خیبرپختونخوا کے وزیر برائے جنگلات، ماحولیات، موسمیاتی تبدیلی و جنگلی حیات فضل حکیم خان یوسفزئی نے جرمن کے ایف ڈبلیو ڈیولپمنٹ بینک کی جانب سے بلین ٹری فارسٹیشن سپورٹ پروجیکٹ خیبرپختونخوا کی سرگرمیوں کے لئے فراہم کردہ 15 فیلڈ وہیکل وصول کیں۔ یہ گاڑیاں فاریسٹ ڈویژنوں کی صلاحیت کو مزید مضبوط، غیر قانونی کٹائی اور اسمگلنگ کی سرگرمیوں کو کنٹرول کرنے اور جنگلات سے متعلق خدمات پہنچانے کے مقصد کے استعمال میں لائی جائیں گی۔ گاڑیاں حوالہ کرنے کی تقریب پشاور میں BTTP-10 کے پروجیکٹ آفس میں منعقد ہوئی، اس موقع پر ممبر صوبائی اسمبلی سلطان روم بھی موجود تھے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فضل حکیم خان یوسفزئی کا کہنا تھا کہ ہمارے محکمے کی بنیادی ذمہ داری جنگلات کی حفاظت ہے اس سلسلے میں کوئی غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی انہوں نے کہا کہ صوبے میں جنگلات کی تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے تمام تر دستیاب وسائل بروئے کارلائے جائیں گے اور درختوں کی غیر قانونی کٹائی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اورجنگلات کی کٹائی کی سرگرمیوں میں ملوث عناصر سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا اور انہیں نشان عبرت بنایا جائے گا۔
شندور پولو فیسٹیول جمعہ 28 جون کو شیڈول کے مطابق شروع ہوگا، بختیار خان
مشیر سیاحت کی ہدایات کی روشنی میں تین روزہ فیسٹیول کی تیاریوں کو حتمی شکل دیدی گئی ہے، ضلعی انتظامیہ کے اعلی حکام موقع پر انتظامات کا مسلسل جائزہ لے رہے ہیں
ڈی سی اپر چترال نے مقامی سطح پر عیدالاضحی کی چھٹیاں منسوخ کر دی ہیں، مقامی لوگوں سے بھی مسلسل رابطوں میں ہیں
فیسٹیول میں پولو میچز کے علاؤہ چترال اور گلگت بلتستان کی لوک دھنوں پر مبنی محفل موسیقی بھی منعقد ہوگی، سیکرٹری محکمہ سیاحت و ثقافت
مشیر سیاحت کا انتظامات پر اطمینان کا اظہار، عیدالاضحی کے فوراً بعد محکمہ سیاحت کی انتظامی ٹیمیں شندور بھیجنے کی ہدایت
سیکرٹری محکمہ سیاحت و ثقافت خیبرپختونخوا محمد بختیار خان نے کہا ہے کہ مشیر سیاحت و ثقافت زاہد چن زیب کی ہدایات کی روشنی میں شندور پولو فیسٹیول کے تمام انتظامات کو حتمی شکل دیدی گئی ہے جو وزیراعلیٰ کی اعلان کردہ تاریخ یعنی جمعہ 28 جون کو شروع ہو گا۔ اس تین روزہ فیسٹیول میں شرکت کیلئے پاکستان کے علاؤہ دنیا بھر سے سیاحوں کو خوش آمدید کہتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے محکمہ سیاحت و ثقافت پشاور کے کانفرنس روم میں منعقدہ جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ سیکرٹری محکمہ سیاحت کا کہنا تھا کہ ڈپٹی کمشنر اپر چترال سمیت چترال کے دونوں اضلاع کی انتظامیہ کے اعلیٰ حکام شاہراہِوں اور سیکورٹی انتظامات کا بذات خود مسلسل جائزہ لے رہے ہیں جبکہ ڈپٹی کمشنر اپر چترال نے مقامی سطح پر ملازمین کی چھٹیاں بھی منسوخ کر دی ہیں اور مقامی لوگوں اور زعماء سے بھی مسلسل رابطوں میں ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ عیدالاضحیٰ کے فوراً بعد محکمہ سیاحت و ثقافت کی مختلف انتظامی ٹیمیں شندور پولو فیسٹیول کیلئے روانہ کر دی جائینگی تاکہ شندور گراؤنڈ پر تیاریوں کو نہ صرف فول پروف بنا کر حتمی شکل دی جائے بلکہ مزید بہترین انتظامات بھی کئے جائیں اور جہاں جہاں ضرورت ہو وہاں سیاحوں کیلئے اضافی سہولیات بھی مہیا کی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کی طرف سے اعلان شدہ تاریخوں پر ہی شندور پولو فیسٹیول کا انعقاد کیا جائے گا۔ تین روزہ فیسٹیول میں چترال اور گلگت بلتستان کی پولو ٹیموں کے سنسنی خیز مقابلوں کے علاؤہ ان علاقوں کے فنکار اور گلوکار مقامی دھنوں پر محفل موسیقی میں پرفارم کرینگے۔ فیسٹیول میں ہر سال کی طرح امسال بھی مقامی ثقافتی دستکاریوں اور مصنوعات کے سٹالز سجائے جائینگے۔ فیسٹیول کی اختتامی تقریب 30 جون کو شندور پولو گراؤنڈ پر منعقد ہوگی جس میں رنگا رنگ ثقافتی پروگراموں اور فنکاروں کی پرفارمنس کے علاؤہ پیرا گلائڈنگ اور دیگر فن کے مظاہرے بھی پیش کئے جائینگے۔ درایں اثناء مشیر سیاحت و ثقافت زاہد چن زیب نے شندور پولو فیسٹیول کے سلسلے میں جاری انتظامات اور تیاریوں پر اطمینان کا اظہار کیا ہے جو ڈویژنل اور ضلعی انتظامیہ سے مسلسل رابطوں میں ہیں۔ مشیر سیاحت نے اس سلسلے میں چترال کے دونوں اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز کی مسلسل نگرانی اور کوششوں کو سراہا ہے۔ انہوں نے عیدالاضحی کے فوراً بعد محکمہ سیاحت کے اعلیٰ انتظامی افسران کی ٹیمیں شندور بھیجنے اور تمام انتظامات کو ہر لحاظ سے فول پروف بنانے کی ہدایت کی۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس تین روزہ فیسٹیول کو عالمی معیار کے مطابق ہر لحاظ سے کامیاب اور یادگار ترین سیاحتی میلہ بنایا جائے گا جس کی گونج بین الاقوامی سطح پر سنائی دے گی۔
صوبے میں عوام کو بہتر طبی سہولتوں کی فراہمی کے لئے بھر پور اقدامات جاری ہیں۔ صوبائی وزرا
خیبر پختونخوا کے وزیر مواصلات و تعمیرات شکیل احمد اور وزیر صحت سید قاسم علی شاہ نے کہا ہے کہ ضلع مالاکنڈ میں صحت کی جدید طبی سہولیات کی فرامی کو یقینی بنانے کے لیے فوری اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں موجودہ حکومت کی اولین کوشش ہے کہ صوبے کے عوام کو بہتر اور تمام تر صحت کی بنیادی سہولیات ان کی دہلیز پر فراہم کی جائیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کے روزضلع مالاکنڈ میں صحت کی سہولیات کے حوالے سے منعقدہ ایک جائزہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں رکن صوبائی اسمبلی گل ابراہیم،سیکرٹری محکمہ صحت محمود اسلم، ڈائریکٹر جنرل صحت، ڈی ایچ او مالاکنڈ اور ایم۔ ایس سمیت دیگر افسران بھی موجود تھے۔ اجلاس میں وزیر مواصلات و تعمیرات شکیل احمد نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ضلع مالاکنڈ میں صحت کی سہولیات کی فراہمی کے لئے ہسپتالوں، رورل ہیلتھ سنٹرز اور بنیادی مراکز صحت کو اپ گریڈ کرنے اور ان میں سٹاف کی کمی کو پورا کرنے کے ساتھ جدید مشینری سے لیس کرنے کی ضرورت ہے۔ اس موقع پر صوبائی وزیر صحت نے یقین دلایا کہ ضلع مالاکنڈ میں صحت سے متعلق جتنے بھی مسائل ہیں ان کو فوری حل کرنے کے لیے بھرپور اقدامات اٹھائے جائیں گے تاکہ وہاں کے عوام کو صحت کی جدید سہولیات میسر آسکیں۔
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے اطلاعات و تعلقات عامہ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا ہے
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے اطلاعات و تعلقات عامہ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا ہے کہ جعلی فارم 47 حکومت کو تحفظ دینے کے لئے ریٹائرڈ ججز کی تعیناتی شروع ہوگئی ہے۔ حتیٰ کہ بغض عمران میں پی سی او ججز بھی الیکشن ٹریبونلز میں شامل کیے جارہے ہیں۔ ریٹائرڈ ججز الیکشن ٹریبونلز میں شامل کرانا چور کی داڑھی میں تنکے والی بات کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ صدارتی آرڈیننس کے کالے قانون کے ذریعے جعلی سلطنت بچانے کی ناکام کوشش کی جارہی ہے۔ پی ٹی آئی کے علاوہ دیگر ہارے ہوئے امیدواروں کافارم 45 بھی گواہی دے رہا ہے کہ الیکشن میں دھاندلا ہوا ہے۔ بیرسٹر سیف نے واضح کیا کہ انکے اور پی ٹی آئی کے فارم 45 پر نتائج کچھ اور فارم 47 پر کچھ اور ہیں۔ الیکشن کمیشن کی ویب سائٹس پر دئیے گئے نتائج میں بھی سنگین غلطیاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فارم 47 کے نتائج الیکشن کمیشن اور شریف فیملی کے گلے پڑیں گے اور سازشی ٹولہ کچھ بھی کرے لیکن اسکی حکومت کا خاتمہ یقینی ہے۔
خیبر پختونخوا کے وزیر آبپاشی، عاقب اللہ خان کی زیر صدارت ایریگیشن اصلاحات سے متعلق تقریب کا انعقاد
آبی مسائل سے نمٹنے میں جدید ٹیکنالوجیز کا استعمال ضروری ہے، عاقب اللّٰہ خان
خیبر پختونخوا کے وزیر آبپاشی، عاقب اللہ خان نے گزشتہ روز ایریگیشن اصلاحات سے متعلق منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صوبہ میں 34 فیصد اراضی قابل کاشت ہے جبکہ 66 فیصد زمین بنجر اور ایریگیشن سہولیات سے محروم ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں 30 فیصد پانی ضائع ہو رہا ہے، جس کی تحفظ کیلئے درکار و مؤثر اصلاحات کا نفاذ ناگزیر ہے۔ انہوں نے محکمہ آبپاشی حکام کو زیادہ سے زیادہ زمین ایریگیشن سہولیات سے آراستہ کرانے سمیت قابل کاشت بنانے پر بھی زور دیا۔ اس موقع پر صوبائی وزیر آبپاشی عاقب اللّٰہ خان نے انڈس ٹیلی میٹری سسٹم کا بھی افتتاح کیا۔ عاقب اللّٰہ خان کا کہنا تھا کہ اس جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے پانی کے وسائل کو مؤثر طریقے سے منظم کرنے کی صلاحیت میں بہتری آئے گی۔ تقریب میں سیکرٹری ایریگیشن، انٹر نیشنل واٹر مینجمنٹ انسٹیٹوٹ اور یو ایس ایڈ کے نمائندوں کے بشمول محکمہ آبپاشی کے دیگر اعلیٰ حکام بھی شریک تھے۔ اس موقع پر سیکرٹری محکمہ آبپاشی محمد طاہر اورکزئی نے اصلاحاتی ایجنڈا پر گفتگو کرتے ہوئے اجتماعی سوچ و ٹیم ورک سمیت تمام نہرو سے منسلک تجاوزات ہٹانے پر بھی زور دیا۔ پاکستان میں انٹر نیشنل واٹر مینجمنٹ انسٹیٹوٹ کے کنٹری ریپریزنٹیٹو نے شرکاء تقریب کو تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا کے نظام آبپاشی میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر خیبرپختونخوا حکومت نے امریکی حکومت اور انٹرنیشنل واٹر مینجمنٹ انسٹیٹیوٹ کی مدد سے 11 اہم نہروں میں انڈس ٹیلی میٹری سسٹم متعارف کرایا ہے۔ یہ جدید ٹیکنالوجی صوبے میں پانی کے انتظام اور رپورٹنگ کے نظام کو تبدیل کر دے گی۔ انہوں نے وضاحت کی، کہ انڈس ٹیلی میٹری جدید سینسرز کا استعمال کرتے ہوئے دور دراز نہروں میں بہاؤ کی گہرائی اور رفتار کی نگرانی کی جاتی ہے۔ جس سے محکمہ آبپاشی کو بہاؤ کے ریکارڈ اور ضروری موسمی رپورٹس تک فوری رسائی فراہم ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سینسرز کو اپر سوات کینال، ٹانڈا آبپاشی مین کینال، پہور ہائی لیول کینال، اور دیگر نہروں میں نصب کیا گیا ہے تاکہ وسیع پیمانے پر پانی کی نگرانی کی یقین دہانی ہو سکے۔ خان پور ڈیم لیفٹ بینک کینال، جو ایک بین الصوبائی نہر ہے کی نگرانی بھی انڈس ٹیلی میٹری کرتی ہے۔
چترال میں ملکی و غیر ملکی سیاحوں کی سہولت کیلئے ہیلی کاپٹر سفاری سروس کا آغاز
مشیر سیاحت زاہد چن زیب کی سیکرٹری ٹورازم اور ڈی جی کلچر کی ہیلی سفاری سروس کیلئے انکے اعلان کو ہنگامی بنیادوں پر عملی جامہ پہنانے کی تعریف
چترال اپر میں جمعہ 28 جون کو شروع ہونے والے شندور پولو فیسٹیول کے آغاز سے پہلے ہی ملکی و غیر ملکی سیاحوں کی سہولت کیلئے ہیلی کاپٹر سفاری سروس کے انتظامات مکمل کر لئے گئے ہیں اور ہیلی سروس کے فوری اجراء کی منظوری دیدی گئی ہے۔ اس سلسلے میں وزیر اعلیٰ کے مشیر برائے سیاحت وثقافت زاہد چن زیب کی ہدایات کی روشنی میں ڈائریکٹر جنرل خیبر پختونخوا کلچر اینڈ ٹورازم اتھارٹی برکت اللہ مروت نے بدھ کو اپنے دفتر پشاور صدر میں منعقدہ ایک سادہ تقریب کے دوران پیٹرونیٹ ایوی ایشن کے ساتھ مفاہمت کی یاداشت پر دستخط کئے جس کے تحت سیاحوں کیلئے ہیلی سروس کا فوری اجراء ہو گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی وزیراعلی کے مشیر برائے سیاحت و ثقافت زاہد چن زیب کے اعلان کے مطابق سیاحوں کیلئے ہیلی کاپٹر سروس کا باضابطہ اجراء ہو گیا ہے جو انہوں نے بجٹ اجلاس سے پہلے کیا تھا جبکہ انہوں نے اعلان سے قبل وزیراعلیٰ سردار علی امین گنڈاپور سے بھی رابطہ کرکے انہیں اعتماد میں لیا تھا اور وزیراعلیٰ نے اس اقدام کو سراہتے ہوئے اپنے بھرپور تعاون کا یقین دلایا تھا۔ ایم او یو پر دستخط کی تقریب کے موقع پر ڈائریکٹر جنرل خیبرپختونخوا کلچر اینڈ ٹورازم اتھارٹی برکت اللہ مروت نے واضح کیا کہ معاہدے کی رو سے شندور پولو فیسٹیول میں سیاحوں کی سہولت کیلئے ہیلی کاپٹر سروس کا آغاز کردیا گیا ہے اور سیاح اس سروس سے فائدہ حاصل کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہیلی کاپٹر ٹورازم سروس کے چار پیکیج وضع کئے گئے ہیں۔ پہلے ہیلی پیکیج میں چترال ائیرپورٹ، وادی کیلاش اور لواری ٹنل کے اوپر سے پرواز اور فضائی سیر شامل ہے، پیکیج ٹو میں چترال ائیرپورٹ اور تریچ میر چوٹی کی سیر شامل ہے۔ تیسرے پیکیج میں چترال ائیرپورٹ اور تریچ میر چوٹی کے علاوہ وسیع رقبے پر پھیلے قاقلشت میڈوز کی سیر کرائی جائے گی جبکہ پیکیج فور میں چترال ائیرپورٹ تا شندور پولو فیسٹیول کا ٹور شامل ہے۔ قبل ازیں سیکرٹری ٹورازم محمد بختیار خان نے مشیر سیاحت کی ہدایات کے تحت سول ایوی ایشن اتھارٹی اور دیگر مجاز حکام کے ساتھ اجلاس اور رابطوں میں ابتدائی تیاریاں بھی ہنگامی بنیادوں پر مکمل کر لی تھیں۔ درایں اثناء مشیر سیاحت و ثقافت زاہدچن زیب نے چترال میں سیاحوں کیلئے سفاری ہیلی کاپٹر سروس کے اعلان کو ہنگامی بنیادوں پر عملی جامہ پہنانے اور اس مقصد کیلئے سول ایوی ایشن اتھارٹی اور دیگر مجاز اداروں سے رابطوں کے بعد پیٹرونیٹ ایوی ایشن اتھارٹی کے ساتھ معاہدہ کو سراہا ہے۔ انہوں نے سیاحوں کیلئے سیزن کے آغاز پر ہیلی کاپٹر سروس شروع کرنے اور ہنگامی بنیادوں پر اقدامات اور تیاریاں مکمل کرنے پر سیکرٹری ٹورازم محمد بختیار خان، ڈی جی کلچر اینڈ ٹورازم اتھارٹی برکت اللہ مروت اور انکی جملہ ٹیم کی دن رات کوششوں کی تعریف کی ہے۔ واضح رہے کہ سیاح ہیلی سفاری سروس سے استفادہ اور بکنگ کیلئے موبائیل نمبر 03335455566 یا ای میل ChiefPilot@PetronetAviation.com اور ops@petronetaviation.comپر رابطہ کر سکتے ہیں۔
ڈاکٹرز کی شکایت پر فوڈ سیفٹی اتھارٹی کا خیبر ٹیچنگ ہسپتال کے ڈاکٹرز ہاسٹل کی کنٹین پر چھاپہ
کینٹین سے لال بیگ اور باسی گوشت برآمد، کینٹین سیل، بھاری جرمانہ بھی عائد
سوات میں جعلی دودھ کی فیکٹری پکڑ لی گئی۔ سامان ضبط کر کے مقدمہ درج،فوڈ سیفٹی حکام
خیبر پختونخوا فوڈ سیفٹی اتھارٹی کی ناقص اور ملاوٹ شدہ خوراک کے خلاف کارروائیاں صوبہ بھر میں جاری ہیں فوڈ سیفٹی ٹیم پشاور خیبر ٹیچنگ ہسپتال کے ڈاکٹرز ہاسٹل کی کینٹین پر اچانک چھاپہ مارا اور صفائی کی انتہائی ابتر صورتحال اور حفظانِ صحت کے اصولوں کی خلاف ورزی پر کینٹین سربمہر کیں،اس سلسلے میں ترجمان فوڈ اتھارٹی نے تفصیلات جاری کرتے ہوئے بتایا کہ گذشتہ روز فوڈ سیفٹی ٹیم پشاور نے ڈاکٹرز کی شکایت پر خیبر ٹیچنگ ہسپتال کی ڈاکٹرز ہاسٹل کی کینٹین پر اچانک چھاپہ مار ااور کنٹین کا معائنہ کیا۔معائنے کے دوران کینٹین سے باسی گوشت برآمد کر لیا گیا جبکہ صفائی کی ابتر صورتحال اور جگہ جگہ لال بیگ کی بھر مار تھی اسکے علاؤہ کینٹین میں کام کرنے والوں کے پاس میڈیکل سرٹیفکیٹس بھی نہیں تھے۔ ٹیم کی جانب سے کینٹین کو بھاری جرمانے کے ساتھ فوراً سیل کر دیا گیا دوسری جانب سوات کی فوڈ سیفٹی ٹیم نیم ضلعی انتظامیہ کے ہمراہ کاروائی کرتے ہوئے جعلی دودھ بنانیوالی فیکٹری پکڑ لی گئی۔ فیکٹری سے سامان بحق سرکار ضبط کرتے ہوئے مالک کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا، ڈائریکٹر جنرل فوڈ اتھارٹی واصف سعید نے ہسپتال انتظامیہ کو ٹھیکیدار کے خلاف کاروائی کی ہدایت بھی کی انکا کہنا تھا کہ ڈاکٹرز ہمارا قومی اثاثہ ہیں، اُنکی صحت سے کھلواڑ ہر گز برداشت نہیں کیا جا سکتا صوبائی وزیر خوراک ظاہر شاہ طورو نے فوڈ سیفٹی اتھارٹی کو ہسپتالوں کی کنٹینر کی باقاعدگی سے انسپکشن کی ہدایت کی ہے۔
خیبر پختونخوا کے وزیر برائے اعلیٰ تعلیم مینا خان آفریدی کی زیر صدارت محکمہ اعلی تعلیم میں بہتر اصلاحات لانے کے متعلق جائزہ اجلاس
خیبر پختونخوا کے وزیر برائے اعلیٰ تعلیم مینا خان آفریدی کی زیر صدارت محکمہ اعلی تعلیم میں بہتر اصلاحات لانے کے متعلق جائزہ اجلاس بدھ کے روز اعلیٰ تعلیم کے کمیٹی روم سول سیکرٹریٹ پشاور میں منعقد ہوا اجلاس میں سیکرٹری ہائیر ایجوکیشن ارشدخان سمیت دیگر افسران نے شرکت کی سیکرٹری اعلی تعلیم نے صوبائی وزیر کو محکمہ میں اصلاحات لانے کے حوالے سے اب تک ہونے والی پیشرفت کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی، صوبائی وزیر کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ تمام کالجز اور یونیورسٹیوں کا ڈیٹا اکٹھا کیا ہے جسے اگلے مرحلے میں ڈیجیٹائزڈ کیا جاے گا، جس کی بدولت تمام معلومات فنگر ٹپس پر دستیاب ہونگی،یہ اقدام ای ٹرانسفر پالیسی کے نفاذ کیلیے لازم تھا۔ بریفنگ میں یکساں نصاب پر بھی تفصیلی گفتگو ہوئی اور بتایا گیا کہ یکساں نصاب کے لیے مختلف کمیٹیاں بنائی تھیں جنہوں نے کئی نصاب تیار کر کے ہائیر ایجوکیشن کمیشن اسلام آباد کو بھجوائے ہیں بریفنگ میں سائنس ٹیکنالوجی انجینئرنگ میتھمیٹکس (سٹیم) ایجوکیشن کو نصاب میں شامل کرنے کی ضرورت پر بھی کافی سیرحاصل بحث ہوئی سٹیم ایجوکیشن سے سٹوڈنٹس کو مارکیٹ کی ضرورت کے مطابق تیار کر کے ان کو روزگار کے کافی مواقع میسر ہونگے کالجز میں ایف اے اور ایف ایس سی کی سطح پر یتیم فی میل سٹوڈنٹس کو مفت تعلیم کے حوالے سے بریفنگ میں بتایا گیا کہ وزیراعلی خیبر پختونخواہ کو 2 بلین انڈومنٹ فنڈ کی سمری منظوری کے لیے بھجوایا ہے سمری منظوری کے فوری بعد اس پر کام شروع ہو جائے گا مزید بتایا گیا کہ نئے ضم اضلاع میں خیبر میڈیکل یونیورسٹی کے ذریعے ہیلتھ سائنسز شروع کرنے کے حوالے سے بھی تفصیل سے گفتگو ہوئی اس کے علاوہ ڈیپارٹمنٹ آف قرآن اینڈ سیرت سٹڈیز بھی زیرغور لایاگیا جبکہ صوبائی وزیر کو چائنہ حکومت کے ساتھ ڈیجیٹل سکلز کے حوالے سے مختلف معاہدوں کے بارے بھی آگاہ کیا گیا اس موقع پر صوبائی وزیر میناخان افریدی نے احکامات جاری کیے کہ تمام سرکاری کالجز میں 10 کے وی اے کی سولرائزیشن کی تنصیب کوکالج فنڈز سے یقینی بنایاجائے کیونکہ کالجز کو 10کے وی اے کی اجازت ہے جبکہ کالجز کو مکمل شمسی نظام پر منتقل کرنے کیلیے کام میں تیزی لائی جائے انہوں نے ای ٹرانسفر پالیسی پر کام میں تیزی لانے اور اسکے نفاذ کی بھی ہدایات جاری کیں، صوبائی وزیر کا مذید کہنا تھا کہ محکمہ کو ڈیجیٹائزیشن کی طرف گامزن کرنے سے نظام میں بہتری آنے کے ساتھ ساتھ شفافیت بھی آجائیگی۔
سیکرٹری ہیلتھ محمود اسلم وزیر کی سربراہی میں ڈی ورمنگ انیشیٹیو کے سٹیرینگ کمیٹی کا16 واں اجلاس ہیلتھ سیکرٹریٹ کے کمیٹی روم میں منعقد ہوا
سیکرٹری ہیلتھ محمود اسلم وزیر کی سربراہی میں ڈی ورمنگ انیشیٹیو کے سٹیرینگ کمیٹی کا16 واں اجلاس ہیلتھ سیکرٹریٹ کے کمیٹی روم میں منعقد ہوا جس میں پلاننگ اینڈڈیولپمنٹ، پلاننگ سیل، آئی ایچ پی ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ، ڈائریکٹریٹ جنرل ہیلتھ سروسز، ایلمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن، پرائیویٹ سکولز ریگولیٹری اتھارٹی، لوکل گورنمنٹ، افعان کمشنریٹ، ایلمنٹری اینڈسیکنڈری ایجوکیشن فاونڈیشن، ریسکیو 1122،آئی آرڈی پاکستان اور ایوی ڈینس ایکشن کیاعلی افسران نے شرکت کی۔ سیکرٹری ہیلتھ نے اس موقع پر بتایا کہ خیبر پختونخوا حکومت اگلے 3 سالوں میں سکول جانے کی عمر کے بچوں میں آنتوں کے کیڑوں کے چیلنج/خطرات پر قابو پانے کی پوری کوشش کرے گی۔اجلاس میں مزید بتایا گیا کہ خیبر پختونخوا میں ابھی تک تقریبا 12 میلین بچوں کو پیٹ کی کیڑوں کی دوائی دی جاچکی ہے اور اس سال اکتوبر کے مہینے میں تقریباً 85 لاکھ بچوں کو پیٹ کی کیڑوں کی خاتمے کی موثر ومحفوظ دوائی فراہم کی جائیگی۔اجلاس میں بتایا گیا کہ صوبہ کے 22 اضلاع میں پانچ سے چودہ سال کے 85 لاکھ سے زائد بچوں کو آنتوں کے کیڑوں سے بچانے کا ہدف مقرر کیا گیا۔ اس ہدف میں تمام نجی و سرکاری سکولوں اور مدارس کے بچے شامل ہیں۔ اس ہدف کے حصول کیلئے ہر سال 40 ہزار سے زائد اساتذہ اور طبی عملے کو بروئے کار لایا جارہا ہے۔ اجلاس میں مذید بتایا گیا کہ ستمبر میں عملے کی تربیت مختلف درجہ بندیوں کی بنیاد پر ہوگی جس کے بعد اکتوبر میں ڈی وارمنگ مہم کا نفاذ ہوگا۔
وزیر اعلیٰ کے معاون خصوصی برائے بہبود آبادی ملک لیاقت علی خان سے علماء کرام کی ملاقات
خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے علماء کرام کے ایک نمائندہ وفدنے وزیر اعلیٰ کے معاون خصوصی برائے بہبود آبادی ملک لیاقت علی خان سے سول سیکریٹریٹ پشاور میں ملاقات کی اور اپنے مسائل اورمشکلات سے معاون خصوصی کو آگاہ کیا۔ وفد نے عہدوں کی مستقلی اور تنخواہوں میں اضافے جیسے مسائل کا ذکر کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ ان کی مشکلات کے حل لیے فوری اور موثر اقدامات کی ضرورت ہے۔ معاون خصوصی نے علماء کرام کی شکایات کو غور سے سنا اور یقین دلایا کہ حکومت کو ان کے مسائل کا احساس ہے اوران کے ازالے کے لیے فوری اقدامات کے تحت تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔ملک لیاقت علی خان نے مزید کہا کہ علماء کرام ہمارے معاشرے کا قیمتی اثاثہ ہیں اور حکومت ان کی خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ملک لیاقت علی خان نے کہا کہ صوبائی حکومت علماء کرام کی خدمات کو تسلیم کرتی ہے کیوں کہ علماء کرام نے ہمیشہ معاشرے کو درست راہ پر گامزن کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے اور ہم ان کے ان اقدامات کو فراموش نہیں کر سکتے۔ملک لیاقت علی خان نے خطباء اور علماء کرام کو یقین دلایا کہ حکومت ان کے مسائل کے حل کے لیے ایک جامع پالیسی ترتیب دے رہی ہے، جس میں ان کے حقوق اور مراعات کو یقینی بنایا جائے گا۔ ملاقات کے اختتام پر علماء کرام نے معاون خصوصی ملک لیاقت علی خان کی جانب سے مسائل کے حل کرنے کی یقین دہانی پر ان کا شکریہ ادا کیا اور امید ظاہر کی کہ حکومت ان کے مسائل کے حل کے لیے جلد اقدامات اٹھائے گی۔
