پاکستان تحریک انصاف ملاکنڈ ریجن کے صدر و صوبائی وزیر لائیو سٹاک فضل حکیم خان نے کہا ہے کہ صوابی جلسہ میں لوگوں کا جم غفیر اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ خیبرپختونخوا پاکستان تحریک انصاف کاگڑھ تھا، گڑھ ہے اورگڑھ رہے گا پاکستان تحریک انصاف کی کارکردگی سے عوام مطمئن ہیں اور صوابی جلسہ میں عوامی سیلاب اس اطمینان کا کھل کر اظہارہے انہوں نے کہا کہ جلسے میں بھر پور شرکت پر خیبرپختونخوا خصوصاً ملاکنڈ ڈویژن کے کارکنوں کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں ان خیالات کا اظہار انہوں نے خصوصی پیغام میں گفتگو کرتے ہوئے کیا صوبائی وزیر فضل حکیم خان کا کہنا تھا کہ ملاکنڈ ڈویژن کے کارکنان اور عوام قائد عمران خان کے ساتھ ڈٹ کر کھڑے ہیں، فارم 47 کی وفاقی حکومت نے ملک کا ستیا ناس کر دیا ہے، حکومت کو عمران خان کو رہا کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں بچا، صوابی جلسہ فارم 47 وفاقی حکومت کیخلاف ریفرنڈم تھا اس جلسہ میں ملاکنڈ ڈویژن کے عوام کی بھر پور شرکت نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ عمران خان کے ساتھ ہیں انہوں نے کہا کہ ملاکنڈڈویژن کے عوام اور پی ٹی آئی کارکنان نے ہمیشہ پاکستان تحریک انصاف پر اعتماد کا اظہار کیا ہے ان کا بدلہ انشا ء اللہ خدمت کی صورت میں دینگے۔
خیبر پختونخوا حکومت نے طلبا ؤ طالبات میں مصنوعی ذہانت سے متعلق آگاہی پیدا کرنے کا
خیبر پختونخوا حکومت نے طلبا ؤ طالبات میں مصنوعی ذہانت سے متعلق آگاہی پیدا کرنے کا فیصلہ کیا ہے، محکمہ اعلیٰ تعلیم خیبر پختونخوا نے آگاہی پلان مرتب کرنے کیلئے 4رکنی کمیٹی تشکیل دیدی، محکمہ اعلیٰ تعلیم سے جاری ہونے والے اعلامیہ کے مطابق کمیٹی مصنوعی ذہانت کی نجی اور سرکاری جامعات اور کالجز میں آگاہی کیلئے آگاہی پلان مرتب کریگی، کمیٹی کے کنوینئر مشیر کوالٹی اشورنس سیل محکمہ اعلیٰ تعلیم پروفیسر ڈاکٹر شفیق الرحمن ہونگے۔اپنے ایک بیان میں خیبر پختونخوا کے وزیر برائے اعلیٰ تعلیم مینا خان آفریدی کا طلبا ء و طالبات میں مصنوعی ذہانت سے متعلق آگاہی پیدا کرنے کے بارے میں کہنا تھا کہ دنیا بھر میں بیشتر کام اب مصنوعی ذہانت کی مدد سے کئے جا رہے ہیں خیبر پختونخوا کے طلباء و طالبات میں بھی مصنوعی ذہانت کی آگاہی لازمی ہے انہوں نے کہا کہ کمیٹی ایک ہفتے کے اندر اندر اپنی سفارشات اور آگاہی پلان پیش کردے گی اور کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں آگاہی پلان پر عمل درآمد کی منصوبہ بندی کی جائیگی۔
توانائی شعبے میں نجی سرمایہ کاری سے صوبے کی معیشت کو مزید مستحکم کیا جاسکتاہے،انجینئرطارق سدوزئی
چینی سرمایہ کارکمپنی کی خیبرپختونخوامیں سٹیل ملز لگانے میں دلچسپی
سوات کوریڈورسے 120میگاواٹ سستی پن بجلی کی خریداری کے لئے خیبرپختونخواحکومت سے رابطہ
توانائی شعبے میں نجی سرمایہ کاری سے صوبے کی معیشت کو مزید مستحکم کیا جاسکتاہے،انجینئرطارق سدوزئی
چین کی ایک سرمایہ کار کمپنی نے خیبرپختونخوامیں سٹیل ملزلگانے کے لئے توانائی کے شعبے میں دلچسپی ظاہر کرتے ہوئے چکدرہ سوات کوریڈورسے 120میگاواٹ سستی پن بجلی کی خریداری کے لئے خیبرپختونخواحکومت سے رابطہ کیا ہے۔اس سلسلے میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخواکے معاون خصوصی برائے توانائی انجینئرطارق سدوزئی سے چینی سرمایہ کارکمپنیChina Century Steel Millsکے ایک وفد نے انکے دفتر میں خصوصی ملاقات کی۔ اس موقع پر انجینئرطارق سدوزئی نے کہا ہے کہ صوبے میں توانائی کا شعبہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے نجی شعبے کی سرمایہ کاری سے صوبے میں توانائی کے قدرتی وسائل کو استعمال میں لا کرمعیشت کو مزید مستحکم کیا جاسکتاہے۔ خیبرپختونخوامیں بجلی کے ترسیلی نظام کومزید بہترطریقے سے چلانے کے لئے صوبے کی تاریخ میں پہلی مرتبہ قائم ہونے والی خیبرپختونخوا ٹرانسمیشن اینڈ گرڈکمپنی(KPT&GC) جلد ہی پیڈوکے مکمل ہونے والے منصوبوں سے پیداہونے والی سستی بجلی کواپنے نظام سے استعمال میں لاکر نئی تاریخ رقم کرے گی جوصوبے اوراسکے عوام کے لئے ایک اعزاز سے کم نہیں ہے۔ ایڈوائزرپاورطلاء محمدنے بریفنگ دیتے ہوئے بتایاکہ KPٹرانسمیشن اینڈ گرڈکمپنی صوبے میں بجلی کے ترسیلی نظام کی بہتری کے لئے 3میگاپراجیکٹس شروع کرے گی اوراس سلسلے میں رواں سال کالام سے مدین تک 40کلومیٹرطویل ٹرانسمیشن لائن بچھائی جائے گی جس پر 8ارب روپے خرچ ہونگے جو18ماہ کی مدت میں مکمل کی جائے گی۔ اسی طرح دوسرے مرحلے میں مدین سے چکدرہ تک 80کلومیٹرطویل ٹرانسمیشن لائن بچھائی جائے گی جس پر 16سے18ارب روپے لاگت کاتخمینہ لگایا گیاہے یہ منصوبہ48ماہ میں مکمل کیا جائے گا۔انہوں نے بتایاکہ تیسرے مرحلے میں پیڈوکے موجودہ171میگاواٹ کے تکمیل شدہ اورمزید1000میگاواٹ کے جاری منصوبوں سے پیداہونے والی سستی بجلی کوایک LOOPکے ذریعے ترسیل کا ایک جدید نظام مرتب کامنصوبہ بھی شروع کیا جائے گا۔اس موقع پر چینی سرمایہ کاروفد نے بجلی کے ترسیلی نظام کی بہتری کے لئے مجوزہ منصوبوں میں سرمایہ کاری کرنے میں دلچسپی ظاہرکی۔ معاون خصوصی طارق سدوزئی نے چینی سرمایہ کا ری کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے صوبے کی ترقی وخوشحالی کی طرف ایک مثبت اقدام قراردیاہے۔
خیبر پختونخوا کے وزیر آبپاشی عاقب اللہ خان نے کہا ہے کہ صوبہ میں نہروں کی
خیبر پختونخوا کے وزیر آبپاشی عاقب اللہ خان نے کہا ہے کہ صوبہ میں نہروں کی جاری صفائی مہم کا خود نگرانی کررہا ہوں، صفائی مہم کے لئے مختص فنڈ صرف اسی مقصد کے لئے ہی استعمال ہوگا، غفلت برتنے والوں کے ساتھ رعایت نہیں ہوگی. ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز ضلع صوابی میں نہروں کی جاری صفائی مہم کا معائنہ کرتے وقت میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا. صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ مہم کی کامیابی اور اس کی بروقت تکمیل کے لئے مانیٹرنگ ٹیمیں بنائیں گئی ہیں. وزیر آبپاشی نے عوامی نمائندوں سے بھی اپیل کی کہ وہ بھی اس مہم پر کھڑی نظر رکھے تاکہ معیاری کام یقینی ہوسکے. عاقب اللہ خان نے صفائی مہم کے دوران سڑکوں اور متعلقہ مقامات کا خیال رکھنے پر بھی زور دیا. انہوں نے ہدایات جاری کیں کہ نہروں سے نکالے جانے والے کیچڑ کو ہر ایس او پیز کے تحت منتقل کیا جائے. وزیر آبپاشی نے کہا کہ زمہ داریوں میں غفلت برتنے والوں کے ساتھ رعایت نہیں ہوگی. انہوں نے عوام سے بھی نہروں میں کوڑا کرکٹ نا پھینکنے کی اپیل کی. صوبائی وزیر آبپاشی عاقب اللہ خان کا مزید کہنا تھا کہ نہروں کی صفائی مہم کے مکمل ہونے کے بعد زمینداروں کو پانی کی دستیابی میں آسانی ہوگی.
معاونِ خصوصی برائے سائنس و انفارمیشن ٹیکنالوجی ڈاکٹر شفقت ایاز کی باجوڑآمد،
معاونِ خصوصی برائے سائنس و انفارمیشن ٹیکنالوجی ڈاکٹر شفقت ایاز کی باجوڑآمد، باجوڑ میں قائم ڈیجیٹل کنیکٹ کا دورہ کیا اور گریجویشن کی تقریب میں شِرکت کی۔ معاونِ خصوصی ڈاکٹر شفقت ایاز نے تقریب سے خِطاب کرتے ہوئے کہا کہ نئے ضم اضلاع میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے کو فروغ دینا ہماری اولین ترجیح ہے۔ آج کے دور میں ٹیکنالوجی ہر شعبے کی بنیاد بن چکی ہے، اور ہم چاہتے ہیں کہ یہاں کے نوجوان بھی اس ترقی کا حصہ بنیں۔ ڈاکٹر شفقت ایاز نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم اضلاع کی ہر ممکن تعاون کرے گی۔ ہم نے اسٹارٹ اپس کو فروغ دینے، ٹیکنالوجی پارکس قائم کرنے، اور نوجوانوں کو جدید ٹریننگ دینے کے لیے بڑے منصوبے شروع کیے ہیں، اس موقع پر ایم پی اے ڈاکٹر حمید الرحمان،سابق ایم این اے گل ظفر خان،صوبائی ڈپٹی کنوینئر ائی ایس ایف خیبرپختونخوا ڈاکٹر حضرت یوسف دانش اور ڈپٹی کمشنر باجوڑ بھی موجود تھے۔ آخر میں معاونِ خصوصی نے تقریب کے اختتام پر گریجویٹ ہونے والے طلباء میں اسناد تقسیم کیں۔
مشیر صحت احتشام علی کی میڈیکل سپرنٹنڈنٹس کو ہسپتال کے انتظامی امور پر توجہ دینے، صبح شام ہسپتا کے مختلف شعبہ جات کے دورے کرنے اور صفائی ستھرائی سمیت دیگر امور پر دھیان د ینے کی ہدایت
مشیر صحت احتشام علی نے ہسپتالوں کے مسلسل دوروں کے بعد میڈیکل سپرنٹنڈنٹس کو ہدایات جاری کردی ہیں۔ ڈائریکٹوریٹ جنرل ہیلتھ سروسز کی جانب سے کٹیگری اے، بی، سی اور ڈی ہسپتالوں کے تمام ایم ایس کو مراسلہ جاری کیا گیا جس میں لکھا گیا ہے کہ وزیراعلیٰ کے مشیر برائے صحت کے مختلف ہسپتالوں کے حالیہ دوروں کے حوالے سے، تمام متعلقہ میڈیکل سپرنٹنڈنٹس کو ہدایت کی ہے کہ وہ روزانہ صبح اور شام کے اوقات میں ہسپتال کی نگرانی کیلئے مختلف شعبوں کے دورے کریں۔ ان ہدایات کے مطابق ہسپتال کے تمام شعبے بشمول وارڈز، او پی ڈی، تشخیصی شعبے، واش رومز صاف اور حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق ہونے چاہئیں۔ہدایات میں مزید کہاگیا ہے کہ وارڈز میں مریضوں کے داخلے اور ڈسچارج رجسٹرز کا جائزہ لیں تاکہ ڈی ایچ آئی ایس-2 کے اصولوں کے مطابق درست اندراجات کیے جائیں۔ایم ایس کو ہدایت کی گئی ہیں کہ وارڈز میں بستروں کی دستیابی اور حالت کا جائزہ لیں تاکہ بستر کی چادریں صاف ہوں اور مناسب دیکھ بھال کی جائے۔خط کے متن کے مطابق ایم ایس تصدیق کریں کہ کنسلٹنٹس، اسپیشلسٹ، اور میڈیکل افسران صبح اور شام کی شفٹوں میں اپنی مقررہ ڈیوٹی کریں۔ مزید لکھا گیا ہے کہ نرسنگ عملے اور پیرا میڈیکس کی موجودگی یقینی بنائیں۔تشخیصی شعبوں کی کارکردگی اور افادیت کی نگرانی کریں تاکہ تمام نتائج درست طریقے سے درج کیے جائیں۔مراسلے میں لکھا گیا ہے کہ ایم ایس او پی ڈی خدمات کے آپریشنل معیار کا جائزہ لیں اور مریضوں کی جانچ پڑتال کے مناسب ریکارڈ کو یقینی بنائیں۔اسی طرح کنسلٹنٹس کی وارڈز میں روزانہ دو مرتبہ راؤنڈ یقینی بنائیں تاکہ مریضوں کے مسائل کو بہتر طریقے سے حل کیا جا سکے۔مزید ہدایت کی گئی ہے کہ میڈیکل افسران اور اسپیشلسٹس کی ڈیوٹیز سرکاری ہدایات کے مطابق یقینی بنائیں۔ان ہدایات میں ہسپتال کے آپریشنز، ڈیوٹی روسٹرز، اور عملے کے نظم و ضبط کو یقینی بنانا، ضروری طبی سامان کی دستیابی کا جائزہ لینے، مریضوں کے علاج میں بروقت اقدامات کرنے سمیت ایمرجنسی خدمات کے لیے 24/7 تیاری کو یقینی بنانا شامل ہیں۔مراسلے میں ایم ایس کو یہ بھی ہدایت کی گئی ہے میڈیکل، پیرا میڈیکل اور انتظامی عملے کی کارکردگی کا جائزہ لیں اور حکومتی پالیسیوں اور طبی اخلاقیات پر عملدرآمد یقینی بنائیں۔ایم ایس کو انفیکشن کنٹرول کرنے کیلئے اقدامات اُٹھانے، مالی امور، بجٹ، اور خریداری کے عمل میں شفافیت کو یقینی بنانے اور تمام عملے کی بایومیٹرک حاضری کو یقینی بنانے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔
خیبر پختونخوا کے وزیر محنت فضل شکور خان کا ہزارہ ڈویژن کا دورہ، سکی کناری ہائیڈرو پاور پراجیکٹ پر کام کرنے والے مزدوروں کے مسائل کے حل کرنے کیلئے اقدامات اٹھانے کی ہدایت
خیبر پختونخوا کے وزیر محنت فضل شکور خان نے جمعرات کے روز ہزارہ ڈویژن کا ایک روزہ دورہ کیا جہاں انہوں نے کمشنر ہزارہ ڈویژن کے دفتر میں سکی کناری ہائیڈرو پاور پراجیکٹ بالاکوٹ پر کام کرنے والے مزدوروں کے مسائل فوری حل کرنے کے لیے اجلاس منعقد کیا اور احکامات جاری کیے۔ صوبائی وزیر محنت کی صدارت میں ہونے والے اجلاس میں کمشنر ہزارہ ڈویژن سید ظہیر الاسلام، وائس کمشنر ایمپلائز سوشل سیکورٹی انسٹیٹیوٹ خورشید عالم، ڈائریکٹر محکمہ محنت عرفان اللہ اور ڈپٹی ڈائریکٹر محکمہ لیبر ثاقب خان، سکی کناری ہائیڈرو پاور پراجیکٹ پر کام کرنے والے مزدوروں کی نمائندہ شاہین لیبر یونین کے عہدیداران اور کنٹریکٹرز شامل تھے۔ اس موقع پر ایمپلائز سوشل سیکورٹی انسٹیٹیوٹ (ای ایس ایس آئی) کے وائس کمشنر کی جانب سے ادارے کے اغراض و مقاصد پر بریفنگ دی گئی جبکہ ہزارہ ڈویژن خصوصاً سکی کناری ہائیڈرو پاور پراجیکٹ پر کام کرنے والی لیبر سے متعلق مسائل سے اجلاس کو آگاہ کیا گیا۔ اس موقع پر بتایا گیا کہ ای ایس ایس آئی بغیر حکومتی فنڈنگ کے مکمل طور پر کنٹیریبوش کی بنیاد پر کام کرتے ہوئے مختلف کمرشل و صنعتی یونٹس میں کام کرنے والے مزدوروں کو میڈیکل اور کیش امداد فراہم کرتا ہے۔ صوبائی وزیر محنت فضل شکور خان نے مزدور یونین کے مسائل کو غور سے سنا اور موقع پر ان کے حل کے لیے احکامات جاری کرتے ہوئے کہا کہ سکی کناری ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کے مزدوروں کی نمائندہ یونین تین دن کے اندر اندر وفات پانے والے مزدوروں کے کیسز متعلقہ کنٹریکٹر کمپنی کے پاس جمع کروائے جبکہ کنٹریکٹر کمپنیسات دن کے اندر ان کیسز کی جانچ پڑتال کرکے ڈپٹی ڈائریکٹر محکمہ لیبر کو آگاہ کرے۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ صوبائی حکومت مزدوروں کے حقوق سے متعلق اپنے فرائض سے بخوبی آگاہ ہے اور اس سلسلے میں وزیراعلی خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کی قیادت میں بھر پوراقدامات اٹھائے گئے ہیں۔ خیبرپختونخوا کی صوبائی حکومت نے حال ہی میں مزدوروں کی ماہانہ اجرت 32 ہزار سے بڑھا کر 36 ہزار کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ محنت مزدوروں کی فلاح و بہبود کیلیے ہر ممکن اقدامات اٹھا رہا ہے۔ اس موقع پر کمشنر ہزارہ ڈویژن سید ظہیر الاسلام نے کہا کہ سکی کناری ہائیڈرو پاور پراجیکٹ پر کام کرنے والے مزدوروں اور ان کی نمائندہ یونین کے لیے ان کے دفتر کے دروازے ہر وقت کھلے ہیں۔ انہوں نے ڈائریکٹر محکمہ لیبر کو ہدایت کی کہ جانبحق مزدوروں کے گریجویٹی کے کیسز ایک ماہ اندر اندر نمٹائے جائیں۔ بعد ازاں صوبائی وزیر محنت فضل شکور خان ایبٹ آباد شہر میں ایمپلائز سوشل سیکورٹی انسٹیٹیوٹ کے تحت قائم ڈسپنسری کا بھی دورہ کیا اور وہاں مہیاء کی جانے والی طبی سہولیات کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر انہوں نے عملے سے ملاقات کی اور انہیں محنت و لگن سے اپنے فرائض منصبی انجام دینے کی تاکید کی۔
رمضان میں مصنوعی مہنگائی اور ذخیرہ اندوزی کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی، وزیر خوراک ظاہر شاہ طورو
صوبہ بھر میں مصنوعی مہنگائی اور ذخیرہ اندوزی کے خلاف مؤثر کارروائی کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں، بریفنگ
خیبر پختونخوا کے وزیر خوراک ظاہر شاہ طورو نے کہا ہے کہ رمضان المبارک کے دوران اشیائے خوردونوش کی مصنوعی مہنگائی اور ذخیرہ اندوزی میں ملوث عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس حوالے سے کسی سے کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی۔ان خیالات کا اظہار صوبائی وزیر نے رمضان میں خوردونوش اشیاء کی قیمتوں میں استحکام برقرار رکھنے اور مصنوعی مہنگائی و ذخیرہ اندوزی کے تدارک کے لیے مرتب کردہ لائحہ عمل سے متعلق جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں سیکرٹری خوراک ثاقب رضا اسلم سمیت محکمہ خوراک کے دیگر افسران نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران سیکرٹری خوراک نے وزیر خوراک کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ صوبہ بھر میں مصنوعی مہنگائی اور ذخیرہ اندوزی کے خلاف مؤثر کارروائی کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں۔ یہ ٹیمیں ڈویژنل سطح پر ڈپٹی ڈائریکٹر فوڈ اور متعلقہ اضلاع کے ڈسٹرکٹ فوڈ کنٹرولرز کی نگرانی میں کام کریں گی۔انہوں نے مزید بتایا کہ یہ ٹیمیں نہ صرف آٹا، چینی اور دیگر اشیائے خوردونوش کے کاروباری مراکز کا دورہ کریں گی بلکہ قیمتوں میں استحکام کو یقینی بنانے کے لیے مسلسل نگرانی اور چھاپے بھی ماریں گی۔وزیر خوراک ظاہر شاہ طورو نے اس موقع پر متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ رمضان المبارک میں عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ مصنوعی مہنگائی اور ذخیرہ اندوزی کے ذریعے عوام کا استحصال کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی، تاکہ عام شہریوں کو مہنگائی سے بچایا جا سکے۔انہوں نے مزید کہا کہ صوبائی حکومت عام آدمی کو سہولت فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے اور کسی کو بھی عوام کے حقوق پر ڈاکا ڈالنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اجلاس میں تمام متعلقہ حکام کو ہدایت کی گئی کہ وہ رمضان کے دوران مارکیٹ میں اشیائے خوردونوش کی دستیابی اور قیمتوں پر کھڑی نظر رکھیں اور کسی بھی خلاف ورزی پر فوری کارروائی یقینی بنائیں۔
خیبر پختونخوا کے وزیر برائے اعلیٰ تعلیم میناخان آفریدی نے یونیورسٹی اف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی
خیبر پختونخوا کے وزیر برائے اعلیٰ تعلیم میناخان آفریدی نے یونیورسٹی اف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی مردان اور یونیورسٹی آف بونیر کے متعلقہ حکام کو ہدایت جاری کی ہے کہ جامعات کے موجودہ انفراسٹرکچر کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے موڈ پر استعمال میں لانے کے لیے عملی اقدامات اٹھا کر یونیورسٹی کے مالی استحکام کے لیے بزنس ماڈلز کو سنجیدگی کے ساتھ تیار کریں انہوں نے کہا کہ موجودہ صوبائی حکومت مالی بحران کی شکار جامعات کو مالی طور پر مضبوط بنانے اور ان جامعات کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کے لیے ہر ممکن اقدامات اٹھا رہی ہے اور بہت جلد ان جامعات کو مالی بحران سے نکال کر مالی خود مختاری کی طرف لے جائیں گے صوبائی وزیر نے یہ ہدایت مذکورہ دونوں جامعات کی فنانشل سسٹینیبلٹی پلان کے حوالے سے منعقدہ الگ الگ اجلاسوں کی صدارت کرتے ہوئے جاری کیں اجلاس میں مذکورہ یونیورسٹیز کے وائس چانسلر، ایڈیشنل سیکرٹری اعلی تعلیم اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی صوبائی وزیر کو انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی یونیورسٹی مردان کے مالی استحکام کے حوالے سے فنانشل سسٹینیبلٹی پلان پر تفصیلی بریفنگ دی گئی بریفنگ میں مالی استحکام سے متعلق مختلف امور پر تفصیلی گفتگو ہوئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ یونیورسٹی نے مختلف اقدامات اٹھائے ہیں اخراجات میں کمی کی ہے اور ریونیو میں اضافہ کے لئے منصوبہ بندی کی جارہی ہے جبکہ یونیورسٹی میں موجود سول،میکینیکل اور الیکٹریکل انجینئرنگ کی لیبارٹریز کو کمرشلائزڈ کیا ہے اس کے ساتھ ساتھ پہلے مرحلے میں یونیورسٹی کو 200 KW کو شمسی نظام پرمنتقل کیا ہے جبکہ دوسرے مرحلے میں مزید 200 کے ڈبلیو سولرائز ہو جائے گا جس سے سالانہ یوٹیلٹی بلز کی مد میں لاکھوں روپے کی بچت ہوگی مزید بتایا گیا کہ یونیورسٹی اگلے سیشن سے سول اور میکینیکل انجینئرنگ میں پی ایچ ڈی اور ایم ایس سی پروگرام اور بی ایس اور بی ایس سی کمپیوٹر انجینئرنگ، ارکیٹیکچر، روبوٹس اور سسٹینیبل انرجی کی پروگرام شروع کررہی ہے یونیورسٹی آف بونیر کے حوالے سے صوبائی وزیر کو الگ بریفنگ دی گئی بریفنگ میں یونیورسٹی کے بی ایس پروگرام سمیت دیگر امور زیر غور لائے گئے جبکہ اس کے ساتھ سالانہ ترقیاتی منصوبوں پر بھی بریفنگ دی گئی اس موقع پر صوبائی وزیر نے یونیورسٹی کے متعلقہ حکام کو ہدایت جاری کی کہ جامعات کی ریونیو بڑھانے کے لیے سنجیدگی کا مظاہرہ کر کے یونیورسٹی کی بزنس ماڈلز پر مزید محنت کریں۔ انہوں نے مذید ہدایت کی کہ اگلے جائزہ اجلاس میں جامعات کے پانچ سالہ سٹریٹیجک پلان پیش کیا جائیں انہوں نے کہا کہ مالی بحران کے شکار جامعات کو مالی خود مختاری کی طرف لانے کے لئے ہر ایک نے سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔
وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے ٹیکنیکل ایجوکیشن طفیل انجم کا گورنمنٹ ووکیشنل ٹریننگ سنٹر پلو ڈھیری مردان کا دورہ
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے ٹیکنیکل ایجوکیشن طفیل انجم نے کہا ہے کہ صوبے میں فنی تعلیم کے فروغ کے لئے عملی اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں، ہماری کوشش ہے کہ صوبہ بھر کے تمام ٹیکنیکل کالجز کو جدید خطوط پر استوار کریں اور طلباء کو معیاری فنی تعلیم میسر ہو سکے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گورنمنٹ ووکیشنل ٹریننگ سنٹر پلو ڈھیری مردان کے ایک روزہ دورے کے موقع پر کیا ہے۔ اس موقع پر کالج انتظامیہ اور دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔ دورے کے دوران معاون خصوصی نے سنٹر کے تمام سیکشنز کا معائنہ کیا اور طلباء کے ساتھ خصوصی ملاقات بھی کی ہے جبکہ طلباء کو درپیش مسائل بھی سنے اور ان مسائل کے حل کے لئے موقع پر ہدایات بھی جاری کئے ہیں۔ کالج انتظامیہ نے سنٹر کے مختلف پہلوؤں پر معاون خصوصی کو بریفننگ دی ہے۔ اس دوران معاون خصوصی نے طلباء کی مختلف ٹریڈ کا بھی معائنہ کیا ہے۔ معاون خصوصی نے مزید کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے وژن کے مطابق ٹیکنیکل ایجوکیشن کو جدت کی طرف لے جا رہے ہیں اور ہماری کوشش ہے کہ طلباء کو معیاری فنی تعلیم باہم پہنچا سکے تاکہ وہ اپنے لئے بہترین روزگار شروع کر سکے۔
