Home Blog Page 263

وزیر اعلیٰ کے معاون خصوصی: فنی تعلیمی اداروں کو مالی استحکام کے لئے ہنر سکھانے کی تربیت گاہوں بنایا جائے۔

وزیر اعلی خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے فنی تعلیم اور صنعت وحرفت عبدالکریم تورڈھیر نے صوبے میں فنی تعلیم کے شعبے کی پائداری اورمالی خود انحصاری کیلئے فنی تعلیمی اداروں کو ہنر سکھانے کی تربیت گاہوں کے ساتھ ساتھ انھیں ریسورس جنریشن کا ذریعہ بنانے کی ہدایت کی ہے۔انھوں نے کہا ہے کہ ٹیوٹا کے ورکشاپس اور لیبز کو طلبہ کی پریکٹیکل ٹریننگ کیساتھ ساتھ ادارے کی مالی استحکام کیلئے ایک ذریعہ آمدن بنانے کیلئے نتیجہ خیز اقدامات اٹھائے جائیں تاکہ مستقبل میں یہ ادارہ اپنے مالی ضروریات کیلئے حکومت بر بجھ نہ بنے اور انکے اپنے وسائل بڑھ کر یہ ایک فعال اور کامیاب شعبے کے طور پر سامنے آئے۔انھوں نے اس سلسلے میں آج گورنمنٹ پولی ٹیکنک انسٹی ٹیوٹ فار بوائز سردار گڑھی کا دورہ کیا اور وہاں پر ادارے کے مختلف کلاسز اور تربیتی لیبز اور ورکشاپس کا معائنہ کیا۔منیجنگ ڈائریکٹر ٹیوٹا عامر آفاق ،ڈائریکٹر فنانس ٹیوٹا منیر گل اور انسٹی ٹیوٹ کے پرنسپل انجینئر عارف نعیم بھی اس موقع پر موجود تھے۔ معاون خصوصی نے ادارے میں مختلف کمرشل پروڈکشنز کیلئے امکانی شعبوں اور ذرائع کا جائزہ لیا اور موقع پر کالج انتظامیہ اور ٹیوٹا کے حکام کو ہدایت کی کہ وہ کالج میں قائم ورکشاپس اور لیبز کو طلبہ کی تربیت کیساتھ کمرشل مقاصد کیلئے استعمال میں لانے کیلئے امکانی ماڈلز کے حوالے سے ایک جامع پلان تیار کرے تاکہ ان قومی وسائل اور اثاثوں کو ٹیوٹا کے قومی ادارے کی فلاح و بہبود اور پائداری کیلئے استعمال میں لایا جاسکے۔ انھوں نے کہا کہ پلان میں ان پہلووں کا خیال رکھا جائے کہ فنی ادارے کے تربیتی وسائل کو ہم کسطرح زیادہ مفید انداز میں استعمال میں لا سکتے ہیں اور یہاں کے پروڈکشن کو مارکیٹ کیساتھ لنک کرنے کے ذرایع کو بھی پلان کا حصہ بنایا جائے۔ انھوں نے کہا کہ اس اقدام سے ایک طرف اگر طلبہ کی پریکٹیکل تربیت کی ذمہ داری پوری ہو جائے گی تو دوسری طرف یہاں بنائے جانے والے پیداواری اشیا سے حاصل ہونے والی آمدنی کو ٹیوٹا کی مالی استحکام کیلئے استعمال میں لایا جائے گا۔

وزیر اعلیٰ کی زیر صدارت خیبر پختونخوا ایپکس کمیٹی کا اہم اجلاس، غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام پر زور

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سردار علی امین خان گنڈاپورکی زیر صدارت خیبر پختونخوا انٹیگریٹڈ سکیورٹی آرکیٹیکچر(KPISA) کی ایپکس کمیٹی کا چوتھا اہم اجلاس منگل کے روز سول سیکرٹریٹ پشاور میں منقعد ہوا جس میں صوبے میں غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کےلئے فورم کے گذشتہ اجلاس میں کیے گئے فیصلوں پر عملدرآمد کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور سول اور عسکری حکام کی جانب سے دہشتگردی میں معاون ثابت ہونے والی غیر قانونی سرگرمیوں بشمول بھتہ خوری، حوالہ ہنڈی، غیر قانونی اسلحہ، اسمگلنگ، جعلی دستاویز سازی، منشیات کی اسمگلنگ کے خاتمے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ کور کمانڈر پشاور لیفٹیننٹ جنرل حسن اظہر حیات،صوبائی کابینہ اراکین میاں خلیق الرحمن، بیرسٹر محمد علی سیف، مزمل اسلم ، چیف سیکرٹری ندیم اسلم چوہدری،آئی جی پی خیبر پختونخوا اختر حیات خان گنڈا پور کے علاوہ اعلیٰ سول و عسکری حکام اور متعلقہ وفاقی اداروں کے حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔ اجلاس میں غیر قانونی سرگرمیوں کے خاتمے کےلئے متعلقہ صوبائی و وفاقی اداروں کے درمیان کوآرڈینیشن کو بہتر بنانے کی ضرورت پر زوردیا گیا اور غیر قانونی سرگرمیوں کی مو¿ثر روک تھام کےلئے وفاق سے جڑے مسائل کو حل کرنے کےلئے سنٹرل ایپکس کمیٹی کا اجلاس پشاور میں منعقد کرنے کی سفارش کی گئی۔اجلاس میں این سی پی گاڑیوں کی پرو فائلنگ سے متعلق معاملات کا جائزہ لینے کے علاوہ دہشتگردی میں معاون ثابت ہونے والی غیر قانونی سرگرمیوں کی موثر روک تھام کےلئے سخت اقدامات جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا، ان سرگرمیوں کے مو¿ثر تدارک کےلئے متعلقہ وفاقی و صوبائی محکمے اور انٹیلیجنس ادارے مل کر مربوط کاروائیاں کریں گے۔اجلاس میں بھتہ خوری اور منشیات کوسنگین مسئلہ قراردیا گیا جبکہ بھتہ خوری کے مو¿ثر سدباب کےلئے تمام متعلقہ قانون نافذ کرنے والے اداروں پر مشتمل مشترکہ ٹاسک فورس بھی بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔ بھتہ خوری کے مسئلے سے موثر انداز میں نمٹنے کےلئے سی ٹی ڈی کے اختیارات کو بڑھانے کا فیصلہ کرتے ہوئے اس سلسلے میں ضروری قانون سازی کرنے کا بھی اصولی فیصلہ کیا گیا۔شرکاءنے اسمگلنگ ، بھتہ خوری اور منشیات کے استعمال سمیت دیگر غیر قانونی سر گرمیوں میں ملوث عناصر سے آ ہنی ہاتھوں سے نمٹنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے اسمگلنگ میں معاونت فراہم کرنے والے سرکاری اہلکاروں کے خلاف سخت سے سخت کاروائی کا فیصلہ کیا ہے جبکہ اسمگلنگ کی روک تھام کےلئے جوائنٹ چیک پوسٹوں کو مضبوط بنانے اور انہیں جدید ٹیکنالوجی سے لیس کرنے کا فیصلہ بھی ہواہے۔ تعلیمی اداروں میں منشیات کی سپلائی پر خصوصی نظر رکھنے اور ملوث عناصر کے خلاف بلا امتیاز کارروائیاں جاری رکھنے کا فیصلہ کرتے ہوئے منشیات کے کاروبار میں ملوث عناصر کو سخت سے سخت سزائیں دینے کےلئے قوانین میں ترمیم کرنے جبکہ منشیات کی تیاری اور سپلائی میں ملوث بڑے مگر مچھوں کے خلاف کریک ڈاو¿ن تیز کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔اس کے علاوہ صوبے میں منشیات کے عادی افراد کی بحالی کےلئے اسٹیٹ آف دی آرٹ بحالی مرکز قائم کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔ اجلاس میں غیر قانونی اور ممنوعہ اشیاءکی اسمگلنگ کی روک تھام کےلئے مو¿ثر ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم بنانے ،غیر قانونی سرگرمیوں کے تدارک کےلئے پولیس، ایکسائز، کسٹم، اے این ایف اور دیگر اداروں کو مضبوط بنانے جبکہ ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں کئے گئے فیصلوں پر عملدرآمد کےلئے اضلاع کی سطح پر بنائی گئی کمیٹیوں کو مزید موثر بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور متعلقہ حکام کو اس سلسلے میں مل بیٹھ کر قابل عمل پلان ترتیب دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔اس کے علاوہ صوبے میں چلنے والی این سی پی گاڑیوں سے متعلق کوئی حتمی فیصلے کےلئے وفاق سے معاملہ اٹھانے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔ ایپکس کمیٹی اجلاس میں دھماکہ خیز مواد کے غیر قانونی استعمال کے تدارک سے متعلق امور پر غوروخوض اور اہم فیصلے کئے گئے ۔صوبے میں شادی بیاہ اور دیگر تقاریب میں آتش بازی پر پابندی لگانے جبکہ دھماکہ خیز مواد کے کاروبار کےلئے پہلے سے جاری کردہ اجازت ناموں کے آڈٹ کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔مزید برآں اجلاس میں ڈسٹرکٹ ایکسپلوسیو کمیٹیوں کے مانیٹرنگ سسٹم کو مو¿ثر بنانے کا فیصلہ بھی ہواہے۔

خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ کی عالمی ادارہ صحت کے وفد سے ملاقات، صحتی امور اور تعاون کے بارے میں تبادلہ خیال

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سردار علی امین خان گنڈاپور سے پیر کے روز عالمی ادارہ صحت کے وفد نے کنٹری ہیڈ ڈاکٹر لو دیپنگ کی سربراہی میں وزیراعلیٰ ہاﺅس پشاور میں ملاقات کی جس میں صوبے میں عالمی ادارہ صحت کے اشتراک سے چلنے والے پروگراموں سے متعلق اُمور پر گفتگو کے علاوہ صوبائی حکومت اور عالمی ادارہ صحت کے مابین تعاون اور اشتراک کار کو مزید بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔ صوبائی وزیر صحت سید قاسم علی شاہ کے علاوہ دیگر سرکاری حکام بھی موجود تھے ۔ وزیراعلیٰ نے اپنی گفتگو میں کہا کہ صوبائی حکومت عالمی ادارہ صحت کے اشتراک کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے ، صحت عامہ خصوصاً پولیو وائرس کے خاتمے کیلئے عالمی ادارہ صحت کا کردار قابل ستائش ہے ۔ اُنہوںنے مزید کہاکہ خیبرپختونخوا حکومت انسداد پولیو پروگرام کو کامیاب بنانے کیلئے ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی تاکہ خیبرپختونخوا اور پورے ملک سے اس موذی وائرس کا خاتمہ کیا جا سکے ۔ وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ موجودہ صوبائی حکومت پرائمری ہیلتھ کیئر کے شعبے کو مضبو ط بنانے پر کام کر رہی ہے اس مقصد کیلئے مقامی سطح پر قائم مراکز صحت کو تمام درکار طبی آلات اور عملہ فراہم کرنے کیلئے ٹھوس اقدامات کئے جارہے ہیں جبکہ لوگوں کو مختلف بیماریوں سے بچانے کیلئے وسیع پیمانے پر عوامی آگہی کا پروگرام شروع کیا جارہا ہے۔رواں سیزن میں ڈینگی کے پھیلاﺅ کو روکنے کیلئے پلان مرتب کر لیا گیا ہے ۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ صوبائی حکومت ان شعبوں میں ڈونر اداروں کے اشتراک اور تعاون کا خیر مقدم کرے گی ۔ انہوں نے کہا کہ ضلع چارسدہ میں عالمی ادارہ صحت کا یونیورسل ہیلتھ کوریج پروگرام قابل تحسین ہے اسے دوسرے اضلاع تک توسیع دینے کی بھی ضرورت ہے تاکہ صوبے کے زیادہ سے زیادہ لوگ اس پروگرام سے مستفید ہوں۔ عالمی ادارہ صحت کے کنٹری ہیڈ ڈاکٹر لو دیپنگ نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ عالمی ادارہ صحت صوبائی حکومت کے اشتراک سے خیبرپختونخوا میں صحت عامہ کے مختلف شعبوں میں کام کر رہا ہے ، صوبائی حکومت کا صحت عامہ کے پروگراموں پر عمل درآمد کے سلسلے میں کردار قابل ستائش ہے ۔ ڈبلیو ایچ او انسداد پولیو پوگرام کے حوالے سے صوبائی حکومت خصوصاً وزیراعلیٰ کے قائدانہ کردار کا معترف ہے ۔ ڈبلیو ایچ او صحت کے شعبے میں صوبائی حکومت کے وژن کو عملی جامہ پہنانے کیلئے ہر ممکن تعاون فراہم کرے گا۔

خیبر پختونخوا کے وزیر اعلی کا بجلی چوری کے الفاظ کی مذمت،سیاستی نشستوں کے بارے میں پریس کانفرنس

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سردار علی امین خان گنڈاپور نے کہا ہے کہ وہ کسی کے منہ سے صوبے کے عوام کے لئے بجلی چور کا لفظ برداشت نہیں کریں گے، صوبے کے عوام چور نہیں بلکہ واپڈا اور واپڈا والے چور ہیں جو لوگوں کو بجلی چوری کرنے پر مجبور کرتے ہیں، وفاقی حکومت ایک طرف صوبے میں بجلی چوری روکنے کےلئے خط لکھ رہی ہے تو دوسری طرف واپڈا کی طرف سے صوبے کے لوگوں پر ایف آئی آرز درج کی جارہی ہیں۔ اگر وفاقی حکومت صوبے میں بجلی کے معاملات درست کرنے میں سنجیدہ ہے تو ہم بیٹھ کر بات کرنے کو تیار ہیں لیکن یہ کسی صورت قبول نہیں ، ہمارے لوگوں کو بے جا تنگ کیا جائے۔ صوبے میں بجلی کا جو بھی خسارہ ہوگا میں اس کی ذمہ داری لینے کےلئے تیار ہوں ، وفاق کے ذمے بجلی کی مد میں ہمارے 1510 ارب روپے بقایا جات ہیں، وفاق ان بقایاجات کی بات کبھی نہیں کرتا اور صرف ہمارے صوبے کے لوگوں کو چور چور کہنے پر لگا ہے جو کسی صورت قبول نہیں۔ وفاقی حکومت کو بجلی کے بقایاجات کی ادائیگی کے معاملے پر بات چیت کرنے کی کئی بار پیش کش کی ہے ، یہ بقایاجات ہمارے صوبے کے عوام کا حق ہے اور یہ حق ہم ہر صورت لے کر رہیں گے ، اگر میں صوبے کا حق نہیں لے سکا تو مجھے اس کرسی پر بیٹھنے کا کوئی شوق نہیں ۔ میں نے وفاق کو صوبے میں بجلی کے لاسز کے لئے ان بقایاجات سے کٹوتی کرنے کی بھی آفر کی ہے۔بجلی کے حوالے سے صوبے میں اگر کوئی غیر قانونی کام ہورہا ہے تو ہم اس کو روکنے کے لئے تیار ہیں لیکن ہمارے لوگوں کو چور کہنا بند کیا جائے ، صوبے کے عوام نے اس ملک کیلئے بڑی قربانیاں دی ہیں اور دے رہے ہیں یہ ان قربانیوں کی توہین ہے۔ ہم ہر طرح کی بات چیت کےلئے تیار ہیں لیکن اگر کوئی ہمارے ساتھ بدمعاشی کرنا چاہتا ہے تو میں واضح پیغام دیتا ہوں کہ بدمعاشی نہیں چلے گی اور نہ ہم کسی کی بدمعاشی برداشت کریں گے۔
وہ پیر کے روز وزیراعلیٰ ہاوس پشاور میں ایک اہم پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔ ملک میں حالیہ ضمنی انتخابات کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے اس بات پر حیرت کا اظہار کیا کہ پنجاب میں ضمنی انتخابات میں ٹرن آوٹ عام ا نتخابات کی نسبت 50 فیصد سے بھی کم ہوتا ہے ، پنجاب میں حالیہ انتخابات میں 8 فروری کے انتخابات سے بھی زیادہ دھاندلی ہوئی ہے جبکہ خیبرپختونخوا میں ضمنی انتخابات مکمل طور پر صاف وشفاف ہوئے ہیں، صوبائی حکومت نے ان انتخابات میں کسی بھی قسم کی مداخلت نہیں کی اور ان انتخابات میں عوام نے جس کو بھی اپنا نمائندہ منتخب کیا ہے ہم اسے مبارکباد دیتے ہیں اور عوام کی رائے کو کھلے دل سے تسلیم کرتے ہیں اور یہی عمران خان اور پاکستان تحریک انصاف کا وژن ہے۔ سینٹ الیکشن کے حوالے سے وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ سینٹ کا ایوان مکمل نہیں کیونکہ ایک صوبے میں سینٹ کے انتخابات ہی نہیں ہوئے ہیں ۔ مخصوص نشستوں سے متعلق علی امین گنڈا پور کا کہنا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف کی مخصوص نشستوں کو دوسری پارٹیوں میں بانٹنا غیر آئینی اور غیر قانونی کام ہے اور پی ٹی آئی کے حق پر ڈاکہ ہے، ہم اپنا حق واپس لینے کےلئے ہر قانونی، آئینی اور سیاسی راستہ اپنائیں گے اور اپنا حق لے کر رہیں گے۔ چیف الیکشن کمشنر اس سلسلے میں ایکسپوز ہواہے اور مزید ایکسپوز ہو رہا ہے ۔ خیبرپختونخوا اسمبلی میں مخصوص نشستوں پر جو ممبران نوٹیفائی ہوئے ہیں وہ غیر قانونی ہیں۔ ان سے حلف لینے کے معاملے پر ہم نے ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ جانے کا فیصلہ کیا ہے۔

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کی رہنمائی میں ورلڈ فوڈ پروگرام کے وفد کی ملاقات۔

وزیر اعلی خیبر پختونخوا سردار علی امین خان گنڈاپورسے گزشتہ روزورلڈ فوڈ پروگرام کے وفد نے کو کو یوشیاماکی سربراہی میں وزیراعلیٰ ہاوس پشاور میں ملاقات کی جس میں خیبرپختونخوا خصوصاً ضم اضلاع میں ورلڈ فوڈ پروگرام کے تحت چلنے والی سرگرمیوں اور مختلف شعبوں میں صوبائی حکومت اور ورلڈ فوڈ پروگرام کے باہمی اشتراک کے دائرہ کار کو مزید وسعت دینے پر گفتگو کی گئی ۔ ملاقات میں صوبائی حکومت اور ورلڈ فوڈ پروگرام کے درمیان مختلف شعبوں میں باہمی اشتراک کو مزید بڑھانے پر اتفاق کیا گیا ہے ۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہاکہ صوبائی حکومت ورلڈ فوڈ پروگرام کے تعاون اور اشتراک کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے ، حکومت کو ضم اضلاع کیلئے ورلڈ فوڈ پروگرام سمیت دیگر ڈونر اداروں کا مزید تعاون درکار ہے تاکہ انہیں ترقی دے کر بندوبستی اضلاع کے برابر لایا جا سکے ۔ اُنہوںنے کہاکہ ضم اضلاع میں تعلیم کا فروغ اور لوگوں کو روزگار کی فراہمی صوبائی حکومت کی اہم ترجیحات میں سرفہرست ہیں ، ورلڈ فوڈ پروگرام کی جانب سے ضم اضلاع کی بچیوں کو تعلیمی وظائف کی فراہمی کا پروگرام قابل تحسین ہے ۔ علی امین گنڈ پورا کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت ضم اضلاع کی ترقی پر خصوصی توجہ دے رہی ہے تاہم ضم اضلاع کو قومی دھارے میں لانے کیلئے حکومت اور ڈونر اداروں کی خصوصی توجہ کی ضرورت ہے کیونکہ دہشت گردی کے خلاف آپریشنز کے دوران ان اضلاع میں انفراسٹرکچر بری طرح متاثر ہوا ہے اس کے علاوہ انہی اضلاع میں معاشی سرگرمیوں کو تیز کرنے کیلئے فارم ٹو مارکیٹ روڈز تعمیر کرنے کی ضرورت ہے ۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ فوڈ سکیورٹی کو یقینی بنانے کیلئے صوبائی حکومت چھوٹے ڈیمز بنانے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے جبکہ زراعت کے شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کیلئے ٹنل فارمنگ سمیت دیگر جدید ٹیکنالوجی متعارف کرانے پر غور کر رہی ہے ۔ صوبے کے آبی وسائل کو پن بجلی اور زرعی اجناس میں خود کفالت کیلئے موثر انداز میں استعمال کرنے کی ضرورت ہے ۔ صوبائی حکومت لوگوں کو روزگار دے کر انہیں اپنے پاﺅں پر کھڑا کرنے کیلئے کام کر رہی ہے جبکہ اس مقصد کیلئے بیرونی سرمایہ کاری کی بھی ضرورت ہے ۔ اُنہوںنے کہاکہ صوبائی حکومت سرمایہ کاروں کو درکار تمام سہولیات فراہم کرے گی ۔ اپنی گفتگو میں وزیراعلیٰ نے یہ بھی کہاکہ صوبائی حکومت اشیائے خوردونوش کی کوالٹی کو یقینی بنانے کیلئے فوڈٹیسٹنگ لیبارٹریز قائم کرنا چاہتی ہے اور اس سلسلے میں ڈونر ایجنسیوں کے تعاون کی ضرورت ہے ۔ علی امین نے مزید کہاکہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں لوگوں کو نقصانات سے محفوظ بنانے کیلئے اقدامات کی اشد ضرورت ہے ۔ حکومت تمام شعبوں کو جدید خطوط پراستوار کرکے صوبائی معیشت کو مضبوط بنانے کیلئے پروگرامز بنارہی ہے ، ان پروگراموں پر عمل درآمد کیلئے ڈونر اداروں کا تعاون بھی درکار ہو گا۔ ورلڈ فوڈ پروگرام کی نمائندہ کو کو یوشیامانے اپنی گفتگو میں کہاکہ ورلڈفوڈ پروگرام صوبائی حکومت کے ساتھ مل کر عوامی فلاح کے مختلف منصوبوں پر کام کر رہا ہے جن میں ضم اضلاع کی 30 ہزار بچیوں کو تعلیمی وظائف فراہم کرنا بھی شامل ہے ۔ اُنہوںنے مزید کہاکہ ورلڈ فوڈ پروگرام صوبائی حکومت کے ساتھ اشتراک کار کو مزید وسعت دینے کا بھی خواہش مند ہے ۔

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے فنی تعلیم اور صنعت وحرفت عبدالکریم تورڈھیر کا دورہ گدون صوابی، گورنمنٹ ٹیکنیکل اینڈ ووکیشنل سنٹر کا معائنہ کیا

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے فنی تعلیم اور صنعت وحرفت عبدالکریم تورڈھیرنے صوابی گدون کا دورہ کرکے وہاں پر گورنمنٹ ٹیکنیکل اینڈ ووکیشنل سنٹر کا معائنہ کیا۔معاون خصوصی نے اس موقع پر کالج میں تدریسی سرگرمیوں کا عمومی جائزہ لیا اور مختلف تربیتی ورکشاپس اور پریکٹیکل لیبز بھی گئے۔معاون خصوصی کو اس موقع پر بتایا گیا کہ سنٹر میں مختلف شعبہ جات میں طلبہ کو فنی مہارت کی تربیت مہیا کی جارہی ہے جن میں پلمبنگ، الیکٹریشن، کمپوٹر سوفٹ وئیر، آٹو موبائل و دیگر فنون کے ٹریڈز شامل ہیں۔انھوں نے اس موقع پر ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ طلبہ کی پریکٹیکل ٹریننگ کے ساتھ ساتھ فنی اداروں کی خود انحصاری کیلئے بھی اقدامات اٹھانے کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے تاکہ ان ٹریننگ سینٹر ز کو کمرشل پروڈکشن کے لیے استعمال کیا جا سکے اس سے ادارے self sustainability کے ویژن پر گامزن ہو جائیں گے۔انھوں کالج انتظامیہ کو ایسے آئیڈیاز پر کام کرنے کی ہدایت کی جن سے ادارے کو انکم حاصل ہو اور یہ فعال اور معیاری تربیت گاہ کے طور پر بھی سامنے آئے۔

مشیر‏خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم

موجودہ حکومت کے وزیروں نے پورے ملک کو سیاست کی نظر کر دیا کیونکہ خود دھاندلی کی پیدوار ہیں مزمل اسلم

اویس لغاری وزیر پاور بجلی (فارم 47) نے وزیر اعلیٰ خیبر پختون خواہ سے خط لکھ کر ملاقات کا ٹائم مانگا تاکہ پشاور میں بجلی کی چوری کی روک تھام ہو سکے مشیر خزانہ

حقیقت یہ ہے ان کے افسران اور ان کے زیر اثر ادارہ پیسکو کی چوری ان کی وزارت خود کرارہی ہے۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا

اور دوسری طرف بوسیدہ نظام ترسیلات ہے اوراس کا پس منظر صرف سیاست سے زیادہ کچھ نہیں مزمل اسلم

نیچے دی ہوئ تصویر میں واضح ہے PESCO اور TESCO کی Recovery اور Recovery losses کوئٹہ، سکھر، اور حیدرآباد سے کئ بہتر ہے۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا

پشاور کے T&D نقصان ان کا بوسیدہ اور پرانا نظام اور ان کے محکمے کی کرپشن سمیت غفلت ہے۔

مجال ہے ان جناب نے مراد علی شاہ، بگٹی اور بلاول کو خط لکھ کر ٹائم مانگا ہو۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا

اصل میں وفاق سے خیبرپختونخوا نے پیسے مانگنے اس کا پیٹ میں درد ہو رہا ہے مشیر خزانہ خیبرپختونخوا

صوبائی وزیر خوراک ظاہر شاہ طورو نے رکن صوبائی اسمبلی عبدالسلام آفریدی اور ڈپٹی کمشنر مردان فیاض شیرپاؤ کے ہمراہ سرحدی یتیم خانہ شمسی روڈ مردان کا دورہ کیا۔

صوبائی وزیر خوراک ظاہر شاہ طورو نے رکن صوبائی اسمبلی عبدالسلام آفریدی اور ڈپٹی کمشنر مردان فیاض شیرپاؤ کے ہمراہ سرحدی یتیم خانہ شمسی روڈ مردان کا دورہ کیا۔ انہوں نے سالانہ امتحانات میں نمایاں پوزیشن لے کر کامیاب ہونے والے بچوں میں انعامات اور تحائف تقسیم کئے۔ اس موقع پر صوبائی وزیر خوراک خیبرپختونخوا ظاہر شاہ طورو کو ادارے کے مسائل سے آگاہ کیا گیا۔صوبائی وزیر خوراک نے مسائل کو بروقت حل کرنے کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ یتیم بچوں کی پرورش اور نگہداشت حکومت اور معاشرے کی ذمہ داری ہے اور ہماری حکومت اس حوالے سے اپنی ذمہ داریوں سے بخوبی آگاہ ہے۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیر برائے سیاحت، ثقافت اور آثارقدیمہ زاہد چن زیب نے ٹورازم کی سرگرمیاں اور منصوبے ہنگامی بنیادوں پر پایہ تکمیل تک پہنچانے اور سیاحت کی ترقی کیلئے مقررہ اہداف کے سو فیصد حصول پر زور دیا ہے

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیر برائے سیاحت، ثقافت اور آثارقدیمہ زاہد چن زیب نے ٹورازم کی سرگرمیاں اور منصوبے ہنگامی بنیادوں پر پایہ تکمیل تک پہنچانے اور سیاحت کی ترقی کیلئے مقررہ اہداف کے سو فیصد حصول پر زور دیا ہے نیز حکام پر واضح کیا ہے کہ پی ٹی آئی کی موجودہ عوامی حکومت محکموں کی کارکردگی کا اندازہ اہداف کے حصول کی بنیاد پر کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ جو محکمہ یا ادارہ اہداف میں ناکام رہا اس کے فنڈز اور عملہ محدود کیا جائے گا جبکہ حسن کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے اداروں کی بھرپور حوصلہ افزائی اور فنڈنگ ہوگی۔ اس امر کا اظہار انہوں نے پختونخوا ہاؤس اسلام آباد میں کاغان ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ترقیاتی اجلاس و بریفننگ اور مانسہرہ کے زعماء کے وفود سے ملاقات میں کیا۔ کاغان ترقیاتی ادارہ کے اجلاس میں ڈائریکٹر جنرل محمد شبیر نے مشیر سیاحت کو انکی ہدایات کے تحت مانسہرہ تا جھیل سیف الملوک ہوٹل مینجمنٹ، شاہراہوں پر سیاحوں کیلئے سہولیات اور سیاحت سے متعلق دیگر سکیموں پر پیشرفت اور تفصیلات سے آگاہ کیا نیز انہیں مانسہرہ میں سیاحت کی ترقی کیلئے جاری اور نئی سکیموں پر بریفننگ دی جبکہ مختلف شعبہ جات کے منیجرز نے ادارے کی فعالیت اور علاقے میں سیاحت کے فروغ کیلئے اپنی کارکردگی پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ زاہد چن زیب کو مانسہرہ ناران تا جھلکٹ (ایم این جے) روڈ جلد از جلد کھولنے اور موسمی صورتحال سے نمٹنے کیلئے اقدامات سے بھی آگاہ کیا گیا اور بتایا گیا کہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے زیر انتظام یہ شاہراہِ جو ہر سال ونٹر سیزن میں بالعموم بند کر دی جاتی ہے اسے دوبارہ کھولنے کیلئے اقدامات جاری ہیں جس میں کاغان ترقیاتی ادارہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی کی بھرپور معاونت کر رہا ہے۔ مشیر سیاحت نے اب تک کی پیشرفت پر اظہار اطمینان کیا تاہم کاغان ڈویلپمنٹ اتھارٹی کو واضح ہدایات جاری کیں کہ علاقے میں سیاحت کی ترقی اور سیاحوں کو زیادہ سہولیات کی فراہمی کیلئے ٹھوس اقدامات کرے۔ انہوں نے کہا کہ سیاحتی علاقوں کی ترقیاتی حکمت عملی میں یہ نکتہ لازماً شامل ہونا چاہئے کہ ہوٹلز اور ریستورانوں میں معیاری سروسز یقینی بنانے کے علاوہ شاہراہوں کے اطراف میں مناسب فاصلے پر واش روم اور پینے کے پانی کا خصوصی اہتمام کیا جائے جبکہ انکی دیکھ بھال مقامی ہوٹل مالکان کے حوالے کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ اکثر بیماریوں کی بنیادی وجہ آلودہ پانی ہوتا ہے اسلئے حکام ان باتوں کا بطور خاص دھیان رکھیں کیونکہ ہم نہیں چاہتے کہ سیاح سفر و سیاحت سے واپسی پر کسی بھی قسم کی تکالیف کا شکار ہوں۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت اور محکمہ سیاحت و ثقافت صوبہ بھر میں ٹھوس بنیادوں پر سیاحت کے فروغ اور سیاحوں کے ٹورز کو ہر لحاظ سے یادگار، خوشگوار اور صحت افزاء بنانے کی اپنی بنیادی ذمہ داری ہر قیمت پر پوری کرے گی اور اس مقصد کیلئے اگلے پانچ سالوں کیلئے اہداف پر مبنی واضح لائحہ عمل اپنایا جا رہا ہے۔

خیبر پختونخواکے وزیر مواصلات وتعمیرات شکیل احمد نے کہا ہے کہ محکمہ مواصلات و تعمیرات کے شعبہ سنٹر ڈویلپمنٹ اور منٹینس کی استعدار کار اور پشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافہ کرنے کیلئے

خیبر پختونخواکے وزیر مواصلات وتعمیرات شکیل احمد نے کہا ہے کہ محکمہ مواصلات و تعمیرات کے شعبہ سنٹر ڈویلپمنٹ اور منٹینس کی استعدار کار اور پشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافہ کرنے کیلئے محکمہ کے تما م اضلاع میں موجود لیب ٹیسٹنگ لیبارٹریوں کے ٹیکنیکل سٹاف کو دور حاضرکے تقاضوں سے ہم آہنگ ٹریننگ دی جائے گی اور اسی طرح ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کیلئے سکروٹنی میکنزم کے تحت کوالٹی کنٹرول اور کام کا معیار بہتر بنانے کیلئے انوسٹمنٹ کرنے والے ٹھیکداروں کے انجینئرز،ٹیکینکل سٹاف،مشینری اور دیگر امور کی مانیٹر نگ کی جائے گی ان خیالات کااظہار انہوں نے محکمہ مواصلات و تعمیرات کے شعبہ سنٹر ڈویلپمنٹ سے متعلق منعقد ہ بریفنگ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا اجلاس میں سیکرٹری مواصلات و تعمیرات ادریس مروت،چیف انجینئر سنٹر ڈیویلپمنٹ اوردیگر متعلقہ افسران بھی موجود تھے اس موقع پر چیف انجینئر سنٹر نے شعبے کی صوبے بھر میں ترقیاتی منصوبوں کی بارے میں کارکردگی پر تفصیل سے بریفنگ دی۔اجلاس میں جاری ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل،منٹنس اوران کے اعلیٰ معیاری ڈیزائننگ کا جا ئزہ لیا گیا صوبائی وزیر نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صوبے کے تمام اضلاع میں اعلیٰ معیار کے مطابق لیب ٹیسٹنگ لیبارٹریوں کو قائم کیا جائے گا جن میں مستند لیبارٹری ٹیکنیشن تعینات ہوں گے اور اس میں ڈیوٹی سرانجا م دینے والاعملہ صرف محکمہ کے سیکرٹری کے ماتحت اور جوابدہ ہوگا انہوں نے کہا کہ محکمہ ترقیاتی منصوبوں کی پیمنٹ کو مزید سہل اور شفاف بنانے کیلئے لیب ٹیسٹنگ لیبارٹری کاسرٹیفائیڈ ویر فائی سرٹیفکیٹ لازمی ہوگا اس کے بغیر محکمہ کسی بھی قسم کی ادائیگی نہیں کرے گا انہوں نے متعلقہ حکا م کو ہدایت کی صوبے میں ترقیاتی منصوبوں میں بلڈنگ کی تعمیرات، منٹنس اور ڈیزائنگ پر اربوں روپے کی خطیر رقم خرچ کررہی ہے اس لئے ان کی تکمیل میں تمام دور حاضر کی جدید ضرورتوں سے ہم أہنگ کرنے پر خاص توجہ دی جائے گی انہوں نے سنٹر ڈویلپمنٹ میں سٹاف کی کمی کو پورا کرنے، ان کے سٹرکچر اور ترقیوں کے لئے فوری اقدامات کرنے کی بھی محکمہ کو ہدایت کی