Home Blog Page 254

شہد کی مکھیوں کا عالمی دن منانے کا مقصد ان کا اہم کردار، انکی افزائش اور لاحق خطرات کے بارے عوام میں شعور بیدار کرنا ہے، معاون خصوصی برائے جنگلات پیر مصور خان

خیبر پختونخوا میں مقامی شہد کی مکھیوں کا تحفظ اور ویلیو چین کی ترقی کے لئے دو عدد منصوبے سالانہ ترقیاتی پروگرام 2025-26 میں شامل کیے گئے ہیں، پیر مصور خان

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے جنگلات، ماحولیات، جنگلی حیات و موسمیاتی تبدیلی پیر مصور خان نے شہد کی مکھیوں کے عالمی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ شہد کی مکھیاں ہمارے ماحولیاتی نظام کا ایک اہم حصہ ہیں، اس دن کے منانے کا مقصد شہد کی مکھیوں کے اہم کردار اور افزائش کے بارے میں عوام میں آگاہی پیدا کرنا ہے، اس سال کا موضوع ”ہم سب کی پرورش کے لیے فطرت سے متاثر شہد کی مکھی” عالمی غذائی نظام میں پولینیٹرز کے اہم کردار کو اجاگر کرتا ہے، ڈائریکٹوریٹ آف نان-ٹمبر فارسٹ پروڈکٹس (NTFP) مقامی شہد کی مکھیوں کے تحفظ، فروغ اور مقامی شہد کی ویلیو چین کی ترقی کے ذریعے صوبے میں لوگوں کے بہتر معاش کے لیے موثر طریقے سے کام کر رہا ہے،, نان ٹمبر فارسٹ پراڈکٹس ڈائریکٹوریٹ خیبر پختونخوا نے مقامی شہد کی مکھیوں کے تحفظ اور ویلیو چین کی ترقی کے لئے دو عدد منصوبے سالانہ ترقیاتی پروگرام 2025-26 میں شامل کیے ہیں جن میں ضم شدہ اضلاع بھی شامل ہیں، شہد کی مکھیوں کو کیڑے مار ادویات کے بے دریغ استعمال اور موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے شدید خطرات لاحق ہیں،زمیندار برادری کیڑے مار ادویات کے بے دریغ اور بے جا استعمال کو ترک کریں، عوام شہد کی مکھیوں کی اہمیت کو سمجھیں اور ان کے تحفظ کے لیے اپنا کردار ادا کریں، لوگ اپنے گھروں اور آس پاس کے علاقوں میں پھولدار پودے لگائیں اور کیڑے مار ادویات کا استعمال کم کر کے اس اہم مخلوقات کے تحفظ میں نمایاں کردار ادا کریں۔

غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیز کے خلاف مؤثر کارروائی کے لیے حکمت عملی تیار، وزیر بلدیات خیبرپختونخوا ارشد ایوب خان کی زیر صدارت اہم اجلاس

خیبر پختونخوا کے وزیر بلدیات ارشد ایوب خان کی زیر صدارت غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیز کے حوالے سے ایک اجلاس منگل کے روزپشاور میں منعقد ہوا، جس میں سیکرٹری لوکل گورنمنٹ ڈاکٹرامبر علی خان بھی موجود تھے جبکہ پشاور، ہزارہ، کوہاٹ، ملاکنڈ، مردان ڈویژنز کے کمشنرز نے آنلائن پلیٹ فارم کے ذریعے اجلاس میں شرکت کی اور غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیز کی روک تھام کے بارے میں اپنی تجاویز پیش کیں۔اس موقع پر غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیز سے پیدا ہونے والے مسائل، بالخصوص قیمتی زرعی زمینوں کے ضیاع، ناقص منصوبہ بندی اور جورسڈکشن کے پیچیدہ مسائل پر تفصیلی غور کیا گیا۔وزیر بلدیات ارشد ایوب خان نے کہا کہ غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیز کے سدباب کے لیے ”ڈیجیٹلائزیشن ہی واحد حل ہے”۔ انہوں نے کہا کہ وہ گزشتہ دس مہینوں سے اس عمل کو مؤثر بنانے کے لیے کوشاں ہیں انہوں نے اس سلسلے میں اراضی کے لینڈ یوز پلان، این او سی کی شرط اور سوسائٹیز کی رجسٹریشن کے عمل کو شفاف بنانے پر زور د یتے ہوئے ہدایت کی کہ جب تک کوئی ہاؤسنگ سوسائٹی متعلقہ این او سی حاصل نہ کرلے، اسے اشتہارات دینے کی اجازت نہ دی جائے۔ہر سوسائٹی کے لیے لازم قرار دیا جائے کہ وہ مسجد، پارک، قبرستان اور دیگر بنیادی سہولیات کے لیے مخصوص اراضی کی تفصیلات فراہم کرے۔اجلاس میں ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت کی گئی کہ وہ اپنی سطح پر غیر قانونی لینڈ یوز کو روکتے ہوئے متعلقین کے خلاف فوری کارروائی کریں۔انہوں نے تجویز دی کہ غیر قانونی سوسائٹیز کے خلاف مؤثر کارروائی کے لیے ایک خصوصی ٹاسک فورس قائم کی جائے جو مختلف محکموں کے درمیان ہم آہنگی کے فروغ اور قوانین پر عملدرآمد کو یقینی بنائے۔

انجینیئرز کے مسائل کے حوالے سے پشاور میں کھلی کچہری کا انعقاد، محمد سہیل آفریدی کی خصوصی طور پر شرکت

انجینیئرز کے مسائل کے حوالے سے پشاور میں منگل کے روز ایک کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا جس کا مقصد انجینیئرز کے مسائل سننا اور ان کے فوری حل کے لیے اقدامات اٹھانا تھا۔ کھلی کچہری میں وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاونِ خصوصی برائے مواصلات و تعمیرات، محمد سہیل آفریدی نے خصوصی طور پرشرکت کی۔اس موقع پر پاکستان انجینیئرنگ کونسل کے چیئرمین انجینیئر وسیم نظیر، وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کے سپیشل سیکرٹری انجینیئر وقار خان، پاکستان انجینیئرنگ کونسل خیبرپختونخوا کے وائس چیئرمین ڈاکٹر قیصر علی، اور سی کاز یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر نصیر احمد بھی کھلی کچہری میں شریک ہوئے۔معاونِ خصوصی محمد سہیل آفریدی نے کھلی کچہری کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سی اینڈ ڈبلیو ڈیپارٹمنٹ ا اصلاحات کے ذریعے نظام میں جدت اورشفافیت لا ئی ہے جس کی بدولت اس کی کارکردگی مزید بہتر ہو ئی ہے اور یہ محکمہ عوامی فلاح و بہبودکے لیے بہترین انداز میں کام کر رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تمام کام آن لائن کیا جا رہا ہے تاکہ شفافیت برقرار رہے اور عمران خان کے وژن کے مطابق گورننس کو جدید خطوط پر استوار کیا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ سی اینڈ ڈبلیو ڈیپارٹمنٹ خیبرپختونخوا نے حالیہ عرصے میں انٹیگریٹڈ مینجمنٹ سسٹم آئی ایم ایس روڈ ایسٹ منیجمنٹ سسٹم ریمز ہیومن ریسورس مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم ای ٹینڈرنگ سسٹم متعارف کروائے ہیں اور یہ عزم ہے کہ مزید بہتر نظام بھی متعارف کرائے جائیں گے تاکہ تمام امور کو ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر لایا جا سکے۔کھلی کچہری کے اختتام پر پاکستان انجینیئرنگ کونسل کے چیئرمین انجینیئر وسیم نظیر کی جانب سے محمد سہیل آفریدی کو ان کی خدمات کے اعتراف میں اعزازی شیلڈ بھی پیش کی گئی۔

خیبرپختونخواحکومت1لاکھ30ہزارغریب ومتوسط گھرانوں کومفت سولرسسٹم کی فراہمی پرعمل پیرا ہے

وزیراعلیٰ خیبرپختونخواپہلے ہی آن لائن ای بیلٹنگ کے ذریعے میرٹ کے تحت مستحق گھرانوں کا انتخاب کرچکے ہیں

فلیگ شپ منصوبے کے حوالے سے بے بنیادوگمراہ کن پروپیگنڈہ کیا جارہاہے،محکمہ توانائی وبرقیات کی وضاحت

محکمہ توانائی وبرقیات نے صوبے کے 1لاکھ 30ہزار غریب اورمتوسط خاندانوں کو مفت سولر سسٹم کی فراہمی کے فلیگ شپ منصوبے کے حوالے سے بعض میڈیاکے ذریعے منصوبے میں مبینہ بے ضابطگیوں ومالی بدعنوانی کے تاثرکوغلط قراردیتے ہوئے اسے بے بنیاد اورگمراہ کن پروپیگنڈہ قراردیا ہے۔محکمہ توانائی وبرقیات نے واضح کیا ہے کہ مذکورہ منصوبہ محکمہ برقیات کے ذیلی ادارے پختونخواانرجی ڈیویلپمنٹ آرگنائزیشن(پیڈو) کے ذریعے شروع کیا گیا ہے۔ اس منصوبے کے پہلے مرحلے کا افتتاح وزیر اعلیٰ خیبرپختونخواعلی امین خان گنڈاپور آن لائن ای بیلٹنگ کے ذریعے کرچکے ہیں جس میں میرٹ کے ذریعے مستحق گھرانوں کا انتخاب کیا گیاہے اورساتھ ہی انہوں نے ہدایات جاری کی ہیں کہ عوامی فلاح کے منصوبے کو جلدازجلدمکمل کیاجائے۔ محکمے نے وضاحت کی ہے کہ تاحال اس منصوبے کے تحت کوئی مالی ادائیگی نہیں کی گئی اور نہ ہی کسی ٹھیکیدار کو کوئی ٹینڈر الاٹ کیا گیا ہے۔منصوبے کے تخمینی نرخ مکمل طور پر مارکیٹ ریٹ سسٹم (MRS) 2024 – پہلی ششماہی اور فنانس ڈیپارٹمنٹ کی منظور شدہ مارکیٹ ریٹ انیلیسس کے مطابق تیار کیے گئے ہیں۔منصوبے کے لیے پیشگی خریداری کا عمل KPPRA ایکٹ کی شق 22 کے تحت شروع کیا گیا ہے، جو فنڈز کی دستیابی سے مشروط منظوری کی اجازت دیتا ہے۔اس مقصد کے لیے بینک آف خیبر (BoK) اور پیڈوکے مابین مفاہمتی یاداشت (MoU) پر پہلے ہی دستخط ہو چکے ہیں لہٰذا، اس منصوبے سے متعلق کیا جانے والا پروپیگنڈہ بے بنیاد، حقائق کے منافی اور گمراہ کن ہے۔محکمہ توانائی وبرقیات خیبرپختونخواحکومت کے وژن کے مطابق عوامی منصوبوں میں شفافیت اورمعیارکوسامنے رکھتے ہوئے میرٹ کی بنیاد پرمعاملات چلارہاہے اورکرپشن کے حوالے سے زیرو ٹالرنس کی پالیسی پرعمل پیراہے۔

درگئی جبن کے پہاڑی پر لگی آگ پر قابو پانے کے لئے محکمہ جنگلات اور ریسکیو 1122 کی ٹیمیں مشترکہ کوششیں کررہی ہیں، معاون خصوصی برائے جنگلات پیر مصور خان

وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے جنگلات، ماحولیات، جنگلی حیات و موسمیاتی تبدیلی پیر مصور خان نے کہا ہے کہ جبن درگئی کے پرائیویٹ اور دشوار گزار پہاڑی علاقے میں لگی آگ پر قابو پانے کے لئے محکمہ جنگلات، ریسکیو اور مقامی لوگوں کے ساتھ ملکر کوششیں کررہا ہے، یہاں سے جاری ایک بیان میں وزیر اعلیٰ کے معاون خصوصی نے کہا کہ ملاکنڈ کے پہاڑی علاقوں آلہ ڈھنڈ، چڑت اور گونیار میں لگی آگ کو ہفتہ کے روز ہی بجھا دیا گیا تھا، جبن درگئی کے حوالیسے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ محکمہ جنگلات ملاکنڈ ڈویژن، لوئر سوات، پیٹرول سکواڈ، محکمہ جنگلی حیات کے تمام سینئیر افسران اور اہلکار وہاں موجود ہیں اور ریسکیو آپریشن میں بھرپور حصہ لے رہے ہیں، انھوں نے عوام سے اپیل کی کہ جنگلات کے تحفظ میں حکومت کا ساتھ دیں کیونکہ جنگلات ہی ہماری بقا کی ضمانت ہے یہی وجہ ہے کہ شروع دن سے جنگلات کا فروغ اور تحفظ صوبائی حکومت کی اولین ترجیح رہی ہے، پیر مصور خان نے محکمہ جنگلات اور ریسکیو 1122کے اہلکاروں اور مقامی لوگوں کی کوششوں کو سراہاتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے میں جنگلات کے تحفظ کے لئے تمام ممکن اقدامات اٹھائے جارہے ہیں۔

خیبرپختونخوا کے وزیر برائے لائیو سٹاک، فشریز و کوآپریٹیو فضل حکیم خان یوسفزئی نے

خیبرپختونخوا کے وزیر برائے لائیو سٹاک، فشریز و کوآپریٹیو فضل حکیم خان یوسفزئی نے سنن گوٹ پراڈکشن ریسرچ سینٹر اور عزی خیلی بفلو فارم چارباغ سوات کا دورہ کیا اور سوات میں یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینمل سائنسز کیلئے سائٹ کا معائنہ کیا تاکہ جلد از جلد یونیورسٹی کیلئے مستقل بلڈنگ کو فعال کرکے طلبا کیلئے باقاعدہ کلاسز کو جاری رکھا جا سکے دورے کے موقع پر وی سی شکیب اللہ، ڈسٹرکٹ ڈائریکٹر لائیو سٹاک سربلند خان، ڈائریکٹر عزیخیلی فارم ڈاکٹر اعجاز احمد، سینئر ویٹرنری آفیسر سوات ڈاکٹر سردار علی اور دیگر متعلقہ افسران بھی ان کے ہمراہ موجود تھے دورے کے دوران سینئر ریسرچ آفیسر ڈاکٹر نادر خان نے صوبائی وزیر کو سنن گوٹ پراڈکشن ریسرچ سینٹر کے اغراض و مقاصد، کارکردگی اور دیگر امور پر تفصیلی بریفنگ دی۔ صوبائی وزیر نے مختلف سیکشنز، لیبارٹریز اور مویشیوں کو دی جانے والی خوراک کا معائنہ کیا اور معیار کو سراہا فضل حکیم خان نے کہا کہ صوبائی حکومت مویشی پال زمینداروں کی فلاح و بہبود کے لیے بھرپور اقدامات کر رہی ہے انہوں نے ہدایت کی کہ سنن گوٹ پراڈکشن ریسرچ سینٹر سے حاصل ہونے والی پیداوار میں مقامی افراد کو ترجیح دی جائے اور معیاری خوراک کی فراہمی یقینی بنائی جائے صوبائی وزیر نے اس بات پر زور دیا کہ فارم کی کارکردگی کو برقرار رکھا جائے اور مقامی زمینداروں کی خدمت بہترین طریقے سے جاری رکھی جائے انہوں نے ننگولئی میں زیر تعمیر یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز سوات کے قیام کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے نہ صرف طلباء کو معیاری تعلیم و تحقیق کی سہولت میسر آئے گی بلکہ لائیو سٹاک اور متعلقہ شعبوں کی ترقی میں بھی مددملے گی۔

خیبر پختونخوا اسمبلی کی ڈپٹی سپیکرثریہ بی بی کی زیر صدارت استحقاق کمیٹی کا اجلاس

خیبر پختونخوا اسمبلی کی استحقاق کمیٹی کا اجلاس ڈپٹی سپیکرثریہ بی بی کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں استحقاق کی تحریک نمبر 6، 9، 14 اور 18 پر غور کیا گیا۔تحریک نمبر 6 اور 9 پر بعض متعلقین کی عدم حاضری کے باعث بحث نہ ہو سکی۔اراکین کمیٹی نے غیر حاضری پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے متعلقین کو دوبارہ طلبی کے احکامات جاری کیے اور واضح کیا کہ اسمبلی کی کارروائی کا احترام کرناہر شخص پر لازم ہے۔تحریک نمبر 14 اور 18 کے حوالے سے متعلقہ حکام کمیٹی کے اجلاس میں پیش ہوئے اور اپنا عذر پیش کیا جسے استحقاق کمیٹی نے قبول کرتے ہوئے آئندہ کے لئے احکامات جاری کئے۔اجلاس میں صوبائی وزیر قانون آفتاب عالم، وزیر اعلیٰ کے معاون خصوصی برائے جنگلات پیر مصور شاہ، اور اراکین صوبائی اسمبلی مشتاق احمد غنی، ارباب وسیم، تاج محمد، خالد خان، صوبیہ شاہد، عبدالسلام آفریدی، منیر لغمانی، عدیل اقبال، اکرام غازی، اور ارشاد خان نے شرکت کی۔استحقاق کمیٹی نے اسمبلی کی کارروائی کے تقدس اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا اور واضح کیا کہ ہر فرد اسمبلی اور اس کی کمیٹیوں کے سامنے جواب دہ ہے۔

پشاور شہر سے جمع ہونے والے میونسپل کچرے کو بطور ایندھن استعمال میں لانے کی غرض سے

پشاور شہر سے جمع ہونے والے میونسپل کچرے کو بطور ایندھن استعمال میں لانے کی غرض سے ایم ایس چراٹ سیمنٹ فیکٹری نے اپنی تجویز پیش کردی ہے۔اس ضمن میں ممتاز صنعتکار گروپ غلام فاروق گروپ کے تحت مذکورہ سیمنٹ فیکٹری نے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت واٹر اینڈ سینی ٹیشن سروسز آف پشاور کو باقاعدہ تحریری طور پر تجویز بھی پیش کی ہے۔اس حوالے سے وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے صنعت عبدالکریم تورڈھیر کی صدارت غلام فاروق گروپ کے تحت چراٹ سیمنٹ فیکٹری کے حکام،ڈبلیو ایس ایس پی،صنعت،لوکل گورنمنٹ،خیبر پختونخوا بورڈ آف انوسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ اور دیگر محکموں کے افسران کا اجلاس منعقد ہوا جس میں چیراٹ سیمنٹ فیکٹری کے منتظمین نے اس حوالے سے ڈبلیو ایس ایس پی کو کچھ عرصہ پہلے دی گئی تجویز کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا اور اس ضمن میں اس پر ممکنہ عملدرآمد کے حوالے سے اپنی گزارش پیش کیں۔فیکٹری حکام نے کہا کہ روزانہ کی بنیادوں پر شہر سے تقریباً 500 ٹن کچرا اٹھایا جاتا ہے جو شمشتو کے مقام پر ڈمپ کیا جاتا ہے اور تقریباً 1.6 ملین ٹن کچرا مذکورہ سائٹ پر پڑا ہے۔متعلقہ صنعتکار گروپ نے فیکٹری میں کوئلے کے متبادل Refused Derived Fuel(RDF) کے طور پر بطور ایندھن اسے ستعمال میں لانے کی تجویز دی ہے جس سے ڈبلیو ایس ایس پی کو خطیر مقدار میں منافع بھی ملے گا۔اجلاس میں ایڈیشنل سیکرٹری صنعت مجیب الرحمٰن،ایڈیشنل سیکریٹری لوکل گورنمنٹ فضل اکبر،منیجر خیبر پختونخوا بورڈ آف انوسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ ارباب فہد،چیف آپریٹنگ آفیسر چراٹ سیمنٹ یاسر مسعود،جی ایم پلانٹ چراٹ سیمنٹ فخر عباس،جی ایم۔ڈبلیو ایس ایس پی ضمیر الحسن،چراٹ کمپنی کے کرنل ریٹائرڈ ظفر علی و سرکاری محکموں کے دیگر افسران نے شرکت کی۔ اس موقع پر ڈبلیو ایس ایس پی کی جانب سے متعلقہ سیمنٹ فیکٹری کی تجویز پر عملدرآمد کے حوالے سے معاون خصوصی اور دیگر شرکاء کو تفصیلات سے آگاہ کیا گیا اور بتایا گیا کہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت اس پروپوزل پر عملدرآمد کیا جا سکتا ہے تاہم اس کا مینڈیٹ محکمہ پی اینڈ ڈی میں پی پی پی سیل کے پاس ہونے کی وجہ سے ڈبلیو ایس ایس پی کے بورڈ کا اجلاس آج طلب کیا گیا ہے تاکہ اس ضمن میں بورڈ کے گزشتہ فیصلے کا ازسر نو جائزہ لیا جائے اور یہ کیس پی اینڈ ڈی کو مزید کاروائی کیلئے ارسال کیا جائے۔اس موقع پر وزیر اعلیٰ کے معاون خصوصی نے ہدایت کی کہ اس معاملے پر عملدرآمد کو تیز کیا جائے۔انھوں نے کہا کہ یہ ممکنہ منصوبہ اگر ایک جانب صاف اور ستھرے ماحول کیلئے انتہائی اہم قدم ہوگا تو دوسری جانب متعلقہ سرکاری ادارے کیلئے بھی مالی طور پر انتہائی مفید ثابت ہوگا۔

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے فنی تعلیم طفیل انجم اور ڈپٹی کمشنر لوئر چترال محسن اقبال کا پرائیویٹ انسٹی ٹیوٹ حب بی کنیکٹ ادارے لوئر چترال کا دورہ

وزیراعلی خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے ٹیکنیکل ایجوکیشن طفیل انجم نے کہا ہے کہ لوئر چترال میں نوجوانوں کی استعداد کار کو بڑھانے کے لئے حب بی کنیکٹ جیسے پرائیویٹ ادارے وقت کی اہم ضرورت ہے، انہوں نے کہا ہے کہ ہم اس ادارے کو عالمی معیار کے مطابق بنانے میں ہر ممکن تعاون کریں گے، یہ ادارہ فنی تعلیم کے میدان میں یہاں کے نوجوانوں کے لئے نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ ان خیالات کا اظہار معاون خصوصی نے لوئر چترال میں ایک پرائیویٹ انسٹیٹیوٹ حب بی کنیکٹ کا دورہ کرتے ہوئے کیا ہے۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر لوئر چترال محسن اقبال سمیت دیگر متعلقہ بھی ان کے ہمراہ تھے۔اس موقع پر چیئرمین حب بی کنیکٹ سہیل ملک نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔ دورے کے دوران، انہیں انسٹی ٹیوٹ کے مشن، منصوبوں، اور علاقائی اثرات پر ایک جامع بریفنگ دی گئی جبکہ حب بی کنیکٹ کی انتظامیہ نے بھی اپنے آپریشنل فریم ورک اور اسٹریٹجک شراکت کے بارے میں تفصیلی بریفینگ دی، جس میں پیشہ ورانہ مہارت اور لگن کو اجاگر کیا گیا جو تنظیم کی کامیابی کا باعث بنتے ہیں۔ معاون خصوصی برائے ٹیکنیکل ایجوکیشن طفیل انجم نے ادارے کے ڈھانچے اور اس کی ٹیم کے عزم پر اطمینان کا اظہار کیا۔ انہوں نے تکنیکی اور ڈیجیٹل اسکل ڈویلپمنٹ کے ذریعے چترال کے نوجوانوں کو بااختیار بنانے میں حب بی کنیکٹ کی کوششوں کو سراہا اور مکمل تعاون کا یقین دلاتے ہوئے چترال کے نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے حب بی کنیکٹ کے ساتھ تعاون کرنے کے لیے بھرپور تعاون کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ ان اضلاع میں عالمی معیار کے عین مطابق فنی تعلیم کو فروغ دیا جائے تاکہ یہاں پر نوجوان طبقہ اپنے لئے عملی روزگار شروع کر سکے۔

کے ایم یو اور سوشل سروس برائے جسمانی معذور افراد و مصنوعی اعضا ء ورکشاپ کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط

مفاہمتی یادداشت پر دستخط انتہائی اہمیت کا حامل معاہدہ ہے۔صوبائی وزیر برائے سماجی بہبود

خیبر پختونخوا کے وزیر برائے سماجی بہبود سید قاسم علی شاہ نے کہا ہے کہ خیبر میڈیکل یونیورسٹی اور سوشل سروس برائے جسمانی معذور افراد و مصنوعی اعضا ء ورکشاپ کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط انتہائی اہمیت کا حامل معاہدہ ہے جس کے ذریعے صوبے کے نوجوان جد ید مصنوعی ذہانت اوردور حاضر کی ٹیکنالوضی سے روشناس ہو سکیں گے اوروہ اس تربیت سے آراستہ ہو کر مریضوں کو طبی علاج و معالجہ سے مستفیدکر سکیں گے اور ہمیں یقین ہے کہ کے ایم یو اور سوشل سروس برائے جسمانی معذور افراد اور مصنوعی اعضاء ورکشاپ مل کر اس معاہدے کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی تمام تر صلاحیتوں کو طلبہ پر صرف کریں گے اور مطلوبہ اہداف کو کامیابی سے حاصل کریں گے۔ان خیالات کا اظہا رانہوں نے خیبرخیبر میڈیکل یونیورسٹی اور سوشل سروس برائے جسمانی معذور افراد و مصنوعی اعضاء ورکشاپ کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط کرنے کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع خیبر میڈیکل یونیورسٹی اور سوشل سروس برائے جسمانی معذور افراد و مصنوعی اعضاء ورکشاپ کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر باضابطہ طور دستخط کیے گئے۔ تقریب میں ڈائریکٹر سوشل ویلفئیر محمد رفیق مہمند سمیت کے ایم یو کے عہدیداران اور متعلقہ افسران بھی موجود تھے۔ اس معاہدہ کا مقصد دونوں اداروں کے درمیان روابط و تعاون کو فروغ دینا ہے جو کہ پانچ سال کے لیے مؤثر رہے گا اور باہمی رضامندی سے توسیع بھی دی جا سکے گی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر سماجی بہبود نے کہا کہ محکمہ سماجی بہبود صوبے میں عوام کی فلاح و بہبود اور ترقی کے لئے دورس اقدامات کر رہی ہے اورحکومت کی عوام کے لئے مثبت پالیسیوں کی بدولت عام لوگوں کی مشکلات میں واضح کمی واقع ہو رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومتی اقدامات کے نتیجے میں عوام جلد نمایا ں تبدیلی محسوس کریں گے۔انہوں نے کہا کہ سوشل سروس برائے جسمانی معذور افراد اور مصنوعی اعضاء ورکشاپ کے ایم یو کے طلبہ کے لیے سازگار اور معاون ماحول فراہم کرے گا،دونوں اداروں کے نمائندوں پر مشتمل ایک مشترکہ کمیٹی بھی تشکیل دی جائے گی جو دوران تربیت امور کا جائزہ لے گی اور حائل رکاوٹوں کا حل تجویز کرے گی۔یہ باہمی اشتراک نہ صرف طلبہ کو عملی تربیت کے بہتر مواقع فراہم کرے گا بلکہ جسمانی معذوری کے شکار افراد کے لیے بحالی کی خدمات میں بھی بہتری کا باعث بنے گا۔قبل ازیں کے ایم یو کی جانب سے انسٹیٹیوٹ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر عبداللہ اور سوشل سروس برائے جسمانی معذور افراد اور مصنوعی اعضاء ورکشاپ کی جانب سے مینیجر فیاض نے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے۔