نگرانی طریقہ کار صوبائی ایکشن پلان کے تحت عوامی مسائل کے حل کے لیے کھلی کچہریوں کو نتیجہ خیز بنایا جائے، کھلی کچہریوں کے زریعے موصول تمام شکایات کا فوری ازالہ کیا جائے، تعلیم اور صحت پر خصوصی توجہ دی جائے، قبائلی ضلع مہمند اور ضلع خیبر میں نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کی رجسٹریشن میں مزید تیزی لائی جائے، موسم میں تبدیلی کے پیشِ نظر ڈینگی کے روک تھام کے لیے پیشگی اقدامات مزید تیز کئے جائیں، تمام اضلاع میں غیر قانونی مائننگ کی روک تھام یقینی بنائی جائے، پشاور ڈویژن کے تمام پانچوں اضلاع میں آٹے کی قیمتیں اعتدال پر رکھنے کے لیے اسسٹنٹ کمشنرز کے زریعے مارکیٹ سروئے کرنے اور قمیتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں، عوام کو معیاری اشیائے خوردونوش کی سرکاری نرخ پر فراہمی کے لیے چھاپوں کا سلسلہ تیز کیا جائے، تمام اضلاع میں مدارس رجسٹریشن جلد سے جلد مکمل کی جائے اور غیر قانونی کرشک پلانٹس اور اسلحہ کی نمائش پر پابندی عائد کی جائے۔یہ احکامات کمشنر پشاور ڈویژن ریاض خان محسود نے صوبائی حکومت کی ہدایات پر نگرانی طریقہ کار صوبائی ایکشن پلان پر عملدرآمد کے حوالے سے ویڈیو لنک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جاری کیے ویڈیو لنک اجلاس میں پشاور ڈویژن کے تمام پانچوں اضلاع پشاور، چارسدہ، نوشہرہ، قبائلی ضلع مہمند اور ضلع خیبر کے ڈپٹی کمشنرز اور ڈسٹرکٹ پولیس آفیسرز نے بزریعہ ویڈیو لنک شرکت کی اجلاس میں تمام پانچوں اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز اور ڈسٹرکٹ پولیس آفیسرز نے اپنے اپنے اضلاع میں امن و امان، خدمات کی فراہمی اور مختلف امور سے متعلق کمشنر پشاور ڈویژن کو تفصیلی آگاہی دی جس کے تناظر میں ضروری احکامات جاری کیے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کمشنر پشاور ڈویژن ریاض خان محسود نے صوبائی حکومت کی جانب سے نگرانی طریقہ کار صوبائی ایکشن پلان پر پورا پورا عمل درآمد کرنے، خدمات اور سہولیات کی فراہمی میں تیزی لانے کی ہدایات جاری کرتے ہوئے اگلے ہفتے جائزہ اجلاس طلب کیا
مشیر صحت احتشام علی سے یونیسیف کے وفد کی ملاقات
مشیر صحت خیبر پختونخوا احتشام علی سے ان کے دفتر میں یونیسیف کے اعلیٰ سطحی وفد نے ملاقات کی۔ وفد کی قیادت یونیسیف کی کنٹری ہیڈ پرنیلا آئرن سائیڈ کر رہی تھیں۔ وفد میں چیف آف فیلڈ آفس خیبر پختونخوا راڈوسلا راڈک، ہیلتھ ٹیم لیڈ ڈاکٹر انعام اللہ اور نیوٹریشن لیڈ ڈاکٹر آئین خان آفریدی شامل تھے۔ مشیر صحت کے ہمراہ سیکرٹری ہیلتھ شاہداللہ خان نے وفد کا استقبال کیا۔ملاقات کے دوران صوبے میں حالیہ سیلاب کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال، ماں اور بچے کی صحت، نیوٹریشن، اور دیگر اہم شعبہ جات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ مشیر صحت احتشام علی نے محکمہ صحت کے ساتھ یونیسیف کے جاری تعاون پر کنٹری ہیڈ اور ان کے وفد کا شکریہ ادا کیا۔یونیسیف کی جانب سے صوبے میں 450 نیوٹریشنل سائیٹس کی معاونت کی جا رہی ہے۔ مزید برآں، 26 اضلاع میں ڈی ایچ آئی ایس ٹوکے نفاذ، 18 اضلاع میں آکسیجن مینجمنٹ، 13 نیو بارن کیئر یونٹس کی استعداد کار میں اضافہ، اور چار سیکنڈری سطح کے اسپتالوں میں سولرائزیشن کے منصوبے پر کام جاری ہے۔مشیر صحت نے وفد کو بتایا کہ بانی پی ٹی آئی کے ویژن کے مطابق حکومت کی خصوصی توجہ صحت اور تعلیم پر مرکوز ہے۔ دور دراز علاقوں جیسے کوہستان اور تورغر میں صحت کی بنیادی سہولیات کو بہتر بنانے کے لیے عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ جنوبی و قبائلی اضلاع میں 72 مراکز صحت کو فعال بنایا جا رہا ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ ماں اور بچے کی صحت کے حوالے سے کئی اسپتالوں کو آؤٹ سورس کیا جا رہا ہے تاکہ خدمات کی فراہمی کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔یونیسیف کی کنٹری ہیڈ نے افغان ہولڈنگ کیمپ میں حاملہ خواتین اور بچوں کے لیے نیوٹریشنل سہولیات کے قیام پر محکمہ صحت کی تعریف کی۔سیکرٹری ہیلتھ شاہداللہ خان نے وفد کو آگاہ کیا کہ نیوٹریشن پروگرام کو بجٹ کا باقاعدہ حصہ بنانے کے لیے منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔ محکمہ پی اینڈ ڈی اس حوالے سے ایک منصوبے پر کام کر رہا ہے جس میں بچوں کی نشوونما (سٹنٹنگ) پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ 250 پرائمری کیئر سنٹرز کو ری ویمپ کیا جا رہا ہے جہاں 24/7 زچگی کی سہولیات دستیاب ہوں گی۔یونیسیف کے تعاون سے نیونیٹل آئی سی یوز قائم کیے جا چکے ہیں اور رواں مالی سال میں مزید 10 نیو بارن سنٹرز قائم کیے جائیں گے۔سیکرٹری ہیلتھ نے یہ بھی بتایا کہ معمول کی امیونائزیشن کو مؤثر بنانے کے لیے ویکسینیشن کے اوقات کار میں توسیع کی گئی ہے۔ زچگی کے فوری بعد بچوں کی رجسٹریشن کا عمل کئی اسپتالوں میں شروع کیا جا چکا ہے، جس سے برتھ ڈوز انیشیٹیو کو تقویت مل رہی ہے۔ملاقات کے اختتام پر مشیر صحت احتشام علی اور سیکرٹری ہیلتھ شاہداللہ خان نے یونیسیف کی کنٹری ہیڈ کو اعزازی شیلڈ پیش کی، جبکہ یونیسیف کی جانب سے محکمہ صحت کو بھی اعزازی شیلڈ دی گئی۔
تیسری انٹرنیشنل لائیو سٹاک، پولٹری اینڈ فشریز ایکسپو2025کا انعقاد صوبے میں لائیو سٹاک، پولٹری اور فشریز کے شعبوں کی ترقی میں بہتر نتائج کا حامل ہوگا۔ وزیر لائیو سٹاک۔
صوبائی وزیر لائیو سٹاک نے جمعرات کے روز پشاور میں منعقدہ تیسری انٹرنیشنل لائیو سٹاک، پولٹری اینڈ فشریز ایکسپو2025 کے سٹالوں کا معائنہ کیا اور سرمایہ کاروں کی بھرپور دلچسپی کو سراہا۔
خیبرپختونخوا کے وزیر لائیو سٹاک، فشریز و کوآپریٹیو فضل حکیم خان یوسفزئی نے کہا ہے کہ پشاور میں منعقد ہونے والی تیسری انٹرنیشنل لائیو سٹاک، پولٹری اینڈ فشریز ایکسپو 2025 صوبے میں لائیو سٹاک، پولٹری اور فشریز کے شعبوں کی ترقی کے حوالے سے بہترین نتائج فراہم کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس ایکسپو میں بڑی تعداد میں سرمایہ کاروں کی بھرپور دلچسپی نہ صرف قابل تحسین ہے بلکہ یہ صوبے کی معیشت کو مزید مستحکم بنانے میں اہم کردار ادا کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت محکمہ لائیو سٹاک، فشریز اور کوآپریٹیو کی ترقی کے لیے انقلابی اقدامات کر رہی ہے تاکہ کسانوں، سرمایہ کاروں اور متعلقہ شعبوں کو زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کی جا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ اس ایکسپو کے انعقاد سے صوبے کے نوجوانوں کو روزگار کے مواقع میسر آئیں گے جبکہ صوبہ ملکی اور بین الاقوامی سطح پر سرمایہ کاری کے لیے ایک پرکشش مرکز کے طور پر ابھر کر سامنے آئے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کے روزپشاور میں تیسری انٹرنیشنل لائیو سٹاک، پولٹری اینڈ فشریز ایکسپو خیبرپختونخوا کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر پارلیمانی سیکرٹری برائے لائیو سٹاک اینڈ فشریز و ایم پی اے ملک عدیل اقبال، ایم پی اے وچیئرمین ڈیڈیک سوات اختر خان ایڈوکیٹ اور ایم پی اے شفیع جان سمیت ڈائریکٹر جنرل لائیو سٹاک ایکسٹینشن ڈاکٹر اصل خان، ڈائریکٹر جنرل لائیو سٹاک ریسرچ اعجاز علی، ڈائریکٹر جنرل فشریز محمد شفیع مروت اور دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔ اس دو روزہ ایکسپو کا انعقاد حکومت خیبرپختونخوا، لائیو سٹاک سیکٹر اور لائیو سٹاک اینڈ پولٹری ویلفیئر ایسوسی ایشن کے تعاون سے کیا گیا تھا جس کا مقصد لائیو سٹاک، پولٹری اور فشریز کے شعبوں کو جدید خطوط پر استوار کرنا، سرمایہ کاری کو فروغ دینا اور مویشی پال کسانوں کو عالمی معیار کے مواقع فراہم کرنا تھا۔ اس موقع پر صوبائی وزیر فضل حکیم خان یوسفزئی نے تیسری انٹرنیشنل لائیو سٹاک، پولٹری اور فشریز ایکسپو 2025 کے دوران لگائے گئے مختلف سٹالز کا تفصیلی معائنہ کیا۔ صوبائی وزیر نے بہترین انتظامات اور شرکاء کی بھرپور دلچسپی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے منتظمین کی کاوشوں کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایکسپو خیبرپختونخوا کے لائیو سٹاک، پولٹری اور فشریز کے شعبوں میں ایک تاریخی سنگ میل ہے جو نہ صرف صوبے کی معیشت کو استحکام دے گی بلکہ عالمی سرمایہ کاروں کے لیے بھی نئے مواقع فراہم کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس ایونٹ کے ذریعے صوبہ اور ملک دونوں کی لائیو سٹاک انڈسٹری کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے میں مدد ملے گی۔قبل ازیں صوبائی وزیر نے ایکسپو2025 میں لگائے گئے مختلف سٹالوں کے معائنہ کے دوران اس پروگرام کے انعقاد میں منتظمین کی جانب سے اٹھائے جانے والے اقدامات کی تعریف کی۔تقریب کے اختتام پر شیلڈز بھی تقسیم کی گئیں۔
Chief Secretary Khyber Pakhtunkhwa Reviews Progress on Good Governance Roadmap Targets for Different Departments
Chief Secretary Khyber Pakhtunkhwa, Shahab Ali Shah, chaired a review meeting on the good governance roadmap interventions of the Construction and Works (C&W), Minerals and Energy, and Power Departments, attended by Secretaries and relevant officials.
The meeting reviewed key interventions of the C&W department, with the Chief Secretary focusing on three critical areas. Directions were given on adopting light gauge structures for cost-effectiveness and time-saving; initially eight schools have been identified for such structures, with PC1 ready, promising one-third less construction time and 50 years of sustainability. The CS directed an internal departmental review of the roadmap for enhanced output.
Achievements include a 100 percent shift to E-Pads, with directives to ensure 100 percent e-procurement, streamlining bid submission, call deposits, and work analysis online. C&W is to acquire high-end technical expertise to bolster capacity, with a Strategic Planning Design and Support Unit (SPDSU) legal draft ready. SPDSU is envisioned to drive excellence and quality assurance with dedicated HR and tools.
Discussions covered major projects like the Peshawar-DI Khan Motorway (365 km), Swat Motorway Phase 2, and operationalizing RAMS for condition assessment of roads, enabling data-driven assessments. RAMS already operationalized in Peshawar, DI Khan and Haripur.
Regarding the Mines and Minerals Development Department, efforts are ongoing for geological mapping of KP covering 26 maps, crucial for industrial development. The Chief Secretary stressed the importance of mapping, linkage to industrial growth, aiming to map KP’s mining potential by June 2026 alongside developing frameworks to tap this potential. Initiatives include regular site inspections, data upload on the Mining Cadastral System, scholarships for miners’ children, system for digitized payments, and introducing cards for mine labor linked to online registration. Chief Secretary stated that (KPMDMCL) Khyber Pakhtunkhwa Minerals Development and Management Company Limited operationalization is crucial for project execution and investment facilitation.
For the Energy and Power Department, focus areas included establishing an international renewable energy certificate framework to leverage KP’s clean energy potential, and progress on projects like Madyan hydropower project, Kalam Gabral (88 MW), and Balakot (300 MW), with e-procurement implementation via E-Pads completed.
The Chief Secretary emphasized categorization of departments based on roadmap interventions, underscoring the government’s commitment to development and effective governance in Khyber Pakhtunkhwa.
New UNICEF County Representative Calls on Chief Secretary Khyber Pakhtunkhwa in Peshawar
Ms. Pernille Ironside, the newly appointed Country Representative of UNICEF, met with Shahab Ali Shah, Chief Secretary of Khyber Pakhtunkhwa, for an introductory meeting in Peshawar on Wednesday. They agreed to further strengthen the strategic partnership and enhance future cooperation between UNICEF and the Government of Khyber Pakhtunkhwa.
وزیراعلیٰ کے معاونِ خصوصی برائے توانائی انجینئر طارق سدوزئی کا 40.8 میگاواٹ کوٹو پن بجلی منصوبے کا دورہ
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاونِ خصوصی برائے توانائی انجینئر طارق سدوزئی نے گزشتہ روز دیر لوئر میں 40.8 میگاواٹ کے حامل کوٹو پن بجلی منصوبے کی جگہ کا دورہ کیا اور وہاں جاری کام کا تفصیلی جائزہ لیا۔اس موقع پر پراجیکٹ ڈائریکٹر انجینئر سلطان روم نے منصوبے کی تازہ ترین پیش رفت پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ کوٹو منصوبہ 10 اگست 2025 کو کامیابی کے ساتھ کمرشل آپریشن ڈیٹ (COD) پر داخل ہوا اور اب قومی گرڈ کو خاطر خواہ مقدار میں بجلی فراہم کر رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ منصوبے کی تکمیل میں متعدد رکاوٹیں حائل تھیں، تاہم صوبائی حکومت کے مؤثر اقدامات اور چینی انجینئرز کی بروقت تعیناتی کے باعث یہ منصوبہ کامیابی سے مکمل ہوا۔معاون خصوصی انجینئر طارق سدوزئی نے اس موقع پر کہا کہ کوٹو پن بجلی منصوبے کا کمرشل آپریشن میں شامل ہونا صوبے کے توانائی کے شعبے میں ایک تاریخی سنگِ میل ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ صاف، سستی اور پائیدار بجلی کی فراہمی کی جانب ایک بڑا قدم ہے جس سے صوبائی حکومت کو سالانہ تقریباً 2 ارب روپے کی آمدن حاصل ہوگی۔معاون خصوصی نے منصوبے کی انتظامیہ کو ہدایت کی کہ پنچ لسٹ میں شامل باقی تمام امور کو جلد از جلد مکمل کیا جائے تاکہ منصوبے کا ٹیکنگ اوور سرٹیفکیٹ (TOC) بروقت جاری کیا جا سکے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ صوبائی حکومت پن بجلی منصوبوں کی بروقت تکمیل کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔ ان منصوبوں کی تکمیل نہ صرف صوبے کی توانائی ضروریات پوری کرے گی بلکہ سالانہ اربوں روپے کی آمدن کے ذریعے صوبے کی معیشت کو بھی مستحکم کرے گی۔
مشیر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا برائے اینٹی کرپشن مصدق عباسی کی پریس کانفرنس
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیربرائے اینٹی کرپشن مصدق عباسی نے عام انتخابات 2024 سے متعلق کامن ویلتھ رپورٹ اور انتخابی بے ضابطگیوں کے حوالے سے اطلاع سیل سول سیکرٹریٹ پشاور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ کامن ویلتھ رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ انتخابات میں بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی، سیاسی آزادی پر قدغن اور پی ٹی آئی کو انتخابی عمل سے باہر رکھنے کے لیے منظم اقدامات کیے گئے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ عمران خان کو سزاؤں کے ذریعے انتخابی دوڑ سے باہر رکھنے، فنڈ ریزنگ اور جلسوں پر پابندی لگانے، دفاتر بند کرنے، میڈیا پر قدغن لگانے اور نتائج میں ہیرا پھیری جیسے اقدامات انتخابی شفافیت کے منافی تھے۔مصدق عباسی نے مزید کہا کہ رپورٹ کے مطابق انتخابی نتائج میں فارم 45 اور 47 کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی گئی، کئی مقامات پر مختلف فارم جاری ہوئے اور صرف ایک پارٹی کو ٹارگٹ کرنے کے لیے فیصلے کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ رپورٹ میں الیکشن کی شفافیت اور کریڈیبلٹی کو صفر قرار دیا گیا ہے جبکہ جمہوری اداروں کو کمزور کر کے سکیورٹی نظام کو مقدم رکھا گیا۔انہوں نے مزید کہا کہ خیبرپختونخوا کے حلقہ 79 اور 82 سے انتخابی عملے کے مس کنڈکٹ کے حوالے اینٹی کرپشن خیبرپختونخوا کو شکایات موصول ہوئیں جس پر 10 پریزائیڈنگ افسران کو بلایا گیا، جن میں دو خواتین افسران پیش ہوئیں اور اپنے دستخط کو جعلی قرار دیا۔ دو افسران نے بیانات میں تسلیم کیا کہ الیکشن میں مس کنڈکٹ ہوا ہے۔ ان کے بقول جرم ثابت ہو چکا ہے، تاہم سزا دینے کے اختیار کا تعین ہونا باقی ہے۔مصدق عباسی نے کہا کہ ہماری کارروائی دھاندلی نہیں بلکہ مس کنڈکٹ سے متعلق ہے، جبکہ الیکشن کمیشن تحقیقاتی ادارہ نہیں ہے۔
عوام دوست قوانین کی تیاری پر مشاورت بارے کابینہ کمیٹی برائے قانون سازی کا اجلاس
خیبرپختونخوا میں عوام دوست قوانین کی تیاری اور ان پر مشاورت کے حوالے سے کابینہ کمیٹی برائے قانون سازی کا اجلاس وزیر قانون خیبرپختونخوا آفتاب عالم ایڈووکیٹ کی زیرصدارت منعقد ہوا۔
اجلاس میں سیکرٹری محکمہ قانون اختر سعید ترک، ڈپٹی سیکرٹری سی ایم سیکرٹریٹ عثمان جیلانی، بورڈ آف ریونیو، محکمہ خزانہ، محکمہ سماجی بہبود، ایڈووکیٹ جنرل آفس کے حکام، محکمہ آب پاشی اور دیگر متعلقہ محکموں کے حکام نے شرکت کی۔
اجلاس میں مجوزہ ریور پروٹیکشن (ترمیمی بل) 2025 پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اس موقع پر طے پایا کہ مجوزہ مسودے کا کنال اینڈ ڈرینیج ایکٹ کے ساتھ تقابلی جائزہ لیا جائے تاکہ زمینی حقائق پر مبنی راہ نکالی جا سکے۔ مزید برآں، اس سیکٹر میں قانون شکنی کی روک تھام کے لیے چیف سیکرٹری آفس اور سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ کی مشاورت سے لاء گریجویٹس کو خصوصی مجسٹریسی اختیارات دینے کی تجویز پیش کی گئی۔ ساتھ ہی قانون شکنی کی صورت میں 3 سے 7 سال تک قید کی سزا کی تجاویز بھی زیر غور آئیں۔اسی طرح، اجلاس میں مجوزہ خیبرپختونخوا ویگرینسی (کنٹرول اینڈ ری ہیبیلٹیشن) ایکٹ 2025 پر بھی تفصیلی مشاورت کی گئی۔ اس موقع پر زور دیا گیا کہ گداگری کی روک تھام اور گداگروں کی بحالی کے لیے ایسے اقدامات تجویز کیے جائیں جن سے وہ معاشرے کے کارآمد اور باعزت شہری کے طور پر زندگی گزار سکیں۔ مزید برآں، گداگری سے قومی تشخص کو پہنچنے والے نقصان کے ازالے کے لیے بھی مختلف تجاویز زیر غور لائی گئیں۔علاوہ ازیں اجلاس میں مجوزہ خیبر پختونخوا احساس ریڑھی بان (سٹریٹ وینڈرز لائیولی ہوڈ پروٹیکشن ایکٹ) کے مسودے کے مختلف چیپٹرز اور اس کے 44 سیکشنز میں ضروری سقم کو دور کرنے کے حوالے سے بھی مختلف آراء پیش کی گئیں۔ مذکورہ ایکٹ اور اس کو لاگو کرنے کے حوالے سے وزیر قانون نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت عوام دوست اور شفاف قانون سازی کے ذریعے عوامی مسائل کے دیرپا حل کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ قوانین کی تیاری کے عمل میں زمینی حقائق اور عوامی ضروریات کو اولین ترجیح دی جائے تاکہ حقیقی معنوں میں عوام کو ریلیف مل سکے۔
دو روزہ انٹرنیشنل لائیو سٹاک، پولٹری اینڈ فشریز ایکسپو خیبرپختونخوا 2025 کا آغاز بدھ کے روز پشاور میں کیا گیا
تیسری انٹرنیشنل لائیو سٹاک، پولٹری اینڈ فشریز ایکسپو خیبرپختونخوا 2025 کا آغاز بدھ کے روز پشاور میں کیا گیا۔ سیکرٹری محکمہ لائیو سٹاک، فشریز و کوآپریٹیوز محمد طاہر اورکزئی نے اس دو روزہ ایکسپو کا باقاعدہ فیتہ کاٹ کرافتتاح کیا۔ اس موقع پر، ڈائریکٹر جنرل لائیو سٹاک ایکسٹینشن ڈاکٹر اصل خان، ڈائریکٹر جنرل لائیو سٹاک ریسرچ اعجاز علی، ڈائریکٹر جنرل فشریز محمد شفیع مروت لائیو سٹاک ویلفئر ایسوسی ایشن کے صوبائی صدر آصف اعوان، پولٹری ایسو سی ایشن کے صوبائی صدر راج ولی مہمند اور دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔اس ایکسپو کا انعقاد حکومت خیبر پختونخوا، لائیو سٹاک سیکٹر اور لائیو سٹاک اینڈ پولٹری ویلفیئر ایسوسی ایشن کے تعاون سے کیا گیا ہے جس کا مقصد لائیو سٹاک، پولٹری اور فشریز کے شعبوں کو جدید خطوط پر استوار کرنا، سر مایہ کاری کو فروغ دینااور مویشی پال کسانوں کو عالمی معیار کے مواقع فراہم کرنا ہے۔افتتاح کے بعد چیئرمین سٹینڈنگ کمیٹی برائے لائیو سٹاک شیر علی آفریدی اور سیکرٹری محکمہ لائیو سٹاک محمد طاہر اورکزئی نے تیسری انٹرنیشنل لائیو سٹاک، پولٹری اینڈ فشریز ایکسپو خیبرپختونخوا 2025 میں لگائے گئے مختلف سٹالوں کا معائنہ کیا اور ان میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔انہوں نے اس موقع پر میڈیا سے بھی گفتگو کی اورکہا کہ یہ ایکسپو خیبرپختونخوا کے لائیو سٹاک، پولٹری اور فشریزکے شعبوں کے لیے ایک انقلابی اقدام ہے، جو نہ صرف مقامی معیشت کو مضبوط بنائے گا بلکہ اس سے عالمی سطح پر سرمایہ کاری کے نئے دروازے بھی کھلیں گے۔تیسری انٹرنیشنل ایکسپو 2025 نہ صرف خیبر پختونخوا بلکہ پاکستان کی لائیو سٹاک اور ایگریکلچر انڈسٹری کے لیے مثبت اقدام ہے، جو مقامی معیشت کے فروغ، سرمایہ کاری کے لئے مواقع پیدا کرنے اور خطے کو عالمی سطح پر متعارف کرانے میں اہم کردار ادا کرے گی۔ ایکسپو میں پہلے روز سرمایہ کار، کسان اور جدید ٹیکنالوجی سے لیس بین الاقوامی کمپنیاں شریک ہوئیں جبکہ مختلف سٹالوں پر سرکاری و نجی اداروں، بین الاقوامی تنظیموں اور مقامی کمپنیوں کے نمائندوں نے کسانوں اور صنعت کاروں کی بھرپور رہنمائی کی اور جدید ریسرچ اور نئی ٹیکنالوجی کے ماڈلز بھی پیش کیے، تاکہ کسانوں کو عالمی سطح کی معلومات سے آگہی دلانے کے ساتھ درپیش مسائل کا عملی حل فراہم کیا جا سکے۔
چیف سیکرٹری شہاب علی شاہ کی زیرِ صدارت محکمہ زراعت کے روڈمیپ کا جائزہ اجلاس
چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا شہاب علی شاہ کی زیر صدارت محکمہ زراعت کے روڈمیپ اقدامات پر پیش رفت کا جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں سیکرٹری زراعت اور متعلقہ حکام نے شرکت کی۔اجلاس میں جاری کاموں اور توجہ طلب امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور مقررہ اہداف بروقت مکمل کرنے کی ہدایت کی گئی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ جنگلی زیتون کے درختوں کو تیل پیدا کرنے والی یورپی اقسام میں تبدیل کرنے کا عمل جاری ہے۔ اس منصوبے کے تحت ضم اضلاع میں 1 لاکھ 50 ہزار زیتون کے درختوں پر قلم لگانے کا ہدف ہے، 75 ہزار پودوں پر ستمبر تک اور 1 لاکھ 50 ہزار پودوں پر اکتوبر تک قلم لگائے جائیں گے۔ اس کے علاوہ صوبے کے دیگر اضلاع میں بھی 1 لاکھ 50 ہزار جنگلی زیتون کے پودے پر قلم لگائے جائیں گے۔چیف سیکرٹری نے زیتون کی برآمد کے لئے سرٹیفکیشن کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے متعلقہ حکام کو فوری اقدامات کی ہدایت کی۔ اجلاس میں فارم سروسز سینٹرز کو فعال بنانے اور بہتر کرنے پر بھی زور دیا گیا تاکہ کسانوں کو ایک چھت تلے سہولت فراہم کی جا سکے، اسی طرح ہدایت کی گئی کہ انتظامی کمیٹیاں قائم کی جائیں اور دستیاب مشینری کو فعال بنایا جائے۔مزید بتایا گیا کہ فصلوں کی بروقت حفاظت کے لئے آئی سی ٹی پر مبنی پیسٹ سرویلنس سسٹم جون 2026 تک نافذ کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ 5 ہزار ایکڑ قابلِ کاشت بنجر زمین کی بحالی اور گندم، مکئی، چاول، گنے اور پھلوں سمیت بڑی فصلوں کی جی آئی ایس میپنگ بھی منصوبے میں شامل ہے۔اعلیٰ قسم کی سبزیوں کی کاشت کے لئے 500 محفوظ زرعی ڈھانچے قائم کئے جائیں گے جبکہ 600 کنال رقبے پر ورٹیکل ویجیٹیبل فارمنگ کو فروغ دیا جائے گا تاکہ معیاری پیداوار اور زیادہ آمدنی حاصل کی جا سکے۔ اس کے علاوہ صوبے کے 23 اضلاع میں 47 ماڈل مائیکرو واٹر شیڈز کے ذریعے 300 ایکڑ بنجر زمین کو زرعی زمین میں تبدیل کیا جائے گا۔چیف سیکرٹری نے محکمہ زراعت کو منصوبہ بندی و ترقیات محکمہ کے ساتھ کوارڈینیشن کی ہدایت کی تاکہ منصوبوں کو مزید تیز اور مؤثر بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات صوبے میں زرعی ترقی اور کسانوں کی فلاح و بہبود کے لئے حکومت کے عزم کی عکاسی کرتے ہیں۔
