محکمہ موسمیاتی تبدیلی، جنگلات، ماحولیات و جنگلی حیات خیبر پختونخوا کی جانب سے عوامی آگاہی مہم کے تحت خوبصورت اور دلکش آواز کے حامل پرندے “توت خوراکہ” کے تحفظ کیلئے ایک جامع پیغام جاری کیا گیا ہے۔ یہ پرندہ نہ صرف قدرت کی رنگینیوں کا حسین استعارہ ہے اور ہمارے ماحولیاتی نظام کا ایک نہایت اہم جزو بھی ہے۔ماہرین کے مطابق توت خوراکہ (Berry-eating bird) بہار کے موسم میں بالخصوص پاکستان کے سرسبز علاقوں میں نمودار ہوتا ہے اور مختلف اقسام کے جنگلی پھلوں خصوصاً شہتوت اور بیریوں سے اپنی غذا حاصل کرتا ہے۔ اس کی خوش الحان چہچہاہٹ صبح کی فضاؤں میں ایک روح پرور نغمہ بکھیرتی ہے جو فطرت کے حسن کو دوبالا کر دیتی ہے۔محکمہ نے اپنے پیغام میں واضح کیا ہے کہ یہ پرندہ کسی بھی طرح کے شکار یا نقصان کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ بدقسمتی سے بعض عناصر کی جانب سے غلیل اور بندوق کے ذریعے ایسے معصوم پرندوں کا شکار کیا جاتا ہے جو نہ صرف غیر قانونی ہے بلکہ ماحول کے قدرتی توازن کو بھی شدید متاثر کرتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ پرندے بیجوں کی افزائش اور جنگلات کے قدرتی پھیلاؤ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، اس لیے ان کا تحفظ درحقیقت ہماری اپنی بقا سے جڑا ہوا ہے۔محکمہ موسمیاتی تبدیلی، جنگلات، ماحولیات و جنگلی حیات کے سیکرٹری جنید خان نے عوام، بالخصوص بچوں اور نوجوانوں پر زور دیا ہے کہ وہ فطرت دوست رویوں کو اپنائیں، سکولوں اور کمیونٹی سطح پر آگاہی کو فروغ دیں اور جنگلی حیات کے تحفظ میں اپنا فعال کردار ادا کریں۔ اس سلسلے میں مقامی کمیونٹیز، تعلیمی اداروں اور سول سوسائٹی کے اشتراک سے آگاہی پروگرامز بھی ترتیب دیے جا رہے ہیں تاکہ ماحول دوست سوچ کو فروغ دیا جا سکے۔محکمہ کے ترجمان لطیف الرحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اگر ہم آج ان خوبصورت پرندوں کو بچائیں گے تو آنے والی نسلیں بھی ان کے سحر انگیز نغموں اور دلکش موجودگی سے لطف اندوز ہو سکیں گی۔ جنگلی حیات کا تحفظ محض ایک ذمہ داری نہیں بلکہ ہماری تہذیبی اور اخلاقی وراثت کا حصہ ہے۔محکمہ موسمیاتی تبدیلی، جنگلات، ماحولیات و جنگلی حیات خیبر پختونخوا نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ غیر قانونی شکار کی نشاندہی کریں، درختوں اور قدرتی مسکن کو محفوظ بنائیں اور ایک سرسبز و پائیدار خیبر پختونخوا کے قیام میں اپنا کردار ادا کریں۔
خیبر پختونخوا کے صوبائی وزیر صحت خلیق الرحمان نے حیات آباد میں واقع حبیب فزیوتھراپی کمپلیکس کا دورہ کیا۔ یہ دورہ صوبے میں بحالی صحت کی سہولیات کو مزید مؤثر بنانے کے حکومتی عزم کا حصہ ہے
دورے کے موقع پر وزیر صحت کا ادارے کی انتظامیہ اور متعلقہ حکام نے پرتپاک استقبال کیا۔ وزیر صحت نے اس موقع پر جسمانی معذوری کا شکار افراد میں 20 ویل چیئرز تقسیم کیں، جو حکومت کی جانب سے خصوصی افراد کی فلاح و بہبود اور ان کی معاونت کے عزم کا واضح اظہار ہے۔
اس موقع پر ڈائریکٹر ایم ایم آئی اور حبیب فزیوتھراپی کمپلیکس کی انتظامیہ نے وزیر صحت کو ادارے میں فراہم کی جانے والی مختلف طبی سہولیات کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ ادارے میں فزیوتھراپی، اسپیچ تھراپی، آڈیالوجی، نفسیاتی خدمات (سائیکالوجی) اور معاون آلات (Assistive Devices) کی فراہمی جیسی اہم سہولیات دستیاب ہیں، جہاں صوبے بھر سے مریض علاج کی غرض سے آتے ہیں۔
صوبائی وزیر صحت خلیق الرحمان نے کمپلیکس کے مختلف شعبوں کا دورہ بھی کیا اور زیر علاج مریضوں سے ملاقات کی۔ انہوں نے خاص طور پر پولیو، فالج (اسٹروک)، اعصابی امراض میں مبتلا مریضوں، خصوصی بچوں اور بزرگ افراد کے علاج و بحالی کے عمل کا جائزہ لیا۔ وزیر صحت نے مریضوں اور ان کے اہل خانہ سے بات چیت کی اور فراہم کی جانے والی سہولیات کے بارے میں دریافت کیا۔
اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیر صحت خلیق الرحمان نے کہا کہ حکومت خیبر پختونخوا صحت کے شعبے میں بہتری کے ساتھ ساتھ بحالی صحت کی سہولیات کو بھی ترجیح دے رہی ہے تاکہ خصوصی افراد کو معاشرے میں باعزت اور خودمختار زندگی گزارنے کے مواقع فراہم کیے جا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا وژن ہے کہ کوئی بھی فرد علاج اور بحالی کی سہولیات سے محروم نہ رہے۔انہوں نے ادارے کے ڈاکٹرز، تھراپسٹس اور دیگر عملے کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ نہایت محنت اور لگن سے مریضوں کی بحالی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ وزیر صحت نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ خدمات کے معیار کو مزید بہتر بنایا جائے اور جدید آلات و تربیت یافتہ افرادی قوت کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔
صوبائی وزیر صحت نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت مستقبل میں ایسے اداروں کو مزید مضبوط کرے گی اور صوبے کے دور دراز علاقوں تک بحالی صحت کی سہولیات کا دائرہ کار وسیع کیا جائے گا۔دورے کے اختتام پر وزیر صحت نے اس بات پر زور دیا کہ ایک مضبوط صحت کا نظام وہی ہوتا ہے جہاں مریضوں کو نہ صرف علاج بلکہ مکمل بحالی اور بہتر معیارِ زندگی بھی فراہم کیا جائے۔
خیبر پختونخوا کے وزیر ایکسائز و ٹیکسیشن اور نارکوٹکس کنٹرول سید فخرجہان نے محکمہ ایکسائز کے افسران اور عملے کو سختی سے ہدایت کی ہے کہ وہ رواں مالی سال کیلئے ٹیکس محاصل کی مد میں متعین اہداف کو ہر حالت میں پوری کرے
خیبر پختونخوا کے وزیر ایکسائز و ٹیکسیشن اور نارکوٹکس کنٹرول سید فخرجہان نے محکمہ ایکسائز کے افسران اور عملے کو سختی سے ہدایت کی ہے کہ وہ رواں مالی سال کیلئے ٹیکس محاصل کی مد میں متعین اہداف کو ہر حالت میں پوری کرے۔ انھوں نے جون تک صوبہ بھر میں ایکسائز وٹیکسیش دفاترکی ریکوری کارکردگی کو مزید بہتر بنانے کے احکامات جاری کئے۔یہ ہدایات انھوں نے جمعرات کے روز پشاور میں محکمہ ایکسائز کی ماہانہ ٹیکس ریکوری کارکردگی کے جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے جاری کیے۔ اجلاس میں سیکرٹری ایکسائز وٹیکسیش اور نارکوٹکس کنٹرول خالد الیاس، ڈایریکٹر جنرل ایکسائز عبدالحلیم خان سمیت ایڈیشنل ڈایریکٹر جنرل، ڈایریکٹرز،پشاور کے مختلف ایکسائز دفاتر کے افسران اور بذریعہ زوم دیگر اضلاع کے افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں مارچ 2026 تک سال رواں کے دوران 9 مہینوں میں محکمہ کے مختلف دفاتر کی جانب سے اکھٹے کیے گئے محصولات کے اعدادوشمار اور سال بھر کیلئے متعین اہداف کا تقابلی جایزہ لیا گیا۔اجلاس میں صوبائی وزیر کو اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے سال 2025 اور 26 کے پہلے 9 ماہ جولائی تا مارچ کے دوران ٹیکسوں کی وصولی میں نمایاں پیش رفت دکھائی گئی۔انہیں بتایا گیا کہ ٹیکسیشن کے تمام ہیڈز میں گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں واضح اضافہ حاصل ہوا ہے کیونکہ مجموعی ریکوری میں جولائی تا مارچ کے 9 ماہ کے دوران مجموعی ٹیکس ریکوری 5136.8 ملین روپے تک پہنچ گئی ہے جبکہ گزشتہ سال اسی عرصے میں یہ اعداد وشمار 4314.6 ملین روپے تھے۔اسی طرح مجموعی طور پر 9 مہینوں کے دوران 822.2 ملین روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 19 فیصد زیادہ ہے اور ایندہ 3 مہینوں کے دوران مزید محاصل سے متعین ہدف کو پورا کیا جا سکے گا۔اس موقع پر مختلف ای ٹی اوز کے اعشاریوں کو بہتر کرنے کی ہدایت کی گء اور صوبائی وزیر نے کہا کہ اہداف کے حصول کے حوالے سے کسی بھی طرح کی نرمی کی گنجائش نہیں ہے جبکہ متعین ٹارگٹس کو جون تک ہر حالت میں حاصل کرنا ہوگا۔انھوں نے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے بعض ای ٹی اوز کی کوششوں کو سراہا
خیبرپختونخوا کے وزیر برائے ریلیف بحالی و آبادکاری عاقب اللہ خان کی زیر صدارت قومی ماحولیاتی حکمتِ عملی اور نیشنل ایڈاپٹیشن پلان سے متعلق پشاور میں مشاورتی اجلاس کا انعقاد
خیبرپختونخوا کے وزیر برائے ریلیف بحالی و آبادکاری عاقب اللہ خان نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے مقامی سطح پر استعداد کار بڑھانے کے لیے کوشاں ہے، موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے چیلنجز سے نمٹنا مشترکہ ذمہ داری ہے، وفاقی حکومت بھی اس حوالے سے اپنے حصے کی زمہ داریاں پوری کرے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز پشاور میں منعقدہ قومی ماحولیاتی حکمتِ عملی اور نیشنل ایڈاپٹیشن پلان سے متعلق مشاورتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں آئندہ مون سون سے نمٹنے کی تیاریوں، سیلابی خطرات کو کم کرانے، پیشگی وارننگ سسٹمز کو بہتر بنانے، دریاؤں اور نالوں کی نگرانی،حساس علاقوں کی نشاندہی، نکاسی? آب کی بہتری اور کمیونٹی آگاہی مہمات سے متعلق غور کیا گیا، تاکہ ایک جامع و مؤثر منصوبہ بندی کے ذریعے انسانی جانوں اور انفراسٹرکچر کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔
یومِ مزدور کے موقع پر صوبائی وزیر محنت خیبر پختونخوا فیصل خان ترکئی کا پیغام
یکم مئی یومِ مزدور کے موقع پر صوبائی وزیر برائے محنت خیبر پختونخوا، فیصل خان ترکئی نے اپنے خصوصی پیغام میں کہا ہے کہ یومِ مزدور محنت کش طبقے کی عظیم قربانیوں، جدوجہد اور حقوق کے حصول کی تاریخ کا اہم ترین دن ہے۔ یہ دن ہمیں شکاگو کے مزدوروں کی اس لازوال تحریک کی یاد دلاتا ہے جس نے دنیا بھر میں مزدوروں کے حقوق کے تحفظ کی بنیاد رکھی۔صوبائی وزیر نے کہا کہ حکومت خیبر پختونخوا مزدوروں کی فلاح و بہبود، ان کے حقوق کے تحفظ اور بہتر روزگار کے مواقع کی فراہمی کے لیے سنجیدہ اور عملی اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ محنت کش طبقہ ہماری معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے، اور ان کے بغیر ترقی کا عمل ممکن نہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نے مزدوروں کے لیے متعدد اصلاحات متعارف کروائی ہیں، جن میں کم از کم اجرت میں اضافہ، سوشل سکیورٹی سہولیات کی بہتری، ورکرز ویلفیئر بورڈ کے ذریعے تعلیمی وظائف، رہائشی سکیمیں اور صحت کی سہولیات شامل ہیں۔ صنعتی مزدوروں کے بچوں کو معیاری تعلیم کی فراہمی کے لیے خصوصی اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ وہ مستقبل میں ملک کی ترقی میں فعال کردار ادا کر سکیں۔فیصل خان ترکئی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت مزدوروں کے حقوق کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھائے گی اور لیبر قوانین پر مؤثر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ مزدوروں کے مسائل کے حل کے لیے متعلقہ اداروں کو مزید فعال اور جوابدہ بنایا جا رہا ہے۔انہوں نے صنعتی اداروں کے مالکان سے بھی اپیل کی کہ وہ مزدوروں کے ساتھ منصفانہ سلوک کریں، انہیں محفوظ اور صحت مند کام کا ماحول فراہم کریں اور ان کے بنیادی حقوق کا احترام یقینی بنائیں۔آخر میں صوبائی وزیر نے کہا کہ یومِ مزدور ہمیں یہ عہد کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے کہ ہم ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیں جہاں ہر مزدور کو عزت، انصاف اور مساوی مواقع حاصل ہوں۔
سیکرٹری توانائی کا ضلع اپردیر کادورہ،توانائی کے چھوٹے منصوبوں کے مقامات کا معائنہ جاری منصوبوں کو فاسٹ ٹریک پالیسی کی روشنی میں مقررہ مدت کے اندرمکمل کرناسب سے بڑاچیلنج ہے
صوبے کے عوام کوسستی اوربلاتعطل بجلی کی فراہمی موجودہ صوبائی حکومت کی اولین ترجیح ہے یہی وجہ ہے کہ صوبے کے پسماندہ علاقوں میں جہاں غریب عوام بجلی کی نعمت سے محروم ہیں وہاں پانی کی نعمت سے سستی بجلی کی پیداوارکے سلسلے میں چھوٹے چھوٹے پن بجلی گھر(منی مائیکروہائیڈروپاور پراجیکٹس ) تعمیرکئے گئے ہیں ان منصوبوں سے ہزاروں خاندان مستفید ہورہے ہیں۔ توانائی کے جاری منصوبوں کو فاسٹ ٹریک پالیسی کی روشنی میں مقررہ مدت کے اندرمکمل کرناسب سے بڑاچیلنج ہے۔وزیراعلیٰ اورچیف سیکرٹری خیبرپختونخوا کے احکامات کی روشنی میں توانائی منصوبوں کے معاملات شفافیت اورمقررہ ٹائم لائنزمیں نمٹانے کیلئے سختی سے مانیٹرنگ کی جارہی ہے۔ ان خیالات کا اظہار سیکرٹری توانائی وبرقیات نثاراحمد نے ضلع اپردیرمیں پیڈوکی زیرنگرانی منی مائیکروہائیڈل سٹیشنزکے جاری منصوبوں میں تعمیراتی کام کی سست روری اوربعض مقامات پر کام کی بندش کی شکایات کے حوالے سے منصوبوں کی جگہوں کے ہنگامی دورے کے موقع پر کیا۔اس موقع پر ان کے ہمراہ پراجیکٹ ڈائریکٹر منی مائیکروہائیڈروپاورپراجیکٹس فیصل داوڑ،اسسٹنٹ ڈائریکٹرمانیٹرنگ عبیداللہ خان اوردیگرحکام بھی موجودتھے۔سیکرٹری توانائی نے ڈوگ پائین میں 75کلوواٹ،سیابدرکانی میں 250کلوواٹ،میانزڈوگ میں 150کلوواٹ،کالکوٹ میں 200کلوواٹ،شرنگل میں 500کلوواٹ،تاپندی میں 250 تھل ملاؤمیں 250کلوواٹ بابوزو میں 150کلوواٹ اورمیانہ ڈوگ میں 100کلوواٹ سمیت زیرتعمیر9منی مائیکروہائیڈروپاورپراجیکٹس کے مقامات کا دورہ کیا۔جہاں انہوں نے پاورہاؤس،پین سٹاک،سوئچ یارڈاوردیگرحصوں کا معائنہ کیا۔اس موقع پروہ ان مقامات پر مقامی کمیونٹی کے افراد سے بھی ملے اورانکے مسائل کوغورسے سنا۔سیکرٹری توانائی نثاراحمد نے متعلقہ پراجیکٹ ڈائریکٹر اورانکی ٹیم میں شامل دیگرسٹاف کو سختی سے وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ گرمی کے موسم میں عوام کو فوری ریلیف دینے کے لئے ان منصوبوں پر جاری کام کوفوری طورپر مکمل کیا جائے اورمعیاری تعمیر کے سلسلے میں کسی بھی قسم کی کوتاہی یالاپرواہی ناقابل برداشت ہوگی۔ انہوں نے مقامی آبادی کویقین دلایاکہ فنڈزکی فراہمی کے ساتھ ہی تمام بقیہ منصوبوں کو جلدسے جلد مکمل کرلیا جائے گا۔
معاون خصوصی برائے اطلاعات شفیع جان کا یکم مئی یوم مزدور پر پیغام
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و تعلقات عامہ شفیع جان نے یکم مئی، یوم مزدور کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ یہ دن محنت کش طبقے کی عظیم قربانیوں، انتھک جدوجہد اور معاشی ترقی میں ان کے کلیدی کردار کو خراج تحسین پیش کرنے کا دن ہے۔ انہوں نے کہا کہ مزدور کسی بھی معاشرے کی ریڑھ کی ہڈی ہوتے ہیں اور ان کی محنت کے بغیر ترقی اور خوشحالی کا خواب ادھورا رہتا ہے۔شفیع جان نے کہا کہ یوم مزدور ہمیں اس امر کا احساس دلاتا ہے کہ محنت کش بھائیوں اور بہنوں کے حقوق کے تحفظ، بہتر اجرت، محفوظ ماحول اور باعزت روزگار کی فراہمی کے لیے مسلسل اور مؤثر اقدامات ناگزیر ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی حکومت، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی قیادت میں بانی چیئرمین عمران خان کے ویژن کے مطابق مزدوروں کی فلاح و بہبود کے لیے ٹھوس اقدامات کر رہی ہے۔ ان اقدامات میں لیبر قوانین پر مؤثر عملدرآمد، سوشل سیکیورٹی، صحت و تعلیم کی سہولیات کی فراہمی اور دیگر بنیادی سہولیات تک بہتر رسائی شامل ہے۔ صوبائی حکومت نے محنت کشوں کی کم از کم اجرت 40 ہزار روپے مقرر کی ہے۔انہوں نے صوبائی حکومت کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت محنت کشوں کو معاشی تحفظ فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے کیونکہ ایک مضبوط اور خوشحال پاکستان کی بنیاد ایک خوشحال مزدور پر ہی استوار ہے۔
ڈپٹی سپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی، ثریا بی بی نے جمعرات کے روز اپر چترال میں ایف ایم ریڈیو سٹیشن کے قیام سے متعلق پشاور میں ایک اہم اجلاس کی صدارت کی
ڈپٹی سپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی، ثریا بی بی نے جمعرات کے روز اپر چترال میں ایف ایم ریڈیو سٹیشن کے قیام سے متعلق پشاور میں ایک اہم اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس میں محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ کے ایڈیشنل سیکرٹری حضرت علی ڈائریکٹر انفارمیشن ابن امین ڈپٹی ڈائریکٹر انفارمیشن زر علی خان ڈپٹی ڈائریکٹر انفارمیشن نظام الدین ڈپٹی ڈائریکٹر انفارمیشن زرولی زاہد اور سینئر پلاننگ آفیسر انفارمیشن اینڈ پبلک ریلیشنز ڈیپارٹمنٹ سمیت صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ کے متعلقہ افسران نے شرکت کی، اجلاس میں منصوبے کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔اجلاس کے دوران ایڈیشنل سیکرٹری اطلاعات و تعلقات عامہ نے صوبے میں قائم ایف ایم ریڈیو اسٹیشنز کی اہمیت اور افادیت کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ یہ ایف ایم ریڈیو اسٹیشنزدور دراز اور پسماندہ علاقوں میں معلومات کی بروقت فراہمی کا ایک مؤثر ذریعہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپر چترال ایک دور افتادہ اور نو قائم شدہ ضلع ہے، جہاں ہنگامی حالات, موسمیاتی تبدیلیوں اور دیگر اہم امور پر عوامی آگاہی کے ساتھ ثقافت کی عکاسی اور مقامی زبانوں کی ترویج کے لیے ایف ایم ریڈیو اسٹیشن کا قیام نہایت ضروری ہے۔بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ یہ ریڈیو اسٹیشن 54.493ملین روپے کی لاگت سے قائم کیا جائے گا جسے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں شامل کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ریڈیو اسٹیشن کے قیام کے لیے اپر چترال کے ہیڈ کوارٹر بونی میں موزوں عمارت کی نشاندہی کے لئے ٹیکنیکل ٹیم جلد ضلعے کا دورہ کرے گی۔ ڈپٹی سپیکر ثریا بی بی نے منصوبے کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے فنڈز کی فراہمی اور مناسب عمارت کی دستیابی کے لیے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ اپر چترال میں ایف ایم ریڈیو اسٹیشن کے قیام کے لیے موزوں مقام کے تعین کی غرض سے ایک سروے ٹیم فوری طور پر تشکیل دے کر اپر چترال بھیجی جائے اور اس کی رپورٹ کی روشنی میں موزوں جگہ کے حصول کے لئے عملی پیشرفت یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے مزید ہدایت کی کہ منصوبے پر جلد از جلد عملی کام کا آغاز کیا جائے اور تمام بھرتیوں کا عمل شفافیت اور قواعد و ضوابط کے مطابق مکمل کیا جائے، تاکہ علاقے کے عوام کو بروقت، مستند اور مؤثر اطلاعات کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔
صوبائی وزیر صحت خلیق الرحمان نے ضلع نوشہرہ کے علاقے نظام پور میں مبینہ فائرنگ کے نتیجے میں ایک شہری کے جاں بحق ہونے کے واقعہ پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے
صوبائی وزیر صحت خلیق الرحمان نے ضلع نوشہرہ کے علاقے نظام پور میں مبینہ فائرنگ کے نتیجے میں ایک شہری کے جاں بحق ہونے کے واقعہ پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ صوبائی وزیر نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی ہدایات کی روشنی میں واقعہ کے فوری بعد ذمہ داران کے تعین اور متاثرہ خاندان کو انصاف کی فراہمی کے لیے عملی اقدامات کا آغاز کیا۔ اس سلسلے میں رکن قومی اسمبلی سید شاہ احد اور معاون خصوصی برائے اطلاعات شفیع جان نے بھی وزیراعلیٰ سے ملاقات کی اور شفاف انکوائری اور مرحوم کے لواحقین کے لیے مناسب مالی معاوضے کی درخواست کی جس پروزیراعلیٰ نے معاملے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے چیف سیکرٹری کو شفاف انکوائری کے احکامات جاری کیے جن کی روشنی میں صوبائی وزیر صحت خلیق الرحمان اور رکن قومی اسمبلی سید شاہ احد نے علاقے کے معززین اور غیر سیاسی مشران کے ہمراہ چیف سیکرٹری سے تفصیلی ملاقات کی اور واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیتے ہوئے انصاف کی فراہمی کے لیے درکار اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔چیف سیکرٹری نے جاں بحق شہری کے اہل خانہ کے لیے مالی معاوضے کی ادائیگی، انکوائری کے شفاف عمل کو یقینی بنانے اور دیگر جائز مطالبات پورے کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ واضح رہے کہ متعلقہ واقعہ کا مقدمہ بھی درج کیا جا چکا ہے اور صوبائی وزیر صحت خلیق الرحمان نے کہا کہ ایک بے گناہ جان کا ضیاع انتہائی افسوسناک ہے اور اس واقعے میں ملوث عناصر کو ہر صورت قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ انہوں نے یقین دلایا کہ مرحوم کے اہل خانہ کو مکمل انصاف فراہم کیا جائے گا اور انہیں کسی بھی مرحلے پر تنہا نہیں چھوڑا جائے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ حکومت عوام کے دکھ درد کو اپنا دکھ سمجھتی ہے، اور جب تک انصاف مکمل طور پر فراہم نہیں ہو جاتا، متاثرہ خاندان کے ساتھ کھڑی رہے گی۔
صوبائی وزیر قانون آفتاب عالم کی زیرصدارت پشاور میں لیجسلیٹو کمیٹی کا اہم اجلاس
خیبر پختونخوا کے وزیر قانون آفتاب عالم کی زیرصدارت پشاور میں لیجسلیٹو کمیٹی کا اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں مختلف قانونی مسودات اور مجوزہ ترامیم پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اجلاس میں ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا،ایس ایم بی آر، سیکرٹری محکمہ قانون، سپیشل سیکرٹری محکمہ داخلہ، محکمہ سماجی بہبود، محکمہ خزانہ، ایڈوکیٹ جنرل آفس، بورڈ آف ریونیو اور متعلقہ محکموں کے اعلیٰ حکام، قانونی ماہرین اور دیگر اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران خیبرپختونخوا سب آرڈینیٹ جوڈیشل سروس ٹریبونل ایکٹ 1991 میں مجوزہ ترمیم، آلٹرنیٹ ڈسپیوٹ ریزولوشن ایکٹ، ضابطہ فوجداری خیبرپختونخوا میں مجوزہ ترامیم پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔وزیر قانون آفتاب عالم نے اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ حکومت صوبے میں قانون کی حکمرانی کو مضبوط بنانے، انصاف تک بروقت رسائی کو یقینی بنانے اور کمزور طبقات کے حقوق کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ متبادل تنازعاتی حل کے نظام کو مزید مؤثر بنانے سے عدالتوں پر بوجھ کم ہوگا اور عوام کو فوری انصاف کی فراہمی ممکن ہو سکے گی۔ضابطہ فوجداری ترمیمی بل کی سیکشن 117 کی سب سیکشن 22-اے میں مجوزہ ترامیم کے حوالے سے کمیٹی شرکاء نے تفصیلی جائزہ لیا جبکہ وزیر قانون نے صوبے میں قانون کی حکمرانی اور انصاف کی بروقت فراہمی کے بارے میں حکومتی عزم کا اعادہ کیاجن کا مقصد نظامِ انصاف کو مزید شفاف، مؤثر اور عوام دوست بنانا ہے۔اجلاس میں خیبرپختونخوا سب آرڈینیٹ جوڈیشل سروس ٹریبونل ایکٹ 1991 میں مجوزہ ترامیم پر بھی غور کیا گیا، جبکہ متعلقہ حکام نے اس حوالے سے ایک تقابلی جائزہ بھی پیش کیا، جن کا مقصد عدالتی امور سے متعلق معاملات میں بہتری، شفافیت اور ادارہ جاتی کارکردگی کو مؤثر بنانا ہے۔ الٹرنیٹ ڈسپیوٹ ریزولوشن (اے ڈی آر) ترمیمی بل کی شق 7 جو ثالثین سیلیکشن کمیٹی کے تعین سے متعلق ہے اور جس کی باڈی کمشنر متعلقہ ڈیوژن، ریجنل پولیس آفیسر، متعلقہ ضلع کاسینئر سول جج (ایڈمن)، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے نمائندے، سپیشل برانچ کے نمائندے اور متعلقہ ضلع کے ڈپٹی کمشنر پر مشتمل ہوگی میں ضروری ترامیم پر مشاورت کی گئی۔علاوہ ازیں اے ڈی آر کو کارگر بنانے کے متعلق ٹرسٹ ڈیفیسٹ (اعتماد کی کمی) بالخصوص ضم اضلاع میں اس کی ضرورت بارے درکار اقدامات کی اہمیت اجاگر کی گئی۔ایڈووکیٹ جنرل نے اس موقع پر فورم کو آگاہ کیا کہ اے جی آفس اے ڈی آر کو مزید مؤثر بنانے کے حوالے سے اقدامات اٹھا رہا ہے اور اس سلسلے میں تحقیقی بنیادوں پر مذکورہ قانون کی جانچ کی جارہی ہے۔وزیر قانون نے ہدایت کی کہ تمام مجوزہ ترامیم کو قانونی تقاضوں سے ہم آہنگ کرتے ہوئے حتمی شکل دی جائے اور اس عمل میں متعلقہ فریقین سے مشاورت کو یقینی بنایا جائے تاکہ قانون سازی عوامی ضروریات اور زمینی حقائق کے مطابق ہو۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ صوبائی حکومت ایک منصفانہ، مؤثر اور قابلِ رسائی قانونی نظام کے قیام کے لیے پرعزم ہے۔اجلاس کے اختتام پر مختلف امور پر اتفاق رائے پیدا کیا گیا اور متعلقہ حکام کو آئندہ کے لائحہ عمل کے حوالے سے ضروری ہدایات جاری کی گئیں۔
