Home Blog Page 273

مشیر صحت ڈاکٹر ریاض انور نے خیبرپختونخوا کے معروف ٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ کئیر کی تقریب میں شرکت کی۔

نگران وزیراعلی خیبرپختونخوا کے مشیر برائے محکمہ صحت ڈاکٹر ریاض انور نے خیبرانسٹی ٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ کئیر میں عالمی یوم اطفال کی مناسبت سے منعقدہ تقریب میں بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔ اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسز ڈاکٹر شوکت علی بھی ان کے ہمراہ تھے۔تقریب کے بعد مشیرصحت ڈاکٹر ریاض انور نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صحت کارڈ سے متعلق مالی طور پر مسائل ہیں جو کہ صوبے کے عمومی مالی مسائل سے جُڑے ہیں۔ مرحوم نگران وزیراعلی اعظم خان نے صحت کارڈ پرعلاج کی یقین دہانی کرائی تھی اور نگران حکومت کی بھرپور کوشش ہے کہ 2 سے 3 ہفتوں میں صحت کارڈ کی تمام سہولیات بحال ہو جائیں۔ صوبے کے میڈیکل و ڈینٹل کالجوں میں داخلے کیلئے ہونے والے ٹیسٹ سے متعلق ایک سوال کے جواب میں مشیر صحت نے بتایا کہ صوبے کے سات ڈویژنل اضلاع میں ایم ڈی کیٹ کے انعقاد کیلئے انتظامات کو حتمی شکل دیدی گئی ہے۔ اس دفعہ ہال میں داخلے کیلئے بائیو میٹرک حاضری لازمی قرار دی گئی ہے۔ ٹیسٹ کیلئے سیکیورٹی کے بھرپور انتظامات کئے گئے ہیں۔ میڈیا نمائندوں سے بات چیت کے دوران ان کا کہنا تھا کہ ایک دہائی سے تعطل کے شکار خیبرانسٹیٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ کئیر کورواں سال ماہ دسمبر میں فعال کرنے جارہے ہیں جو کہ خیبرپختونخوا کے عوام کا دیرینہ مطالبہ ہے۔ خیبرانسٹیٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ وفاقی حکومت کا منصوبہ ہے۔ وفاقی حکومت سے فنڈز لینا آسان کام نہیں ہے۔ میری ترجیح نئے کے بجائے جاری منصوبوں پر توجہ دینا ہے۔

محکمہ اطلاعات میں افسران و عملے کی جانب سے رحلت پانے والے سپرنٹینڈنٹ نواب علی کے لیے فاتحہ خوانی کا اہتمام کیا گیا

محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ خیبرپختونخوا کے سینئر ملازم اور سپرنٹنڈنٹ کے عہدے پر فائز نواب علی کی رحلت پر ڈائریکٹوریٹ جنرل کے حکام اور عملہ نے پیر کے روز فاتحہ خوانی کا اہتمام کیا. مرحوم نواب علی کی خدمات کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ڈائریکٹر انفارمیشن لیاقت امین نے ریمارکس دیئے کہ مرحوم نواب علی نے محکمہ اطلاعات میں تقریباً 41 سال خدمات سر انجام دئیے جو اداراتی یاد داشت کا ایک وسیع وسیلہ تھے. انہوں نے انتہائی خوش اخلاقی اور ذمہ داری کے ساتھ محکمہ اطلاعات میں اپنے فرائض سر انجام دئیے. انہوں نے کہا کہ محکمہ اطلاعات مرحوم نواب علی کی خدمات کو عرصہ دراز تک یاد رکھے گی. محکمہ اطلاعات کے ڈائریکٹر سلیم خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ نواب علی کی رحلت پر ان کے خاندان اور اہل خانہ سے دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہیں جبکہ غم کی اس گھڑی میں تمام عملہ ان کے ساتھ ہے۔انفارمیشن ویلفیئر ایسوسی ایشن کے صدر محمد سجاد نے تعزیتی اجلاس سے اپنے خطاب میں کہا کہ مرحوم نواب علی نے محکمہ اطلاعات کو سنہ 1983 میں جوائن کیا تھا جنہوں نے مختلف سیکشنز میں دفتری امور کو بہترین انداز میں سرانجام دیا جو محکمہ اطلاعات کا ایک بہترین اثاثہ تھا، جن کی کمی محسوس کی جائے گی۔

اچھی خوراک، بہترماحول، تعلیم و تربیت اور تحفظ بچوں کے بنیادی حقوق میں شامل ہیں۔نگران صوبائی وزیر

نگران صوبائی وزیر برائے جیل خانہ جات، ریلیف اور سماجی بہبود جسٹس ریٹائرڈ ارشاد قیصر نے پیر کے روزبچوں کے عالمی دن کے حوالے سے پشاور میں منعقدہ تقریب میں بطور مہمان خصوصی شرکت کی, پروگرام کی تھیم ”ہر بچے کے لیے، ہر حق” تھی۔نگران صوبائی وزیر نے اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اچھی خوراک وماحول، تعلیم و تربیت اور تحفظ بچوں کے بنیادی حقوق میں شامل ہیں۔ آئین پاکستان بھی ان کے حقوق کی گارنٹی دیتا ہے اور انہیں مفت اور لازمی تعلیم دینے پر زور دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسی تقاریب منعقد کرنا نہ صرف بچوں کے حقوق پر اقوام متحدہ کے کنونشن  کے اصولوں سے ہماری وابستگی کی علامت ہے بلکہ حکومت پاکستان اور خیبر پختونخواچائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر کمیشن کے حقوق، تحفظ، کے لیے لگن کو بھی اجاگر کرنا ہے جیسا کہ چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر ایکٹ 2010 میں بیان کیا گیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ بچوں کے اس عالمی دن پر غور کریں، تو ہمیں تعاون اور شراکت کی اہمیت کو تسلیم کرنا ہوگا اور مل کر تعاون اور شراکت کے اس سلسلے کو فروغ دینا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہا کہ یہ دن ہمیں یہ یاد دلاتا رہے گا کہ ہم مل کر ایک ایسا معاشرہ تشکیل دے سکتے ہیں جہاں ہر بچے کو ترقی کی منازل طے کرنے، سیکھنے اور اپنی صلاحیتوں کو پورا کرنے کا موقع فراہم کیا جائے تا کہ وہ ترقی کی منازل باآسانی طے کر سکیں نیزہماری اجتماعی ذمہ داری ہے کہ ہم بچوں اور خصوصی بچوں کی فلاح و بہبود، تحفظ اور ترقی میں باہمی تعاون کے ساتھ بھرپور کوشش کریں۔

ورلڈ بینک اور پراونشل ہیلتھ سروسز اکیڈمی کے درمیان طبی عملے کی استعداد کار بڑھانے کے مفاہمتی یادداشت پر دستخط۔

اس موقع پر مشیر صحت ڈاکٹر ریاض انور، سیکرٹری صحت محمود اسلم،ڈی جی ہیلتھ ڈاکٹر شوکت علی بھی موجود تھے، ورلڈ بینک کی جانب سے طبی عملے کی استعداد کار بڑھانے کا اقدام خوش آئند قرار، پی ایچ ایس اے اس پروجیکٹ کو احسن طریقے سے پایہ تکمیل تک پہنچائے۔ مشیر صحت کی ہدایت۔ورلڈ بینک اور پراونشل ہیلتھ سروسز اکیڈمی کے درمیان طبی عملے کی استعداد کار بڑھانے کے لئے مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے۔ معاہدے پر ڈی جی پی ایچ ایس اے ڈاکٹر صاحب گل اور پروجیکٹ ڈائریکٹر ڈاکٹر اکرام اللہ نے دستخط کئے۔ نگران وزیراعلیٰ کے مشیر برائے صحت ڈاکٹر ریاض انور نے کہا کہ ورلڈ بینک کی جانب سے طبی عملے کی استعداد کار بڑھانے کا اقدام خوش آئند ہے، پی ایچ ایس اے اس پروجیکٹ کو احسن طریقے سے پایہ تکمیل تک پہنچائے۔ پروجیکٹ کی تفصیلات بتاتے ہوئے پروجیکٹ ڈائریکٹر ڈاکٹر اکرام اللہ نے بتایا کہ ورلڈ بینک پراونشل ہیلتھ سروسز اکیڈمی کی توسط سے ہیومن کیپٹل انوسٹمنٹ پروگرام والے اضلاع میں طبی عملے کو تربیت فراہم کرے گا۔ معاہدے کی رو سے پشاور، نوشہرہ، ہری پور اور صوابی کے 190 مراکز صحت کے عملے کو سروس ڈلیوری بہتر بنانے پر تربیت دی جائیگی۔

خیبرپختونخوا میں سرمایہ کاری کیلئے سازگار ماحول موجود،سرمایہ کاروں کو تمام ضروری سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔

چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا ندیم اسلم چوہدری سے پنجاب کے نگران وزیر برائے صنعت و تجارت و زراعت ایس ایم تنویر اور نگران وزیر برائے ہاؤسنگ و اربن ڈویلپمنٹ اظفر علی ناصر نے انکے دفتر میں ملاقات کی۔ صوبائی وزراء نے چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا، بزنس کمیونٹی اور ویمن چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری پشاورکے وفود سے بھی ملاقاتیں کیں۔ اس موقع پرپنجاب اور خیبرپختونخوا میں کاروباری سرگرمیوں کے مواقعوں اور زرعی شعبے سمیت دیگر شعبوں میں تعاون کے فروغ پر بات چیت کی گئی۔ چیف سیکرٹری نے کہاکہ خیبرپختونخوا میں سرمایہ کاری کیلئے سازگار ماحول پیدا کیاگیا ہے۔سرمایہ کاروں کو تمام ضروری سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سپیشل اکنامک زونز اور انڈسٹریل اسٹیٹس میں نئے کارخانے لگانے کے بہترین مواقع موجود ہیں۔ خواتین سرمایہ کاروں کو بھی معاشی مواقع فراہم کئے جا رہے ہیں۔ پنجاب کے نگران صوبائی وزیر ایس ایم تنویر نے کہاکہ پنجاب کے پاس گندم وافر مقدار میں موجود ہے۔ خیبرپختونخوا کو گندم فراہم کرنے کیلئے تیارہیں۔پنجاب کی نگران حکومت، زراعت کے ذریعے قومی معیشت کی بحالی کے پروگرام پر عمل پیرا ہے۔زرعی شعبے کی ترقی کیلئے سٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے 10سالہ پلان تیارکیاجا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دے کرملک کو معاشی طور پر مستحکم کیاجاسکتا ہے۔ ملک کی تمام اکائیاں ترقی کریں گی تو ہی ملک آگے بڑھے گا۔ملک کی تعمیر و ترقی اور خوشحالی کیلئے سب کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ صوبائی وزیر نے بتایاکہ پنجاب میں نئی سرمایہ کاری لانے کیلئے صوبائی حکومت صنعت کاروں کو ہرممکن سہولتیں دے رہی ہیں۔

نگران صوبائی وزیر برائے امور ضم اضلاع کا قبائلی ضلع جنوبی وزیرستان لوئر کا ایک روزہ دورہ

خیبر پختونخوا کے نگران وزیر برائے امور ضم اضلاع، صنعت وحرفت اور فنی تعلیم ڈاکٹر عامر عبد اللہ نے جمعرات کے روز قبائلی ضلع جنوبی وزیرستان لوئر کا ایک روزہ دورہ کیا۔ اپنے دورے کے دوران نگران وزیر نے ضلعی ہیڈکوارٹر وانا میں قبائلی مشران و عمائدین، منتخب نمائندوں اور نوجوانوں کے بڑے جرگے اور کھلی کچہری میں بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔جرگہ میں ڈپٹی کمشنر محمد ناصر خان، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کشمیر خان، ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر فرمان اللہ وردگ اور تمام لائن ڈیپارٹمنٹس کے سربراہان نے شرکت کی۔اس موقع پر ایک اور اجلاس میں ضلعی انتظامیہ اور محکمہ پولیس کے حکام نے ضلع جنوبی وزیرستان لوئر میں ترقیاتی منصوبوں کی صورتحال، عوامی مسائل کے حل کیلئے حکومتی اور انتظامی مشینری کے اقدامات اور امن و امان سمیت دیگر متعلقہ امور سے متعلق نگران صوبائی وزیر کو تفصیلی بریفنگ دی۔ نگران وزیر نے اپنے دورے کے دوران ضلع جنوبی وزیرستان لوئر کے معززین علاقہ اور نوجوانوں سے بھی خصوصی ملاقات کی اور ان سے مقامی سطح پر درپیش عوامی مسائل کے حوالے سے دریافت کیا۔نگران وزیر کا ضلعی ہیڈ کوارٹر پہنچنے پر مقامی انتظامیہ اور مشران نے بھر پور استقبال کیا جبکہ منعقدہ بڑے جرگے سے اپنے خطاب میں قبائلی عوام کی جانب سے بہترین مہمان نوازی پر ڈاکٹر عامر عبداللہ نے خراج تحسین پیش کرتے ہوئے ان کا شاندار الفاظ میں شکریہ ادا کیا اور کہا کہ وزیرستان کی ترقی اور خوشحالی صوبائی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے اور اسی سلسلے میں وہ تمام قبائلی اضلاع کا دورہ کررہے ہیں تاکہ ضم اضلاع کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کئے جاسکیں۔

نگران وزیر اعلی خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی کا مرحوم نگران وزیر اعلی کی وفات پر تعزیتی اجلاس

نگران وزیراعلی خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے ٹرانسپورٹ و ہاؤسنگ ظفراللہ خان عمرزئی کے دفتر میں بدھ کے روز مرحوم نگران وزیر اعلی خیبرپختونخوا محمد اعظم خان کی وفات پر تعزیتی اجلاس منعقد ہوا جس میں محکمہ ٹرانسپورٹ اور ٹرانس پشاور کے عملے نے شرکت کی، اجلاس میں مرحوم کی روح کے ایصال ثواب کیلیے فاتحہ خوانی کی گئی اور انکے درجات کی بلندی کیلیے خصوصی دعا کی گئی اپنے تعزیتی بیان میں نگران معاون خصوصی ظفراللہ خان عمرزئی نے کہا کہ مرحوم محمد اعظم خان ایک انتہائی ایماندار، قابل اور شریف النفس انسان تھے، پاکستان بالخصوص صوبے کے لئے انکی خدمات کو ہمیشہ سنہرے الفاظ میں لکھا جائے گا انھوں نے کہا کہ مرحوم اعظم خان کی صوبے کیلیے کئے گئے اقدامات اور خدمات قابل تعریف ہے مرحوم کی اچانک وفات، ان کے اہلخانہ سمیت ملک و قوم کے لیے ناقابل تلافی نقصان ہے نگران معاون خصوصی نے دعا کی کہ اللہ تعالی مرحوم کے درجات بلند فرمائے اور سوگوار خاندان کو اس ناقابل تلافی نقصان کو صبر و استقامت سے برداشت کرنے کی توفیق عطاء فرمائے۔

خیبرپختونخوا کی سنٹرل اور ڈسٹرکٹ جیلوں میں ورچوئل وزٹنگ پوائنٹس قائم۔ بریفنگ

وفاقی محتسب اعجاز احمد قریشی اور چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا ندیم اسلم چوہدری کی زیرصدارت صوبے میں جیل اصلاحات بارے میں جائزہ اجلاس بدھ کے روز منعقد ہوا۔ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ، ایڈوکیٹ جنرل، صوبائی محتسب، ڈی جی پراسیکیوشن، آئی جی جیل اور دیگر متعلقہ حکام نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔ایڈیشنل چیف سیکرٹری محکمہ داخلہ عابد مجید نے اس موقع پر اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ خیبرپختونخوا کی سنٹرل اور ڈسٹرکٹ جیلوں میں ورچوئل وزٹنگ پوائنٹس قائم کردئیے گئے ہیں جن کی بدولت دور دراز علاقوں سے تعلق رکھنے والے قیدی اپنے رشتہ داروں سے آن لائن ملاقات کرسکیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈسٹرکٹ جیل مانسہرہ میں قیدیوں کیلئے ملاقات کے دوران سہولت کیلئے ماڈل انٹرویو روم بنادیا گیا ہے جس کا دائرہ کار صوبے کی دیگر جیلوں تک بھی بڑھادیا جائے گا۔اسی طرح خیبرپختونخوا کی 14 جیلوں میں تعلیم بالغاو خواندگی سنٹرز بھی قائم کئے گئے ہیں جبکہ قیدیوں کے علاج کے لیے 18 جیلوں میں ایک نجی تنظیم کے تعاون سے کلینکس بھی بنائے گئے ہیں جہاں ضروری طبی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ جیلوں میں سہولیات کا جائزہ لینے کے حوالے سے صوبائی نگران کمیٹی کے سات اجلاس منعقد ہوچکے ہیں جبکہ صوبائی و ضلعی نگران کمیٹیوں نے مختلف جیلوں کے بالترتیب 18 اور 156 دورے کئے ہیں۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ کم عمر بچوں اور خواتین کو دیگر قیدیوں سے علیحدہ رکھا جا رہا ہے اور انہیں تمام ضروری سہولیات بھی فراہم کی جارہی ہیں۔ وفاقی محتسب اعجاز احمد قریشی کا اس موقع پر کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا میں جیل اصلاحات کے حوالے سے اقدامات اطمینان بخش ہیں۔ جیلوں میں مزید بہتری لانے اور گنجائش بڑھانے کے لئے مسلسل کوششیں جاری رکھی جائیں۔اس موقع پرچیف سیکرٹری خیبرپختونخوا ندیم اسلم چوہدری کا کہنا تھا کہ جیلوں میں اصلاحات لانا صوبائی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔ قیدیوں کو مفید شہری بنانے کیلئے مفت تعلیم اور پیشہ ورانہ تربیت دی جاتی ہے جسکے مثبت نتائج برآمد ہو رہے ہیں۔ اجلاس کے اختتام پر چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا ندیم اسلم چوہدری کی جانب سے وفاقی محتسب اعجاز احمد قریشی کو خیبرپختونخوا کی مختلف جیلوں میں قیدیوں کی جانب سے بنائی جانے والی مصنوعات بھی پیش کی گئیں۔

نگران وزیر بلدیات اور آبنوشی نے مسائل کے حل کے لئے آن لائن کھلی کچہری کا سلسلہ جاری رکھنے کا اعلان

خیبر پختونخوا کے نگران وزیر بلدیات و آبنوشی انجینئر عامر درانی نے کہا ہے کہ آن لائن کھلی کچہری کا سلسلہ مسائل کے حل کے لئے تواتر کیساتھ جاری رکھیں گے، انہوں نے عوامی شکایات کے ازالہ کیلئے فوری طور پر اقدامات اٹھانے اور ایک ہفتہ کے اندر کمپلائنس رپورٹ جمع کرنے کی ہدایات کی ہے۔انہوں نے کہا کہ ڈی سیز سن کوٹہ کے تحت رولز کے مطابق حقدار کو میرٹ پر بھرتی کرنے میں مزید تاخیر نہ کی جائے۔عوام کو سہولیات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے اس سلسلے میں سروس ڈیلیوری نظام کو مزید بہتر بنایا جائے۔ انہوں نے فنڈز کی کمی کے مسئلہ کو بہت جلد نگران وزیر خزانہ کیساتھ اٹھانے اور ایک اجلاس اگلے ہفتے منعقد کرنے کی بھی ہدایت کردی۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے محکمہ بلدیات کے تحت آن لائن فیس بک کھلی کچہری لائیو پروگرام میں عوام کی شکایات سنتے ہوئے کیا۔اس موقع پر سیکرٹری بلدیات داود خان،سپیشل سیکرٹری بلدیات محمد آصف،ڈی جی لوکل گورنمنٹ افتخار عالم،سیکرٹری لوکل کونسل بورڈ میاں شفیق الرحمان،چیف ایگزیکٹیو آفیسر ڈبلیو ایس ایس پی پشاور سید ناصر حسین،ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل پشاور ڈویلپمینٹ اتھارٹی ریاض علی اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔آن لائن کھلی کچہری میں صوبہ کے مختلف اضلاع سے عوام نے اپنی شکایات بذریعہ ٹیلیفون کال،سوشل میڈیا فیس بک کے ذریعے بھجوائے جن کے ازالے کے لئے نگران وزیر بلدیات اور سیکرٹری بلدیات نے موقع پر احکامات دئیے۔ضلع پشاور سید آباد گلبہار کالونی سے صفائی،ابرار حسین شاہ مانسہرہ سے ویلیج کونسل فنڈز،نعمان اللہ نوشہرہ سے پیدائش،ڈیتھ سرٹیفیکیٹ بارے،شبیر احمد ہری پور سے سیوریج نظام میں اور صفائی،ویلیج کونسل چیئرمین شاہ عالم پشاور نے اے ڈی لوکل گورنمنٹ کے حوالے سے،عثمان نے جنوبی وزیرستان سے ٹیوب ویل بنانے،سوات سے فیصل عزیز نے سپورٹس ایونٹ مقرر کرنے اور سید غنی صوابی سے نائب قاصد پروموشن کیس اور دیگر اضلاع سے عوام نے اپنی شکایات درج کروائیں۔

ضلع جنوبی وزیرستان اپرسمیت تمام قبائلی اضلاع کی ترقی اولین ترجیح ہے۔

خیبر پختونخوا کے نگران وزیر برائے امور ضم اضلاع،صنعت وحرفت اور فنی تعلیم ڈاکٹر عامر عبد اللہ نےضم اضلاع کے دوروں کے سلسلے میں بدھ کے روز جنوبی وزیرستان اپر کا دورہ کیا۔دورے کے دوران ضلعی انتظامی ہیڈکوارٹر کمپاونڈ ٹانک میں نگران صوبائی وزیر کی زیر صدارت اہم جرگہ منعقد ہوا جس میں ڈپٹی کمشنر جنوبی وزیرستان اپر اور محسود و برکی قبائل کے مشران وعمائدین نے شرکت کی۔ اس موقع پر قبائلی مشران نے نگران وزیر کو جنوبی وزیرستان اپر میں ترقیاتی منصوبوں، امن و امان کی صورتحال اور عوامی مسائل کے حوالے سے تفصیلی طور پر آگاہ کیا۔قبائلی مشران نے نگران وزیر کو فاٹا انضمام کے وقت حکومت کی جانب سے کئے گئے وعدوں پر عملدر آمد، ترقیاتی عمل کیلئےفنڈز کے اجرا،سرتاج عزیز کمیٹی کے تحت قبائلی علاقوں میں ٹیکس فری سہولیات کو یقینی بنانے سمیت متعدد مسائل کے حل کیلئے اپنی گذارشات پیش کیں اور نگران وزیر کو اس ضمن میں اپنا کردار ادا کرنے کی درخواست کی۔اس موقع پرجرگے سے خطاب میں نگران صوبائی وزیر نے کہا کہ صوبائی حکومت کی اولین ترجیح قبائلی اضلاع کی ترقی، خوشحالی اور امن و امان کا قیام ہے۔ انہوں نے کہا کہ دس سالہ پلان کے تحت ہر سال 100 ارب روپے کا حصول وفاق کی جانب سے تاحال ممکن نہیں ہوسکا ہے تاہم اس سلسلے میں وفاقی حکومت کے ساتھ وقتاً فوقتاً رابطے ہورہے ہیں اور اس پیکج کے اجراء سے قبائلی اضلاع کے ترقیاتی کاموں کا مسئلہ حل ہو جائے گا۔نگران وزیر نے ضلع کے بعض ملحقہ سرحدی حدود کے تعین کے حوالے سے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اس ضمن میں جلد کمیشن قائم کیا جائے گا اور اس بارے میں ایس ایم بی آر کو ٹاسک سونپا گیا ہے۔نگران وزیر نے جنوبی وزیرستان اپر کو پاک افغان بارڈر تک روڈ کے زریعے منسلک کرنے کیلئے بھی اقدامات اٹھانے کیلئے یقین دہانی کرائی ۔دورے کے دوران نگران وزیر کو ضلعی انتظامیہ اور محکمہ پولیس کی جانب سے ضلع میں ترقیاتی عمل،جاری ترقیاتی منصوبوں کی تفصیلات اور ان پر کام کی رفتار،انتظامی امور اور امن وامان کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔دریں اثنا نگران وزیر کیساتھ ضلع جنوبی وزیرستان اپر کے نوجوانوں کے وفد نے بھی ملاقات کی اور نگران وزیر کو ضلع میں صحت وتعلیم اور عوامی مسائل کے حل اور سیاحت کے فروغ کے سلسلے میں تبادلہ خیال کیا۔اس موقع پر نگران وزیر کا کہنا تھا کہ قبائلی نوجوانوں کا معاشرے کے اصلاح اور سماجی برائیوں کے خاتمے میں اہم کردار ہے اور وہ اپنے معاشرے سے قومی تنازعات اور دشمنیوں کے خاتمے میں اپنا فعال کردار ادا کریں۔