Home Blog Page 261

خیبر پختونخوا کے وزیر تعلیم فیصل خان ترکئی کی زیر صدارت ضلع خیبر کے تعلیمی منصوبوں کے حوالے سے ایک

خیبر پختونخوا کے وزیر تعلیم فیصل خان ترکئی کی زیر صدارت ضلع خیبر کے تعلیمی منصوبوں کے حوالے سے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں صوبائی وزیر مذہبی امور عدنان قادری، ممبر قومی اسمبلی اقبال آفریدی، ممبر صوبائی اسمبلی عبد الغنی آفریدی، ضلع خیبر کے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن افسران اور ضلع خیبر کے طلباء نے شرکت کی۔ اجلاس میں ضلع خیبر میں تعلیمی صورتحال، جاری و تکمیل شدہ اور نئے منصوبوں سمیت مختلف مسائل پر بحث ہوئی۔اس موقع پروزیر تعلیم فیصل خان ترکئی نے ضلع خیبر کے عوامی نمائندوں کو یقین دلایا کہ ضلع خیبر میں ایک ہفتے کے اندر اندر سیکنڈ شفٹ سکول کھولے جائیں گے تاکہ طلبہ و طالبات کو اپنے ہی علاقوں میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے مواقع میسر آسکیں۔ انہوں نے کہا کہ ضلع خیبر بشمول تمام ضم اضلاع میں تعلیم کی بہتری کے لیے انقلابی اقدامات جاری ہیں انہوں نے کہا کہ ضم اضلاع میں خراب حالات کی وجہ سے تعلیمی نظام بہت متاثر ہوا ہے اور خصوصاً لڑکیوں کے سکولوں کو نشانہ بنایا گیا ہے جن کو فوری طور پر فعال بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پورے صوبے اور بالخصوص ضم اضلاع میں رینٹڈ بلڈنگ سکول منصوبے کا آغاز کر رہے ہیں تاکہ فوری طور پر درس و تدریس کا عمل شروع کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ ضم اضلاع کے لئے مفت درسی کتابوں کی فراہمی کے ساتھ ساتھ مفت سکول بیگز کی فراہمی کے منصوبے کا بھی آغاز کیا جا رہا ہے اور ضم اضلاع کے 150 پرائمری اور مڈل تباہ شدہ سکولوں کو رینٹڈز بلڈنگ میں کھول رہے ہیں۔ اسی طرح 50 متاثرہ سکولوں کو بھی رینٹڈ بلڈنگز میں کھولنے کے ساتھ ساتھ 150 مڈل لیول سکولوں کو پورے ضم اضلاع میں رینٹڈ بلڈنگ میں شروع کر رہے ہیں۔ جبکہ دینی مدارس میں بھی اے ایل پی سینٹرز قائم کیے جا رہے ہیں۔ ضم اضلاع کے گریڈ 6 سے گریڈ 12 تک کی32 ہزار طالبات کو ماہانہ وظیفہ بھی دیا جائے گا۔ ضم اضلاع کے ہر ضلع میں منتخب 10 سکولوں کو تمام قسم کی سہولیات بھی فراہم کی جائیں گی جبکہ 21 ہائر سیکنڈری سکولوں کی سٹینڈرڈائزیشن کا عمل بھی منصوبے کے تحت مکمل کیا جائے گا اور ضم اضلاع کے سکولوں میں 5 امتحانی ہالز بھی تعمیر کئے جا رہے ہیں۔ وزیر تعلیم نے مزید کہا کہ چائنہ کے تعاون سے ضلع خیبر میں تقریبا 50 سکولوں میں سہولیات کی فراہمی بشمول نئے تعمیر شدہ سکول منصوبہ بھی تکمیل کے مراحل میں ہے اور تقریبا 83 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام ضم اضلاع میں سکولوں کی بحالی، آباد کاری، تعمیر اور فعالیت کا عمل ہنگامی بنیادوں پر جاری ہے اور عنقریب اساتذہ کی کمی بھی پوری ہو جائے گی۔ جو کہ ایٹا کے ذریعے 13 ہزار مستقل اور پی ٹی سی فنڈ کے ذریعے بھی عارضی اساتذہ بھرتی کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ مالی مشکلات کے باوجود وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈاپور کی خصوصی ہدایت کی بدولت تعلیم پر سب سے زیادہ بجٹ خرچ کیا جا رہا ہے اور مفت درسی کتابوں کی فراہمی کے ساتھ ساتھ دیگر تمام منصوبوں کو بروقت مکمل کیا جائے گا۔

مشیر صحت احتشام علی کو ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسز ڈاکٹر محمد سلیم اور ڈاکٹر جنرل ڈرگز اینڈ فارمیسی سروسز کی بریفنگ

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے صحت احتشام علی نے ڈائریکٹوریٹ جنرل ہیلتھ سروسز کا دورہ کیا اور ڈی جی ہیلتھ ڈاکٹر محمودسلیم نے ڈائریکٹوریٹ جنرل بارے انھیں بریفنگ دی۔ اس موقع پر ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرلز اور ڈائریکٹرز بھی موجود تھے۔ انہوں نے صوبے کے ہسپتالوں، ان میں دی جانی والی سہولیات اور طبی آلات بارے تفصیلی جائزہ پیش کیا گیا۔ مشیر صحت نے ڈی جی ہیلتھ کو دور افتادہ علاقوں سمیت صوبے کے تمام ہسپتالوں میں ادویات اور عملے کی دستیابی یقینی بنانے کی ہدایت کی۔ مشیر صحت نے ڈی جی ہیلتھ کو تمام پوسٹنگ ٹرانسفرز اور دیگر عوام جلد سے جلد آن لائن کرنے کی ہدایت کی۔ مشیر صحت کو ڈی جی ڈرگز ڈاکٹر عباس نے صوبے میں جاری جعلی و غیر معیاری ادویات کیخلاف کریک ڈاون کا تفصیلی جائزہ پیش کیا۔ انہوں نے مشیر صحت کو بتایا کہ صوبے میں لائسنس کے ایپلائی سے لیکر اجرا تک تمام عوام آن لائن کئے گئے ہیں۔سوات ڈرگ لیب کی تعمیر آخری مراحل میں ہے اس لیب کے افتتاح سے ڈرگ ٹیسٹنگ میں تیزی آئیگی اور ادویات کی خریداری کے بعد اس کی ٹیسٹنگ کا عمل تیز ہوسکے گا۔ مشیر صحت نے ڈی جی ڈرگز کو موبائل لیبز فعال کرکے صوبے کے مختلف شہروں میں ادویات کے معیار کی تیز تر ٹیسٹنگ کیلئے بھیجنے کی ہدایت کی۔ مشیر صحت نے بتایا کہ جعلی و غیر معیاری ادویات کی مارکیٹ میں فراہمی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ اس بابت ڈی جی ڈرگز سخت سے سخت اقدامات کو یقینی بنائیں۔

خیبر پختونخوا کے وزیر برائے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ پختون یار خان نے ہری پور سنٹرل جیل کا دورہ

خیبر پختونخوا کے وزیر برائے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ پختون یار خان نے ہری پور سنٹرل جیل کا دورہ کیا۔اس موقع پر ملک سکندر حیات خان بھی ان کے ہمراہ تھے صوبائی وزیر پختون یار خان نے ہری پور جیل کے مختلف بیرکوں,شعبوں, لنگر خانے اور ہسپتال کا معائنہ کیا سپرنٹنڈنٹ سنٹرل ہری پور جیل نے جیل میں قیدیوں کو دی جانے والی سہولیات پر بریفنگ دی۔صوبائی وزیر پختون یار خان نے ہری پور جیل کے انتظامات کو تسلی بخش قرار دیتے ہوئے مزید بہتری لانے کی ہدایت کی بعد ازاں صوبائی وزیر نے جیل کے باہر میڈیا کے نمائندوں سے مختصر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا کی حکومت جیلوں کی بہتری اور قیدیوں کو سہولیات فراہم کرنے کیلئے کوشاں ہے ہماری حکومت قیدیوں کی تمام تر مشکلات کا خاتمہ کرے گی اور جیلوں میں قیدیوں کو گھر جیسا ماحول فراہم کرے گی جیلوں میں قیدیوں کے ساتھ اچھا برتاو کیا جائے گا کسی بھی قیدی کو ظلم کا نشانہ نہیں بنایا جائے گا۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے انسدادِ بدعنوانی مصدق عباسی کی زیر صدارت انٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کی چوتھی ماہانہ کھلی کچہری کا انعقاد

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے انسدادِ بدعنوانی محمد مصدق عباسی نے کہا ہے کہ صوبے میں کرپشن کے حوالے سے زیرو ٹالرنس ہے۔ خیبر پختونخوا پہلا صوبہ ہے جہاں ملکی سیاسی تاریخ میں پہلی مرتبہ کسی جماعت نے اکاؤنٹیبلٹی کمیٹی قائم کی۔ کسی دوسری سیاسی جماعت میں یہ اخلاقی جرات نہیں وہ اپنے ہی وزراء کے احتساب کے لیے ایسے اقدامات اٹھائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے مردان میں منعقدہ انٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کی چوتھی ماہانہ کھلی کچہری کے دوران کیا۔ انہوں نے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں میں معیار کو یقینی بنایا جائے گا جبکہ ناقص میٹیریل کے استعمال کی نشان دہی کی جائے تاکہ ذمہ داران کو کیفر کردار تک پہنچایا جا سکے۔ اُنہوں نے کہا کہ سرکاری وسائل و پیسے کے ضیاع کو روکنا ضروری ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ صوبہ بھر میں کھلی کچہریوں کے انعقاد کا مقصد یہ ہے کہ محکمے میں جو مسائل ہیں وہ سامنے آئے اور انکو حل کیا جائے۔ مصدق عباسی نے کہا کہ دوسرے ریجنز میں بھی کھلی کچہریوں میں خود شرکت کرونگا۔ کھلی کچہری میں اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کے مردان ریجن کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر کرائم محمد طیب اور مردان ریجن کے سرکل آفیسرز نے شرکت کی اور سائلین کی شکایات تفصیل سے سنیں۔ کھلی کچہری میں عوام نے تعلیمی بورڈ، ریونیو، ٹی ایم اے سے متعلق شکایت پیش کیے۔ اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کے تمام ریجنل دفاتر میں بھی کھلی کچہریوں کا انعقاد کیا گیا۔ اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کے اعداد و شمار کے مطابق کل 131 افراد نے شرکت کی جبکہ چھ شکایات درج کی گئی اسطرح مردان ریجن 65 افراد، بنوں ریجن 25 افراد، پشاور ریجن آفس میں چار، مالاکنڈ میں پندرہ، آبیٹ آباد میں بارہ، ڈی آئی خان میں 10 افراد نے کھلی کچہری میں شرکت کی۔معاون خصوصی برائے انسداد بدعنوانی مصدق عباسی نے شکایات تفصیل سے سنیں اور انکے حل کے حوالے سے ضروری احکامات جاری کیے۔ معاون خصوصی مصدق عباسی نے شکایات پر ہونے والی کاروائی سے آگاہ رکھنے کی ہدایت کی۔ جبکہ اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ حکام کو درج شکایات کو ٹریک کرتے ہوئے پیشرفت سے مسلسل آگاہ رہنے کی ہدایت بھی کی۔ مصدق عباسی کا مزید کہنا تھا کہ عوام کی سہولت کیلئے اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ نے واٹس ایپ نمبر 03319988848 جاری کردیا ہے۔ جس کے ذریعے عوام بدعوانی کی نشاندہی و شکایات واٹس ایپ پر کر سکتے ہیں۔

خیبر پختونخوا کے وزیر تعلیم فیصل خان ترکئی نے کہا ہے کہ سکولوں میں

خیبر پختونخوا کے وزیر تعلیم فیصل خان ترکئی نے کہا ہے کہ سکولوں میں اساتذہ کی کمی پوری کرنے کے لئے اگلے ہفتے اشتہار شائع کیا جائے گا انہوں نے محکمہ تعلیم حکام کو ہدایت کی کہ صوبائی ٹیسٹنگ ایجنسی ایٹا کے ساتھ ٹیسٹ پیٹرن، آئٹم ڈیٹا بینک اور دیگر ضروری لوازمات اسی ہفتے مکمل کریں جبکہ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن افسران سے خالی اسامیوں کی تمام تفصیلات کو بھی اسی ہفتے حتمی شکل دی جائے انہوں نے کہا کہ درس و تدریس میں بنیادی کردار اساتذہ کا ہے اور ہماری کوشش ہے کہ تمام سکولوں میں اساتذہ کی خالی آسامیوں کو ہر صورت پورا کریں۔ انہوں نے مزید ہدایت جاری کی کہ ایٹا کے ذریعے مشتہر ہونے والی تقریبا 13 ہزار اسامیوں کے علاوہ جتنی بھی خالی اسامیاں رہتی ہیں یا سکولوں میں اساتذہ کی کمی ہے ان آسامیوں پر پیرنٹس ٹیچرز کونسل پی ٹی سی کے ذریعے اساتذہ بھرتی کریں۔ انہوں نے ایجوکیشن حکام کو ہدایت کی کہ ایک ہفتے کے اندر ان سکولوں کی نشاندہی کریں جہاں پی ٹی سی فنڈ دستیاب ہیں اور اساتذہ کی کمی ہے۔ فوری طور پر ٹیلنٹ پول سے ان سکولوں میں عارضی بنیادوں پر اساتذہ تعینات کریں۔ یہ ہدایات انہوں نے محکمہ تعلیم ریکروٹمنٹ پراسس کے حوالے سے منعقدہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے جاری کیں۔ اجلاس میں سپیشل سیکرٹری ایجوکیشن قیصر عالم، ایڈیشنل سیکرٹری تعلیم فیاض عالم، ڈائریکٹر ایجوکیشن ثمینہ الطاف اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔وزیر تعلیم فیصل خان ترکئی نے مزید کہا کہ ہمارے وہ اضلاع جہاں تعلیمی سہولیات کی کمی ہے اور شرح خواندگی کم ہے ان اضلاع کے لیے خصوصی اے ڈی پی سکیم منظور ہوئی ہے جس کی تحت منتخب اضلاع میں بھی پیرنٹس ٹیچرز کونسل کے ذریعے اساتذہ بھرتی کیے جائیں گے۔ انہوں نے ایجوکیشن حکام کو ہدایت کی کہ اس سکیم کے لیے خصوصی انتظامات کریں تاکہ یہ سکیم جلد از جلد شروع کر کے اساتذہ تعینات کیے جائیں۔ وزیر تعلیم نے مزید کہا کہ اساتذہ کی کمی پوری کرنے کے لیے ڈونر سے بھی روابط رکھے گئے ہیں اور ابتدائی طور پر یونیسیف کے تعاون سے منتخب 21 اضلاع میں تقریباً 1800 اساتذہ پرائمری سکولوں میں عارضی بنیادوں پر تعینات کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ دیگر پروگرام بھی شروع کئے جا رہے ہیں جس کے تحت یونیورسٹی سے فارغ التحصیل طلبہ و طالبات کے لیے انٹرنشپ پروگرام اور رضاکار اساتذہ کے منصوبے بھی شامل ہیں انہوں نے کہا کہ ہمارا بنیادی مقصد تمام وسائل کو بروی کار لا کر اپنے طلبہ و طالبات کو اساتذہ کی دستیابی یقینی بنانا ہے اور اس ضمن میں دستیاب وسائل کو بروئے کار لا کر مستقل اور عارضی بنیادوں پر اساتذہ کی دستیابی کا انتظام کیا جائے گا۔ وزیر تعلیم نے ایجوکیشن حکام کو ہدایت کی کہ کوئی بھی کلاس روم استاد کے بغیر نہ ہو اور اساتذہ کی ریٹائرمنٹ یا تبادلے کی صورت میں فوری طور پر دوسرے استاد کے انتظامات کئے جائیں۔

وزیر لائیو سٹاک ماہی پروری اور امداد باہمی فضل حکیم خان یوسفزئی کی بطور مہمان خصوصی شرکت۔یاد گاری شیلڈ بھی دی گئی

محکمہ لائیو سٹاک خیبر پختونخوا کے ڈائریکٹر میاں احداللہ کا کا خیل کی ریٹائر منٹ کے موقع پران کے اعزاز میں الوداعی تقریب کا انعقاد

وزیر لائیو سٹاک ماہی پروری اور امداد باہمی فضل حکیم خان یوسفزئی کی بطور مہمان خصوصی شرکت۔یاد گاری شیلڈ بھی دی گئی

محکمہ لائیو سٹاک خیبر پختونخوا کے ڈائریکٹر لائیو سٹاک توسیع، میاں احداللہ کا کا خیل کی ریٹائر منٹ کے موقع پران کے اعزاز میں منگل کے روز پشاور میں الوداعی تقریب کا انعقادکیا گیا جس میں خیبرپختونخوا کے وزیر لائیو سٹاک ماہی پروری اور امداد باہمی فضل حکیم خان یوسفزئی نے بحیثیت مہمان خصوصی شرکت کی جبکہ ممبر قومی اسمبلی سہیل سلطان ایڈوکیٹ، چیئر مین ڈیڈیک سوات اور رکن صوبائی اسمبلی اخترخان ایڈوکیٹ، ممبران صوبائی اسمبلی سلطان روم، ا حمد الرحمان اورمحمد نعیم سمیت محکمہ لائیوسٹاک کے ڈائریکٹر جنرل توسیع ڈاکٹر اصل خان،ڈائیریکٹر جنرل تحقیق ڈاکٹر اعجازعلی، ویٹرنری ڈاکٹر ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر حبیب خان، جنرل سیکرٹری ڈاکٹر خسرو کلیم اور دیگر افسران بھی اس موقع پر موجود تھے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر لائیو سٹاک ماہی پروری اور امداد باہمی فضل حکیم خان یوسفزئی نے کہا کہ ڈائریکٹر میاں احداللہ کا کا خیل نے اپنی مدت ملازمت کے دوران قابل قدر خدمات سر انجام دیں ہیں اور ان کا کر دار دیگر افسران کے لئے ایک ایسی مثال ہے جس پر عمل کرتے ہوئے عوامی امنگوں کے مطابق اپنے فرئض انجام دے سکتے ہیں اور اپنی فہم و فہرست کے ذریعے صوبے اور ملک کو ترقی سے ہمکنار کرنے میں نمایا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ صوبائی زیر ریٹائر ہونے والے آفیسر کی خدمات کو سرہاتے ہوئے امید ظاہر کی کہ وہ آئندہ بھی محکمہ لائیوسٹاک کے عملہ کے ساتھ روابط میں رہیں گے اور اپنی مشاورت اور رہنمائی کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔ صوبائی وزیر نے اس موقع پرڈائریکٹر میاں احداللہ کا کا خیل کو شیلڈ بھی پیش کی۔

خیبر پختونخوا کے وزیر بلدیات و دیہی ترقی ارشد ایوب خان اور وزیر اوقاف و مذہبی امور عدنان قادری کی زیر صدارت

خیبر پختونخوا کے وزیر بلدیات و دیہی ترقی ارشد ایوب خان اور وزیر اوقاف و مذہبی امور عدنان قادری کی زیر صدارت بلدیات واوقاف کے محکموں کے زیر استعمال زمینوں کے حوالے سے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منگل کے روز پشاور میں منعقد ہوا جس میں سیکرٹری بلدیات داؤد شاہ، سیکرٹری اوقاف عادل صدیق، سیکرٹری لوکل کونسل بورڈ وحید الرحمن، متعلقہ اضلاع کے تحصیل میونسپل افسران اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں تین نکاتی ایجنڈا زیر بحث لایا گیا جس میں ضلع چارسدہ میں قبرستان کے لیے وقف کی گئی 497 کنال زمین اور اس میں سے 5 کنال اراضی پر تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریٹر کی بنائی گئی 100 دکانوں کی لیز اور اس زمین سے حاصل ہونے والی آمد ن کے بارے میں تفصیلی گفتگو کی گئی اسی طرح ایجنڈا نمبر دو میں گلبہار پشاور میں بنائی گئی پارک کی زمین کے لیز اور ایگریمنٹ کے حوالے سے تفصیلی بحث کی گئی۔اس موقع پرصوبائی وزیر بلدیات ارشد ایوب خان نے افسران کو ہدایت جاری کی کہ دونوں زمینوں کے حوالے سے محکمہ ریونیو کے سنیئر ممبر بورڈ آف ریونیو (ایس ایم بی آر) کو ریکاڈ کیلئے متعلقہ محکموں کی طرف سے ایک مشترکہ خط ارسال کیا جائے تاکہ وہ ان زمینوں کی مستند اور حقیقت پر مبنی دستاویزی رپورٹ تیار کروائیں اور اس کے تناظر میں ان زمینوں کی ملکیت کا فیصلہ کیا جائے اور مستقبل میں عوام کے مفاد میں اس کا بہتر استعمال یقینی بنایا جا سکے۔ اجلاس کے دوران تیسرے ایجنڈے خیبر پختونخوا میں قرآن محل کے قیام کے حوالے سے صوبائی وزراء کو تفصیلی بریفننگ دی گئی جس میں گہری دلچسپی کا اظہار کرتے ہوئے صوبائی وزیر اوقاف عدنان قادری نے کہا کہ یہ خیبر پختونخوا حکومت کا ایک اہم اور سنگ میل اقدام ہے جس میں ایک ہی چھت کے نیچے قرآن مجید کے حوالے سے ریسرچ اور لائیبریری کا انتظام عمل میں لایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ قرآن مجید کے ضعیف نسخوں اور اوراق کیلئے بھی اس میں ایک الگ پورشن بنایا جائے گا۔جبکہ اس شاندرار عمارت میں قرآن بورڈ کے ممبران اور دیگر حکام کیلئے دفتر بھی بنایا جائے گا۔اجلاس میں صوبائی وزیر بلدیات نے قرآن محل کے حوالے سے کہا کہ اس کے کیلئے ایک منفرد اندازکی عمارت بنائی جائے گی جس کیلئے سعودی عرب اور مصر کے ممالک کے علاؤہ دیگر اسلامی ممالک سے بھی ڈیزائن منگوائے جائیں گے تاکہ اس اہم بلڈنگ کو دور جدید کے تمام تقاضوں کے مطابق بنایا جاسکے اوریہ اسلامی طرز تعمیر کا بہترین نمونہ ہو۔

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے اطلاعات و تعلقات عامہ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا ہے

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے اطلاعات و تعلقات عامہ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا ہے کہ قیام پاکستان کے دو سال بعد 1949 میں بنیادی طور پر چین میں اصلاحات کا سلسلہ شروع ہوا اور پھر چین نے جو ترقی اور کامیابیوں کا سفر طے کیا ہے وہ حیرت انگیز، قابل ستائش اور ہمارے لئے باعث تقلید بھی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پشاور میں قائم چینی ثقافتی مرکز چائنہ ونڈو کے زیر اہتمام عوامی جمہوریہ چین کے 75 ویں قومی دن کی مناسبت سے منعقدہ تقریب میں کیا۔ پشاور میں ایران کے قونصل جنرل علی بنفشہ خوا، سیاسی وثقافتی شخصیات، کھلاڑیوں اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والوں کی بڑی تعداد نے تقریب میں شرکت کی۔ اس موقع پر کیک بھی کاٹا گیا جبکہ مقامی سکول کے بچوں نے چینی لباس زیب تن کئے قومی گیت بھی گائے۔ تقریب سے خطاب میں بیرسٹر محمد علی سیف نے کہا کہ برادر ہمسایہ ملک عوامی جمہوریہ چین کے 75 واں قومی دن کے موقع پر چائنہ ونڈو کی جانب سے تقریب کا انعقاد بلاشبہ اس امر کی عکاسی ہے کہ خیبر پختونخوا اور پشاور کے عوام بھی اپنے چینی بہنوں اور بھائیوں کی خوشیوں میں شریک ہیں۔انہوں نے وزیر اعلیٰ سردار علی امین گنڈا پور اور صوبائی حکومت کی جانب سے پاکستان میں تعینات چین کے سفیر جیانگ ژی ڈونگ اور تمام سفارتی عملے کو بھی ان کے قومی دن کے موقع پر مبارکباد پیش کی۔ بیرسٹر سیف کا کہنا تھا کہ چین کے عوام نے اپنے وطن سے محبت کا بھرپور ثبوت محنت اور مسلسل محنت کر کے دیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ آج چین دنیا کی ایک معاشی حقیقت بن چکا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں محب وطن پاکستانی کے طور چین کے ان اقدامات کو سامنے رکھتے ہوئے ترقی کا ہم سفر بننا چاہئیے جو انہوں نے سات دہائیوں میں اٹھائے ہیں۔ جب ہم یہ کہتے ہیں کہ چین پاکستان کا دیرینہ دوست ہے تو پھر ہمیں چین کے ساتھ مل کر ترقی کا سفر بھی طے کرناچاہئیے کیونکہ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ ہماری دوستی ہمالیہ سے بلند، شہد سے میٹھی اور سمندر سے گہری ہے۔ یہ محض الفاظ نہیں درحقیقت ہر پاکستانی کے جذبات اور احساسات ہیں جس کی بنیادی وجہ وہ باہمی تعلق ہے جس نے دونوں ملکوں کے عوام کو ایک دوسرے کے قریب کیا اور پھر یہ دوستی کا رشتہ مضبوط سے مضبوط تر ہوتا چلا گیا۔ وزیر اعلیٰ کے مشیر برائے اطلاعات بیرسٹر ڈاکٹر محمد علی سیف نے کہا کہ خیبر پختونخوا کا پاک چین دوستی میں اہم کردار ہے۔ ہمارا صوبہ سمندر سے دور ہونے کی وجہ سے ہماری معاشی سرگرمیوں میں زیادہ فائدے کا سبب نہیں بنا لیکن اب سی پیک نے خیبر پختونخوا کے نقصان کو فائدے میں بدل دیا ہے۔ سی پیک ہماری معاشی ترقی اور خوش حالی کا باعث بن سکتا ہے۔ اس منصوبے کے تحت جہاں لوگوں کو روزگار کے مواقع میسر آئیں گے وہیں خوش حالی کا ایک نیا دور شروع ہو گا۔انہوں نے چینی حکومت کو یقین دلایاکہ صوبائی حکومت اس سلسلہ میں تمام وسائل بروئے کار لا رہی ہے اور خاص طور پر سی پیک کے دوسرے مرحلہ میں زراعت اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی ٹرانسفارمیشن کی جائے۔اسی طرح دوسرے صوبوں کی طرح خیبر پختون خوا میں بھی فلاحی کاموں پر توجہ دی جائے۔خیبر پختونخوا کی حکومت چین کے ساتھ مل کر سی پیک کی کامیابی میں اپنا اپنا حصہ ڈالتی رہے گی،انہوں نے چائنہ ونڈو کے منتظمین خاص طور پر امجد عزیز ملک کو زبردست خراج تحسین پیش کیا جنہوں نے پشاور میں پاک چین دوستی کا یہ خوبصورت مرکز قائم کر رکھا ہے۔

مشیر صحت احتشام علی کا نصیر اللہ بابر ہسپتال کا دورہ

ایمرجنسی میں ادویات کی عدم دستیابی اور صفائی کی ابتر صورت حال پر برہم، متعلقہ حکام کو ہسپتال بارے جامع رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت

مشیر صحت احتشام علی نے شام کو کوہاٹ روڈ پر واقع نصیر اللہ بابر ہسپتال کا اچانک دورہ کیا اور ایمرجنسی میں آئی مریضوں سے ملے اور ان کی شکایات سنیں۔ موقع پر موجود ڈپٹی میڈیکل سپرنٹنڈنٹ نے انہیں ہسپتال کے مختلف شعبوں کا دورہ کرایا اور ہسپتال کے وسائل اور مسائل بارے مختصر جائزہ پیش کیا۔
مشیر صحت نے ایمرجنسی میں شہریوں کیلئے ادویات کی عدم دستیابی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہسپتال میں ادویات دستیاب نہیں تو عوام کس چیز کیلئے ہسپتالوں کا رُخ کریں۔ اگر پشاور جیسے شہر کے ہسپتالوں میں ادویات کی دستیابی یقینی نہیں تو دور افتاد علاقوں میں کیا صورتحال ہوگی۔
انہوں نے ہسپتال کی صفائی کی ابتر صورتحال پر بھی عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اسے فوری بور بہتر بنانے کی ہدایات جاری کیں۔ مشیر صحت نے بتایا کہ جس بھی ایم ایس کے ہسپتال کی صفائی صورتحال بہتر نہ ہو، وہیل چئیر یا سٹریچر کے ٹائر ٹھیک نہ ہو اور ایسے کئی انتظامی خرابیاں پائی جائیں تو اس ہسپتال کے ایم ایس کو فوری طور تبدیل ہونا چاہیے۔
مشیر صحت نے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کو دفتر آکر ہسپتال کی حالت زار پر وضاحت دینے کی ہدایات جاری کیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ میں ہسپتالوں پر چھاپے نہیں مارتا بلکہ وہاں کے مسائل سے باخبر رہنے کیلئے انتظامیہ کے پاس جاتا ہوں تاکہ عوام تک صحت کی بہترین سہولیات بروقت پہنچنے میں کوئی کوتاہی نہ ہو۔

ڈپٹی سپیکر صوبائی اسمبلی ثریا کی سربراہی میں آغا خان فاونڈیشن کی نمائندہ وفد کی مشیر صحت احتشام علی سے ملاقات, چترال میں صحت کے مسائل بارے گفتگو

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے صحت احتشام علی سے ڈپٹی سپیکر صوبائی اسمبلی ثریا کی سربراہی میں آغا خان فاؤنڈیشن کی نمائندہ وفد نے ملاقات کی ہے۔ ملاقات میں ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل پبلک ہیلتھ ڈاکٹر شاہد یونس، چیف ایگزیکٹیو آفیسر ہیلتھ فاونڈیشن ڈاکٹر عدنان تاج اور آغاخان فاونڈیشن کے نمائندہ وفد کے ارکان نے شرکت کی۔ملاقات کے دوران چترال میں خواتین ڈاکٹرز کی فراہمی اور ماں اور بچے کی صحت کی بہتری بارے تبادلہ خیال ہوا۔مشیر صحت نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ چترال میں صحت کے مسائل کو فوری حل کرکے علاقے میں صحت کی سہولیات کو بہتر بنایا جائے۔ انہوں نے آغاز خان فاونڈیشن کے زیر انتظام شاگرام اور بُنی میں بنیادی مراکز صحت میں سہولیات کی فراہمی بارے بھی متعلقہ حکام کو ہدایت کی۔ چترال کے عوام کو صحت کی بہترین سہولیات کی فراہمی کیلئے مشیر صحت نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ آغا خان فاونڈیشن کیساتھ بیٹھ کر مسائل کا حل نکالیں۔ رورل ہیلتھ سنٹر شاہگرام اور بونی کیلئے کوئی ماڈل بنائیں تاکہ وہاں سروسز بحال ہو سکے۔ ملاقات میں ماں اور بچے کی صحت سے متعلق بونی تحصیل میں آغا خان فاونڈیشن اور محکمہ صحت کے درمیان معا ئدے بارے بھی تفصیلی گفتگو ہوئی۔