وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر اطلاعات و تعلقات عامہ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا ہے کہ مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کا متعارف کردہ آئی پی پیز ملک کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے، آئی پی پی پیز اشرافیہ کے غضب کرپشن کا دوسرا نام ہے، 90 کی دہائی میں سیاسی اشرافیہ نے آئی پی پیز کیساتھ معاہدے کرکے عوام پر مسلط کیا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے یہاں سے جاری اپنے ایک بیان میں کیا۔انہوں نے کہا کہ 1994، 2002 اور 2015 میں آئی پی پی پیز کوکون لایا اور معاہدوں کی تجدید کس نے کی، حکومت اور آئی پی پیز کیساتھ معاہدے کرکے کن سیاستدانوں اور اہم شخصیات نے پیسہ بنایا۔ بیرسٹر ڈاکٹرسیف نے کہا کہ بااثر خاندانوں اور شخصیات کی وجہ سے 30 سالوں میں ایک بار بھی آئی پی پیز کا آڈٹ نہیں کرایا گیا حالانکہ آڈٹ ہونا چاہیے کہ جن آئی پی پیز کے معاہدے ختم ہوئے ان کے دوبارہ کس کے کہنے پر نئے کنٹریکٹ ہوئے۔مشیر اطلاعات نے کہا کہ آئی پی پی پیز کے کنٹریکٹ فوری فی الفور منسوخ کر کے ان کی شفاف تحقیقات ہونی چاہیئے، آئی پی پی پیز ملک کی معاشی تباہی کی علامت بن چکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ بالکل واضح ہے کہ تحقیقات کے نتیجے میں مشہور زمانہ شریف اور زرداری خاندان اور انکے حواری ہی نکلیں گے۔انہوں نے کہا کہ 2012 میں سپریم کورٹ نے آئی پی پی پیز کی مد میں اشرافیہ کی کرپشن آشکارا کی تھی تاہم اشرافیہ اتنے مضبوط ہیں کہ آج بھی آئی پی پی پیز کے ذریعے ملکی دولت لوٹ رہے ہیں۔ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا کہ نا اہل مینڈیٹ چور حکمرانوں کے پاس انرجی سیکٹر میں ریفارمز لانے کے لئے کوئی پلان نہیں اسی لئے انرجی سیکٹر میں نااہل ٹولے کی غلط پالیسیوں اور معاہدوں کی وجہ سے عوام رل رہے ہیں اور عوام اوور بلنگ اور غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کا سامنے کررہے ہیں۔مشیر اطلاعات بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا کہ آئی پی پی پیز کا مینڈیٹ ملک سے لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ تھا، لوڈشیڈنگ بھی ختم نہ ہوئی اور آئی پی پی پیز کو دھڑا دھڑ پیسے بھی دئیے جارہے ہیں۔
کے پی فوڈ اتھارٹی کا صوبہ بھر میں دودھ فروشوں کے خلاف کریک ڈاؤن، اب تک 72 دودھ کی دوکانیں سیل، لائیسنسز منسوخ، مزید کاروائیاں جاری
ڈائریکٹر جنرل اور ڈپٹی کمشنر پشاور کی نگرانی میں دودھ میں ملاوٹ مافیا پر چھاپے
دودھ میں ملاوٹ جیسے گھناؤنے کاروبار میں ملوث عناصر نے اگر کاروائیوں کے دوران کار سرکار میں مداخلت کی تو مزید سخت تادیبی کارروائی کی جائے گی، ڈائریکٹر جنرل فوڈ اتھارٹی واصف سعید
خیبرپختونخوا فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھارٹی نے دودھ سامپلز کلکشن اور ٹیسٹنگ مہم کے اختتام پر صوبہ بھر میں دودھ فروشوں کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کا آغاز کر دیا ہے اور دودھ کے نمونوں کے تجزیے کی تفصیلی رپورٹ میں بلیک اور ریڈ کیٹگری کے دودھ فروشوں کے خلاف کارروائیاں تیز کر دی گئی ہیں۔ترجمان فوڈ اتھارٹی نے کاروائیوں کی تفصیلات جاری کرتے ہوئے بتایا کہ فوڈ سیفٹی ٹیموں نے اب تک صوبے میں 72 دودھ سے وابستہ کاروباروں کو سیل کر دیا ہے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ پشاور ڈویژن میں ڈائریکٹر جنرل فوڈ اتھارٹی واصف سعید اور ڈپٹی کمشنر پشاور سرمد سلیم اکرم کی نگرانی میں چھاپے مارے گئے جس کے نتیجے میں 23 دودھ کی دوکانیں سربمہر کی گئیں اسکے علاوہ مردان ڈویژن میں 14، سوات میں 8، ہزارہ میں 21، کوہاٹ میں 1 اور ڈی آئی خان میں 5 دودھ فروشوں کی دوکانیں سیل کی گئی ہیں۔ترجمان نے مزید بتایا کہ بلیک اور ریڈ کیٹگری کے دودھ فروشوں کے لائسنسز بھی منسوخ کر دئیے گئے ہیں اور بھاری جرمانے عائد کیے گئے ہیں۔ ڈائریکٹر جنرل فوڈ اتھارٹی واصف سعید نے خبردار کیا ہے کہ دودھ میں ملاوٹ جیسے گھناؤنے کاروبار میں ملوث عناصر نے اگر کاروائیوں کے دوران کار سرکار میں مداخلت کی تو مزید سخت تادیبی کارروائی کی جائے گی۔واضح رہے کہ کے پی فوڈ اتھارٹی نے دس روزہ دودھ سامپلز کلکشن اور ٹیسٹنگ مہم کے دوران صوبہ بھر سے بڑے اور درمیانی سطح کے دودھ سے وابستہ کاروباروں سے 583 دودھ کے نمونے ٹیسٹ کیے اور ٹوٹل نمونوں کا تقریباً 93 فیصد یعنی 541 دودھ کے نمونے غیر معیاری اور مضر صحت رپورٹ ہوئے تھے جبکہ صرف 7 فیصد یعنی 42 نمونے تسلی بخش قرار پائے گئے۔ترجمان نے بتایا کہ غیر معیاری اور ملاوٹی دودھ فروشوں کے خلاف کریک ڈاؤن جاری ہے اور اس مہم کا مقصد عوام کو معیاری اور خالص دودھ کی فراہمی یقینی بنانا ہے۔
صوبائی وزیر فضل حکیم خان یوسفزئی نے کہا ہے کہ پیرامیڈیکل سٹاف محکمہ صحت کے شعبے کا ایک اہم جز ہے
صوبائی وزیر فضل حکیم خان یوسفزئی نے کہا ہے کہ پیرامیڈیکل سٹاف محکمہ صحت کے شعبے کا ایک اہم جز ہے اور فرسٹ ایڈ کے ساتھ ساتھ مریضوں کی صحت یابی کے لیے پیرامیڈیکل سٹاف کی کوششیں قابل تعریف ہیں، صوبائی حکومت ہسپتالوں کے مسائل کو حل کرنے اور صحت کے معیار کوبہتر بنانے کیلئے بھر پورکوشش کررہی ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے سنٹرل ہسپتال سیدو شریف میں سیدو گروپ آف ٹیچنگ ہسپتال کے انصاف پیرا میڈیکس/ الائیڈ ہیلتھ پروفیشنلز فورم ایسوسی ایشن کے نومنتخب عہدیداران کی حلف برداری کے موقع پر منعقدہ تقریب سے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر چیئرمین ڈیڈیک سوات اختر خان ایڈوکیٹ، سیدو گروپ آف ٹیچنگ ہسپتال کے چیف ایگزیکٹو پروفیسر ڈاکٹر اسرار الحق، ایم ایس ڈاکٹر شرافت علی خان، پیرا میڈیکل انسٹیٹیوٹ کے سربراہ ڈاکٹر شیراز، ڈی ایم ایس سنٹرل ہسپتال ڈاکٹر فاروق، طارق خان، ایاز خان، برکت خان سمیت میڈیکل سٹاف اور ڈاکٹروں نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ صوبائی وزیر فضل حکیم خان یوسفزئی نے نو منتخب عہدیداروں سے حلف لیا۔ انہوں نے کہا کہ انصاف پیرامیڈیکس فورم سیاست سے بالاتر ہو کر صحت کے شعبے میں اپنی خدمات کا سلسلہ جاری رکھے، سیدو ٹیچنگ ہسپتال کی بہتری کیلئے ہمیں مشترکہ طور پر جدوجہد کرنا ہوگی۔ تقریب میں نو منتخب انصاف پیرا میڈیکس/ الائیڈ ہیلتھ پروفیشنلز فورم ایسوسی ایشن کے صدر طارق خان اور جنرل سیکرٹری محمد ایاز نے سپاس نامہ پیش کیا۔
بنوں واقعہ کی جوڈیشل انکوائری کے لئے چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ کو خط لکھیں گے، بیرسٹرڈاکٹر سیف
وزیراعلی آج بروز جمعہ بنوں کا دورہ کرینگے، بیرسٹر ڈاکٹر سیف کی پریس کانفرنس
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے اطلاعات و تعلقات عامہ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا کہ صوبائی اپیکس کمیٹی کے اجلاس میں صوبے میں امن و امان اور بنوں واقعے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر بات ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ بنوں میں دو نا خوشگوار واقعات پیش آئے ایک واقعہ 15جولائی کو بنوں کینٹ پر دہشتگردوں کے حملے کا تھا جس کا مقابلہ کرتے ہوئے سیکیورٹی اہلکاروں نے تمام حملوں آوروں کو ہلاک کیا۔ دہشتگردوں کیساتھ مقابلے میں فوجی جوان بھی شہید ہوئے جبکہ 19 جولائی کو مقامی تاجروں نے بنوں میں غیر سیاسی امن مارچ کی کال دی جس میں مقامی افراد نے بھرپور شرکت کی۔ امن مارچ کے اختتام پر دوسرا ناخوشگوار ا واقعہ پیش آیا،انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت اور مقامی انتظامیہ نے مظاہرین کے نامزد کردہ قبائلی عمائدین پر مشتمل وفد سے مذاکرات کئے جبکہ اس تمام عمل کی نگرانی وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا خود کررہے تھے۔قبائلی عمائدین پر مشتمل وفد کو وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے اپیکس کمیٹی اجلاس میں شرکت کی دعوت دی۔ اپیکس کمیٹی اجلاس کے فیصلوں کے بارے میں تفصیلات بتاتے ہوئے بیرسٹر سیف نے کہا کہ دہشتگرد ہر روپ میں قابل مذمت ہیں اور ان کے خلاف بلا تفریق کاروائی کی جائے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعلیٰ نے پولیس کو احکامات دئیے ہیں کہ اگر کوئی بھی غیر سرکاری شخص مسلح پایا گیا تو اسے گرفتار کر کے سخت قانونی کاروائی کی جائے گی۔ مزید براں، کسی بھی غیر سرکاری مسلح گروہ کے دفاتر، اڈے یا چیکنگ غیر قانونی ہے اور ان کے خلاف پولیس بلا تفریق ایکشن لے گی۔ یہ امر تمام صوبے کیلئے ہے۔ آپریشن کے متعلق عسکری اداروں نے واضح بتادیا ہے کہ ایسی کوئی بات نہیں اس لئے صوبے میں کوئی آپریشن نہیں ہو رہا۔ مقامی طور پر دہشتگرد عناصر کے خلاف کاروائی پولیس اور سی ٹی ڈی کریں گی جس مقصد کیلئے انکی استعداد بشمول نفری، گاڑیاں، بکتر بند، آتشیں ہتھیار بڑھائیں جارہے ہیں۔ البتہ کچھ علاقوں کی نوعیت، جغرافیہ اور بارڈر سے نزدیکی ایسی ہے کہ افواج پاکستان کی مدد کے بغیر کاروائی ممکن نہیں۔ ایسی صورت میں حالات کے مطابق کاروائی کی جائے گی تاکہ سی ٹی ڈی اور دیگر اداروں کی استعداد اس قابل ہوسکے۔پولیس کو ہدایت جاری کر دی گئی ہے کہ فوری طور پر باقاعدہ اور ہمہ وقت گشت کو یقینی بنائے اور موجودہ نفری اور گاڑیوں کے تمام صوبہ بشمول جنوبی اضلاع کو ترجیحی بنیادوں پر اضافی مدد فراہم کرے۔ نئی آسامیوں کی تخلیق میں بھی ان تمام علاقوں کو ترجیح دی جارہی ہے اور یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ مشکوک علاقہ جات و مدارس پر کاروائی CTD کی ذمہ داری ہے اور یہ کاروائی CTD کرے گی۔چونکہ سرحدی قبائلی اضلاع کے عوام مقامی قبائل کے ساتھ تجارت پر انحصار کرتے ہیں جس کیلئے مختلف سرحدوں پر نقل و حرکت ہوتی رہی ہے۔ جیسے کہ طورخم، خرلاچی، انگوراڈہ۔ اسی طرح غلام خان اور باجوڑ و مہمند کے روایتی بارڈرز پر بھی تجارت کی اجازت دی جائے(اس سلسلے میں کیس وفاقی حکومت کے پاس پہلے سے پیش ہے)۔ اس سے مقامی روزگار ملے گا اور خوشحالی بھی آئے گی اور قانونی کاروبار سے سمگلنگ کی بھی حوصلہ شکنی ہوگی اور محصولات میں بھی آمدن ہوگی۔عوام اور اداروں کے مابین بعض اوقات غلط فہمیاں جنم لیتی ہیں جن کا فوری اور مقامی حل نہایت ضروری ہے۔ ہر کمشنر کی سطح پر کمیٹیاں مقرر ہونگی جن میں عوامی نمائندے، سول، عسکری اور پولیس کے نمائندے ہونگے جو ایسے کسی بھی واقعہ یا مسئلہ پر فوری جرگہ بلائیں گے اور قابل عمل حل نکالیں گے۔ تاکہ عوام اور تمام ادارے ملکی امن اور ترقی کیلئے ہم آہنگی سے مشترکہ لائحہ عمل بناکر آگے بڑھ سکیں۔ ایسی کمیٹیاں ضلعی سطح پر بھی تشکیل دی جائیں گی۔ بنوں واقعہ کی جوڈیشل انکوائری کیلئے عدلیہ کو درخواست دی جائے گی۔ تاہم حکومت اپنی انکوائری بھی کرائے گی اور ذمہ داران کا تعین کر ے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ وفاقی حکومت اور خصوصا وفاقی وزیر اطلاعات عطاء تارڑ اور گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے عزم استحکام کی طرح بنوں واقعے پر بھی سیاست چمکانے کی کوشش کی اور انتہائی غیر ذمہ دارانہ بیانات دئے۔ اتنے اہم قومی معاملے پر غیر ذمہ دارانہ بیانات دینا سمجھ سے بالاتر ہے۔ اس ٹولے نے ہمیشہ سیاسی مفادات کو قومی مفادات پر ترجیح دی حالانکہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سردار علی امین گنڈاپور کی بروقت مداخلت سے بنوں میں حالات سازگار ہوگئے تھے۔ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے مزید کہا کہ وزیر دفاع خواجہ آصف عملی اقدامات کی بجائے صرف سیاسی بیان بازی سے کام لے رہے ہیں ملکی سرحدات پر وفاقی ادارے تعینات ہیں مگر وفاقی حکومت خیبر پختونخوا حکومت کے خلاف زہریلہ پروپیگنڈا کر رہی ہے۔
خیبر پختونخوا کے وزیر برائے اعلیٰ تعلیم و پرو چانسلر میناخان آفریدی کی زیر صدارت یونیورسٹی آف سوات کے سینیٹ اراکین
خیبر پختونخوا کے وزیر برائے اعلیٰ تعلیم و پرو چانسلر میناخان آفریدی کی زیر صدارت یونیورسٹی آف سوات کے سینیٹ اراکین نے یونیورسٹی کے سال 25-2024 کیلیے 900.709 ملین روپے کے بجٹ کی متفقہ طور پر منظوری دیدی جمعرات کے روز کے یوینورسٹی آف سوات کی سینیٹ اجلاس منعقد ہوا، اجلاس میں صوبائی وزیر لائیوسٹاک اینڈ فشریز فضل حکیم خان، یونیورسٹی وائس چانسلر، محکمہ اعلی تعلیم، خزانہ، ہائیر ایجوکیشن کمیشن اسلام آبادکے نمائندہ سمیت سینیٹ کے دیگر اراکین نے شرکت کی اجلاس میں یونیورسٹی کی سال25 -2024 بجٹ پر تفصیلی بریفنگ دی گئی جبکہ یونیورسٹی کی سال 24-2023 کا بھی جائزہ لیا گیا بریفنگ میں یونیورسٹی کی عملے کی تنخواہوں اور دوسرے اخراجات پر تفصیل سے گفتگو ہوئی صوبائی وزیر میناخان آفریدی نے یونیورسٹی کی سال 24-2023 کے بجٹ کو اے جی اور تھرڈ پارٹی آڈٹ کرانے کے احکامات جاری کئے۔
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے بہبود آبادی اور پاکستان تحریک انصاف ضلع دیر کے صدر ملک لیاقت علی خان نے کہا
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے بہبود آبادی اور پاکستان تحریک انصاف ضلع دیر کے صدر ملک لیاقت علی خان نے کہا ہے کہ بہبود آبادی کا براہِ راست تعلق عوام سے ہے محکمہ بہبود آبادی کے تمام پروگراموں کا مقصد عوام کی فلاح اور آنے والی نسلوں کی بہترین نشوونما کو یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مانع حمل ادویات کے درست استعمال اور صحت مندانہ زندگی کی بسر کے لیے لوگوں میں آگاہی اور شعور پیدا کرنے کے لیے بہترین اور موثر انداز میں کام کرنے کی ضرورت ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنے دفتر میں مختلف مکتبہ فکر کے وفود سے ملاقات کے دوران کیا۔ ملاقات میں محکمہ بہبود آبادی کے سینئر افسران بھی موجود تھے۔معاون خصوصی نے کہا کہ آبادی میں بے تحاشہ اضافے کو کنٹرول کرنے کے لیے محکمہ بہبودِ آبادی کلیدی کردار ادا کر رہا ہے آبادی کے اضافے پر کنٹرول حاصل کرنے سے عوام کی اجتماعی صحت اور معاشی و معاشرتی حالت میں بہتری لائی جا سکتی ہیں۔ ملک لیاقت علی خان نے کہا کہ عوامی فلاح کے لیے موجودہ وسائل کی تقسیم اور عوام میں بہبودِ آبادی کے حوالے سے شعور مزید بڑھانے کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھا رہے ہیں پورے صوبے میں بہبودِ آبادی کے مراکز کی عوام کیلئے دستیابی کومزید قریب کیا جا رہا ہے تاکہ عوام کو ان کی دہلیز پر متعلقہ سہولیات میسر ہو سکیں۔
خیبر پختونخواکے وزراء ارشد ایوب اور شکیل احمد نے ضلع مالاکنڈ بٹ خیلہ کے بلدیاتی نظام کے انتظامی امور،فنڈ ز کی کمی
خیبر پختونخواکے وزراء ارشد ایوب اور شکیل احمد نے ضلع مالاکنڈ بٹ خیلہ کے بلدیاتی نظام کے انتظامی امور،فنڈ ز کی کمی اور وہاں پر سرکاری اراضی اور املاک کو بہتر طریقے سے استعمال میں لانے کے لئے اقدامات کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہاں کے بلدیاتی نظام کو مزید موثر بنانے اور اس کے اخراجات میں کمی کرنے اورسرکاری املاک سے زیادہ سے زیادہ آمدن حاصل کرنے کے لئے موجودہ مارکیٹ ریٹ کے مطابق ان کے کرایے مقررکئے جائیں تاکہ ٹی ایم اے کی مالی مشکلات حل ہوں۔ اسی طرح مالاکنڈ ٹی ایم اے کو چار کروڑ روپے ری شیڈول کر دیئے گئے ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ضلع مالاکنڈ کے ٹی ایم ایز کو درپیش مسائل کے حل کے لئے منعقدہ ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر چیف انجنیئر لوکل گورنمنٹ، آر ایم او، ٹی ایم او، اے ڈی سی مالاکنڈ، تحصیلوں کے چیر مین اور دیگر متعلقہ افسران بھی موجود تھے۔اجلاس میں بٹ خیلہ اورتھانہ تحصیل بائزئی کو محکمہ بلدیات کے حوالے سے ان کے مسائل کے حل کے لئے اور بلدیاتی نظام کو عوامی امنگوں کے مطابق مزیر کارآمد بنانے اور اس کی آمدن بڑھانے کے لئے کئی اہم فیصلے کئے گئے۔ صوبائی وزراء نے ضلع مالاکنڈ کے بلدیاتی نظام کی کار کردگی کو تسلی بخش قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے مسائل اتنے زیادہ نہیں بلکہ ان کے پاس وسائل زیادہ ہیں اگر ان کو صحیح طریقے سے استعمال میں لایا جائے تو ان اقدامات سے صوبے کی آمدن میں خاطر خواہ اضافہ کیا جا سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ضلع مالاکنڈکے لئے سنٹرلائیز سولرائزیشن کا پی سی ون تیار کیا جا رہا ہے جس سے وہا ں کے ٹی ایم اے پر بجلی کا زیادہ بل جیسے مسائل کا حل ممکن ہو سکے گا۔انہوں نے کہ اکہ محکمہ بلدیات آئی ٹی بورڈ کے ساتھ مل کر ایک ایسا ڈیش بورڈ بنارہا ہے جس سے آسانی سے ہر جگہ کام کی مانیٹرنگ کی جاسکے گی۔اسی طرح خیبر پختونخوا کی حکومت لیز پالسی متعارف کر رہی ہے جس سے پبلک پرائیویٹ پارٹنر شب کے تحت عوامی منصوبوں پر کام ہو گا۔انہوں نے ہدایت کی کہ تمام سرکاری گاڑیوں میں چپ(Chip) لگائی جائیں اس کے علاوہ ٹی ایم اے میں پرانی مشینری اور ناکارہ گاڑیوں کی فوری نیلامی کا بندوبست کیا جائے اور جہاں جہاں پرسرکاری دکانیں اور عمارتیں بوسیدہ ہو چکی ہیں ان کو فوری طور پر مسمارکر دیا جائے اور وہاں پر جدید طرز کی عمارتیں اور دکانیں تعمیر کی جائیں۔
وزیر اعلی خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے صنعت وحرفت اور فنی تعلیم عبدالکریم تورڈھیر کی زیر صدارت
وزیر اعلی خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے صنعت وحرفت اور فنی تعلیم عبدالکریم تورڈھیر کی زیر صدارت خیبر پختونخوا اکنامک زونز ڈویلپمنٹ اینڈ منیجمنٹ کمپنی کے ہیڈ آفس پشاور میں مختلف اکنامک زونز کو سستی بجلی کی فراہمی کے امور کے حوالے سے ایک اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں چیف ایگزیکٹیو آفیسر کے پی ایزڈمک جاوید اقبال خٹک،چیف ایگزیکٹیو آفیسر خیبر پختونخوا ٹرانسمیشن لائنز اینڈ گرڈ کمپنی محمد ایوب سمیت ایس آئی ڈی بی،پیڈو،بورڈ آف انوسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ اور بجلی کے ترسیلی لائنز کے نجی ادارے ”سواتی کارپوریشن” کے نمائندوں نے شرکت کی۔اجلاس میں صنعتوں کو سستی بجلی کی فراہمی کیلئے ایک ریگولیٹری اتھارٹی کے قیام کی اہمیت پر زور دیا گیا۔اسی طرح چترال میں شیشی پاور ھاؤس سے 12 کلومیٹر طویل ٹرانسمشن لائن چترال اکنامک زون تک لانے جبکہ پیہور ھاؤس سے گدون اکنامک زون کو ایک کلومیٹر طویل علحیدہ ٹرانسمشن لائن کے قیام پر بھی غور کیا گیا۔اجلاس میں چکدرہ اور مانسہرہ میں مجوزہ طور پر نئے اکنامک زونز کے امکانات بھی زیر بحث ائے جن کے سلسلے میں ممکنہ طور پر چکدرہ میں مزکورہ زون کے قیام کی صورت میں علاقائی پاور ہاؤسز سے 1035 میگاواٹ اور مانسہرہ میں مجوزہ زون کو مانسہرہ میں مقامی بجلی سے 728 میگا واٹ بجلی فراہم ہوسکتی ہے۔اس موقع پر فیصلہ کیا گیا کہ چترال اکنامک زون کو مقامی پاور ہاؤس سے بجلی کی فراہمی کے منصوبے پر بطور پائلٹ پروجیکٹ فوری طور پر کام شروع کیا جائے اور اس کو دیگر زونز کیلئے سستی بجلی کی فراہمی کے سلسلے میں بطور ماڈل منصوبہ قرار دے کر شرع کیا جائے۔اس حوالے سے معاون خصوصی نے ہدایت کی کہ پیڈو،کے پی ایزڈمک اور خیبر پختونخوا ٹرانسمشن لائنز اینڈ گرڈ کمپنی کے حکام مل بیٹھ کر اس منصوبے پر جلد از جلد کام شرع کرنے کیلئے تمام درکار مراحل طے کریں۔ اس موقع پر معاون خصوصی کا کہنا تھا کی صنعتوں کو سستی بجلی کی فراہمی سے صوبے میں صنعتکاری کے فروغ میں مدد ملے گی اورصنعتوں کی فعالیت سے یہاں پر لوگوں کو روزگار بھی ملے گا۔انھوں نے کہا کہ توانائی کے مقامی پیداواری منصوبوں سے صنعتوں کو سستی بجلی کی فراہمی معاشی ترقی کی جانب ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا کیونکہ اس وقت صنعتوں کو توانائی کے مسلے کا سامنا ہے۔انھوں نے کہا کہ ہم صوبے میں صنعت کاری کے فروغ کیلئے ہر پہلو سے کوشش کررہے ہیں تاکہ یہاں پر صنعتوں اور سرمایہ کاروں کو اسانیاں اور سہولیات فراہم ہوسکیں۔
چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا ندیم اسلم چوہدری کا ریسکیو1122 ہیڈکوارٹر کا دورہ
چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا ندیم اسلم چوہدری کا ریسکیو1122 ہیڈکوارٹر کا دورہ، ڈائریکٹر جنرل ریسکیو1122 ڈاکٹر محمد آیاز خان نے خوش آمدید کہا اور پھولوں کا گلدستہ پیش کیا، اس موقع پر ریسکیو1122 کے چاق و چوبند دستے نے سلامی پیش کی، چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا نے ریسکیو1122 کی جانب سے لگائے گئے ایمبولینس، فائر ویکل، ڈیزاسٹر ویکل، سنارکل، میڈیکل و فائر موٹر سائیکل سمیت دیگر آپریشنل آلات و مشینری کا جائزہ لیا، جس پر ڈائریکٹر جنرل ریسکیو1122 نے تفصیلی بریفنگ دی، چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا ندیم اسلم چوہدری نے ریسکیو1122 کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ریسکیو1122 سروسز کا کوئی نعم البدل نہیں جس کے ملازمین کسی بھی قدرتی و ناگہانی آفات کے ساتھ ساتھ روزمرہ ایمرجنسیز میں خیبرپختونخوا کے عوام الناس کو شب وروز پیشہ وارانہ خدمات فراہم کررہے ہیں، چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا نے کہا کہ ریسکیو1122 کو جدید ترین آپریشنل آلات سے لیس کیا جارہا ہے، جس میں وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کے احکامات پر ان کے زیر استعمال ہیلی کو ایمبولینس بنانے کے لیے طریقہ کار واضح کیا جاہیگا، جو دور دراز علاقوں کے اضلاع میں کسی بھی نا خوشگوار واقعات کے دوران فورا پہنچ کر مریض و زخمی کو بروقت خدمات فراہم کریں گے۔ ریسکیو1122 کو اندرون شہر اور بے ہنگم ٹریفک سے بچاؤ اور جلد از جلد پہنچنے کے لیے مزید میڈیکل بائیکس فراہم کیے جائیں گے تاکہ جلد از جلد جائے حادثہ پر پہنچ کر بروقت امدادی کاروائیاں ممکن بنائی جائیں، چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا ندیم اسلم چوہدری نے کہا کہ خیبرپختونخوا بالخصوص پشاور میں بلند و بالا عمارتوں کی تعمیر کے دوران ایمرجنسی ایگزٹس (ہنگامی راستے) کے قیام کو یقینی بنایا جائے اور ایسی عمارتوں میں خدمات اور رسائی کے لیے سنارکلز فراہم کیے جائیں گے اور ریسکیو1122 ادارے کو موجود تمام مسائل اور ضروریات کو فی الفور حل کیا جائیگا، اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل ریسکیو1122 ڈاکٹر محمد آیاز خان نے کہا کہ ریسکیو1122 خیبرپختونخوا کے تمام اضلاع میں عوام الناس کو بلا تفریق اور یکساں خدمات فراہم کررہا ہے، ریسکیو1122 نے قیام سے اب تک کم و بیش 12 لاکھ ایمرجنسیز میں خدمات فراہم کیں ہیں جبکہ کم و بیش 2 لاکھ بیس ہزار ریفریل ایمرجنسیز میں مریضوں و زخمیوں کو چھوٹے ہسپتالوں سے بڑے ہسپتالوں اور ایک ضلع سے دوسرے ضلع اور صوبے منتقل کرکے علاج و معالجے کو یقینی بنایا۔ اس موقع پرچیف سیکرٹری خیبرپختونخوا کو یادگاری شیلڈ بھی پیش کی۔
خیبرپختونخوا ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں امن و امان کی بحالی کیلئے اہم فیصلے
ایپکس کمیٹی کی نشست کا بنیادی مقصد حکومت خیبرپختونخوا اور دیگر اداروں بشمول پاک فوج اور پولیس کی دہشتگردی کے خاتمے اور صوبے میں امن قائم کرنے کی مشترکہ کوششوں کا احاطہ کرنا ہے۔
صوبے میں امن و امان کے قیام اور دہشتگردی کے خاتمے کیلئے، حالات اور واقعات کے پس منظر میں وزیراعلیٰ نے ایک جامع پالیسی پر کام کی ہدایات جاری کی ہوئی ہےں۔ اس پالیسی کی سفارشات ایپکس کمیٹی میں پیش کی جارہی ہےں۔ اس دوران بنوں میں دو ناخوشگوار واقعات پیش آئے جس کے بعد مقامی مشران نے انتظامیہ اور اداروں کے ساتھ بات چیت اور تعاون کرتے ہوئے حالات کو سدھارنے میں مدد کی جو کہ قابل قدر ہے۔
حکومت اور تمام اداروں کی یہ سعی ہے کہ خیبرپختونخوا میں دیر پا امن اور خوشحالی ہو جس مقصد کےلئے وزیراعلیٰ، سول ، پولیس وعسکری اداروں کے نمائندگان آج اکھٹے ہوئے۔ انہی مقاصد کیلئے مندرجہ ذیل فیصلوں کی توثیق کی گئی۔
دہشتگرد ہر روپ میں قابل مذمت ہیں اور ان کے خلاف بلا تفریق کاروائی کی جائے گی۔ اس سلسلے میں پولیس کو وزیراعلیٰ نے احکامات دئیے ہیں کہ اگر کوئی بھی مسلح غیر سرکاری شخص پایا گیا تو اسے گرفتار کر کے اس کے خلاف بھر پور قانونی کاروائی کی جائے گی۔ مزید براں، کسی بھی غیر سرکاری مسلح گروہ کے دفاتر، اڈے یا چیکنگ غیر قانونی ہے اور ان کے خلاف پولیس بلا تفریق ایکشن لے گی۔ یہ امر تمام صوبے کیلئے ہے۔
آپریشن کے متعلق عسکری اداروں نے واضح بتادیا ہے کہ ایسی کوئی بات نہیں اس لئے صوبے میں کوئی آپریشن نہیں ہو رہا۔ مقامی طور پر دہشتگرد عناصر کے خلاف کاروائی پولیس اور سی ٹی ڈی کرے گی جس مقصد کیلئے انکی استعداد بشمول نفری، گاڑیاں ، بکتر بند، آتشیں ہتھیار بڑھائی جارہی ہے۔ البتہ کچھ علاقوں کی نوعیت ، جغرافیہ اور بارڈر سے نزدیکی ایسی ہے کہ افواج پاکستان کی مدد کے بغیر کاروائی ممکن نہیں۔ ایسی صورت میں حالات کے مطابق کاروائی کی جائے گی تاوقتہ کہ سی ٹی ڈی اور دیگر اداروں کی استعداد اس قابل ہوسکے۔
پولیس کو ہدایت جاری کر دی گئی ہے کہ فوری طور پر باقاعدہ اور ہمہ وقت گشت کو یقینی بنائے اور موجودہ نفری اور گاڑیوں کے تمام صوبہ بشمول جنوبی اضلاع کو ترجیحی بنیادوں پر اضافی مدد فراہم کرے۔ نئی آسامیوں کی تخلیق میں بھی ان تمام علاقوں کو ترجیح دی جارہی ہے اور یہ سلسلہ جاری رہے گا۔
مشکوک علاقہ جات و مدارس پر کاروائی سی ٹی ڈی کی ذمہ داری ہے اور یہ کاروائی سی ٹی ڈی کرے گی۔
چونکہ سرحدی قبائلی اضلاع کے عوام مقامی قبائل کے ساتھ تجارت پر انحصار کرتے ہیں جس کےلئے مختلف سرحدوں پر نقل و حرکت ہوتی رہی ہے۔ جیسے کہ طورخم، خرلاچی، انگوراڈہ۔ اسی طرح غلام خان اور باجوڑ و مہمند کے روایتی بارڈرز پر بھی تجارت کی اجازت دی جائے( اس سلسلے میں کیس وفاقی حکومت کے پاس پہلے سے پیش ہے)۔ اس سے مقامی روزگار ملے گا اور خوشحالی بھی آئے گی اور قانونی کاروبار سے سمگلنگ کی بھی حوصلہ شکنی ہوگی اور محصولات میں بھی آمدن ہوگی۔
عوام اور اداروں کے مابین بعض اوقات غلط فہمیاں جنم لیتی ہیں جن کا فوری اور مقامی حل نہایت ضروری ہے۔ ہر کمشنر کی سطح پر کمیٹیاں مقرر ہونگی جن میں عوامی نمائندے ، سول، عسکری اور پولیس کے نمائندے ہونگے جو ایسے کسی بھی واقعہ یا مسئلہ پر فوری جرگہ بلائیں گے اور قابل عمل حل نکالیں گے۔ تاکہ عوام اور تمام ادارے ملکی امن اور ترقی کیلئے ہم آہنگی سے مشترکہ لائحہ عمل بناکر آگے بڑھ سکیں۔ ایسی کمیٹیاں ضلعی سطح پر بھی تشکیل دی جائیں گی۔
بنوں واقعہ کی جوڈیشل انکوائری کیلئے عدلیہ کو درخواست دی جائے گی۔ تاہم حکومت اپنی انکوائری بھی کرائے گی اور ذمہ داران کا تعین کر ے گی۔
ایپکس کمیٹی کی رائے میں پر امن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے لیکن ساتھ ہی ساتھ سب کا یہ فرض ہے کہ قانون اور ضابطہ اخلاق کی پاسداری ہو۔ لاقانونیت اور پر تشدد احتجاج سے گریز کیا جائے۔ تاکہ دیگر عناصر اس کو کسی اور مقصد کیلئے استعمال نہ کریں۔
