Home Blog Page 220

صوبائی وزیر لائیو سٹاک فیشریز و کوآپریٹیو فضل حکیم خان یوسفزئی نے مصنوعی نسل کشی کے ذریعے مویشیوں کی پیداوار بڑھانے کے منصوبے کا افتتاح کردیا

صوبائی وزیر فضل حکیم خان یوسفزئی کی لائیو سٹاک ادویات کی سرکاری ڈسپنسریوں میں دستیابی کو یقینی بنانے اور جعلی ادویات کی روک تھام کیلئے سخت اقدامات اٹھانے کی ہدایت

دو سالہ منصوبے پر لاگت کا تخمینہ 495 ملین روپے ہیں۔جس سے دودھ کی پیداوار میں اضافہ ہوگا۔ فضل حکیم خان یوسفزئی

صوبائی وزیر لائیو سٹاک فیشریز و کوآپریٹیو فضل حکیم خان یوسفزئی نے ڈائریکٹوریٹ آف لائیو سٹاک توسیع میں مصنوعی نسل کشی کے ذریعے مویشیوں کی پیداوار بڑھانے کے دو سالہ منصوبے کے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دودھ کی پیداوار میں اضافے کے لیے مختلف منصوبے شروع کیے ہیں جس کا مقصد بہترین نسل کے گائے کی افزائش ہے۔ مصنوعی نسل کشی کے اس منصوبے پر لاگت کا تخمینہ 495 ملین روپے ہے اور یہ منصوبہ دو سال میں مکمل ہوگا۔ اس منصوبے کے تحت اس مختلف نسلوں کے ملاپ سے بہترین نسل حاصل کرنا ہے۔ جبکہ اس مصنوعی نسل کشی سے 95 فیصد مادہ گائے کی افزائش ہوگی۔ صوبہ بھر میں 799 مصنوعی نسل کشی کے مراکز قائم کیے گئے ہیں۔جس کے تعداد میں مستقبل میں مزید اضافے کریں گے تاکہ مویشی پال زمینداروں کو مصنوعی نسل کشی کی سہولت میسر ہو۔ افتتاحی تقریب میں ڈائریکٹر جنرل لائیو سٹاک توسیع ڈاکٹر اصل خان، ڈائریکٹر جنرل لائیو سٹاک ریسرچ ڈاکٹر اعجاز علی، پراجیکٹ ڈائریکٹر ڈاکٹر سجاد وزیر، ڈائریکٹر لائیو سٹاک ضم اضلاع ڈاکٹر وحید مراد، محکمہ لائیو سٹاک کے افسران سمیت مویشی پال زمینداروں کی کثیر تعداد میں شرکت کی۔ تقریب میں پراجیکٹ ڈائریکٹر ڈاکٹر سجاد وزیر نے شرکاء کو منصوبے کی افادیت اور مویشی پال زمینداروں کو اس منصوبہ سے پہنچانے والے فوائد سے آگاہ کیا۔ تقریب سے اپنے صوبائی وزیر فضل حکیم خان یوسفزئی کا مزید کہنا تھا کہ وزیراعلی خیبرپختونخوا علی امین خان گنڈاپور کی قیادت میں صوبے کے مویشی پال زمینداروں کی فلاح وبہبود کے لیے اقدامات اٹھارہے ہیں جس سے انکے مویشیوں کی دودھ اور گوشت کی پیداوار میں اضافہ ہوگا جس سے انکے آمدن میں اضافہ ہوگا۔ اس منصوبے کے تحت کینیڈا سے sexed semen لائی گئی ہے۔ صوبائی وزیر لائیو سٹاک، فیشریز و کوآپریٹیو نے ہدایت کی کٹاو کی بچاؤ پر حصوصی توجہ دی جائے جہاں پر کٹاو کے ذبح کی حوالے سے شکایت ملی انکے سخت کاروائی عمل میں لائی جائے۔اس سلسلے میں لائیو سٹاک افسران روزانہ کی بنیاد پر ذبح خانوں کے دورے کریں۔ صوبائی وزیر فضل حکیم خان یوسفزئی نے لائیو سٹاک ادویات کی سرکاری ڈسپنسریوں میں دستیابی کو یقینی بنائے جبکہ جعلی ادویات کی روک تھام کیلئے سخت اقدامات کریں۔معیار پر کسی قسم کا کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

گجوخان میڈیکل کالج میں جدید آن لائن امتحانی سینٹر قائم

وی سی کے ایم یو پروفیسر ڈاکٹر ضیاء الحق نے افتتاح کردیا

گجوخان میڈیکل کالج صوابی نے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ایم بی بی ایس پروفیشنل امتحانات کے لیے ایک جدید آن لائن امتحانی سینٹر قائم کر دیا، جس کا افتتاح خیبر میڈیکل یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ضیاء الحق نے کیا۔واضح رہے کہ خیبرمیڈیکل یونیورسٹی کی انتظامیہ نے تمام میڈیکل کالجز کو سالانہ ایم بی بی ایس امتحانات آن لائن لینے کی ہدایت دی تھی، جس کے تحت گجوخان میڈیکل کالج نے یہ امتحانی سینٹر قائم کیا۔ سینٹر میں بیک وقت 80 سے زائد طلبہ امتحان دے سکیں گے، جو کہ جدید سہولیات سے آراستہ ہے۔افتتاحی تقریب میں وائس چانسلر کے ایم یو اور کنٹرولر امتحانات کے یم یو کے ہمراہ ڈین و چیف ایگزیکٹو پروفیسر ڈاکٹر شمس الرحمن اور دیگر فیکلٹی ممبران بھی شریک تھے۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وی سی کے ایم یو پروفیسر ڈاکٹر ضیاء الحق نے کہا کہ آن لائن امتحانی نظام وقت کی بچت کے ساتھ ساتھ پیپرلیس ماحول فراہم کرے گا، جو جدید تعلیمی تقاضوں کے عین مطابق ہے۔ انہوں نے کہا کہ گجوخان میڈیکل کالج کی مسلسل کامیابیاں قابل ستائش ہیں اور اس کامیابی پر کالج انتظامیہ، فیکلٹی اور امتحانی سینٹر کے منتظمین کو مبارکباد کے مستحق ہیں۔ترجمان کے مطابق وائس چانسلر نے مزید بتایا کہ یہ امتحانی سینٹر کے ایم یو کے تحت صوابی میں ایک مرکزی امتحانی مرکز تصور کیا جائے گا، جہاں کے ایم یو سے الحاق شدہ دیگر میڈیکل کالجز کے امتحانات بھی منعقد کیے جا سکیں گے۔افتتاحی تقریب سے خطاب میں ڈین و چیف ایگزیکٹو پروفیسر ڈاکٹر شمس الرحمن نے کہا کہ وقت کے ساتھ امتحانی نظام میں جدت آ رہی ہے، اور گجوخان میڈیکل کالج نے جدید تقاضوں کے مطابق یہ سنگ میل عبور کر لیا ہے۔ اب تمام امتحانات کو آن لائن لینا مزید آسان ہوگا۔انہوں نے مزید بتایا کہ امتحانی سینٹر میں 80 سے زائد کمپیوٹر سسٹمز، تیز رفتار انٹرنیٹ، ڈیجیٹل لائبریری اور جدید ریسرچ سہولیات دستیاب ہیں، جو طلبہ کو بہترین تعلیمی ماحول فراہم کریں گی۔

خیبر پختونخوا کے وزیر قانون آفتاب عالم ایڈوکیٹ نے کہا ہے کہ

خیبر پختونخوا کے وزیر قانون آفتاب عالم ایڈوکیٹ نے کہا ہے کہ سرکاری امور کی انجام دہی کے لئے لائق اور موزوں افرادی قوت کی فراہمی کے لئے خیبر پختونخوا پبلک سروس کمیشن (کے پی پی ایس سی) کا کردار اہمیت کا حامل ہے۔ کار سرکار کی بروقت انجام دہی اور اس کے لئے درکار عملہ کے بھرتیوں کی سلسلے میں کے پی پی ایس سی وقت کے عنصر کو ملحوظ خاطر رکھیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کے روز سول سیکرٹریٹ پشاور میں کے پی پی ایس سی کی کارکردگی بارے منعقدہ وزراء کمیٹی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں خیبر پختونخوا کے وزیر برائے ابتدائی و ثانوی تعلیم فیصل ترکئی اور مشیر خزانہ و بین الصوبائی رابطہ مزمل اسلم، سیکرٹری کے پی پی ایس سی، ڈائریکٹر امتحانات کے پی پی ایس سی، ممبر کے پی پی سی، ڈپٹی سیکرٹری اعلیٰ تعلیم، ڈپٹی سیکرٹری فنانس سمیت محکمہ قانون کے حکام نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔ مشیر خزانہ نے اجلاس کے دوران کی پی پی ایس سی کی جانب سے مختلف محکموں میں بھرتیوں کے لئے ٹائم فریم ورک کی مدت کم کرنے، ادارے میں ڈیجیٹائزیش لانے اور مصنوعی ذہانت کے استعمال، پیپر آرکائیو کی موجودگی اور خالی اسامیوں بارے محکموں کے ساتھ ربط کو ضروری قرار دیا۔ وزیر قانون آفتاب عالم ایڈوکیٹ نے امتحانی نظام کی مؤثر انداز میں انعقاد کے سلسلے میں کے پی پی ایس سی کی اپنے ڈیٹا بینک کی موجودگی کی ضرورت اجاگر کرتے ہوئے ایٹا سے تعاون لینے کی تجویز پیش کی۔ وزیر برائے ابتدائی و ثانوی تعلیم فیصل ترکئی نے اپنے محکمہ کے انتظامی کیڈر کے آسامیوں سمیت درسی آسامیوں پر بھرتیوں کی رفتار کو تیز کرنے کے بھی احکامات دئیے۔ سیکرٹری پبلک سروس کمیشن زکاؤاللہ خٹک نے نئے چیئرمین کے تعیناتی کے فوراً بعد کی پی پی ایس سی میں ٹیکنالوجی اور کمپیوٹر م کے استعمال کے سلسلے میں خیبر پختونخوا انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ اور ایٹا سے تعاون لینے کا عندیہ دیا۔ محکمہ قانون کے سینئر قانون دان بیرسٹر رئیس احمد نے گریجویٹ اسسمنٹ ٹیسٹ اور ایم ڈی کیٹ کے طرز پر پراونشل مینیجمینٹ سروس امتحانات کو معروضی انداز میں بنانے اور اس سے جڑے قوانین میں ترمیم لانے کی تجویز پیش کی۔ اجلاس میں مزمل اسلم نے بھرتیوں کے سلسلے میں سکروٹنی مرحلے کو سکریننگ ٹیسٹ سے پہلے کرنے کی بھی تجویز پیش کی۔

اینٹی کرپشن ڈیپارٹمنٹ خیبرپختونخوا نے سال 2024 کی کارکردگی کی رپورٹ جاری

اینٹی کرپشن ڈیپارٹمنٹ خیبرپختونخوا نے سال 2024 کی کارکردگی کی رپورٹ جاری کردی ہے۔ رپورٹ کے مطابق سال 2024 کے دوران دو اعشاریہ پانچ ارب روپے سے زائد کی ریکوری کی ہے۔ سال کے دوران کل 43 ایف آئی آر درج ہوئیں جن میں کل 186 ملزمان کے خلاف کارروائی کی گئی۔ 92 ملزمان کو حراست میں لیا گیا۔ 94 کی گرفتاری کیلئے کوششیں جاری ہیں۔ اسی طرح سات اشتہاری ملزمان کو بھی گرفتار کیا گیا۔ جبکہ نو ملزمان کو رشوت لیتے ہوئے مجسٹریٹ کی موجودگی میں رنگے ہاتھوں گرفتار کیا گیا۔سال کے دوران 2200 کنال سے زائد سرکاری اراضی واگزار کی گئی۔ سال 2024 کے دوران اینٹی کرپشن خیبرپختونخوا کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے اقدامات کیے گئے جس میں واٹس ایپ، آن لائن پورٹل اور دوسرے ذرائع سے شکایت درج کرنے کی سہولت دی گئی۔ صوبہ بھر میں ماہانہ بنیادوں پر کھلی کچہریوں کا انعقاد شروع کیا گیا جس میں ڈائریکٹوریٹ اور ریجنل دفاترمیں باقاعدگی سے کھلی کچہریاں منعقد ہورہی ہیں۔ علاوہ ازیں وزیراعلی خیبرپختونخوا علی امین خان گنڈاپور کی ہدایت پر ضروری ادویات کی دستیابی اور ادویات کی خریداری میں شفافیت کے حوالے سے مشیر وزیراعلیٰ مصدق عباسی کی صدارت میں کمیٹی قائم کی گئی۔کیمٹی نے نگران دور حکومت کے دوران محکمہ صحت میں ادویات کی خریداری میں خوردبرد کی تحقیقات کے دوران 4.4 ارب روپے کی ادویات کی خریداری میں 1.9 ارب کی خوردبرد کی نشاندہی کی جس میں محکمہ صحت کے سولہ افسران و اہلکاروں کو ملوث قرار دیا گیا۔ نیب نے اپنے قانون سیکشن 18 (ڈی) کو استعمال کرتے ہوئے یہی انکوائری اپنے پاس ریکوری کے لیے منگوائی تاکہ لوٹی ہوئی رقم کو وصول کیا جائے اور ملوث افراد کے خلاف فوجداری کارروائی عمل میں لائی جائے۔ اسی طرح 2024-25 کی ادویات خریداری کیلئے ٹھیکہ دینے کا مرحلہ موجودہ حکومت نے مکمل کردیا ہے۔ بارہ ارب کی مارکیٹ قیمت کی ادویات پانچ ارب میں خریدی جائیں گی۔جس سے خزانے کو تقریباً سات ارب کی بچت ہوگی۔مزید برآں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی ہدایات پر مشیر وزیراعلیٰ برائے اینٹی کرپشن خیبرپختونخوا مصدق عباسی نے ضلعی انتظامیہ، پولیس اور محکمہ معدنیات کی مدد سے ضلع نوشہرہ اور کوہاٹ میں اربوں روپے کی غیر قانونی سونے کی کان کنی کے خلاف آپریشن کئے۔ محکمہ معدنیات نے بعد میں سونے کی کان کنی کی نیلامی کرکے سرکاری خزانے کو پانچ ارب روپے فائدہ پہنچایا ہے۔

خیبرپختونخوا کے وزیرسماجی بہبود،سپیشل ایجوکیشن اور ترقی خواتین

خیبرپختونخوا کے وزیرسماجی بہبود،سپیشل ایجوکیشن اور ترقی خواتین سید قاسم علی شاہ نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت صوبے کی خواتین کی بہتری کیلئے عملی اقدامات اٹھارہی ہے اورڈائریکٹوریٹ آف سوشل ویلفئیراور شہید بے نظیر بھٹو وومن یونیورسٹی پشاور کے درمیان خواتین کی فلاح و بہبود اور ترقی کی خاطر معاہدہ کی یاداشت پر باضابطہ دستخط اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ڈائریکٹوریٹ آف سوشل ویلفئیراور شہید بے نظیر بھٹو وومن یونیورسٹی پشاور کے درمیان خواتین کی ترقی اور گداگری کے تدارک کے حوالے سے ہونے والے معاہدہ کی یاداشت پر دستخط کرنے کی تقریب کے دوران کیا جوکہ ڈائریکٹوریٹ آف سوشل ویلفئیر پشاور میں منعقد ہوئی جس کی صدارت صوبائی وزیر سماجی بہبودسید قاسم علی شاہ نے کی۔اس موقع پر رکن صوبائی اسمبلی میجر سمیع اللہ خان، سابقہ ٹاون ناظم ارباب علی خان، ڈپٹی ڈائریکٹر قیوم خان، ضلعی آفیسر سوشل ویلفئیر پشاور نور محمد محسود اور ڈائریکٹوریٹ آف سوشل ویلفئیر کے اسسٹنٹ ڈائر یکٹرز بھی موجود تھے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر نے کہا کہ یہ معاہدہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈا پور کی خصوصی ہدایت کی روشنی میں کیا گیا ہے جس کے ذریعے صوبے کی خواتین کی ترقی اور بہتری کے لئے ٹھوس اقدامات کئے جائیں گے جن کی بدولت معاشرے میں خواتین بہتر طرز زندگی گزارنے کے قابل ہو سکیں گی۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت خواتین کو ہنر مند بنانے کے لئے بھر پور اقدامات اٹھا رہی ہے جبکہ ٹرانسجیڈر کمیونٹی کو بھی معاشرے میں مساوات فراہم کرنے اور ان کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنایا جارہا ہے تاکہ وہ اپنی روز مرہ کی زندگی بھر پور طریقے سے گزار سکیں اوران میں پائی جانے والی محرومیوں کا ازالہ ہو سکے۔صوبائی وزیر نے کہا کہ محکمہ سماجی بہبود نے نشے سے پاک پشاور فیز III مہم شروع کی ہے اور پشاور کو گداگری سے پاک کرنے کے لئے معاہدے کے تحت شہید بے نظیر بھٹو وومن یونیورسٹی پشاور اپنی معاونت فراہم کرے گی

ضلع کرم میں دائمی امن, سفر محفوظ بنانے اور قانون کی عملداری کے لئے اسلحہ کی حوالگی ناگزیر ہے،چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا

چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا ندیم اسلم چوہدری نے کہا ہے کہ ضلع کرم میں دائمی امن قائم کرنے اور سڑکوں کو سفر کے لیے محفوظ بنانے کے لیے تمام غیر قانونی اسلحہ حکومت کے حوالے کرنا ضروری ہے۔ ان خیالات کا اظہار چیف سیکرٹری نے منگل کی شام کمشنر ہاؤس کوہاٹ میں ضلع کرم کے گرینڈ جرگے کے ممبران اور اہل تشیع کے مشران سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر جی او سی کوہاٹ ذوالفقار علی بھٹی، آئی جی پی خیبرپختونخوا اختر حیات خان، کمشنر کوہاٹ ڈویژن سید معتصم باللہ شاہ، آر پی او کوہاٹ عباس مجید مروت، ڈپٹی کمشنر کوہاٹ عبدالاکرم، اور ضلع کرم سے تعلق رکھنے والے موجودہ و سابق پارلیمنٹرینز موجود تھے۔ چیف سیکرٹری نے واضح کیا کہ ضلع کرم میں تنازعہ بظاہر دو فریقین کے درمیان ہے، لیکن بدقسمتی سے انتہا پسند عناصر ان کے درمیان نفرتیں بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے دونوں فریقین پر زور دیا کہ وہ ان امن دشمن عناصر کی نشاندہی کریں اور انہیں اپنے مذموم عزائم میں کامیاب نہ ہونے دیں۔ ندیم اسلم چوہدری نے کہا کہ حکومت ہر صورت کوہاٹ معاہدے پر عملدرآمد یقینی بنائے گی اور اس مقصد کے حصول کے لیے تمام متعلقہ فریقین کا تعاون ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ جیسے ہی فریقین مکمل تعاون کریں گے، معاہدے پر عملدرآمد ممکن ہوگا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ موجودہ حالات کو معمولی نہ سمجھا جائے اور اپنے علاقوں اور لوگوں کی حفاظت کے لئے فہم اور بردباری سے کام لیا جائے۔چیف سیکرٹری نے کہا کہ حکومت قانون کی عملداری ہر صورت میں یقینی بنائے گی۔ جو بھی حکومتی احکامات یا قوانین کی خلاف ورزی کرے گا، اس کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ جو ایف آئی آرز درج ہو رہی ہیں، یہ صرف کاغذی کارروائی نہیں ہیں بلکہ ان پر عملدرآمد ہوگا، اور مجرموں کو سخت سزائیں دی جائیں گی۔چیف سیکرٹری نے کہا کہ ہم سب پاکستانی ہیں، اور یہ ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے کہ نفرتوں کو ختم کریں اور لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لائیں۔ انہوں نے دونوں فریقین پر زور دیا کہ وہ اپنے علاقوں میں نوجوانوں کو امن کے اس مشن میں شامل رکھیں اور علاقے میں امن و امان کی فضا برقرار رکھنے کے لیے حکومت کے ساتھ مکمل تعاون کریں۔ خطاب کے اختتام پر، چیف سیکرٹری نے حکومت کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ہر قسم کے چیلنجز کے باوجود حکومت اپنے فیصلے نافذ کرے گی اور امن و امان قائم رکھنے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے گی۔ کرم گرینڈ جرگہ سیشن سے پہلے چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا ندیم اسلم چوہدری نے انسپکٹر جنرل پولیس اختر حیات خان کے ہمراہ ضلع ہنگو کا دورہ کیا اور کرم سے بعض دیہات کے انخلاء کے بعد خاندانوں کے لئے قائم عارضی امدادی کیمپ کا دورہ کیا، سہولیات کا جائزہ لیا، کیمپ میں رہائش پذیر افراد سے ملاقاتیں کیں۔ چیف سیکرٹری نے سہولیات اور انتظامات پر اطمینان کا اظہار کیا۔

وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے ٹیکنیکل ایجوکیشن طفیل انجم نے وزیر اعلیٰ کے مشیر برائے انسداد بدعنوانی مصدق عباسی کے ہمراہ ادارہ ٹیکنیکل ایجوکیشن میں اصلاحات بارے اجلاس کی صدارت کی

وزیراعلی خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے ٹیکنیکل ایجوکیشن طفیل انجم نے کہا ہے کہ ٹیکنیکل ایجوکیشن میں اصلاحات وقت کی اہم ضرورت ہے، انہوں نے کہا ہے کہ فنی تعلیم کو دور جدید کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لئے عملی اصلاحات لا رہے ہیں تاکہ طلباء کو معیاری فنی تعلیم کی فراہمی ممکن ہوسکے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے خیبرپختونخوا ٹیکنیکل ایجوکیشن اینڈ ووکیشنل ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ میں اصلاحات کے حوالے سے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں مشیر برائے انسداد بدعنوانی مصدق عباسی، سیکرٹری ٹیکنیکل ایجوکیشن عامر افاق، سپیشل سیکرٹری، ایم ڈی کے پی ٹیوٹا ودیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی ہے۔شراکاء اجلاس کو ٹیکنیکل ایجوکیشن اصلاحاتی ایجنڈے پر تفصیلی بریفننگ دی گئی ہے۔ اجلاس کو بتایا گیا ہے کہ طلباء کو جدید فنی تعلیم سے آراستہ کرنے کے لئے صوبہ بھر کے پولی ٹیکنیکل انسٹیٹیوٹ میں جدید دور کے تقاضوں کے عین مطابق فنی تربیتی کورسز فراہم کر رہے ہیں جبکہ عملی میدان میں طلباء کو اگے لے جانے کے لئے عملی تربیت بھی دی جا رہی ہے۔ اس موقع پر معاون خصوصی نے کہا ہے کہ طلباء کو جدید فنی تعلیم سے روشناس کرانا ہمارا مقصد ہونا چاہیئے، انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے فنی تعلیم کو عام کرنے اور صوبے کے نوجوانوں کو آگے لانے کے لئے خصوصی احکامات جاری کئے ہیں، ہماری کوشش ہے کہ ان احکامات کی روشنی میں ہم اپنے نوجوان طبقے کو فنی تعلیم کے میدان میں عالمی سطح پر متعارف کرائیں، انہوں نے ہدایت کی کہ ٹیکنیکل ایجوکیشن میں دور جدید کے تقاضوں کے مطابق اصلاحات لائی جائیں اور طلباء کو وہ کورسز پڑھائے جائیں جن سے وہ ملکی اور عالمی سطح پر اپنے لئے روزگا ر حاصل کر سکیں۔ معاون خصوصی نے کہا ہے کہ اصلاحات کے ساتھ ساتھ ہم نے اپنے ادارے میں کرپشن کے عنصر کو ختم کرنا ہے اور میرٹ کی بنیاد پر تمام امور چلانے ہیں۔ اجلاس کے دوران مشیر برائے انسداد بدعنوانی مصدق عباسی نے کے پی ٹیوٹا کے اقدامات کو سراہا ہے اور کہا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ یہ ادارہ اپنے تمام تر وسائل بروئے کار لاتے ہوئے فنی تعلیم کے فروغ کے لئے عملی اقدامات اٹھائے گا۔

صوبائی وزیر لائیو سٹاک، فشریز و کوآپریٹیو فضل حکیم خان کی زیر صدارت ڈپٹی کمشنر آفس

صوبائی وزیر لائیو سٹاک، فشریز و کوآپریٹیو فضل حکیم خان کی زیر صدارت ڈپٹی کمشنر آفس سوات کے کانفرنس روم میں سوات میں بجلی کی نئی سکیموں، فیڈرز، ٹرانسفارمرز اور دیگر اہم امور سے متعلق اجلاس منعقد ہوا جس میں چیئرمین ڈیڈیک سوات اختر خان ایڈوکیٹ ممبران قومی اسمبلی سہیل سلطان ایڈوکیٹ ممبران صوبائی اسمبلی علی شاہ خان ایڈوکیٹ، محمد نعیم، سلطان روم، سٹی میئر تحصیل بابوزئی شاہد علی خان، چیئرمین تحصیل بریکوٹ کاشف خان، ڈپٹی کمشنر سوات شہزاد محبوب اور واپڈا کنسٹرکشن/ آپریشن کے متعلقہ افسران و نمائندوں نے شرکت کی اجلاس کو واپڈ حکام نے اس اہم موضوعات اور سکیموں سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی اس موقع پر اراکین صوبائی اسمبلی نے واپڈا کو فنڈ دینے سے پہلے فنڈ کے درست استعمال کی یقین دہانی،ماضی میں دئیے گئے فنڈز کے حوالے سے ٹرانسفارمر اور بجلی لائن کی رپورٹ طلب کی جس پر واپڈ حکام نے اجلاس کو یقین دہانی کہ صوبائی حکومت کی جانب سے فنڈز کو اراکین اسمبلی کی مشاورت کے مطابق عوام کی مفاد کیلئے ان کی یونین کونسلوں میں ہونے والے سروے کے مطابق خرچ کیا جائے گا انہوں نے اراکین اسمبلی کو یقین دہانی کرائی کہ وہ وقتاً فوقتاً سوات میں جاری سکیموں کا دورہ بھی کرائیں گے اور محکمے کے جانب سے مکمل سپورٹ جاری رہے گی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر فضل حکیم خان کا کہنا تھا کہ عوام کو ریلیف فراہم کرنا اور ان کی بہتر خدمت کرنا ہماری اولین ترجیح ہے سوات کی ترقی اور خوشحالی پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کی فلاح و ترقی ہی پی ٹی آئی کا منشور ہے۔ زبانی جمع خرچ کا وقت گزر چکا ہے ہم عملی کام پر یقین رکھتے ہیں اور عوام میرے دل وجان ہیں انہوں نے واضح کیا کہ تمام نئی سکیموں کو عوامی مشاورت سے مکمل کیا جائے گا اور ممبران اسمبلی کے فنڈز کو امانت سمجھ کر خرچ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو بلاتعطل بجلی کی فراہمی واپڈا کی اہم ذمہ داری ہے۔

خیبر پختونخوا کے صوبائی وزیر برائے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ، پختون یار خان نے کہا

خیبر پختونخوا کے صوبائی وزیر برائے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ، پختون یار خان نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا کے تمام تعلیمی اداروں کی بہتری اور فعالی کیلئے اپنا کردار ادا کریں گے خیبر پختونخوا کو امن کی راہ پر گامزن کرنے کیلئے بھرپور اقدامات اٹھائیں گے اس کے ساتھ ساتھ بہتر تعلیمی نظام اور معیاری تعلیم کے فروغ کیلئے بھی عملی اقدامات کئے جائیں گے انہوں نے کہا کہ انہیں موقع ملا ہے اور وہ وقت سے فائدہ اٹھا کر عوام کی محرومیوں کا ازالہ کریں گے ان خیالات کا اظہار انہوں نے بنوں یونیورسٹی میں منعقدہ دو روزہ فیسٹیول سے خطاب کرتے ہوئے کیا صوبائی وزیر نے بنوں یونیورسٹی کیلئے سولرائزیشن کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اس سے مالی بوجھ میں نمایاں کمی آئے گی اور ماہانہ بنیاد پر بجلی کی مد میں بچت ہوگی بجلی کی مد میں بچت کی جانے والی رقم یونیورسٹی کی فلاح و بہبود پر خرچ کی جائے گی انہوں نے یونیورسٹی میں زیر تعمیر عمارتوں کے فنڈز کی فراہمی کا وعدہ کرتے ہوئے غریب طلبہ کو اسکالرشپ دینے کا اعلان بھی کیا اس کے علاوہ محکمہ پبلک ہیلتھ کے ذریعے واٹر سپلائی اور دیگر مرمتی کام کرانے کا بھی اعلان کیا تقریب میں وزیر اعلٰی خیبر پختونخوا کے فوکل پرسن برائے طلباء اشفاق مروت,ملک عدنان خان,چیئرمین زکوۃ کمیٹی نیاز احمد خان, معصوم وزیر ایڈوکیٹ,صدر ندیم خان و دیگر خطاب کیا اس موقع پر وی سی پروفیسر ڈاکٹر صفدر رحمن غازی,رجسٹرار زعفیر اللہ و دیگر بھی موجود تھے صوبائی وزیر نے کہا کہ بنوں یونیورسٹی کو درپیش مشکلات ضرور ہیں لیکن وہ انہیں ترجیحی بنیادوں پر حل کریں گے صوبائی وزیر نے کہا کہ یونیورسٹی کو فنڈز کی قلت کا سامنا تھا جسے انہوں نے انتھک محنت کے ذریعے حل کرتے ہوئے محکمہ تعلیم کی جانب سے پانچ کروڑ روپے کا فنڈ جاری کروایا ہے انہوں نے مزید کہا کہ اپنی روایات کو مدنظر رکھتے ہوئے اس طرح کے پروگرامات کا انعقاد جاری رکھا جائے گا۔ صوبائی وزیر نے بنوں یونیورسٹی کی انتظامیہ کو تلقین کی کہ وہ اپنی توجہ یونیورسٹی کی بہتری، میرٹ کی بالادستی اور طلبہ کو سہولیات کی فراہمی پر مرکوز رکھیں تقریب کے دوران صوبائی وزیر نے فیسٹیول کے اسٹالز کا دورہ کیا اور طلبہ میں اسکالرشپ کی رقم بھی تقسیم کی۔

صوبائی وزیر تعلیم فیصل خان ترکئی کی زیر صدارت ایجوکیشن مانیٹرنگ اتھارٹی اجلاس

صوبائی وزیر تعلیم فیصل خان ترکئی نے کہا ہے کہ سکول لیڈرز کے کنٹریکٹ میں تو سیع کے ساتھ ساتھ ان کو ایجوکیشن کوالٹی مانیٹرنک کی تربیت بھی دی جائے گی۔ ان کے لیے تربیت کے لئے کورس تیار کیا گیا ہے اور سکول لیڈرز کے دوروں کی مکمل معلومات رکھنے کے ساتھ ساتھ بذریعہ ایپ روزانہ کی بنیاد پر ان کی مانیٹرنگ ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ سکول لیڈرز کو ایجوکیشن مانیٹرنگ اتھارٹی کے سپرد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ان کے تمام کام کی نگرانی اتھارٹی کرے گی اور سکول لیڈرز کے نام کو بھی تبدیل کر کے ان کو۔ ای کیو ایم اے۔ ایجوکیشن کوالٹی مینجمنٹ ایڈمنسٹریٹر کا نام دیا جائے گا اور ان کا کام صرف سکولوں کی ایجوکیشن کوالٹی میں بہتری لانا ہوگا ان کے کام سے بہتر استفادہ حاصل کرنے اور ان کو دور جدید کے تقاضوں سے ہم اہنگ جدید تربیت دی جائے گی۔ اور ان کے لئے مختلف موبائل ایپس تیار کئے جائیں گے جن کے ذریعے مانیٹرنگ کی جائے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایجوکیشن مانیٹرنگ اتھارٹی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا اجلاس میں سیکرٹری ایجوکیشن مسعود احمد، ڈائریکٹر جنرل ایجوکیشن مانیٹرنگ اتھارٹی سہیل خان، ایجوکیشن ایڈوائزر میاں سعد الدین اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ ایجوکیشن مانیٹرنگ اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل سہیل خان نے سکول لیڈرز کے لئے بننے والے سلیبس، ان کی جدید تربیت کیلئے اُٹھائے گئے اقدامات، ان کے لئے موبائل ایپس اور دیگر سہولیات کی فراہمی پر بریفنگ دی۔ وزیر تعلیم نے کہا کہ سکول لیڈرز کا ایجوکیشن مانیٹرنگ اتھارٹی میں ایک الگ کوالٹی مانیٹرنگ ونگ تیار کیا جائے گا۔ انہوں نے حکام کو ہدایت دی کہ ان کی جدید تربیت کے لئے بہترین نجی تعلیمی اداروں سے ٹرینرز کو منتخب کیا جائے جو کہ ان کے ساتھ ساتھ ڈی پی ڈی کے منتخب ماسٹر ٹرینرز کو بھی تربیت دے اور ڈی پی ڈی سٹاف بھی مذکورہ تربیت میں حصہ لیں۔ انہوں نے یہ بھی ہدایت کی کہ ان کوالٹی مینجمنٹ ایڈمنسٹریٹرز کے لئے آئی ٹی آلات، موبائل فونز اور دیگر الاونسز کی فراہمی کے لئے بھی پروپوزل بھیج دیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ تمام مراحل مطلوبہ ٹائم لائن کے مطابق نئے تعلیمی سیشن تک ہر صورت مکمل کرنے چاہئے تاکہ نئے سیشن سے کوالٹی کی مانیٹرنگ درس و تدریس کے ساتھ ساتھ جاری رہے۔