وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سردار علی امین خان گنڈاپور نے صوبے میں خود روزگاری کو فروغ دینے کے سلسلے میں ایک اہم اقدام کے طور پر ” یوتھ انٹر پرینورشپ پروگرام” کے اجراءکا فیصلہ کیا ہے جس کے ذریعے اپنا کاروبار شروع کرنے کے خواہشمند نوجوانوں کو سافٹ لون فراہم کیا جائے گا۔ یہ فیصلہ انہوں نے گزشتہ روز وزیراعلیٰ ہاو¿س پشاور میں محکمہ کھیل و امور نوجوانان کے پہلے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ مجوزہ پروگرا م ابتدائی طور پر ایک ارب روپے کی خطیر لاگت سے شروع کیا جارہا ہے ۔ واضح رہے کہ یہ قرضہ کسی فرد واحد کو نہیں بلکہ اپنا ذاتی کاروبار شروع کرنے میں دلچسپی اور مہارت رکھنے والے نوجوانوں کے کلسٹر ز کو فراہم کیا جائے گا۔ پروفیشنلز کا ایک کلسٹر 20 لاکھ روپے سے ایک کروڑ روپے تک کا قرضہ حاصل کرسکے گا۔ وزیراعلیٰ نے مجوزہ پروگرام پر عملدرآمد کیلئے حکمت عملی کو جلد حتمی شکل دینے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ پروگرام کااصل مقصد باصلاحیت نوجوانوں کو اپنا کاروبار شروع کرنے کیلئے معاونت فراہم کرنا ہے۔ وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ صوبے میں روزگار کا فروغ موجودہ صوبائی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے، اس مقصد کیلئے ذاتی کاروبار میں دلچسپی لینے والے ہنر مند نوجوانوں کی بھرپور معاونت کی جائے گی۔ اسی طرح وزیراعلیٰ نے یوتھ سکل ڈویلپمنٹ اینڈ ایمپلائمنٹ کے مجوزہ پروگرام سے اتفاق کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ اس تربیتی پروگرام کےلئے تمام اضلاع سے نوجوانوں کو مواقع فراہم کئے جائیں اور اس مقصد کیلئے آبادی کے تناسب سے ہر ضلع کا کوٹہ مختص کیا جائے۔ اس پروگرام کے تحت بنیادی طور پر 20 ہزار نوجوانوں کو سپیشلائزڈ ٹریننگ دی جائے گی۔ تربیت حاصل کرنے والے نوجوانوں کو ملک اور بیرون ملک روزگار کے مواقع کی فراہمی یقینی بنانا بھی پروگرام کا لازمی حصہ ہے۔ علاوہ ازیں وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور نے یوتھ ایجوکیشن پروگرام کے تحت مجوزہ اقدامات پر عملدرآمد کی بھی منظوری دی ہے۔ پروگرام کے تحت جدید مارکیٹ کی ڈیمانڈ کے مطابق نوجوانوں کو ٹیکنیکل اور ڈیجیٹل شعبوں میں میرٹ بیسڈ سکالر شپس فراہم کی جائیں گے۔ اس کے علاوہ انکیوبیشن سنٹر کا قیام ، ای لرننگ، کیرئیر کونسلنگ ، ڈیجیٹل اسکلز ایڈوانس کورسز میں سرٹیفیکیشن اور میرٹ بیسڈ انٹر شپ کی فراہمی بھی اس پروگرام میں شامل ہے۔ وزیراعلیٰ نے جدید مارکیٹ کی ڈیمانڈ سے ہم آہنگ شعبوں میں میرٹ بیسڈ انٹر شپ کی فراہمی کے مجوزہ اقدام کو وقت کی ضرورت قرار دیتے ہوئے اس مقصد کیلئے باضابطہ پالیسی وضع کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیراعلیٰ نے اس موقع پر متعلقہ حکام کو تحصیل ہیڈ کوارٹر ز کی سطح پر پلے گراو¿نڈ ز کے قیام کے منصوبے کو عملی جامہ پہنانے اور اس مقصد کےلئے دستیاب سرکاری اراضی کو بروئے کار لانے کی ہدایت کی ہے اور واضح کیا ہے کہ جہاں جہاں اراضی دستیاب ہے، اسے فوری طور پر پلے گراونڈ ڈیکلیئر کیا جائے۔ باقی ماندہ تحصیلوں میں گراو¿نڈ ز کےلئے موزوں اراضی کی نشاندہی کےلئے ڈپٹی کمشنر ز کو مراسلے جاری کئے جائیں۔ اسی طرح وزیراعلیٰ نے صوبے میں پولو سمیت دیگر روایتی کھیلوں کے فروغ کےلئے پلان مرتب کرنے اور بلا تاخیر صوبائی پولو ٹیم تشکیل دینے کی ہدایت کی ہے اور تائید کی ہے کہ آنے والے پولو ایونٹ میں صوبائی پولو ٹیم کی شرکت یقینی بنائی جائے۔ وزیراعلیٰ نے رواں سال پشاور میں ہارس اینڈ کٹیل شو منعقد کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو اس سلسلے میں انتظامات مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے نیزہ بازی ، تیراندازی، گھڑ سواری، تیراکی اور دیگر روایتی کھیلوں کے فروغ کیلئے ٹھوس اقدامات اٹھانے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا ہے کہ ہمارے پاس تمام روایتی کھیلوں میں بھرپورٹیلنٹ موجود ہے، صرف منظم انداز میں اس ٹیلنٹ کی برانڈنگ کی ضرورت ہے۔
وزیر اعلی کے معاون خصوصی نے ٹیکنیکل ایجوکیشن اور صنعت و حرفت کی بہتری کیلئے اقدامات کی ہدایت۔
وزیر اعلی خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے فنی تعلیم اور صنعت و حرفت عبدالکریم تورڈھیر نے خیبر پختونخوا ٹیکنیکل ایجوکیشن اینڈ ووکیشنل ٹریننگ اتھارٹی میں ڈیجیٹائزیشن کے امور کو تیز کرنے،مالی خود انحصاری کیلئے عملی اقدامات اٹھانے اور سکلڈ ڈویلپمنٹ کیلئے فنی تربیتی اداروں کی کارکردگی کو بہتر بنانے کی ہدایت کی ہے۔اس حوالے سے جمعرات کے روز معاون خصوصی کی زیر صدارت ایک اعلی سطحی اجلاس ہوا جس میں سیکریٹری صنعت وحرفت اور فنی تعلیم سید ذوالفقار علی شاہ،ایم ڈی ٹیوٹا عامر آفاق،ڈائریکٹر فنانس ٹیوٹا منیر گل اور کے پی ایزڈمک کے نمایندے نے شرکت کی۔اجلاس میں ٹیوٹا کے آپریشنل اور تدریسی امور کا عمومی جائزہ لیا گیا اور اس سلسلے میں ادارے کی کارکردگی میں بہتری لانے اور اسے صوبے میں مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق ہنرمندانہ تعلیم کا آئینہ دار ادارہ بنانے کیلئے کئی تجاویز پر غور کیا گیا۔اجلاس میں ٹیوٹا کے تحت صوبے میں فنی تعلیم کے مختلف ذرایع سے منظور شدہ ترقیاتی منصوبوں کا بھی جائزہ لیا گیا اور اس ضمن میں معاون خصوصی نے متعلقہ حکام کو اہمیت کے حامل منصوبوں کے تعمیراتی عمل میں تیزی لانے کی ہدایات کی۔ معاون خصوصی نے اس موقع پر پر فنی تعلیم کے شعبے کو مالی طور پر مستحکم بنانے اور اسے خود انحصاری کی طرف لے جانے کیلئے بھی ہدایات جاری کئے جبکہ اس حوالے سے تمام پرنسپل حضرات کو پروڈکشن و سروسز کے مشترکہ ماڈل پر عملدرامد کرنے کی ہدایات کی۔انھوں نے ہدایت کی کہ ٹیوٹا کے اخراجات کو کم کرنے کیلئے معقول اقدامات اٹھائے جائیں اور ادارے کے ذرایع آمدن کو بڑھانے کیلئے ادارے کے وسائل کو بروئے کار لایا جائے۔انھوں نے ہدایات کی کہ تمام پرنسپل حضرات کو مالی خود انحصاری کیلئے اپنے تعلیمی اداروں میں موثر اقدامات اٹھانے کا ٹاسک دیا جائے۔
خیبر پختونخوا کے وزیر صحت سید قاسم علی شاہ کی سربراہی میں محکمہ صحت کا آپریشنل ریویو اجلاس
اجلاس میں سیکرٹری ہیلتھ محمود اسلم وزیر، ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل ایڈمنسٹریشن ڈاکٹر سراج، سی ای او صحت کارڈ ڈاکٹر ریاض تنولی، پروجیکٹ ڈائریکٹر پرائمری ری ویمپ پروگرام ڈاکٹر اکرام اللہ، ڈائریکٹر آئی ایم یو ڈاکٹر اعجاز، سٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن کے نمائندے و دیگر متعلقہ اہلکاروں نے شرکت کی۔ اجلاس کے ایجنڈے میں ادویات ضروریہ کی دستیابی، پرائمری ہیلتھ کئیر ری ویمپ، میڈیسن سپلائی چین، صحت کارڈ اور ہیلتھ انفارمیشن اینڈ سروس ڈلیوری یونٹ شامل تھے۔ ڈائریکٹر آئی ایم یو ڈاکٹر اعجاز نے مراکز صحت کی مختلف امور پر کارکردگی کا جائزہ پیش کیا۔ وزیر صحت نے تمام مراکز صحت میں ادویات کی موجودگی اور جہاں جہاں ادویات کی ترسیل باقی ہے وہاں پر بروقت ادویات کی موجودگی کو یقینی بنانے کی ہدایات کیں۔ سید قاسم علی شاہ نے پرائمری ہیلتھ کئیر ری ویمپ پروجیکٹ پر کام مزید تیز کرنے اور سپلائی چین کیلئے مجوزہ اقدامات کو عملی بنانے کیلئے ہدایات جاری کیں۔ وزیر صحت کی صحت کارڈ کاونٹر پر سٹیٹ لائف کے عملے کی رات گئے وقت موجودگی کی ہدایات جاری کیں۔
صوبائی حکومت ملازمین کی فلاح و بہبود کے لیے متعدد آپشنز پر غور کر رہی ہے، وزیر اوقاف خیبر پختونخوا
خیبرپختونخوا کے وزیر اوقاف و مذہبی امور صاحبزادہ محمد عدنان قادری نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت تمام دستیاب وسائل کو بروئے کار لا کر سرکاری ملازمین کی فلاح و بہبود کے لیے متعددآپشنز پر غور کر رہی ہے. ملازمین کو سہولیات و آسانیاں فراہم کرنا ترجیح ہے. ان خیالات کا اظہار صوبائی وزیر نے محکمہ اوقاف و مذہبی امور کے آل پاکستان کلرک ایسوسی ایشن محکمہ اوقاف کی نو منتخب کابینہ سے اپنے دفتر میں حلف لیتے ہوئے کیا. اس موقع پر سیکریٹری اوقاف ڈاکٹر اسد علی اور ایڈمنسٹریٹر حامد علی گیلانی بھی موجود تھے. صوبائی صدر نے ایپکا محکمہ اوقاف کے نو منتخب چیئرمین ایپکا ظفر مقصود، صدر شیر افضل، جنرل سیکرٹری ملک اسفند یار خان سمیت دیگر ممبران سے حلف لیا۔تقریب کے مہمان خصوصی صوبائی وزیر اوقاف مذہبی عدنان قادری نے خطاب کر تے ہوئے کہا کہ ایپکا محکمہ اوقاف کے نو منتخب عہدیداران کو مبارکباد پیش کرتا ہوں اور امید ہے وہ اپنے محکمہ کے ملازمیں اور محکمہ کی ترقی کے لئے اپنا بھر پور کردار ادا کریں گے. انہوں نے کہا کہ میں آپ کا خادم ہوں اور آپ کے پیش کئے گئے تمام مسائل کو حل کرنے کی کوشش کروں گا ۔انہوں نے کہا کہ کسی بھی محکمہ کا ملازم اس محکمہ کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ھے اگر ملازم مضبوط ہوگا تو محکمہ مضبوط ہوگا، جبکہ حکومت کی مضبوطی محکمہ جات کی مضبوطی سے جڑی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ تب ممکن ھے کہ محکمہ کے ملازمین ایمانداری اور خلوص نیت سے اپنے اپنے فرائض منصبی احسن طریقے سے ادا کریں گے ۔انہوں نے ملازمین کی جانب سے سپاسنامہ میں پیش کئے گئے مسائل پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ملازمین کے تمام مطالبات جائز ہیں اور اس پر عملدرآمد ممکن بنائیں گے۔
خیبر پختونخوا کے حقوق کی جدوجہد میں صوبائی حکومت کا ساتھ دیں۔ وزیر اعلی خیبر پختونخوا
وزیر اعلی خیبر پختونخوا سردار علی امین خان گنڈاپور نے صوبے کے آئینی اور قانونی حقوق پر سمجھوتہ نہ کرنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے صحافی برادری سے کہا ہے کہ وہ صوبے کے حقوق کی جدوجہد میں صوبائی حکومت کا ساتھ دیں ۔اُنہوںنے کہاکہ یہ صوبہ ہم سب کا ہے اور ہم سب نے مل کر اس کی ترقی کیلئے کام کرنا ہے اور صوبہ تب ہی ترقی کرے گا جب وفاق سے صوبے کو اس کے جائز حقوق مل جائیں گے ۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ ہمارے لئے فخر اور اعزاز کی بات ہے کہ خیبرپختونخوا کے وسائل ملک کی ترقی کیلئے استعمال ہو رہے ہیں تاہم ہمیں بھی ہمارا جائز حق ہر صورت ملنا چاہیے ۔ ان خیالات کا اظہار اُنہوںنے جمعرات کے روز پشاور پریس کلب کے دورہ کے دوران پریس کلب کی نو منتخب کابینہ کی تقریب حلف برداری سے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیر اعلی نے اس موقع پر پریس کلب کی نو منتخب کابینہ اور گورننگ باڈی ممبران سے ان کے عہدوں کا باضابطہ حلف لیا۔اُنہوںنے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مسلسل دوسری مرتبہ صدر منتخب ہونے پر ارشد عزیز ملک اور ان کی کابینہ کو مبارکباد پیش کی اور کہاکہ خیبرپختونخوا کے صحافی گزشتہ کئی دہائیوں سے انتہائی نامساعد حالات میں اپنے پیشہ وارانہ فرائض انجام دے رہے ہیں۔ خصوصی طور پر دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فورسز اور عوام کے ساتھ ساتھ صوبے کے صحافیوں نے بھی بڑی قربانیاں دی ہیں۔وزیراعلیٰ نے یقین دلایا کہ صوبائی حکومت صحافیوں کو درپیش مسائل کے حل اور ان کی فلاح کے لیے ہر ممکن اقدامات کرے گی۔ علی امین خان گنڈا پور نے اس موقع پر مرکز سے جڑے صوبے کے حقوق اور واجبات کے حوالے سے واضح کیا کہ وہ کسی صورت بھی اپنے جائز حقوق سے دست بردار نہیں ہوں گے ، ہمارے حقوق ہمیں حقوق کی طرح ملنے چاہئیے بھیک کی طرح نہیں۔ اُنہوںنے مزید کہاکہ اگر ہمیں ہمارے حقوق نہ دیئے گئے تووہ حق لینا جانتے ہیں ۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ میں عمران خان کا سپاہی ہوں، مجھے ہلکا نہ لیا جائے،عمران خان نے ہمیں یہ سکھایا ہے کہ اپنے نظریے سے کبھی نہیں ہٹنا۔ اُنہوںنے وفاقی حکومت کو واضح پیغام دیتے ہوئے کہا کہ اگر صوبے کو حقوق نہ دیئے گئے تو وفاقی حکومت بھی سکون سے نہیںرہ سکے گی ۔اُنہوںنے کہا کہ اگر میں اپنے حقوق لینے نکلوں گا تو عوام کو ساتھ لے کر نکلوں گا اور اگر میں صوبے کے حقوق نہ بھی لے سکا تو آئندہ نسلوں کے لئے مثال قائم کروں گا جس کے لئے میں کوئی بھی قربانی دینے کے لئے تیار ہوں۔وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ ہمارے بہت سے اضلاع اور شعبے ترقی کے میدان میں پیچھے رہ گئے ہیں، ہم نے عمران خان کے وژن کے مطابق تمام علاقوں اور شعبوں کو برابری کی بنیاد پر ترقی دینا ہے جس کے لئے مرکز سے صوبے کو اس کے جائز حقوق اور وسائل کی فراہمی ناگزیر ہے ۔ صوبائی حکومت کی ترجیحات کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہاکہ قانون کی بالادستی ہماری اولین ترجیح ہے، ہم ایسا نظام بنائیں گے جس میں کسی بے گناہ کے ساتھ کوئی بھی زیادتی نہ ہو۔ علی امین گنڈ پور کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے ہمارے ہاں کچھ ادارے سیاسی انتقام کے لئے بنائے گئے ہیں،لیکن ہم نے اصلاح کرنی ہے اور نظام کو ٹھیک کرنا ہے،ہم تنقید برائے اصلاح کا خیر مقدم کریں گے اور ہم ہمیشہ زیادتی کے شکار لوگوں کا ساتھ دیں گے ۔کبھی زیادتی کرنے والوں کا ساتھ نہیں دیں گے۔
وزیر صحت مئی کے دوسرے ہفتے میں نریش ماں پروگرام کا افتتاح کریں گے۔
وزیر صحت مئی کے دوسرے ہفتے میں نریش ماں پروگرام کا افتتاح کرینگے، پروگرام کے تحت ماں اور بچے کی صحت سے جُڑے طبی عملے کا استعداد کار بڑھایا جائے گا جبکہ تمام سٹیک ہولڈرز کو بیانیے کی ترویج پر گامزن کیا جائے گا،
نیوٹریشن انٹرنیشنل کے نمائندہ وفد کی وزیر صحت کو پروگرام کی سربراہی کی پیشکش نیوٹریشن انٹرنیشنل کے نمائندہ وفد نے ڈاکٹر عرفان اللہ ڈپٹی کنٹری ڈائریکٹر اور امتیاز علی شاہ پروگرام مینیجر خیبر پختونخوا کی سربراہی میں وزیرصحت کیساتھ ملاقات کی ہے ۔ ملاقات کے دوران ڈاکٹر عرفان نے وزیر صحت کو نیوٹریشن انٹرنیشنل کے تعاون اور سپورٹ پر بریفنگ فراہم کی۔ وزیر صحت کو بتایا گیا کہ وزیر صحت آئیندہ ماہ کے دوسرے ہفتے میں نریش ماں پروگرام کا افتتاح کرینگے جس کے تحت ماں اور بچے کی صحت سے جڑے طبی عملے کے استعداد کار بڑھانے کیلئے سرٹیفائیڈ کورسز فراہم کئیے جائینگے جبکہ اس بابت ذہن سازی کیلئے فیلڈ سے چنے گئے اہم شخصیات و دیگر متعلقہ اوپنئین لیڈرز کو بروئے کار لایا جائے گا۔ میٹرنل نیوٹریشن کمپین میں طبی عملے کی سرٹیفائیڈ ٹریننگ اور آوٹ ریچ ورکرز کیلئے تربیت دواضلاع بٹگرام اور مردان میں نریش ماں کے نام سے لانچ کیا جارہا ہے۔ دو سال ایمپلیمینٹیشن ریسرچ کے بعد صوابی اور سوات میں حاملہ خواتین اور بچے کی صحت کی بہتری کیلئے ملٹی مائیکرو نیوٹرئینٹ سپلیمنٹس کے نام سے مخفی غذائی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے فالک ایسڈ کے بدلے متعارف کیا جارہا ہے۔ وزیر صحت کو بتایا گیا کہ نیوٹریشن انٹرنینشنل مختلف پروگرامز کی مد میں ملک بھر میں 80 ملین ڈالر خرچ رہا ہے جس میں 23 ملین ڈالر بلا واسطہ وٹامن اے کیپسولز کی ترسیل و تقسیم پر خرچ ہورہے ہیں جس کے تحت 35.5 ملین بچے ہر سال وٹامن اے کے دو کیپسولز وصول کرتے ہیں ۔ اسی طرح نیوٹریشن انٹرنیشنل کی بدولت 180 ملین لوگوں کو آئیوڈین ملا نمک تک رسائی ممکن ہوگئی ہے۔ اسی طرح ڈائیریا کے علاج کیلئے پانچ ملین سے زائد بچوں کو او آر ایس اور زنک مہیا کیا جارہا ہے۔ اسی طرح گندم کے آٹے اور کھانے کے تیل کی فورٹیفکیشن سے 135 ملین لوگ مستفید ہورہے ہیں۔
خیبر پختونخوا کے وزیر برائے محنت کی محنت کشوں کی فلاح وبہبود کے لیے قانونی اقدامات کی حمایت
خیبر پختونخوا کے وزیر برائے محنت فضل شکورخان نے کہا ہے کہ محکمہ محنت مزدوروں کی فلاح وبہبود کیلئے ہر قسم کے اقدام کی حمایت کرتا ہے، محنت کش بھائیوں کو تمام تر سہولیات مہیا کرنے اور بہتری کیلئے قانون سازی کررہے ہیں، محنت کشوں کا اپنے حقوق کے حصول کی جدوجہد کا سفر صدیوں پر محیط ہے موجودہ دور میں آٹومیٹک مشینوں،تجارت اور معیشت کے بدلتے ہوئے رجحانات اور گلوبلائزیشن سے مزدورں کو نئے چیلنجز کاسامنا ہے جن کا مقابلہ کرنے کے لیے نت نئے طریقے اور قوانین بھی متعارف کئے گئے اور یہ سلسلہ آج تک جاری ہے دنیا میں مزدوروں کے حقوق کے تحفظ کیلئے بنائے جانے والے اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے آئی ایل او نے اس عظیم کام کا بیڑا اٹھایا ہوا ہے جس کا پاکستان شروع سے ایک سرگرم رکن رہا ہے اور پاکستان ان چند ممالک میں شامل ہے جنہوں نے سب سے زیادہ کنونشن کی توثیق کی ہے جن میں آ ٹھ بنیادی کنونشن بھی شامل ہیں پاکستان کی اس بہتر کارکردگی کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا اور اسی کارکردگی کی بنیاد پر یورپین یونین نے پاکستان کو GSP کی سہولت دی جو ھماری معیشت کی ترقی کیلئے بہت اہم ہے وہ پشاور میں عالمی یوم مزدور پر آئی ایل او کے اشتراک سے محکمہ لیبر کے زیرانتظام منعقدہ تقریب سے خطاب کررہے تھے تقریب کے مہمان خصوصی وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور تھے جبکہ سیکرٹری لیبر، آئی ایل او کے کنٹری ڈائریکٹر، مزدوروں کی مختلف یونیز اور فیڈریشنز کے نمائندوں سمیت کثیر تعداد میں لوگوں نے شرکت کی صوبائی وزیر محنت نے اپنے خطاب میں کہا کہ لیبر ڈیپارٹمنٹ مزدوروں کی فلاح و بہبود کیلئے اپنے محدود وسائل کے باوجود اپنے محنت کش بھائیوں کے حالات کار بہتر بنانے اور انکو باوقار روزگار مہیا کرنے کیلئے سرگرم ہے ملکی معیشت کی مضبوطی میں مزدور ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے حکومت خیبر پختونخوا نے اپنے محنت کشوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کیلئے بہت سارے اقدامات اٹھائے ہیں محکمہ لیبر نے اٹھارویں ترمیم کے بعد سب سے پہلے صوبائی لیبر قوانین اسمبلی سے پاس کئے ان قوانین کو آئی ایل او کے کنونشن کے مطابق کرنے کی کوشش کی گئی ہے ساتھ ہی ساتھ یہ کوشش بھی کی گئی ہے کہ یہ قوانین امتیازی سلوک سے پاک ہوں اور معاشرے کے ہر طبقے کی ضروریات کو پورا کرتے ہوں انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے ہمیں مزدوروں کی فلاح و بہبود کیلئے بہتر سے بہتراقدامات اٹھانے کی پہلے ہی سے ہدایات کی ہیں اور محکمہ محنت ضروری قانون سازی کے ساتھ مزدور طبقے کی بہتری کیلئے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائیگا۔
صوبائی وزیر تعلیم کی رہنمائی میں وفد کی ملاقات، اقلیتی برادری کے مسائل پر توجہ، تعلیمی فراہمی کیلئے فوری اقدامات کا اعلان
صوبائی وزیر تعلیم فیصل خان ترکئی سے بشپ آف خیبر پختون خوا ہمفری سرفراز پیٹر کی سربراہی میں آئے ہوئے وفد کی ملاقات۔ مشنری سکولوں کے مسائل بشمول اقلیتی برادری کے دیگر مسائل زیر غور لائے گئے
صوبائی وزیر تعلیم فیصل خان ترکئی نے کہا ہے کہ اقلیتی برادری کے مسائل حل کرنا اور ان کو سہولیات فراہم کرنا ہماری اولین ترجیح ہے، ان کو باعزت روزگار فراہم کرنے کے لیے محکمہ تعلیم بشمول تمام صوبائی اداروں میں کوٹہ مختص کیا گیا ہے جن پر من و عن عمل جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبہ بھر میں قائم مشنری سکولز اعلیٰ تعلیم کی فراہمی کا اہم ذریعہ ہیں اور ان میں انفرا سٹرکچر، طلباء اور اساتذہ کے مسائل حل کرنے سمیت دیگر تمام سہولیات فراہم کی جائیں گی اور ایڈورڈز کالج بشمول تمام مشنری اداروں کو بہت جلد اپنے سابقہ ٹریک پر لائیں گے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے بشف آف خیبر پختونخوا ہمفری سرفراز پیٹر کی سربراہی میں آئے ہوئے اقلیتی برادری کے نمائندہ وفد سے ملاقات کے موقع پر کیا۔ وفد میں ایجوکیشن ڈائریکٹر ڈینیئل، پادری خوش بخت، یوسف، آصف اور پاکستان تحریک انصاف کے صوبائی اقلیتی رہنما سیموئیل رابرٹ شامل تھے۔ وزیر تعلیم فیصل خان ترکئی نے کہا کہ اقلیتی برادری ہمارے شانہ بشانہ پاکستان کی ترقی میں اپنا کردار ادا کر رہی ہے اور ہماری حکومت اقلیتی برادری کی خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ تعلیم عنقریب ای ٹرانسفر پالیسی لانچ کر رہی ہے جس میں اقلیتی برادری اور خواتین کے لئے خصوصی انتظامات کیے جائیں گے۔وفد نے محکمہ تعلیم میں برسر روزگار اقلیتی برادری کے مسائل سے بھی وزیر تعلیم کو آگاہ کیا جن کے حل کی انہوں نے یقین دہانی کرائی۔ وزیر تعلیم نے مزید کہا کہ ہم اپنے سکولوں میں عنقریب سکل ڈیویلپمنٹ پروگرام کا بھی آغاز کر رہے ہیں جس کے لیے آپ کے سکلڈ بیسڈ سکولوں سے بھی استفادہ حاصل کیا جائے گا اور آپ کے سکولوں کو مزید بھی اپگریڈ کر دیا جائے گا تاکہ ہم اپنے صوبے کے بچوں کو مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق تیار کر سکیں۔ وفد کی مشاورت سے کاشف کو محکمہ تعلیم کے لیے اقلیتی برادری کی طرف سے فوکل پرسن نامزد کیا گیا جو اقلیتی برادری کے مسائل سے محکمہ تعلیم حکام کو آگاہ کریں گے۔ وزیر تعلیم فیصل خان نے کہا کہ اب صوبے میں سیاسی حکومت کا قیام عمل میں آیا ہے اور ہم نے بذریعہ اصلاحات اس صوبے کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ملک ہمارا ہے اور اس کو ٹھیک کرنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ وفد نے وزیر تعلیم کو دور افتادہ علاقوں میں پوسٹنگ ٹرانسفرز، مخصوص علاقوں میں اقلیتی برادری کے لیے ریکروٹمنٹ پراسس میں کوالیفائنگ مارکس میں نرمی اور ریکروٹمنٹ کے دوران میرٹ اور اقلیتی سیٹوں پر بھرتی کے یکساں آرڈر جاری کرنے بشمول دیگر اہم مسائل سے آگاہ کیا جن کی وزیر تعلیم نے حل کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ وفد نے وزیر تعلیم کو مشنری سکولوں کے دورہ کرنے کی دعوت بھی دی۔ وزیر تعلیم نے بہت جلد دورہ کی یقین دہانی کرائی۔
افسران صوبے میں کھیلوں کے فروغ اور محکمہ کی ترقی کیلئے اپنی توانائیاں صرف کریں۔ مشیر کھیل
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے کھیل اور امور نوجوانان سید فخر جہان نے محکمہ کھیل کے اضلاعی افسران کو محکمانہ کارکردگی میں بہتری لانے کیلئے نوتعینات افسران کو خصوصی اہداف اور ٹاسک سونپ کر انھیں ہدایت کہ ہے کہ محکمہ کے افسران اپنی متعین ذمہ داریوں پر عمل پیرا ہوکر کھیل کے شعبے کو آگے لے آئیں۔یہ ہدایات انھوں نے نوتعینات ڈسٹرکٹ سپورٹس آفیسرز کے تعارفی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے دیں۔اجلاس میں سیکرٹری کھیل اور امور نوجوانان مطیع اللہ،ڈائریکٹر جنرل سپورٹس عبدالناصر بھی موجود تھے۔ مشیر کھیل نے محکمہ کے افسران کو نئی ذمہ داریاں سونپنے پر مبارکباد دی اور انھیں ہدایت کی کہ وہ صوبے میں کھیلوں کے فروغ اور صحت مندانہ سرگرمیوں کی ترقی کیلئے اپنے اوپر عائد ذمہ داریاں بطریق احسن سرانجام دیں۔انھوں نے کہا کہ ایک تندرست اور توانا معاشرے کی تشکیل کیلئے یہ امر انتہائی ضروری ہوتا ہے کہ اس معاشرے میں کھیلوں جیسی سرگرمیوں کو اہمیت دی جارہی ہو اور اس مقصد کے حصول کیلئے ہم پر یہ بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ہم یہاں پر کھیل کے شعبے کو تقویت دیں۔انھوں نے کہا کہ حکومت اس قومی مقصد کیلئے حکومتی سطح پر ہر لحاظ سے کوششیں کررہی ہے اور اس مشترکہ مقصد کو حاصل کرنے میں ہمارے افسران کاایک کلیدی کردار ہے لہذا ہم توقع کرتے ہیں کہ ڈسٹرکٹ سپورٹس آفیسرز اپنی صلاحیتوں کے بل بوتے پر صوبہ بھر میں محکمہ کے وقار و تکریم کو مزید بہتر بنانے میں اپنا کردار ادا کریں گے اور محکمہ کے کردار کو فعال انداز میں آگے لے آئیں گے۔انھوں نے اس موقع پر افسران کو محکمہ کی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے کیلئے خصوصی ٹاسک اور اہداف دیتے ہوئے انھیں واضح انداز میں اپنی مثبت کارکردگی ظاہر کرنے کی ہدایت کی۔دریں اثناں مشیر کھیل نے یکم مئی یوم مزدور کی مناسبت سے اپنے ایک پیغام میں کہا کہ اس دن کو منانے کا مقصد قوموں کی ترقی میں محنت کش طبقے کے کلیدی کردار کو اجاگر کرنا اور انکو خراج تحسین پیش کرنا ہے۔انھوں نے کہا کہ دنیا کے کونے کونے میں جہاں بھی ترقی آئی ہے تو اس میں محنت کشوں کے کردار سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔انھوں نے مزید کہا کہ ہماری قومی ترقی میں محنت کش طبقے کا خون پسینہ شامل ہے اور وہ ملک کے اندر اور دیار غیر میں اپنے وطن اور صوبے کے محنت کشوں کی عظمت کوسلام پیش کرتے ہیں۔
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی کی زیرصدارت اجلاس، تعلیمی فراہمی میں بہتری کیلئے فوری اقدامات کا اعلان
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے بہبود آبادی ملک لیاقت علی خان کی زیرصدارت محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم کے حوالے سے ایک اہم اجلاس سول سیکریٹریٹ پشاورمیں منعقد ہوا جس میں علیم الحق اسسٹنٹ ڈائریکٹر،ایمل خان اے ڈی ای او (پی اینڈ ڈی) دیر لوئر، ہدایت اللہ اے ڈی ای او (پی اینڈ ڈی) دیر لوئر،محبوب خان ڈی ای او میل دیر لوئر،نغمانہ سردار ایڈیشنل ڈائریکٹر فی میل، مہر النساء ڈی ای او فی میل دیر لوئر،محمد عثمان اے ڈی ای او فی میل ودیگر حکام نے شرکت کی۔اجلاس میں تعلیم سے متعلق مختلف امور پرگفتگو کی گئی۔اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے ملک لیاقت علی خان نے یہ واضح کیا کہ عوام کوبہترین تعلیمی ماحول فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیحات میں ہے۔ اجلاس میں گورنمنٹ ہائی سکول جاؤزو اور میرا کئی دیر لوئر کے اساتذہ کو 24 گھنٹے کے اندر اندر حاضر کئے جا نے کا بھی فیصلہ کیا گیااور جہاں 17 سکولوں میں اساتذہ کی کمی ہے وہاں فوری طور پر اساتذہ تعینات کئے جانے اور جن سکولوں میں اساتذہ کی آسامیاں خالی ہیں ان پر بھرتی کے لیے بھی جلد از جلد لائحہ عمل تیار کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
