چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا، ندیم اسلم چوہدری کی زیرِ صدارت یومِ یکجہتی کشمیر کی تیاریوں کے سلسلے میں ایک جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں متعلقہ محکموں کے سیکرٹریز، کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز نے شرکت کی۔اجلاس میں بتایا کیا گیا کہ پانچ فروری کو خصوصی واک، دعائیہ تقاریب، تصویری نمائش اور ڈاکومنٹریز کے ذریعے کشمیری عوام کی جدوجہدِ آزادی کو اجاگر کیا جائے گا۔ اسکولوں، کالجوں اور جامعات میں آگاہی تقاریب منعقد کی جائیں گی، جبکہ صبح 9 بجے ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی جائے گی۔اجلاس کو بتایا گیا کہ اس ضمن میں تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں۔چیف سیکرٹری نے تمام محکموں اور انتظامیہ کو ہدایت کی کہ یومِ یکجہتی کشمیر بھرپور طریقے سے منایا جائے، تاکہ عالمی سطح پر مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی مظالم کو اجاگر کیا جا سکے۔ چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا نے ویڈیو لنک پر کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز سے ڈویژنل ہیڈکوارٹرز اور اضلاع میں بھرپور تیاری کرتے ہوئے دن کی اہمیت کو اجاگر کرنے کی ہدایت کی۔
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے صنعت عبدالکریم تورڈھیر
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے صنعت عبدالکریم تورڈھیر نے پیر کے روز شہد کے کاروباری مرکز ” ہنی انٹرنیشنل مارکیٹ چمکنی” اور زرعی تحقیقاتی مرکز ترناب فارم پشاور کا دورہ کیا۔منیجنگ ڈائریکٹر سمال انڈسٹریز ڈویلپمنٹ بورڈ حبیب اللہ عارف،چیف کلسٹر ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ خیبر پختونخوا اکنامک زونز ڈویلپمنٹ اینڈ مینجمنٹ کمپنی طاہر خٹک،سمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سمیڈا) اور ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان کے افسران اور ہنی بی ایسوسی ایشن کے نمائندے بھی ان کے ہمراہ تھے۔معاون خصوصی نے دورے کے دوران شہد کے شعبے کے حوالے سے اجتماعی مرکز میں کاروباری سرگرمیوں کا جائزہ لیا اور وہاں پر سہولیات کا بھی معائنہ کیا۔معاون خصوصی کو انھیں شہد محفوظ کرنے اور پروسسینگ کرنے کے مراحل کے حوالے سے آگاہی بھی دی گئی اور انھوں نے ہنی بی ایسوسی ایشن کی جانب سے اس شعبے کی ترقی کے حوالے سے تجاویز بھی فراہم کی گئیں۔اس موقع پر انھوں نے زرعی تحقیقاتی ادارہ ترناب فارم میں شعبہ انٹامالوجی کے تحت قائم ہنی کوالٹی ٹیسٹنگ لیب کا دورہ بھی کیا۔انھوں نے وہاں پر شہد کے تجزیاتی سرگرمیوں کا جائزہ لیا اور انھیں مختلف انواع کے تجزیاتی ٹیسٹوں کے بارے میں معلومات فراہم کی گئیں اور ان کی سرٹیفیکیشن کے حوالے سے بھی انہیں بتایا گیا۔اس موقع پر معاون خصوصی نے کہا کہ شہد کا کاروبار اور مگس بانی صوبے کے معیشت کے حوالے سے اہمیت کے حامل ہیں اور اس سے کثیر تعداد میں لوگوں کا کاروبار وابستہ ہے۔انھوں نے کہا کہ اس شعبے پر توجہ دینے سے یہ آگے مزید ترقی کر سکتا ہے اس لیئے حکومت اس ضمن میں اپنی طرف سے بھرپور تعاون فراہم کرے گی۔انھوں نے تحقیقاتی مرکز کے حکام کو ہنی کے اینٹی بائیوٹیک ٹیسٹنگ میں قرشی کیساتھ باہمی رابطے اور تعاون پر زور دیا تاکہ اس کی سرٹیفیکیشن مزید بہتر اور معیاری ہو اور کہا کہ اس سلسلے میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ماڈل پر بھی غور کیا جائے۔
خیبر پختونخوا حکومت نے پچھلے بجٹ میں پراپرٹی منتقلی ٹیکس 6 سے 3 فیصد کم کئے تھے جبکہ خیبرپختونخوا کاموقف ٹھیک ثابت ہوا وفاقی حکومت پراپرٹی ٹیکس کی شرح کو کم کرنے جارہی ہے مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم
بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات یقینی بنانے کیلئے آج 3 فروری کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں ریٹ پٹیشن دائر کی ہے مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم
مہنگائی اعداد و شمار میں حکومت تصویر کا دوسرا رخ چھپا رہی ہے مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم
مشیر خزانہ و بین الصوبائی رابطہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا حکومت نے پچھلے بجٹ میں پراپرٹی منتقلی ٹیکس 6 سے 3 فیصد کم کئے تھیاور خیبرپختونخوا حکومت نے وفاقی حکومت کو بھی ٹیکس شرح کم کرنے کی درخواست کی تھی مشیر خزانہ خیبرپختونخوا نے کہا کہ غریب لوگوں کے مکانات منتقلی میں زیادہ ٹیکس بہت بڑی رکاوٹ ہے جں کہ خیبرپختونخوا کاموقف ٹھیک ثابت ہوا وفاقی حکومت پراپرٹی ٹیکس کی شرح کو کم کرنے جارہی ہے۔ مزمل اسلم نے ایک اور بیان میں کہا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان سے 30 جنوری کو اڈیالہ جیل میں ملاقات کا وقت دیا گیا تھا مگر چار گھنٹے انتظار کروا کر بغیر وجہ کے واپس کر دیا گیا مزمل اسلم نے کہا کہ آج 3 فروری کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں ملاقات یقینی بنانے کیلئے ریٹ پٹیشن دائر کی ہے۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے مہنگائی بارے بیان میں کہا ہے کہ حکومت مہنگائی کے حوالے سے تصویر کا دوسرا رخ چھپا رہی ہے آج مہنگاء کے اعداد و شمار میں بتایا جائے گا کہ مہنگائی کی شرح 2.4 فیصد رہ گء ہے۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا نے کہا کہ جو نا جانے دس یا پندرہ سال کی کم ترین شرح مہنگائی ہے اور مہنگائی کے اعداد و شمار میں کور انفلیشن core inflation کا ڈیٹا بھی جاری کیا گیا ہے جس کے مطابق دیہاتی مہنگائی 10.4 فیصد اور شہری مہنگائی 7.8 فیصد ریکارڈ کی گء ہے مزمل اسلم نے کہا کہ دراصل یہ وہ مہنگائی ہے جس سے قوت خرید کی کمر ٹوٹتی ہے آج مہنگائی کے حوالے سے خبروں میں مستقل مہنگائی کا زکر نہیں کیا جائے گا سوشل میڈیا کا دور ہے کچھ بھی نہیں چھپ سکتا ہے۔
اٹھ فروری کو پیکا ایکٹ اور 26ویں ترمیم سمیت تمام غیر قانونی ہتھکنڈوں کے خلاف آواز اٹھائی جائے گی، بیرسٹر ڈاکٹر سیف
وزیر اعلی خیبر پختونخوا کے مشیر اطلاعات و تعلقات عامہ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا ہے کہ 8 فروری کو پیکا ایکٹ اور 26ویں ترمیم سمیت تمام غیر قانونی ہتھکنڈوں کے خلاف آواز اٹھائی جائے گی۔ پیکا ایکٹ اور 26ویں ترمیم 8 فروری کے الیکشن پر ڈاکہ ڈالنے کو تحفظ دینے کی کوشش ہے۔8 فروری کو فارم 47 کا استعمال کرکے جمہوریت پر شب خون مارا گیا تھا، جعلی حکومت جعلی اور نامکمل پارلیمنٹ سے کالے قوانین پاس کر رہی ہے، انہوں نے صحافی برادری سمیت ہر شعبے اور مکتبہ? فکر کو 8 فروری کے احتجاج میں شرکت کی دعوت دی اور کہا کہ جعلی حکومت کالے قوانین کے ذریعے اپنے اقتدار کو طول دینے کی ناکام کوشش کر رہی ہے،پیکا ایکٹ اور 26ویں ترمیم جعلی حکمرانوں کے گلے پڑیں گے، 8 فروری ملک کو مینڈیٹ چوروں کے چنگل سے آزاد کرانے کے عہد کا دن ہے، بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا کہ 8 فروری 2024 کو تاریخی دھاندلی کرکے جمہوریت کے پیٹ میں چھرا گھونپا گیا۔ رات گئے تک ملک کی سب سے مقبول جماعت کلین سویپ کررہی تھی جبکہ صبح نتائج مکمل تبدیل کرکے مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالا گیا۔ فارم 47 کا استعمال کرکے جعلی حکومت بنائی گئی جس سے ملک میں سیاسی عدم استحکام کوپر وان چڑھا۔ ایسی ڈھٹائی سیدھاندلی کی گئی کہ جعلی حکمران کسی سے آنکھ نہیں ملاسکتے تھے۔ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا کہ مینڈیٹ چوری کرکے جو جعلی حکومت بنائی گئی ہے اس سے ملک نہیں سنھبل رہا۔ ملک کی معیشت تباہی کے دہانے پر کھڑی ہے۔ عوام دو وقت کی روٹی کے لئے ترس رہے ہیں۔ جعلی حکمرانوں کو عوام کی کوئی پرواہ نہیں صرف اپنی کرسی بچانے میں لگے ہوئے ہیں۔ جعلی حکومت کو سہارا دینے کے لئے ملک میں لاقانونیت کو فروغ دیا جارہا ہے۔ پیکا ایکٹ سمیت 26 ویں ترامیم کا مقصد جعلی حکومت کو تحفظ دینے کے سوا کچھ نہیں۔
صوبائی وزیر لائیو سٹاک، فشریز و ریجنل صدر پاکستان تحریک انصاف فضل حکیم خان کی زیر صدارت
صوبائی وزیر لائیو سٹاک، فشریز و ریجنل صدر پاکستان تحریک انصاف فضل حکیم خان کی زیر صدارت انصاف ہاؤس مینگورہ میں آٹھ فروری صوابی میں جلسے کی تیاریایوں کے حوالے سے مشاورتی اجلاس کیا گیا جس میں ممبران قومی و صوبائی اسمبلی، میئر و تحصیل چیئرمینان، ضلعی و تحصیل کے پی ٹی آئی عہدیداران نے شرکت کی، مشاورتی اجلاس میں 8 فروری صوابی کے حوالے سے مشاورت کی گئی اور سوات سے بھرپور انداز میں شرکت کا عزم کیا گیا، صوبائی وزیر فضل حکیم خان نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جعلی وفاقی حکومت نے 8 فروری کو ہمارا مینڈیٹ چرایا اس روز کو بطور یوم سیاہ منانے کے لیے سب کو نکلنا ہو گا انہوں نے کہا کہ غلامی سے نجات کے لیے جدوجہد ضروری ہوتی ہے آٹھ فروری کو اس قوم کا مینڈیٹ چرا کر ملک کو اندھیروں میں دھکیلا گیا۔ پاکستانی قوم نے تمام تر مشکلات کے باوجود جوق در جوق نکل کر تحریک انصاف کے حق میں ووٹ ڈالا مگر ان کے ووٹ کو پیروں تلے روند کر جمہوریت پر شب خون مارا گیا۔ ملک میں جمہوریت کے ہاتھ پاؤں باندھ کر انسانی حقوق کی دھجیاں بکھیر دی گئیں کارکنوں سے ممبران قومی و صوبائی اسمبلی سلیم الرحمان، علی شاہ خان ایڈوکیٹ، سلطان روم خان، محمد نعیم، سوات سٹی میئر شاہد علی خان، تحصیل چیئرمین کبل سعید خان، تحصیل چیئرمین میاں شاہد علی اور دیگر نے بھی خطاب کیا جبکہ انصاف یوتھ ونگ، آئی ایس ایف اور پی ٹی آئی کارکنان نے کثیر تعداد میں شرکت کی مقررین نے کہا کہ موجودہ وفاقی حکومت اخلاقیات سے بالکل عاری ہے کیونکہ انھوں نے عوام کے حق پر ڈاکہ مار کر عوام کو ان کے نمائندگان چننے کے حق سے محروم کیا 8 فروری کو سوات اور ملاکنڈ ڈویژن سے عوام کا سمندر اپنے حق کیلئے صوابی جلسے میں شرکت کیلئے جائے گا اور اپنے مینڈیٹ کو واپس لینے کیلئے بھرپور آواز اٹھائے گا۔8 فروری کو سوات سمیت ملاکنڈ ڈویژن سے بڑا قافلہ صوبائی وزیر فضل حکیم خان کی قیادت میں صوابی جلسے کیلئے روانہ ہوگا۔
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے صنعت عبدالکریم تورڈھیر
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے صنعت عبدالکریم تورڈھیر کی زیر صدارت محکمہ صنعت کے کمیٹی روم میں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کی ہدایات کی روشنی میں صنعتی شعبے کی اراضیات کے بہتر استعمال اور اس سلسلے میں انتقالات میں شفافیت لانے کے حوالے سے غوروخوض کرنے کی غرض سے ایک اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں ایڈیشنل سیکرٹری بورڈ آف ریونیو محمد سلیم،ڈپٹی سیکرٹری صنعت اعزازاللہ،ڈپٹی ڈائریکٹر صنعت حنیف خان و دیگر افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں مختلف مقاصد کیلئے صنعتی اراضیات کے انتقالات میں ممکنہ غلطیوں کی وجہ سے متعلقہ شعبے کی اراضیات کو نقصان سے بچانے کیلئے مختلف تجاویز کا جائزہ لیا گیا اور اس سلسلے میں انڈسٹریز و بورڈ آف ریونیو کے افسران نے اپنی اپنی آرا پیش کیں۔ اجلاس میں ڈائریکٹوریٹ جنرل انڈسٹریز کے افسران نے موقف اختیار کیا کہ 1953 میں ون یونٹ کے دوران لینڈ ایکوزیشن ایکٹ کا نفاذ عمل میں لایا گیا تھا تاہم بعد میں 1980 کے دوران وہ قانون واپس لے لیا گیا اور دیگر صوبوں میں انڈسٹریل لینڈ کلیکٹر کا اختیار نظامت صنعت کے پاس چلا گیا جبکہ خیبر پختونخوا میں صنعتی اراضیات کے لینڈ کلیکٹر کے اخراجات ڈپٹی کمشنرز کے پاس ہیں۔نظامت اعلیٰ صنعت کے افسران نے بتایا کہ دیگر صوبوں کے ماڈل کو اپنانے سے یہاں کے صنعتی شعبے کی قیمتی اراضی کے استعمال میں شفافیت آئے گی اور اس کے حصول و انتقالات میں کسی بھی قسم کی غلطی کا ابہام نہیں رہے گا اور یہاں پر قیمتی صنعتی اراضیات کی ایکوزیشن کا مکمل ریکارڈ بھی محکمہ کے پاس محفوظ رہے گا۔اس موقع پر بورڈ آف ریونیو کے افسران نے بتایا کہ لینڈ ایکوزیشن ایکٹ کے تحت اراضیات کے انتقالات کا اختیار بورڈ آف ریونیو کے پاس ہے تاہم انڈسٹریل اراضیات کے زمرے میں متعلقہ محکمہ کو بورڈ سے ہی بطور لینڈ ایکوزیشن کلیکٹر درکار عملہ فراہم کیا جاسکتا ہے جس کے ذریعے اس نوعیت کے کیسز کے معاملات کے حل میں تیزی آئے گی۔اس موقع پر معاون خصوصی نے محکمہ صنعت اور ڈائریکٹوریٹ جنرل انڈسٹری کے افسران کو ہدایت کی کہ وہ دیگر صوبوں میں صنعتی اراضیات کے انتقالات اور حصول کے مروجہ قوانین و اختیارات کے تفصیلات اور صوبے میں زیر استعمال طریقہ کار و بورڈ آف ریونیو کی رائے پر مشتمل سمری/رپورٹ مرتب کرے جسے مزید عملدرآمد کیلئے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کو پیش کیا جائے گا۔
خیبر پختونخوا کے سرکاری سکولوں کے طلبہ کے لیے پہلا کمپیوٹر بیسڈ سکالرشپ ٹیسٹ کا کامیابی سے انعقاد
ایجوکیشنل ٹیسٹنگ اینڈ ایوالویشن ایجنسی (ایٹا) نے خیبر پختونخوا کے سرکاری سکولوں کے چھٹی اور ساتویں جماعت کے طلبہ کے لیے پہلے کمپیوٹر بیسڈ سکالرشپ ٹیسٹ (CBT) کا کامیابی سے انعقاد کیا۔ یہ اہم اقدام حکومت خیبر پختونخوا کے تعلیمی معیار میں بہتری، شفافیت اور انصاف کے عزم کا عکاس ہے۔
وظائف کے منعقدہ یہ کمپیوٹر بیسڈ ٹیسٹ 11 جنوری سے 27 جنوری 2025 تک صوبے کے تمام اضلاع میں کامیابی سے منعقد کیا گیا، اس امتخان میں کامیابی حاصل کرنے والے 506 ہونہار طالب علموں کو خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے صوبہ کے بہترین تعلیمی اداروں میں بارہوں جماعت تک مفت تعلیم فراہم کی جائے گی۔ایٹا کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق، اس سکالرشپ پروگرام کے لیے صوبہ بھر سے 13,251 طلبہ نے درخواستیں جمع کی تھی جن میں سے 12,104 طلبہ نے ٹیسٹ میں شرکت کی۔ نتائج کے مطابق 3,152 طلبہ کامیاب ہوئے، جب کہ 8,939 طلبہ کامیابی حاصل نہ کرسکیں۔ اور اس امتحان میں فیل قرار پائے گئے۔ 13 امیدواروں کو امتحانی قواعد کی خلاف ورزی اور نقل کی کوشش پر تادیبی کارروائی کا سامنا ہے۔
مقابلے کے اس امتحان میں کل 12,104 امیداروں میں سے 9,902 لڑکے اور 2,202 لڑکیاں شریک تھیں۔ لڑکوں کی کامیابی کی شرح 26.8 فیصد جبکہ لڑکیوں کی کامیابی کی شرح 22.6 فیصد رہی۔ ماضی میں کامیابی کی مجموعی شرح صرف 10 فیصد تھی، جس سے کمپیوٹر بیسڈ ٹیسٹ کے نفاذ کے فوائد کی واضح نشاندہی ہوتی ہے۔ کمپوٹر بیسڈ ٹیسٹ کے نفاذ کے بعد ایٹا 24 گھنٹوں کے اندر نتائج کا اعلان کرتا ہے جو کہ نظام کی تیز رفتاری اور پائیداری کی نشانی ہے۔ ماضی میں یہ امتحانات روایتی پیپر بیسڈ طریقے سے ہوتے تھے، جس میں غلطیوں، تاخیر اور بدعنوانیوں کے امکانات موجود تھے۔ جبکہ کمپیوٹر بیسڈ ٹیسٹ شفاف، معیاری اور محفوظ امتحانی عمل فراہم کرتا ہے۔وظائف کے لئے منعقدہ اس امتحان میں سرکاری سکولوں کے تین طالب علموں نے 99 نمبر حاصل کئے جس سے اس نئے نظام کی افادیت ثابت ہوتی ہے۔حکومت خیبر پختونخوا کا عزم ہے کہ وہ تعلیمی معیار میں مزید بہتری لائے گی، اور تمام طلبہ کو برابر کے مواقع فراہم کرے گی تاکہ وہ اپنی صلاحیتوں کے مطابق کامیاب ہو سکیں۔ ایٹا اس عزم کے تحت مسلسل اپنے امتحانی نظام میں بہتری کے لیے کام کر رہا ہے اور کمپیوٹر بیسڈ ٹیسٹ کے ذریعے ایک شفاف، منصفانہ اور ٹیکنالوجی پر مبنی امتحانی نظام قائم کر رہا ہے۔
خیبرپختونخوا حکومت خصوصی افراد کی فلاح و بہبود کے لئے عملی اقدامات اٹھارہی ہے، معاون خصوصی برائے جنگلات پیر مصور خان
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے جنگلات، جنگلی حیات، ماحولیات و موسمیاتی تبدیلی پیر مصور خان نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا حکومت خصوصی افراد کی فلاح و بہبود کے لئے عملی اقدامات اٹھارہی ہے، اس سلسلے میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے خصوصی افراد کی مالی معاونت کا پروگرام بھی شروع کر دیا ہے جس کے تحت خصوصی افراد کی مالی معاونت کی جارہی ہے،ان خیالات کا اظہار انھوں نے گزشتہ روز خرکی درگئی ملاکنڈ میں خصوصی افراد کے لئے قائم سکول میں صوبائی حکومت کی جانب سے خصوصی افراد میں دس دس ہزار روپے کے مالی معاونت کے چیکس کی تقسیم کے موقع پر کیا ا س موقع پر ضلعی سوشل ویلفئیر آفیسر صابر خان، سکول پرنسپل نصیب گل، محکمہ سماجی بہبود کے دیگر افسران سمیت خصوصی افراد بھی بڑی تعداد میں موجود تھے، وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی پیر مصور خان نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ معاشرے کے دیگر طبقات کے ساتھ ساتھ خصوصی افراد بھی ہماری خصوصی توجہ کی مستحق ہیں یہی وجہ ہے کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے صوبے میں انکے لئے مالی معاونت کا آغاز کیا ہے، انھوں نے کہا کہ پہلے مرحلے میں ضلع ملاکنڈ کے تقریباً 2700 خصوصی افراد میں مالی معاونت کے چیکس تقسیم کئے جارہے ہیں جس کے بعد حکومتی ڈیٹا کے مطابق دیگر خصوصی افراد کو مرحلہ وار چیکس دئیے جائینگے، پیر مصور خان کا مزید کہنا تھا کہ صوبائی حکومت نے معاشرے کے دیگر کمزور طبقات اور بے سہارا افراد کی فلاح و بہبود پر خصوصی توجہ مرکوز کر رکھی ہے، صحت، تعلیم اور دیگر شعبوں میں صوبائی حکومت نے انقلابی اقدامات اٹھائے ہیں جسکی بدولت صوبے کی عوام کا پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی حکومت پر اعتماد بڑھ گیا ہے پیر مصور خان کا کہنا تھا کہ صحت انصاف کارڈ، مستحقِ افراد کو مفت سولر سسٹم کی فراہمی،صوبے میں پناہ گاہوں کا قیام، نشے کے عادی افراد کی بحالی اور انھیں معاشرے کا کار آمد شہری بنانے جیسے منصوبے اسکی واضح مثال ہیں، دریں اثناء معاون خصوصی پیر مصور خان نے تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال درگئی کا بھی دورہ کیا جہاں وہ ہسپتال میں داخل مریضوں اور انکے تیمارداروں سے ملے اور ان سے ہسپتال میں علاج و معالجے کی سہولیات کے حوالے سے معلومات حاصل کیں، معاون خصوصی نے ہسپتال میں لیبارٹری سمیت مختلف وارڈز کا بھی معائنہ کیا اور ہسپتال انتظامیہ کو مریضوں کو بہتر ین علاج و معالجے کی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایات جاری کیں۔
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیراطلاعات و تعلقات عامہ بیرسٹر ڈاکٹر سیف
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیراطلاعات و تعلقات عامہ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی پیکا ایکٹ ترامیم میں برابر کی شریک ہے، پیپلز پارٹی نے پیکا ایکٹ کے حق میں ووٹ دیا ہے، صدر زرداری کے دستخط کے بعد یہ بل باقاعدہ قانون بن چکا ہے۔اپنے جاری کردہ ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی اب میڈیا پر ایکٹ کی مخالفت کر کے دوغلے پن کا مظاہرہ نہ کرے، مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں، دونوں پارٹیاں ملک میں کالے قوانین کے نفاذ کی برابر ذمہ دار ہیں۔ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا کہ ان دونوں جماعتوں نے مل کر ملک میں لاقانونیت کو فروغ دیا ہے، دونوں پارٹیوں کو اپنے کالے دھن کا مکمل حساب دینا ہوگا۔مشیر اطلاعات بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا کہ وہ دن دور نہیں جب یہ دونوں پارٹیاں ایک دوسرے کو اپنے کرتوتوں کا ذمہ دار ٹھہرائیں گی۔ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا کہ دونوں سیاسی اشرافیہ ملک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا رہے ہیں عوام کی انہیں کوئی فکر نہیں ہے صرف اپنے کرسیوں سے چمٹے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے عوام دونوں سیاسی اشرافیہ سے پورا پورا حساب لیں گے۔ اس وقت اقتدار کے نشے میں دونوں پارٹیاں عوام کو روند رہی ہیں اقتدار ہمیشہ انکے ساتھ نہیں رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ طاقت کا سر چشمہ عوام ہے اور عوام عمران خان کے ساتھ ہے۔ 8 فروری کو پی ٹی آئی کا مینڈیٹ چوری کرکے جعلی حکومت بنائی گئی ہے جو زیادہ دیر تک نہیں چلے گی۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ اشرافیہ نے ریاستی اداروں کی بنیادیں کھوکھلی کی ہوئی ہیں۔
بیرسٹر ڈاکٹر محمد علی سیف کا آل پاکستان اقرا لٹریری فیسٹیول سے خطاب
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے اطلاعات، بیرسٹر ڈاکٹر محمد علی سیف نے اقرا نیشنل یونیورسٹی، پشاور میں منعقدہ آل پاکستان اقرا لٹریری فیسٹیول سے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے ادب کے انسانی ترقی میں بنیادی کردار کو اجاگر کیا۔اپنے فکر انگیز خطاب میں ڈاکٹر سیف نے اس بات پر زور دیا کہ ادب انسانی تجربات، علم اور فکری ارتقا کو نسل در نسل منتقل کرنے کا بنیادی ذریعہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ انسانی ترقی کے تمام پہلو—چاہے وہ سماجی ہوں، سیاسی، سائنسی یا فلسفیانہ—ان کی بنیاد ادب میں ہی ہے۔ ”اگر ہم انسانی ترقی کا تجزیہ کریں تو معلوم ہوگا کہ ہر پیش رفت کسی نہ کسی فکر کا نتیجہ ہوتی ہے، اور ادب وہ وسیلہ ہے جو ان خیالات کو آنے والی نسلوں تک پہنچاتا ہے،”بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے مزید وضاحت کی کہ ادب مختلف صورتوں میں ظاہر ہوتا ہے، جیسے شاعری، نثر، بصری اور اسٹیج آرٹ، موسیقی اور رقص، اور یہ سب انسانی اجتماعی ذہانت کو پروان چڑھانے میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کسی قوم کی پائیدار ترقی کا دار و مدار اس کے ادبی اثاثے اور تخلیقی صلاحیتوں پر ہوتا ہے اورکسی قوم کی فکری گہرائی ہی اس کی ترقی کا پیمانہ ہوتی ہے۔ڈاکٹر سیف نے کہا کہ نئے خیالات ہی نئی دنیا کے قیام کا باعث بنتے ہیں اور فکری ترقی ہی تمام مادی ترقی کی بنیاد ہے۔ انہوں نے سائنسی ترقیات کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ خلا کی تسخیر جیسے کارنامے سب سے پہلے انسانی فکر میں جنم لیتے ہیں اور پھر عملی شکل اختیار کرتے ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ محض معلومات اکٹھی کرنے کے بجائے اپنے کردار کو مضبوط بنانے پر بھی توجہ دیں، کیونکہ ایک مضبوط کردار ہی عظیم خیالات کی بنیاد رکھتا ہے۔”آپ کی فکری صلاحیت کا دار و مدار آپ کے کردار کی مضبوطی پر ہے۔ اگر آپ کا اخلاقی اور فکری کردار مضبوط نہ ہو، تو آپ کی علمی کامیابیاں محض سطحی ہوں گی،”اپنے خطاب کے اختتام پر ڈاکٹر سیف نے ادب کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ قومی فکر کی تشکیل اور فکری ورثے کی حفاظت کا ایک بنیادی ذریعہ ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ پاکستان کے نوجوان اپنی علمی اور ادبی تخلیقات کے ذریعے قومی ترقی میں اہم کردار ادا کریں گے۔آل پاکستان اقرا لٹریری فیسٹیول میں ملک بھر سے آئے ہوئے طلبہ نے شرکت کی، جہاں انہیں مختلف علمی، ادبی اور تخلیقی سرگرمیوں میں حصہ لینے کا موقع ملا۔ ان سرگرمیوں میں قرات/نعت، تقریری مقابلے، بیت بازی، فائن آرٹس، تھیٹر پرفارمنس، مختصر فلمیں، فوٹوگرافی نمائش، مضمون نویسی، کوئز مقابلے اور دیگر سرگرمیاں شامل تھیں، جن کا مقصد نوجوانوں میں علمی مکالمے کو فروغ دینا اور ادبی و فکری ماحول پیدا کرنا تھا۔
