Home Blog Page 294

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا سابق خاصہ دار فورس کے شہداء کے بچوں کو پولیس میں بھرتی کرنے کا اعلان

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سردار علی امین خان گنڈاپورنے سابق خاصہ دار فورس کے شہداءکے بچوں کو پولیس میں بھرتی کرنے کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ ضم اضلاع کے عوام کے ساتھ جو وعدے کئے گئے ہیں وہ ایک ایک کرکے پورے کئے جائیں گے ، ضم اضلاع کو اپنا پورا پورا حق دیا جائے گا، ملک وقوم کیلئے قبائلی عوام کی بے شمار قربانیاں ہیں ۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ وہ وعدہ کریں گے جو پورا کرسکیں ،ضم اضلاع کی ترقی کیلئے آئندہ مالی سال کے صوبائی بجٹ میںوعدے سے زائد فنڈز مختص کئے ہیں ۔ صوبے کے پسماندہ اضلاع کو بندوبستی اضلاع کے برابر لانا عمران خان کا وژن ہے ، اسے ہر صورت عملی جامہ پہنایا جائے گا۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ضم اضلاع سب سے زیادہ متا ثر ہوئے ہیں، اب ان اضلاع کو ترقی دے کر ان کی محرومیوں کا ازالہ کرنا ہے، لوگوں کیلئے روزگار کے مواقع کرنے ، صحت و تعلیم کی سہولیات مقامی سطح پر فراہم کرنے کیلئے منصوبہ بندی کر رہے ہیں جبکہ اگلے سال کے بجٹ میں نوجوانوں کو اپنے کاروبار شروع کرنے کیلئے بلا سود قرضے دیں گے اور ضم اضلاع کے نوجوانوں کیلئے بلاسود قرضوں میں کوٹہ مختص کیا جائے گا۔ ان خیالات کا اظہار اُنہوںنے اتوار کے روز ضلع خیبرکے عمائدین پر مشتمل کثیر رکنی قبائلی جرگے کے ساتھ وزیراعلیٰ ہاﺅس میں ملاقات کے دوران کیا ۔ رکن قومی اسمبلی اقبال آفریدی اور سابق وفاقی وزیر نورالحق قادری کی سربراہی میں ملاقات کرنے والے جرگے میں رکن صوبائی اسمبلی عبد الغنی آفریدی ،ضلع خیبر کے ملک صاحبان اور علاقہ عمائدین شامل تھے ۔ جرگے نے وزیراعلیٰ کو مختلف شعبوں سے جڑے علاقے کے مسائل سے تفصیلی آگاہ کیا جن میں صحت، تعلیم، روڈز انفراسٹرکچر ، پینے کا صاف پانی ، بجلی کی لوڈ شیڈنگ اور دیگر شامل ہیں۔ وزیراعلیٰ نے ضم اضلاع کی ترقی کیلئے ہونے والی منصوبہ بندی سے متعلق جرگے کو آگاہ کیا اور کہاکہ موجودہ دور حکومت میں اتنے ترقیاتی کام ہوں گے جو ضم اضلاع کی تاریخ میں پہلے کبھی نہیں ہوئے ہوں گے ۔ اُنہوںنے کہاکہ ترقیاتی منصوبوں کیلئے فنڈز حکومت فراہم کرے گی مگر کام کے معیار پر نظر رکھناعلاقے کے لوگوں کی ذمہ داری ہے، ترقیاتی منصوبے عوام ہی کے ٹیکس کے پیسے سے چلتے ہیں ، عوام ان کی اتنی ہی نگرانی کریں جتنی اپنی ذاتی چیزوں کی کرتے ہیں، اگر کہیں کوئی ترقیاتی کام غیر معیاری ہے تو فوری روکیں۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ عوام میری ٹیم ہیں، منشیات اور کرپشن کے خاتمے کیلئے میر ا دست و بازو بنیں ، یہ دونوں چیزیں ملک وقوم کی بنیادیں کھوکھلی کر رہی ہیں ۔ علی امین گنڈا پور نے کہاکہ علاقے کی ضروریات کو مدنظر رکھ کر ترقیاتی منصوبے شروع کئے جائیں گے ،یہ علاقے کے لوگوں نے فیصلہ کرنا ہے کہ کس علاقے میں کونسا منصوبہ شروع کیا جائے ۔ وزیراعلیٰ نے مائننگ کے حوالے سے کہاکہ صوبائی حکومت مائننگ سے متعلق نئی پالیسی لا رہی ہے ،جن علاقوں میں مائننگ ہو تی ہے ان علاقوں کو پورا پورا حق دیا جائے گا۔ وزیراعلیٰ نے مزید کہاکہ ضم اضلاع میں امن و امان کی صورتحال کی بہتری کیلئے ایک جامع حکمت عملی کے تحت اقدامات اُٹھا رہے ہیں کیونکہ صوبے کی ترقی و خوشحالی امن سے وابستہ ہے جب ایک علاقے میں امن ہو گا تو وہ ترقی بھی کرے گا اور خوشحالی بھی ہو گی ۔ اُنہوںنے کہاکہ ضم اضلاع کے سابق خاصہ داروں کے جو مسائل ہیں وہ مل بیٹھ کر حل کئے جائیں گے ۔ وفاقی حکومت ضم اضلاع کے پورے پیسے ادا نہیں کر رہی، صوبے کے حقوق کے حصول کیلئے عوام بالخصوص ضم اضلاع کے عوام حکومت کاساتھ دیں ۔ اُنہوںنے کہاکہ وہ صوبے کے حقوق کے حصول کیلئے ہر فورم پر آواز اُٹھا رہے ہیں اور اُٹھاتے رہیں گے جب تک صوبے کو اپنا حق مل نہیں جاتا ۔ علی امین گنڈا پورا کا کہنا تھا کہ ملک پر اُنہی لوگوں کو دوبارہ مسلط کیا گیا ہے جن کی وجہ سے ملک اس نہج پر پہنچا ہے ۔ جرگے نے ملاقات کیلئے وقت دینے اور ضلع خیبرکے مسائل کو توجہ سے سننے پر وزیراعلیٰ کا شکریہ ادا کیا اور صوبے بالخصوص ضم اضلاع کے حقوق کیلئے موثر انداز میں آواز اُٹھانے پرانہیں خراج تحسین پیش کیا ۔ جرگے نے بجلی کے معاملات سمیت صوبے کے حقوق کیلئے وزیراعلیٰ اور صوبائی حکومت کا بھر پور ساتھ دینے کی یقین دہانی کرائی ۔

صوبائی وزیر صحت نے جناح میڈیکل کالج پشاور کی کانوکیشن تقریب میں شرکت کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو

صوبائی وزیر صحت سید قاسم علی شاہ نے جناح میڈیکل کالج پشاور کی کانوکیشن تقریب میں شرکت کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جناح میڈیکل کالج پشاور کے کانوکیشن کے تحت 2009 سے 2023 بیچ کے 167 گریجویٹں میں ڈگریاں تقسیم کی گئیں۔انہوں نے کہا کہ مذکورہ کانوکیشن میں 45 پوزیشن ہولڈرز جبکہ 181 گولڈ میڈلسٹ میں ڈگریاں اور انعامات تقسیم کیے گئے۔انہوں نے کہا کہ جناح کالج کے پرنسپل پروفیسر ڈاکٹر عامر خان, پروفیسر ڈاکٹر محمد اسحاق اور دیگر تمام فیکلٹی ممبران کی کاوشیں قابل تحسین ہیں۔وزیر صحت نے کہا کہ آج کل میرے وزارت کی تبدیلی کے حوالے سے افواہیں زیر گردش ہیں جسمیں کوئی صداقت نہیں،کچھ لوگوں کو افواہیں اور غلط بیانی کی عادت ہوگئی ہے۔صحت کارڈ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے قاسم علی شاہ نے کہا کہ جب سے ہم نے حکومت سنبھالی ہے اسی دن سے صحت کارڈ تمام ہسپتالوں میں ایکٹیو کردیا گیا ہے،صحت کارڈ میں تمام بیماریوں کا مفت علاج دستیاب ہے جوخیبر پختونخوا حکومت کا ایک بہترین اور عوام دوست پراجیکٹ ہے۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیر برائے سیاحت و ثقافت اور آثارقدیمہ زاہد چن زیب نے محکمہ سیاحت و آثارقدیمہ کے حکام کے ہمراہ گورنر ہاؤس اور سول سیکرٹریٹ پشاور کے عقب میں واقع پشاور عجائب گھر کا تفصیلی دورہ کیا

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیر برائے سیاحت و ثقافت اور آثارقدیمہ زاہد چن زیب نے محکمہ سیاحت و آثارقدیمہ کے حکام کے ہمراہ گورنر ہاؤس اور سول سیکرٹریٹ پشاور کے عقب میں واقع پشاور عجائب گھر کا تفصیلی دورہ کیا اور اس کے مختلف حصے دیکھے۔ انہوں نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ عجائب گھر میں اس خطے سے تعلق رکھنے والے گندھارا تہذیب سے لیکر دوسری و تیسری صدی عیسوی کے دور دیو مالائی داستانوں کے حامل نایاب آثار و نوادرات محفوظ ہیں۔ مشیر سیاحت کا کہنا تھا کہ زندہ قومیں اسی طرح اپنی تاریخ کو محفوظ بناتی اور ساتھ ہی اس سے سبق سیکھتی ہیں اور ایسی قومیں اپنی جہد مسلسل کی بدولت بہت سرعت کے ساتھ پسماندگی کی دلدل سے نکل کر ترقی کے بام عروج کو پہنچ جاتی ہیں۔ اس موقع پر ڈائریکٹر آرکیالوجی ڈاکٹر عبدالصمد نے انہیں عجائب گھر میں دور فرنگ کے وکٹوریہ ڈانسنگ کلب کا میدان رقص دکھایا جو ملکہ وکٹوریہ کی یاد میں پوری شان و شوکت کے ساتھ 1907ء میں ایک سال کے قلیل عرصے میں تعمیر ہوا۔ بعدازاں ایک انگریز باشندے بوب رائٹسن نے اسے لیز پر حاصل کرکے ڈانسنگ ہال اور تفریحی کلب بنا دیا تاہم 1974ء میں اسے عجائب گھر بنا دیا گیا۔ ڈاکٹر عبدالصمد نے مشیر سیاحت کو بتایا کہ عجائب گھر ہفتہ کے ساتوں روز سیاحوں کیلئے کھلا رہتا ہے اور سیاحوں کے رش کے سبب آمدن کا بڑا ذریعہ بھی ہے۔ پورے برصغیر میں اس عجائب گھر کی انفرادیت یہ ہے کہ خیبر پختونخوا میں موجود 90 فیصد گندھارا تہذیب کے آثار اور مہاتما بدھ کے جنم دن سے لیکر وفات تک پوری داستان حیات یہاں محفوظ ہے جو بدھ مذہب میں پیغمبر کا درجہ رکھتے ہیں۔ مجموعی طور پر عجائب گھر میں بین الاقوامی اہمیت کے 14 ہزار نوادرات رکھے گئے ہیں جن میں بدھ نوادرات کے علاوہ قرآن مجید کے ابتدائی قلمی نسخے، مغل تصاویر و سکے، کشان، ہنز و دیگر حملہ اوروں کے آثار اور قدیم قبائلی اسلحہ، زیورات، مردانہ و زنانہ ملبوسات اور دستکاریاں قابل ذکر ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ عجائب گھر کی نوادرات کو سوئٹزرلینڈ سمیت مختلف عالمی نمائشوں میں پیش کیا گیا تو زبردست بین الاقوامی پذیرائی کے سبب قیمتی ایوارڈ بھی حاصل کئے۔ مشیر سیاحت نے اس بات کو سراہا کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ذریعے عجائب گھر کی الماریوں میں رکھے گئے نوادرات اور مجسموں کے ساتھ بار کوڈ بھی لگائے گئے ہیں اور کوئی بھی ملکی و غیر ملکی سیاح اپنے موبائل ایپلیکیشن کے ذریعے اپنی زبان میں انکی پوری تفصیلات و تاریخ جان سکتا ہے۔ تاہم زاہد چن زیب نے ہدایت کی کہ مختلف گیلریوں اور الماریوں میں رکھے نوادرات اور مجسموں کی شوکیسنگ بھی جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے جاذب نظر بنائی جائے تاکہ سیاحوں کی ان میں دلچسپی مسلسل برقرار رہے۔ اسی طرح ورچول ٹورازم کے ذریعے ان نوادرات کی عالمی سطح پر تشہیر پر بھی توجہ دی جائے۔ مشیر سیاحت نے عجائب گھر کو مغل طرز تعمیر کا بہترین نمونہ قرار دیا اور اسکی دیکھ بھال یقینی بنانے کی ہدایت بھی کی۔

خیبر پختونخوا کے وزیر مواصلات و تعمیرات شکیل احمد نے کہا ہے کہ عوام کو آمدورفت کی سہولیات دینے اور تجارت و سیاحت کی سرگرمیوں کے فروغ کے لئے سڑکوں اور موٹرویز کی تعمیر ضروری ہے

خیبر پختونخوا کے وزیر مواصلات و تعمیرات شکیل احمد نے کہا ہے کہ عوام کو آمدورفت کی سہولیات دینے اور تجارت و سیاحت کی سرگرمیوں کے فروغ کے لئے سڑکوں اور موٹرویز کی تعمیر ضروری ہے جس کے لئے صوبائی حکومت بھر پور اقدامات اٹھا رہی ہے اور سوات موٹروے فیز۔ II کا منصوبہ اسی سلسلے کی کڑی ہے جسے علاقے کے عوام کی امنگوں کے عین مطابق مکمل کیا جا رہا ہے۔ان خیا لات کا اظہار انہوں نے سوات موٹر وے فیز۔II کے حوالے سے پشاور میں منعقدہ ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر صوبائی وزیر جنگلات و ماحولیات فضل حکیم خان،وزیر اعلیٰ کے معاون خصوصی برائے ہاؤسنگ ڈاکٹر امجد علی،سوات سے تعلق رکھنے والے اراکین قومی اور صوبائی اسمبلی سمیت سوات موٹر وے فیز۔II کے پراجیکٹ ڈائریکٹر برکت علی، منیجنگ ڈائریکٹر خیبر پختونخوا ہائی ویز اتھارٹی اسد علی اور دیگر افسران بھی موجود تھے۔ اجلاس میں سوات موٹروے فیز۔II کے منصوبے کے موجودہ تعمیراتی ڈیزائن اور منصوبے کو عوامی توقعات کے مطابق مفید بنانے پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ اس موقع پر شرکاء اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ 36.50بلین روپے کی لاگت پر مشتمل سوات موٹر وے فیز۔IIتقریبا 80 کلومیٹر طویل ہوگی اور 9پلوں کی تعمیر کے ساتھ 7انٹرچینج بھی منصوبے میں شامل ہیں جبکہ درکار اراضی کے حصول کے لیے 21.5 بلین روپے مختص کئے گئے ہیں۔صوبائی وزیر مواصلات نے کہا ہے کہ سوات موٹروے فیز۔I کی کامیابی کے بعد صوبائی حکومت اب فیز۔II کی تعمیر شروع کررہی ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ تعمیراتی منصوبے عوامی فلاح و بہبود کے لئے ہوتے ہیں اور سوات موٹر وے فیز۔II میں جہاں کہیں بھی مقامی لوگوں کومسائل کا سامنا ہے تو صوبائی حکومت پوری سنجیدگی کے ساتھ انہیں حل کرنے پر توجہ مرکو ز کئے ہوئے ہے۔صوبائی وزیر نے اس ضمن میں حکومتی سطح پرایک کمیٹی بھی تشکیل دی جو مقامی لوگوں کے منصوبے کے حوالے سے تحفظات دور کرنے، ڈیزائن میں مزید بہتری پیدا کرنے اور اسے عوامی ضرورتوں سے ہم آہنگ بنانے کے لئے اپنی سفارشات مرتب کرکے سوات موٹر وے فیز۔II کے حوالے سے منعقدہونے والے ا ٓئندہ اجلاس میں پیش کرے گی۔

وفاقی حکومت کی طرف سے ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فیصد سے زیادہ اضافہ کرنے پر صوبائی حکومت بھی یکساں اضافہ کرے گی تا ہم یہ اضافہ وفاقی حکومت کی جانب سے صوبے کے پورے ٹیکس واجبات کی ادائیگی سے مشروط ہوگا، مشیر خزانہ خیبر پختونخوا، مزمل اسلم

وفاقی حکومت کی طرف سے ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فیصد سے زیادہ اضافہ کرنے پر صوبائی حکومت بھی یکساں اضافہ کرے گی تا ہم یہ اضافہ وفاقی حکومت کی جانب سے صوبے کے پورے ٹیکس واجبات کی ادائیگی سے مشروط ہوگا جواس سال دسمبر 2024 میں یکم جولائی سے یکمشت ادا کیا جائیگا۔ ان خیالات کا اظہار مشیر خزانہ خیبر پختونخوا مزمل اسلم نے مختلف سرکاری ملازمین کی ایسوسی ایشن کی مذاکراتی کمیٹی سے خطاب کرتے ہوئے کیا، مذاکراتی کمیٹی میں روئیداد خان، وزیر زادہ، نصیر الدین، سلیم خان، افسر خان، ملک اعجاز، اختر بی بی، عشرت ملک، رفاصیت مہر، شفا رس خان، عبدالغفور، سراج الدین اور عزیز اللہ و دیگرشامل تھے،اجلاس میں سرکاری ملازمین کی مختلف ایسوسی ایشن نے مشیر خزانہ خیبر پختونخوا مزمل اسلم کو سول سیکٹریٹ پشاور میں اپنے اپنے مطالبات پیش کیے جس پر مشیر خزانہ نے کہا کہ اس اجلاس میں صرف اجتماعی مطالبات کو زیر غور لایا جائے گا جبکہ باقی ایسوسی ایشن کے مطالبات کو جولائی سے باقاعدہ الگ الگ سنا جائے گا، اور اس کے حل کے لیے اقدامات اٹھائے جائیں گے، مذاکراتی کمیٹی نے پنشن اصلاحات کے حوالے سے مختلف تحفظات کا اظہار کیا جس پر مشیر خزانہ نے مل بیٹھ کر حکمت عملی اپنانے کا کہاجس پر وفاقی بجٹ کے بعد کام کا آغاز کیا جائے گا۔ مشیر خزانہ نے کہا کہ بغیر اصلاحات کے اسی تناسب سے پنشن کا نظام چلتا رہا تو ایک دن آئے گا کہ حکومت دو آپشن میں سے ایک کا انتخاب کرنے پر مجبور ہوگی کہ پنشن دیں یا تنخواہیں۔مذاکراتی کمیٹی کو مشیر خزانہ نے صوبے کی معاشی صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی اور کہا کہ مطالبات بہت زیادہ ہیں اور ہم اپنے وسائل کے مطابق اس کو حل کرنے کے لیے اقدامات اٹھائیں گے، مشیر خزانہ نے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت نے پہلے دن سے صحت کارڈ کو بحال کیا ہے اور دیگر ریلیف کے کاموں کے لیے فنڈز جاری کیے ہیں، مزمل اسلم نے کہا کہ صوبے کی کل آمدن ساڑھے چھ فیصد ہے جبکہ 93.5 فیصد آمدن وفاق سے آتی ہے اور صوبے کی آمدن بڑھانے کے لیے اخراجات میں کمی اور ٹیکس اصلاحات سے آمدن بڑھانے کی کوشش کی جا رہی ہے، مشیر خزانہ نے کہا کہ تمام جائز مطالبات کو حل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

خیبر پختون خوا کے وزیر موصلات و تعمیرات شکیل احمد نے کہا ہے کہ محکمے کی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے کے لیے کچھ ضروری اور اہم اصلاحات کر رہے ہیں جن سے عوامی منصوبوں کی بروقت تکمیل ہوگی اور ان کامعیار بہتر ہوگا جبکہ عوامی سکیموں کے لیے ٹنڈرز کے حصول کے لیے خاص شرائط لاگو ہوں گی

خیبر پختون خوا کے وزیر موصلات و تعمیرات شکیل احمد نے کہا ہے کہ محکمے کی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے کے لیے کچھ ضروری اور اہم اصلاحات کر رہے ہیں جن سے عوامی منصوبوں کی بروقت تکمیل ہوگی اور ان کامعیار بہتر ہوگا جبکہ عوامی سکیموں کے لیے ٹنڈرز کے حصول کے لیے خاص شرائط لاگو ہوں گی جن کی بدولت یہ منصوبے شفاف انداز میں تکمیل تک پہنچیں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کے روز خیبر پختونخوا کنٹریکٹرایسوسی ایشن کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں کنٹریکٹرز ایسوسی ایشن نے اپنے مسائل کے حوالے سے صوبائی وزیر کو اگاہ کیا اور بتایا کہ سکیموں کی تکمیل کے لیے فنڈز کی کمی کا مسئلہ درپیش ہے۔صوبائی وزیر نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عوامی منصوبوں کی بروقت تکمیل اور اعلیٰ معیار پر ہرگز سمجھوتا نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سردار علی امین گنڈاپور کی واضح ہدایت ہے کہ اب عوامی منصوبوں کی تکمیل ایک یا دو سال میں ہوگی کیونکہ پرانے منصوبے جو سالوں سے نامکمل ہیں اب ان کی کاسٹ تین گنا بڑھ گئی ہے انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخواکے کنٹریکٹر کو درپیش مسائل سے وہ بخوبی آگاہ ہیں اور ان کے مسائل زیادہ تر فنڈزسے متعلق ہیں اور فنڈز کی منصفانہ تقسیم کے حوالے سے مناسب اقدامات اٹھائے جائیں گے۔ کنٹریکٹر ایسوسی ایشن نے صوبائی وزیرکی یقین دہانی اور ان کے مسائل میں دلچسپی لینے پر ان کا شکریہ ادا کیا اور مکمل تعاون کا یقین دلایا۔اجلاس میں سیکر ٹری مواصلات و تعمیرات ڈاکٹر اسد علی اور دیگر افسران بھی موجود تھے۔

خیبر پختونخوا کے زیر برائے اعلیٰ تعلیم میناخان آفریدی نے۔کہا ہے کہ حکومت صوبائی ہائیر ایجوکیشن کمیشن(ایچ ای سی) کے قیام کے لئے کوشاں ہے

خیبر پختونخوا کے زیر برائے اعلیٰ تعلیم میناخان آفریدی نے۔کہا ہے کہ حکومت صوبائی ہائیر ایجوکیشن کمیشن(ایچ ای سی) کے قیام کے لئے کوشاں ہے اور اس سلسلے میں مختلف قوائد و ضوابط طے کئے جا رہے ہیں تاکہ صوبے کی یونیورسٹیوں کے تعلیمی، تحقیقی اور مالی و انتظامی امور سمیت دیگر تمام معاملات کو خوش اسلوبی کے ساتھ چلایا جا سکے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں معیاری تعلیم کی فراہمی صوبے کی ذمہ داری ہے اور اس حوالے سے یونیورسٹیوں کو درپیش مالی مشکلات کو حل کرنے میں معاونت سمیت دیگر مسائل کے خاتمے کے لئے حکومتی سطح پرہر ممکن اقدمات اٹھائے جارہے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہزارہ یونیورسٹی میں بریفنگ کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ صوبائی وزیر نے ہزارہ یونیورسٹی کا تفصیلی دورہ بھی کیا انہوں نے یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محسن نواز،مختلف فیکلٹیز کے ڈینز اور پروفیسرز سے ملاقات کی صوبائی وزیر کو یونیورسٹی میں جاری تعلیمی و تعمیراتی منصوبوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی صوبائی وزیر نے ہزارہ یونیورسٹی میں زیر تعلیم طلباء و طالبات کی سکالر شپ کے مسائل کو صوبائی اور وفاقی حکومتوں کے ساتھ اٹھانے کا عندیہ دیا اور کہا کہ طلبہ کو بہترین تعلیمی سہولیات کی فراہمی ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے جس کے لئے تمام تر کوششیں بروئے کار لائی جارہی ہیں صوبائی وزیر کا قومی سطح پر معاشی اور معاشتری ترقی میں کردار کے حوالے سے کہنا تھا کہ یونیورسٹی کے ORICاور QAC دفاتر معیاری تعلیم، تحقیق اور یونیورسٹی کے صنعتی یونٹس سے روابط سمیت دیگر کاروباری اداروں سے وابستگی کے لئے کلیدی اہمیت کے حامل ہیں اور اس کے لئے ضروری ہے کہ مذکورہ دونوں دفاتر اپنا مثبت اور بھرپور کردار ادا کریں اور دونوں کی مضبوطی سے معیاری تعلیم اور ریسرچ کاکام ممکن ہے انہوں نے یونیورسٹی کے مالیاتی ڈسپلن کی تعریف کی اور یونیورسٹی کی مالی حالت پر اطمینان کا اظہار کیا انہوں نے یونیورسٹی طلباء کی تعلیمی مشکلات کے حل اور انہیں دیگر سہولیات فراہم کرنے پر وائس چانسلر کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ طلباء کی مدد کرنے اور ان کی رہنمائی میں ہمیشہ پیش پیش رہتے ہیں جو قابل تحسین ہے۔انہوں نے وائس چانسلر کو طلباء کی فلاح و بہبود کے لئے مزید اقدامات کرنے کے بارے میں متعدد تجاویزبھی دیں اس موقع پر مانسہرہ کے ایم پی اے اکرام غازی اور سیاسی شخصیت کمال سلیم سواتی، یونیورسٹی کے ڈینز، پروفیسرز، فیکلٹی ممبران اور انتظامی افسران بھی موجود تھے صوبائی وزیر نے دورہ کے موقع پر یونیورسٹی میں پودا بھی لگایا۔

خیبر پختونخوا کے وزیر برائے محنت فضل شکورخان نے کہا ہے موجودہ دور میں دنیاوی تعلیم کے ساتھ ساتھ دینی تعلیم کی حصول ناگزیر ہے علم روشنی ہے جو زندگی کے طور طریقوں کے ساتھ اچھے اور برے میں تمیز بھی سکھاتی ہ

خیبر پختونخوا کے وزیر برائے محنت فضل شکورخان نے کہا ہے موجودہ دور میں دنیاوی تعلیم کے ساتھ ساتھ دینی تعلیم کی حصول ناگزیر ہے علم روشنی ہے جو زندگی کے طور طریقوں کے ساتھ اچھے اور برے میں تمیز بھی سکھاتی ہے علم کے بغیر زندگی گزارنا مشکل ہوجاتا ہے انسان کو علم کے حصول کے ذریعے ہی روشنی عطاء ہوتی ہے اور انہی علم کی بدولت انسان دنیا کے وسائل کو صحیح اور بہتر طور پر استعمال کرسکتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے دی علم فاؤنڈیشن کے زیراہتمام پشاور میں ”ٹیچرز آر لیڈرز” کے عنوان سے منعقدہ تقریب میں بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا تقریب میں علمائے کرام،اساتذہ، سول سوسائٹیز کے نمائندوں سمیت دیگر نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ صوبائی وزیر نے اپنے خطاب میں کہا درس و تدریس کی ترویج و فروغ میں علمائے کرام کا کردار کسی سے پوشیدہ نہیں ہے علمائے کرام ہمارے لیے مشعل راہ ہیں علمائے اور اساتذہ کرام کا معاشرے کی کردار سازی میں بہت اہمیت ہے روئے زمین پر اچھا انسان اور ذمہ دار شخص بنانے میں انہی علمائے کرام اور اساتذہ کا کردار ہوتاہے انہوں نے کہا کہ تدریس کے شعبے سے وابستہ لوگ مہذب ہونگے تو ایک بہترین اور مہذب قوم تشکیل پائے گی۔ انہوں نے علم فاؤنڈیشن کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ فاؤنڈیشن نے معاشرے میں ذمہ داری والے کام کو ترجیح دی ہے جو کہ صدقہ جاریہ ہے اور اس کارخیر میں ہمیں اپنے حصے کا تعاون کرنا چاہیے۔

خیبر پختونخوا انڈر 23 انٹر ریجنل گیمز کے سلسلے میں ڈائریکٹوریٹ آف سپورٹس خیبرپختونخواء کے زیرہتمام صوبے کے مختلف اضلاع میں جاری کھیلوں کے سلسلے میں پشاورنے سکوائش ایونٹ اپنے نام کرلیا

خیبر پختونخوا انڈر 23 انٹر ریجنل گیمز کے سلسلے میں ڈائریکٹوریٹ آف سپورٹس خیبرپختونخواء کے زیرہتمام صوبے کے مختلف اضلاع میں جاری کھیلوں کے سلسلے میں پشاورنے سکوائش ایونٹ اپنے نام کرلیا اور فائنل میں پشاورنے ہزارہ کوتین دوسے شکست دی۔پشاورکی طرف سے خوشحال ریاض نے ہزاہ کے وجیہہ اللہ کو تین دو سے ہرایا اوررزلٹ گیارہ سات،گیارہ آٹھ،سات گیارہ اورسات گیارہ رہاجبکہ آذان نے شملان کوگیارہ چھ،گیارہ چار،گیارہ تیرہ اورگیارہ نوسے ہرادیا۔کراٹے کے مقابلے میں پشاورکے کھلاڑی نے برتری حاصل کرلی۔ حیات آباد سپورٹس کمپلیکس میں کھیلے گئے کراٹے ایونٹ میں گذشتہ روزکے نتائج کے مطابق 50کلوگرام وزن کے مقابلے میں پشاورکے ایم سلمان نے سونے بنوں کے زاہد اللہ نے چاندی جبکہ کوہاٹ کے محمدسلیمان اورمردان کے مبین ملک نے کانسی کے تمغے جیتے۔55کلوگرام مقابلے میں پشاورکے ایم ابرار پہلے،بنوں کے روخان دوسرے،ملاکنڈ کے صابر خان اورمردان کے عبداللہ نے کانسی کاتمغہ حاصل کیا۔60kg میں پشاورکے شہاب الدین سو نے کاتمغہ جیتنے میں کامیاب رہے۔اس ایونٹ میں ہزارہ کے مدثر نے دوسری جبکہ کوہاٹ کے عامر حمزہ اورپشاورکے عبداللہ کانسی کاتمغہ لے سکے۔67کلوگرام مقابلے میں پشاورکے بلال اول،ہزارہ کے احمد علی دوئم رہے جبکہ کانسی کے تمغے ملاکنڈ کے اسدا للہ اورکوہاٹ کے احدالرحمن نے جیتے۔75کلوگرام مقابلے میں ملاکنڈکے ارشد نے سونے جبکہ مردان کے ایم سلمان نے چاندی کاتمغہ جیتا۔84کلوگرام مقابلے کے فائنل میں پشاورکے راحد خان نے کوہاٹ کے مصباح اللہ کو شکست دی۔90کلوگرام کاایونٹ بنوں کے عدنان اورانفرادی مقابلوں کا میدان ہزارہ کے شیرقادرعلی نے جیتا۔کوہاٹ کے حارث حبیب دوسرے، پشاورکے احتشا م تیسرے نمبر پر رہے جبکہ مردان کے حامد کانسی کاتمغہ جیتنے میں کامیاب رہے۔دیگر کھیلوں کے نتائج کے مطابق بیڈمنٹن ایونٹ میں میزبان پشاور،سوات،مردان اوربنوں نے سیمی فائنل کے لیے کوالیفائی کرلیا۔پہلے کوآرٹرفائنل میں پشاور۔سوات نے ڈی آئی خان مردان نے ہزارہ اوربنوں نے کوہاٹ کے خلاف کامیابی حاصل کی۔حیات آبا دکرکٹ سٹیڈیم میں جاری کرکٹ کے پہلے سیمی فائنل میں مردان نے پشاورکو شکست دیکر فائنل کیلئے کوالیفائی کرلیا۔اس موقع پرڈائریکٹرسپورٹس حیات آباد سپورٹس کمپلیکس نعمت اللہ مروت مہمان خصوصی تھے جبکہ ڈپٹی ڈائریکڑاپریشنل جمشید بلوچ اورڈائریکٹراپریشنل عزیز اللہ بھی موجودتھے۔

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے اطلاعات و تعلقات عامہ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا ہے کہ لندن پلان کو تقویت دینے کے لئے آصف زرداری نے دبئی میں ڈیرے ڈالے ہیں

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے اطلاعات و تعلقات عامہ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا ہے کہ لندن پلان کو تقویت دینے کے لئے آصف زرداری نے دبئی میں ڈیرے ڈالے ہیں۔ ملک ریاض کو بانی پی ٹی آئی کے خلاف گواہ بنانے کے لئے سرتوڑ کوششیں جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صدر زرداری ملک ریاض کو منانے دبئی پہنچ گئے ہیں۔ ملک ریاض کے ڈٹ جانے پر بحریہ ٹاون کے دفاتر پر چھاپے مارے جارہے ہیں اور بحریہ ٹاون کے عملے کو اغوا کیا گیا ہے۔ جعلی فارم 47 حکومت کے اوسان خطا ہیں۔ حواس باختہ ٹولہ عمران خان کے خلاف ہر حد تک جانے کو تیار ہے۔ اسکی تمام تدابیر رائیگاں جائیں گی۔ اعلیٰ عدالتوں میں سازشی ٹولے کے جھوٹے کیسوں سے ہوا نکل رہی ہے۔ سازشی ٹولے کو فکر ہے کہ کہیں عمران خان جیل سے باہر نہ نکال آئیں۔ عمران خان کی رہائی سے سازشی مافیا کی جان نکل رہی ہے۔ راج کماری کابینہ نے بھی خان کے خلاف ایکشن لینے کی منظوری دی جو آرٹیکل 10کی خلاف ورزی ہے۔