Home Blog Page 23

خیبر پختونخوا کے وزیر صحت خلیق الرحمٰن نے 320 نرسنگ افسران کو گریڈ 17 سے گریڈ 18 میں ترقی ملنے پر مبارکباد پیش کی ہے

خیبر پختونخوا کے وزیر صحت خلیق الرحمٰن نے 320 نرسنگ افسران کو گریڈ 17 سے گریڈ 18 میں ترقی ملنے پر مبارکباد پیش کی ہے۔ یہ ترقی محکمانہ پروموشن کمیٹی کے 03.02.2026 کو منعقدہ اجلاس کی سفارشات کی روشنی میں دی گئی ہے۔جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق اسسٹنٹ ڈائریکٹر نرسنگ، ہیڈ نرسز، اسپیشلسٹ نرسز، کوالٹی کنٹرول نرسز، کلینیکل نرسنگ انسٹرکٹرز اور نرسنگ انسٹرکٹرز (گریڈ 17) کو ڈپٹی ڈائریکٹر نرسنگ، نرسنگ سپرنٹنڈنٹ، سینئر اسپیشلسٹ نرس، سینئر ہیڈ نرس، نرس منیجر، ڈپٹی کوالٹی کنٹرول نرس، سینئر کلینیکل نرسنگ انسٹرکٹر، نرسنگ ٹیوٹر، وائس پرنسپل اور پرنسپل (گریڈ 18) کے عہدوں پر باقاعدہ بنیادوں پر فوری طور پر ترقی دی گئی ہے۔وزیر صحت خلیق الرحمٰن نے کہا ہے کہ نرسز کی ترقی ان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں، لگن اور صحت کے شعبے میں گراں قدر خدمات کا اعتراف ہے۔ انہوں نے کہا کہ نرسنگ کیڈر کو مضبوط بنانا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے کیونکہ نرسز ہسپتالوں میں مریضوں کی دیکھ بھال کا بنیادی ستون ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ بروقت ترقیوں سے ملازمین کے حوصلے بلند ہوتے ہیں اور سرکاری ہسپتالوں میں خدمات کے معیار میں مزید بہتری آتی ہے۔ وزیر صحت نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت صحت کے شعبے سے وابستہ تمام پیشہ ور افراد کے سروس معاملات کو میرٹ کی بنیاد پر حل کرنے اور ان کی پیشہ ورانہ ترقی کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات جاری رکھے گی۔

خیبرپختونخوا کے وزیر ایکسائز سید فخرجہان کی زیر صدارت محکمہ ایکسائز کی کارکردگی بارےاعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس

خیبرپختونخوا کے وزیر ایکسائز، ٹیکسیشن و نارکوٹکس کنٹرول سید فخرجہان کی زیر صدارت ڈائریکٹوریٹ جنرل ایکسائز حیات آباد پشاور میں محکمہ ایکسائز کی مجموعی کارکردگی کے حوالے سے ایک اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس منعقد ہوا جس میں موٹر و وہیکل رجسٹریشن، ٹیکسیشن اور دیگر متعلقہ شعبہ جات میں مقررہ اہداف پر عملدرآمد، جاری اقدامات اور اب تک حاصل کی گئی کامیابیوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں سیکرٹری ایکسائز، ٹیکسیشن و نارکوٹکس کنٹرول خالد الیاس، ڈائریکٹر جنرل ایکسائز عبدالحلیم خان سمیت مختلف شعبوں کے ڈائریکٹرز، ایکسائز و ٹیکسیشن افسران اور متعلقہ حکام نے شرکت کی۔صوبائی وزیر کو محکمہ کی جانب سے مختلف مقررہ ٹاسکس پر پیش رفت، اہداف کے حصول کی صورتحال اور مجموعی کارکردگی سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی گئی، جبکہ محکمے کی کارکردگی کے اعداد و شمار بھی پیش کیے گئے۔اس موقع پر صوبائی وزیر نے ہدایت کی کہ عوام کو فراہم کی جانے والی سہولیات، خدمات کے معیار اور محکمے کی مجموعی کارکردگی سے متعلق تمام اہداف ہر صورت مقررہ وقت میں حاصل کیے جائیں اور اس سلسلے میں افسران و عملہ اپنی کوششوں میں مزید تیزی لائیں۔صوبائی وزیر نے کہا کہ خصوصی اور من پسند نمبر پلیٹس کا منفرد منصوبہ ایک اہم اور نمایاں قدم ہے جس کے لئے عوام کی جانب سے زبردست دلچسپی اور پزیرائی مل رہی یے۔ان نمبرات کیلئے عوام کی جانب سے مزید ڈیمانڈ بھی موجود ہے۔انھوں نے کہا کہ ان نمبر پلیٹس کے حصول میں عوام کو مزید سہولتیں فراہم کرنے کیلئے مروجہ قوانین اور ضوابط میں اگر ترامیم کی ضرورت ہو تو بھی اس ضمن میں اقدامات اٹھائے جائیں تاکہ خواہشمند عوام کو انکی پسند کے نمبرات آسانی سے فراہم کئے جاسکیں۔انھوں نے کہا کہ عوام کی زیادہ دلچسپی کے باعث اس منصوبے سے حکومت کو ریونیو کی مد میں نمایاں فایدہ حاصل ہوگا۔انہوں نے کہا کہ ایز آف ڈوئنگ بزنس ماڈل کے تحت عوام کی سہولت کے لیے محکمہ ایکسائز کے تمام شعبہ جات میں طریقہ کار کو مزید آسان، شفاف اور موثر بنایا جائے تاکہ شہریوں کو بلاوجہ مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے اور گڈ گورننس کے فروغ میں محکمہ بھرپور کردار ادا کرے۔صوبائی وزیر نے کہا کہ عوام کو سہولت اور معیاری خدمات کی فراہمی عمران خان کے وژن اور وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کی قیادت میں صوبائی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ محکمہ ایکسائز کے تمام شعبہ جات میں اصلاحات، شفافیت اور جدید سہولیات کے ذریعے عوام کی خدمت کو مزید مؤثر بنایا جائے گا اور شہریوں کو بہتر خدمات کی فراہمی میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی جائے گی۔

سپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی کا ہزارہ ڈویژن سے تعلق رکھنے والے پی ٹی آئی کے اراکین قومی و صوبائی اسمبلی کے اعزاز میں افطار ڈنر

سپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی نے سپیکر ہاؤس پشاور میں ہزارہ ڈویژن سے تعلق رکھنے والے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اراکین قومی و صوبائی اسمبلی کے اعزاز میں پُروقار افطار ڈنر کا اہتمام کیا۔
افطار ڈنر کے موقع پر باہمی مشاورت، علاقائی مسائل، جاری و مجوزہ ترقیاتی منصوبوں اور صوبے میں سیاسی ہم آہنگی کے فروغ پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ سپیکر نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ رمضان المبارک صبر، برداشت، اتحاد اور بھائی چارے کا درس دیتا ہے، اور ایسے مواقع منتخب نمائندوں کے درمیان روابط کو مضبوط اور مؤثر بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ہزارہ سمیت پورے صوبے کی متوازن ترقی، عوامی مسائل کے بروقت حل اور جمہوری روایات کے استحکام کے لیے تمام نمائندگان مشترکہ حکمت عملی کے تحت کردار ادا کریں گے۔ شرکاء نے اسپیکر کی جانب سے دی گئی دعوت پر ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اس اقدام کو مثبت، بروقت اور قابلِ تحسین قرار دیا۔تقریب خوشگوار اور باوقار ماحول میں اختتام پذیر ہوئی جہاں ملکی سلامتی، استحکام اور عوامی خوشحالی کے لیے خصوصی دعا بھی کی گئی۔

International Civil Defence Day was observed on March 1st in the province of Khyber Pakhtunkhwa with great enthusiasm and national spirit

International Civil Defence Day was observed on March 1st in the province of Khyber Pakhtunkhwa with great enthusiasm and national spirit. In this connection, under the auspices of Civil Defence Pakistan, special ceremonies, awareness programs, and practical exercises were organized in all 36 districts of the province of Khyber Pakhtunkhwa.

At the ceremony held in the district of Nowshera, officers, volunteers, and local elders of Civil Defence participated enthusiastically under the leadership of Director Civil Defence Nowshera, Zahid Usman Kaka. On this occasion, the role of Civil Defence—particularly its preparedness in wartime situations—was prominently highlighted.

Speakers stated that in view of the current global circumstances, the responsibilities of Civil Defence have become more important than ever before. In wartime conditions, the primary objective of Civil Defence is to ensure the safety of the civilian population, provide immediate assistance during emergencies, and safeguard the lives and property of citizens during potential enemy attacks. For this purpose, the personnel and volunteers of Civil Defence Khyber Pakhtunkhwa remain fully prepared at all times through regular training programs and practical exercises.

During the events held across the province, practical demonstrations were also presented regarding emergency response, civilian evacuation, first aid, firefighting, and public safety during crises. The purpose of these activities was to ensure that, in the event of any unforeseen war or emergency situation, Civil Defence volunteers and staff can promptly assist and guide the public.

Speakers also emphasized that Civil Defence is not limited to wartime situations; during peacetime, it remains actively engaged in assisting the public in cases of natural disasters, fires, accidents, and other emergencies. Volunteers of Civil Defence Khyber Pakhtunkhwa are not only enhancing their capabilities through various training programs but are also promoting safety awareness among the public.

At the conclusion of the ceremony, special prayers were offered for national security, peace, stability, and the protection of citizens. A renewed commitment was expressed that Civil Defence Khyber Pakhtunkhwa will continue to serve with the same spirit to safeguard the public in all types of wartime or emergency situations.

رکن صوبائی اسمبلی فضل الٰہی کے گھر پر ہینڈ گرنیڈ حملہ ، معاون خصوصی برائے اطلاعات شفیع جان کی مذمت

وزیراعلی خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و تعلقات عامہ شفیع جان نے پاکستان تحریک انصاف کے رکن صوبائی اسمبلی فضل الٰہی کے گھر پر نامعلوم افراد کی جانب سے گزشتہ رات کیے گئے ہینڈ گرنیڈ حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے یہاں سے جاری ایک بیان میں شفیع جان نے کہا ہےکہ منتخب رکن صوبائی اسمبلی کے گھر پر حملہ انتہائی افسوسناک ہے تاہم خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا کہ اس واقعے میں اہل خانہ اور قریبی افراد محفوظ رہے۔شفیع جان نے کہا کہ اس نوعیت کے بزدلانہ حملے نہ صرف منتخب عوامی نمائندوں بلکہ امن خراب کرنے کی ناکام کوشش ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ صوبائی حکومت ایسے عناصر کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل پیرا ہے اور کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔انہوں نے کہ وزیر اعلی سہیل آفریدی نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ واقعے کی ہر پہلو سے فوری اور شفاف تحقیقات کی جائیں، شواہد اکھٹے کیے جائیں اور ملوث عناصر کو جلد از جلد گرفتار کر کے قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی۔جائے،معاون خصوصی نے مزید کہا کہ عوامی نمائندوں اور عام شہریوں کے جان و مال کا تحفظ صوبائی حکومت کی اولین ذمہ داری ہے، صوبے میں امن کے قیام کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔شفیع جان نے فضل الٰہی اور ان کے اہل خانہ سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے یقین دلایا کہ حکومت ہر سطح پر ان کے ساتھ کھڑی ہے اور انصاف کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی

خیبرپختونخوا فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھارٹی کی صوبہ بھر میں چھٹی کے روز بھی کارروائیاں جاری، مختلف اضلاع میں چھاپے

خیبرپختونخوا فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھارٹی نے صوبائی حکومت کی ھدایات پر عمل درآمد کرتے ہوئے رمضان پلان کے تحت ملاوٹ مافیا اور غیر معیاری خوردنوش اشیاء کیخلاف چھٹی کے روز بھی کاروائیاں کیں اور سینکڑوں لیٹرز دودھ، مضر صحت و خراب کوکنگ آئل، غیر معیاری مشروبات اور مردار چکن برآمد کرکے تلف کر دئے اور بھاری جرمانے بھی عائد کیے۔
ترجمان فوڈ اتھارٹی نے تفصیلات جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ روز ڈائریکٹر جنرل کاشف اقبال جیلانی اور ڈائریکٹر آپریشنز محمد یوسف کی نگرانی میں فوڈ سیفٹی ٹیم نے پشاور میں جمیل چوک (رنگ روڈ)، تارو جبہ اور ملحقہ علاقوں میں کباب شاپس اور سموسہ و پکوڑا پوائنٹس کے معائنے کیے۔ موبائل فوڈ ٹیسٹنگ لیب کے ذریعے استعمال شدہ کوکنگ آئل کی جانچ کی گئی۔ ناقص صفائی اور غیر معیاری تیل کے استعمال پر ایک ہوٹل کو سیل اور متعدد دکانداروں کو جرمانے عائد کیے گئے جبکہ مضر صحت تیل و گھی موقع پر تلف کر دیا گیا۔
اسکے علاؤہ پشاور میں ٹاؤن تھری ٹیم نے حیات آباد کی مختلف مارکیٹس اور انڈسٹریل اسٹیٹ میں بھی کارروائی کی۔ موبائل فوڈ ٹیسٹنگ لیبارٹری کے ذریعے کریانہ سٹورز، فاسٹ فوڈ یونٹس اور ریسٹورنٹس سے کوکنگ آئل اور مصالحہ جات کے سیمپلز لے کر جانچ کی گئی جبکہ متعدد دکانوں سے ایکسپائرڈ اشیاء موقع پر تلف کی گئیں۔
مزید برآں انڈسٹریل اسٹیٹ میں غیر معیاری اور مضر صحت مشروبات بنانے والی فیکٹری کی انسپیکشن کے دوران معروف برانڈ کے نام پر جعلی ڈرنکس تیار کی جا رہی تھیں۔ 200 لیٹر غیر معیاری مشروبات موقع پر تلف کر کے بھاری جرمانہ عائد کیا گیا۔ ای لائسنسنگ پر بھی کام کیا گیا اور بہتری کے لیے امپروومنٹ نوٹسز جاری کیے گئے۔
ترجمان نے بتایا کہ ایبٹ آباد فوڈ سیفٹی ٹیم نے مسلم آباد چیک پوسٹ پر ناکہ بندی کے دوران رات گئے سے صبح تک ضلع میں داخل ہونے والی اشیائے خوردونوش کی موبائل لیب سے جانچ کی گئی۔ کارروائی کے دوران تقریباً 300 لیٹر ملاوٹ شدہ دودھ برآمد کر کے ضائع کیا گیا۔ مختلف افطاری پوائنٹس پر استعمال ہونے والے تیل کی کوالٹی بھی چیک کی گئی اور مضر صحت ثابت ہونے پر تیل موقع پر تلف کر دیا گیا۔
اسی طرح چارسدہ میں صبح سویرے فوڈ اتھارٹی ٹیم نے خوراک لے جانے والی گاڑیوں کی چیکنگ کی۔ ایک گاڑی میں مردہ مرغیاں پائی گئیں جس پر بھاری جرمانہ عائد کیا گیا اور مردہ مرغیوں کو ضبط کر لیا گیا۔ شیرپاؤ شاخ کے علاقے میں مختلف فوڈ بزنسز کا معائنہ بھی کیا گیا جہاں صفائی اور حفظان صحت کے معیار بہتر بنانے کے لیے امپروومنٹ نوٹس جاری کیے گئے۔
ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ ملاکنڈ کے تھانہ بازار میں جدید موبائل ٹیسٹنگ لیبارٹری کے ذریعے کریانہ سٹورز، میٹ شاپس، دودھ فروشوں، کباب شاپس اور بیکری یونٹس کا معائنہ کیا گیا۔ ایک قصائی کی دکان سے 30 کلو ممنوعہ رنگ ملا قیمہ برآمد کرکے موقع پر تلف کیا گیا اور جرمانہ عائد کیا گیا۔
تفصیلات کیمطابق دیر لوئر ٹیم نیسحری کے وقت چکدرہ انٹرچینج پر ناکہ بندی کے دوران دودھ سپلائی کرنے والی گاڑیوں سے نمونے لے کر موبائل لیب کے ذریعے جانچ کی گئی۔ ملاوٹی دودھ کو موقع پر تلف کر کے جرمانے عائد کیے گئے۔
ضلع صوابی کے حوالے سے ترجمان نے بتایا کہ ڈائریکٹر ٹیکنیکل ڈاکٹر عبدالستار شاہ کی نگرانی میں ٹوپی بازار اور سبزی منڈی کے علاقوں میں ریسٹورنٹس، کباب شاپس اور بیکری یونٹس کا معائنہ کیا گیا۔ ایک کباب شاپ میں نان فوڈ کلر کے استعمال پر رنگ تلف کرتے ہوئے جرمانہ عائد کیا گیا۔ مزید ایک شاپ میں مضر صحت آئل اور غیر معیاری رنگ کے استعمال پر کارروائی کی گئی۔ پکوڑہ و سموسہ شاپس سے تقریباً 270 لیٹر رینسڈ آئل برآمد کر کے موقع پر ضائع کیا گیا اور جرمانے عائد کیے گئے۔
ڈائریکٹر جنرل کاشف جیلانی نے فوڈ سیفٹی ٹیموں کو کامیاب کارروائیوں پر سراہا اور کہا کہ صوبہ بھر میں مضر صحت اور غیر معیاری خوراک کے خلاف کارروائیاں بلا تعطل جاری رہیں گی اور شہریوں کی صحت پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

ڈاکٹر مہوش قتل: قاتل گرفتار، صوبائی وزراء کی لواحقین کو فوری انصاف کی یقین دہانی

کوہاٹ کی لیڈی ڈاکٹر مہوش حسنین کے دلخراش اور افسوسناک قتل کے بعد کمشنر آفس کوہاٹ میں ہنگامی اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا جس میں صوبائی وزیر قانون آفتاب عالم، صوبائی وزیر صحت خلیق الرحمن، معاونِ خصوصی برائے اطلاعات شفیع جان، چیئرمین ڈیڈک و رکنِ صوبائی اسمبلی داؤد آفریدی، کمشنر کوہاٹ ڈویژن سید معتصم باللہ شاہ، ڈپٹی کمشنر کوہاٹ محمد نواز وزیر، ایم ایس ڈی ایچ کیو ہسپتال کی انتظامیہ، انصاف ڈاکٹرز فورم خیبرپختونخوا کی قیادت اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ واقعے میں ملوث تمام ملزمان گرفتار کر لئے گئے ہیں اور ان کے خلاف قانونی کارروائی تیز ی سے جاری ہے۔ صوبائی وزراء نے سخت الفاظ میں کہا کہ انصاف ہر صورت یقینی بنایا جائے گا اور کسی بھی قسم کی کوتاہی یا غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے مزید واضح کیا کہ قاتلوں کو قانون کے مطابق سخت ترین سزا دی جائے گی تاکہ یہ عمل دوسروں کیلئے عبرت کا سبب بنے۔ صوبائی حکومت نے مرحومہ کے اہلِ خانہ اور صحت کے شعبے سے وابستہ کمیونٹی کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے یقین دلایا کہ قانون کی حکمرانی ہر حال میں برقرار رہے گی۔اجلاس میں ہسپتال سکیورٹی کے انتظامات کا بھی جائزہ لیا گیا اور مزید حفاظتی اقدامات بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا تاکہ ڈاکٹرز اور صحت کے عملے کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔

صوبائی ترقیاتی ورکنگ پارٹی کے 13ویں اور 14ویں اجلاس میں 52 ارب روپے سے زائد لاگت کے 32 ترقیاتی منصوبوں کی منظوری دے دی گئی۔

صوبائی ترقیاتی ورکنگ پارٹی (پی ڈی ڈبلیو پی) خیبر پختونخواکے تیرہویں اور چودھویں اجلاس، محکمہ منصوبہ بندی و ترقی خیبر پختونخوا میں ایڈیشنل چیف سیکرٹری محکمہ منصوبہ بندی و ترقی اسلام زیب کی زیر صدارت منعقد ہوئے۔ اجلاسوں میں پی ڈی ڈبلیو پی کے اراکین اور متعلقہ محکموں کے انتظامی سیکرٹریز و افسران نے شرکت کی۔مذکورہ
اجلاسوں میں مجموعی طور پر 52 ارب روپے سے زائد لاگت کے 32 اہم ترقیاتی منصوبوں کی منظوری دی گئی۔ یہ منصوبے لوکل گورنمنٹ، مواصلات و تعمیرات (روڈز)، ابتدائی و ثانوی تعلیم اور اعلیٰ تعلیم کے شعبوں سے متعلق ہیں، جو صوبے میں پائیدار ترقی، بہتر طرز حکمرانی اور عوامی سہولیات کی فراہمی میں اہم کردار ادا کریں گے۔تفصیلات کے مطابق تعلیم کے شعبے میں اہم پیش رفت کر تے ہوئے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل خان آفریدی کی خصوصی ہدایات کی روشنی میں تعلیم کے شعبے میں متعدد اہم منصوبوں کی منظوری دی گئی ہے، جن کا مقصد صوبے میں معیاری تعلیم تک رسائی کو مزید بہتر بنانا ہے۔جس کے تحت مانسہرہ شہر میں لڑکوں کے لیے نئے ڈگری کالج کے قیام کی منظوری دی گئی ہے۔ اس منصوبے سے علاقے میں اعلیٰ تعلیم کے مواقع میں اضافہ ہوگا اور طلبہ کو مقامی سطح پر معیاری تعلیمی سہولیات میسر آئیں گی۔ جبکہ صوابی کے علاقے یارہ خیل مرغز میں گورنمنٹ پرائمری سکول (جی پی ایس) اور گورنمنٹ گرلز پرائمری سکول (جی جی پی ایس) کے قیام کی منظوری دی گئی ہے۔ اس اقدام سے بنیادی تعلیمی ڈھانچے کو مضبوط بنانے اور بچوں، بالخصوص بچیوں، کے لیے تعلیم تک رسائی کو فروغ ملے گا۔ اس کے علاوہ صوبے کے اضلاع کرک، ہری پور، چارسدہ، ہنگو، بٹگرام اور بنوں میں 6 ماڈل سکولوں کے قیام کی ریوائز سکیم کی منظوری بھی دی گئی۔ فورم نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ منصوبوں کو جلد از جلد فعال بنایا جائے تاکہ طلبہ ان کے ثمرات سے فوری طور پر مستفید ہو سکیں۔

ان تعلیمی منصوبوں سے ہزاروں طلبہ کو براہ راست فائدہ پہنچنے کی توقع ہے اور یہ اقدامات صوبے کے تعلیمی شعبے میں بہتری اور انسانی سرمایہ کی ترقی میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔

مزید برآں مواصلات و انفراسٹرکچر کے شعبے میں اہم فیصلے کرتے ہوئے صوبائی دارالحکومت پشاور کی مصروف ترین شاہراہ پشاور رنگ روڈ پر انڈر پاس منصوبے کی منظوری دی گئی ہے۔ یہ منصوبہ شہری ٹریفک کے بہاؤ کو بہتر بنانے، سفر کے دورانیے میں کمی اور محفوظ و بلا تعطل آمد و رفت کو یقینی بنانے میں معاون ثابت ہوگا۔ اس اقدام سے دارالحکومت میں ٹریفک مسائل کے دیرپا حل کی جانب اہم پیش رفت متوقع ہے۔ اس کے علاوہ پی ڈی ڈبلیو پی کے 14ویں اجلاس میں روڈ سیکٹر کی 18 سکیموں کی منظوری بھی دی گئی، جن کی مجموعی لاگت 17 ارب روپے ہے۔ ان میں 8 فیزیبلٹی اسٹڈیز بھی شامل ہیں۔ یہ منصوبے صوبے بھر میں سڑکوں کے بنیادی ڈھانچے کو جدید خطوط پر استوار کرنے، دور دراز علاقوں تک رسائی بہتر بنانے اور اقتصادی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں مددگار ثابت ہوں گے۔ وزیر اعلیٰ محمد سہیل آفریدی کی ہدایات پر لکی سے حکلا تک 26.6 کلومیٹر طویل لنک روڈ منصوبے کی منظوری دی گئی، جس کی مجموعی لاگت 6,163 ملین روپے ہے۔ اس منصوبے سے علاقے میں سفر کے دورانیے میں نمایاں کمی آئے گی، ٹریفک کی روانی بہتر ہوگی اور عوام کو محفوظ سفری سہولیات میسر آئیں گی۔یہ منصوبہ علاقائی و بین الاضلاعی رابطوں کو مضبوط کرے گا، جس سے تجارت و صنعت کے فروغ، سرمایہ کاری کے مواقع میں اضافے اور روزگار کے نئے امکانات پیدا ہوں گے۔ منصوبے کی تکمیل صوبے کی مجموعی اقتصادی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گی۔جبکہ جامع ترقی کی جانب پیش قدمی کر تے ہوئے فورم نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل، شفافیت اور معیار کو یقینی بنایا جائے گا تاکہ عوام کو زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچایا جا سکے۔ منظور شدہ منصوبے صوبہ خیبر پختونخوا میں تعلیمی بہتری، بہتر طرز حکمرانی، جدید انفراسٹرکچر اور پائیدار اقتصادی ترقی کی بنیاد مضبوط کریں گے۔یہ فیصلے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کی قیادت میں صوبے کی ہمہ جہت ترقی کے وژن کی عملی تعبیر ہیں اور آنے والے وقت میں ان کے مثبت اثرات واضح طور پر سامنے آئیں گے

کوہاٹ کے عوامی نمائندوں کا پولیس شہداء کے اہلِ خانہ سے اظہارِ تعزیت، انصاف کی یقین دہانی

کوہاٹ شکردرہ روڈ پر پولیس موبائل پر ہونے والی فائرنگ کے افسوسناک واقعے میں شہید ہونے والے پولیس اہلکار سید عامر عباس کے اہلِ خانہ سے اظہارِ تعزیت کیلئے اعلیٰ حکومتی و عوامی نمائندوں نے ان کی رہائشگاہ کا دورہ کیا۔ صوبائی وزیر قانون آفتاب عالم، معاونِ خصوصی برائے اطلاعات شفیع جان، چیئرمین ڈیڈک و ایم پی اے داؤد شاہ آفریدی اور تحصیل چیئرمین گمبٹ ساجد اقبال نے عیسیٰ خیل کچئی میں شہید سید عامر عباس کے گھر جا کر اہلِ خانہ سے تعزیت کی، شہید کے درجات کی بلندی کیلئے دعا کی اور فاتحہ خوانی کی۔ وفد نے اہلِ خانہ سے دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ اس المناک واقعے میں ملوث عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا اور شہداء کی قربانیاں رائیگاں نہیں جانے دی جائیں گی۔ واضح رہے کہ کوہاٹ شکردرہ روڈ پر پولیس موبائل پر ہونے والی فائرنگ کے اس واقعے میں 5 پولیس اہلکاروں سمیت مجموعی طور پر 7 افراد شہید ہوئے تھے۔

پنجاب محکمہ صحت رپورٹ کے مطابق پنجاب میں مکمل 411 وینٹی لیٹرز ہیں جبکہ خیبرپختونخوا جیسے چھوٹے صوبے کے پاس تقریباً 700 وینٹی لیٹرز ہیں۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم

مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسز پنجاب کے رپورٹ پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ محکمہ صحت رپورٹ کے مطابق پنجاب میں مکمل 411 وینٹی لیٹرز ہیں جبکہ خیبرپختونخوا جیسے چھوٹے صوبے کے پاس تقریباً 700 وینٹی لیٹرز ہیں۔ ان خیالات کا اظہار مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے گزشتہ روز اپنے ایکس اکاؤنٹ پر ٹویٹ کرتے ہوئے کیا۔ مزمل اسلم نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے 10 ایم ٹی آئیز میں 400 جبکہ نان ایم ٹی آئیز میں 295 وینٹی لیٹرز ہیں افسوس ہے کہ 5 ہزار ارب روپے سالانہ بجٹ والے صوبہ پنجاب کے پاس صرف 411 وینٹی لیٹرز ہیں جبکہ خیبرپختونخوا کی آبادی پنجاب سے تین گنا کم ہے جس کے پاس 700 وینٹی لیٹرز ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت کی جانب سے لاہور ہائیکورٹ پنجاب وینٹی لیٹرز رپورٹ نے محکمہ صحت پنجاب کے کارکردگی دعووں کا پول کھول دیا