Home Blog Page 264

صوبائی وزیر محنت فضل شکور خان کا حالیہ بارشوں کے نتیجے میں ضلع چارسدہ میں سیلاب سے متاثرہ مختلف گاؤں کا دورہ

محکمہ مال کے افسران کو سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا فوری طور پر سروے مکمل کرنے اور نقصانات کا تخمینہ لگانے کے احکامات جاری
صوبائی وزیر نے حفاظتی پشتوں پر دوبارہ تعمیراتی کام کا جائزہ لیا

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کی خصوصی ہدایات کی روشنی میں صوبائی وزیر برائے محنت فضل شکور خان نے حالیہ بارشوں کے نتیجے میں ضلع چارسدہ میں سیلاب سے متاثرہ مختلف گاؤں کا دورہ کیا اور حفاظتی پشتوں کا معائنہ کیا جبکہ بارش اور سیلاب سے ہونے والے نقصانات کا جائزہ بھی لیاصوبائی وزیر کے ہمراہ ضلعی انتظامیہ کے افسران، ایگزیکٹیو انجینئر محکمہ آبپاشی، ایس ڈی او، سب انجینئر، محکمہ ریونیو کے متعلقہ عملہ اور دیگر متعلقہ محکموں کے افسران بھی موجود تھے صوبائی وزیر نے سیلاب سے متاثرہ گاؤں ضیا ء شہید کلے یو سی آگرہ، یونین کونسل حصارہ یاسین زئی کے مختلف علاقوں خیالی پل،میرہ خیل، ارباب کورونہ، ابابکری، قلفی کورونہ نواں کلے اور الیان کوٹ کا دور کیا صوبائی وزیر نے شاہی کلالی، گاؤں آگرہ،خٹ شولگرہ میرہ خیل اور ارباب کورونہ کے مقام پر سیلاب سے متاثرہ حفاظتی پشتوں کا معائنہ کیاجبکہ آگرہ گاؤں میں حفاظتی پشتوں پر جاری کام کا جائزہ بھی لیا صوبائی وزیر نے موقع پر محکمہ مال کے افسران کو سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا فوری طور پر سروے مکمل کرنے اور نقصانات کا تخمینہ لگانے کے احکامات جاری کئے جبکہ محکمہ آبپاشی کے ایگزیکٹو انجینئر اور دیگر متعلقہ عملے نے موقع پر متاثرہ جگہوں کی پیمائش کرکے پی سی ون بنانے کیلئے ریکارڈ اکٹھا کیا اس موقع پر صوبائی وزیر فضل شکورخان نے کہا کہ بارش سے متاثرہ حفاظتی پشتوں کی دوبارہ تعمیر پر ہنگامی بنیادوں پر کام جاری ہے جبکہ دریائے کابل کے کنارے واقع آگرہ گاؤں میں سیلاب سے پڑنے والے شگاف کو بھرنے کاکام بھی تیزی سے شروع ہے جسے بہت جلد مکمل کیا جائیگا جبکہ ڈاگی مکرم خان کے حفاظتی پشتوں پر بھی کام جلد از جلد شروع کیاجائے گا انہوں نے یقین دلاتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت سیلاب سے بچاؤ کیلئے منصوبہ بندی کررہی ہے انہوں نے کہا کہ فلڈ پروٹیکشن وال میں پڑنے وا لے شگاف کو بہت جلد دوبارہ تعمیر کیا جائیگا جس سے سیلابی نقصان پر قابو پایا جائیگا۔

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے اطلاعات و تعلقات عامہ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے ڈیرہ اسماعیل خان میں کسٹم انٹیلیجنس اہلکاروں پر فائرنگ کی شدید مزمت کی ہے

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے اطلاعات و تعلقات عامہ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے ڈیرہ اسماعیل خان میں کسٹم انٹیلیجنس اہلکاروں پر فائرنگ کی شدید مزمت کی ہے اور شہید اور زخمی ہونیوالے اہلکاروں کے خاندانوں سے دلی تعزیت کی ہے۔بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا ہے کہ حکومت حملے میں شہید ہونے والے اہلکاروں کے لواحقین کے غم میں برابر کی شریک ہے۔مشیر اطلاعات نے شہداء کے درجات کی بلندی اور پسماندگان کیلئے صبر جمیل کے لئے دعا کرتے ہوئے۔ اس واقعہ میں زخمی ہونیوالے اہلکاروں کی جلد صحت یابی کیلئے نیک خواہشات کا اظہار کیا اور متعلقہ حکام کو بہتر علاج معالجے کی ہدیات کی۔ مشیر اطلاعات نے کہا ہے کہ شرپسند عناصر کے اس طرح کی بزدلانہ کاروائی سے عوام اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے حوصلے پست نہیں کر سکتے اور معصوم لوگوں کی جانیں لینا ایک بزدلانہ اور وحشیانہ فعل ہے.

مشیر وزیراعلی مشال اعظم یوسفزئی/ لائسنس بحال

پشاور : چیئرمین خیبرپختونخوا بار کونسل نے مشیر وزیراعلی مشال اعظم یوسفزئی کی لائسنس معطلی کے احکامات معطل کرکے لائسنس بحال کردیا۔ انضباطی کمیٹی کے فیصلے / نوٹیفکیشن کو مشیر وزیراعلی مشال اعظم یوسفزئی نے چیلینج کیا تھا۔ ابتدائی کاروائی میں انضباطی کمیٹی کے احکامات کو معطل کرکے مزید کاروائی کےلئے نوٹسز جاری کردئیے۔

خیبرپختونخوا کے وزیر مال نذیر احمد عباسی سے گورنمنٹ کالج آف ہوم اکنامکس آبیٹ آباد کے لیکچرارز کے وفد نے انکے دفتر سول سیکرٹریٹ میں ملاقات کی۔

خیبرپختونخوا کے وزیر مال نذیر احمد عباسی سے گورنمنٹ کالج آف ہوم اکنامکس آبیٹ آباد کے لیکچرارز کے وفد نے انکے دفتر سول سیکرٹریٹ میں ملاقات کی۔ وفد نے صوبائی وزیر مال کو کالج کو درپیش مسائل و چیلنجز سے تفصیلی طور پر آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ کالج آف ہوم اکنامکس میں دو سو سے زیادہ طالبات زیر تعلیم ہیں۔ کالج میں بی۔ایس ہوم اکنامکس چار سالہ پروگرام بھی جاری ہیں۔ کالج کے اپنے بلڈنگ نہ ہونے سے کرایہ کے بلڈنگ میں تعلیمی سرگرمیاں جاری ہیں۔ صوبائی وزیر مال نذیر احمد عباسی نے کالج کے مسائل کے حل دہانی کرتے ہوئے کہا کہ بچوں و بچیوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنا حکومت کی ترجیحات میں شامل ہیں۔ گورنمنٹ کالج آف ہوم اکنامکس کے ساتھ ہر قسم کی تعاون کریں گے جبکہ کالج کو درپیش مشکلات کو جلد سے جلد ختم کریں گے. اس طرح آبیٹ آباد کے کالجز کے مسائل پر نظر ہیں اور انکو جلد سے جلد حل کرنے کے لیے اقدامات اٹھارہے ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ طلباء و طالبات کالجز میں داخلہ لیں اور فارغ التحصیل ہو کر ملک کی ترقی میں اپنا حصہ ڈالیں۔ علاؤہ ازیں صوبائی وزیر مال نذیر احمد عباسی سے مختلف علاقوں سے آئے ہوئے وفود نے بھی ملاقاتیں کی اور اپنے اپنے علاقوں میں درپیش مسائل سے آگاہ کیا۔

خیبرپختونخوا کے وزیر برائے جنگلات و ماحولیات فضل حکیم خان یوسفزئی نے کہا ہے کہ شہید کی جو موت ہے وہ قوم کی حیات ہے شہداء کے خون کا ہم سب پر قرض ہے

خیبرپختونخوا کے وزیر برائے جنگلات و ماحولیات فضل حکیم خان یوسفزئی نے کہا ہے کہ شہید کی جو موت ہے وہ قوم کی حیات ہے شہداء کے خون کا ہم سب پر قرض ہے کیونکہ شہید پیسکو لائن مینوں نے ملک و قوم کی خدمت کیلئے اپنی جانوں کو قربان کر دیا ہے ہم اپنے شہداء کو نہیں بھولیں گے آئیں آج یوم شہداء لائن مین پیسکو کے موقع پر عہد کریں کہ وطن کے تمام شہدا کی قربانیوں کو نہ صرف یاد رکھا جائے گا بلکہ انکی حرمت پر کبھی آنچ نہیں آنے دینگے ان خیالات کا اظہار فضل حکیم خان یوسفزئی نے ودودیہ ہال سیدو شریف سوات میں یوم شہداء پیسکو لائن مین کے موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا تقریب میں ایم پی اے آختر خان ایڈوکیٹ، سوات کے سیاسی و سماجی شخصیات اور واپڈا کے حکام و اہلکاروں سمیت شہداء کے لواحقین نے بھی شرکت کی تقریب کے مہمان خصوصی صوبائی وزیر فضل حکیم خان یوسفزئی تھے تقریب میں شہداء کی یاد میں ان کے خدمات سے متعلق ڈاکومنٹری ویڈیوز دکھائی گئیں اور ان کے لواحقین کو یادگاری شیلڈ پیش کیں۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فضل حکیم خان یوسفزئی نے کہا کہ آج کے دن کا مقصد واپڈا کے لائن مینوں کی نہ ختم ہونے والی قربانیوں کا دن ہے جن کو ہم عزت اور قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور انہیں خراج تحسین پیش کرتے ہیں کہ وہ کم وسائل پر بھی ہر وقت عوام کی خدمت میں مصروف عمل ہیں لائن مین سے گزارش ہے کہ کام کرتے ہوئے اپنی جان کی حفاظت کریں اور مکمل طور پر حفاظتی تدابیر کا استعمال کریں اور ان کے افسران سے بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ لائن مین سٹاف کو دوران کام بہترین حفاظتی سامان مہیا کیا جائے کہیں بھی مشکلات کا سامنا ہو تو خیبرپختونخوا کی حکومت کے جانب سے وہ ہر قسم تعاؤن کیلئے تیار ہیں ہماری تمام ہمدردیاں آپ کیساتھ ہیں۔پی سی ون تیار کرکے حوالہ کیا جائے اس کے منظوری کیلئے وفاقی اور صوبائی سطح پرہر قسم کی کوشش کریں گے تاکہ واپڈا اہلکاروں کی زندگیاں محفوظ رہ سکیں انہوں نے کہا کہ واپڈا کے لائن مین ہمارے ملک و قوم کاسرمایہ ہیں اور اس پروگرام کے آرگنائزر کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں جنہوں نے شہداء کے خاندانوں کی حوصلہ افزائی کیلئے تقریب کا اہتمام کیا۔ تقریب سے ایم پی اے آختر خان ایڈوکیٹ اور دیگر نے بھی خطاب کیا اور واپڈا کے شہداء کو خراج تحسین پیش کیا۔

وزیر صحت سید قاسم علی شاہ کی چوتھی انٹرنیشنل پبلک ہیلتھ کانفرنس میں بطور مہمان خصوصی شرکت

وزیر صحت سید قاسم علی شاہ نے چوتھی انٹرنیشنل پبلک ہیلتھ کانفرنس میں بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔ چار روزہ انٹرنیشنل کانفرس 16 اپریل سے 19 اپریل تک خیبرمیڈیکل یونیورسٹی میں جاری ہے۔ سابق وفاقی وزیر صحت پروفیسر ڈاکٹر ظفر مرزا کے علاوہ یونیورسٹی آف سنٹرل لینکاشائر، آغا خان یونیورسٹی، قطر یونیورسٹی، ڈاو یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز، بقائی یونیورسٹی، شفا تعمیر ملت یونیورسٹی، ورلڈ بینک، عالمی ادارہ صحت و دیگر متعلقہ اداروں سے آئے ماہرین و سپیکرز نے انفیکشئیس ڈیزیز، غیر متعدی بیماریوں، موسمیاتی تغیر کے تحت صحت کو لاحق خطرات اور صحت کارڈ کے استحکام بارے لیکچرز دئے۔وزیر صحت نے پبلک ہیلتھ کانفرنس سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ معاشرے کے تیس فیصد افراد زیابطیس میں مبتلا ہیں اور اٹھارہ سال کے جوانوں میں بلند فشار خون جیسی علامات موجوہیں۔ ہم نے ہیلتھ میں صرف تقریریں نہیں کرنی کام بھی کرنا ہے۔ اس مد میں ہم Live Well کے نام سے اقدام اُٹھانے جارہے ہیں۔ ہم بیماریوں کے علاج پر اربوں روپے تو لگارہے ہیں لیکن ان بیماریوں کے سدباب پر کوئی توجہ نہیں دی جا رہی۔ Live Well کے تحت تعلیمی اداروں میں طلبا و طالبات کو صحت مند زندگی گُزارنے کی تاکید دینے جارہے ہیں۔ طلبا و طالبات اس اقدام کو عملی جامہ پہنانے میں ہمارا ساتھ دیں۔ وزیر صحت نے کانفرنس کے سپیکرز میں اعزای شیلڈز بھی تقسیم کیں۔ کانفرنس کے سپیکرز نے لیکچرز میں بتایا کہ خیبرپختونخوا میں پچاس فیصد اموات غیر متعدی بیماریوں سے ہوتی ہیں جن کا سدباب بالکل ممکن ہے۔ اگر ان بیماریوں کا بروقت سدباب نہ کیا جائے تو پیچیدگیاں پیدا ہونگی۔ کانفرنس میں بتایا گیا کہ ہمار معاشرے میں اوسط زندگی 67 سال تک محدود ہوکر رہ گئی ہے جو کہ برطانیہ جیسے ترقی یافتہ ممالک میں 87 سال ہے۔ مقررین نے بتایا کہ زندگی کے طور طریقے بدلنے اور صحت افزا عادات اپنانے سے ہماری زندگی بیس سال تک مزید بڑھ سکتی ہے۔ متوازن غزا، ماقول نیند، سٹریس مینجمنٹ دوستانہ ماحول بہترین زندگی کے لئے بنیادی اُصول ہیں۔ اگر طرز زندگی کو بدلا جائے تو 10 میں سے 9 ٹائپ ٹو زیابطیس مریضوں کو مرض میں مبتلا ہونے سے روکا جاسکتا ہے جبکہ 60 فیصد کینسر مرض کا سدباب بھی طرز زندگی بدلنے سے ممکن ہے۔

وزیر صحت سید قاسم علی شاہ کی ہدایت پر سیکرٹری ہیلتھ محمود اسلم وزیر کی جانب سے صحت کارڈ کے تحت علاج مہیا کرنے والے ہسپتالوں کو صحت کارڈ سے متعلق شکایات کیلئے مخصوص ٹال فری نمبر پر مشتمل بینرز نمایاں جگہوں پر آویزاں کرنے کی ہدایات جاری کردی گئی ہیں

وزیر صحت سید قاسم علی شاہ کی ہدایت پر سیکرٹری ہیلتھ محمود اسلم وزیر کی جانب سے صحت کارڈ کے تحت علاج مہیا کرنے والے ہسپتالوں کو صحت کارڈ سے متعلق شکایات کیلئے مخصوص ٹال فری نمبر پر مشتمل بینرز نمایاں جگہوں پر آویزاں کرنے کی ہدایات جاری کردی گئی ہیں۔ سیکرٹری ہیلتھ کی جانب سے جاری ہونے والے مراسلے میں صحت کارڈ کے تحت علاج فراہم کرنے والے تمام متعلقہ ہسپتالوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ صحت کارڈ سے متعلق شکایات کے اندراج کیلئے ہسپتال کی نمایاں جگہوں پر ٹال فری نمبر 080089898 پر مشتمل بینرز کو آویزاں کیا جائے جس پر تمام داخل مریضوں کی اطلاع کیلئے درج ہو کہ ہسپتال میں صحت کارڈ کے تحت داخل مریضوں کو ہسپتال فارمیسی سے مفت ادویات فراہم کی جائیں گی اور داخلہ سے متعلقہ تجویز کردہ ٹیسٹ بھی مفت کئے جائینگے۔ بینر پر یہ بھی لکھا ہو کہ ادوایات کی فراہمی ٹسٹ، ایکسرے وغیرہ میں کسی بھی دشواری سے متعلق شکایات کیلئے صحت کارڈ کاونٹر پر یا دیے گئے ٹال فری نمبر پر شکایت درج کریں۔

خیبر پختونخوا کے وزیر برائے ایکسائز، ٹیکسیشن اور نارکوٹکس کنٹرول میاں خلیق الرحمن نے پشاور کی نجی یونیورسٹی میں منشیات کے خلاف مہم میں بطور مہمان خصوصی شرکت کی اس موقع پہ سیکرٹری ایکسائز فیاض علی شاہ بھی ان کے ہمراہ تھے

خیبر پختونخوا کے وزیر برائے ایکسائز، ٹیکسیشن اور نارکوٹکس کنٹرول میاں خلیق الرحمن نے پشاور کی نجی یونیورسٹی میں منشیات کے خلاف مہم میں بطور مہمان خصوصی شرکت کی اس موقع پہ سیکرٹری ایکسائز فیاض علی شاہ بھی ان کے ہمراہ تھے۔ صوبائی وزیر میاں خلیق الرحمن نے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ معاشرے کو منشیات کی لعنت سے پاک کرنا ہوگا۔ منشیات سے پاک صوبہ ہی تعلیم یافتہ نوجوان پیدا کرسکتا ہے، طلبہ و طلبات کو بھی چاہیے کہ نشے کی روک تھام میں حکومت کی مدد کریں اور خود اس نشے سے دور رہیں اور اپنے ارد گرد لوگوں کو بھی منشیات سے بچنے کی تلقین کریں۔صوبائی وزیرنے کہا کہ ہر شہری کو منشیات کے خاتمے کیلئے اپنے حصہ کا کردار ادا کرنا چاہیے۔ انسداد منشیات کے خلاف جنگ صرف نارکوٹیکس فورس کا کام نہیں بلکہ ملک کے ہر شہری کو منشیات کے خاتمے کیخلاف مہم چلانی ہو گی۔طالبعلموں کو منشیات سے بچانا ہے تاکہ وہ نشہ سے دور رہ کر اپنی تعلیمی سرگرمیوں پر یکسوئی سے توجہ دیں۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ منشیات ایک عالم گیر مسئلہ ہے اور ہمارے معاشرے میں بھی منشیات خصوصی طورپر آئس ناسور کی طرح پھیل رہے ہیں،جن کے خلاف صوبائی حکومت سر گرم ہے۔ محکمہ ایکسائز ہنگامی اور ترجیحی بنادوں پر بھر پور اقدامات اٹھا رہاہے اور منشیات فروشوں، ڈیلروں اور سہولت کاروں کے خلاف روزانہ کی بنیاد پر کاروائیاں جاری ہیں – منشیات کی لعنت کو معاشرے سے ختم کرنے میں عوام کا تعاون ناگزیر ہے، انہوں نے کہا کہ تمام طبقے محکمہ ایکسائز خیبر پختونخوا سے تعاون کریں اور اپنے آس پاس منشیات کی کسی بھی قسم سرگرمی کی اطلاع فوری طور پر محکمہ ایکسائز کو دیں۔سمینار کے اختتام پہ منشیات سے پاک خیبر پختونخوا واک کا احتمام کیا گیا جس میں شرکاء نے ہاتھوں میں بینرز،پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے اور ان پر منشیات کے خلاف جہاد، ہمارا خواب منشیات سے پاک پاکستان، نشہ سے انکار زندگی سے پیار،نشہ کے نقصانات اور دیگرآگہی تحریریں درج تھیں۔

خیبر پختونخوا میں اقوام متحدہ کے ادارے برائے خوراک و زراعت ایف اے او کازرعی شعبے میں تعاون مثالی اور قابل قدر ہے۔ وزیر زراعت خیبر پختونخوا

صوبے میں زراعت کی ترقی کے لیے ایف اے او کے اقدامات کے حوالے سے وزیر زراعت میجر ریٹائرڈ سجاد برکوال کی صدارت میں اعلی سطح اجلاس کا انعقاد

خیبر پختونخوا کے وزیر زراعت میجر ریٹائرڈ سجاد برکوال کی صدارت پشاور میں ایک اعلی سطحی اجلاس منعقد ہواجس میں چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا ندیم اسلم چوہدری، ایڈیشنل چیف سیکرٹری امتیاز حسین شاہ،سیکرٹری زراعت جاوید مروت، اقوام متحدہ کے ادارے ایف اے او کے کنٹری ریپریزنٹیٹو مس فلورنس رولے اور ایف اے او کے صوبائی سربرا ہ فرخ ٹائر وف نے شرکت کی۔ اجلاس میں خیبر پختونخوااور خاص کر ضم اضلا ع میں عالمی ادارہ خوراک کے تحت زمینداروں کی فلاح اور زراعت کی ترقی کے جاری اقدامات کو سراہا گیا۔ صوبائی وزیر نے عالمی ادارے ایف اے او کی زرعی ترقی میں کاوشوں کو مثالی اور قابل قدر قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ یہ باہمی تعاون آئندہ بھی جاری رہے گا
اجلاس میں گومل زام ڈیم کمانڈ ایریا کے منصوبے کی تکمیل میں حائل مسائل کو حل کرنے،صوبے کے اندر موجودہ بارشوں اور سیلابوں کے باعث زمینداروں کے مالی نقصانات،طغیانیوں کے باعث زرعی اراضی کے کٹاؤ کی روک تھام، فصلوں اور سبزیوں کو پہنچنے والے نقصان پر تفصیلی غور وخوص کیا گیا اور اس حوالے سے شرکائے اجلاس کو سیکرٹری زراعت نے تفصیل بریفنگ دی۔

خیبر پختونخوا کے وزیر مواصلات و تعمیرات شکیل احمد نے خیبر پختو خوا ہائی ویز اتھارٹی کے حکام کو ہدایت کی ہے کہ وہ ادارے میں مزید شفافیت لانے کے لیے ای پرو کیورمنٹ،ای بلنگ، ای ورک آرڈراور فائل ٹریکنگ کے نظام کو عملی جامہ پہنانے اورمتعارف کرنے کی خاطر ٹھوس اقدامات اٹھائیں

خیبر پختونخوا کے وزیر مواصلات و تعمیرات شکیل احمد نے خیبر پختو خوا ہائی ویز اتھارٹی کے حکام کو ہدایت کی ہے کہ وہ ادارے میں مزید شفافیت لانے کے لیے ای پرو کیورمنٹ،ای بلنگ، ای ورک آرڈراور فائل ٹریکنگ کے نظام کو عملی جامہ پہنانے اورمتعارف کرنے کی خاطر ٹھوس اقدامات اٹھائیں۔ یہ ہدایات انہوں نے خیبر پختو خوا ہائی ویز اتھارٹی کے جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے دیں اس موقع پر منیجنگ ڈائریکٹر خیبر پختونخواہائی ویزاتھارٹی اسد علی سمیت دیگر افسران بھی موجود تھے۔ اجلاس میں خیبر پختونخواہائی ویز اتھارٹی کی کار کردگی، مختلف منصوبوں اوران پر کام کی رفتار کا جائزہ لیا گیا اورصوبائی وزیر کو ادارے کے اہداف کے حصول کے لیے اٹھائے گئے اقدامات سے آگاہ کیا۔اجلاس میں اتھارٹی کے زیر اہتمام آمد و رفت کے جاری اور نئے عوامی منصوبوں کو جلد از جلد پایا تکمیل تک پہنچانے اور فنڈز کی کمی کو پورا کرنے سمیت دیگر درپیش مسائل کے حل کے لیے فوری لائحہ عمل تیار کرنے پر زور دیا گیا۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ صوبہ بھر میں ٹول پلازوں اور دیگر تمام روڈ ٹیکس کی وصولیوں کو موجودہ وقت کے ٹیکس ریٹ کے مطابق بنانے کے لئے ریٹس کے تعین کی خاطر خیبر پختونخوا ہائی ویز اتھارٹی متعلقہ کونسل رجوع کرے ۔کیونکہ موجودہ ٹیکس ریٹ بہت کم ہے جو کہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ادارہ اپنے وسائل میں خاطر خواہ اضافہ کرنے اور صوبے کی آمدن میں اضافہ کے لیے خصوصی طور پر اقدامات کرے جبکہ خیبر پختو خوا کی شاہراہوں اور سڑکوں پر مقررہ وزن سے زیادہ اوورلوڈ گاڑیوں کی روک تھام کے لئے ضروری حکمت عملی تیار کی جائے کیونکہ ان بھاری گاڑیوں کی آمدو رفت سے سڑکوں کو کافی نقصان پہنچتا ہے جس کا اثر براۂ راست صوبے کی معیشت پر پڑتاہے۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخواہائی ویز اتھارٹی صوبے کا ایک مثالی ادارہ ہے جو کہ نہایت ذمہ داری کے ساتھ اپنی خدمات سرانجام دے رہا ہے۔