Home Blog Page 295

چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا ندیم اسلم چوہدری کی زیر صدارت صوبے میں بجلی کی لوڈ مینجمنٹ سے متعلق اجلاس

چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا ندیم اسلم چوہدری نے صوبے میں بجلی کی لوڈ مینجمنٹ سے متعلق اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے صوبے کے حکام کو ہدایت کی ہے کہ وہ بجلی کی بہتر لوڈ مینجمنٹ کے ذریعے گرمیوں میں عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کریں۔ انہوں نے ڈویژنل اور ضلعی انتظامیہ کو ہدایت کی ہے کہ وہ تندہی سے کام کریں اور بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کو تعاون فراہم کرتے ہوئے بجلی کی بلا تعطل فراہمی پر خصوصی توجہ دیں۔ انہوں نے یہ ہدایات جمعرات کو پشاور میں منعقدہ ایک اجلاس میں جاری کیں جس میں صوبہ بھر کے پیسکو، پولیس، ڈویژنل اور ضلعی انتظامیہ کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ عابد مجید نے ایک تفصیلی لائحہ عمل پیش کیا جس پر خیبرپختونخوا اور وفاقی حکومتوں نے باہمی اتفاق کیا ہے۔ بجلی کی لوڈ مینجمنٹ کے اس نئے لائحہ عمل پر عملدرآمد سے صوبے کے مختلف حصوں میں لوڈ شیڈنگ مرحلہ وار کم ہو کر ختم ہو جائے گی۔اس لائحہ عمل کو وفاقی سطح پر پزیرائی ملی ہے اور کامیابی سے عمل درآمد کے نتیجے میں پورے صوبے کو لوڈشیڈنگ کے مسئلے سے پاک کر دیا جائے گا۔نئے لائحہ عمل میں سخت سزاؤں اور دیگر اقدامات کی بجائے حکومت ایک جامع حکمت عملی کے تحت مقامی افراد کو اعتماد میں لے کر مقامی سطح پر اقدامات لاگو کریگی۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ یہ لائحہ عمل مقامی آبادیوں کے ذریعے گاؤں گاؤں شہر شہر بجلی کی لوڈشیڈنگ کے انتظام میں مدد کرے گا اور اس بات کو یقینی بنائے گا کہ بل ادا کرنے والے افراد کو سال بھر بلا تعطل بجلی ملے اور بجلی صارفین کو واجبات کے آسان اقساط کے ذریعے اپنے میٹر واپس لینے میں مدد مل سکے۔

پشاور میں منشیات کے عادی افراد کی بحالی اور گداگری کی روک تھام کے لئے دو الگ الگ ایکشن پلانز کی منظوری۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سردار علی امین خان گنڈا پورکی زیر صدارت جمعرات کے روز انسداد منشیات ، منشیات کے عادی افراد کی بحالی اور گداگری کی روک تھام سے متعلق ایک اجلاس وزیراعلیٰ ہاو¿س پشاور میں منعقد ہوا جس میں صوبائی دارالحکومت پشاور میں منشیات کے عادی افراد کی بحالی اور گداگری کے سدباب کیلئے دو الگ الگ مختلف ایکشن پلانز کی منظوری دی گئی ہے ۔ انسداد منشیات سے متعلق ایکشن پلان کے تحت منشیات کی روک تھام کیلئے خصوصی کاروائیاں عمل میں لانے کے علاوہ پشاور میں تقریباً دو ہزار منشیات کے عادی افراد کی بحالی کیلئے اقدامات بھی اٹھائے جائیں گے ۔صوبائی وزیر برائے ایکسائز ٹیکسیشن و نارکاٹیکس کنٹرول میاں خلیق الرحمن کے علاوہ چیف سیکرٹری ندیم اسلم چوہدری،انسپکٹر جنرل آف پولیس اختر حیات خان گنڈا پور ، ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ محمد عابد مجید ،وزیراعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری امجد علی خان، متعلقہ محکموں کے انتظامی سیکرٹریز ، کمشنر پشاور اور دیگر متعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔اجلاس میں منشیات کے استعمال کی روک تھا م کےلئے خصوصی ٹاسک فورس قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جو انسداد منشیات سے متعلق ایکشن پلان پر عملدرآمد کو یقینی بنائے گی۔ ایکشن پلان کے تحت منشیات کے عادی افراد کی بحالی کیلئے ان نجی اداروں کی خدمات حاصل کی جائیں گی جو بحالی میں مہارت رکھتے ہوں، نجی شعبے کے بحالی مراکز میں علاج ، کھانے پینے ، رہائش سمیت بحالی کےلئے درکار دیگر تمام سہولیات دستیاب ہوں گی ۔ منشیات کے عادی افراد کی بحالی کا دورانیہ چار مہینوں پر مشتمل ہوگا جس کے بعد بحال شدہ افراد کو دو ماہ پر مشتمل ٹیکنیکل اورووکیشنل کورسز کروائے جائیں گے ۔ مزید برآں بحال شدہ افراد کا ان کے خاندانوں کے ساتھ چھ ماہ تک فالو اپ بھی کیا جائے گا جبکہ دیگر صوبوں سے تعلق رکھنے والے منشیات کے عادی افراد کی بحالی کے بعد متعلقہ صوبوں کے حوالے کیا جائے گا۔ منشیات کے عادی دو ہزار افراد کی بحالی کے مجموعی عمل پر 326 ملین روپے لاگت آئے گی ۔اجلاس میں تعلیمی اداروں میں منشیات کے استعمال کی بڑھتی ہوئی شرح پر تشویش کا اظہا رکرتے ہوئے طلبہ کو اس لعنت سے محفوظ کرنے کیلئے خصوصی اقدامات کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ تعلیمی اداروں کے طلبہ کو منشیات کے منفی اثرات سے متعلق آگہی دینے کیلئے مہم شروع کرنے جبکہ پہلے مرحلے میں اعلیٰ تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم طلبہ کی جنرل اسکریننگ کا اُصولی فیصلہ کیا گیا ہے ۔ سیکرٹری اعلیٰ تعلیم کی سربراہی میں قائم کمیٹی طلبہ کی جنرل اسکریننگ کیلئے تعلیمی اداروں کی انتظامیہ کے ساتھ مل کر طریقہ کار وضع کرے گی ۔ طلبہ کی جنرل اسکریننگ رپورٹ کو خفیہ رکھا جائے گا جبکہ یہ صرف طلبہ کے والدین کے ساتھ شیئر کی جائے گی ۔ اجلاس میں منشیات سپلائی کرنے والے بڑے مگر مچھوں کے خلاف بھی کریک ڈاﺅن کا فیصلہ ہوا ہے ۔ اس مقصد کیلئے پولیس، محکمہ ایکسائز و نارکوٹیکس کنٹرول اور اینٹی نارکوٹیکس فورس مشترکہ کاروائیاں کریں گے، منشیات سپلائی کرنے والوں کے خلاف کاروائیوں کی مانیٹرنگ کیلئے وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ میں خصوصی کنٹرول روم قائم کیا جائے گا۔

احساس نوجوان روزگار سکیم: خیبر پختونخوا حکومت کا نوجوانوں کو بلا سود قرضوں کی فراہمی کا منصوبہ۔

وزیر اعلی خیبر پختونخوا کے مشیر برائے کھیل اور امور نوجوانان سید فخر جہان نے کہا ہے کہ حکومت صوبے میں نوجوانوں کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے اور اپناروزگار شروع کرنے کیلئے احساس نوجوان روزگار سکیم کے نام سے بڑا صوبائی فلیگ شپ منصوبہ شروع کررہی ہے جسکے تحت صوبہ بھر کے نوجوانوں کو ہر شعبے میں اپنا ذاتی کاروبار قائم کرنے کے لیے بلا سود قرضے دیئے جائیں گے۔ انھوں نے کہا کہ اس سکیم کے تحت نوجوانوں کو کلسٹرز کی شکل میں دس لاکھ تا ایک کروڑ تک کا بلا سود قرضہ فراہم کیا جائیگا جو بنک آف خیبر کے تحت دیا جائے گا اور اسکے لئے بینک آف خیبر کی نامزد شاخوں کی نشاندہی کی جائیگی۔اس حوالے سے بدھ کے روزمشیر کھیل نے نوجوانوں کی فلاح وبہبود کیلئے صوبائی حکومت کے اس اہم منصوبے کے حوالے سے اجلاس کی صدارت کی جس میں سیکریٹری کھیل اور امور نوجوانان مطیع اللہ،ڈائریکٹر یوتھ افیرز ڈاکٹر نعمان مجاہد،بینک آف خیبر ہیڈ مائیکروفنانس اسد کاکا خیل اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔اجلاس میں مشیر کھیل کو اس منصوبے کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی اور انھیں اس حوالے سے منصوبے کی اہمیت اور افادیت کے حوالے سے آگاہ کیا گیا۔واضح رہے کے مذکورہ سکیم کی کل لاگت 05 ارب روپے ہے اور سکیم میں اقلیتوں، خصوصی افراد اور مدارس میں زیر تعلیم جوانوں کیلئے پانچ، پانچ فیصد مخصوص کوٹہ مختص کیا جائیگا۔مشیر کھیل نے کہاکہ صوبے کی یہ سکیم بلا سود قرضوں پر مشتمل ہوگی جس کے ذریعے وہ اپنے موجودہ کاروبار کو ترقی دے سکیں گے یا اپنے لئے نیا کاروبار شروع کرسکیں گے۔انھوں نے کہا کہ اس سکیم کا مقصد بانی چئیر مین عمران خان کے ویژن کے مطابق نوجوانوں کو باعزت روزگار سے آراستہ کرنا ہے اور وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سردار علی امین خان گنڈاپور کی سوچ کے مطابق صوبے کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کی سمت ایک اہم قدم ہوگا۔انھوں نے کہا کہ نوجوان طبقے کو باعزت روزگار کے موقع فراہم کرنا ہماری حکومت کا عزم ہے کیونکہ یہی نوجوان ہمارا مستقبل ہیں۔

رائٹ ٹو پبلک سروسز کے متعلق ڈیپارٹمنٹ آف انٹرنیشنل ریلیشنز پشاور یونیورسٹی کے طلباء کے لئے آگاہی سیمینار کا انعقاد۔

رائٹ ٹو پبلک سروسز کمیشن کے زیر اہتمام ڈیپارٹمنٹ آف انٹرنیشنل ریلیشنز یونیورسٹی آف پشاور کے طلباء کے لئے عوامی آگاہی سیمنار کا انعقاد کیا گیا۔کمشنر محمد عاصم امام نے کمیشن کے اغراض و مقاصد، قانونی ڈھانچے اور طریقہ کار پر جامع لکچر دیا۔سیمنار میں سینکڑوں کے تعداد میں طلباء اور اساتذہ کرام نے شرکت کی۔ چیئرمین ڈاکٹر حسین سہروردی، سابقہ چیئرمین ڈاکٹر عدنان، ڈاکٹر سائمہ گل، ڈاکٹر منہاس مجید شریک رہے۔ حسین سہروردی نے مہمانوں اور طلباء کو خوش آمدید کہا اور انکا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایسے سیمینارز کا مقصد طلباء میں حکومتی اقدامات کے متعلق شعور اجاگر کرنا ہے، تاکہ کل وہ معاشرے کی تعمیر وترقی میں مثبت کردار ادا کر سکیں۔ کمشنر نے شرکاء کے سوالات کے جوابات دئیے. انہوں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم سب نے مل کر اس ملک اور قوم کو آگے لیکر جانا ہے۔ طلباء اس موضوع پر ریسرچ کریں کہ دنیا نے خدمات تک رسائی میں اتنی ترقی کیسے حاصل کر لی ہے اور صوبائی حکومت کو آپنے ریسرچ کے ذریعے تجاویز دے کہ بہتری کیسے لائی جا سکتی ہے۔ اساتذہ اپنے طلباء کو گوڈ گورننس اور شہریوں کے حقوق کے بارے میں آگاہی دے تاکہ وہ ملک کی تعمیر وترقی میں مثبت کردار ادا کر سکیں۔

سکالر شپ فنڈز کی مستحقین میں شفاف اور منصفانہ تقسیم کو یقینی بنانے کے لیے 3 ذونل کمیٹیاں تشکیل۔

خیبر پختونخوا کے وزیر برائے محنت فضل شکور خان نے ورکرز ویلفیئر بورڈ کے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ صوبے کی مختلف یونیورسٹیوں میں زیر تعلیم مزدوروں اور ورکرز ویلفیئر بورڈ ملازمین کے بچوں میں سکالرسپ فنڈز ایک ہفتہ میں تقسیم کیئے جائیں اس ضمن میں مزید تاخیر کسی صورت برداشت نہیں کی جائیگی اور سکالر شپ فنڈز کی مستحقین میں شفاف اور منصفانہ تقسیم کو یقینی بنانے کیلیے 3 زونل کمیٹیاں بھی تشکیل دی جائیں۔یہ ہدایات لیبرڈیپارٹمنٹ کے کمیٹی روم سول سیکرریٹ پشاور میں ورکرز ویلفیئر بورڈ خیبر پختوخوا سٹوڈنٹس سکالرشپ کے متعلق منعقدہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے جاری کیں اجلاس میں سیکرٹری لیبر،سیکرٹری ڈبلیو ڈبلیو بی، ڈائریکٹر لینڈ،ڈائریکٹر ایجوکیشن،ڈائریکٹر ورکس اور محکمہ کے دیگر افسران نے شرکت کی۔ صوبائی وزیر کو سٹوڈنٹس سکالرشپ فنڈز تقسیم کرنے کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ سکالرشپ فنڈز کو مستحقین میں شفاف اور منصفانہ طریقے سے تقسیم کرنے کے لیے تمام مستحقین کے ڈیٹا کی تصدیق کا عمل جاری ہے جسے بہت جلد مکمل کر کے فنڈز کی تقسیم کو فوری طور پر یقینی بنایا جائے گا صوبائی وزیر کو مزید بتایا گیا کہ اسکالرشپ فنڈز کو تمام مستحقین میں جون کامہینہ ختم ہونے سے پہلے تقسیم کیا جائے گا اس موقع پر صوبائی وزیر نے ہدایت کی کہ سٹوذنٹس سکالرشپ فنڈز کی فوری تقسیم کیلیے عملی اقدامات اٹھائے جائیں اور اس سلسلے میں کسی کو شکایات کا موقع نہیں ملنا چاہیے۔

خیبر پختونخوا ریوینیو اتھارٹی کے پالیسی بورڈ اجلاس میں 47 ارب روپے کے ریونیو ہدف کی منظوری

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سردار علی امین خان گنڈاپور کی زیر صدارت خیبر پختونخوا ریوینیو اتھارٹی کے پالیسی بورڈ کا تیسرا  اجلاس بدھ کے روز وزیر اعلیٰ ہاو¿س پشاور میں منعقد ہوا جس میں  مالی سال 2024-25 کے دوران اتھارٹی کے لیے 47 ارب روپے ریوینیو اکٹھا کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہےجبکہ نئے مال سال کے لئے ریونیو اتھارٹی کے بجٹ تخمینہ جات کی بھی منظوری دی گئی ہے۔ اجلاس میں متعلقہ کابینہ اراکین نذیر عباسی، میاں خلیق الرحمان ، مزمل اسلم کے علاوہ متعلقہ انتظامی سیکرٹریز اور دیگر بورڈ ممبران نے بھی  شرکت کی۔اجلاس میں بورڈ کے گذشتہ اجلاس میں کئے گئے فیصلوں پر عملدرآمد کا جائزہ لینے کے علاوہ صوبائی حکومت کی آمدن بڑھانے کے لئے ریونیو اتھارٹی کے اقدامات ، کامیابیوں اور دیگر امور پر بریفنگ بھی دی گئی۔اجلاس کو بتایا گیا کہ رواں مالی سال کے لئے ریونیو اتھارٹی کو 35 ارب روپے ریونیو کا ٹارگٹ ملا تھا جس کے مقابلے میں ریونیو اتھارٹی نے رواں مالی سال کے دوران اب تک 37 ارب روپے ریوینیو اکٹھا کر لیا ہے۔ بورڈ اجلاس میں دیگر ایجنڈا آئٹمز کے ساتھ ساتھ ریونیو اتھارٹی کے مختلف مجوزہ ریگولیشنز کی بھی مشروط منظوری دی گئی ہے۔وزیر اعلیٰ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ٹیکس کے جملہ معاملات میں شفافیت اور استعداد کو بڑھانے کے کے لئے انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن ٹیکنالوجی کا موثر استعمال کیا جائے جبکہ ڈیجیٹائزیشن کے عمل میں ان علاقوں کو پہلی ترجیح دی جائے جہاں سے زیادہ ریونیو اکھٹا ہوتا ہے۔ریونیو اتھارٹی کی استعداد کار کو بڑھانے کے لئے خالی آسامیوں کو پر کرنے کے لئے اقدامات کئے جائیں۔

وزیر صحت چارسدہ ویمن اینڈ چلڈرن ہسپتال میں 250 کلو واٹ سولرائزیشن منصوبے کا افتتاح

وزیر صحت سید قاسم علی شاہ نے چارسدہ میں واقع ویمن اینڈ چلڈرن ہسپتال میں یونیسیف کے تعاون سے 250 کلو واٹ سولرائزیشن منصوبے کا افتتاح کیا۔ منصوبے کے افتتاح کے موقع پر ہسپتال میں مختصر تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں وزیر صحت سید قاسم علی شاہ نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔ دیگر شرکا میں ایم پی اے پی کے 64 افتخار اللہ،ڈی جی ہیلتھ ڈاکٹر محمد سلیم، ڈی ایچ او چارسدہ، چیف آف یونیسیف پشاور آفس راڈوسلاراڈک، ڈاکٹرانعام اللہ ہیلتھ سپیشسلسٹ و دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ تقریب کے بعد میڈیا نمائندوں سے بات کرتے ہوئے وزیر صحت نے بتایا کہ 68 ملین روپے کی لاگت سے مکمل ہونے والے اس شمسی توانائی کے منصوبے سے اوبسٹیٹریکس اور نیونٹولوجی ڈیپارٹمنٹ سمیت آلسیجن پیداواری پلانٹ کو بلاتعطل بجلی کی فراہمی ہوگی۔ یہ پروجیکٹ یونیسیف کے تعاون سے 68 ملین روپے کی لاگت مکمل کیا گیا اس پروجیکٹ کی تکمیل سے ضلع چارسدہ میں ماں اور بچے کی صحت میں مزید بہتری آئیگی۔وزیر صحت سید قاسم علی شاہ نے مزید بتایا کہ یہ صرف ہیلتھ کا منصوبہ نہیں بلکہ موسمیاتی تغیر کے تناظر میں گرین انرجی کے حصول کا بھی ہے۔ ہسپتالوں کی سولرائزیشن انرجی کرائسز اور موسمیاتی تغیر کے چلینجز کا واحد ہے۔ وفاق کی جانب سے بجلی کی آنکھ مچولی پختونخوا کے عوام اور سسٹم کیساتھ زیادتی ہے۔ چارسدہ کے مراکز صحت بہتر ہونگے تو پشاور کے ہسپتالوں پر بوجھ کم ہوگا

خیبرپختونخوا انڈر 23 انٹر ریجنل گیمز کا شاندار آغاز، 1800 سے زائد کھلاڑیوں کی شرکت

خیبرپختونخوا انڈر 23 انٹر ریجنل گیمز کی رنگا رنگ افتتاحی تقریب منگل کے روز حیات آباد سپورٹس کمپلیکس پشاور میں منعقد ہوئی جس کے مہمان خصوصی خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سردار علی امین خان گنڈا پور تھے ۔ صوبائی وزراءمینا خان آفریدی ، سید قاسم علی شاہ، وزیراعلیٰ کے مشیر برائے کھیل سید فخر جہاں ، ایم این ایز ارباب شیر علی اور آصف خان کے علاوہ محکمہ سپورٹس کے اعلیٰ حکام بھی اس موقع پر موجود تھے ۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے انڈر 23 انٹر ریجنل گیمز کے افتتاح کا باقاعدہ اعلان کیا۔ افتتاحی تقریب میں کھلاڑیوں نے مارچ پاسٹ، روایتی رقص اور دیگر مختلف پرفارمنس کا مظاہرہ کیا۔اس موقع پر آتش بازی کا شاندار مظاہرہ بھی کیا گیا۔ انڈر 23 انٹر ریجنل گیمز میں صوبہ بھر سے 1800 سے زائد مرد و خواتین کھلاڑی حصہ لے رہے ہیں جو 20 مختلف کھیلوں میں اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کریں گے۔کھلاڑیوں میں 1078 مرد اور 770 خواتین کھلاڑی حصہ لے رہی ہیں، مرد کھلاڑیوں کے لیے 11 جبکہ خواتین کھلاڑیوں کے لیے کھیلوں کے 9 مختلف مقابلوں کا اہتمام کیا گیا ہے۔مرد کھلاڑی سکواش، بیڈمںٹن، ٹیبل ٹینس، والی بال، ہاکی، تائیکوانڈو، کرکٹ، کراٹے، ایتھلیٹکس اور تھرو بال میں حصہ لیں گے جبکہ خواتین کھلاڑی والی بال، بیڈمنٹن، ٹیبل ٹینس، جوڈو، ہاکی، کرکٹ، ایتھلیٹکس، تائیکوانڈو اور سکواش میں حصہ لیں گی۔خواتین کے مقابلے عبدالوالی خان سپورٹس کمپلیکس چارسدہ، پشاور سپورٹس گراو¿نڈ اور پشاور سپورٹس کمپلیکس میں ہونگے جبکہ مردوں کے کھیل حیات آباد سپورٹس کمپلیکس، پشاور سپورٹس کمپلیکس اور کوہاٹ سپورٹس کمپلیکس اور پشاور یونیورسٹی میں ہونگے۔ انڈر 23 انٹر ریجنل گیمز کے مقابلے 30 مئی تک جاری رہیں گے۔
افتتاحی تقریب سے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے اس ایونٹ کے انعقاد پر محکمہ سپورٹس کی پوری ٹیم کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہاکہ یہ صوبائی سطح پر کھیلوں کا سب سے بڑا ایونٹ ہے جو آنے والے بین الصوبائی مقابلوں کیلئے بھی ایک مضبوط بنیاد فراہم کرے گا۔ نوجوانوں کو اپنی حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کی سب سے اہم ترجیح قرار دیتے ہوئے اُنہوںنے کہاکہ نوجوانوں نے جس انداز میں پاکستان تحریک انصاف اور عمران خان کا ساتھ دیا ہے وہ لائق تحسین ہے اور میں یقین دلاتا ہوں کہ ہماری حکومت ہر شعبے میں نوجوانوں کی فلاح و بہبود کیلئے ٹھوس اقدامات کرے گی ۔ ایونٹ میں حصہ لینے والے کھلاڑیوں کو خوش آمدید کہتے ہوئے اُنہوںنے کہاکہ تمام کھلاڑی ان گیمز کے اختتام تک صوبائی حکومت کے مہمان ہیں اور ایونٹ کے اختتام تک ان کا بھر پور خیال رکھا جائے اور اُنہیں ہر قسم کی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی ۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ کھیل نوجوانوں کو اچھی جسمانی صحت دینے کے علاوہ اُن میں برداشت ، حوصلہ ، صبر ، محنت اور مقابلے کی صلاحیتیں پیدا کرتی ہیں ۔ اُنہوںنے کہاکہ جن لوگوں میں جیتنے کا عزم ہو تا ہے اُن کو ہار بھی نہیں ہراسکتی۔ جن کے عزم بلند ہوتے ہیں ، اُن کیلئے ہار نا ایک وقتی آزمائش ہو تی ہے اور وہ اپنی کمزوریوں او رکوتاہیوں کو دور کر کے مزید آگے بڑھنے کی کوشش کرتے ہیں۔علی امین گنڈا پور نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ پورے جذبے کے ساتھ کرپشن اور منشیات کے خلاف جنگ میں صوبائی حکومت کا ساتھ دیں اور معاشرے سے ان برائیوں کے خاتمے کیلئے اپنا کردار ادا کریں۔ وزیراعلیٰ نے اُمید ظاہر کی کہ ان گیمز میں حصہ لینے والے کھلاڑی نہ صرف قومی سطح پر بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی صوبے کا نام روشن کریں گے ۔ وزیراعلیٰ نے مزید کہاکہ عمران خان نے بہت پہلے کہہ دیا تھا کہ ہم ایک آزاد قوم نہیں ہیں جو آج سچ ثابت ہو گیا کیونکہ آج اس ملک میں مظلوم فلسطینیوں کے حق میں کوئی بولنے والا نہیں لیکن ہمارا صوبہ آزاد ہے ، ہم فلسطین اور کشمیر کے مسلمانوں سمیت تمام مظلو موں کے ساتھ کھڑے ہیں اور کھڑے رہیں گے ۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ نے ایونٹ میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے کھلاڑیوںکیلئے اپنی طرف سے مجموعی طور پر 50 لاکھ روپے کا اعلان کیا جو محکمہ سپورٹس کی طرف سے کھلاڑیوں کو دی جانے والی انعامی رقم کے علاوہ ہو گی ۔ قبل ازیں وزیراعلیٰ نے حیات آباد سپورٹس کمپلیکس میں کرکٹ اسٹیڈیم کی اپ گریڈیشن کا بھی افتتاح کیا ۔

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے اطلاعات و تعلقات عامہ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا ہے کہ سازشی ٹولے کی تمام تر کوششوں کے باوجود وزیراعلیٰ نے ایس آئی ایف سی اجلاس میں شرکت کی

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے اطلاعات و تعلقات عامہ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا ہے کہ سازشی ٹولے کی تمام تر کوششوں کے باوجود وزیراعلیٰ نے ایس آئی ایف سی اجلاس میں شرکت کی، وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا ایس آئی ایف سی کے مستقل ممبر ہیں، کوئی مائی کا لعل ایس آئی ایف سی میں خیبر پختونخوا کو نظر انداز نہیں کرسکتا۔انہوں نے کہا کہ سازشی ٹولے نے کوشش کی لیکن انکو منہ کی کھانی پڑی، عمران خان اور انکے سپاہی علی امین گنڈاپور مریم اور انکے چچا کے لئے ڈراؤنا خواب بن چکے ہیں،دونوں عمران خان اور علی امین گنڈاپور کو سیاست سے مائنس کرنے کے لئے لگے ہیں، شریف فیملی کا یہ خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہ ہوگا، قید میں ہوکر بھی جعلی سلطنت عمران خان سے خوفزدہ ہے۔

وزیر صحت سید قاسم علی کا بونیر ڈگر ہسپتال کا اچانک دورہ۔

وزیر صحت سید قاسم علی شاہ نے وزیر اعلیٰ کے معاون خصوصی سید فخر جہاں کے ہمراہ ضلعی ہیڈکوارٹر ہسپتال ڈگر بونیر کا اچانک دورہ کیا۔ وزیر صحت سید قاسم علی شاہ نے ہسپتال کے او پی ڈی اور ایمرجنسی سے لیکر انتظامی و آپریشنل تمام حصوں کا معائنہ کیا۔انہوں نے ہسپتال میں مریضوں سے ملاقات کی اور انہیں فراہم کی جانے والی سہولیات کے بارے میں دریافت کیا۔ اس موقع پرایم ایس ہسپتال نے انہیں ہسپتال میں فراہم کیجانی والی سہولیات اور درپیش چیلنجز بارے جائزہ پیش کیا۔ وزیر صحت سید قاسم علی شاہ نے اس موقع پر کہا کہ خیبرپختونخوا میں صحت کی سہولیات کو بہتر بنایا جا رہا ہے،ہم صوبے میں ائیر ایمبولینس سروس بھی شروع کر رہے ہیں جس سے لوگوں کے طبی معائنے میں کوئی کوتاہی نہیں ہو گی بلکہ مریض کا علاج بروقت ممکن ہوسکے گا۔انہوں نے مزید بتایا کہ تمام ہسپتالوں کو اچانک دوروں کا سرپرائز دونگا، عوامی خدمات میں غفلت قطعی برداشت نہیں کرونگا۔صوبائی وزیر صحت نے کہا کہ صوبائی بجٹ میں ادویات کے لیے 10 ارب روپے سے زائد مختص کیے گئے ہیں، جس سے صوبے کے عوام کو مفت ادویات فراہم ہوں گی۔