وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے سائنس و انفارمیشن ٹیکنالوجی شفقت ایاز نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی حکومت آئی ٹی کے میدان میں نوجوانوں کے ٹیلنٹ سے استفادہ کرنے اور اس شعبے سے ملک کے لئے اربوں روپوں کے زرمبادلہ کے حصول کو ممکن بنانے کے لئے متعدد منصوبوں پر کام کررہی ہے۔ ضم شدہ اضلاع میں 83 کروڑ روپے کی خطیر لاگت سے ”ڈیجیٹل کنیکٹ ” کے نام سے منصوبہ شروع کیا گیا ہے۔ جس کے تحت تمام ضم شدہ اضلاع میں سات ہزار سے زیادہ نوجوانوں کو انفارمیشن ٹیکنالوجی کے میدان تربیت دی جارہی ہے۔ عنقریب مردان میں شنکر کے مقام پر آئی ٹی پارک قائم کیا جائیگا جس میں آئی ٹی کی فیلڈ میں کام کرنے والوں اور مختلف آئی ٹی فرمز کو دفاتر سمیت دیگر سہولیات مفت فراہم کی جائیگی۔ وہ یہاں مقامی ہوٹل میں Dawn Festکے نام سے خیبر پختونخو اکے سب بڑے ٹیکنالوجی ایونٹ سے خطاب کررہے تھے۔ اس موقع پر وزیر اعلیٰ کے فوکل پرسن برائے نوجوانان اشفاق مروت، تحصیل میئرمردان حمایت اللہ مایار، آئی ٹی بورڈ کے منیجنگ ڈائریکٹر محمد عاکف، ایونٹ کے چیف آرگنائز ر ارسلان، مختلف کمپنیوں کے نمائندگان اور آئی ٹی سے وابستہ مختلف یونیورسٹیوں اور کالجوں کے طلبہ طالبات کی بڑی تعداد موجود تھی۔ ٹیکنالوجی ایونٹ میں مختلف آئی ٹی کمپنیوں اور سٹارٹ اپس نے اپنے سٹال لگائے تھے جن پر طلبہ طالبات کی رہنمائی کے لئے عملہ موجود تھا۔ معاون خصوصی شفقت ایاز نے مختلف سٹالز کا معائنہ کیا۔ اپنے خطاب میں انہوں نے ایک کامیاب ایونٹ کے انعقاد پر منتظمین کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ہمارے نوجوانوں کو اللہ تعالیٰ نے مختلف صلاحیتوں سے نوازا ہے۔ہماری صوبائی حکومت آئی ٹی کے شعبے میں موجود امکانات سے استفاد ے کے لئے چوکس ہے۔ حال ہی میں ہم نے سعودی عرب کے ساتھ مفاہمت کی تین یاداشتوں پر دستخط کئے ہیں جس کے تحت آئی ٹی کے شعبے میں تربیت مکمل کرنے والے 1500 سے زائد نوجوانوں کو سعودی عرب بھیجاجائیگا۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں سرکاری محکموں کی ڈیجیٹلائزیشن کا عمل جاری ہے۔ پہلے مرحلے میں ٹوارزم، ایکسائز، ہاؤسنگ اور لوکل گورنمنٹ سمیت 8 محکموں کو ڈیجیٹل بنایا جارہا ہے جبکہ وقت کیساتھ اس کا دائرہ صوبائی حکومت کے تمام محکموں تک بڑھایا جائیگا۔ شفقت ایاز نے کہا کہ ہری پور میں 86کنال اراضی پر ڈیجیٹل سٹی پر کام جاری ہے۔ اس کی عمارت کے تین منزل تیار ہوچکے ہیں۔ اس میں 20فرمز اور کمپنیوں کو آسان شرائط پر پلاٹ فراہم کریں گے تاکہ بیرونی ممالک سے بھی اس شعبے کے سرمایہ کار ہمارے صوبے میں سرمایہ کاری کریں اور یہاں کے باصلاحیت نوجوانوں کو روزگار کے مواقع ملے۔ انہوں نے کہا کہ امسال مئی کے مہینے میں عالمی سطح کا ڈیجیٹل ایکسپو خیبر پختونخوا میں منعقد کیا جائیگا جو ملک کا سب سے بڑا ڈیجیٹل ایکسپو ثابت ہوگا۔ انہوں نے کہا ”ڈان فیسٹ ” ایونٹ میں شرکت کرنے والے انٹر پرینیورز اور آرگنائزرز میں شیلڈز بھی تقسیم کئے۔
خیبر پختونخوا کے وزیر بلدیات ارشد ایوب خان کی زیر صدارت ایجوکیشنل ٹیسٹنگ
خیبر پختونخوا کے وزیر بلدیات ارشد ایوب خان کی زیر صدارت ایجوکیشنل ٹیسٹنگ اینڈ ایولویشن ایجنسی میں جدید اصلاحات کے حوالے سے ایک اعلیٰ سطح کا اجلاس بدھ کے روز محکمہ بلدیات کے کمیٹی روم میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں صوبائی وزیر زراعت میجر ریٹائرڈ سجاد بارکوال، ایگزیکٹو ڈائریکٹر ایجوکیشنل ٹیسٹنگ اینڈ اولییشن ایجنسی عادل سعید اور ایٹا کے دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔اجلاس میں ایگزیکٹو ڈائریکٹر ایٹا نے صوبائی وزراء کو ایٹا میں کمپیوٹر بیس ٹیسٹنگ، کمپیوٹرائز امتحانی پیپرز کی تیاری، اُمیدواروں سے ٹیسٹ لینے میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے استعمال، ایٹا کے تمام امور کو جدید تقاضوں کے مطابق کرنے اور سسٹم کی سولرائزیشن کے حوالے سے تفصیلی بریفننگ دی گئی۔اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے صوبائی وزیر بلدیات ارشد ایوب خان نے ایجوکیشنل ٹیسٹنگ اینڈ ایولویشن ایجنسی میں کی گئی جدید اصلاحات کو سراہا اور امید ظاہر کی کہ یہ ادارہ آگے بھی اسی طرح اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سرکاری، نیم سرکاری اور دیگر تمام اداروں میں میرٹ کی بنیادوں پر اُمیدواروں کا انتخاب کرے گا جس سے قابل اور ذہین لوگ اداروں میں آئینگے۔ انہوں نے کہا کہ ایٹا کو مزید فعال بنایا جائے گا تاکہ دیگر پرائیوٹ ٹیسٹنگ ایجنسیوں سے چٹکارا حاصل ہو سکے۔ارشد ایوب خان نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں میرٹ کو پروان چڑھانے اور مقابلے کے امتحانات میں نقل کی روک تھام کو ختم کرنے کیلئے ایجوکیشنل ٹیسٹنگ اینڈ ایولویشن ایجنسی کو ہر پلیٹ فارم پر صوبائی حکومت سے مدد فراہم کروائی جائے گی تاکہ یہ ادارہ مزید جدید خطوط پر استوار ہوسکے اور قابل، ذہین اور ہونہار لوگ آگے آسکیں اور حقدار کو اس کا حق صحیح معنوں میں مل سکے۔
مریم نوازچاہتی ہیں کہ عمران خان انہیں خط لکھیں، لیکن ان کی یہ حسرت کبھی پوری نہیں ہوگی۔بیرسٹر ڈاکٹر سیف
مشیر اطلاعات خیبرپختونخوا بیرسٹر ڈاکٹر سیف کا وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے بیان پر ردعمل
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر اطلاعات و تعلقات عامہ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے حالیہ بیان پر ردعمل کااظہارکرتے ہوئے کہا ہے کہ مریم نواز شریف چاہتی ہیں کہ چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان انہیں خط لکھیں، لیکن ان کی یہ حسرت کبھی پوری نہیں ہوگی۔ عمران خان عوام کے حقیقی لیڈر ہیں جبکہ مریم نواز شریف فارم 47 کی لیڈر کے طور پر پہچانی جاتی ہیں۔بیرسٹر محمد علی سیف نے مزید کہا کہ مریم نواز شریف عمران خان کے ہر منصوبے کی نقل کر رہی ہیں، چاہے وہ کینسر ہسپتال کی تعمیر ہو یا دیگر فلاحی اقدامات۔ ہر روز ان کی تقاریر میں عمران خان کا ذکر ضرور ہوتا ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ عمران خان کے سیاسی بیانیے اور عوامی مقبولیت سے خوفزدہ ہیں۔انہوں نے کہا کہ نواز شریف اور مریم نواز حکومت میں آکر بھی دکھی ہیں، جبکہ عمران خان جیل میں ہونے کے باوجود مسکرا رہے ہیں۔ عمران خان جیل میں قید ہو کر بھی آزاد ہیں اور عوام کے ہیرو ہیں، جبکہ حکومتی لوگ اقتدار میں رہ کر بھی زیرو ثابت ہو رہے ہیں۔مشیر اطلاعات خیبرپختونخوا نے مریم نواز شریف کو مشورہ دیا کہ وہ عمران خان پر تنقید کرنے کی بجائے عوام پر توجہ دیں، جو مہنگائی، بے روزگاری اور ملکی تاریخ کے سب سے بھیانک قرض تلے دب چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام کی فلاح و بہبود کے لیے عملی اقدامات کیے بغیر محض زبانی بیانات اور اعلانات سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔
وزیر اعلی خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے صنعت عبدالکریم تورڈھیر سے
وزیر اعلی خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے صنعت عبدالکریم تورڈھیر سے بدھ کے روز انکے دفتر میں پارکو پرل گیس پرائیویٹ لمیٹڈ کے ایک وفد نے نیشنل منیجر سید عمران رضوی کی سربراہی میں ملاقات کی اور ان کے ساتھ صوبے میں موجودہ اور نئے صنعتی زونز کے لیے توانائی و ایندھن کے ضروریات کے حوالے سے ایل پی جی گیس کی فراہمی کی تجویز پر تبادلہ خیال کیا۔ پرل گیس پرائیویٹ لمیٹڈ جو پاک عرب ریفائنری کی ذیلی کمپنی ہے اور صنعتی ترقی کے لیے مایہ پٹرولیم گیس کا حل فراہم کرنے والا ایک نمایاں ادارہ ہے۔وفد نے معاون خصوصی سے تبادلہ خیال کرتے ہوئے صوبے کی صنعتوں کیلئے ایل پی جی کے امکانی گنجائش کو شامل کرنے میں ممکنہ تعاون کی پیشکش کی۔انھوں نے بتایا کہ انکی کمپنی مختلف صنعتوں کو مایہ گیس سپلائی کرتی ہے اور گھریلوں صارفین کیساتھ ساتھ ملک بھر میں بڑی سطح کی صنعتیں ان کے صارفین میں شامل ہیں۔انھوں نے بتایا کہ صنعتی زونز میں اس سہولت کے حوالے سے سروے،ڈایزائننگ اور پائپ تنصیب و دیگر مراحل کے حوالے سے کمپنی صنعتوں کو اپنی مہارتوں پر مبنی مفت سہولیات بھی فراہم کرتی ہے۔اس موقع پر معاون خصوصی نے ایل پی جی گیس کی کمپنی کے پیشکش کا خیر مقدم کیا اور کہا کہ ممکنہ طور پر کمپنی کے تعاون کے امکانات کا جائزہ لیا جائے گا۔انھوں نے کہا کہ اس سلسلے میں یہ تعاون صنعتی شعبے کے پائیداری کے اہداف کو آگے بڑھانے میں معاون ہوگی۔معاون خصوصی نے کہا کہ توانائی اور ایندھن ضروریات کیلئے مایہ پٹرولیم گیس کی سہولت اور استعمال بلاشبہ ماحولیاتی تغیرات کے نقصانات سے بچاؤ کیلئے بھی ایک کوشش ہو سکتی ہے کیونکہ ایندھن کے مقاصد کیلئے لکڑی کے استعمال سے جنگلات کو نقصان پہنچ رہا ہے اور اس کے ذریعے ہم ماحولیاتی تبدیلیوں کے خطرات کا سامنا کررہے ہیں۔معاون خصوصی نے کہا کہ جہاں جہاں سے بھی صنعتوں کو سہولیات مل سکتی ہوں ہماری کوشش ہوگی کہ صنعتوں کی سہولت کیلئے ہر ممکن قدم اٹھائیں۔
خیبر پختونخوا کے وزیر قانون آفتاب عالم ایڈوکیٹ نے کہا ہے کہ حکومت ضم شدہ
خیبر پختونخوا کے وزیر قانون آفتاب عالم ایڈوکیٹ نے کہا ہے کہ حکومت ضم شدہ اضلاع کے وکلا اور بار کونسلز کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کے لیے بھرپور اقدامات کر رہی ہے۔ حکومتی سطح پر بار کونسلز کی مالی معاونت کے لیے ڈسٹرکٹ سطح پر اور تحصیل سطح پر گرانٹ فراہم کی جا رہی ہے، جو اس عزم کا واضح ثبوت ہے کہ حکومت وکلا برادری کے مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے سول سیکرٹریٹ پشاور میں ضم شدہ اضلاع کے بار کونسلز کے صدور اور جنرل سیکرٹریز کے ساتھ منعقدہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں ایڈوکیٹ جنرل خیبر پختونخوا نے خصوصی شرکت کی۔اس کے علاوہ جنوبی وزیرستان، باجوڑ، مومند، خیبر اور شمالی وزیرستان بار کونسلز کے صدور سمیت ضم شدہ اضلاع کے دیگر بار کونسل نمائندگان نے شرکت کی۔اجلاس میں ضم اضلاع کے بار کونسلز کو درپیش مسائل پر تفصیلی غور کیا گیا، جن میں بنیادی ڈھانچے کی بہتری، لائبریریوں کے قیام، بجلی کی فراہمی، بار کونسلز کی رجسٹریشن، گرانٹ مہیا کرنے کے لیے بینک اکاؤنٹس کھولنے میں آسانی، اور کار پارکنگ کی دستیابی شامل تھے۔صوبائی وزیر قانون نے حکومت کی جانب سے ضم شدہ اضلاع کی بار کونسلز کو مکمل تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ وکلا برادری کے تمام مسائل کو جلد از جلد حل کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ وکلا کے لیے بہتر سہولیات کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے، تاکہ وہ اپنے فرائض بہتر انداز میں انجام دے سکیں۔
محکمہ اعلیٰ تعلیم خیبر پختونخوا کے زیر اہتمام انٹر کالجزسپورٹس گالا 2025میں
محکمہ اعلیٰ تعلیم خیبر پختونخوا کے زیر اہتمام انٹر کالجزسپورٹس گالا 2025میں پشاور زون نے ایک بار پھر اپنی برتری ثابت کرتے ہوئے شاندار کامیابی حاصل کی اور جنرل ٹرافی اپنے نام کرلی مردوں کے مقابلوں میں گورنمنٹ کالج پشاور کے کھلاڑیوں نے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا، جبکہ خواتین کے کھیلوں میں گورنمنٹ سٹی گرلز کالج گلبہار کی طالبات نے شاندار کارکردگی کا دکھائی اور پشاور زون کی کامیابی میں نمایاں کردار ادا کیا۔مردوں کے مقابلوں میں گورنمنٹ کالج پشاور نے 42 پوائنٹس کے ساتھ اپنی برتری ثابت کرتے ہوئے ایک اور تاریخی کامیابی حاصل کی۔گورنمنٹ کالج پشاور کے کھلاڑیوں نے مجموعی طور پر 12 گیمز میں سے 9 میں نمایاں پوزیشنیں حاصل کیں، جن میں باسکٹ بال، والی بال، تھرو بال، سکواش، کبڈی اور فٹ بال میں پہلی پوزیشن شامل ہیں۔ جبکہ ہینڈ بال اور ٹیبل ٹینس میں دوسری اور چک بال میں تیسری پوزیشن حاصل کی اسی طرح خواتین کھیلوں میں گورنمنٹ سٹی گرلز کالج گلبہار کی طالبات نے اپنی مہارت اور صلاحیتوں کا لوہا منواتے ہوئے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ پشاور زون کے خواتین مقابلوں میں مجموعی طورپر 42 پوائنٹس حاصل کئے جن میں سٹی گرلز کالج گلبہار نے 30 پوائنٹس بناکر انٹرزونل صوبائی چیمپئن ٹرافی اپنے نام کرلی سٹی گرلز کالج کی طالبات نے باسکٹ بال، نیٹ بال، کرکٹ، تھرو بال اور ہاکی میں نمایاں کارکردگی دکھائی اور متعدد ٹرافیاں جیت کر اپنی برتری ثابت کی سٹی کالج کی پرنسپل پروفیسر رابعہ سکندر نے سپورٹس گالا میں شاندار کارکردگی پر تمام کھلاڑیوں کو مبارکباد اور شاباس دی انہوں نے کہا کہ سپورٹس گالا میں کالج کی کھلاڑیوں کا بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کا سہرا سپورٹس انچارج نجمہ ناز قاضی اور کوچ عبدالعلیم کو جاتاہے جن کی کھلاڑیوں کے ساتھ خوب محنت اور لگن سے کالج کی کھلاڑیوں نے سپورٹس گالا میں غیر معمولی کھیل پیش کیاگورنمنٹ کالج پشاور کے پرنسپل ڈاکٹر نادر خان بیٹنی نے بھی کالج کے کھلاڑیوں کی سپورٹس گالا میں بہترین کارکردگی کو سراہا اور کہا کہ صوبائی سپورٹس گالا میں کامیابی قابل اور تجربہ کار اساتذہ اور کوچز کی محنت نمایاں رہی۔
ہاؤسنگ منصوبے بغیر کسی تاخیر کے مکمل کیئے جائیں۔ ڈاکٹر امجد علی
حکومت کی کوشش ہے کہ صوبے کے عوام کو بہترین رہائشی سہولیات فراہم کی جائیں۔ معاون خصوصی برائے ہاؤسنگ
وزیراعلیٰ خیبر پختونخواکے معاون خصوصی برائے ہاؤسنگ ڈاکٹر امجد علی کی زیر صدارت بدھ کے روز محکمہ ہاؤسنگ کے جاری منصوبوں سے متعلق ایک جائزہ اجلاس پشاور میں منعقد ہوا جس میں ضلع دیر کے سابق منتخب ایم این اے گلدادخان، سیکرٹری ہاؤسنگ خیام حسن، ڈائریکٹر جنرل ہاؤسنگ عمران وزیر، ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل عامر زیب اور دیگر افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں سیکرٹری ہاؤسنگ نے جاری منصوبوں پر معاون خصوصی کو بریفنگ دیتے ہوئے اب تک کی پیش رفت سے آگاہ کیا۔ڈاکٹر امجد علی نے بریفنگ میں گہری دلچسپی کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ تمام ہاؤسنگ منصوبے بغیر کسی تاخیر کے مکمل کیئے جائیں۔ انہوں نے نیو پشاور ویلی منصوبے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ منصوبہ تمام ہاؤسنگ منصوبوں میں سب سے زیادہ رقبہ پر محیط ہے اور وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے ہاؤسنگ ڈیپارٹمنٹ پر اعتماد کرتے ہوئے اس منصوبے کی ذمہ داری پی ڈی اے سے لے کر ہاؤسنگ ڈیپارٹمنٹ کے حوالے کی ہے تاکہ اس کی تکمیل بروقت ممکن ہو سکے۔ معاون خصوصی نے مزید ہدایت کی کہ نیو پشاور ویلی منصوبہ عوام کی توجہ کا مرکز بن چکا ہے، اسے انتہائی محنت اور توجہ کے ساتھ وزیراعلیٰ خیبر پختونخواکے وژن کے مطابق مکمل کیا جائے تاکہ صوبے کے عوام کو بہترین رہائشی سہولتیں فراہم ہوسکیں۔اسی طرح بنوں گل سٹی منصوبہ بھی اہمیت کا حامل ہے اور اس منصوبے کو بھی جلد ازجلد مکمل کرنے کے لئے بھر پور اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کی کوشش ہے کہ عوام کو جدید سہولیات سے آراستہ رہائش فراہم کی جائیں اور اس سلسلے میں تمام تر وسائل کو بروئے کار لایا جا رہا ہے
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے احکامات پر سال 2025 کی شجرکاری مہم کا آغاز ہو گیا
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے احکامات پر سال 2025 کی شجرکاری مہم کا آغاز ہو گیا ہے۔ اس سلسلے میں محکمہ ماہی پروری خیبر پختونخوا کے زیر اہتمام محکمہ جنگلات کے تعاون سے پشاور کارپ ہچری اینڈ ٹریننگ سنٹر میں شجر کاری مہم کا افتتاح کیا گیا اور صوبے کے باقی اضلاع میں بھی شجر کاری کرنے کے احکامات جاری کرگئے گئے۔ اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل فشریز محمد ارشد عزیز نے شجر کاری کی اہمیت پہ روشنی ڈالی اور مہم کی کامیابی کیلئے دعا کی۔ شجر کاری کی اس تقریب میں افسران ڈائریکٹر فشریز امیر حمزہ، الیاس خٹک اور فواد خلیل بھی موجود تھے جبکہ محکمہ جنگلات کی طرف سے ایس ڈی ایف او پشاور عبدالستار نے نمائندگی کی اور ماحول کو سرسبز بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین خان گنڈا پور کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کا
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین خان گنڈا پور کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کا 24 واں اجلاس پیر کے روز پشاور میں منعقد ہوا، جس میں مختلف اہم امور پر غور کیا گیا۔ اجلاس میں کابینہ کے اراکین، چیف سیکرٹری شہاب علی شاہ، ایڈیشنل چیف سیکرٹریز، سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو، انتظامی سیکرٹریز اور ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا نے شرکت کی۔اجلاس میں ضلع کرم میں پائیدار امن کے قیام کے لیے حکومتی فیصلوں پر عملدرآمد کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے کابینہ کو آگاہ کیا گیا کہ گزشتہ سال اکتوبر سے اب تک کرم میں مختلف واقعات کے دوران 189 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔ تاہم، صوبائی حکومت کی مسلسل کاوشوں کے نتیجے میں ایک امن معاہدہ طے پایا جس سے علاقے میں امن اور معمولات زندگی بحال ہوئے۔ عوام کو ضروری اشیاء کی بلاتعطل فراہمی یقینی بنانے کے لیے اب تک 718 گاڑیوں پر مشتمل 9 قافلے کرم بھیجے جا چکے ہیں، تاکہ علاقے میں اشیائے ضروریہ کی قلت نہ ہو۔ مزید برآں، وزیراعلیٰ کی ہدایت پر کرم کے لیے ہیلی کاپٹر سروس بھی شروع کی گئی ہے، جس کے تحت اب تک 153 پروازوں کے ذریعے تقریباً 4000 افراد کو سفری سہولت فراہم کی جا چکی ہے، جبکہ 19,000 کلو گرام ضروری طبی ادویات بھی فراہم کی گئی ہیں۔کابینہ کو مزید بتایا گیا کہ امن معاہدے اور کابینہ کے فیصلے کے مطابق کرم میں غیر قانونی بنکرز کے خاتمے کا عمل جاری ہے اور اب تک 151 بنکرز کو مسمار کیا جا چکا ہے جبکہ تمام بنکروں کے مکمل خاتمے اور علاقے کو اسلحہ سے پاک کرنے کی ڈیڈلائن 23 مارچ مقرر کی گئی ہے۔ کابینہ نے باقی ماندہ غیر قانونی بنکروں کے خاتمے کے لیے درکار ایکسپلو سیوز خریدنے کے لئے 98.3 ملین روپے کے فنڈز کی منظوری دی۔کرم روڈ کی سیکیورٹی کو مؤثر بنانے کے لیے کابینہ پہلے ہی ایک خصوصی سیکورٹی فورس کے قیام کی منظوری دے چکی ہے، اور اس سلسلے میں عارضی اور مستقل سیکیورٹی چوکیاں قائم کرنے کا کام جاری ہے۔ مجموعی طور پر 120 سیکیورٹی چوکیاں قائم کی جائیں گی، جبکہ 407 اہلکاروں کی بھرتی کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔ کابینہ کے اجلاس میں ان چوکیوں کے لیے 764 ملین روپے مالیت کے ضروری سامان کی فراہمی کی بھی منظوری دی گئی۔ وزیراعلیٰ نے اس موقع پر ہدایت کی کہ سیکیورٹی چوکیوں کو ایسے مقامات پر قائم کیا جائے جہاں سے دور دراز سے ہونے والے حملوں کی مؤثر نگرانی اور انسداد ممکن ہو تاکہ شہریوں کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔کابینہ نے کرم میں متاثرہ انفراسٹرکچر کی بحالی کے منصوبوں کا بھی جائزہ لیا۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ تباہ شدہ بگن بازار کی بحالی کے لیے 480 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں اور جلد ہی اس منصوبے پر کام شروع کیا جائے گا۔ وزیراعلیٰ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ خیبرپختونخوا حکومت ضلع میں دیرپا امن، ترقی اور استحکام کو یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کر رہی ہے۔اسی طرح کابینہ نے کرم میں موجود 1645 میٹرک ٹن پاسکو امپورٹڈ گندم عوام کو جاری کرنے کی منظوری بھی دی۔کابینہ نے صوبائی مینجمنٹ سروس (پی ایم ایس) امیدواروں کے لیے یک وقتی پانچ سالہ عمر میں رعایت اور چار امتحانی مواقع فراہم کرنے کی منظوری دی، کیونکہ گذشتہ کئی برسوں سے مقابلے کے امتحانات منعقد نہیں ہو سکے تھے اور متعدد امیدوار مسائل سے دوچار تھے۔ اجلاس میں متعلقہ حکام کو ہدایت کی گئی کہ آئندہ یہ امتحانات سالانہ بنیادوں پر مستقل طور پر منعقد کیے جائیں۔کابینہ نے ڈی آئی خان ایریگیشن سرکل میں پہلے سے موجودٹیوب ویلز کو فعال طور پر چلانے کے لیے مختلف اسامیوں کے قیام کی منظوری دی۔اجلاس میں شمالی وزیرستان میں جون 2014 سے رجسٹرڈ بے گھر افراد (ٹی ڈی پیز) کے لیے ماہانہ راشن الاؤنس کی مد میں 359 ملین روپے جاری کرنے کی منظوری دی گئی۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ اپریل 2021 سے ورلڈ فوڈ پروگرام نے بے گھر افراد کے لیے خشک خوراک کی فراہمی بند کر دی تھی اور وفاقی حکومت کی فراہم کردہ فنڈنگ بھی ختم ہو چکی ہے۔ اس لیے کابینہ نے فیصلہ کیا کہ وفاقی حکومت سے مزید فنڈز کے اجرا کی درخواست کی جائے گی اور بے گھر افراد کی بحالی کے لیے جامع منصوبہ ترتیب دیا جائے گا۔کابینہ نے صوبائی اسمبلی کی قرارداد نمبر 123 کو وفاقی حکومت کو بھیجنے کی منظوری دی، جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ خیبرپختونخوا کے تمام ڈویژنل ہیڈکوارٹرز خصوصاً ایبٹ آباد اور سوات میں وزارت خارجہ کے کیمپ دفاتر قائم کیے جائیں تاکہ طلبہ کی اسناد کی تصدیق سے متعلق مسائل حل کیے جا سکیں۔ مزید برآں، صوبائی ٹرانسپورٹ اتھارٹی کی ازسرنو تشکیل اور اس کے تین غیر سرکاری اراکین کی نامزدگی کی منظوری دی گئی۔ اسی طرح، انسداد منشیات ایکٹ اور صوبائی ایکسائز ڈیوٹی کے نفاذ سے متعلق قانونی امور کے دفاع کے لیے پرائیویٹ قانونی ماہرین کی خدمات حاصل کرنے کی بھی منظوری دی گئی۔ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن خیبرکے لیے امدادی گرانٹ کی بھی منظوری دی گئی۔کابینہ نے ضلع بنوں میں 20 کلومیٹر طویل ”بڈا میر عباس تا سرائے نورنگ” اور 15 کلومیٹر طویل ”کچا بچک میا خیل تا شگی مچن خیل” سڑکوں کی تعمیر، بحالی اور بہتری کے منصوبوں کی منظوری دی۔ اس کے علاوہ صوبائی شاہراہوں پر ایکسل لوڈ کنٹرول کے نفاذ کی منظوری بھی دی گئی۔کابینہ نے ”ڈی آئی خان کے لیے انٹیگریٹڈ ڈیویلپمنٹ پیکج” کے عنوان سے ایک نان اے ڈی پی منصوبے کی بھی منظوری دی، جس کے تحت رواں مالی سال میں ابتدائی طور پر 2000 ملین روپے مختص کیے جائیں گے۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ ڈی آئی خان میں غربت کی شرح 66 فیصد، نکاسی آب کی عدم دستیابی 55 فیصد، اور سماجی تحفظ کی عدم دستیابی 48.2 فیصد ہے۔ مزید برآں، پانچ سال سے کم عمر بچوں میں نشوونما کی کمی 45.8 فیصد اور غذائی قلت 10.8 فیصد ہے، جس کی بہتری کے لیے صحت، تعلیم، بنیادی ڈھانچے اور سماجی تحفظ جیسے شعبوں پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے۔کابینہ نے ”خیبرپختونخوا لوکل گورنمنٹس پراپرٹی لیز رولز 2025” کی منظوری بھی دی تاکہ بلدیاتی اداروں کی جائیدادیں منصفانہ مارکیٹ نرخوں پر دی جا سکیں۔مزید برآں، کابینہ کو ”خیبرپختونخوا میں رہائشی و غیر رہائشی عمارات کی تعمیر – فیز 1” کے منصوبے کی لاگت میں اضافے سے آگاہ کیا گیا، جو 651 ملین سے بڑھ کر 888.609 ملین روپے ہو گئی ہے۔ وزیراعلیٰ نے سرکاری ملازمین کے رہائشی مسائل کے حل کے لیے پشاور میں بلند و بالا رہائشی عمارتوں کی تعمیر کا منصوبہ تیار کرنے کی بھی ہدایت کی، تاکہ آئندہ اے ڈی پی میں اسے شامل کیا جا سکے۔اجلاس میں وزیراعلیٰ کے مشیر برائے انسداد بدعنوانی مصدق عباسی نے انسداد بدعنوانی سے متعلق آگاہی مہم کے خدوخال پر کابینہ کو بریفنگ دی۔ وزیراعلیٰ نے ایمانداری کا مظاہرہ کرنے والے افراد کے لئے ایوارڈز کے اجراء اور بدعنوانی کے خاتمے کے لیے قواعد و ضوابط کے نفاذ پر زور دیا۔ انہوں نے مزید ہدایت کی کہ تعلیمی اداروں کے اندر صبح کی اسمبلی میں قرآن پاک کی تلاوت کے بعد درود شریف پڑھنے کا آغاز کیا جائے۔اجلاس کے آغاز میں وزیراعلیٰ نے نئے چیف سیکرٹری شہاب علی شاہ کو خوش آمدید کہا اور امید ظاہر کی کہ وہ اپنے سابقہ تجربات کی روشنی میں صوبے میں گڈ گورننس کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔ ساتھ ہی انہوں نے سابق چیف سیکرٹری ندیم اسلم چوہدری کی خدمات کو بھی سراہا۔
مصنوعی مہنگائی، ذخیرہ اندوزی اور غیر معیاری خوراک کا کاروبارو کرنے والوں کے خلاف سخت اقدامات اٹھائے جائیں گے، وزیر خوراک ظاہر شاہ طورو
وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی آمین گنڈاپور اور وزیر خوراک ظاہر شاہ طورو کی ہدایت پر محکمہ خوراک نے رمضان المبارک کے دوران اشیائے خوردونوش کی دستیابی، قیمتوں کو کنٹرول میں رکھنے اور غیر معیاری اشیاء کے تدارک کے لیے جامع حکمت عملی مرتب کر لی ہے۔محکمہ خوراک نے صوبے بھر میں مصنوعی مہنگائی، ذخیرہ اندوزی اور ناقص معیار کی خوراک کے خلاف مؤثر کارروائی کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں۔ رمضان حکمتِ عملی کے حوالے سے صوبائی وزیر خوراک ظاہر شاہ طورو نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھارٹی کی ٹیمیں رمضان میں خوراکی اشیاء کی خصوصی چیکنگ کریں گی تاکہ شہریوں کو معیاری اور محفوظ خوراک کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔وزیر خوراک کا کہنا تھا کہ فوڈ اتھارٹی کی ٹیمیں پشاور سمیت صوبے کے دیگر بڑے شہروں کے داخلی راستوں پر ناکہ بندیوں کے دوران غیر معیاری اشیاء کی روک تھام کو یقینی بنائیں گی۔ اسکے علاؤہ رمضان سے قبل دودھ سے بنی مصنوعات جیسے ملک شیکس، سنیکس، آئسکریم اور دیگر خوراکی اشیاء کے خام مال کی خصوصی انسپکشن بھی کی جائے گی۔صوبائی وزیر نے کہا کہ رمضان و پیشگی حکمتِ عملی کے تحت ڈویژنل سطح پر ڈپٹی ڈائریکٹر فوڈ اور متعلقہ اضلاع کے ڈسٹرکٹ فوڈ کنٹرولرز کی نگرانی میں خصوصی ٹیمیں ذخیرہ اندوزوں کے خلاف چھاپے ماریں گی، جبکہ رمضان کے دوران مارکیٹ میں اشیائے خوردونوش کی دستیابی اور قیمتوں کی سخت نگران بھی کرے گی۔ا ظاہر شاہ طورو نے خوراک سے منسلک کاروبار کرنے والوں کو خبردار کیا کہ مصنوعی مہنگائی، ذخیرہ اندوزی اور غیر معیاری خوراک میں ملوث عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ وزیر خوراک نے شہریوں سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ ذخیرہ اندوزوں اور غیر معیاری خورا کے کاروباریوں کی نشاندہی کے لیے محکمہ خوراک کو بروقت اطلاع دیں تاکہ ان کے خلاف فوری ایکشن لیا جا سکے۔وزیر خوراک ظاہر شاہ طورو نے کہا کہ صوبائی حکومت شہریوں کی صحت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی اور رمضان المبارک میں معیاری اور سرکاری ریٹس پر خوراکی اشیاء کی فراہمی ہر صورت یقینی بنائے گی۔
