مہمات کے لیے جامع لائحہ عمل ترتیب دے دیا ہے۔ اس سلسلے میں تمام فیلڈ انسپکشن ٹیمیں اپنی کارکردگی میں مزید بہتری لائیں اور شہریوں کو ہر صورت محفوظ اور معیاری خوراک کی فراہمی یقینی بنائیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ قوانین کے تحت سزا و جزا کے نظام پر بلاامتیاز عملدرآمد کیا جائے گا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے فیلڈ ٹیموں کے ساتھ منعقدہ آن لائن اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں ڈائریکٹر ایڈمنسٹریشن عبدالرحمٰن، ڈائریکٹر آپریشنز محمد یوسف،، ڈائریکٹر ٹیکنیکل ڈاکٹر عبد الستار شاہ، ڈائریکٹر فنانس ظاہر محمود سمیت دیگر افسران نے شرکت کی۔ اس موقع پر جنوری کی کارکردگی اور رمضان المبارک کی خصوصی مہمات کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ڈی جی فوڈ اتھارٹی نے کہا کہ لائحہ عمل کے تحت دودھ، گوشت، بیکری آئٹمز، مشروبات، مصالحہ جات، ائل اینڈ گھی اور رمضان المبارک میں زیادہ استعمال ہونے والی دیگر خوردونوش اشیاء کی خصوصی انسپکشن کی جائے گی تاکہ بازاروں میں عوام کو محفوظ خوراک کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔کاشف اقبال نے کا مزید کہنا تھا کہ کل سے ملاوٹی اور غیر معیاری دودھ کیخلاف تین روزہ خصوصی مہم کا آغاز کردیا گیا جس کے تحت صوبے کے تمام بڑے شہرروں کو داخلی راستوں پر دودھ کی باقاعدہ چیکنگ جاری ہے۔انہوں نے فیلڈ ٹیموں کو ہدایت کی کہ مارکیٹوں سے غیر معیاری اور ملاوٹ مافیا کے مکمل خاتمے کے لیے مؤثر کارروائیاں عمل میں لائی جائیں، جبکہ غفلت یا لاپرواہی برتنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔کاشف اقبال جیلانی نے کہا کہ خوراک میں ملاوٹ ایک سنگین جرم ہے اور اس کا خاتمہ عبادت کے مترادف ہے اور یہ ہماری مذہبی اور اخلاقی ذمہ داری بھی ہے۔ انہوں نے مزید خبردار کیا کہ اگر کوئی اہلکار بدعنوانی میں ملوث پایا گیا تو جرم ثابت ہونے پر اسے نشانِ عبرت بنایا جائے گا۔ڈی جی فوڈ اتھارٹی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ تمام افسران اور اہلکار میرٹ پر کام کریں اور کسی بھی قسم کے سیاسی یا افسران بالا کی دباؤ کو خاطر میں نہ لائیں۔
خیبر پختونخوا میں نئی داخلہ مہم کا آغاز کرد یا گیا ہے۔ وزیر تعلیم
صوبے میں نئی داخلہ مہم شروع کی جا رہی ہے جس کے تحت26 لاکھ بچوں کو سکولوں میں داخل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے اور یقین ہے کہ پہلی دفعہ ایک منظم طریقہ کار کے تحت اس داخلہ مہم سے سو فیصد نتائج حاصل کئے جائیں گے جس کا باقاعدہ طور پر ڈیٹا ریکارڈ موجود ہوگا اور روزانہ کی بنیاد پر اس کی جانچ پڑتال بھی کی جائے گی۔ ان خیالات کا اظہارخیبر پختونخوا کے وزیر برائے ابتدائی و ثانوی تعلیم ارشد ایوب خان نے منگل کے روز پشاور میں گرین انرولمنٹ کیمپیئن 2026 کے حوالے سے منعقدہ جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں سیکرٹری ابتدائی و ثانوی تعلیم محمد خالد، سپیشل سیکرٹری مسعود احمد، ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن فاؤنڈیش کے منیجنگ ڈائر یکٹر قیصر عالم، چیف پلاننگ آفیسرزین اللہ،ڈائریکٹر ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن نعمانہ سردار جبکہ آن لائین صوبے کے تمام ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفسران نے شرکت کی۔صوبائی وزیر تعلیم نے کہا کہ صوبے کے بچوں کو تعلیم سے آراستہ کرنے اور جنگلات کے فروغ کے لئے گرین انرولمنٹ کمپیئن 2026 شروع کی جا رہی ہے اور متعلقہ افسران اس مہم کی کامیابی کے لئے تمام تر توانائیاں صرف کریں انہوں نے گرین انرولمنٹ کمپیئن 2026 کے تمام سٹیک ہولڈرز سے کہا ہے کہ وہ صوبے میں نئی گرین انرولمنٹ کمپئین کے نام سے شروع کردہ داخلہ مہم کو منظم طریقے سے چلاتے ہوئے مطلوبہ اہداف کو کامیابی سے حاصل کر یں اور اس کے لئے حکومت کی جاری کردہ تمام ہدایات پر عمل در آمد کو یقینی بنایا جائے جبکہ داخلہ مہم میں بچیوں پر خاص توجہ مرکوز کر تے ہوئے زیادہ سے زیادہ داخلہ مہم میں طالبات کو شامل کریں۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کے بچوں کو تعلیم فراہم کرنا محکمہ کی اولین ذمہ داری بنتی ہے اس لئے ڈائریکٹوریٹ سمیت تمام اضلاع کے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسرز میڈیا،سوشل میڈیا،مدارس اور کھلی کچہریوں کے انعقاد کے ذریعے داخلہ مہم کو کامیاب بنا ئیں۔ صوبائی وزیر نے نئی داخلہ مہم کو کامیاب بنانے کے لئے اپنے مقامی ممبران صوبائی اسمبلی سے بھی تعاون حاصل کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ خصوصی طورپر صوبے کے بچوں کو نئی داخلہ مہم میں عمر کی رعایت دی جائیگی جبکہ داخلہ حاصل کرنے والے طلبہ کا ڈیجیٹائز ڈیٹا جمع کیا جائے گا۔ اس موقع پر نئی داخلہ مہم 2026کوگرین انرولمنٹ کمپئین کا نام دیا گیا جس کے تحت داخلہ مہم کے ساتھ ساتھ صوبے میں جنگلات کے فروغ کے لئے پودے بھی لگائے جائیں گے۔اجلاس میں داخلہ مہم کو کامیاب بنانے کے لئے مختلف آراء ا ور تجاویز بھی پیش کی گئیں۔صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ پرائیویٹ سکول ریگولیٹری اتھارٹی نجی سکولوں کی رجسٹریشن کے طریقہ کار کو مزید آسان بنائے اور ان اداروں کو زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت آئندہ کی داخلہ مہم کا پانچ سالہ پلان تیار کرے گی۔
صوبائی حکومت آزاد صحافت پر پختہ یقین رکھتی ہے، شفیع جان
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و تعلقات عامہ شفیع جان نے پیر کے روز کوہاٹ پریس کلب کا دورہ کیا جہاں انہوں نے پریس کلب کے نو منتخب صدر اور کابینہ اراکین اور دیگر صحافیوں سے ملاقات کی اور انھیں کامیابی پر مبارکباد دی،اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے معاون خصوصی شفیع جان نے کہا کہ صحافت ایک مقدس پیشہ اور ریاست کا چوتھا ستون ہے جبکہ صوبائی حکومت آزاد صحافت پر پختہ یقین رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آزاد اور ذمہ دار صحافت ہی جمہوریت کے استحکام کی ضمانت ہے،معاون خصوصی نے واضح کیا کہ صوبائی حکومت اپنی کارکردگی پر صحافیوں کی مثبت اور تعمیری تنقید کا خیرمقدم کرتی ہے اور صحافی برادری اگر عوامی فلاحی منصوبوں میں کسی بھی قسم کی خامیوں کی نشاندہی کرے گی تو حکومت اس پر فوری ایکشن لے گی،شفیع جان نے کہا کہ عوامی مسائل کو اجاگر کرنے میں صحافی برادری کا کردار نہایت کلیدی ہے جبکہ صوبائی حکومت کی جانب سے صحافیوں کی فلاح و بہبود اور انہیں پیشہ ورانہ سہولیات کی فراہمی کے لیے سنجیدہ اور عملی اقدامات جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت صحافیوں کو درپیش مسائل سے بخوبی آگاہ ہے اور ان کے حل کے لیے مؤثر حکمت عملی کے تحت اقدامات کیے جائیں گے،انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ صوبائی حکومت اور میڈیا کے درمیان باہمی اعتماد اور تعاون کو مزید مضبوط بنایا جائے گا،اس موقع پر صدر کوہاٹ پریس کلب نے معاون خصوصی کو پریس کلب کو درپیش مسائل سے آگاہ کیا، جس پر معاون خصوصی شفیع جان نے تمام مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی یقین دہانی کرائی, دریں اثناء معاون خصوصی شفیع جان نے کہا کہ صوبائی حکومت وادی تیراہ کے متاثرین کے لئے مختص ریلیف فنڈز میں شفافیت کو یقینی بنارہی ہے، متاثرہ خاندانوں کی ٹرانسپورٹ اور دوران سفر خوراک پر اب تک 92 کروڑ روپے خرچ کئے گئے،تمام اخراجات کا مکمل آڈٹ ایبل ریکارڈ مرتب کر لیا گیا ہے جس میں ضلعی انتظامیہ اور مقامی مشران کی تصدیق اور وصول کنندہ کے دستخط بمعہ شناختی کارڈ شامل ہیں، شفیع جان نے مزید کہا کہ صوبائی حکومت نے متاثرین کو امدادی معاوضہ پیکیج اور ماہانہ معاونت کی مد میں 2 ارب 40 کروڑ روپے مختص کئے ہیں،متاثرہ خاندانوں کو نادرا رجسٹریشن اور تصدیق کے بعد ڈیجیٹل ادائیگی کی جائے گی،امدادی رقوم براہ راست متاثرین کے اکاؤنٹس میں منتقل ہوں گی،انھوں نے کہا کہ عوامی وسائل اور فنڈز کے تحفظ کیلئے سخت مانیٹرنگ کا نظام نافذ ہے جس سے ریلیف فنڈ کی منصفانہ تقسیم اور فنڈ کا شفاف استعمال یقینی بنایا جارہا ہے۔
خیبرپختونخوا ٹورازم اتھارٹی کے زیراہتمام 14ویں واٹر کراس جیپ ریس کا انعقاد
پہلی کیٹیگری میں پہلی پوزیشن بریال، دوسری بصیر اور تیسری عمران نے حاصل کی، دوسری کیٹیگری میں پہلی پوزیشن ابی، دوسری رضا اور تیسری رضا ایس ایس نے حاصل کی، خواتین میں مرجان یوسفزئی نے پہلی پوزیشن لی۔ہنڈ صوابی میں پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت جلد تھیم پارک اور صوابی ڈیم میں پکنک سپارٹ سمیت آرام گاہیں اور دیگر سہولیات فراہم کرنے جا رہے ہیں، ڈی جی ٹورازم اتھارٹی محمد عثمان محسود کی گفتگو
خیبرپختونخوا کلچر اینڈ ٹورازم اتھارٹی اور فرنٹیئر 4×4 کلب کے باہمی اشتراک سے دریائے سندھ ہنڈ صوابی کے مقام پر 14 ویں انڈس واٹر کراس جیپ ریس منعقد ہوئی۔ جس میں مختلف ڈرائیورز نے اپنے بہترین کا مظاہرہ پیش کیا۔ اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل خیبرپختونخوا کلچر اینڈ ٹورازم اتھارٹی محمد عثمان محسود مہمان خصوصی تھے۔ ان کے ہمراہ ڈائریکٹر ایڈمن خیبرپختونخوا ٹورازم اتھارٹی شہریار محمود، ڈائریکٹر ٹورازم محمد علی سید، اسسٹنٹ کمشنر چھوٹا لاہور صدام باجوہ اور دیگر اہم شخصیات موجود تھیں۔ انڈس واٹر کراس ریس کے مقابلے تین مختلف کیٹیگریز پر مشتمل تھے جس میں پہلی کیٹیگری زیرو ٹو 6 ہزار سی سی میں پہلی پوزیشن بریال خان، دوسری پوزیشن بصیر خان اور تیسری پوزیشن عمران نے حاصل کی۔ دوسری کیٹیگری زیرو ٹو تین ہزار سی سی گاڑیوں کی تھی۔ جس میں پہلی پوزیشن ابی، دوسری پوزیشن رضا جان اور تیسری پوزیشن رضا ایس ایس نے حاصل کی۔ تیسری کیٹیگری خواتین ڈرائیورز کی تھی جس میں مرجان یوسفزئی نے حاصل کی۔ تقریب میں ڈائریکٹر جنرل خیبرپختونخوا کلچر اینڈ ٹورازم اتھارٹی محمد عثمان محسود نے تمام فاتح ڈرائیورز میں انعامات تقسیم کئے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل خیبرپختونخوا کلچر اینڈ ٹورازم اتھارٹی محمد عثمان محسود نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت کی سیاحت کے فروغ میں مکمل کوشش ہے کہ زیادہ سے زیادہ سیاحت کے متعلق منصوبوں پر کام کررہی ہے۔ صوابی میں ہنڈ پارک ہم جلد پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت بنانے جا رہے ہیں اور صوابی میں موجود ڈیم پر پکنک ایریا بنانے جا رہے ہیں۔ریس میں 50 سے زائد ریسرز نے حصہ لیا اور ان کیلئے تین کلومیٹر کا دشوار گزار اور سخت ٹریک بنایا گیاتھا۔
خیبرپختونخوا کے وزیر برائے اعلیٰ تعلیم و بلدیات مینا خان آفریدی نے گومل یونیورسٹی ڈیرہ اسماعیل خان کے طلبہ کے لیے دو نئی بسوں کا تحفہ دیا ہے
خیبرپختونخوا کے وزیر برائے اعلیٰ تعلیم و بلدیات مینا خان آفریدی نے گومل یونیورسٹی ڈیرہ اسماعیل خان کے طلبہ کے لیے دو نئی بسوں کا تحفہ دیا ہے، جس کا مقصد طلبہ کی بروقت اور محفوظ آمدورفت کو یقینی بنانا ہے۔بسوں کی چابیاں ایک سادہ مگر پُروقار تقریب کے دوران گومل یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر ظفر کے حوالے کی گئیں۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیر برائے اعلیٰ تعلیم و بلدیات مینا خان افریدی نے کہا کہ طلبہ کو بہترین تعلیمی اور سفری سہولیات فراہم کرنا صوبائی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔انہوں نے کہا کہ طلبہ قوم کا مستقبل ہیں اور انہیں غیر ضروری سرگرمیوں کے بجائے اپنی تعلیم، مقاصد اور کردار سازی پر توجہ دینی چاہیے تاکہ وہ ملک و صوبے کی ترقی میں مثبت کردار ادا کر سکیں۔وزیر اعلیٰ تعلیم نے اس عزم کا اظہار کیا کہ خیبرپختونخوا کی جامعات میں سہولیات کی فراہمی اور تعلیمی ماحول کی بہتری کے لیے عملی اقدامات کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا
سپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی کے وژن کے مطابق صوبائی اسمبلی سیکریٹریٹ میں افسران کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں بہتری کے لیے دو ہفتوں پر مشتمل مینڈیٹری تربیتی پروگرام کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر
سپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی کے وژن کے مطابق صوبائی اسمبلی سیکریٹریٹ میں افسران کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں بہتری کے لیے دو ہفتوں پر مشتمل مینڈیٹری تربیتی پروگرام کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہو گیا۔ اس تربیتی پروگرام میں صوبائی اسمبلی کے مختلف شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے افسران نے شرکت کی جبکہ پروگرام پاکستان انسٹیٹیوٹ آف پارلیمانی سروسز کی سرپرستی میں منعقد کیا گیا۔تربیتی پروگرام کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سیکریٹری خیبرپختونخوا اسمبلی سید وقار شاہ نے کہا کہ اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی کے وژن کے مطابق اسمبلی ملازمین کے لیے باقاعدہ ایکٹ متعارف کروایا گیا ہے جس کے تحت تمام کیڈرز کے افسران کی ترقی کے لیے مینڈیٹری ٹریننگ کو لازم قرار دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس تربیت کے دوران افسران کو آئینِ پاکستان کا جامع اوور ویو، خیبرپختونخوا اسمبلی قوانین، خیبرپختونخوا رولز آف گورننس، ریڈنگ اور رائٹنگ اسکلز، لیجسلیٹو ڈرافٹنگ، آفس مینجمنٹ، ڈیجیٹل ڈیموکریسی، پریزینٹیشن سکلز اور دیگر متعلقہ موضوعات پر تربیت فراہم کی گئی۔انہوں نے مزید کہا کہ اس تربیتی پروگرام کا بنیادی مقصد اسمبلی ملازمین کی استعدادِ کار میں اضافہ، ان کی خود اعتمادی کو فروغ دینا اور انہیں جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا تھا، جبکہ مختلف شعبہ جات کے ماہرین نے افسران کو عملی اور نظریاتی دونوں سطحوں پر رہنمائی فراہم کی۔تربیتی پروگرام کی اختتامی تقریب میں اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی نے تربیت کامیابی سے مکمل کرنے والے افسران میں سرٹیفکیٹس تقسیم کیے۔ اس موقع پر ایم پی اے نزیز عباسی اور ایم پی اے ثوبیہ شاہد بھی اسپیکر کے ہمراہ موجود تھیں۔ اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی نے پاکستان انسٹیٹیوٹ آف پارلیمانی سروسز کے عملے کا شکریہ ادا کیا اور تربیت میں شریک تمام افسران کی کارکردگی کو سراہا۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے سپیکر بابر سلیم سواتی نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ خیبرپختونخوا اسمبلی سیکریٹریٹ ایک مثالی اور بہترین ادارے کے طور پر سامنے آئے اور کوئی بھی ادارہ اسی وقت مضبوط بنتا ہے جب اس کے ملازمین پیشہ ورانہ مہارتوں سے آراستہ ہوں۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی اسمبلی ایک قانون ساز ادارہ ہے جس کی کارکردگی کا براہِ راست اثر عوام کی زندگیوں پر پڑتا ہے، اس لیے اس ادارے کو ہر سطح پر بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔تربیتی پروگرام کے آخری روز یادگاری گروپ فوٹو سیشن ہوا۔ یہ مینڈیٹری تربیتی پروگرام کا پہلا بیج تھا جبکہ مستقبل میں بھی اس سلسلے کو جاری رکھا جائے گا۔ تمام شرکاء نے اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اس تربیت سے نہ صرف ان کی خود اعتمادی میں اضافہ ہوا بلکہ انہوں نے بہت کچھ نیا سیکھا، اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو بہتر بنایا اور اپنی کمزوریوں کو پہچاننے میں بھی مدد ملی۔
خیبر پختونخوا کے وزیرِ قانون، پارلیمانی امور و انسانی حقوق آفتاب عالم ایڈووکیٹ کی زیرِ صدارت قانون ساز کمیٹی کے دو اہم اجلاس منعقد ہوئے
خیبر پختونخوا کے وزیرِ قانون، پارلیمانی امور و انسانی حقوق آفتاب عالم ایڈووکیٹ کی زیرِ صدارت قانون ساز کمیٹی کے دو اہم اجلاس منعقد ہوئے جن میں صوبے میں قانون سازی، عدالتی اصلاحات اور بلدیاتی انتخابات سے متعلق اہم امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاسوں میں ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا شاہ فیصل اتمان خیل، سیکرٹری محکمہ قانون، سیکرٹری محکمہ بلدیات، سیکرٹری بورڈ آف ریونیو، سابق صوبائی محتسب جمال الدین شاہ، محکمہ قانون، محکمہ بلدیات اور دیگر متعلقہ محکموں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔پہلے اجلاس میں خیبر پختونخوا کورٹ فیس (ترمیمی) بل 2025 کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کے دوران مجوزہ ترمیمی بل کے مختلف قانونی پہلوؤں، عدالتی فیسوں کے موجودہ ڈھانچے اور اس میں اصلاحات کی ضرورت پر سیر حاصل تبادلہ خیال کیا گیا۔ورچوئل ہیرنگ سے متعلق فیسوں میں ممکنہ تبدیلیوں پر سفارشات پیش کی گئیں، تاہم وزیرِ قانون آفتاب عالم ایڈووکیٹ نے اس امر پر زور دیا کہ کورٹ فیس ایکٹ کا ہائی کورٹ کی شمولیت سے جامع اور تفصیلی جائزہ لیا جائے تاکہ ضروری ترامیم کے ذریعے قانون کو مزید مؤثر اور مضبوط بنایا جا سکے۔ اس مقصد کے لیے ایک خصوصی کمیٹی کی تشکیل پر بھی اتفاق کیا گیا جس میں ہائی کورٹ کے نمائندگان کو شامل کیا جائے گا۔دوسرے اجلاس میں صوبے میں آئندہ ہونے والے بلدیاتی انتخابات کی تیاریوں، متعلقہ قانونی ترامیم اور دیگر انتظامی و قانونی امور کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کے دوران ایجنڈے کے کلیدی نکات پر تفصیلی مشاورت کی گئی جن میں انتخابی عمل کو درپیش مسائل اور ان کے ممکنہ حل شامل تھے۔کمیٹی نے لوکل گورنمنٹ ایکٹ میں مجوزہ ترامیم پر غور کیا تاکہ بلدیاتی انتخابات کو مزید شفاف، مؤثر اور عوامی امنگوں کے مطابق بنایا جا سکے۔ وزیرِ قانون نے اس موقع پر زور دیا کہ بلدیاتی نظام کے اسٹرکچر کو زمینی حقائق سے ہم آہنگ کیا جائے اور اختیارات کی نچلی سطح تک مؤثر اور موزوں تقسیم کو یقینی بنایا جائے تاکہ عوام کو براہِ راست فائدہ پہنچ سکے۔اجلاس میں قانون سازی کے عمل، مقدمات کی التواء، بعض علاقوں میں امن و امان کی صورتحال، برفباری کے باعث رسائی میں درپیش مشکلات اور ان عوامل کے نتیجے میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد میں حائل رکاوٹوں پر بھی تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔
گومل یونیورسٹی ڈیرہ اسماعیل خان اور مفتی محمود میموریل میڈیکل ٹیچنگ انسٹی ٹیوٹ ڈیرہ اسماعیل خان کے درمیان تعلیمی و تربیتی تعاون کے فروغ کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے گئے ہیں
گومل یونیورسٹی ڈیرہ اسماعیل خان اور مفتی محمود میموریل میڈیکل ٹیچنگ انسٹی ٹیوٹ ڈیرہ اسماعیل خان کے درمیان تعلیمی و تربیتی تعاون کے فروغ کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے گئے ہیں، جس کے تحت فیکلٹی آف الائیڈ ہیلتھ سائنسز، گومل یونیورسٹی کے طلبہ کو اب مفتی محمود میموریل میڈیکل ٹیچنگ انسٹی ٹیوٹ میں انٹرنشپ کے مواقع حاصل ہوں گے۔مفاہمتی یادداشت پر دستخط کی تقریب میں وزیر برائے اعلیٰ تعلیم و بلدیات خیبرپختونخوا مینا خان آفریدی سمیت دیگر حکام نے خصوصی شرکت کی۔ گومل یونیورسٹی کی جانب سے وائس چانسلر ڈاکٹر ظفر نے ایم او یو پر دستخط کیے۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیر برائے اعلیٰ تعلیم و بلدیات مینا خان آفریدی نے کہا کہ صوبائی حکومت خیبرپختونخوا میں الائیڈ ہیلتھ سائنسز کے شعبے میں معیاری اور ہنر مند طبی ورک فورس تیار کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے گریجویٹس نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں بہترین طبی خدمات انجام دے رہے ہیں، جو صوبے کے لیے باعثِ فخر ہے۔وزیر برائے اعلیٰ تعلیم نے مزید کہا کہ الائیڈ ہیلتھ سائنسز سے وابستہ طلبہ کو درپیش تمام چیلنجز کو مرحلہ وار حل کیا جا رہا ہے تاکہ انہیں بہتر تعلیمی، عملی تربیتی اور پیشہ ورانہ مواقع فراہم کیے جا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ جامعات اور طبی اداروں کے درمیان اس نوعیت کے اشتراک سے طلبہ کی عملی مہارتوں میں اضافہ ہوگا اور صحت کے شعبے کو مضبوط بنیادیں فراہم ہوں گی۔تقریب کے اختتام پر وزیر برائے اعلیٰ تعلیم و بلدیات نے دونوں اداروں کے درمیان اس تعاون کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ یہ اشتراک صوبے میں طبی تعلیم اور صحت کی خدمات کے معیار کو مزید بہتر بنانے میں معاون ثابت ہوگا۔
خیبر پختونخوا کے وزیرِ صحت خلیق الرحمٰن کی زیر صدارت محکمہ صحت کے نیوٹریشن پروگرام سے متعلق ایک جائزہ اجلاس منعقد ہوا
خیبر پختونخوا کے وزیرِ صحت خلیق الرحمٰن کی زیر صدارت محکمہ صحت کے نیوٹریشن پروگرام سے متعلق ایک جائزہ اجلاس منعقد ہوا جس میں صوبہ بھر میں غذائی خدمات کی مجموعی کارکردگی، نظامِ کی بہتری اور درپیش انتظامی و عملی مسائل پر سیر حاصل گفتگو کی گئی۔اجلاس کے دوران صوبائی وزیرِ صحت نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ صوبے کے تمام اضلاع میں قائم نیوٹریشن سٹیبلائزیشن سینٹرز (این۔ ایس۔ سی۔ ایس) اور آؤٹ پیشنٹ تھیراپیٹک سینٹرز کی مؤثر، مسلسل اور فعال کارکردگی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے غذائی خدمات کی فراہمی میں موجود خامیوں، خصوصاً کوریج، معیارِ علاج، نگرانی اور سطحِ سہولت رابطہ کاری میں پائے جانے والے نقائص پر سخت نوٹس لیا۔صوبائی وزیرِ صحت نے اس امر پر زور دیا کہ غذائی قلت بالخصوص خواتین اور بچوں میں ایک سنگین عوامی صحت کا مسئلہ ہے، جس سے نمٹنے کے لیے فوری اصلاحی اقدامات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ نگرانی کے نظام کو مؤثر بنایا جائے، ضروری غذائی اشیاء اور ادویات کی دستیابی یقینی بنائی جائے، ریفرل سسٹم کو بہتر بنایا جائے اور فیلڈ ٹیموں اور صحت کی سہولیات کے مابین ہم آہنگی کو مزید مضبوط کیا جائے۔ خلیق الرحمٰن نے واضح کیا کہ احتساب اور کارکردگی کی بنیاد پر نظامِ انتظام کو سختی سے نافذ کیا جائے گا اور غذائی خدمات کی بہتری میں کسی بھی قسم کی غفلت یا تاخیر کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ صوبائی حکومت نیوٹریشن پروگرام کو صحت اور انسانی ترقی کے مجموعی ایجنڈے کا ایک اہم ستون سمجھتی ہے۔صوبائی وزیرِ صحت نے ترقیاتی شراکت دار اداروں بشمول بی آئی ایس پی،بی این پی،ڈبلیو ایف پی،ڈبلیو ایچ او اور یونیسف کی جانب سے صوبے میں غذائی خدمات کے فروغ کے لیے فراہم کی جانے والی تکنیکی اور مالی معاونت کو سراہتے ہوئے ان کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ ترقیاتی شراکت داروں کے ساتھ مؤثر اشتراکِ عمل کے ذریعے غذائی پروگرامز کو وسعت دینا، رسائی بہتر بنانا اور ان کی پائیداری یقینی بنانا ممکن ہے۔اجلاس کے اختتام پر صوبائی وزیرِ صحت نے محکمہ صحت کو ہدایت کی کہ وقت کے تعین کے ساتھ جامع ایکشن پلان مرتب کر کے پیش کیا جائے، تاکہ نیوٹریشن اسٹیبلائزیشن اور آؤٹ پیشنٹ تھیراپیٹک سینٹرز کی کارکردگی میں واضح بہتری لائی جا سکے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ صوبائی حکومت کمزور طبقات خصوصاً ماؤں اور بچوں سمیت سب کو معیاری غذائی سہولیات کی فراہمی کے لیے تمام ممکن اقدامات کرے گی۔
ضم شدہ اضلاع کی لڑکیوں کے لیے مالم جبہ میں تاریخی گرلز سکیئنگ و اسنو بورڈنگ کیمپ کا انعقاد
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیر برائے کھیل و امورنوجوانان تاج محمدترند نے کہا ہے کہ ضم شدہ اضلاع (سابقہ فاٹا) سے تعلق رکھنے والی بچیوں کے لیے مالم جبہ کی برف پوش ڈھلوانوں پر گرلز سکیئنگ اورسنو بورڈنگ کیمپ کا انعقاد ایک تاریخی اور خوش آئند اقدام ہے، جو نہ صرف کھیلوں کے فروغ بلکہ صحت مند سرگرمیوں کی جانب اہم قدم ہے۔ان خیالات کا اظہار انھوں نے ڈائریکٹوریٹ آف اسپورٹس ضم شدہ اضلاع کے زیر اہتمام منعقدہ تین روزہ کیمپ میں بطور مہمان خصوصی شرکت کے موقع پر کیا، کھیلو ں میں ضم شدہ اضلاع سے تعلق رکھنے والی 34 باہمت اور پُرعزم نوجوان لڑکیوں نے شرکت کی۔ اس موقع پر بات چیت کرتے ہوئے تاج محمدترند نے کہا کہ یہ اقدام محض کھیل تک محدود نہیں بلکہ ضم اضلاع کی خواتین کو مواقع کے دائرہ کار کو وسعت دینے، سرمائی کھیلوں کے تعارف اور قدامت پسند علاقوں کی لڑکیوں کو اعتماد اور خودمختاری فراہم کرنے کی عملی کوشش ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کیمپ اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر مناسب مواقع فراہم کیے جائیں تو ہماری بچیاں ہر میدان میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا سکتی ہیں۔مشیر کھیل نے مالم جبہ اسکی ریزورٹ، جو پاکستان کا واحد سرکاری اسکی ریزورٹ ہے، کے تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا قدرتی وسائل اور برف پوش پہاڑوں سے مالا مال صوبہ ہے، جہاں سرمائی کھیلوں کے فروغ کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ حکومت مستقبل میں بھی ایسے پروگرامز کے انعقاد کے ذریعے نوجوانوں بالخصوص خواتین کو کھیلوں کی جانب راغب کرتی رہے گی۔واضح رہے کہ کیمپ کی تکنیکی معاونت سمر کیمپ کی جانب سے فراہم کی گئی، جوپیشہ ور خاتون سمر کی نگرانی میں منعقد ہوا۔ سمر خیبر پختونخوا کی پہلی پیشہ ور خاتون سنو بورڈر اور پاکستان کی بین الاقوامی نمائندہ ہیں، جنہوں نے کوچ اور مینٹور کی حیثیت سے شرکاء کی بھرپور رہنمائی کی۔
