وزیر اعلی خیبر پختونخوا سردار علی امین خان گنڈاپور نے عالمی یوم مزدور کے موقع پر صوبے کے مزدوروں کیلئے صوبائی حکومت کی جانب سے دیئے جانے والے پیکجز کو دوگنا کرنے کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ محکمہ محنت کی آمدن دوگنا ہو گئی ہے تو مزدوروں کے پیکجز بھی دوگنا ہونے چاہئیں ۔ اُنہوںنے حکومت کی جانب سے مقرر کردہ کم سے کم اُجرت پر عمل درآمد یقینی بنانے کیلئے ویج مجسٹریٹ تعینات کرنے کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ تمام مزدوروں کے بینک اکاونٹس بنا کر ان کی اجرت ان اکاونٹس میں ٹرانسفر کی جائے اور اس کی کڑی نگرانی کی جائے ، اگر مزدور کی کم سے کم ماہانہ اُجرت 32 ہزار روپے ہے تو مزدور کو اتنی ہی ملنی چاہیئے ۔ وزیراعلیٰ نے پشاور میں مزدروں کیلئے تعمیر کئے گئے 2056 رہائشی فلیٹس جلد مزدوروں کو حوالہ کرنے کی ہدایت کی ہے اور کہا ہے کہ مزدور تنظیموں کی مشاورت سے یہ فلیٹس صاف اور شفاف طریقے سے تقسیم کئے جائیں ۔ وہ بدھ کے روز عالمی یوم مزدور کی مناسبت سے پشاور میں سرکاری سطح پر منعقدہ ایک تقریب سے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کر رہے تھے ۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ نے صنعتی مزدوروں کے بچوں کے تعلیمی اخراجات کے لئے17 کروڑ 75 لاکھ روپے کی رقم بٹن دبا کر آن لائن ٹرانسفر کر دی ہے۔اس اقدام سے 22 ہزار354 طلبہ مستفید ہوں گے ۔وزیراعلیٰ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ملک کی تعمیر و ترقی میں مزدور طبقے کا کردار کلیدی اور اہمیت کا حامل ہے جس کا وہ دل سے اعتراف کرتے ہیں ۔اُنہوںنے کہاکہ اگر مزدورکے مسائل کا احساس کرنا شروع کریں گے تو ان کے مسائل خود بخود حل ہو جائیں گے ، ملکی معیشت میں محنت کش طبقہ ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے جس پر میں اسے خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ اُنہوںنے کہاکہ جو شعبے پیچھے رہ گئے ہیں انہیں ترقی دینی ہے اور ایسے شعبوں کی ترقی کیلئے قانون سازی اور اصلاحات کی جائیں گی ۔اُنہوںنے کہاکہ وہ قانون سازی کی جائے گی جس میں مزدور طبقے کی فلاح و بہبود کو تحفظ حاصل ہو اور قانون سازی کے عمل میں مزدور تنظیموں کی مشاورت کویقینی بنایا جائے گا۔ علی امین گنڈا پور نے کہا کہ سرمایہ کاری کو فروغ دینے کیلئے ایز آف ڈوئنگ بزنس موجودہ صوبائی حکومت کی ترجیح ہے اور سرمایہ کاروں کی حوصلہ افزائی کیلئے تمام سہولیات فراہم کی جائیں گی ۔ سرمایہ کاروں کی حوصلہ افزائی کی جارہی ہے ، انہیں تحفظ فراہم کر رہے ہیں ۔اُنہوںنے واضح کیا کہ محنت کش طبقے کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے گا، حکومت اُ س طبقے کے ساتھ کھڑی ہو گی جس کے ساتھ زیادتی ہو گی ۔ ہم نے مسائل کا حل نکالنا ہے اور حل تب ہی نکلے گا جب نیت اور ترجیحات درست ہو ں گی ۔ اُنہوںنے کہاکہ حکومت صنعتکاروں کو بھی سہولیات دینے کیلئے اقدامات کر رہی ہے ۔ صنعتوں کو کم قیمت پر بجلی فراہم کرنے کیلئے پلان بنائے جارہے ہیں، جب صنعتوں کو سہولیات دیں گے تو صنعتوں میں کام کرنے والے محنت کشوں کو بھی اس کا فائدہ ہو گا۔
خیبر پختونخوا کے وزیر برائے محنت فضل شکور خان کی ورکرز ویلفیئر بورڈ حیات آباد پشاور کا دورہ
خیبر پختونخوا کے وزیر برائے محنت فضل شکور خان نے ورکرز ویلفیئر بورڈ حیات آباد پشاور کا دورہ کیا اس موقع پر انکے ہمراہ سیکرٹری ورکرز ویلفیئر بورڈ، چئیرمین اور دیگر افسران بھی موجود تھے صوبائی وزیر نے ڈبلیو ڈبلیو بی کے مختلف سیکشنز کا معائنہ کیا اور موقع پر موجود عملے سے کام کے بارے میں دریافت کیا صوبائی وزیر کو ڈیتھ اور میرج گرانٹ پر تفصیلی بریفنگ دی گئی صوبائی وزیر کو بریفنگ میں بتایاگیا کہ میرج گرانٹ کیلئے 200ملین روپے منظور ہوئے ہیں لیکن ورکرز ویلفئیر فنڈ اسلام آباد نے 93 ملین روپے ریلیز کئے ہیں اسی طرح ڈیتھ گرانٹ کیلئے 150ملین روپے کا بجٹ منظور ہوا ہے اور اس مد میں صرف 42 ملین کا فنڈجاری ہوا ہے 338 مستحقین میرج گرانٹ جبکہ 70 ڈیتھ گرانٹ سے مستفید ہوچکے ہیں سکالرشپس کیلئے 1350 ملین روپے منظور ہوئے ہیں لیکن صرف 480 ملین کے فنڈ جاری کئے گئے ہیں صوبائی وزیر کو ریگی للمہ فلیٹس کے بارے میں بتایاگیا کہ 2056 فلیٹس پر مشتمل لیبر کمپلیکس جوکہ ریگی للمہ پشاور میں ہے کے باہر کی الیکٹریفیکشن کا کام مکمل ہے صوبائی وزیر کو مذید بتایاگیا کہ ورکرز ویلفیئر بورڈ ہر سال حج پالیسی کے تحت 10 انڈسٹری ورکرز کو قرعہ اندازی کے ذریعے فریضہ حج کی ادائیگی کیلئے سعودی عرب بھجواتے ہیں اس موقع پر صوبائی وزیر فضل شکورخان نے ہدایت جاری کی کہ لیبر کمپلیکس پر کام تیز کرکے اسے جلد ازجلد مکمل کیا جائے جبکہ لیبر کالونیوں میں غیرقانونی طور پر رہائش پزیر ہونے والوں کے خلاف قانونی کارا جوئی کرکے فلیٹس خالی کرائے جائیں۔
وزیر صحت سید قاسم علی شاہ کی ای پی آئی کی 50 سالہ تقریب میں بطور مہمان خصوصی شرکت
وزیر صحت سید قاسم علی شاہ نے ای پی آئی کی 50 سالہ تقریب میں بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔انہوں پاکستان پیڈیاٹرک ایسوسی ایشن کے سابقہ ممبر اور بانی ای پی آئی مرحوم پروفیسر اشفاق احمد کی گراں قدر خدمات پر انہیں خراج تحسین بھی پیش کیا۔ وزیر صحت نے ای پی آئی چیمپیئنز میں اعزازی شیلڈز بھی تقسیم کئے۔ اس موقع پر وزیر صحت نے عالمی ہفتہ برائے حفاظتی ٹیکہ جات کا افتتاح بھی کردیا۔ وزیر صحت نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ای پی ائی کو مکمل ڈیجیٹائز کررہے ہیں۔کولڈ چین مینٹین رکھنے کیلئے اقدامات اُٹھارہے ہیں۔ میں دوسروں کیلئے نہیں اپنے لئے ٹارگٹ سیٹ کررہا ہوں۔ جب تک ہیلتھ کو بطور چیلنج نہ لیا جائے کام نہیں ہوسکتا۔جو کوئی کارکرگی دکھائے گا وہ میری ٹیم کا حصہ ہوگا ورنہ مجھے ٹیم میں تبدیلی لانی ہوگی۔میں اپنی ٹیم کے علاوہ کچھ بھی نہیں، آئیے مل کر کام کریں۔ محکمے میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں ہے بس ان کو ٹریک پر لانا ہے۔انہوں نے کمٹمنٹ کی بات کرتے ہوئے کہا کہ کینسر ہسپتال حکومت نہ بناسکی لیکن عمران خان نے بناکر دکھایا۔ یہ وژن اور مسمم ارادہ ہے جو ایک شخص نے بہت کچھ کردکھایا۔ میں ہفتہ اتوار کو دیگر صوبوں کے سسٹم کو مانیٹر کرنے جاتا ہوں۔صحت کارڈ کے تحت مفت علاج کی بات کرتے ہوئے وزیر صحت نے بتایا کہ دنیا میں کوئی ایسا ملک نہیں جو بائی پاس، ڈائیلیسز اور انجیو گرافی جیسی صحت کی مہنگی خدمات مفت میں دیتا ہو۔ عالمی ہفتہ برائے حفاظتی ٹیکہ جات 24 تا 30 اپریل منایا جارہا ہے۔ اس ہفتے کو منانے کیلئے خصوصی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ اس ہفتہ کے دوران بارہ ویکسین پریونٹیبل ڈیزیز کے خلاف ویکسین پلانے کی خصوصی مہم چلائی جارہی ہے۔
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کی زیر صدارت چشمہ رائٹ بینک لفٹ کینال پروجیکٹ کے متعلق اہم اجلاس
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سردار علی امین خان گنڈاپور کی زیر صدارت چشمہ رائٹ بینک لفٹ کینال پراجیکٹ سے متعلق اہم اجلاس جمعرات کے روز پختونخوا ہاؤس اسلام آباد میں منعقد ہوا جس میں متعلقہ صوبائی اور وفاقی محکموں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں رواں سال جولائی تک منصوبے کا ٹینڈر جاری کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور متعلقہ حکام کو منصوبے کی ٹینڈرنگ کےلئے تمام تر لوازمات بروقت مکمل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ اجلاس میں مزید فیصلہ کیا گیا کہ وفاقی اور صوبائی حکومت کے درمیان پہلے سے طے شدہ جزئیات کے مطابق منصوبے پر عملدرآمد کیا جائیگا جس کے مطابق منصوبے کے لئے 65 فیصد فنڈز وفاقی حکومت جبکہ 35 فیصد صوبائی حکومت فراہم کرے گی۔ منصوبے پر عملدرآمد کےلئے اگلے مالی سال کے ترقیاتی پروگرام میں 20 ارب روپے مختص کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔ اس کے علاؤہ سی آر بی سی مین کنال کی ریماڈلنگ کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس موقع پر متعلقہ حکام کی طرف سے اجلاس کو سی آر بی سی لفٹ کینال منصوبے کے مختلف پہلوؤں پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ وفاقی حکومت نے بھی منصوبے کےلئے اگلے مالی سال کی پی ایس ڈی پی میں 10 ارب روپے مختص کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ لفٹ کینال منصوبے سے 2 لاکھ 86 ہزار ایکڑ بنجر اراضی سیراب ہوگی۔ وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور نے سی آر بی سی لفٹ کینال منصوبے کو صوبے کی فوڈ سکیورٹی کےلئے ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ منصوبہ نہ صرف خیبر پختونخوا بلکہ پورے ملک کے لئے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ اس منصوبے پر عملدرآمد سے خیبر پختونخوا اپنے پانی کا شیئر بھی پوری طرح استعمال کرنے کے قابل ہوجائےگا۔وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ اس منصوبے پر عملدرآمد میں پہلے سے بہت تاخیر ہوچکی ہے مزید تاخیر نہیں ہونی چاہیے۔ وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت آمدن کا ذریعہ بننے والے منصوبوں کے لئے ترجیحی بنیادوں پر فنڈز فراہم کرے گی۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو سی آر بی سی مین کینال کو واپڈا سے صوبائی حکومت کو منتقل کرنے کے لئے معاملہ واپڈا کے ساتھ اٹھانے کی بھی ہدایت کی ہے۔ اجلاس میں جنوبی اضلاع میں مزید 90 ہزار ایکڑ زمین کو سیراب کرنے کےلئے ایک اور منصوبہ بھی شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔وزیر اعلیٰ نے متعلقہ حکام کومجوزہ منصوبے پر بلاتاخیر ورکنگ شروع کرنے کی ہدایت کی ہے۔
خیبرپختونخوا کابینہ کا اجلاس: توانائی، تعلیم، فوڈ سیکیورٹی، اور روزمرہ امور کے حوالے سے متعدد فیصلے
خیبرپختونخوا کابینہ کا اجلاس وزیر اعلیٰ سردار علی امین گنڈا پور کی زیر صدارت پشاور میں منعقد ہوا جس میں توانائی کی پیداوار، تعلیم، فوڈ سیکیورٹی، گندم کی خریداری اور پائیدار ترقی کے علاوہ صوبے میں روزمرہ امور کے حوالے سے متعدد فیصلے کیے گئے۔کابینہ نے کوہستان لوئر میں 17 میگاواٹ کے رانولیا ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کی بحالی کی منظوری دی۔ پراونشل ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی نے پہلے ہی 8.1 بلین روپے کی لاگت سے اس منصوبے کی منظوری اس شرط کے ساتھ دی تھی کہ اسے صوبائی کابینہ کی منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔ کابینہ نے اسے نان اے ڈی پی اسکیم کے طور پر شامل کرنے اور ایشیائی ترقیاتی بینک سے اس کی مالی امداد کی منظوری دی۔کابینہ نے ضلع سوات میں ورلڈ بنک کی مالی معاونت سے 88 میگاواٹ کے گبرال کالام ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کے لیے 327 کنال اراضی کے حصول کی بھی منظوری دی۔ یہ فیصلہ پراجیکٹ کے پی سی ون کے مطابق کیا گیا ہے۔ اس منصوبے کے شروع ہونے پر صوبے کے لیے سالانہ 7.4 بلین روپے سے زیادہ کی آمدن متوقع ہے۔صوبائی کابینہ نے دریائے کنہار مانسہرہ پر 300 میگاواٹ کے بالاکوٹ ہائیڈرو پاور پراجیکٹ پر عمل درآمد کے لیے ویلیوایشن اسٹڈی کی بنیاد پر اراضی اور تعمیر شدہ جائیداد کے حوالے سے اضافی معاوضے کی منظوری بھی دی۔ اس معاوضے میں اضافہ (286.362 ملین روپے) کنسلٹنٹ کی سفارشات، علاقے کے لوگوں کی فلاح و بہبود اور پروجیکٹ سائٹ پر انجینئرز اور ورکرز کے لیے بہتر ماحول کو یقینی بنانے کے لیے ہے۔ یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ شروع ہونے کے بعد یہ رقم اس پروجیکٹ سے حاصل ہونے والی آمدنی سے چار دنوں کے اندر وصول کر لی جائے گی۔کابینہ نے گاڑیوں کی مینوئل رجسٹریشن بکس کو خودکار موٹر وہیکل رجسٹریشن سمارٹ کارڈز میں منتقل کرنے کی منظوری دی۔ محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن نے 2022 میں رجسٹریشن سرٹیفکیٹس کی فراہمی اور سمارٹ کارڈز کی فراہمی کے لیے وفاقی حکومت کی نیشنل سیکیورٹی پرنٹنگ کمپنی کے ساتھ پہلے ہی مفاہمت پر دستخط کیے تھے۔ واضح رہے کہ اسلام آباد کے مقابلے خیبرپختونخوا میں سمارٹ کارڈ رجسٹریشن کے ریٹ 574 روپے ہوں گے۔ یہ رجسٹریشن فیس اسلام آباد میں 1475، پنجاب میں 530 اور صوبہ سندھ میں 1600 روپے ہے۔ کابینہ نے ضم شدہ اضلاع میں اے آئی پی کے تحت سابقہ فاٹا ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے فنڈز کے استعمال کی بھی منظوری دی۔ یہ فنڈ 500 ملین پرنسپل اماونٹ اور 43 ملین جمع شدہ مارک اپ پر مشتمل ہے۔ فنڈ کے زریعے ضم اضلاع میں چھوٹے کاروباروں کو مائیکرو فنانس (اخوت اسلامی مائیکرو فنانس) کیا جائے گا۔کابینہ نے پناہ کوٹ اپر دیر میں جوڈیشل کمپلیکس کی تعمیر کے لیے 34 کنال سے زائد اراضی کے حصول کی بھی منظوری دی۔کابینہ نے خیبرپختونخوا گوڈاؤن رجسٹریشن ایکٹ 2021 کے مطابق خیبر پختونخوا رجسٹریشن رولز 2022 کے نفاذ کی منظوری دی۔ اس ایکٹ کے ذریعے گوداموں کو رجسٹرڈ اور ریگولیٹ کیا جاتا ہے تاکہ صوبے میں سامان کی مستحکم فراہمی اور دستیابی کو یقینی بنانے کے لیے جامع نظام کو یقینی بنایا جا سکے۔کابینہ نے صوبے کے سرکاری سکولوں کے ہونہار طلباء کو صوبے کے معیاری تعلیمی اداروں میں ساتویں سے بارہویں جماعت تک مفت اور معیاری تعلیم کی فراہمی کی منظوری دی۔ وزیر اعلیٰ کی تجویز پر کابینہ نے ماہانہ وظیفہ کی رقم اور طلباء کی تعداد کو اگلے تعلیمی سال سے دوگنا کرنے کا فیصلہ کیا۔ کابینہ نے یہ بھی ہدایت کی کہ نصابی کتب اور متعلقہ سہولیات کی عدم دستیابی کی وجہ سے کوئی بھی طالب علم تعلیم سے محروم نہ رہے۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے سیاحت کی فروغ کیلئے جدید اقدامات کا فیصلہ
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سردار علی امین خان گنڈاپور نے سیاحت کے شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور سیاحت کو بطور صنعت فروغ دینے کیلئے محکمہ سیاحت کے حکام سے تفصیلی پلان طلب کر لیا ہے وزیراعلیٰ نے سیاحت کے شعبے میں ملکی اورغیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کیلئے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے اور کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں سیاحت کی خاطر خواہ استعداد موجود ہے اسے زیادہ سے زیادہ استعمال میں لانے کی ضرورت ہے تاکہ لوگوں کو روزگار کی فراہمی کے ساتھ ساتھ صوبے کیلئے آمدن بھی حاصل کی جاسکے ۔وہ گذشتہ روز محکمہ سیاحت کے پہلے اجلاس کی صدارت کر رہے تھے ۔ وزیراعلیٰ کے مشیر برائے سیاحت زاہد چن زیب کے علاوہ وزیراعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری امجد علی خان اور محکمہ سیاحت کے دیگر اعلیٰ حکام نے بھی اجلاس میں شرکت کی ۔ اجلاس کو محکمہ سیاحت کے انتظامی اُمور ، محکمہ کے زیر انتظام نیم سرکاری اداروں ، ترقیاتی منصوبوں اور آئندہ کے لائحہ عمل کے علاوہ ملاکنڈ اور ہزارہ ڈویژنز میں قائم کئے جانے والے انٹگریٹیڈ ٹوارزم زونز پر بھی بریفنگ دی گئی ۔وزیراعلیٰ نے محکمہ سیاحت کے حکام کوایکو ٹوارزم کے فروغ کیلئے جامع پلان ترتیب دینے کی ہدایت کی ہے اور کہا ہے کہ خیبرپختونخوا کی قدرتی خوبصورتی کو محفوظ بنانے اور ماحول دوست سیاحت کو پروان چڑھانے کیلئے معمول سے ہٹ کر اقدامات کی ضرورت ہے ۔ اُنہوںنے گنجان آباد سیاحتی مقامات پر متبادل بازار قائم کرنے جبکہ نئے قائم کئے جانے والے سیاحتی مقامات کی پلاننگ میں کار پارکنگ ایریا کو بطور لازمی جز شامل کرنے کی ہدایت کی ہے ۔ علی امین گنڈا پور نے سیاحتی مقامات پر سیاحو ں کو تفریحی سہولیات فراہم کرنے کیلئے اقدامات اُٹھانے کے ساتھ ساتھ ان مقامات پر پینے کے صاف پانی اور پائیدار سیوریج سسٹم بنا نے کی بھی ہدایت کی ہے ۔ اُنہوںنے سیاحتی مقامات تک جانے والی سڑکوں پر مخصوص فاصلے پر ریسٹ ایریا ز اور مساجد تعمیر کرنے کی بھی ہدایت کی ہے ۔ وزیراعلیٰ نے محکمہ سیاحت کی ملکیتی جائیدادوں کے مو¿ثر اور دانشمندانہ استعمال کیلئے پلان ترتیب دینے کی ہدایت کی ہے اور کہا ہے کہ یہ جائیدادیں سیاحوں کی سہولت کے ساتھ ساتھ صوبے کیلئے آمدن کا بھی ذریعہ بنیں گی ۔اُنہوںنے کہاکہ سرکاری سیاحتی مقامات کی لیز پالیسی کی درجہ بندی کی جائے تاکہ چھوٹے اور بڑے دونوں سرمایہ کاروں کو موقع مل سکے ۔ سیاحتی مقامات پر سرمایہ کاری میں لوگوں کو پہلی ترجیح دی جائے اور] سیاحت پر منحصرروزگاروالے علاقوں کو خصوصی توجہ دی جائے ۔وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ شعبہ سیاحت حکومت کی ترجیحی فہرست میں شامل ہے اس کے فروغ کیلئے غیر روایتی طریقے سے کام کرنا ہو گا کیونکہ اس شعبے کو ترقی دے کر ہی لوگوں کیلئے روزگار کے مواقع پیدا کئے جا سکتے ہیں۔ اُنہوںنے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ ایبٹ آباد ، مانسہرہ، سوات اور چترال میں انٹگریٹیڈ ٹوارزم زونز کے قیام پر کام تیز کیا جائے اور ان زونز میں غیر ملکی سرمایہ کاری کیلئے اقدامات کئے جائیں ۔ علی امین خان گنڈا پور نے سیاحتی مقامات پر لوگوں کی سہولت کیلئے بین الاقوامی معیار کے مزید کیمپنگ پاڈز نصب کرنے کی بھی ہدایت کی ہے ۔ اجلاس میں وزیراعلیٰ نے محکمہ سیاحت کے زیر انتظام نیم سرکاری اداروں کے بورڈ ز میں پیشہ ور افراد کو شامل کرنے کی ہدایت کی ہے اور کہا ہے کہ بورڈز میں پرائیویٹ اراکین کی تعداد بڑھائی جائے جبکہ اس مقصد کیلئے متعلقہ قوانین میں ترامیم تجویز کی جائیں ۔
وزیر صحت خیبرپختونخوا سید قاسم علی شاہ کا ایل آر ایچ دورہ، آپریشن تھیٹرز کمپلیکس کا افتتا
ہسپتال ایکٹنگ ترجمان ناہید جہانگیر کے مطابق وزیر صحت سید قاسم علی شاہ نے ایل آر ایچ کا دورہ کیا۔ اس موقع پر بورڈ آف گورنرز چیئرمین پروفیسر محمد زبیر خان،ممبر بی او جی اسد اللہ چمکنی،ہسپتال ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد ابرار خان خٹک، ایسوسی ایٹ ڈائریکٹر طارق برکی،میڈیکل ڈائریکٹر حامد شہزاد،نرسنگ ڈائریکٹر سمیت ہسپتال اعلیٰ حکام موجود تھے جن کی جانب سے مہمان وزیر صحت کو خوش آمدید کہا گیا۔ وزیر صحت سید قاسم علی شاہ نے ایل آر ایچ دورے کے موقع پر میڈ سرج میں جدید آپریشن تھیٹرز کمپلیکس کا افتتاح کیا۔ترجمان کے مطابق ہسپتال ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد ابرار خان نے سید قاسم علی شاہ وزیر صحت کو ہسپتال کارکردگی کے حوالے سے بریفنگ دی۔اس موقع پر ہسپتال ڈائریکٹر نے ہسپتال بجٹ،صحت سہولت کارڈ، ماس ایمرجنسی سمیت مالی بحران کے حوالے سے مکمل تفصیل بیان کی۔ چئیرمین بورڈ آف گورنرز پروفیسر محمد زبیر خان نے وزیر صحت قاسم علی شاہ کو ایل آر ایچ میں نرسنگ کالج اور میڈیکل کالج کے قیام کے حوالے سے بتایا جس کے بجٹ کی فراہمی کے لیے وزیر صحت نے یقین دہانی کرائی۔اس دورے کے دوران وزیر صحت کی جانب سے ایل آر ایچ آئی سی یو بیڈز کو 100 تک بڑھانے کی بھی یقین دھانی کرائی گئی۔اختتام پر وزیر صحت قاسم علی شاہ نے میڈ سرج کے سامنے پودا لگایا جبکہ ہسپتال انتظامیہ کی جانب سے مہمان کو شیلڈ پیش کی گئی۔
وزیر برائے اعلیٰ تعلیم کا اظہار: چینی یونیورسٹیوں کی طلباء و طالبات کے لئے سکالرشپس کا اجراء مستحسن ہے۔
خیبر پختونخوا کے وزیر برائے اعلیٰ تعلیم مینا خان آفریدی نے کہا ہے کہ چینی یونیورسٹیوں کی جانب سے پاکستان باالخصوص خیبر پختونخوا کے طلباء و طالبات کے لئے سکالرشپس کا اجراء لائق ستائش ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ تعلیم کے میدان میں چینی حکومت کے ساتھ مل کر کام کریں تاکہ ہمارے طلباء اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے ملک و قوم کی خدمت کریں ان خیالات کا اظہار انہوں نے پشاور میں قائم چینی ثقافتی مرکز چائنہ ونڈو کے دورے کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا اپنے دورے کے موقع پر صوبائی وزیر نے چائنہ ونڈو کی مختلف گیلریاں دیکھیں، فرینڈ شپ وال پر دست خط اور مہمانوں کی کتاب میں اپنے تاثرات درج کئے میڈیا سے بات چیت میں صوبائی وزیر برائے اعلیٰ تعلیم مینا خان آفریدی کا کہنا تھا کہ پاک چین دوستی مثالی ہے اور اسے مزید مستحکم کرنے کے لئے ہمیں ٹیکنالوجی کی ٹرانسفارمیشن کی جانب بڑھنا ہو گااور انہیں یقین ہے کہ سی پیک منصوبہ جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی کے حوالے سے بھی ایک اہم منصوبہ شمار کیا جائے گا۔ انہوں نے پشاور میں قائم چینی ثقافتی مرکز کو پاک چین دوستی کا شاندار مرکز قرار دیتے ہوئے یقین ظاہر کیا کہ پشاور سے اہل چین کو دوستی کا پیغام بھیجنا لائق ستائش جبکہ چائنہ ونڈو میں چینی زبان سکھانے کا پروگرام بھی لائق تحسین ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومت کی جانب سے یقین دلایا کہ پاک چین تعلقات خاص طور پر عوامی سطح پر رابطوں کے لئے بھرپور تعاون فراہم کیا جائے گا۔مینا خان آفریدی نے مزید کہا کہ ان کی حکومت صوبے میں قائم یونیورسٹیوں کی مالی حالت بہتر بنانے کے لئے مختلف اقدمات لینے کا ارادہ رکھتی ہے اور اس سلسلہ میں چینی ماڈل کو بھی پیش نظر رکھا جائے گا۔ قبل ازیں صوبائی وزیر کو چائنہ ونڈو کے بارے میں بریفنگ دی گئی اور بتایا گیا کہ چینی ادارے صوبائی حکومت کے ساتھ مل کر تعلیم کے فروغ میں تعمیری کردار ادا کرنے لئے پرجوش ہیں۔
صوبائی وزیر تعلیم فیصل خان ترکئی کی زیر صدارت ایبٹ اباد پبلک سکول کے بورڈ آف گورنرز کا اجلاس
صوبائی وزیر تعلیم فیصل خان ترکئی نے کہا ہے کہ ہمارے سینٹر آف ایکسیلنس پبلک سکولز معیاری تعلیم کی فراہمی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں اور یہاں سے فارغ التحصیل طلبہ و طالبات اعلیٰ پوزیشنز پر تعینات ہو کر ملک کو قوم کی بہتر خدمت کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ ایلیمنٹری و سیکنڈری ایجوکیشن کے زیر انتظام ان پبلک سکول کو ہم مزید بہتر کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہے ہیں اور ان کے جملہ مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ میرٹ بیسڈ ٹیسٹس کے ذریعے صوبہ بھر کے تمام قابل اور ذہین طلباء و طالبات کو ان سکولوں میں داخلے کے یکساں مواقع فراہم کیے جاتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایبٹ آباد پبلک سکول کے بورڈ آف گورنرز اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا اجلاس میں سپیشل سیکرٹری ایجوکیشن ثمرگل، ایڈیشنل سیکرٹری جنرل عبدالاکرم ایبٹ آباد پبلک سکول کے پرنسپل خالد بشیر اور بورڈ اف گورنرز کے دیگر اراکین نے شرکت کی۔ اس موقع پر سابقہ اجلاس میں کئے گئے فیصلوں اور میٹنگ منٹس بشمول بجٹ کی بھی منظوری دی گئی۔ اجلاس میں ملازمین کی پینشن میں اضافے اور فیس سٹرکچر میں اضافے کو زیر غور لایا گیا اسی طرح سیلف فائنانس سکیم کے تحت 20 فیصد داخلہ سکیم پر بھی تفصیلی بحث ہوئی جس کے متعلق فیصلہ ہوا کہ کمیٹی کے سفارشات کے مطابق اگلے اجلاس میں فیصلہ کیا جائے گا۔ اجلاس میں کالج کے اکاؤنٹس آڈٹ کمیٹی کی منظوری بھی دی گئی۔ رضاکارانہ پنشن سکیم کے متعلق فیصلہ ہوا کہ تمام سفارشات اگلے اجلاس میں پیش کی جائیں۔ اجلاس میں کالج کے لیے ایگزیکٹو کمیٹی قائم کرنے کے سفارشات کی بھی منظوری دی گئی۔ کالج پرنسپل نے فورم کو آگاہ کیا کہ سابقہ تین سالوں سے صرف کنٹریکٹ پر اساتذہ اور دیگر عملہ کی تعیناتی عمل میں لائی جا رہی ہے۔ تاکہ ادارے پر پینشن کا مزید بوجھ نہ پڑ سکے اسی طرح مختلف نصابی اور ہم نے نصابی سرگرمیوں میں کالج کی کارکردگی بھی قابل تعریف رہی ہے۔ صوبائی وزیر تعلیم فیصل خان ترکئی نے پبلک سکولز کے حوالے سے مزید کہا کہ ہمارے یہ ادارے بورڈز امتحانات میں اچھے نتائج دے رہے ہیں۔ میرٹ پر بچوں کو داخلہ ملتا ہے اور ان کو بہترین تربیت فراہم کی جاتی ہے انہوں نے مزید کہا کہ ایٹا سکالرشپس کے تحت منتخب طلبہ و طالبات کو انہی بہترین اداروں میں مفت تعلیم دی جاتی ہے جس کے تمام احراجات حکومت برداشت کرتی ہے جبکہ یہاں سے فارغ التحصیل طلباء و طالبات کسی بھی مقابلے کے امتحانات میں دیگر اداروں کے ساتھ مقابلہ کرتے ہیں جو کہ ہمارے لیے اعزاز ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب کے بعد ان اداروں کے بورڈز اجلاس جلد بلائے جائیں گے تاکہ بروقت فیصلے کئے جائے۔ انہوں نے کہا کہ وہ عنقریب ان اداروں کا دورہ بھی کریں گے اور وہاں موجود سہولیات اور مسائل کا جائزہ لے کر عملی اقدامات کریں گے۔
مشیر کھیل سے صوبے میں پختونخوا کرکٹ لیگ کے انعقاد کے حوالے سے تبادلہ خیال۔
وزیر اعلی خیبر پختونخوا کے مشیر برائے کھیل اور امور نوجوانان سید فخر جہان سے منگل کے روز پشاور میں 1992 کے کرکٹ ورلڈ میں پاکستانی سکواڈ کے ممبر اور عالمی شہرت یافتہ کھلاڑی راشد لطیف اور سابقہ عالمی کھلاڑی وجاہت اللہ واسطی نے ملاقات کی اور انکے ساتھ صوبے میں کرکٹ کے فروغ کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا۔ملاقات کے دوران ممبر صوبائی اسمبلی عبدالمنعم خان کے علاؤہ ڈائریکٹر جنرل سپورٹس عبدالناصراور محکمہ کے دیگر افسران بھی موجود تھے۔اس موقع پر مشیر کھیل اور عالمی کھلاڑیوں کے مابین صوبے میں کھیلوں کی ترقی اور خصوصی طور پر یہاں پر انٹرنیشل کرکٹ کے ایونٹس کے انعقاد کے حوالے سے مختلف تجاویز پر تبادلہ خیال ہوا۔ملاقات کے دوران مشیر کھیل کو دونوں کھلاڑیوں نے صوبے میں پختونخوا کرکٹ لیگ کے نام سے ایک کرکٹ ایونٹ منعقد کرانے کی تجویز پیش کی جس میں قومی اور بین الاقوامی کھلاڑی حصہ لیں گے۔اس سلسلے میں عالمی کھلاڑیوں سے مشیر کھیل کا کہنا تھا کہ مذکورہ ایونٹ کےانعقاد کے حوالے سے ایک معقول پروپوزل انھیں پیش کی جائے جس کا ہر پہلو سےتفصیلی جائزہ لیکر اس حوالے سےحتمی فیصلہ لیا جائے گا۔انھوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ صوبے میں کرکٹ کے فروغ کیلئے لیگز بھی کھیلے جائیں گے اور ہماری یہ کوشش ہے کہ صوبے میں انٹرنیشنل کرکٹ بھی جلد از جلد کھیلیں۔انھوں نے کہا کہ صوبے میں عالمی کرکٹ کیلئے تمام ترانتظامات مکمل کرنے کیلئے چارج سنبھالنے کے ساتھ ہی یہ ہدایات دی ہیں کہ ارباب نیاز سٹیڈیم کو عالمی معیارات کے مطابق بنانے کیلئے اس کا تعمیراتی کام جلد از جلد مکمل کیا جائے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم پوری دنیا کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ خیبر پختونخوا کے عوام پرامن،مہمان نواز اور معاشرے میں مثبت سرگرمیوں کے عکاس ہیں اور ان صحت مندانہ سرگرمیوں کے ذریعے ہم باہر دنیا کو صوبے کے بارے میں ایک مثبت تصویر پیش کرنا چاہتے ہیں۔سید فخر جہان نے مزید کہا کہ خیبر پختونخوا میں کھیلوں کے انفراسٹرکچر اور کھلاڑیوں کو بہتر ماحول کی فراہمی اولین ترجیح ہے اور ہم یہاں پر نوجوان نسل کو مثبت سرگرمیوں کے فروغ کی خاطر یہاں پر کھیلوں کے فروغ کیلئے نتیجہ خیز کوششیں کرنے میں مصروف عمل ہیں۔
