خیبر پختونخوا کی نگراں وزیر برائے سوشل ویلفیئر، ریلیف اور جیل خانہ جات جسٹس ریٹائرڈ ارشاد قیصر نے منگل کے روز ضلع چارسدہ میں محکمہ سوشل ویلفیئر، سب جیل اور ریسکیو 1122 کا اچانک دورہ کیا۔ انہوں نے مذکورہ اداروں کے مختلف شعبوں کا تفصیلی معائنہ کیا اورعملے کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے درپیش مسائل کے حل کی یقین دہانی کرائی۔ صوبائی وزیر کے اچانک دورے کااہم مقصد دفاتر میں کام کرنے والے ملازمین کی حاضری، کام کی نوعیت اور درپیش مسائل سے متعلق آگہی حاصل کرنا تھا نگران صوبائی وزیر نے اس موقع پر محکمہ سوشل ویلفیئر، جیل اور ریسکیو 1122 کے تمام ملازمین کو صفائی کے بہترین معیارکو برقرار رکھنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ نگراں حکومت عوام کو بہترین سہولیات سے آراستہ کرنے کے لیئے کو شاں ہے۔ چارسدہ سب جیل کے دورہ کے موقع صوبائی وزیر کو بتایا گیا کہ چارسدہ سب جیل میں 220 قیدیوں کی گنجائش ہے جبکہ اس وقت جیل میں 423 قیدی ہیں جس پر صوبائی وزیر نے قیدیوں کی کم کنجائش کے مسئلے کو حل کرنے کی بھر پور یقین دہانی کرائی۔ صوبائی وزیر نے خصوصی بچوں کی بہتری کے لیے محکمہ سوشل ویلفیئر کے اقدام کو بھی سراہا تے ہوئے صوبے کے دیگر سوشل ویلفیئر افسران کو سولرائزیشن سمیت اس طرح کے دیگر اقدامات اٹھانے کی ہدایت کی تاکہ انہیں مالی طور پر فائدہ ہو۔
خیبر پختونخوا کے فضل حق کالج مردان میں ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کی منظوری۔
خیبر پختونخوا کے نگران وزیر برائے ابتدائی وثانوی اور اعلیٰ تعلیم پروفیسر ڈاکٹر محمد قاسم جان نے کہا ہے کہ ہمارے تعلیمی اداروں نے حالیہ بورڈ نتائج میں نمایاں پوزیشنز حاصل کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ماڈل سکولز اور کالجز ہمارا قیمتی اثاثہ ہیں اور ان کے ملازمین کے مسائل حل کرنے کے ساتھ ساتھ ان اداروں کی مزید بہتری کے لیے ہم اقدامات بھی کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فضل حق کالج مردان کی مالی پوزیشن انتہائی مستحکم ہے اجلاس میں مستقل ملازمین کو ایڈہاک ریلیف الاونس کی منظوری کے ساتھ ساتھ کنٹریکٹ تدریسی ملازمین کی تنخواہیں 40 ہزار روپے مقرر کرنے اور غیر تدریسی کنٹریکٹ ملازمین کی تنخواہیں 28 ہزار روپے مقرر کرنے کی منظوری بھی دی گئی۔ یہ منظوری انہوں نے فضل حق کالج مردان کے بورڈ آف گورنرز اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے دی۔ اجلاس میں سیکرٹری ابتدائی و ثانوی معتصم باللہ شاہ اور بورڈ کے دیگر ممبران نے شرکت کی۔ نگران وزیر پروفیسر ڈاکٹر محمد قاسم جان نے کہا کہ ترقی کے لیے سینیارٹی کے ساتھ ساتھ کارکردگی اور تربیت بھی مشروط ہوگی تاکہ قابل اور محنتی ملازمین کو آگے آنے کے مواقع ملیں انہوں نے کہا کہ فضل کالج مردان ہر لحاظ سے مضبوط اور مستحکم ادارہ ہے جہاں کے طلباء و طالبات اعلیٰ تعلیمی اداروں میں پڑھ رہے ہیں اور فارغ التحصیل طلباء وطالبات نمایاں پوزیشنز پر خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کالج کی مزید بہتری کے لیے ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔ اجلاس کے دوران کالج عملے کو چھٹیوں کے دوران کنوینس الاوننس جاری نہ کرنے کا فیصلہ ہوا۔ اسی طرح مختلف ملازمین کے مسائل کو حل کرنے کے لیے سروس رولز میں تبدیلی کی سفارشات بھی کی گئیں، اجلاس میں عمر میں رعایت کے حوالے سے پیش کیے گئے ایجنڈا پوائنٹ پر فیصلہ ہوا کہ رولز میں ترمیم کر کے بورڈ کو با اختیار بنایا جائے گا تاکہ امیدواروں کو عمر میں رعایت دی جا سکیں۔ اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ بورڈ کے پرائیویٹ سیکٹر سے تعلق رکھنے والے ممبران کو سفری اخراجات دینے کا بھی فیصلہ کیا گیا، وزیر تعلیم نے ضرورت کے تحت بورڈ اجلاس جلدی بلا نے اور تمام ممبران کو منٹس بھی بروقت بھجوانے کی ہدایات جاری کیں۔
خیبر پختونخوا کے نگران وزیر کی زیر صدارت ریگی ماڈل ٹاون کی ترقی کے منصوبے پر اہم اجلاس
خیبر پختونخوا کے نگران وزیر بلدیات، الیکشن،دیہی ترقی و آبنوشی انجینئر عامر درانی کی زیر صدارت منگل کے روز ریگی ماڈل ٹاون کے حوالے سے ایک اجلاس بلدیات کمیٹی روم میں منعقد ہوا۔اجلاس میں ریگی ماڈل ٹاون میں جاری ترقیاتی کام،مسائل چیلنجز اور انکے حل کیلئے ایک تفصیلی بریفنگ دی گئی۔اس موقع پر سیکرٹری بلدیات داود خان،سپیشل سیکرٹری بلدیات محمد آصف،ایڈیشنل ڈی جی پی ڈی اے ریاض علی،چیف انجینئر پشاور ڈویلپمینٹ اتھارٹی اور دیگر حکام بھی موجود تھے۔اجلاس میں حکام نے نگران وزیر کو ریگی ماڈل ٹاون کا تاریخی پس منظر کیساتھ موجودہ مسائل اور چیلنجز سے آگاہ کیا۔حکام کا کہنا تھا کہ زون تھری اور فور ڈویلپ ہوچکے ہیں جبکہ کچھ زون میں کوکی خیل قبائل کیساتھ دیرینہ اراضی کا تنازعہ بھی چلا آرہا ہے۔حکام نے ریگی ماڈل ٹاون کا آمدنی و اخراجات کے بارے میں بھی تفصیلی بریفنگ دی۔تین سو پچاس کنال پر مشتمل سپورٹس کمپلیکس اور جوڈیشل کمپلیکس پر بھی گفتگو ہوئی۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے نگران وزیر نے ہدایت کی کہ اس مسئلے کے فوری حل کیلئے بورڈ کا اجلاس بلانے کیساتھ کابینہ میں اس کو زیر غور لانے اور ضلعی انتظامیہ کے ساتھ ملکر اس پراجیکٹ کی تکمیل کو یقینی بنانے کیلیے تمام تر دستیاب وسائل بروئے کار لا ئے جائیں۔انہوں نے کہا کہ اس پراجیکٹ کے ایک زون میں زیادہ تر سرکاری ملازمین نے پلاٹس لئے ہیں اور انکے مسائل بھی ترجیحی بنیادوں پر حل کئے جائیں۔نگران وزیر نے مزید کہا کہ اس پراجیکٹ کی آگاہی اور تشہیر کے سلسلے میں عوام کیلئے میڈیا اور سوشل میڈیا کے ذریعے آگاہی مہم چلائی جائے۔عامر درانی نے اس پراجیکٹ کو ترجیحاتی بنیادوں پر مکمل کرنے اور مسائل کے فوری حل کیلئے اگلے اجلاس میں کمشنر پشاور اور ڈی سی خیبر کو اگلے ہفتے بلانے کا فیصلہ بھی کیا۔نگران وزیر نے سپورٹس کمپلیکس اور جوڈیشل کمپلیکس کی جلدی تعمیر پر بھی زور دیا۔دریں اثناء نگران وزیر کی زیر صدارت رنگ روڈ ناردرن بائی پاس کی تعمیر کے حوالے سے ایک جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔ جسمیں ناردرن بائی پاس کے حوالے سے ٹینڈرنگ اور پری کوالیفیکیشن کے عمل کو ایک ہفتے کے اندر مکمل کرنے کی سختی سے ہدایت کی گئی۔نگران وزیر کا کہنا تھا کہ یہ ایک قومی اور عالمی سطح کا میگا پراجیکٹ ہے جس سے وسطی ایشیا ئی ممالک کیساتھ ہماری تجارتی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا اور شہر پر ٹریفک لو ڈ میں بھی کمی آئیگی۔
غیر قانونی افراد کو بارڈر تک رسائی اور ڈیپورٹ کرنے کا عمل جاری۔
خیبرپختونخوا کینگران وزیر اطلاعات و تعلقات عامہ بیرسٹر فیروز جمال شاہ کاکاخیل نے کہا ہے کہ غیر قانونی طور پر مقیم وہ غیر ملکی جو رضاکارانہ طور پر پاکستان سے جارہے ہیں ان کو صوبائی نگران حکومت سہولت کے ساتھ بارڈر تک رسائی دے گی، ایسے افراد کے ساتھ تعاون کیا جائے گا، جبکہ رضاکارانہ طور پر نہ جانے والے افراد کو آج (یکم نومبر) سے پروسسنگ زون میں منتقل کر کے ڈیپورٹ کیا جائے گا، ایسے افراد کے خلاف ریاست حرکت میں آئے گی اور قوانین پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائیگا، اب تک 82000 سے زائد غیر قانونی افراد رضاکارانہ طور پر بارڈر کراس کرکے اپنے ممالک جاچکے ہیں،صرف گزشتہ روز ہی 11000 افراد باڈر کراس کر کے اپنے ممالک واپس گئے، صوبے کے مختلف اضلاع میں 52000 غیر قانونی طور پر مقیم افراد کی میپنگ کی گئی ہے جن کے انخلاء کے لئے پلان بھی تیار ہے، محکمہ داخلہ میں مربوط طریقہ کار اپنا کر تمام صورتحال کی سنٹرل کنٹرول روم سے مانیٹرنگ جاری ہے، کنٹرول روم دیگر صوبوں، اضلاع اور محکموں کے درمیان رابطے کا کام کررہا ہے تاکہ غیر قانونی طور پر مقیم افراد کو منظم طریقے سے اپنے ممالک بھیجا جاسکے. ان خیالات کا اظہار انہوں نے محکمہ داخلہ پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا، پریس کانفرنس کے دوران ایڈیشنل چیف سیکرٹری ہوم عابد مجید اور دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے، پریس کانفرنس سے پہلے میڈیا نمائندوں کو کنٹرول مختلف سیکشنز اور طریقہ کار پر بریف بھی کیا گیا. نگران وزیر اطلاعات خیبر پختونخوا بیرسٹر فیروز جمال شاہ کاکاخیل نے کہا کہ غیر قانونی طور پر مقیم افراد کی ان کے اپنے ممالک واپسی کو تین مرحلوں میں مکمل کیا جائے گا، خیبرپختونخوا میں غیر قانونی طور پر مقیم افراد کی واپسی کے لئے اتوار پیر اور منگل کا دن مقرر کیا گیا ہے جبکہ جمعہ اور ہفتہ کو پنجاب اور بدھ جمعرات کو اسلام آباد، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے لئے مختص کیا گیا ہے، غیر قانونی افراد کو مختص کردہ پروسسنگ زون میں رکھا جائے گا جہاں سے وہ اپنے ممالک ڈیپورٹ ہونگے، یکم نومبر سے سنگل ڈ اکومنٹ پالیسی پر عملدرآمد کا آغاز ہو گیا ہے اور پاکستان آنے والوں کو پاسپورٹ ویزہ پر ہی ویلکم کیا جائے گا. نگران صوبائی وزیر نے اس موقع پر کہا کہ عوام کے جان ومال کی حفاظت اولین ترجیح ہے، شہریوں کو پر امن ماحول فراہم کرنے اور بہتر معاشی استحکام کے لئے سخت اقدامات کئے گئے ہیں جس میں سمگلنگ کا خاتمہ، بھتہ خوری و غیر قانونی سم کارڈ کی روک تھام، اور ناجائز منافع خوری کا خاتمہ شامل تھے، جس کے مثبت نتائج برآمد ہوئے اور ملک میں معاشی استحکام آنا شروع ہو گیاہے اور اقدامات کے اس تسلسل کو جاری رکھا جائے گا.
خیبر پختونخوا میں ملاکنڈ تھری پن بجلی گھر کا دلچسپ اور منافع بخش منصوبہ تیار
خیبر پختونخوا کے نگران وزیر اعلیٰ کے مشیر برائے توانائی، پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ ڈاکٹر سرفراز علی شاہ نے کہا ہے کہ ملاکنڈ تھری پن بجلی گھر کا منصوبہ صوبائی حکومت کا ایک مثالی اور منافع بخش آمدن کا ذریعہ ہے جو سستی بجلی پیدا کرنے والی توانائی کے ساتھ ساتھ تقریبا25000ایکڑ ز اراضی سیراب کر رہی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ملاکنڈ IIIتوانائی منصوبے کے دورے کے پر منعقدہ بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت کے اپنے وسائل سے قلیل عرصے میں انتہائی کم لاگت سے تعمیر ہونے والی سستی بجلی پیدا کرنے والی ایک بہترین اور مثالی منصوبہ ہے جس سے صوبائی حکومت کو سالانہ اربوں روپے کا فائدہ پہنچ رہا ہے۔ یہ منصوبہ سال 2002ء میں تقریبا چار ارب روپے کی لاگت سے شروع کیا گیا اور 2008تک چھ سال کے قلیل عرصہ میں پایہ تکمیل تک پہنچایا گیا اور اب تک اس منصوبے سے صوبائی حکومت کو 32ارب روپے آمدن حاصل ہو چکی ہے اور اسطرح یہ منصوبہ نیشنل گرڈ میں شامل کیا گیا۔ اس کے علاوہ مقامی لوگوں روزگار کے مواقع بھی فراہم ہو گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہائیڈرو پاور پراجیکٹ قابل تجدید توانائی کا ایک اہم ذریعہ کے طور پر کھڑا ہے یہ بجلی کی پیداوار اور زرعی ترقی دونوں کے لئے آبی وسائل کے کامیاب استعمال کی مثال دیتا ہے جو خطے کی سماجی و اقتصادی ترقی کے لئے ایک اہم بنیادی ڈھانچے کا منصوبہ بناتا ہے۔ ہائیڈرو پاور کمپلیکس میں اختراعی اقدامات اور کامیابیاں پلانڈ کی کارکردگی کو بہتر بنانے اور مجموعی طور پر ملاکنڈ آپریشنز کو بہتر بنانے او رپیداواری صلاحیت کو حاصل کرنے کے عزم کی نشاندہی کرتی ہے۔
خیبر پختونخوا کے نگران وزیر کھیل امور نوجوانان کی زیرِ نگرانی لکی سپورٹس کمپلیکس کی تشکیل کی ہدایت
خیبر پختونخوا کے نگران وزیر کھیل امور نوجوانان سائنس و انفارمیشن ٹیکنالوجی ڈاکٹر نجیب اللہ مروت نے لکی سپورٹس کمپلیکس ضلع لکی کی قیام کیلیے تشکیل کردہ کمیٹی کے اراکین کو ہدایت جاری کی ہے کہ مذکورہ سپورٹس کمپلیکس کی اراضی کی انتخاب کیلیے آج (منگل) کو سائٹ کا وزٹ کریں اور ایک ہفتے کے اندار اندر کلیئرنس رپورٹ پیش کرکے جلد سے جلد سپورٹس کمپلکس پر کام کا آغاز کریں یہ ہدایت نگران صوبائی وزیر نے اپنے دفتر میں لکی سپورٹس کمپلیکس کی قیام کے حوالے سے منعقدہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے جاری کیا اجلاس میں سیکرٹری سپورٹس حمیداللہ خٹک، ڈپٹی سیکرٹری سپورٹس نائلہ، ڈائریکٹر ڈویلپمنٹ شاہ فاضل، سی پی او عارف اللہ، ڈسٹرکٹ سپورٹس آفیسر ضلع لکی مروت محمد اسماعیل وزیر نے شرکت کی جبکہ ڈپٹی کمشنر لکی مروت رحمت علی نے اجلاس میں ویڈیو کے لنک کے زریعے آئن لائن حصہ لیا اجلاس میں لکی سپورٹس کمپلیکس کے مختلف پہلوؤں کا جائرہ لیا گیا اور نگران صوبائی وزیر کھیل و امور نوجوانان کو تفصیلی بریفنگ دی گئی نگران صوبائی وزیر نےمذکورہ سپورٹس کمپلیکس کیلیے بنائی گئی کمیٹی ممبران کو ہدایت کی کہ لکی سپورٹس کمپلیکس کی قیام کیلیے سائٹ وزٹ کر کے موزوں جگہ کا انتخاب کے بعد منصوبے پر فوراً کام کا آغاز کیا جائیں انہوں نے کہا کہ لکی سپورٹس کمپلیکس کی قیام سے وہاں کے عوام اور بالخصوص نوجوان نسل اور کھیلوں سے دلچسپی رکھنے والوں کیلیے ذیادہ سے ذیادہ مواقع میسر ہونگے لوگوں کو مثبت اور صحت مندانہ سرگرمیوں میں مصروف رکھنے کیلیے سپورٹس کمپلیکس کا قیام نہایت ضروری ہے انہوں نے کہا کہ ماضی میں حکمرانوں نے ضلع لکی مروت کی ترقی پر خاطر خواہ توجہ نہیں دی جو اس پسماندہ علاقہ کو دینی چاہیے تھی بطور نگران صوبائی وزیر ضلع لکی مروت سمیت صوبے کے دیگر اضلاع کی ترقی اور انکی پسماندگی کو دور کرنے کیلیے کوشش کرونگا نگران صوبائی حکومت اپنی اپنی زمہ داریاں مینڈیٹ کے مطابق نبھا رہی ہے
خیبرپختونخوا کے آئندہ چار ماہ کے بجٹ کی منظوری کے بعد نگران وزیر خزانہ کے ہمراہ وزیر اطلاعات کی پریس کانفرنس
وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد اعظم خان کی سربراہی میں منعقدہ کابینہ کے خصوصی اجلاس میں خیبرپختونخوا کے آئندہ چار ماہ کے بجٹ کی منظوری کے بعد نگران وزیر خزانہ احمد رسول بنگش کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے نگران وزیر اطلاعات و تعلقات عامہ بیرسٹر فیروز جمال شاہ کاکاخیل نے کہا کہ صوبے میں مالی مشکلات کے باوجود ایک متوازن بجٹ پیش کیا گیا ہے جس میں گوڈ گورننس کے رہنما اصولوں کو مد نظر رکھتے ہوئے کفایت شعاری اپنا کر مفاد عامہ کے منصوبوں کو جاری رکھنے پر توجہ مرکوز کی گئی ہے، اس مشکل صورتحال میں عمدہ بجٹ تجاویز تیار کرکے محکمہ خزانہ نے بہترین کام کیا ہے، نگران حکومت بغیر کسی اوور ڈرافٹ اور قرضہ لئے حکومتی مالی انتظام اگے بڑھا رہی ہے، نگران وفاقی حکومت سے بہتر سپورٹ ملنے پر صوبے کے مالی امور میں مزید بہتری آنے کی امید ہے، انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد اعظم خان اور چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا نے متعدد بار وفاقی حکومت کے سامنے مالی مشکلات سے متعلق امور رکھے اور نگران وزیر اعظم کے دورہ پشاور کے موقع پر بھی ان کی توجہ اس جانب مبذول کرائی گئی جس پر انہوں نے حل کرنے کی امید دلائی ہے، انہوں نے کہا کہ وفاق کے مالی امور میں بہتری ارہی ہے جس کا صوبے پر بھی مثبت اثر ہوگا. پریس کانفرنس سے خطاب میں وزیر خزانہ احمد رسول بنگش نے کہا کہ محکمہ قانون نے ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا کی مشاورت سے رائے دی کہ غیر معمولی حالات کی وجہ سے صوبائی حکومت 31 اکتوبر 2023 کے بعد حکومتی امور کے لئے بجٹ پیش کرسکتی ہے، نتیجتاً، صوبائی حکومت نے 1 نومبر 2023 سے 29 فروری 2024 تک مزید چار ماہ کے لیے بجٹ کی منظوری کابینہ سے لی گئی ہے. انہوں نے کہا کہ یہ آرٹیکل 121، آرٹیکل 122، اور آرٹیکل 126 اور سپریم کورٹ آف پاکستان ریگولیشن نمبر 1998 سے متعلق فیصلے کے عین مطابق ہے. پریس کانفرنس میں بجٹ اعدادوشمار بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یکم نومبر 2023 سے 29 فروری 2024 کے چار ماہ کے لئے کل بجٹ کا تخمینہ 529 ارب روپے ہے جو گزشتہ چار ماہ کے مقابلے میں 14 فیصد زیادہ ہے، کل ترقیاتی اخراجات 112 ارب روپے رکھے گئے ہیں. بجٹ کی ترجیحات پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ضروری خدمات کی فراہمی اور معاشی ترقی کو فروغ دینے پر توجہ مرکوز کی گئی ہے، بجٹ کا 29 فیصد تعلیم کے لیے مختص کیا ہے، صحت اور فلاح و بہبود کی سہولیات اور خدمات کو بڑھانے کے لئے صحت کے شعبے کے لئے بجٹ کا 19 فیصد مختص کیا گیا ہے اسی طرح امن و امان کو برقرار رکھنے کے لئے پولیس فورس کے لئے بجٹ کا 10 فیصد مختص کیا ہے، کفایت شعاری کے اقدامات کے تحت سرکاری بھرتیوں اور گاڑیوں کی خریداری پر پابندی رہے گی۔
کینیڈائی کمپنی کا خیبر پختونخوا میں معدنی سرمایہ کاری میں دلچسپی کا اظہار
خیبر پختونخوا کے نگران وزیر برائے صنعت وحرفت ،فنی تعلیم اور امور ضم اضلاع ڈاکٹر عامر عبداللہ سے بدھ کے روز انکے دفتر سول سیکرٹریٹ پشاور میں کینیڈا کی معدنی شعبے میں کام کرنے والی عالمی کمپنی “ٹائیٹن کاپر” کے ایک وفد نے ملاقات کی اور انکے ساتھ صوبے کےمعدنی شعبے میں سرمایہ کاری کرنے کیلئے اپنی دلچسپی کا اظہار کیا۔وفد کی سربراہی کمپنی کے چئیر مین ڈیوڈ مائیکل تھامپسن کررہے تھے جبکہ خیبر پختونخوا کے سیکرٹری معدنی ترقی و کان کنی حمید اللہ شاہ،ڈائریکٹر ایکسپلوریشن محکمہ معدنیات محمد عامرودیگر متعلقہ افسران بھی ملاقات میں موجود تھے۔ملاقات کے دوران معدنی شعبے میں کام کرنے والی کینیڈا کی کمپنی نے نگران وزیر کو معدنیات کے مختلف پہلووں میں اپنی سرگرمیوں کے حوالے سے آگاہ کیا اور انھیں یہاں پر خیبر پختونخوا کے معدنی شعبے خصوصی طور پر تانبے کے ذخائر میں سرمایہ لگانے کی خواہش کا اظہار کیا۔وفد نے نگران وزیر سے کہا کہ انکی کمپنی خیبر پختونخوا میں تانبے کے معدنی ذخائر کی تلاش، کان کنی اوران قیمتی قدرتی وسائل کو عالمی معیارات کے مطابق محفوظ طریقے سے نکالنے میں صوبے کیساتھ سرمایہ کاری کرنا چاہتی ہے اور یہاں پر صوبے کے متعدد مقامات پر انکی کمپنی اس معدن میں سرمایہ کاری کیلئے خواہشمند ہے۔وفد نے ملاقات کے دوران ماربل اور گرینائٹ میں بھی کمپنی کی سرمایہ کاری کرنے کا عندیہ دیا۔اس موقع پر نگران وزیر نے کینیڈا کے سرمایہ کار وفد کا صوبے میں سرمایہ کاری کرنے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت صوبے میں بیرونی سرمایہ کاری کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے اور انھیں یقین دلایا کہ یہاں پر سرمایہ لگانے میں کینیڈا کو ہر ممکن سہولت فراہم کی جائے گی اور ان کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔نگران وزیر نے وفد سے کہا کہ ان کو خیبر پختونخوا بورڈ آف انوسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ بطور سہولیاتی ادارہ ہر مرحلے میں مدد فراہم کرے گی ۔انھوں نے کہا کہ محکمہ صنعت صوبے کے مختلف معدنی ذخائر والے علاقوں میں سرمایہ کاروں کو مقامی سطح پر سہولتیں فراہم کرنے کیلئے ان معدنی وسائل سے متعلق صنعتی زونز بھی قائم کررہی ہے۔اس موقع پر وفد کو معدنیات کے حوالے سے سرمایہ کاری کے متعدد مقامات اور وہاں پر پائی جانے والی قیمتی وسائل کی دستیابی کے حوالے سے بریفنگ بھی دی گئی اور انکو وہاں پر دستیاب دھاتی اور دیگر قیمتی معدنیات کے حوالے سے آگاہ کیا گیا۔
نگران معاون خصوصی کی زیرصدارت ہاؤسنگ منصوبوں کا جائزہ؛ فوری ترقیاتی کاموں کی تیزی کی ہدایت۔
نگران وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے ٹرانسپورٹ و ہاؤسنگ ظفراللہ خان عمرزئی کی زیر صدارت محکمہ ہاؤسنگ کی صوبے میں مختلف سکیموں کے حوالے سے جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں ڈائریکٹر جنرل خیبر پختونخوا ہاؤسنگ اتھارٹی روشن محسود، ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل عمران وزیر ودیگر افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں نگران معاون خصوصی ظفراللہ خان عمرزئی کو ہاؤسنگ کے مختلف جاری منصوبوں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی ڈھیری زرداد، بنی گل سٹی بنوں، ورسک II, سول کوارٹر سمیت دیگر ہاؤسنگ سکیموں پر تفصیلی گفتگو ہوئی جبکہ ہاؤسنگ منصوبوں کی موجودہ حیثیت اور ان سکیموں پراب تک ہونے والے ترقیاتی کاموں کے بارے میں بھی نگران معاون خصوصی کو آگاہ کیا گیا اجلاس میں ہاؤسنگ منصوبوں میں حائل رکاوٹوں اور مسائل پر بھی بحث ہوئی اس موقع پر نگران معاون خصوصی ظفراللہ خان عمرزئی نے ہاؤسنگ حکام کو ہدایت کی کہ عوام کے بہتر مفاد میں شروع کئے گئے ہاوسنگ منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے کیلیے فوری اقدامات اٹھائیں اور منصوبوں کو پایہ تکیمل تک پہنچائیں انہوں نے ہاوسنگ سکیموں کی تکمیل میں حائل مشکلات اور انکو قانونی طریقے سے حل کرنے کی یقین دہانی کرائی۔
پختونخوا ریڈیو صوبائی نشریاتی رابطے پر نئی جدت کے ساتھ نیوز بلیٹن اور انفوٹینمنٹ پروگرام پیش کر گا۔
ڈائریکٹر جنرل انفارمیشن خیبرپختونخوا محمد عمران نے کہا ہے کہ پختونخوا ریڈیو کے دس سٹیشنوں سے صوبائی نشریاتی رابطہ پر نئی جدت کے ساتھ نیوز بلیٹن کا آغاز بہت جلد ہوگا جو سوشل میڈیا کے پلیٹ فارم سے دنیا بھر میں دیکھا اور سنا جا سکے گا جبکہ اسکی بدولت خیبرپختونخوا سے تعلق رکھنے والے سمندر پار پاکستانیوں کی انفوٹینمنٹ ضروریات کی تکمیل بھی ہوگی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں پختونخوا ریڈیو ایف ایم 92.2 پشاور کے ہردلعزیز پشتو ادبی و علمی پروگرام “تول پارسنگ” کی ساتویں سالگرہ کے موقع پر بحیثیت مہمان خصوصی خطاب میں کیا۔ پروگرام کے میزبان پروفیسر ڈاکٹر اباسین یوسفزئی اور سید یاسر علی شاہ یاسر تھے جبکہ اس موقع پر پختونخوا ریڈیو کے سٹیشن ڈائریکٹر غلام حسین غازی اور ریڈیو کی پوری ٹیم موجود تھی۔ ڈی جی انفارمیشن کا کہنا تھا کہ محکمہ اطلاعات اور میڈیا کی کارکردگی کے حوالے سے بالعموم پاکستان کے عوام کی نظریں پہلے پنجاب پر مرکوز رہتی تھیں مگر اب ہمارے صوبے کے ڈی جی آئی پی آر کا حوالہ دیا جاتا ہے اور قومی فورمز پر ہماری کارکردگی کی تعریفیں ہو رہی ہیں۔ اسی طرح صوبے کے لیول پر بھی اس کا ایک منفرد مقام ہے۔ محمد عمران نے کہا کہ پختونخوا ریڈیو کے پروگرام براہ راست نشر ہوتے ہیں تاہم موسیقی، ڈرامہ اور مشاعروں سمیت نئی تخلیقات کی ریکارڈنگ کیلئے بہت جلد آف ایئرز سٹوڈیو فنکشنل کیا جا رہا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں ڈی جی انفارمیشن نے کہا کہ ہم پشتو اکیڈمی اور جرنلزم ڈیپارٹمنٹ اور جامعات کے ساتھ بھی ایم او یوز سائن کرینگے تاکہ میڈیا اور ادب و ثقافت کا شغف رکھنے والے طلباء و طالبات صوبائی حکومت کے اس نشریاتی نیٹ ورک سے استفادہ کر سکیں۔ پختونخوا ریڈیو کے پروگراموں کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ بہت سے پروگراموں کی وجہ سے ہمارے اسلاف کو زندہ رکھا گیا چونکہ اس حوالے سے ہمارے نوجوان باخبر نہیں۔ پختونخوا ریڈیو کی نشریات کے حوالے سے محمد عمران نے کہا کہ ہماری کامیابی ہمارے سامعین ہیں اگر یہ نہ ہوں تو ہماری کوئی اہمیت نہیں رہتی۔ ہر دور میں سامعین نے پختونخوا ریڈیو کے ساتھ محبت کی ہے اور ہر پروگرام کو سراہا۔ پختونخوا ریڈیو کے سٹیشن ڈائریکٹر نے اس موقع پر پروگرام منتظمین کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت کی ہدایات کی روشنی میں انفوٹینمنٹ پروگراموں میں مزید جدت لائی جا رہی ہے اور ڈائریکٹر جنرل انفارمیشن کا بار بار ریڈیو آنا اس حقیقت کی غماز ہے. قبل ازیں ڈائریکٹر جنرل انفارمیشن نے پروگرام کے منتظمین اور عملے میں حسن کارکردگی کی اسناد بھی تقسیم کیں۔
