Home Blog Page 20

The Directorate General of Information & Public Relations urges all citizens to refrain from the dangerous practice of aerial firing.

What goes up, must come down. A bullet fired in the air can travel at lethal speeds and can kill or maim an innocent person when it lands. It is not a celebration; it is a criminal act that leads to tragic accidents.

Legal Action: Aerial firing is a serious offense. Violators will face strict legal consequences.

Let us protect our families, our children, and our communities. Spread happiness, not fear.

پختونخوا اسمبلی کی خصوصی کمیٹی برائے ریڈیو پاکستان پشاور کا دوسرا اجلاس پیر کے روز صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ میں منعقد ہوا

پختونخوا اسمبلی کی خصوصی کمیٹی برائے ریڈیو پاکستان پشاور کا دوسرا اجلاس پیر کے روز صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ میں منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت رکن صوبائی اسمبلی ملک عدیل اقبال نے کی۔ اجلاس میں کمیٹی کے ممبران اور اراکین صوبائی اسمبلی سمیع اللہ، طارق سعید، اصف مسعود، راشد خان اور احمد کنڈی نے شرکت کی۔ اس کے علاوہ ایڈووکیٹ جنرل، محکمہ داخلہ اور پولیس کے اعلیٰ حکام سمیت صوبائی اسمبلی کے متعلقہ افسران بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔یہ خصوصی کمیٹی سپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی کی ہدایت پر قائم کی گئی ہے۔ کمیٹی کے قیام کا مقصد ریڈیو پاکستان پشاور کے واقعے کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کو یقینی بنانا اور اس سے متعلق حقائق کو منظر عام پر لانا ہے۔اجلاس کے دوران ایڈووکیٹ جنرل نے کمیٹی کو واقعے سے متعلق اہم پیش رفت سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ ابتدائی طور پر اس واقعے میں مجموعی طور پر 86 افراد کو ملوث قرار دیا گیا تھا، تاہم موجودہ مرحلے پر تحقیقات کا دائرہ محدود کرتے ہوئے صرف چھ افراد پر توجہ مرکوز کی جا رہی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اب تک عدالت میں پیش کی جانے والی ویڈیو فوٹیج مبینہ واقعے سے مکمل مطابقت نہیں رکھتیں، جس کے باعث شواہد کے حوالے سے مزید باریک بینی سے جانچ کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔ایڈووکیٹ جنرل نے مزید بتایا کہ کیس کی پیش رفت کے لیے مستند ریکارڈ اور درست شناختی معلومات کا حصول ناگزیر ہے۔ اسی سلسلے میں عدالت نے ہدایت جاری کی ہے کہ معاملے میں مزید پیش رفت نادرا کے تعاون سے کی جائے گی تاکہ ملزمان کی درست شناخت اور دیگر متعلقہ تفصیلات کی تصدیق ممکن بنائی جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ عدالت نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ آئندہ سماعت تک ضروری معلومات اور ریکارڈ فراہم کیے جائیں تاکہ تحقیقات کو شفاف اور مؤثر انداز میں آگے بڑھایا جا سکے۔اجلاس کے دوران کمیٹی کے اراکین نے واقعے کے مختلف پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لیا جبکہ دستیاب شواہد، رپورٹس اور متعلقہ دستاویزات پر بھی غور کیا گیا تاکہ واقعے کی مکمل تصویر واضح کی جا سکے۔ کمیٹی نے اس عزم کا اظہار کیا کہ واقعے میں ملوث عناصر کی درست نشاندہی کی جائے گی اور مستقبل میں اس نوعیت کے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر اور قابلِ عمل سفارشات مرتب کی جائیں گی۔اجلاس میں آئندہ کے لائحہ عمل پر بھی غور کیا گیا تاکہ سرکاری املاک اور ریاستی اداروں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے جامع حکمت عملی وضع کی جا سکے۔ کمیٹی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ تحقیقات کا بنیادی مقصد حقائق تک رسائی حاصل کرنا ہے تاکہ اس واقعے میں ملوث اصل عناصر کی درست نشاندہی کی جا سکے اور کسی بھی بے گناہ شخص کو اس معاملے میں بلاوجہ شامل نہ کیا جائے۔ اس مقصد کے لیے کمیٹی ایک غیر جانبدار اور شفاف فیکٹ فائنڈنگ عمل کے تحت تمام دستیاب شواہد اور معلومات کا باریک بینی سے جائزہ لے رہی ہے تاکہ حقائق کی بنیاد پر نتائج اخذ کیے جا سکیں۔

بانی چیئرمین عمران خان سے ملاقاتوں پر غیر اعلانیہ پابندی عائد ہے، شفیع جان

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و تعلقات عامہ شفیع جان نے کہا ہے کہ وفاقی اور پنجاب حکومت نے بانی چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان سے فیملی، وکلا اور سیاسی قیادت کی ملاقاتوں پر غیر اعلانیہ پابندی عائد کر رکھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عدالتی احکامات کے باوجود کسی کو بھی عمران خان سے ملنے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ یہاں سے جاری ایک بیان میں شفیع جان نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کے پاس اسلام آباد ہائی کورٹ کے احکامات موجود ہیں جن کے تحت ان کی بانی چیئرمین عمران خان سے ملاقات طے ہے تاہم بدقسمتی سے اڈیالہ جیل کا سپرنٹنڈنٹ اتنا بااختیار بن چکا ہے کہ نہ وہ آئین کو مانتا ہے نہ قانون کو اور نہ ہی عدالتی احکامات کو۔ انہوں نے کہا کہ جب اس معاملے پر سپرنٹنڈنٹ کے خلاف عدالت میں توہین عدالت کی پٹیشن دائر کی گئی تو افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ وہ پٹیشن بھی سماعت کے لیے مقرر نہیں کی جا رہی۔انہوں نے کہا کہ اڈیالہ جیل پنجاب حکومت کے زیر انتظام ہے اور اس کا سپرنٹنڈنٹ پنجاب حکومت کا ماتحت ملازم ہے، یہی وجہ ہے کہ پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز سیاسی انتقام میں اندھی ہو چکی ہیں اور عمران خان سے ملاقاتوں میں رکاوٹیں ڈالی جا رہی ہیں۔معاون خصوصی نے وفاق کی جانب سے خیبرپختونخوا کے ساتھ روا رکھے گئے نامناسب رویے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ وفاق نے عوام کے ووٹ سے منتخب خیبرپختونخوا حکومت کے ساتھ پی ایس ڈی پی اور این ایف سی شیئرز میں بھی غیر مناسب اور امتیازی سلوک روا رکھا ہے۔انہوں نے کہا کہ پی ایس ڈی پی میں خیبرپختونخوا کے لیے صرف 55 کروڑ روپے مختص کیے گئے جبکہ این ایف سی کی مد میں 4758 ارب روپے بھی صوبے کو فراہم نہیں کیے جا رہے۔انہوں نے مزید کہا کہ دوسری جانب ایک رپورٹ کے مطابق وفاق نے پنجاب حکومت کو ایک موٹروے کی تعمیر کے لیے 465 ارب روپے کے فنڈز فراہم کیے ہیں۔ پنجاب کے لیے خزانے کا منہ کھولنا اور خیبرپختونخوا کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھنا انتہائی افسوسناک ہے۔شفیع جان نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی ترجیحات میں ملک کی ترقی نہیں بلکہ عوام کے ٹیکس کے پیسوں پر ذاتی خواہشات کی تکمیل شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ مریم نواز نے 11 ارب روپے مالیت کا جہاز خرید کر اپنا شوق پورا کیا جبکہ وفاق میں کرپشن کا یہ عالم ہے کہ آئی ایم ایف نے بھی اپنی رپورٹ میں وفاق پر مسلط کرپٹ ٹولے کی 5300 ارب روپے کی کرپشن کی نشاندہی کی ہے جو ملکی اور بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے لیے باعثِ شرمندگی ہے۔پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے پر تنقید کرتے ہوئے شفیع جان نے کہا کہ وفاقی حکومت نے عوام پر پٹرول بم گرایا ہے اور عوام کی جیب پر 55 روپے کا اضافی بوجھ ڈال دیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر وفاقی وزراء کے مطابق ملک میں 28 دن کا پٹرول اسٹاک موجود ہے تو پھر عوام پر 55 روپے کا اضافی بوجھ کیوں ڈالا گیا؟انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کا یہ اقدام غریب عوام پر ظلم کے مترادف ہے جسے پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی حکومت یکسر مسترد کرتی ہے۔

خیبرپختونخوا کے وزیر صحت خلیق الرحمان نے آج خیبر میڈیکل کالج میں انصاف ڈاکٹرز فورم کے زیر اہتمام منعقدہ افطار ڈنر کی تقریب میں شرکت کی

خیبرپختونخوا کے وزیر صحت خلیق الرحمان نے آج خیبر میڈیکل کالج میں انصاف ڈاکٹرز فورم کے زیر اہتمام منعقدہ افطار ڈنر کی تقریب میں شرکت کی۔ تقریب میں رکن قومی اسمبلی خرم ذیشان، رکن صوبائی اسمبلی ملک لیاقت، بڑے تدریسی ہسپتالوں کے بورڈ آف گورنرز کے اراکین، میڈیکل سپرنٹنڈنٹس، ہسپتال ڈائریکٹرز اور انصاف ڈاکٹرز فورم سے وابستہ ڈاکٹرز کی بڑی تعداد نےبھی شرکت کی۔ افطار ڈنر کا مقصد ڈاکٹر برادری اور حکومت کے درمیان روابط اور باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنانا تھا۔ اس موقع پر خواتین ڈاکٹرز کی بھی بڑی تعداد موجود تھی۔
تقریب کے اختتام پر ایک مختصر مگر باوقار خطاب سیشن منعقد ہوا جس میں ڈاکٹرز اور پارلیمنٹرینز نے شرکاء سے خطاب کیا۔ انصاف ڈاکٹرز فورم کے صدر ڈاکٹر نبی جان نے اپنے خطاب میں ڈاکٹرز برادری کے بعض مطالبات پیش کرتے ہوئے کہا کہ انصاف ڈاکٹرز فورم نے ہر مشکل وقت میں صوبائی حکومت کا بھرپور ساتھ دیا ہے اور نوجوان ڈاکٹرز نے صحت کی خدمات کی فراہمی میں بے مثال جذبہ اور لگن کا مظاہرہ کیا ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا کہ دیگر صوبوں کی طرح ڈاکٹرز کی تنخواہوں میں اضافہ اور مراعات فراہم کی جائیں تاکہ وہ مزید بہتر انداز میں عوام کی خدمت کر سکیں۔صوبائی وزیر صحت خلیق الرحمان نے اپنے خطاب میں ڈاکٹرز برادری کو یقین دہانی کرائی کہ صوبائی حکومت ڈاکٹرز کے تمام جائز حقوق کے تحفظ اور فلاح و بہبود کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے اور آئندہ بھی ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر کا پیشہ نہایت مقدس اور ذمہ داری سے بھرپور ہے، لہٰذا ڈاکٹرز کو چاہیے کہ وہ مریضوں کے ساتھ ہمدردی، شائستگی اور حسنِ سلوک کا مظاہرہ کریں کیونکہ مریض تکلیف کی حالت میں ہسپتالوں کا رخ کرتے ہیں۔وزیر صحت نے مزید کہا کہ صحت کے شعبے میں اصلاحات کے لیے حکومت جامع اصلاحاتی ایجنڈے پر کام کر رہی ہے جس میں خاص طور پر بنیادی اور ثانوی سطح کی صحت کی سہولیات کو مضبوط بنانے پر توجہ دی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر پرائمری اور سیکنڈری ہیلتھ کیئر کو مؤثر بنایا جائے تو بڑے ہسپتالوں پر بوجھ کم کیا جا سکتا ہے اور اس کے عوامی صحت پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ صحت سہولت پروگرام کے تحت عوام کو معیاری علاج کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے جو کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کا عوام کے لیے ایک بڑا تحفہ اور بانی چیئرمین عمران خان کے وژن کا عملی مظہر ہے۔ تقریب کے اختتام پر صوبائی وزیر صحت نے تمام ڈاکٹرز کا شکریہ ادا کیا، انصاف ڈاکٹرز فورم کی حکومت کے ساتھ تعاون کو سراہا اور عمران خان کی صحت و سلامتی کے لیے دعا بھی کی۔

Good Governance Agenda: Key Decisions to Improve Public Services

An important meeting was held under the chairmanship of Chief Secretary Khyber Pakhtunkhwa, Shahab Ali Shah, to review progress on the good governance reform agenda aimed at improving public service delivery. Several key decisions were taken during the meeting.
The meeting was informed that, on the directives of the Chief Minister, all departments are actively implementing the good governance agenda in an effective manner.

To promote tourism and improve the communication network, work on Swat Motorway Phase-II has formally commenced, and its inauguration is expected soon.

Meanwhile, master planning for major tourist destinations including Galiyat, Kumrat, Kalam, and Kalash is underway. Officials stated that this planning will ensure environmental protection, promote sustainable tourism, and help prevent unplanned construction in these areas.

The meeting was also informed that the New General Bus Stand project in Peshawar is in its final stages of completion. Upon completion, all bus terminals in the city will be shifted to the new facility, which will significantly help ease traffic congestion.

In the health sector, recruitment of medical officers has been initiated in districts facing a shortage of doctors. A total of 2,400 medical officers are being hired to ensure uninterrupted provision of healthcare services to the public.

The Chief Secretary directed the concerned authorities to further expedite the pace of implementation on all projects and ensure timely completion of public welfare initiatives.

کمشنر ہزارہ ڈویژن کی زیر صدارت ای کھلی کچہری کا انعقاد

کمشنر ہزارہ ڈویژن فیاض علی شاہ کی زیر صدارت منگل کے روز کمشنر آفس ایبٹ آباد میں ایک ای کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا۔ اس موقع پر ڈویژن بھر کے ڈپٹی کمشنرز نے آن لائن شرکت کی، جبکہ ڈپٹی کمشنر ایبٹ آباد سرمد سلیم اکرم اور مختلف لائن ڈیپارٹمنٹس کے سربراہان بھی موجود تھے۔ای کھلی کچہری کے دوران کمشنر ہزارہ ڈویژن نے عوام کی جانب سے مختلف محکموں کے خلاف موصول ہونے والی شکایات، آراء اور تجاویز کا جائزہ لیا اور براہ راست لائیو کالز بھی سنی گئیں۔ کمشنر فیاض علی شاہ نے موقع پر ہی متعدد شکایات کے جوابات دیے اور متعلقہ حکام کو ضروری ہدایات جاری کیں۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کمشنر ہزارہ ڈویژن نے کہا کہ ای کھلی کچہری کے انعقاد کا بنیادی مقصد عوامی مسائل سے براہ راست آگاہی حاصل کرنا اور ان کے فوری حل کو یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے تمام ڈپٹی کمشنرز اور متعلقہ محکموں کے سربراہان کو ہدایت کی کہ عوامی شکایات کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے۔انہوں نے مزید کہا کہ کمشنر آفس کے دروازے عوام کے لیے ہر وقت کھلے ہیں اور شہری بلا جھجھک اپنے مسائل پیش کر سکتے ہیں۔ موصول ہونے والی شکایات میں زیادہ تر مسائل اشیائے خوردونوش کی قیمتوں، صفائی ستھرائی، تجاوزات، کرایہ ناموں پر عملدرآمد اور ٹریفک سے متعلق تھے۔کمشنر ہزارہ ڈویژن نے سیاحوں کو بہتر سہولیات کی فراہمی کو انتظامیہ کی ذمہ داری قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کی صورت میں قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ عیدالفطر کے موقع پر ٹرانسپورٹ کرایوں کی سخت مانیٹرنگ کی جائے گی اور زائد کرایہ وصول کرنے والوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔انہوں نے ہدایت کی کہ ای کھلی کچہری میں موصول ہونے والی تمام شکایات متعلقہ محکموں کو ارسال کی جائیں اور ان پر کی گئی کارروائی سے شکایت کنندگان کو آگاہ رکھا جائے۔ مزید برآں، تمام ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت کی گئی کہ عوامی شکایات پر قانون کے مطابق کارروائی کرتے ہوئے انصاف کے تقاضوں کو ہر صورت یقینی بنایا جائے تاکہ شہریوں کو ان کے بنیادی حقوق کی فراہمی ممکن ہو سکے۔

Review of Peshawar Revitalisation Plan Progress, Chief Secretary Directs Acceleration of Work

Chief Secretary Khyber Pakhtunkhwa, Shahab Ali Shah, on Tuesday chaired an important meeting to review progress on the Peshawar Revitalization Plan, directing all concerned departments to expedite work and ensure timely completion of projects.
The meeting was attended by secretaries and officials of relevant departments, who briefed the chair on various ongoing and planned initiatives aimed at restoring the historical grandeur and improving the overall urban landscape of the provincial capital.

It was informed that, on the directives of the Chief Minister, all concerned departments are working on a priority basis to fast-track projects under the revitalization plan. The initiative envisages a comprehensive uplift of the city, focusing on beautification, infrastructure development, and improved civic amenities.

According to the briefing, the plan encompasses multiple projects being executed by the Peshawar Development Authority (PDA), Water and Sanitation Services Peshawar (WSSP), Public Health Engineering Department, Local Council Board, Capital Metropolitan Government Peshawar, Irrigation Department, Communication and Works (C&W) Department, and the Khyber Pakhtunkhwa Highways Authority.

The meeting was told that PDA schemes have been divided into two priority phases, while work on the design of underpasses along the Peshawar Ring Road is underway. In addition, uplift of 34 public parks and improvement of 35 key roads are also part of the plan.

Officials further informed that feasibility studies for additional underpasses at key congestion points are being prepared to address traffic bottlenecks.

Rehabilitation of major arteries including GT Road and Ring Road, construction of link roads, installation of streetlights, and development of green belts are also included in the initiative.
The construction of a link road from Hayatabad Industrial Estate to Northern Bypass is another significant component of the plan, aimed at improving connectivity and easing traffic flow.

The meeting was also apprised that proposals are under consideration for the development and beautification of roads along the Kabul River Canal and Warsak Lift Canal. Furthermore, new water supply schemes, along with the rehabilitation of existing ones, are being undertaken to ensure improved service delivery to residents.
Emphasizing the importance of timely execution, the Chief Secretary directed all departments to accelerate implementation and maintain strict oversight. A comprehensive tracking sheet has also been developed to monitor progress and ensure effective coordination among stakeholders.

خیبر پختونخوا کے وزیر ابتدائی وثانوی تعلیم ارشد ایوب خان نے کہا ہے کہ ضلع چارسدہ میں شعبہ تعلیم کی بہتری اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے تمام تر ضروری اقدامات اٹھائے جائیں گے۔

خیبر پختونخوا کے وزیر ابتدائی وثانوی تعلیم ارشد ایوب خان نے کہا ہے کہ ضلع چارسدہ میں شعبہ تعلیم کی بہتری اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے تمام تر ضروری اقدامات اٹھائے جائیں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کے روز ضلع چارسدہ کی تعلیمی سرگرمیوں کے حوالے سے پشاور میں منعقدہ آن لائن اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر صوبائی وزیر آبنوشی فضل شکور خان ضلع چارسدہ سے تعلق رکھنے والے اراکین صوبائی اسمبلی عارف احمد زئی،ارشد خان عمر رئی،افتخار اللہ خان اورخالد خان سمیت سیکرٹری ابتدائی وثانوی تعلیم محمد خالد ،سپیشل سیکرٹری محکم تعلیم افتخار علی خان، چیف پلاننگ آفیسر زین اللہ جبکہ ضلی ایجوکیشن افسران نے ان لائن اجلاس میں شرکت کی۔اس موقع پر ضلع چارسدہ کے تعلیمی اداروں کے مسائل کے حل، محکمے تعلیم کےاداروں میں ترقیاتی منصوبوں سکولوں میں اضافی کمروں کی تعمیر فرنیچر کی فراہمی، سکولوں کوسولرائزیشن پر منتقل کرنے اوران کی ضروری اپگریڈیشن کے حوالے سے جائزہ لیا گیا اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر تعلیم نےضلع چارسدہ کے مردانہ وزنانہ تعلیمی افسران کو ہدایت کی کہ موجودہ حکومت معیاری تعلیم کے حصول پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی اس لیے ضلی افسران بچوں کی تعلیم اور اس کے بہتر نتائج پر توجہ دیں اور آئندہ اجلاس میں ضلعی سطح پر سکولوں کو بحالی ریپیئرنگ تعمیر اضافی کمروں کی تعداد فرنیچر اور داخلہ مہم کے حوالے سے مکمل تفصیل سے اگاہ کریں ۔انہوں نے کہا کہ صوبے میں تعلیمی منصوبوں میں عالمی معیار کو برقرار رکھنے کے لیے ایس آئی ڈی بی(SIDB) کے ذریعے سے خریداری لازمی ہے آئندہ ای پیڈ کے شفاف طریقے سے ٹینڈرنگ ہوگی۔انہوں نے کہا کہ حکومت صوبے کےسکول میں ڈبل شفےچلائے گی اور بند سکولوں کو کھولا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ اور کراؤڈ اداروں کی نشاندہی کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ جہاں پرسہولیات کی عدم دستیابی ہوگی اسے پورا کیا جائے گا انہوں نے مزید کہا کہ سکولوں کو اپ گریڈ کیا جا رہا ہے جبکہ ضلع چارسدہ میں ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے تحت مزید 25 مڈل سکول کھولیں جائیں گے۔ صوبائی وزیر نے ضلعی افسران سے کہا کہ وہ ضلع کے منتخب نمائندوں کے ساتھ باہمی مشاور سےشعبہ تعلیم کو درپیش مسائل کے حل کرنے کے لیے بھی اقدامات اٹھائیں

خیبرپختونخوا کے وزیر ریلیف، بحالی و آباد کاری عاقب اللہ خان کی زیر صدارت سالانہ ترقیاتی پروگرام27-2026 سے متعلق اجلاس کا انعقاد

خیبرپختونخوا کے وزیر برائے ریلیف، بحالی و آباد کاری عاقب اللہ خان نے کہا ہے کہ صوبائی محکمہ ریلیف، بحالی و آبادکاری آفات سے متعلق بہتر حکمت عملی اور موثر اقدامات یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات اٹھا رہا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز محکمہ ریلیف، بحالی و آباد کاری کا سالانہ ترقیاتی پروگرام27-2026 کے حوالے سے منعقدہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔سیکرٹری محکمہ ریلیف، ڈائریکٹر جنرل پی ڈٰی ایم اے اور ریسکیو 1122 کے علاؤہ دیگر متعلقہ افسران بھی اجلاس میں شریک تھے۔ اس موقع پر پہلے سے جاری 20، جبکہ نئے مجوزہ 34، کل 54 ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے غور و خوض کیا گیا۔ اجلاس میں صوبے کی حساس مقامات پر ممکنہ سیلابی صورتحال سے بچاؤ کے لیے مؤثر اور دیرپا اقدامات یقینی بنانے، عملے کی مؤثر منیجمنٹ جبکہ محکمانہ امور کو ڈیجیٹائز کرانے، ڈویژنل ہیڈکوارٹرز میں ویئر ہاؤسز کے قیام اور ریسکیو 1122 دفاتر کی تحصیل سطح تک توسیع سے متعلق خصوصی گفتگو ہوئی۔ اس موقع پر صوبائی وزیر عاقب اللہ خان ارلی وارننگ سسٹم کو تیز تر بنانے کے بھی ھدایات جاری کیں تاکہ کسی بھی افت کی صورت میں عوام کو فوری تحفظ فراہم کیا جاسکے۔ انہوں نے عوام کی بہتر مفاد میں اجتماعی نوعیت کے منصوبوں، بھرپور ہم آہنگی اور تمام امور بروقت نمٹانے پر بھی زور دیا۔

KP Food Authority Launches province-wide 4-day drive ahead of Eid on CM’s directives

On the directives of the Chief Minister Khyber Pakhtunkhwa, the Khyber Pakhtunkhwa Food Safety and Halal Food Authority, in collaboration with the district administration, has launched a province-wide four-day special campaign ahead of Eidul Fitr.
According to the Food Authority officials, the drive, which commenced on March 17, involves inspections of various food businesses across the province. The campaign will focus on monitoring the quality of cooking oil, storage systems of food items, and compliance with hygiene and sanitation standards.
A spokesperson for the Authority said that during the campaign, bakeries, sweet shops, hotels, and other food points will be thoroughly inspected, with special emphasis on cooking oil being used. Strict monitoring will be ensured to guarantee implementation of hygiene protocols.
Director General Food Authority, Kashif Iqbal Jilani, warned that all food businesses must strictly comply with hygiene standards, otherwise legal action will be taken. He reiterated that no leniency will be shown to those playing with public health.
He further appealed to the public to report any violations of hygiene standards to the Food Authority so that timely action can be ensured.