Home Blog Page 278

خیبر پختونخوا کے نگران وزیر کی رہنمائی میں اسلامی ترقیاتی بینک کے وفد سے ملاقات۔

خیبر پختونخوا کے نگران وزیر برائے امور ضم اضلاع، صنعت وحرفت اور فنی تعلیم ڈاکٹر عامر عبد اللہ سے انکے دفتر سول سیکریٹریٹ پشاور میں اسلامی ترقیاتی بینک کے وفد نے علاقائی دفتر انقرہ میں تعینات آپریشن ٹیم لیڈر اکنامک انفراسٹرکچر ”اسامہ تریگوئی”کی سربراہی میں ملاقات کی۔وفدمیں بینک کے علاقائی دفتر کے پراجیکٹ مینجمنٹ سپیشلسٹ ”تولگا یاکر”اور پاکستان کیلئے نمائندہ محمد علی یزدانی شامل تھے جبکہ ملاقات میں خیبر پختونخوا کے نگران وزیر برائے سائنس وٹیکنالوجی اور کھیل وامور نوجوانان ڈاکٹر نجیب اللہ نے خصوصی شرکت کی۔ملاقات میں اسلامی ترقیاتی بینک کے نمائندوں اور نگران وزراء کے درمیان باہمی دلچسپی کے امور خصوصی طور پر پاکستان اور صوبے میں مختلف امکانی شعبوں میں اسلامی ترقیاتی بینک کی جانب سے مالی تعاون کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا۔نگران وزیر ضم اضلاع نے اس دوران وفد کیساتھ ضم اضلاع میں بینک کے ممکنہ تعاون کے شعبوں پر بھی تبادلہ خیال کیا۔انھوں نے کہا کہ یہ خطہ پورے ملک میں دیگر علاقوں کی نسبت پہلے سے پسماندہ رہا ہے،پورے ملک اور ان علاقوں کے تقابلی ترقیاتی عمل میں واضح فرق آرہا ہے جبکہ یہاں کے اکثر ترقیاتی منصوبے جو فنڈز کی عدم دستیابی کی وجہ سے ادھورے پڑے ہیں میں مالی تعاون کی ضرورت ہے۔انھوں نے کہا کہ ضم اضلاع کی ترقی کیلئے تشکیل کردہ موجودہ ترقیاتی و معاشی پلان میں زیادہ معاشی ترقی کے اثر پزیر منصوبوں،تکمیل کے قریب منصوبوں اور مخصوص شعبوں کی اہمیت کے حامل منصوبوں کو شامل کیا گیا ہے تاکہ ان کی بروقت تکمیل سے ان علاقوں کے عوام کو فائدہ آنا شروع ہوسکے۔انھوں نے کہا کہ اس سلسلے میں بینک کی جانب سے ممکنہ تعاون کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جائے گا۔ وفد کی درخواست پر نگران وزیر نے اس پلان اور ترقیاتی منصوبوں کی تفصیلات بینک کو فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ملاقات میں صوبائی حکومت اور بینک کے مابین امکانی تعاون کیلئے مستقبل میں رابطے جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔

نگران وزیر اعلیٰ کی خیبر پختونخوا ہاوس میں کرسمَس کیک کاٹنے کی تقریب، مسیحی کمیونٹی کے وفد کے ساتھ۔

25 دسمبر 2023 کرسمَس کیک کاٹنے کی ایک مختصر تقریب پیر کے روز وزیر اعلی ہاوس پشاور میں منعقد ہوئی جس کے مہمان خصوصی نگران وزیر اعلی خیبر پختونخوا جسٹس ریٹائرڈ سید ارشد حسین شاہ تھے۔ تقریب میں بشپ ہمفرے سرفراز پیٹر کی قیادت میں مسیحی کمیونٹی کے ایک وفد نے شرکت کی۔ نگران وزیر اعلی نے مسیحی برادری کے وفد کے ہمراہ کرسمَس کا کیک کاٹا اور پاکستان خصوصا خیبرپختونخوا میں بسنے والے مسیحی کمیونٹی کو کرسمَس کی مبارکباد دی۔ وفد سے گفتگو کرتے ہوئے نگران وزیر اعلی نے کہا کہ ملک کی تعمیر و ترقی میں مسیحی کمیونٹی کا ایک اہم کردار رہا ہے اور پوری قوم ان کے اس کردار کو قدر کی نگاہ سےدیکھتی ہے۔انہوں نے کہا کہ صوبے میں بسنے والے اقلیتوں کی فلاح و بہبود اور ان کے حقوق کا تحفظ ان کی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے اور مسیحی کمیونٹی سمیت دیگر اقلیتوں کے مسائل حل کرنے کے لئے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات اٹھائے جائیں گے۔ اس موقع پر وزیر اعلی نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ مسیحی برادری کو درپیش فوری نوعیت کے مسائل کو جلد سے جلد حل کرنے کے لئے اقدامات کئے جائیں جبکہ مسیحی برادری سمیت تمام اقلیتی کمیونٹیز کے رہائشی علاقوں کی سکیورٹی کے لئے خصوصی اقدامات کئے جائیں۔ اپنے گفتگو میں ارشد حسین شاہ نے کہا کہ صوبے کے نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے کی غرض سے انہیں جدید کورسز کروانے کے لئے بہت جلد ایک پروگرام کا اجراء کیا جارہا ہے جس کے تحت کم سے کم پانچ لاکھ نوجوانوں کو مارکیٹ ڈیمانڈ کے مطابق کریش کورسز کروائے جائیں گے تاکہ وہ بیرون ملک اپنے لئے باعزت روزگار کمانے کے قابل ہوسکیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس پروگرام کے تحت اقلیتی کمیونٹی کے نوجوانوں کو بھر پور شئیر دیا جائے گا۔ وفد کی نشاندہی پر وزیر اعلی نے پشاور کے ایک چرچ میں پانی کی عدم دستیابی کا مسئلہ فوری طور پر حل کرنے کی ہدایت کی۔
وفد کے اراکین نے وزیر اعلی ہاوس مدعو کرنے اور ان کی خوشی میں شریک ہونے پر نگران وزیر اعلی کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔ وفد نے سانحہ جڑانوالہ کے متاثرین کے لئے بروقت امدادی سامان بھیجنے پر بھی صوبائی حکومت کا شکریہ ادا کیا۔ وفد نے نگران وزارت اعلی کا منصب سنبھالنے پر جسٹس ریٹائرڈ سید ارشد حسین شاہ کو مسیحی کمیونٹی کی طرف سے مبارک باد دی اور ان کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ سیکرٹری مذہبی اور اقلیتی امور ڈاکٹر اسد اور دیگر متعلقہ حکام بھی اس موقع پر موجود تھے۔

نگران وزیر اعلیٰ کا خیبر میڈیکل کالج اور ایوب میڈیکل کالج کو یونیورسٹیوں میں اپ گریڈ کرنے پر عملی کام کا اعلان۔

نگران وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا جسٹس(ر) سید ارشد حسین شاہ نے کہا ہے کہ خیبر میڈیکل کالج اور ایوب میڈیکل کالج کو یونیورسٹیوں میں اپ گریڈ کرنے پر عملی کام شروع کر دیا گیا ہے، بہت جلد صوبائی کابینہ کا اجلاس بلا کر باقاعدہ منظوری لی جائے گی۔ صوبے میں طلبہ کو طبی تعلیم کی سہولیات مقامی سطح پر فراہم کرنے کے لیے میڈیکل کالجوں کی تعداد بڑھانے کے لیے بھی اقدامات کیے جائیں گے۔ اس سلسلے میں وزیر اعظم پاکستان سے بات ہوگئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ صوبے کے نرسنگ کالجوں میں نشستوں کی تعداد بڑھانے پر بھی کام جاری ہے۔سالانہ50 ہزار نرسنگ گریجویٹس کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کے روز خیبر میڈیکل کالج پشاور میں منعقدہ کانونشن کی افتتاحی تقریب سے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔ نگران وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ صوبے میں نوجوانوں کو عصر جدید کی ضروریات سے ہم آہنگ تربیت فراہم کرنے کے لیے خوشحال پختونخوا پروگرام ترتیب دیا ہے جس کے تحت سالانہ پانچ لاکھ نوجوانوں کو مختلف سکلز سکھائے جائیں گے۔ اُنہوںنے خیبر میڈیکل کالج کی خدمات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہاکہ یہ کالج نامور اور معتبر تعلیمی ادارہ ہے جس نے میڈیکل اور ہیلتھ کیئر کے شعبے میں گراں قدر خدمات سرانجام دی ہیں، ہم کالج کی شاندار تاریخ پر بجا طور فخر محسوس کرتے ہیں اور اس کی شبانہ روز کاوشوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ سید ارشد حسین شاہ نے اس موقع پر کنونشن کا انعقاد یقینی بنانے کیلئے تعاون فراہم کرنے پر ایسوسی ایشن آف فزیشنز آف پاکستان ڈیسنٹ آف نارتھ امریکہ کا خصوصی طور پر شکریہ ادا کیا اور کہاکہ بلا شبہ  شمالی امریکہ میں اپنی نوعیت کی اہم ترین میڈیکل سوسائیٹز میں سے ایک ہے جو پاکستانی نژاد ڈاکٹرز کی کثیر تعداد کی نمائندگی کر رہی ہے ۔ یہ تمام لوگ پاکستان کا قیمتی اثاثہ ہیں جو قومی ترقی میں بہترین کردار ادا کر رہے ہیں۔ اُمید ہے کہ یہ لوگ زرمبادلہ، سرمایہ کاری اور انسان دوست اقدامات کے ذریعے پاکستان کی سماجی و معاشی ترقی کیلئے اپنی خدمات جاری رکھیں گے۔ نگران وزیراعلیٰ نے کہاکہ ہم نے خوشحال خیبر پختونخوا پروگرام کا آغاز کر دیا ہے،ہم چاہتے ہیں کہAPPNAاس میں ہماری رہنمائی کریں اور ہمارا پارٹنر بنیں۔ وزیراعلیٰ کے مشیر برائے صحت ڈاکٹر ریاض انور بھی اس موقع پر موجود تھے ۔ ڈین خیبر میڈیکل کالج پروفیسر ڈاکٹر محمد اورنگزیب،  کے صدر ڈاکٹر ارشد ریحان اور دیگر نے بھی کنونشن سے خطاب کیا۔

خیبر پختونخوا کے نگران وزیر کا سمال انڈسٹریل اسٹیٹ میں نیا کاروباری مرکز کا افتتاح کیا۔

خیبر پختونخوا کے نگران وزیر برائے صنعت وحرفت،فنی تعلیم اور امور ضم اضلاع ڈاکٹر عامر عبداللہ نے بدھ کے روز سمال انڈسٹریل اسٹیٹ پشاور میں نئے تعمیر شدہ کاروباری مرکز کا افتتاح کیا۔اس منصوبے کی تکمیل پر تقریبا ساڑھے چار کروڑ روپے کی لاگت آئی ہے جسے کمرشل بنیادوں پر استعمال میں لاکر بورڈ کو اس سیماہانہ خطیر آمدنی حاصل ہو سکے گی۔ کوہاٹ روڈ پشاور میں واقع مذکورہ جدید مارکیٹ میں سمال انڈسٹریل اسٹیٹ کے کارخانہ داروں کیلئے نمائش گاہیں اور شوروم بھی تیار کئے گئے ہیں جہاں پر وہ اپنے کارخانوں کی پیداواری اشیا کی مارکیٹنگ کرسکیں گے۔ دوران افتتاح منیجنگ ڈائریکٹر سمال انڈسٹریز ڈویلپمنٹ بورڈ غضنفر علی،ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹرز صاحب زادہ ذوالفقار اور نعمان فیاض سمیت دیگر افسران،اہلکار اور ملازمین یونین کے عہدیدار موجود تھے۔اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے نگران وزیر نے اس منصوبے کو انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے ہدایت کی کہ ایس آئی ڈی بی اپنے مالی استحکام اور ترقی کیلئے اپنے بزنس ماڈل کو تبدیل کرکے اس میں جدید ضروریات کے مطابق بہتری لائے۔انھوں نے کہا کہ کسی بھی ادارے کیلئے نیا کام کرنا ایک مشکل مرحلہ ہوتا ہے۔ بورڈ نے یہ مرحلہ طے کرکے ایک بڑی کامیابی حاصل کی ہے جو قابل تعریف ہے اور اب اس ادارے کی پائیدار ترقی کے لیے اس کی منیجمنٹ کو اس طرح کے مزید مفید اقدامات اٹھانے چاہئے۔انھوں نے کہا کہ ادارہ اپنے مستقل اخراجات پر قابو پانے کیلئے منافع بخش اور کاروباری سوچ میں آگے کی طرف بڑھے اور قلیل مدت میں بہتر نتائج کے حامل بزنس ماڈل کو بروئے کار لائے۔نگران وزیر نے کہا کہ یہ کمرشل سنٹر کاروبار کرنے والے لوگوں کیلئے حلال رزق کی کمائی اور خوشحالی کا سبب بنے گا۔انھوں نے اس موقع پر بورڈ کے ذمہ داروں کو ہدایت کی کہ وہ اس مرکز میں صفائی کے رہنما اصولوں کے مطابق بہتر نظام کا بندوبست کریں تاکہ صارفین کو یہاں پر اعلی معیار کی تمام سہولیات میسر ہوں۔ اس موقع پر ایم ڈی ایس آئی ڈی بی نے بتایا کہ پلازہ کو نگران وزیر کی خصوصی ہدایات کے تحت مقررہ وقت سے کئی ماہ قبل مکمل کرلیا گیا۔ دریں اثنا نگران وزیر نیایس آئی ڈی بی کے مرکزی دفتر کا دورہ کرکے وہاں پر بورڈ کے افسران اور ملازمین یونین کے عہدیداروں سے ملاقات کی۔نگران وزیر کو اس موقع پر بورڈ کی طرف سے توصیفی شیلڈ سے نوازا گیا۔

چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا ندیم اسلم چوہدری سے پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس کے زیر تربیت افسران کی ملاقات

چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا ندیم اسلم چوہدری سے پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس کے زیر تربیت افسران نے چیف سیکرٹری کانفرنس روم پشاورمیں ملاقات کی۔ اس موقع پر سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ، سیکرٹری پی اینڈ ڈی اور ممبر بورڈآف ریونیو بھی موجود تھے۔ چیف سیکرٹری نے زیر تربیت افسران سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سول افسران کی سروس کا مقصد عوام کو بہترین خدمات فراہم کرنا ہے۔ انھوں نے تاکید کی کہ تمام افسران اپنی صلاحیتوں اور پروفیشنل تربیت کو بروئے کار لاتے ہوئے اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے انجام دیں۔ انھوں نے کہا کہ سول سروس ریاستی مشینری میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے اور بطورِ سول سرونٹ کام کرنا ایک اعزاز کے ساتھ ساتھ ذمہ داری بھی ہے جس کے لیے آپ لوگوں کو بہترین انداز میں تربیت دی جاری ہے تاکہ مستقبل میں آنے والی ذمہ داریوں کو ملک و عوام کے بہترین مفاد میں سر انجام دے سکیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ صاف اور شفاف انتخابات کا انعقاد کروانا ہماری ذمہ داری ہے جس کے لیے تمام تر دستیاب وسائل کو بروئے کار لایا جائے گا۔ ملاقات کے اختتام پر شرکاء نے خدمات کی انجام دیہی میں بہتر رہنمائی پرچیف سیکرٹری خیبرپختونخوا کا شکریہ ادا کیا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ اپنی تمام تر توانائیاں بروئے کار لاتے ہوئے بہترین انداز میں اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کی کوشش کریں گے۔

محکمہ خوراک خیبر پختونخوا اور خیبرپختونخوا فوڈ سیفٹی اتھارٹی کی جانب سے آنلائن کھلی کچہری کا انعقاد

خیبر پختونخوا فوڈ سیفٹی اتھارٹی کے زیرِ اہتمام پشاور ہیڈ کوارٹر میں آج آنلائن کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا جس میں خیبرپختونخوا کے نگران وزیر برائے خوراک، زراعت، لائیو سٹاک اور جنگلات آصف رفیق، سیکرٹری محکمہ خوراک ظریف المعانی سمیت محمکہ خوراک اور فوڈ اتھارٹی کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ آنلائن کھلی کچہری میں شہریوں کی شکایات براہ راست وزیر خوراک سمیت دیگر متعلقہ افسران نے سنیں اور موقع پر حل کرنے کی یقین دھانی کروائی،ان لائن کھلی کچہری محکمہ خوراک خیبرپختونخوا اور خیبرپختونخوا فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھارٹی کے فیس بک پیجز پر لائیو دکھائی گئی،آنلائن کھلی کچہری کے دورانِ دو سو سے زائد شکایات، فوڈ اتھارٹی کے فون نمبر اور وٹس ایپ نمبر، ٹول فری نمبر اور فیس بک کمنٹس پر موصول ہوئیں جس میں عوام نے خوارکی اشیاء کی قیمتوں اور مضر صحت و غیر معیاری خوراک کے بارے میں اپنی شکایات درج کروائیں اور مختلف تجاویز بھی پیش کیں۔وزیر خوراک آصف رفیق نے تمام شکایات کے ازالے کے لئے موقع پر ہی متعلقہ افسران کو خوراک سے وابستہ کاروباروں کے معائنے کرنے اور مضر صحت و غیر معیاری اشیائے خوردنوش کی فروخت میں ملوث عناصر کا قلع قمع کرنے کی ہدایات جاری کیں۔ اس موقع پر انکا کہنا تھا کہ خوراک کی شکل میں زہر بیچنے کی بلکل اجازت نہیں دی جائے گی۔ سیکرٹری فوڈ نے متعلقہ ٹیموں کو اگلے ہفتے سے دودھ، فش اور کباب میں ملاوٹ کے خلاف خصوصی مہم شروع کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ مضر صحت خوراک کی سپلائی لائن، مینوفیکچرنگ اور سیل پوائنٹس کے خلاف کاروائیاں تیز کی جائیں تا کہ غیر معیاری خوراک کا تدارک ممکن ہو سکے ان کا مزید کہنا تھا کہ کھلی کچہری کا سلسلہ مستقبل میں بھی جاری رکھا جائے گا جس کا مقصد ملاوٹ کا خاتمہ اور محکمانہ خدمات کی فراہمی کو مزید بہتر بنانا ہے۔

۔ڈائریکٹر جنرل لائیوسٹاک کی زیر صدارت اجلاس میں ضلعی افسران کی ماہانہ کارکردگی اور لائیوسٹاک کے منصوبوں پر بحث

ڈائریکٹر جنرل محکمہ لائیوسٹاک توسیع خیبر پختونخوا ڈاکٹر عالمزیب مہمند کی زیر صدارت لائیوسٹاک کے ضلعی افسران کا ماہانہ کارکردگی،منصوبوں کی تکمیل اور دیگر امور کے حوالے سے ایک جائزہ اجلاس پشاور میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں لائیوسٹاک کے ضلعی افسران نے اضلاع کے اندر اپنی کارکردگی کے بارے میں ڈائریکٹر جنرل محکمہ لائیوسٹاک کو تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے لائیوسٹاک کی سرگرمیوں اورمویشی پال کسانوں کی بہتری کے لئے اٹھائے گئے اقدامات سے آگاہ کیا۔ اجلاس میں موجودہ نگران صوبائی حکومت کے خوشحال خیبر پختونخوا پروگرام پر بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اس موقع پر ڈی جی لائیوسٹاک نے تمام ضلعی افسران کو ہدایت کی کہ صوبے میں دودھ کی پیداوار کے مکمل ریکارڈ پر توجہ دیں کہ صوبے کے کونسے سے ضلع سے دودھ کی کتنی مقدار برآمد اور درآمد ہوتی ہے جبکہ صوبے میں سے باہر جانے اور داخل ہونے والے جانوروں سمیت ڈیری فارمز کا ریکارڈ بھی ہر وقت درست کریں۔ انہوں نے تمام ضلعی افسران کو تاکید کی کہ زمینداروں کے ساتھ مکمل رابطہ اور تعاون رکھیں اور فیلڈ ورک کے دوران زمینداروں میں آگاہی مہم کا باقاعدگی سے اہتمام کریں اور زمینداروں میں کوآرڈینیٹرز منتخب کریں اور انکی باقاعدہ میپنگ کریں اس کے علاوہ لائیوسٹاک کے قائم کردہ پولٹری اورڈیری فارمز میں زمینداروں کو بھر پور خدمات مہیا کرنے کے ساتھ ساتھ ان میں آگاہی پیدا کریں اور انکا ریکارڈ اپنے پاس محفوظ رکھیں۔ڈائریکٹر جنرل نے تمام افسران کوہدایت کی کہ جانوروں کو لمپی سکن بیماری سے بچانے اور محفوظ رکھنے کے لیے ان کی بروقت ویکسینیشن کریں اسی طرح تمام افسران اپنے اپنے ضلع میں فیلڈ کے دنوں کا جلد سے جلد انعقادکرکے ڈی وارمنگ اور ویکسینیشن آگاہی مہم چلانے کیلیے بینرز اور دیگر اقدامات کو یقینی بنائیں۔

چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا کا ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ عابد مجید کے ہمراہ سنٹرل جیل پشاور کا دورہ

چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا ندیم اسلم چوہدری نے ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ عابد مجید کے ہمراہ سنٹرل جیل پشاور کا دورہ کیا، آئی جی جیل خانہ جات عثمان محسود، ایڈیشنل آئی جی جیل خانہ جات حامد الرحمان اور سپرنٹنڈنٹ جیل وسیم خان نے چیف سیکرٹری اور ایڈیشنل سیکرٹری کا پرتپاک استقبال کیا۔دورے کے موقع پر چیف سیکرٹری اور ایڈیشنل سیکرٹری داخلہ نے جیل کے مختلف حصوں کا تفصیلی معائنہ کیا، قیدیوں سے ملاقات کی اور قیدیوں سے انکے مسائل کے بارے میں دریافت کیا آئی جی جیل خانہ جات نے چیف سیکرٹری کو جیل کی سیکیورٹی انتظامات اور قیدیوں کو فراہم کی جانے والی دیگر سہولیات کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ جیل کے قیدیوں کو ہنر سکھانے کے لئے جیل انڈسٹریز قائم ہے تاکہ قید کے دوران قیدی جیل میں کچھ ہنر سیکھ کر رہائی کے بعد اپنے کنبے کی کفالت کرسکیں جیل میں قائم ویڈیو لنک کی سہولیات کے بارے میں بھی چیف سیکرٹری کو تفصیل سے بتایاگیا کہ ویڈیو لنک کے ذریعے قیدی کورٹ میں پیش کئے جائینگے، اس کے علاوہ چیف سیکرٹری نے سنٹرل جیل پشاور کے احاطے میں واقع سرحد مینٹل ہسپتال کا بھی دورہ کیا جہاں انہوں نے متعلقہ حکام کو سرحد مینٹل ہسپتال کو فوری طور پر اپنی مقررہ جگہ پر منتقل کرنے کی ہدایت کی انہوں نے آئی جی جیل خانہ جات کی جانب سے صوبے بھر کی جیلوں میں قیدیوں کی فلاح و بہبود اور مثبت سرگرمیاں شروع کرانے کے اقدامات کو بھی سراہا اور ہدایت جاری کی کہ جیلوں میں صفائی ستھرائی کا خاص خیال رکھا جائے اور قیدیوں کو تمام تر سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنائی جائے۔

نگران وزیر صنعت وحرفت خیبرپختونخوا کی مقامی اسلحہ سازی کمپنی شاہین آرمز انجینئرنگ کے نمائندے سے ملاقات

خیبر پختونخوا کے نگران وزیر برائے صنعت وحرفت،فنی تعلیم اور امور ضم اضلاع ڈاکٹر عامر عبداللہ سے سپورٹنگ ہنٹنگ آرمز مینوپکچرنگ”شکار کیلئے اسلحہ ساز صنعت” کی مقامی کمپنی شاہین آرمز انجینئرنگ کے نمائندے شاہین خان نے انکے دفتر میں ملاقات کی اور انکو مقامی سطح پر شکار کیلئے بنائے جانے والے اسلحہ کی صنعت اور اس کی ترقی کیلئے ممکنہ تجاویز پر تبادلہ خیال کیا۔اس موقع پر خیبر پختونخوا اکنامک زونز ڈویلپمنٹ اینڈ منیجمنٹ کمپنی کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر جاوید اقبال خٹک بھی موجود تھے۔ملاقات کے دوران مزکورہ اسلحہ ساز صنعت کے نمائندے نے بتایا کہ ان کی کمپنی کوہاٹ روڈ پشاور میں شکار کیلئے استعمال کی جانے والیں بندوقیں اور دیگر متعلقہ ساز وسامان تیار کرتی ہے جس کی برآمدات تنزانیہ ،نائجیریا،کینیڈا،،فلپائن اور کویت پہنچتی ہیں۔انھوں نے بتایا کہ بہترین کوالٹی اور جدیدیت کی بدولت بین الاقوامی مارکیٹ میں ان کی مصنوعات کو پزیرائی مل رہی ہے تاہم اس سلسلے میں اس صنعت کے ذریعے ملکی برآمدات کے فروغ کیلئے بین الاقوامی اسلحہ نمائشوں میں انکے مصنوعات کو پہنچانے کیلئے انکے ساتھ وزارت تجارت کے ذریعے حکومتی تعاون کی ضرورت ہے۔انھوں نے مزید بتایا کہ حکومت اس صنعت کے فروغ کیلئے جدید مشینری کی درآمد میں ٹیکسوں میں چھوٹ اور خام مال و متعلقہ پرزہ جات کی درآمد میں معاونت فراہم کرے تاکہ یہاں پر مقامی سطح پر بین الاقوامی سطح کی سپورٹنگ ہنٹنگ آرمز کی تیاری ممکن ہوسکے اور اس کے زریعے زیادہ زرمبادلہ لایا جاسکے ۔اس موقع پر نگران وزیر نے شکار کیلئے اسلحہ سازی کی مقامی کمپنی کی کوششوں کو سراہتے ہوئےکہا کہ وہ اس سلسلے میں مزکورہ صنعت کے ایسوسی ایشن کو اپنی جانب سے ممکن تعاون فراہم کریں گے۔انھوں نے کمپنی کی جانب سے متعد اقسام کی جدید اور ٹیکنالوجی پر منحصر سپورٹنگ ہنٹنگ اسلحہ سازی میں کمپنی کی کارکردگی کو سراہا۔

نگران وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے ٹرانسپورٹ و ہاؤسنگ، اور ایف سی کمانڈنٹ کی ملاقات

نگران وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے ٹرانسپورٹ و ہاؤسنگ ظفراللہ خان عمرزئی سے ایف سی کمانڈنٹ معظم جاہ انصاری نے انکے دفتر میں ملاقات کی ملاقات میں دیگر امور سمیت صوبے میں امن و امان کے حوالے سے تفصیلی گفتگو ہوئی دوران گفتگو صوبے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے سیکورٹی فورسز کی قربانیوں اور کردار کو بھی سراہا گیا۔اس موقع پر نگران معاون خصوصی نے کہا کہ صوبے میں مستقل قیام امن میں عوام کاتعاون بھی نہایت ضروری ہے سیکورٹی فورسز اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے نبھا رہی ہیں اور ان کی لازوال قربانیوں کی بدولت امن کا قیام ممکن ہوا ہے لیکن سیکورٹی فورسز کے ساتھ ساتھ لوگوں کے تعاون کے بغیر پائیدار امن ممکن نہیں انہوں نے کہا کہ پرامن ماحول کو خراب کرنے والے عناصر ملک و قوم کے دشمن ہیں ایسے سازشی عناصر کو بے نقاب کرنے اور انکو منطقی انجام تک پہچانے میں عوام سیکورٹی فورسز کے ساتھ مکمل تعاون کریں کیونکہ امن و امان کے قیام کے بغیر ترقی ناممکن ہے۔انہوں نے کہا کہ ترقی اور خوشحالی کیلیے پرامن فضاء ناگزیر ہے۔ ایف سی کمانڈنٹ معظم جاہ انصاری نے ظفراللہ خان عمرزئی کو یقین دہانی کرائی کہ مستقل امن و امان کے قیام اور امن کو برقرار رکھنے کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائیگااور امن کی خاطر سیکورٹی فورسز کی قربانیاں کسی سے پوشیدہ نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ضم اضلاع اور جنوبی اضلاع میں امن کے قیام کے لیے ضروری ہے کہ خیبر پختونخوا کی پلاٹون جو ملک کے مختلف حصوں میں خدمات سرانجام دے رہی ہے ان میں سے 8 یا 10 پلاٹون کو اگرقبائلی علاقوں میں تعینات کیا جائے تو وہاں امن کے مسئلہ پر کافی حد تک قابو پایا جاسکتا ہے۔ نگران معاون خصوصی نے کہا کہ وہ صوبائی کابینہ کے اجلاس میں اس مسئلے کو منظوری کے لیئے پیش کریں گے۔