خیبر پختونخوا کے وزیر تعلیم فیصل خان ترکئی نے کہا ہے کہ ہیومن کیپیٹل انویسٹمنٹ پراجیکٹ کے تحت مختلف مرحلوں میں منتخب اضلاع میں 872 اضافی کلاس رومز تعمیر کئے جا رہے ہیں۔ جن میں فیزون کے 122 اور 230 کلاس رومز پر تعمیراتی کام جاری ہے۔ اسی طرح پرائمری سے مڈل لیول تک 120 سکولوں اور مڈل سے ہائی لیول تک 42 سکولوں کو بھی اپگریڈ کر دیا جائے گا انہوں نے کہا کہ پراجیکٹ کے تحت منتخب اضلاع کے اسکولوں کی اپگریڈیشن اور اضافی کلاس رومز کی تعمیر کی مد میں اخراجات کے علاوہ مکمل اور عارضی طور پر تباہ شدہ سکولوں کی دوبارہ فعالی بھی پروگرام کا حصہ ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہیومن کیپیٹل انویسٹمنٹ پراجیکٹ جائزہ اجلاس کی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں سپیشل سیکرٹری ایجوکیشن اسفندیار خٹک اور ہیومن کیپیٹل انویسٹمنٹ پراجیکٹ کے پراجیکٹ ڈائریکٹر بشمول دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ وزیر تعلیم کا مزید کہنا تھا کہ 1100 اسکولوں میں پراجیکٹ کے تحت اسکول بکس کٹ تقسیم کئے گئے ہیں۔ ڈی پی ڈی، آر پی ڈی سیز اور ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفسز کی سولرائزیشن بھی پراجیکٹ کے تحت مکمل کی جائے گی۔ اسی طرح ان میں نیا فرنیچر بھی فراہم کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پراجیکٹ کے تحت 387 گرلز کمیونٹی سکول قائم کئیگئے ہیں جن میں کل 25214 بچے زیر تعلیم ہیں ان میں 12590 طالبات اور 9351 طلباء شامل ہیں جبکہ ان سکولوں کے لیے 499 اساتذہ کی خدمات بھی حاصل کر لی گئی ہیں۔ اسی طرح پراجیکٹ کے تحت کل 327 اے ایل پی سینٹرز بھی قائم کئے گئے ہیں جن میں 9727 طلبہ و طالبات زیر تعلیم ہیں اور کل 150 ڈبل شفٹ سکولز بھی پراجیکٹ کے تحت قائم کی گئی ہیں۔وزیر تعلیم کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ پراجیکٹ کے تحت سکول لیڈرز کی تربیت کا عمل بھی جاری ہے۔ انڈکشن پروگرام کے تحت اساتذہ کی تربیت اور سی پی ڈی ٹریننگ پروگرام بھی جاری ہے۔ وزیر تعلیم فیصل خان ترکئی نے حکام کو ہدایت جاری کی کہ ماہانہ بنیادوں پر جائزہ اجلاس ہوگا اور پراگرس ٹائم لائن کے مطابق ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ پراجیکٹ ہر صورت مقررہ ٹائم لائن کے مطابق مکمل ہو اور جاری کام بروقت مکمل کیا جائے تاکہ طلبہ و طالبات تک ان کے ثمرات بروقت پہنچ سکیں۔
صوبائی وزیر زراعت میجر ریٹائرڈ سجاد بارکوال کی زیر صدارت مردان میں کسان کھلی کچہری کا انعقاد
خیبر پختونخوا کے وزیر زراعت سجاد بارکوال نے کہا ہے کہ حکومت اور کسانوں کے باہمی تعاون سے مردان کے لیے ایک ہزار ٹیوب ویل کو شمسی توانائی پر منتقل کیا جائے گا جس سے کسانوں کو آبپاشی کے لئے بروقت اور کم لاگت میں پانی میسر ہوگا۔ مردان میں کسان کھلی کچہری کا انعقاد یہاں کے کسانوں کے مسائل سے آگاہی حاصل کرنا ہے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار ضلع مردان میں محکمہ زراعت کی جانب سے منعقدہ کسان کھلی کچہری سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ کسان کھلی کچہری میں رکن صوبائی اسمبلی و چئیرمن قائمہ کمیٹی زراعت عبدالسلام آفریدی، سیکرٹری زراعت عطاء الرحمن، ایڈیشنل سیکرٹری زراعت نیک محمد، ڈائریکٹر جنرل زراعت توسیع و تحقیق، محکمہ زراعت کے افسران، کسانوں تنظیموں و اورمنتخب بلدیاتی نمائندگان سمیت کسانوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ کسان کھلی کچہری میں کسانوں نے محکمہ زراعت سے متعلق سوالات،شکایات، تجاویز و آراء سے اعلیٰ حکام کو آگاہ کیا۔ میجر ریٹائرڈ سجاد بارکوال نے کسانوں کے سوالات کے جوابات بھی دئیے۔صوبائی وزیر زراعت نے کسان کھلی کچہری میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مردان آمد پر خوشی ہوئی۔ کسان کھلی کچہری کے انعقاد کا مقصد کسانوں کے مسائل سے آگاہی حاصل کرنا ہے اور انکو درپیش مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات اٹھانے ہیں۔ تاکہ صوبہ غذائی طور پر خودکفیل ہو۔ آبپاشی کے مسائل کے حوالے سے وزیر محکمہ آبپاشی کے ساتھ بات چیت جاری ہے۔ نہروں کے آخری حصے پر پانی کی فراہمی کے لیے اقدامات کر رہے ہیں۔ کسانوں کو بلاسود قرضے کی فراہمی کے لیے کوشش کررہے ہیں اسی طرح مختلف اسکیموں کی لاگت پر نظر ثانی کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پورے صوبے کے لیے 8 ہزار ٹیوب ویل کو شمسی توانائی پر منتقل کریں گے۔ جبکہ مردان کے لیے ایک ہزار ٹیوب ویل کی سولرائزیشن کا ہنگامی بنیاد پر انتظام کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ آبپاشی کے پانی کے مسائل کے حل کے لیے صوبائی وزیر پاشی کو مردان کے دورے کی درخواست کی جائے گی۔صوبائی وزیر زراعت نے زراعت انجینئرنگ کے ملازم کے خلاف شکایت پر انکوائری کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ محکمانہ امور میں غفلت و بدعنوانی ہر گز برداشت نہیں کی جائے گی۔ محکمہ زراعت کی مشینری کے غیر قانونی اور غلط استعمال کے حوالے سے تحقیقات کریں گے۔ مردان میں منصوبوں کے حوالے سے سوال پر میجر ریٹائرڈ سجاد بارکوال کا کہنا تھا کہ بڑے بڑے منصوبوں پر کام جاری ہے جن کی تکمیل سے کسان مستفید ہو سکیں گے۔ ان کہا کہنا تھا کہ یہاں آمد کا مقصد یہاں کے کسانوں کو درپیش مسائل سے آگاہی حاصل کرنا ہے۔ ضلع مردان کی تحصیل رستم میں زیتون کی کاشت پر توجہ دے رہے ہیں۔ زعفران کی کاشت کے لیے بھی اقدامات اٹھا رہے ہیں۔ کسان کھلی کچہریوں کا مقصد اپنی کمزوریوں کا جائزہ لینا ہے۔ ہم بار بار یہاں آئیں گے جو الزامات لگائے گئے ان کی تحقیقات کریں گے وزیر اعلیٰ کے عوامی ایجنڈے میں کھلی کچہریوں کا انعقاد شامل ہے۔ کچھ منصوبے ایسے ہیں جن میں کسانوں کا حصہ ہوتا ہے ٹیوب ویل کو شمسی توانائی پر منتقلی میں کسانوں کا حصہ کم کرنے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں۔ مردان ضلع ہمارے ترجیحات میں شامل ہے۔ تمباکو پیدا کرنے والے اضلاع کو مزید مراعات دیں گے۔ کسانوں کی تجاویز و مسائل کے حل کے لیے اقدامات کریں گے۔ اورفارمز تنظیموں کو آنے والے منصوبہ میں شامل کریں گے۔ کسان کھلی کچہری میں کسانوں نے پانی کی فراہمی، کسانوں کیلئے بلاسود قرضے، گندم کے بہترین بیچ کی فراہمی،ہاتھیان میں زرعی آفیسر کی تعیناتی، مایار میں زراعت کے دفتر کا قیام، باڑہ ایریگیشن اسکیم کو شمسی توانائی پر منتقلی سمیت زرعی مشینری کی فراہم کے مطالبات کیے گئے۔ صوبائی وزیر زراعت میجر ریٹائرڈ سجاد بارکوال نے مطالبات کے حل کی یقین دہانی کی۔
خیبرپختونخوا فوڈ اتھارٹی کے چھاپے، سینکڑوں لیٹرز جعلی مشروبات اور چائنہ سالٹ ضبط، بھاری جرمانے عائد
> شہریوں کی صحت سے کھلواڑ کھیلنے والوں کیخلاف آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے، ایسے عناصر کسی رعایت کے مستحق نہیں، وزیر خوراک ظاہر شاہ طورو
خیبر پختونخوا فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھارٹی نے صوبے کے مختلف شہروں میں کارروائیاں جاری رکھتے ہوئے گزشتہ روز مردان، نوشہرہ اور صوابی میں چھاپے مارے اور سینکڑوں لیٹرز جعلی مشروبات اور چائنہ سالٹ ضبط کر لیا۔ اس حوالے سے ترجمان فوڈ اتھارٹی نے تفصیلات جاری کرتے ہوئے بتایا کہ فوڈ سیفٹی ٹیم نوشہرہ نے پیر سباق میں گودام پر چھاپہ مارا اور انسپکشن کے دوران 800 لیٹرز سے زائد جعلی اور غیر معیاری مشروبات برآمد کرکے ضبط کی گئیں اور فوڈ سیفٹی ایکٹ کے تحت کارروائی کا آغاز کیا۔اسی طرح فوڈ سیفٹی ٹیم صوابی نے چھوٹا لاہور میں ایک دوکان سے 440 لیٹرز مضر صحت مشروبات ضبط کیے اور وارننگ نوٹس جاری کیا۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ فوڈ سیفٹی ٹیم مردان کی جانب سے ایک مصالحہ بنانے والی فیکٹری سے 100 کلو گرام ممنوعہ چائنہ سالٹ ضبط کر لیا گیا اور صفائی کی ناقص صورت حال پر جرمانہ بھی عائد کیا گیا۔ڈائریکٹر جنرل فوڈ اتھارٹی واصف سعید نے فوڈ سیفٹی ٹیموں کی کامیاب کاروائیوں کو سراہا اور کہا کہ مضر صحت خوراکی اشیاء کی فروخت کسی صورت برداشت نہیں اور اس کے خلاف صوبہ بھر میں بلا تفریق کاروائیاں کی جائیں گی۔صوبائی وزیر خوراک ظاہر شاہ طورو نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ شہریوں کی صحت سے کھلواڑ کھیلنے والوں کیخلاف آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے ایسے عناصر کسی رعایت کے مستحق نہیں ہیں۔
سیلز ٹیکس چوری کی نشاندہی کرنے والے افراد کو نقد انعام دیا جائے گا، اور ان کا نام صیغہ راز میں رکھا جائے گا۔مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم
مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم کا خیبرپختونخوا ریونیو اتھارٹی (کیپرا) دفتر کا دورہ
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے خزانہ مزمل اسلم نے کہا ہے کہ صوبے میں سیلز ٹیکس چوری کی نشاندہی کرنے والے افراد کو نقد انعام دیا جائے گااور ان کا نام صیغہ راز میں رکھا جائے گا۔یہ بات انہوں نے خیبر پختونخوا ریونیو اتھارٹی (کیپرا) کے دفتر کے دورے کے موقع پر کیپرا کے افسران کے اجلاس کے دوران کہی۔ مشیر خزانہ نے کہا کہ ٹیکس چوری کو روکنے کے لیے عوام کی مدد لی جائے گی اور انہیں حوصلہ افزائی کے طور پر انعامی سکیم کا حصہ بنایا جائے گا جس کے لیے قانونی مسودے کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ٹیکس چوری میں ملوث افراد یا اداروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل کیپرا فوزیہ اقبال نے مشیر خزانہ کا استقبال کرتے ہوئے انہیں پھولوں کا گلدستہ پیش کیا جبکہ ڈی جی کیپرا اور ان کی ٹیم نے کیپرا کی کارکردگی کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی اور رواں مالی سال کے پہلے دو ماہ میں جمع کیے گئے محاصل کے اعداد و شمار پیش کیے اور بتایا گیا کہ کیپرا نے ان دو ماہ میں 7.17 ارب روپے کے محاصل جمع کیے جو کہ گزشتہ مالی سال کے اتنے ہی عرصے کے مقابلے میں 45 فیصد زیادہ ہیں۔مشیر خزانہ کو مزید بتایا گیا کہ گزشتہ مالی سال کے لیے کیپرا کو 35 ارب روپے کا ہدف دیا گیا تھا جبکہ رواں مالی سال کے لیے 47 ارب روپے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے جو کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں 34 فیصد زیادہ ہے۔ کیپرا کے افسران نے عزم ظاہر کیا کہ نہ صرف اس ہدف کو حاصل کیا جائے گا بلکہ اس سے بڑھ کر زیادہ وسائل اکٹھے کیے جائیں گے تاکہ صوبے کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے زیادہ سے زیادہ مالی وسائل فراہم کیے جا سکیں۔
مشیر خزانہ نے کیپرا کی ٹیم کی محنت اور کاوشوں کو سراہا اور مزید بہتر کارکردگی کی تاکید کی۔ انہوں نے کیپرا افسران کو مشورہ دیا کہ وہ چھوٹے ٹیکس دہندگان کی بجائے بڑے ٹیکس دہندگان پر توجہ مرکوز کریں تاکہ محاصل میں اضافہ کیا جا سکے۔بعد ازاں مشیر خزانہ نے کیپرا کے لان میں شجر کاری مہم کے تحت ایک پودا بھی لگایا اور ادارے کی ماحول دوستی کو سراہا۔
مشیر اطلاعات بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے دارالقرآن پنج پیر صوابی کا دورہ کیا
مشیر اطلاعات بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے دارالقرآن پنج پیر صوابی کا دورہ کیا اور جید عالم دین شیخ القرآن مولانا طیب طاہری سے ملاقات کی اور ان سے مختلف امور پرتفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ مولانا طیب طاہری اور ان کے عظیم والد کی علمی اور قرآنی خدمات پر خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ دارالقرآن پنج پیر صوابی صرف خیبر پختونخوا نہیں بلکہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں علم کی شمع روشن کر رہا ہے۔ دینی علوم کیساتھ عصری علوم اور وحدت المدارس کی نیٹ ورک مولانا طیب طاہری کا لازوال کارنامہ ہے، خیبر پختونخوا حکومت اس قسم کے اداروں اور درسگاہوں کی کاؤشوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے، بیرسٹر سیف نے دارالحدیث کے شعبے کے طلباء اور علماء کو خطاب بھی کیا۔ انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ دارالقرآن میں آنا اور طلباء و علماء سے ملاقات میرے لئے سعادت ہے۔ اسلامی تعلیمات انسان دوستی اور کردار سازی میں بنیادی کردار ادا کرتی ہیں، ان سے علم وشعور اور احساس پیدا ہوتاہے جس کا نتیجہ مثبت کردار سازی ہے۔ انسان کی خوبصورتی اور انسان کا معراج تک پہنچنے کیلئے علم بہترین ذریعہ ہے اور احساس کی قوت سے معرفت الہٰی پیدا ہوتی ہے، مولانا طیب نے ہمیشہ امن کی بات کی، ان کے خیبر پختونخوا سمیت ملک بھر میں امن اور ہم آہنگی کیلئے کردار کو سراہتے ہیں۔ مولانا طیب کے ساتھ دوستی اور تعلق میرے لئے فخر کا باعث ہے۔
خیبر پختونخوا کے وزیر لائیو سٹاک، فشریز و کوآپریٹو فضل حکیم خان یوسفزئی نے سول ویٹرنری ہسپتال سیدو شریف سوات میں کلینکل لیبارٹری کی اپ گریڈیشن
خیبر پختونخوا کے وزیر لائیو سٹاک، فشریز و کوآپریٹو فضل حکیم خان یوسفزئی نے سول ویٹرنری ہسپتال سیدو شریف سوات میں کلینکل لیبارٹری کی اپ گریڈیشن کا افتتاح کر دیا، کلینکل لیبارٹری کی اپ گریڈیشن ایسوسی ایشن اف بائیورسک منیجمنٹ پاکستان کے تعاون سے کیا گیا، افتتاح کے موقع پر ڈائریکٹر جنرل لائیو سٹاک توسیع ڈاکٹر اصل خان، نیشنل پروگرام منیجر ڈاکٹر اصغر خان، اے بی ایم پاکستان وبائی امراض کے ماہر ڈاکٹر اسد علی شاہ، ڈسٹرکٹ ڈائریکٹر لائیو سٹاک سوات ڈاکٹر سربلند خان، سینئر ویٹرنری آفیسر سوات ڈاکٹر سردار علی بھی موجود تھے، صوبائی وزیر فضل حکیم خان یوسفزئی نے اے بی ایم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اس توقع کا اظہار کیا کہ اسی طرح باقی ماندہ اضلاع میں بھی اے بی ایم لائیو سٹاک ڈیپارٹمنٹ کے کلینکل لیبارٹریز کی اپ گریڈیشن اور قائم کرنے میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں گے انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں محکمہ لائیو سٹاک کو مزید فعال بنانے کیلئے حکومتی سطح پر بھی اقدامات اُٹھائے جا رہے ہیں اور اس ضمن میں تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہے ہیں، حکومت مویشی پال حضرات کی بھر پور اعانت کیلئے پر عزم ہے، اس موقع پر ڈاکٹر اصغر خان نے اپنے بھرپور تعاون کے عزم کا اظہار کیا ڈائریکٹر جنرل لائیوسٹاک ڈاکٹر اصل خان نے لائیو سٹاک سوات کے اہلکاروں کو زمینداروں سے بھرپور تعاون پر زور دیا تاکہ کسی بھی بیماریوں کا سدباب ہو سکے اور لائیو سٹاک سیکٹر ترقی کی راہ پر گامزن ہو جائے اس موقع پر ڈاکٹر سید اسد علی شاہ کا کہنا تھا کہ ہم ڈویژنل لیبارٹریوں کو صوبائی لیبارٹری کے ساتھ منسلک کر رہے ہیں جس کی وجہ سے امراض کی بروقت تشخیص میں آسانی ہوگی۔
دور جدید میں کسی بھی شعبے میں ترقی کیلئے انفارمیشن ٹیکنالوجی کا کردار کلیدی ہے، آئی ٹی کے بغیر کسی بھی شعبے میں کامیابی ممکن نہیں۔ صوبائی وزیر مال نذیر احمد عباسی
صوبائی وزیر مال نذیر احمد عباسی نے کہا ہے کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کا کردار زندگی کے تمام شعبوں میں انتہائی اہم ہے اور کوئی بھی شعبہ آئی ٹی کے بغیر نامکمل تصور کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کے کامیاب ترین ممالک کی ترقی کا راز انفارمیشن ٹیکنالوجی ہی ہیں۔ دور جدید میں جس بھی ملک نے اپنے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے کو مضبوط کیا ہے انہوں نے ترقی کے بلندیوں کو پایا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے سول سیکریٹریٹ پشاور کے نومنتخب انفارمیشن ٹیکنالوجی کابینہ کے ارکین کی حلف برداری تقریب میں بطورِ مہمان خصوصی شرکت کرتے ہوئے کی۔ اس موقع پر چیئرمین آل پاکستان سیکریٹریٹ کونسل ظفر خان یوسفزئی، نومنتخب آئی ٹی صدر اسد خان، جنرل سیکرٹری حضرت بلال اور دیگر کابینہ ممبران نے بھی تقریب میں شرکت کی۔ انہوں نے نئے منتخب کابینہ سے حلف لیا اور مبارکباد پیش کی۔نذیر احمد عباسی نے کہا کہ صوبائی حکومت صوبے میں آئی ٹی کے شعبے کو پروان چڑھانے اور دفتری امور کے ساتھ ساتھ تجارتی اور کاروباری معاملات کو بھی آئی ٹی کے ساتھ منسلک کروانے کیلئے اعلیٰ سطحی اقدامات اٹھا رہی ہیں۔ جس سے ان تمام امور کے نمٹانے میں تیزی آئے گی اور اپنے مقررہ وقت میں کاموں کا حصول بھی ممکن بنایا جاسکے گا۔صوبائی وزیر مال نے کہا کہ صوبے کے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے سے منسلک تمام ملازمین کے مسائل کو سنجیدگی سے قانونی اصولوں کے مطابق جلد از جلد حل کروایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ آئی ٹی ملازمین کے مسائل کے حل کیلئے اعلیٰ سطح پر آواز اٹھائی جائے گی تاکہ ان کے درینہ مطالبات کو پورا کروایا جاسکے۔صوبائی وزیر مال نے کہا کہ تحریک انصاف صوبے میں آئین کی بالادستی قائم کرنے اور عوام کو ان کے دہلیز پر سہولیات فراہم کرنے کیلئے سنجیدہ اقدامات اٹھا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت سرکاری ملازمین کی خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے اور صوبے کو کامیابی کے راہ پر گامزن کرنے کیلئے ان کے گراں قدر خدمات کو سراہتی ہے اور ان کے تمام جائز مطالبات کو پورا کرنے کیلئے سنجیدہ کوششیں کررہی ہے۔
ایک جلسے کی کامیابی سے بد حواسی کا یہ عالم ہے کہ جعلی حکومت پاگل پن اور کھلی لاقانونیت پر اُتر آئی ہے،بیرسٹر ڈاکٹر سیف
> تندئی باد مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب ۔ یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کے لیے
> ایک جلسے کی کامیابی سے بد حواسی کا یہ عالم ہے کہ جعلی حکومت پاگل پن اور کھلی لاقانونیت پر اُتر آئی ہے،بیرسٹر ڈاکٹر سیف
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے اطلاعات و تعلقات عامہ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا ہے کہ ایک جلسے کی کامیابی سے بد حواسی کا یہ عالم ہے کہ جعلی حکومت پاگل پن اور کھلی لاقانونیت پر اُتر آئی ہے۔جعلی حکومت جتنی بھی فسطائیت کرلے پی ٹی آئی ڈٹ کر مقابلہ کرے گی،انہوں نے کہا کہ جعلی حکومت کی فسطائیت پی ٹی آئی رہنماوں اور کارکنوں کو مزید تقویت بخشتی ہے، کل رات جعلی حکومت نے جمہوریت کا جنازہ بڑی دھوم دھام سے نکال دیا، اسلام آباد کے ایوانوں میں رات بھر لاقانونیت راج کرتی رہی، پارلیمنٹ پر شب خون مارکر پارلیمان کی بے توقیری کی گئی، پارلیمنٹ سے معزز اراکین کو اٹھایا جاتا رہا جبکہ سپیکر ہاتھوں پہ ہاتھ رکھ کر تماشا دیکھتے رہے، کل رات جوا ہوا وہ کبھی بدترین ڈکٹیٹرشپ میں بھی نہیں ہوا، ہمارے معزز وکلاء اور اراکین پارلیمنٹ کو بے توقیری کے ساتھ اٹھایا گیا،انہوں نے کہا کہ عمران خان کی رہائی تک جدوجہد جاری رکھیں گے۔
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے صنعت وحرفت اور فنی تعلیم عبدالکریم تورڈھیر نے ٹیکنیکل ایجوکیشن اینڈ ووکیشنل ٹریننگ اتھارٹی
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے صنعت وحرفت اور فنی تعلیم عبدالکریم تورڈھیر نے ٹیکنیکل ایجوکیشن اینڈ ووکیشنل ٹریننگ اتھارٹی کے مرکزی دفتر حیات آباد پشاور میں ادارے کی کارکردگی کے جائزہ اجلاس کی صدارت کی۔اجلاس میں ایڈیشنل سیکریٹری صنعت شمع نعمت کے علاؤہ اتھارٹی کے ڈائریکٹرز اور دیگر افسران نے شرکت کی۔اس موقع پرٹیوٹا کی مجموعی کارکردگی کاسیر حاصل جائزہ لیا گیا جبکہ مختلف سیکٹرز میں فنی تعلیم کے شعبے کی بہتری کیلئے اسکے حکام کو دیئے گئے اہداف کو حاصل کرنے کیلئے اب تک کی پیش رفت سے معاون خصوصی کو آگاہ کیا گیا۔اجلاس میں معاون خصوصی نے ہدایت کی کہ ٹیوٹا کے اداروں سے فارغ التحصیل طلبہ کے اسناد کی انٹرنیشنل سرٹیفیکیشن کیلئے ممکنہ اقدامات اٹھائے جائیں جبکہ ٹیکنیکل بورڈ،ٹریڈ ٹیسٹنگ بورڈ اور ٹیوٹا کو ڈیجیٹلائزیشن کے ذریعے ایک دوسرے کیساتھ مربوط کیا جائے۔انھوں نے مزید ہدایت کی کہ گھریلوں خواتین کی ہنر مندانہ تربیت کیلئے گھر بیٹھے ورچول کورسز کے انعقاد پر غور کیا جائے اور ان کورسز کے ذریعے پھر ان خواتین کے انکم جنریشن کیلئے بھی معقول پلان وضع کیا جائے۔انھوں نے ہدایت کی کہ فنی تعلیم کے اداروں کی انسٹی ٹیوٹ منیجمنٹ کمیٹیوں کو بااختیار بنایا جائے تاکہ وہ اپنے اداروں کی بہتری اور فروغ کیلئے فیصلے کر سکیں۔اجلاس میں انھوں نے ہدایت کی کہ ٹیوٹا کے حکام اپنی ذمہ داریوں کو مقررہ وقت میں ادا کرکے دئے گئے ٹائم لائنز میں درکار امور کو مکمل کریں۔انھوں نے کہا کہ فنی تعلیم کے شعبے کو پائداری کی جانب گامزن کرنا ہے تاکہ یہ شعبہ مالی لحاظ سے مستحکم ہوسکیں۔دریں اثناں معاون خصوصی نے گورنمنٹ پولی ٹیکنک انسٹی ٹیوٹ سردار گھڑی پشاور کا دورہ کیا اور وہاں پر صوبے کے مردانہ گورنمنٹ پولی ٹیکنک انسٹی ٹیوٹس کے پرنسپلز کے ایک اجلاس کی صدارت کی۔انھوں نے اجلاس کے دوران مردانہ جی پی ائز میں ضروری سہولیات کی دستیابی،درکار سازوسامان،عملے اور دیگر مسائل کے حوالے معلومات حاصل کیں۔معاون خصوصی نے اس موقع پر ان اداروں کے بعض ضروریات کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام سے اس ضمن میں ان کی فراہمی کے حوالے سے ہدایات بھی جاری کیں۔انھوں نے ان انسٹی ٹیوٹس کے پرنسپلز کو ٹیوٹا اور انکے تعلیمی اداروں کی پائداری اور خود انحصاری کے حکومتی ویژن سے آگاہ کیا اور کہا کہ وہ اس ضمن میں اس تجویز کو عملی جامہ پہنانے کیلئے اپنی ذمہ داریاں پوری کریں۔انھوں نے کہا کہ تیکنیکی اداروں کے پیداواری امکانات پر توجہ دے کر پروڈکشن کم سروسز کے اصولوں پر ان اداروں کے وسائل کو بروئے کار لایا جائے تاکہ یہ شعبہ مالی لحاظ اپنے ذاتی ذرایع آمدن کے ذریعے خود انحصار بنایا جاسکے۔انھوں نے کہا کہ تعلیمی اداروں میں ہماری ترجیح کا محور طلبہ کی اصل تربیت پر مرکوز ہونا چاہیے کیونکہ یہ ادارے انہی کیلئے بنے ہوئے ہیں۔انھوں نے کہا کہ پرنسپل اپنے اداروں کی کارکردگی کو بہتر بنائیں اور طلبہ کو اسطرح ہنرمند بنائیں کہ انھیں ہر جگہ بہتر روزگار کے مواقع میسر ہوں۔
صوبائی وزیر تعلیم فیصل خان ترکئی نے کہا ہے کہ قوموں کی ترقی کا واحد راز تعلیم ہے
صوبائی وزیر تعلیم فیصل خان ترکئی نے کہا ہے کہ قوموں کی ترقی کا واحد راز تعلیم ہے۔ سابقہ ادوار میں تعلیم پر کوئی خاص توجہ نہیں دی گئی تاہم پاکستان تحریک انصاف کے حکومت نے تعلیم کو اولین ترجیح دے کر ریفارمز کی جو بنیاد رکھی اس کے ثمرات بہترین نتائج اور شرحِ خواندگی میں واضح اضافے کی صورت میں آگئی ہے تاہم ابھی بھی بہت کام کرنا ہے جس کے لیے اساتذہ، والدین، سیاست سے وابستہ رہنماؤں، علماء کرام اور علاقہ عمائدین پر لازم ہے کہ اسکولوں سے باہر بچوں کو سکولوں میں لانے کے لیے ہمارا ساتھ دیں۔ اور تعلیم کے مقدس شعبے سے وابستہ افراد کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ معیاری تعلیم کی فراہمی کے لیے شبانہ روز محنت کریں۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے یونیورسٹی پبلک سکول پشاور میں انٹرنیشنل لٹریسی ڈے کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے بطور مہمان خصوصی اپنے خطاب میں کیا۔ تقریب سے سیکرٹری ایجوکیشن مسعود احمد مینیجنگ ڈائریکٹر مرجڈ ایریاز ایجوکیشن فاؤنڈیشن میاں عین اللہ اور دیگر مقررین نے خطاب کیا۔ یہ تقریب محکمہ تعلیم، ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن فاؤنڈیشن، این سی ایچ ڈی، دوستی فاؤنڈیشن، جائکا اور دیگر پارٹنرز اداروں کی تعاون سے منعقد کیا گیا تھا۔
وزیر تعلیم فیصل خان ترکئی نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ بین الاقوامی اعداد و شمار کے مطابق خیبر پختون خوا ریکارڈ بجٹ تعلیم کے لیے مختص کرتے ہوئے اصلاحات کی بدولت گورننس اور تعلیمی سہولیات کی فراہمی میں ملک کے دیگر صوبوں سے سبقت لے گئی ہے۔ اور ہزاروں کی تعداد میں اساتذہ سسٹم میں شامل ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ضم اضلاع میں سابقہ ادوار میں خراب حالات اور دہشتگردی کی وجہ سے ہمارے ہزاروں سکول تباہ کئے گئے ہیں اور خصوصاً بچیوں کی تعلیمی درسگاہوں کو نشانہ بنایا گیا ہے مگر ہماری شبانہ روز محنت اور بلند حوصلے کی بدولت ان سکولوں کی فعالی اور دوبارہ آباد کاری کا کام جاری ہے اور ضم اضلاع تک باقی صوبے میں جاری تمام ریفارمز اور منصوبوں کو توسیع دی گئی ہے۔ اور ضم اضلاع بشمول پورے صوبے میں کامیاب داخلہ مہم کی بدولت پہلے فیز میں 12 لاکھ سے زائد طلبہ و طالبات کو داخلہ دیا گیا ہے اور داخلہ مہم کے فیز ٹو میں مزید تین لاکھ طلبہ و طالبات کو داخل کروایا جائے گا۔
انہوں نے پورے خیبر پختونخوا کے عوام سے پرزور مطالبہ کیا کہ جاری داخلہ مہم میں ہمارا ساتھ دیں تاکہ اس صوبے سے ڈراپ اؤٹ اور آؤٹ آف سکول بچوں کا مکمل خاتمہ کر سکیں انہوں نے کہا کہ ہم امتحانی نظام میں بھی مزید اصلاحات لا رہے ہیں جس کے لیے تعلیمی بورڈز کو ہدایات جاری کی گئی ہیں اور ہماری کوشش ہے کہ صوبہ بھر کے تعلیمی بورڈز میں ایس ایل او بیسڈ امتحانات منعقد کریں۔ اور عنقریب پرائمری لیول سے طلبہ و طالبات کو ایس ایل او بیسڈ پڑھائی شروع کر رہے ہیں۔
وزیر تعلیم کا بجٹ کے حوالے سے کہنا تھا کہ صوبے کا 21 فیصد بجٹ تعلیم پر خرچ ہو رہا ہے اور حکومت سخت معاشی حالات کے باوجود بھی تعلیمی بجٹ میں کوئی کمی نہیں کر رہی۔ ہم ضم اضلاع کے لئے بھی خصوصی پروگرام مرتب کر رہے ہیں تاکہ ان علاقوں میں بھی شرح خواندگی مزید بڑھائی جا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ اساتذہ کرام پر بھی بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ طلبہ و طالبات کی کردار سازی پر خصوصی توجہ دے اور ان کو صوبے اور ملک کا بہترین شہری بنائے۔ انہوں نے محکمہ تعلیم کے جاری منصوبوں کے حوالے سے کہا کہ ہم طلبہ و طالبات کو ڈیجیٹل لٹریسی پروگرامز کے تحت جدید تربیت دے رہے ہیں جبکہ اساتذہ کو دور جدید کے تقاضوں سے ہم آہنگ تربیت کی فراہمی کے لیے تربیتی ادارے ڈی پی ڈی کو مزید فعال بنا رہے ہیں۔ جبکہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈاپور کی خصوصی ہدایت پر محکمہ تعلیم میں طلبہ کے لیے ایجوکیشن کارڈ متعارف کر رہے ہیں جس کا باقاعدہ اغاز چترال کے دور افتادہ علاقوں بونی مستوج سے ہوگا۔ ایٹا سکالرشپس میں موجودہ حکومت نے اضافہ کر کے سکالرشپس کی تعداد 550 کر دی ہے۔ فوری طور پر تعلیمی سرگرمیاں شروع کرنے کی غرض سے رنٹڈ بلڈنگ سکول پروگرام منصوبے کا آغاز کیا گیا ہے۔ دینی مدارس میں اے ایل پی سینٹرز کھو لے جا رہے ہیں۔ اور ہزاروں کی تعداد میں سکولوں کو اپگریڈ کر رہے ہیں۔ اسی طرح میرٹ پر اساتذہ کی تبادلوں کے لئے ای ٹرانسفر پالیسی کا اجراء بھی کیا گیا ہے۔ تقریب کے اختتام پر وزیر تعلیم نے طلبہ کے ساتھ اگاہی واک میں بھی حصہ لیا اور لگائے گئے مختلف سٹالز کا معائنہ کیا۔
