Home Blog Page 257

مشیر خزانہ خیبرپختونخوا اور اگیگا قائدین کے درمیان منعقدہ اجلاس میں ون پوائنٹ ایجنڈا پنشن اصلاحات بارے تفصیلی گفتگو ہوئی تھی۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم

اجلاس کے حوالے سے دوسرے شائع خبریں غلط اور من گھڑت ہیں۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم

مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم کے ساتھ اگیگا قائدین سمیت مختلف ملازمین تنظیموں کے سربراہان کی کچھ دن پہلے ایک اہم اجلاس پنشن اصلاحات بارے منعقد ہوا تھا جس میں ون پوائنٹ ایجنڈا ”پنشن اصلاحات” پر مشیر خزانہ خیبرپختونخوا اور اگیگا قائدین کے درمیان تفصیلی گفتگو ہوئی جس میں وفاق اور دیگر صوبوں کے پنشن اصلاحات پر بھی تفصیلی گفتگو ہوئی۔ اس حوالے سے اگیگا اور دیگر تنظیموں کی جانب سے من گھڑت خبریں شائع اور سوشل میڈیا پر وائرل کی گئی ہیں جن کے بارے میں اجلاس کے دوران کسی قسم کی گفتگو نہیں ہوئی تھی کیونکہ اجلاس کا ون پوائنٹ ایجنڈاپنشن اصلاحات تھا۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا کے دفتر سے وضاحت کی گئی ہے کہ پنشن اصلاحات کے علاوہ کسی بھی دوسرے معاملہ پر بات نہیں ہوئی ہے اس لئے اجلاس کے حوالے سے باقی جتنی بھی باتیں کی جا رہی ہیں وہ درست نہیں ہیں۔

صوبائی وزیر برائے ابتدائی و ثانوی تعلیم فیصل خان ترکئی کا گورنمنٹ شہید اسامہ ظفر سینٹینئل ماڈل ہائیر سیکنڈری سکول پشاور سٹی کا دورہ

خیبر پختونخوا کے وزیر تعلیم فیصل خان ترکئی نے کہا ہے کہ میٹرک امتحانات میں انسدادِ نقل کیلئے بہترین اقدامات اٹھائے گئے تھے نقل کے خاتمے کے ساتھ ساتھ نجی اور سرکاری سکولوں کے طلباء کو اکٹھا ہالوں میں بٹھایا گیا تھا اور امتحانی عمل کی سخت مانیٹرنگ کی گئی تھی۔ اسی طرح انٹر میڈیٹ کے امتحانات میں بھی نقل کے خاتمے کیلئے اقدامات اٹھا رہے ہیں۔ تاکہ حقدار کو اس کا حق ملے۔سکولوں میں مفت درسی کتابیں تمام اضلاع کے تمام سکولوں کو فراہم کی جا رہی ہیں۔ تعلیمی نظام میں بہتری لارہے ہیں۔ اور تمام تر توجہ کوالٹی ایجوکیشن پر دے رہے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گورنمنٹ شہید اسامہ ظفر سینٹینئل ہائیر سیکنڈری سکول پشاور سٹی دورے کے موقع پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ کمشنر پشاور ڈویژن و چیئرمین پشاور تعلیمی بورڈ ریاض محسود اور سپیشل سیکرٹری ایجوکیشن عبد الباسط بھی ان کے ہمراہ تھے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میٹرک امتحانات میں 13 لوگوں کے خلاف مقدمات بنائے گئے اور جن جن لوگوں نے غلطیاں کی ہیں ان کو ایک اینڈڈی رولز کے تحت سزائیں دی جائیں گی۔جبکہ پچھلے سال بھی 142 لوگوں کے خلاف مقدمات درج کیے تھے، انہوں نے مزید کہا کہ داخلہ مہم کامیابی سے جاری ہے اور 6 لاکھ 50 ہزار سے زائد طلباء و طالبات کو داخل کرایا گیا ہے۔ جبکہ چند اضلاع میں میں ڈیٹا کا مسئلہ پیش آرہا ہے وہ جلد ہی اپلوڈ کرکے ٹارگٹ پورا کیا جائے گا۔ جبکہ داخلہ مہم کو 15 مئی تک توسیع بھی دی گئی ہے۔ پچھلے سال 1.3 ملین بچوں کو سکولوں میں داخلہ دیا گیا تھا۔ اور ہمارا عزم ہے کہ ہم نے ہر صورت سکولوں سے باہر بچوں کو سکولوں میں لیکر آنا ہے۔ صوبہ بھر کے سکولوں میں آئی ٹی اور سائنس لیبز بنائے جارہے ہیں۔ اور اس کمی کو ہنگامی بنیادوں پر پورا کیا جا رہا ہے۔ دہشت گردی سے متاثرہ ضم اضلاع کے سکولوں کے حوالے سے وزیر تعلیم نے کہا کہ ضلع خیبر میں چائنہ ایڈ کے تعاون سے 50 سکول بنائے ہیں۔ اور عنقریب درس و تدریس کا عمل بھی اس میں شروع ہو جائے گا۔ جبکہ قبائلی اضلاع بشمول صوبہ بھر میں سکولوں کی سولرائزیشن کریں گے جس کے لیے بینک اب خیبر کے ساتھ بات چیت کی گئی ہے۔

خیبرپختونخوا اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے سائنس ٹیکنالوجی و انفارمیشن ٹیکنالوجی کا اجلاس

خیبرپختونخوا اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے سائنس ٹیکنالوجی و انفارمیشن ٹیکنالوجی کا اجلاس چیئرمین کمیٹی و رکن صوبائی اسمبلی محمد خورشید کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں ممبران صوبائی اسمبلی علی شاہ، محمد یامین، محمد،سردارشاہ جہان، مخترمہ نیلو فر بابر نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران محکمہ سائنس ٹیکنالوجی و انفارمیشن ٹیکنالوجی میں سرپلس پول کے ملازمین کی ایڈجسٹمنٹ اور دوسرے محکموں سے ڈیپوٹیشن پر آئے ہوئے ملازمین کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اجلاس میں محکمہ سائنس ٹیکنالوجی و انفارمیشن ٹیکنالوجی کے اہلکاروں کے علاوہ محکمہ انتظامیہ اور وکلاء نے شرکت کی، اجلاس کے دوران چیئرمین سٹینڈنگ کمیٹی محمد خورشید نے محکمہ کے سرپلس پول ملازمین کو جلد از جلد ایڈجسٹ کرنے کے احکامات جاری کرتے ہوئے کہا کہ ان ملازمین کے مسائل فوری حل کیے جائیں۔اجلاس میں منیجنگ ڈائریکٹر خیبرپختونخوا انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کی عدم موجودگی پر چیئرمین قائمہ کمیٹی محمد خورشید نے برہمی کا اظہار کیا اور ہدایت کی کہ آئندہ اجلاس جلد بلایا جائے جس میں منیجنگ ڈائریکٹر خیبرپختونخوا انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ بھی اپنی شرکت یقینی بنائیں۔

خیبر پختونخوا کابینہ کی تشکیل کردہ کمیٹی برائے قانون سازی کا اہم اجلاس وزیر قانون خیبر پختونخوا آفتاب عالم ایڈوکیٹ

خیبر پختونخوا کابینہ کی تشکیل کردہ کمیٹی برائے قانون سازی کا اہم اجلاس وزیر قانون خیبر پختونخوا آفتاب عالم ایڈوکیٹ کی زیر صدارت محکمہ قانون کے کمیٹی روم میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں وزیر اوقاف و مذہبی امور صاحب زادہ عدنان قادری، ایڈوکیٹ جنرل خیبر پختونخوا شاہ فیصل اتمان خیل، سیکرٹری قانون اختر سعید ترک، سیکرٹری بورڈ آف ریونیو محمد ارشاد، سیکرٹری اوقاف عنایت اللہ وسیم، ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل مدثر احمد،محکمہ داخلہ، سیاحت، ثقافت اور دیگر متعلقہ محکموں کے حکام نے شرکت کی۔اجلاس میں جرائم کی مؤثر روک تھام کے لیے ضابطہ فوجداری 1898 میں ترامیم پر تفصیلی غور کیا گیا۔ شرکاء نے اپنی اپنی تجاویز پیش کیں۔ایڈوکیٹ جنرل شاہ فیصل اتمان خیل نے اجلاس کو آگاہ کیا کہ چونکہ مجوزہ بل عدالتی نظام سے متعلق ہے، لہٰذا اس ضمن میں پشاور ہائی کورٹ بالخصوص چیف جسٹس سے مشاورت ضروری ہے۔ وزیر قانون آفتاب عالم ایڈوکیٹ نے اس بات پر زور دیا کہ مجوزہ قوانین کو آئین کے مطابق ہم آہنگ بناتے ہوئے عدالتی اور انتظامی اختیارات کے مابین توازن قائم رکھا جائے گا۔اجلاس میں خیبر پختونخوا ٹورزم پولیس ایکٹ 2019 میں ترامیم اور ٹورزم پولیس کی مدت میں توسیع پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیر قانون نے کہا کہ ترقی یافتہ ممالک میں ٹورازم پولیس کا کردار نہایت اہم ہے اور خیبر پختونخوا میں سیاحت کے فروغ کے لیے اس شعبے کو قانونی بنیادوں پر مزید تقویت دی جائے گی۔علاوہ ازیں، مغربی پاکستان کی تاریخی مساجد و مزارات فنڈز محصولات اور خیبر پختونخوا وقف املاک ترمیمی بل 2025 کے حوالے سے بھی مختلف تجاویز پر گفتگو ہوئی۔ شرکاء نے مغربی پاکستان کی تاریخی مساجد اور مزارات سے ملنے والی سیس سے حاصل ہونے والے فنڈز کو تاریخی مساجد اور مزارات کی بحالی اور تحفظ پر استعمال کرنے کی تجاویز پیش کیں۔اجلاس کے اختتام پر وزیر قانون نے متعلقہ محکموں کے حکام کو ہدایت کی کہ تمام تجاویز کو حتمی شکل دی جائے تاکہ ا نہیں با ضابطہ طور پر قانونی حیثیت مل سکے۔

سبکدوش ہونے والے ڈائریکٹر جنرل اطلاعات سلیم خان کے اعزاز میں الوداعی تقریب کا انعقاد

مشیر اطلاعات بیرسٹر ڈاکٹر سیف اور سیکرٹری اطلاعات محمد خالد کی شرکت

تقریب میں ڈائریکٹرجنرل سلیم خان کی خدمات کو خراج تحسین پیش

محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ میں ڈائریکٹر جنرل سلیم خان کی ریٹائرمنٹ کے موقع پر ایک پروقار الوداعی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ تقریب میں مشیر اطلاعات و تعلقات عامہ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی، جبکہ سیکرٹری اطلاعات، ایڈیشنل سیکرٹری اطلاعات، ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات، ڈائریکٹرز، ڈپٹی ڈائریکٹرز، اور اسسٹنٹ ڈائریکٹرز نے بھی شرکت کی۔تقریب کے دوران مشیر اطلاعات بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے سلیم خان کی نظامت اطلاعات وتعلقات عامہ میں طویل اور شاندار خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے پیشہ ورانہ دیانتداری، محنت اور لگن کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں نبھائیں۔ اُن کی قیادت میں محکمے نے کئی اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں۔اس موقع پر مشیر اطلاعات نے سلیم خان کو یادگاری شیلڈ پیش کی اور ان کی خدمات پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ سلیم خان جیسے افسران اداروں کے لیے اثاثہ ہوتے ہیں، اور ان کا تجربہ نوجوان افسران کے لیے مشعلِ راہ ہے۔سیکرٹری اطلاعات محمد خالد نے بھی سلیم خان کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ سلیم خان ایک تجربہ کار، باصلاحیت اور وژنری افسر تھے جن کی قیادت میں نظامت اطلاعات نے کئی اہم کامیابیاں حاصل کیں۔ ان کا انتظامی وژن اور ٹیم ورک کا جذبہ نوجوان افیسرز کے لئے ایک مثال ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سلیم خان نے محکمے میں ایک مثبت اور پیشہ ورانہ ماحول کو فروغ دیا، اور اُن کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔تقریب میں دیگر مقررین نے بھی سلیم خان کے ساتھ کام کرنے کے اپنے تجربات بیان کیے اور ان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ سلیم خان نے اپنے خطاب میں تمام افسران و اہلکاروں کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری دیانتداری سے نبھانے کی کوشش کرتے رہے، اور انہیں خوشی ہے کہ وہ ایک باعزت انداز میں اپنی خدمات مکمل کر کے رخصت ہو رہے ہیں۔ سلیم خان نے کہا کہ ادارے کے لئے انکی خدمات کا سلسلہ ریٹائرمنٹ کے بعد بھی جاری رہیگا۔ تقریب کا اختتام دعائیہ کلمات اور سلیم خان کے لیے نیک تمناؤں کے اظہار پر ہوا۔

معاون خصوصی ڈاکٹر امجد علی کی زیر صدارت خیبرپختونخوا ہاؤسنگ اتھارٹی بورڈ کے 41 ویں اجلاس کاانعقاد

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاونِ خصوصی برائے ہاؤسنگ ڈاکٹر امجد علی کی زیر صدارت خیبرپختونخوا ہاؤسنگ اتھارٹی بورڈ کا 41 واں اجلاس منگل کے روز پشاور میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں سیکرٹری ہاؤسنگ محمود اسلم وزیر، ڈائریکٹر جنرل خیبرپختونخوا ہاؤسنگ اتھارٹی عمران وزیر، ایڈیشنل ڈی جی عامر زیب خان اور دیگر متعلقہ محکموں کے اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں سیکرٹری ہاؤسنگ نے خیبرپختونخوا ہاؤسنگ اتھارٹی کے تحت جاری اور مکمل شدہ ہاؤسنگ منصوبوں پر تفصیلی بریفنگ دی، جب کہ ڈی جی ہاؤسنگ عمران وزیر نے لینڈ شیئرنگ سے متعلق رہائشی اراضی کے لیے مرتب کردہ قوانین پر روشنی ڈالی۔ڈاکٹر امجد علی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہاؤسنگ اتھارٹی کے 2014 کے قوانین میں ضرورت کے پیش نظر ضروری ترامیم ہوتی رہی ہیں، تاہم اب نئی قانون سازی کے تحت رہائشی اراضی کے لیے بھی لینڈ شیئرنگ کے اصول وضع کیے گئے ہیں، جس سے ہاؤسنگ سکیموں کی تکمیل میں آسانی ہوگی اور ان کی افادیت و اہمیت میں بھی نمایاں اضافہ ہوگا۔انہوں نے حیات آباد ہائی رائزنگ منصوبے کے لیے لفٹ کی منظوری دیتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت شہریوں کو ہر ممکن سہولت کی فراہمی کے لیے پرعزم ہے تاکہ عوام کی روزمرہ زندگی میں آسانی پیدا ہو۔ڈاکٹر امجد علی نے مزید کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سردار علی امین خان گنڈاپور کی ہدایت پر شہداء کے لواحقین کو ہاؤسنگ اتھارٹی کے تحت 500 پلاٹس الاٹ کیے گئے ہیں اور یہ سلسلہ آئندہ بھی جاری رہے گا۔انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ وزیراعلیٰ کے ویژن کے مطابق تمام ہاؤسنگ منصوبے بروقت مکمل کیے جائیں تاکہ صوبے کے عوام بہتر، محفوظ اور سہولتوں سے آراستہ رہائشی زندگی گزار سکیں۔

پاک فوج نے مشرقی سرحد پر بھارت کو منہ توڑ جواب دے کر اس کا غرور خاک میں ملا دیا ہے، بیرسٹر ڈاکٹر سیف

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر اطلاعات و تعلقات عامہ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا ہے کہ پاک فوج نے مشرقی سرحد پر بھارت کو منہ توڑ جواب دے کر اس کا غرور خاک میں ملا دیا ہے۔مغربی سرحد پر بھارت کی ”بی ٹیم” دہشت گردوں کو بھی شکست دیں گے،خیبر پختونخوا پولیس سمیت تمام سیکیورٹی ادارے بھارت کی ”اے” اور ”بی” ٹیموں کے خلاف متحد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت خیبر پختونخوا میں دہشت گردوں کی پشت پناہی میں ملوث ہے۔ امن دشمن عناصر سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا اوربھارت کی بی ٹیم کو سر اٹھانے نہیں دیا جائیگا۔بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف پولیس اہلکاروں کی قربانیاں ہرگز رائیگاں نہیں جائیں گی۔ خیبر پختون خوا پولیس دہشت گردوں کا ڈٹ کر مقابلہ کررہی ہی ہے۔دہشت گردوں نے گزشتہ روز بھی پشاور میں پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنایا، خیبر پختونخوا حکومت دھماکے میں شہید اہلکاروں کے لواحقین کے غم میں برابر کی شریک ہے، اس واقعے میں ملوث عناصر کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے گا۔ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا کہ پولیس جوان اپنے سینوں پر گولیاں کھاکر قوم کو دہشتگردوں سے محفوظ بنارہے ہیں پولیس کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیگی۔ امن دشمنوں کا خاتمہ قریب ہے پولیس سمیت تمام سیکیورٹی ادارے اور عوام بھارت کی طرح دہشت گردوں کے خلاف بھی متحد ہیں۔

وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاونِ خصوصی برائے مواصلات و تعمیرات محمد سہیل آفریدی کی کوششوں سے ضلع خیبر میں جمرود بائی پاس سڑک پر اسفالٹ کے کام کا افتتاح کر دیا گیا

خیبرپختونخوا کے معاونِ خصوصی برائے مواصلات و تعمیرات محمد سہیل آفریدی کی خصوصی کوششوں سے ضلع خیبر میں جمرود بائی پاس روڈ خرکی آباد پر اسفالٹ بچھانے کا کام کا افتتاح کر دیا گیا۔ اس اہم ترقیاتی منصوبے کا افتتاح پاکستان تحریک انصاف کے رکنِ قومی اسمبلی اقبال آفریدی نے کیا۔افتتاحی تقریب میں شمشیر خان، جمرود سب ڈویژن ہائی وے کے ایس ڈی او ملک فضل حنان، عامر آفریدی، آئی ایس ایف کے صوبائی صدر مشرف آفریدی، شفیق آفریدی، عابد آفریدی، رفیق آفریدی، صہیب آفریدی اور پی ٹی آئی کے دیگر عہدیداران و کارکنان نے شرکت کی۔افتتاحی تقریب میں اظہار خیال کرتے ہوئے مقررین نے معاون خصوصی محمد سہیل آفریدی کی جانب سے علاقے میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہا اور مذکورہ منصوبے کو علاقے کی خوشحالی کے لیے ایک خوش آئند پیش رفت قرار دیا اس موقع پر معاونِ خصوصی محمد سہیل آفریدی نے اپنے پیغام میں کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت وزیر اعلیٰ علی امین خان گنڈاپور کی قیادت میں پسماندہ علاقوں کی ترقی کو اولین ترجیح دے رہی ہے۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ علاقے کے عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی حکومت اپنی ذمہ داری سمجھتی ہے اور اس مقصد کے لئے تمام تر وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔

محکمہ اعلی تعلیم خیبرپختونخوا میں کرپشن کی روک تھام اور کارکردگی میں مزید بہتری

محکمہ اعلی تعلیم خیبرپختونخوا میں کرپشن کی روک تھام اور کارکردگی میں مزید بہتری لانے کے لئے مجوزہ ٹول کٹ کے حوالے سے وزیر برائے اعلی تعلیم خیبرپختونخوا مینا خان آفریدی اور مشیر وزیراعلی برائے انسداد بدعنوانی مصدق عباسی کے درمیان اعلی سطحی ملاقات سول سیکرٹریٹ پشاور میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں صوبائی وزیر مینا خان آفریدی نے محکمہ اعلی تعلیم میں جاری بہتری کے لئے اٹھائے جانے والے اقدامات و اصلاحات، ڈیجیٹائزیشن، کفایت شعاری، ریشنلائزیشن اور درپیش چیلجز کے حل پر آگاہ کیا اور مختلف زیر غور تجاویز بھی شئیر کیں۔ خیبرپختونخوا کے وزیر برائے اعلی تعلیم مینا خان آفریدی اور مشیر وزیراعلی خیبرپختونخوا برائے انسداد بدعنوانی مصدق عباسی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ محکمہ اعلی تعلیم میں بانی چئیرمین عمران خان اور پارٹی وژن کے مطابق کرپشن کی بیخ کنی ممکن بنانے کے لیے تمام تر توانائیاں صرف کریں گے تاکہ عوام تک بہترین خدمات کی فراہمی ممکن ہو سکے۔ مجوزہ ٹول کٹ پر مشیر وزیراعلی برائے انسداد کرپشن مصدق عباسی کی جانب سے محکمہ اعلی تعلیم کو ایک مفصل فیڈبیک ڈرافٹ بہت شئیر کیا جائے گا۔

مشیر اطلاعات و تعلقات عامہ خیبر پختونخوا بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے ڈیجیٹل دور میں

مشیر اطلاعات و تعلقات عامہ خیبر پختونخوا بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے ڈیجیٹل دور میں معلومات کے بڑھتے ہوئے غلط استعمال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سوشل میڈیا کے ذمہ دارانہ استعمال اور ایک مؤثر احتسابی فریم ورک کی فوری ضرورت پر زور دیا ہے۔ پشاور یونیورسٹی میں منعقدہ ”سٹرینتنگ میڈیا اینڈ انفارمیشن لیٹریسی” راؤنڈ ٹیبل ڈسکشن میں اظہار خیال کرتے ہوئے بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ کس طرح سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو غلط معلومات، طبی گمراہ کن مشوروں اور کردار کشی کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس مسئلے کا حل صرف قانونی اقدامات میں نہیں بلکہ اخلاقی ذمہ داری اور میڈیا کی تعلیم و تربیت کے فروغ میں ہے۔ انہوں نے کہا، ”یہ مسئلہ قانونی ہونے سے پہلے سماجی اور نفسیاتی ہے۔ ہمارے رویوں، خواہشات اور معاشرتی اقدار کو سچائی اور عزت نفس کے احترام کے لیے ازسرنو ترتیب دینے کی ضرورت ہے۔” بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے سوشل میڈیا پر موجود بکھرے ہوئے سامعین اور غیر ذمہ دارانہ منافع خوری کے کلچر پر بھی تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے کہا، ”جب کوئی شخص حقائق کو توڑ مروڑ کر پیسہ کماتا ہے، تو اس کے لیے کسی قسم کے احتساب کا نظام ہونا چاہیے۔” انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ آج معلومات کے غلط استعمال نے ایک نئی شکل اختیار کر لی ہے، جو کہ سماجی بگاڑ کا باعث بن رہی ہے، جیسے کہ صحت سے متعلق غلط معلومات، سیاسی مقاصد کے لیے رائے عامہ کی چالاکی سے تشکیل، مذہبی منافرت کو ہوا دینا، اور خاندانی اقدار کا زوال۔ عالمی سطح پر بہترین پالیسیوں کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے تائیوان کی مثال دی، جہاں اسکولوں میں ڈیجیٹل میڈیا لٹریسی کو تعلیمی نصاب کا حصہ بنایا گیا ہے۔ انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا قول نقل کیا،”اپنی اولاد کو اپنے دور کے لیے نہیں، بلکہ ان کے دور کے لیے تعلیم دو۔” اپنی گفتگو کے اختتام پر انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ خبر اور رائے میں فرق واضح کیا جائے، علمی و صحافتی دیانت کو فروغ دیا جائے، اور میڈیا معیشت میں احتساب کو لازمی عنصر بنایا جائے۔”میڈیا اب صرف معلومات تک محدود نہیں رہا۔ یہ اثر و رسوخ کی ایک انڈسٹری بن چکا ہے۔ اور ہر انڈسٹری کی طرح اس کے لیے بھی اصول، اخلاقیات اور نفاذ ضروری ہیں۔”