Home Blog Page 297

خیبر پختونخوا کے وزیر بلدیات ارشد ایوب خان نے جمعرات کے روز پشاور ڈیویلپمنٹ اتھارٹی ہیڈ آفس حیات آباد کا دورہ کیا، وہاں مختلف سیکشنزکا معائنہ کیا اور عملے کی موجودگی کا جائزہ لیا

خیبر پختونخوا کے وزیر بلدیات ارشد ایوب خان نے جمعرات کے روز پشاور ڈیویلپمنٹ اتھارٹی ہیڈ آفس حیات آباد کا دورہ کیا، وہاں مختلف سیکشنزکا معائنہ کیا اور عملے کی موجودگی کا جائزہ لیا۔بعد ازاں ڈائریکٹر جنرل پشاور ڈیویلپمنٹ اتھارٹی کے ہمراہ ریگی ماڈل ٹاؤن گئے جہاں پرصوبائی وزیر کو 50 کنال کی زمین پہ ہائی رائز ملٹی پرپز کمپلیکس بنانے کے منصوبے کے حوالے سے آگاہ کرتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل پشاور ڈیویلپمنٹ اتھارٹی نے بتایا کہ اب تک سات سے اٹھ کاروباری لوگوں نے یہاں پر اپنا انٹرسٹ دیکھایا ہے جس پہ کام جاری ہے، انہوں نے کہا کہ یہاں ملٹی پرپز بلڈنگ بنائی جائے گی جہاں پہ نیشنل انٹرنیشنل برینڈز کو لایا جائے گا اس پر کام جاری ہے۔ صوبائی وزیر نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اس علاقے کے نو جوانوں کو بہتر ہم نصابی سہلولتوں کی فرہاہمی کے لئے بھی اقدامات اٹھائے جائیں گے جہاں پر انڈور شوٹنگ کلب اور ہارس رائٹنگ کلب بھی ہوگا،انہوں نے کہا کہ ان تمام منصوبوں سے صوبائی حکومت کو آمدن حاصل ہو گی جس سے معاشی طور پر فائدہ اٹھا سکیں گے اور یہ تمام منصوبے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت ہوں گے،جن سے خزانے پر بوجھ نہیں پڑے گا بلکہ صوبے میں مزید پیسہ اور سرمایہ کاری آئے گی۔

خیبر پختونخوا کے وزیر برائے اعلیٰ تعلیم میناخان آفریدی نے سرکاری کالجز کے پرنسپلز کو ہدایت کی ہے کہ ایسے بی ایس پروگرام ختم کریں جن میں طلبہ داخلہ نہیں لے رہے ہیں

خیبر پختونخوا کے وزیر برائے اعلیٰ تعلیم میناخان آفریدی نے سرکاری کالجز کے پرنسپلز کو ہدایت کی ہے کہ ایسے بی ایس پروگرام ختم کریں جن میں طلبہ داخلہ نہیں لے رہے ہیں ان کی جگہ مارکیٹ کی ضرورت کے مطابق مضامین کو بہت جلد متعارف کر رہے ہیں جن سے طلبہ کو روزگار کے مواقع میسر ہونگے یہ ہدایات انہوں نے ضلع نوشہرہ کے مختلف گرلز اور بوائز کالجز کے مسائل کے حوالے سے منعقدہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے جاری کیں اجلاس میں خیبر پختونخوا کے وزیر ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن خلیق الرحمن، نوشہرہ سے منتخب اراکین صوبائی اسمبلی ادریس خٹک زرعالم خان اور اشفاق خان، سپیشل سیکرٹری، ڈپٹی سکرٹری،محکمہ اعلیٰ تعلیم کے دیگر افسران اور نوشہرہ کے کالجز کے پرنسپل نے شرکت کی۔ اجلاس میں صوبائی وزیر کو مختلف کالجز کو درپیش مسائل کے بارے میں متعلقہ کالجز کے پرنسپل نے تفصیلی بریفنگ دی بریفنگ میں کالجز سٹاف کی کمی، انفراسٹرکچر،بونڈری وال، بی ایس بلاک کی تعمیر کی ضرورت، بجلی لوڈ شیڈنگ اور دیگر مسائل کے بارے میں صوبائی وزراء کو تفصیلی طور پر آگاہ کیا گیا۔اس موقع پر اجلاس سے اپنے خطاب میں خیبر پختونخوا کے وزیر ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن خلیق الرحمن نے کہا کہ تعلیم کے بغیر کو ئی قوم ترقی نہیں کر سکتی اور موجودہ حکومت کی زیادہ توجہ فروغ تعلیم پر مرکوز ہے اور ضلع نوشہرہ کے تعلیمی اداروں کے مسائل کے حل میں صوبائی وزیر تعلیم کی گہری دلچسپی اور ان کی زیر صدارت اجلاس کا انعقاد اس کا واضح ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ علاقے کے دیگر مسائل کو بھی حل کریں گے لیکن تعلیمی میدان میں ترقی کے لئے تمام تر وسائل بروئے کار لائیں گے کیو نکہ تعلیم ہی ترقی کا زینہ ہے۔اس موقع پر صوبائی وزیر مینا خان آفریدی نے یقین دلایا کہ کالجز کو درپیش مسائل کو فوری طور پر حل کرنے کے لیے جلد از جلد اقدامات اٹھا رہے ہیں انہوں نے کہا کہ کالج کے پرنسپل کو اختیار دیا گیا ہے کہ وہ کالج فنڈ سے 12 کے وی تک کالج میں سولرائزیشن کا انتظام کر سکتے ہیں جس سے کالج کے لیبارٹریز، پنکھے وغیرہ چل سکتے ہیں انہوں نے کہا کہ کالجز کو شمسی نظام پر منتقل کرنے کے لیے وہ وزیر اعلیٰ سے بات کررہے ہیں اور اس کے لیے مختلف آپشنز پر غور کر رہے ہیں بہت جلد کالجز کی سولرائزیشن پر کام شروع ہو جائے گا کالجز میں سٹاف اور اساتذہ کی کمی کے بارے میں صوبائی وزیر مینا خان آفریدی کا کہنا تھا کہ جن کالجز کو جن مضامین ٹیچر کی ضرورت ہوگی اس کالج کو اسی مضمون کا ٹیچربھیجا جائیگا انہوں نے کہا کہ ستمبر سے پہلے ریشنلائزیشن کر رہے ہیں جبکہ ای ٹرانسفر پالیسی پر بھی کام جاری ہے جس سے ان مسائل کا حل ممکن جائے گا جبکہ صوبائی ہائر ایجوکیشن کمیشن بنانے کے لیے بھی بھرپور کوشش کر رہے ہیں انہوں نے کالج کے پرنسپلز کو تاکید کرتے ہوئے کہا کہ معیاری تعلیم کی فراہمی پر توجہ دیں ہمارا بنیادی مقصد طلبہ کو معیاری تعلیم دینا ہے سٹوڈنٹس کو بہتر مستقبل کے لیے تیار کرنا ہے صرف ڈگریاں بانٹنا اور طلبہ کو فارغ کرنا نہیں ہے اجلاس میں مختلف تجاویز بھی زیرغور لائی گئیں۔

مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم بدقسمتی سے وفاقی مالی خودمختاری کہاں ہے؟ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا کا وفاق سے سوال

0

اگر پی ڈی ایم حکومت ٹیکس اور ریلیف بارے فیصلے نہیں کر سکتی تو یہ عوامی مینڈیٹ کی توہین ہے مزمل اسلم

خیبرپختونخوا حکومت تاریخ بنانے جا رہی ہے 24 مئی کو وفاق سے پہلے اگلے سال کیلئے بجٹ پیش کرے گی مشیر خزانہ خیبرپختونخوا

سال 2023-24 بجٹ کی طرح نئے سال کا بجٹ بھی ذمہ داری کے ساتھ تیار کیا گیا ہے تاکہ سرپلس رہے مزمل اسلم

نئی بجٹ میں عوامی خدمات کی بہتری پر زیادہ سے زیادہ توجہ دی گئی ہے مشیر خزانہ خیبرپختونخوا

نئی بجٹ میں صوبائی آمدنی میں زیادہ سے زیادہ اضافہ اور وسائل کو متحرک کرنے کو یقینی بنایا گیا ہے مزمل اسلم

بیشکک کرغزستان واقعہ

خیبرپختونخوا حکومت کے ساتھ کرغزستان سے اب بھی بڑی تعداد میں طلبہ رابطہ کر رہے ہیں مشیر خزانہ خیبرپختونخوا

خیبرپختونخوا حکومت کی کوشش ہے کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو واپس لائیں مشیر خزانہ خیبرپختونخوا

وفاقی بیوروکریسی اب خصوصی فلائٹ آپریشن ختم کرنا چاہ رہی ہے اور لوگوں کو اپنے رحم وکرم پر چھوڑنے کی بات کر رہی ہے۔ مزمل اسلم

التجا ہے کہ خیبرپختونخوا حکومت کے فلائٹس کو جاری رکھا جائے جب تک ضرورت ہے مزمل اسلم

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی زیر صدارت پی ڈی اے کے بورڈ کے 11ویں اجلاس میں اہم ترقیاتی فیصلے۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سردار علی امین خان گنڈا پور کی زیر صدارت پشاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (پی ڈی اے)کے بورڈ کا 11واں اجلاس جمعرات کے روز وزیراعلیٰ ہاﺅس پشاور میں منعقد ہوا جس میں 33 نکاتی ایجنڈے پر غور وخوص کے بعد اہم فیصلے کئے گئے۔ اجلاس میں صوبائی دارلحکومت پشاور میں ٹریفک کے مسائل کو حل کرنے کیلئے رنگ روڈ سمیت دیگر اہم سڑکوں پر انڈر پاسسز / فلائی اوورز تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ مجموعی طور پر آٹھ انڈر پاسسز/ فلائی اوور تعمیر کئے جائیں گے ۔ تین انڈرپاسسز / فلائی اوور رنگ روڈ کے مختلف مقامات جبکہ پانچ انڈر پاسسز شہر کے اندر مختلف مصروف مقامات پر تعمیر کئے جائیں گے ۔ صوبائی وزیر بلدیات ارشد ایوب خان، مئیر پشاور حاجی زبیر علی کے علاوہ متعلقہ انتظامی سیکرٹریز اور بورڈ اراکین نے اجلاس میں شرکت کی ۔ بورڈ اجلاس میں رنگ روڈ کی کشادگی اور بحالی کے کاموں کی منظوری کے ساتھ ساتھ پی ڈی اے کے زیر انتظام چلنے والے ٹیوب ویلز کو شمسی توانائی پر منتقل کرنے کی بھی منظوری دی گئی ہے ۔ ٹیوب ویلز کی سولرائزیشن سے پی ڈی اے کو بجلی کے بلوں کی مد میں سالانہ 81 کروڑ روپے کی بچت ہو گی ۔ بورڈ نے ریگی للمہ ماڈل ٹاﺅن میں پی ڈی اے کے سب آفس جبکہ ٹاﺅن میں ایجوکیشن کمپلیکس کے قیام کیلئے ایکشن پلان کی بھی منظوری دے دی ہے ۔بورڈ نے پی ڈی اے ایکٹ 2017 کے تحت مختلف رولز اینڈ ریگولیشنز کی مشروط منظوری دے دی ہے جبکہ صوبائی وزیر بلدیات کی سربراہی میں تشکیل کردہ کمیٹی 14 دنوں میں ان رولز اینڈ ریگولیشنز کا باریک بینی سے جائزہ لے کر انہیں حتمی شکل دے گی ۔ بورڈ اجلاس میں پی ڈی اے کی زمینوں پر پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت ہائی رائز بلڈنگز کی تعمیر کیلئے مجوزہ ایکشن پلان کی بھی مشروط منظوری دی گئی ہے۔بورڈ نے فرانزک سائنس لیبارٹری کے قیام کیلئے محکمہ داخلہ کو حیات آباد میںدرکار زمین فراہم کرنے جبکہ ریگی ماڈل ٹاﺅن میں پیر ا پلیجک سنٹر کے قیام کیلئے محکمہ صحت کو درکار زمین دینے کی منظوری دے دی ہے ۔ وزیراعلیٰ علی امین خان گنڈا پور نے پشاور موٹروے تا حیات آباد جی ٹی روڈ پر سنٹرل میڈیا پر سولر لائٹس کی تنصیب اور سنٹرل میڈیا کی تزئین و آرائش کیلئے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے اور کہا ہے کہ بی آر ٹی کے گرے اسٹرکچر کی تزئین و آرئش اور بیوٹیفکیشن کیلئے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات کئے جائیں۔ وزیراعلیٰ نے پی ڈی اے کے تمام انفراسٹرکچر کی شمسی توانائی پر منتقلی کیلئے بھی اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے ۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ پی ڈی اے کے زیر انتظام سڑکوں کی مرمت اور دیکھ بھال کا خصوصی انتظام کیا جائے ، صوبائی دارلحکومت پشاور میں پی ڈی اے اور دیگر شہری سہولیات فراہم کرنے والے اداروں کے دائرہ کار کا واضح تعین کیا جائے ۔ وزیراعلیٰ نے متعلقہ حکام کو نیو پشاور ویلی منصوبے پر پیشرفت کیلئے ایک مہینے میں پلان پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔

شہید بے نظیر بھٹو ویمن یونیورسٹی پشاور کا19 واں یوم تاسیس منایا گیا یوم تاسیس پر دو روزہ کلچر فیسٹیول کا بھی انعقاد کیا گیا اس موقع پر وزیر برائے اعلیٰ تعلیم مینا خان آفریدی نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی

شہید بے نظیر بھٹو ویمن یونیورسٹی پشاور کا19 واں یوم تاسیس منایا گیا یوم تاسیس پر دو روزہ کلچر فیسٹیول کا بھی انعقاد کیا گیا اس موقع پر وزیر برائے اعلیٰ تعلیم مینا خان آفریدی نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی تقریب میں یوم تاسیس کا کیک کاٹا گیا اور یونیورسٹی نے مختلف تنظیموں کے ساتھ 8 مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کیے جن میں یونیورسٹی کی طالبات کیلئے تحقیق، فیکلٹی ایکسچینج پروگرامز اور سافٹ اسکل ڈویلپمنٹ تعاون پر توجہ مرکوز کی جائے گی اس موقع پر یونیورسٹی کے پلیٹ فارم سے ایلومناز اسٹارٹ اپ، ڈے ڈریمرز ایونٹ مینجمنٹ کمپنی کا آغاز بھی کیا تاکہ طالبات کو انٹرپرینیورئل اسٹارٹ اپس کی طرف مائل کرنے کی ترغیب دی جاسکے تقریب میں شعبہ کیمسٹری کی مس رقیہ بی بی کو سال 2022-23 کے لیے بیسٹ ٹیچر ایوارڈ سے نوازاگیا اور بطور انعام 2لاکھ روپے دیئے گئے اس موقع پر یونیورسٹی کی وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر صفیہ احمد (ٹی آئی) نے یونیورسٹی کی مختصر تاریخ بتائی اور یونیورسٹی کو درپیش مشکلات بشمول فنڈز کی کمی اور بھرتیوں پر پابندی کے بارے میں بتایا، انہوں نے کہا کہ عملہ کی کمی کی وجہ سے مختلف انتظامی اور تعلیمی مسائل درپیش ہیں انہوں نے مزید اکیڈمک بلاکس اور ہاسٹلز کی ضرورت پر بھی زور دیا تاکہ طالبات کے لیے مختلف دیگر شعبوں کا آغاز کیا جا سکے۔ اپنے خطاب میں صوبائی منسٹر ہائیر ایجوکیشن مینا خان آفریدی نے کہا ہے کہ نیورسٹیاں ریسرچ انجن ہیں ہر یونیورسٹی کو کوالٹی ایشورنس کے ساتھ ساتھ اپنے آفس آف ریسرچ اینڈ کمرشلائزیشن و اینوویشن پر توجہ دینی چاہیے، شہید بے نظیر بھٹو ویمن یونیورسٹی پشاور کے یوم تاسیس کے موقع پر تقریب سے خطاب میں مینا خان ٓفریدی نے ریسرچ کے میدان میں شہید بے نظیر بھٹو ویمن یونیورسٹی پشاورکی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہاہے کہ وائس چانسلر ڈاکٹر صفیہ احمد نے فنڈ زاورمالی مسائل کا ذکر کیا اس پر محکمہ تعلیم نے کام کا آغاز کیا ہے کیونکہ خیبر پختونخوا کے اکثر یونیورسٹیوں کو انہی مسائل کا سامنا ہے، اس کیلئے خیبر پختونخوا حکومت اپنی صوبائی ہائر ایجوکیشن کمیشن کو متعارف کرانے کی منصوبہ بندی اور کام کر رہی ہے تاکہ یونیورسٹیوں سے متعلق مسائل کو حل کیا جا سکے، صوبائی وزیر نے کہا کہ ہائیر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کا مقصد ترجیحی بنیادوں پر خواتین کو بااختیار بنانا اور ہر ایک کو منصفانہ مواقع فراہم کرنا ہے،انہوں نے کہا کہ حکومت نوجوانوں کو بااختیار بنانے کے لیے بھی حکمت عملی تیار کرنے پر غور کررہی ہے انہوں نے کہا کہ نصاب کے مسائل، مالی خسارہ، گڈ گورننس،معیاری تعلیم میں پائیداری لانے پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔

انٹر ریجنل انڈر23 خیبرپختونخوا گیمز 28 مئی سے پشاور میں شروع ہوں گے، ڈی جی سپورٹس عبدالناصر

خیبرپختونخوا حکومت کے زیر اہتمام انڈر23 گیمز اٹھائیس مئی سے پشاور کے حیات آباد سپورٹس کمپلیکس میں شروع ہورہی ہیں اس سلسلے میں ڈی جی سپورٹس خیبرپختونخوا عبدالناصر نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور‘مشیر کھیل سید فخر جہان، اورسیکرٹری سپورٹس مطیع اللہ خان کی ہدایات کی روشنی میں انڈر23 گیمز کا انعقاد کیا جارہا ہے جس میں صوبہ بھر سے 1848 مردوخواتین کھلاڑی شرکت کررہے ہیں۔ گیمز حیات آباد سپورٹس کمپلیکس‘ پشاور سپورٹس کمپلیکس‘کوہاٹ سیورٹس کمپلیکس‘ طہماس خان فٹبال سٹیڈیم پشاور‘ یونیورسٹی آف پشاور گراؤنڈز‘ عبدالولی خان سپورٹس کمپلیکس چارسدہ‘ شہید بے نظیر بھٹو ویمن یونیورسٹی پشاور‘پشاور تعلیمی بورڈ گراؤنڈز پر منعقد ہوں گے‘ مردوں کی گیمز میں بیڈمنٹن‘ سکواش‘ ٹیبل ٹینس‘ والی بال‘کرکٹ‘ ہینڈبال‘کراٹے‘ایتھلیٹکس‘فٹبال‘ہاکی‘تھرو بال اورتائیکوانڈو کے مقابلے ہوں گے۔ مرد کھلاڑیوں کی تعداد 1078 ہوگی‘خواتین گیمزایڈیشنل ڈی جی سپورٹس رشیدہ غزنوی کی سربراہی میں 8 مختلف گیمز بیڈمنٹن‘ سکواش‘ ٹیبل ٹینس‘ والی بال‘ کرکٹ‘ جوڈو‘ ایتھلیٹکس‘ ہاکی اور تائیکوانڈو کے مقابلے شامل ہوں گے جبکہ خواتین ایتھلیٹس کی تعداد 770 ہوگی‘ٹیموں میں چھ سے اٹھارہ تک کے کھلاڑی شامل ہوں گے‘مینز بیڈمنٹن‘ سکواش‘ کرکٹ‘ہینڈ بال‘کراٹے کے مقابلے حیات آباد سپورٹس کمپلیکس‘ ٹیبل ٹینس کے مقابلے پشاور سپورٹس کمپلیکس‘ ایتھلٹکس مقابلے کوہاٹ سپورٹس کمپلیکس‘ فٹبال مقابلے طہماس فٹبال گراؤنڈ پشاور‘ ہاکی کے مقابلے پشاور سپورٹس کمپلیکس‘ تھرو بال کے مقابلے یونیورسٹی آف پشاور گراؤنڈ جبکہ تائیکوانڈ کے مقابلے پشاور سپورٹس کمپلیکس میں ہوں گے خواتین کے بیڈمنٹن‘ٹیبل ٹینس‘ والی بال‘جوڈ اور ہاکی کے مقابلے عبدالولی خان سپورٹس کمپلیکس‘ سکواش کے مقابلے پشاور سپورٹس کمپلیکس‘ کرکٹ کے مقابلے شہید بے نظیر بھٹو یونیورسٹی پشاور‘ ایتھلیٹکس اور تائیکوانڈو کے مقابلے پشاور تعلیمی بورڈ گراؤنڈ پر ہوں گے۔

خیبرپختونخوا کے وزیر جنگلات و ماحولیات فضل حکیم خان یوسفزئی نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت عوام کی حقیقی خدمت کرنے اور ان کا معیار زندگی بہتر بنانے پر یقین رکھتی ہے

خیبرپختونخوا کے وزیر جنگلات و ماحولیات فضل حکیم خان یوسفزئی نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت عوام کی حقیقی خدمت کرنے اور ان کا معیار زندگی بہتر بنانے پر یقین رکھتی ہے اور اس سلسلے میں تمام تر توانائیاں بروئے کار لارہی ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنے دفتر پشاور میں مختلف وفود سے ملاقات کے دوران کیا اس موقع پر خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع سے آئے ہوئے لوگوں اور وفود نے فضل حکیم خان یوسفزئی کو اپنے انفرادی اور اجتماعی مسائل سے بھی آگاہ کیا صوبائی وزیر نے ان کے مسائل پوری توجہ اور ہمدردی سے سنے اور موقع پر ہی بعض مسائل کے حل کیلئے احکامات بھی جاری کئے انہوں نے وفود کو یقین دلایا کہ صوبائی حکومت صحت و تعلیم سمیت دیگر اہم مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کر رہی ہے اور دستیاب وسائل کے مطابق بنیادی ضروریات کی فراہمی میں کوئی کسر نہیں چھوڑے گی۔ صوبائی وزیر فضل حکیم خان یوسفزئی کا کہنا تھا کہ لوگوں کے مسائل حل کرنے پر دلی سکون اور خوشی محسوس ہوتی ہے۔وفد نے مسائل حل کرنے کی یقین دہانی پر وزیر موصوف کا شکریہ ادا کیا۔

فوڈ سیفٹی اتھارٹی کے چھاپے،ملاوٹ شدہ دودھ اور ممنوعہ چھالیہ ضبط۔ بھاری جرمانے عائد، ترجمان

شہریوں کی صحت سے کھلواڑ کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی، ڈائریکٹر جنرل فوڈ اتھارٹی واصف سعید

خیبر پختونخوا فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھارٹی ملاوٹ مافیا کے خلاف مسلسل سرگرم ہے ترجمان فوڈ اتھارٹی نے کاروائیوں کے حوالے سے تفصیلات جاری کرتے ہوئے بتایا کہ گذشتہ روز فوڈ سیفٹی ٹیم پشاور نے موٹروے ٹول پلازہ پر ناکہ بندی کی اورخوردنی اشیاء خصوصی طور پر دودھ اورچکن سپلائی کرنے والی گاڑیوں کے معائنے کیے چیکنگ کے دوران ملاوٹ شدہ دودھ تلف کر کے بھاری جرمانہ عائد کیا اور چکن سپلائی کرنے والی گاڑیوں کے مالکان کو سختی سے مردہ چکن سپلائی کو روکنے کی ہدایت کی۔ترجمان نے مزید بتایا کہ فوڈ سیفٹی ٹیم مردان نے بھی کاٹلنگ بازار میں کاروائی کے دوران دو بیکری شاپس سے 120 کلو ممنوعہ چھالیہ اور چورن برآمد کر کے ضبط کرتے ہوئے بھاری جرمانہ عائد کیا۔ڈائریکٹر جنرل فوڈ سیفٹی اتھارٹی واصف سعید نے فوڈ سیفٹی ٹیموں کو کامیاب کاروائیوں پر داد دیتے ہوئے ہدایت دی کہ دیگر صوبوں سے داخلی شاہراہوں اور بین الاضلاعی راستوں پر خوراکی اشیاء خصوصاً چکن سپلائی کرنے والی گاڑیوں کی کڑی نگرانی کی جائے اور جو بھی غیر معیاری اور ملاوٹی خوراکی مصنوعات میں ملوث ہو اس کے خلاف سخت تادیبی کاروائی عمل میں لائی جائے ڈائریکٹر جنرل کا مزید کہنا تھا کہ شہریوں کی صحت سے کھلواڑ کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے کھیل اور امور نوجوانان سید فخر جہان نے کہا ہے کہ ہم صوبے میں کھیلوں کے فروغ کیلئے پالیسی متعارف کررہے ہیں

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے کھیل اور امور نوجوانان سید فخر جہان نے کہا ہے کہ ہم صوبے میں کھیلوں کے فروغ کیلئے پالیسی متعارف کررہے ہیں جس کے نتیجے میں ہر کھیل سے متعلق 15 باصلاحیت کھلاڑیوں کودیگر سہولیات کیساتھ اسکالرشپس فراہم کئیے جائیں گے۔انھوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کے دوران مختلف کھلاڑیوں میں اعلی کارکردگی دکھانے پر انکی حوصلہ افزائی کیلئے نقد انعامات سے نوازا گیا ہے جبکہ نوجوانوں کی ترقی اور انھیں معاشی طور پر اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کیلئے دس لاکھ تا ایک کروڑ روپے تک بلاسود قرضہ سکیم شروع کررہے ہیں جس کے تحت نوجوان کلسڑز کی بنیاد پر یہ قرضہ حاصل کرکے اپنے لئیے باعزت روزگار شروع کرسکیں گے۔انھوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کے مختصر دورانئے میں بہتر مالی انتظام کی بدولت سپورٹس فیسلیٹیز سے آمدن آنی بھی شروع ہوگئی ہے اور اس سلسلے میں ایک مہینے کے دوران صرف حیات آباد سپورٹس کمپلیکس نے ایک ملین روپے کی کمائی کی ہے جسے سپورٹس کھلاڑیوں کی فلاح و بہبود ہی پر خرچ کیا جائے گا۔انھوں نے صوبے میں کرکٹ کھیل کے فروغ کیلئے صوبائی حکومت کیساتھ پشاور زلمی گروپ کے تعاون کا خیر مقدم کیا اور کہا کہ محکمہ سپورٹس اس حوالے سے مزکورہ گروپ کو ہر ممکن تعاون فراہم کرے گا۔ان خیالات کا اظہار انھوں نے بدھ کے روز اپنے دفتر سول سیکریٹیریٹ پشاور میں پشاور زلمی گروپ کے ایک وفد سے بات چیت کرتے ہوئے کیا جنھوں نے چیف آپریٹنگ آفیسر میاں عباس لائق کی سربراہی میں مشیر کھیل سے ملاقات کی۔وفد میں ہیڈ آف مارکیٹنگ احد خان بھی شامل تھے جبکہ اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل سپورٹس عبدالناصر بھی موجود تھے۔ملاقات کے دوران پشاور زلمی نے مشیر کھیل کو صوبے میں کرکٹ کھیل کے فروغ کیلئے صوبائی حکومت کیساتھ ملکر کوششیں کرنے اور اس ضمن میں اپنا تعاون بڑھانے کے پیشکش کی۔انھوں نے بتایا کہ ہم صوبے میں 100 کرکٹ پچز بنانے میں محکمہ کو اپنا تعاون بڑھانا چاہتے ہیں جبکہ ارباب نیاز سٹیڈیم کی تیاری کی تکمیل کی اوپننگ تقریب کی سپانسرشپ میں بھی انہوں نے اپنی خواہش کا اظہار کیا۔انھوں نے کہا کہ ہم محکمہ کیلئے مختلف گراؤنڈز میں کرکٹ اکیڈمیز بھی بنانا چاہتے ہیں جبکہ صوبے میں پی ایس ایل بھی جلد ازجلد لانا چاہتے ہیں۔انھوں نے مشیر کھیل کو اپنے گروپ کے دیگر خدمات اور سرگرمیوں کے حوالے سے بھی مشیر کھیل کو آگاہ کیا۔اس موقع پر مشیر کھیل نے پشاور زلمی کی جانب سے صوبے میں کرکٹ کی ترقی کیلئے حکومت کو اپنا تعاون بڑھانے کا خیر مقدم کیا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ مذکورہ گروپ کی مشترکہ کوششں اس کھیل کی ترقی میں معاون ثابت ہو گی۔ انھوں نے کہا کہ ہمارا بنیادی مقصد بھی یہی ہے کہ یہاں پر کھیلوں کو فروغ حاصل ہو۔اس کے ذریعے ہمارے صوبے کا مثبت تشخص اور تصو اجاگر ہوسکے۔ہم ان کھیلوں کے باعث پوری دنیا میں اپنی امن پسندی اور ایک پر امن معاشرے کا پیغام دینا چاہتے ہیں۔انھوں نے کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ یہاں پر انٹرنیشنل کرکٹ جلد از جلد لایا جائے،ارباب نیاز سٹیڈیم کو ان سرگرمیوں کیلئے بہت جلد مکمل کرنے کی کوشش کررہے ہیں اور ہر سال یہاں پر سپر لیگ کا انعقاد بھی ہمارے پلان میں شامل ہے۔ انھوں نے کہا کہ سپورٹس فیسلیٹیز کے حوالے سے صوبے میں محکمہ کے حکام پشاور زلمی سے ہر موڑ پر درکار تعاون فراہم کریں گے۔

ای ایس ایس آئی میں ملنے والی جان بچانے کی ادویات کے معیار پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جائے گا۔فضل شکور خان

ڈیرہ اسماعیل خان، سوات اور نوشہرہ میں فوری طور پر میڈیسن سٹور کا قیام عمل میں لایا جائے۔ وزیر برائے محنت

خیبر پختونخوا کے وزیر برائے محکمہ محنت فضل شکورخان نے کہا ہے کہ ایمپلائز سوشل سیکورٹی انسٹی ٹیوشن میں ملنے والی جان بچانے کی ادویات کے معیار پر کوئی سمجھوتا برداشت نہیں کیا جائے گا انہوں نے سختی سے ہدایات کی کہ ایمپلائز سوشل سیکورٹی انسٹی ٹیوشنز کے زیر انتظام چلنے والے ہسپتالوں میں ایمبولینسز کے معیار اور سروسز کو بہتر بنایا جائے اور اگر ایمبولینسز کو کسی دوسری مقصد کیلیے استعمال کیا گیا تو متعلقہ آفیسر کوتاہی اور غفلت کا ذمہ دار ہوگا۔انہوں نے مزید ہدایت کی کہ ای ایس ایس آئی کے میڈیکل شعبے سے وابستہ عملے کی غیر ضروری اور طویل چھٹیاں فوری طور پر ختم کی جائیں یہ ہدایت صوبائی وزیر نے ایمپلائز سوشل سیکورٹی انسٹیٹیوشن پشاور کے دورہ کے موقع پر جاری کیں اس موقع پر انکے ہمراہ سیکرٹری لیبر ڈیپارٹمنٹ اور دیگر افسران بھی موجود تھے صوبائی وزیر نے ای ایس ایس آئی کی مختلف سیکشنز کا معائنہ کیا اور موقع پر موجود عملے سے کام کے بارے میں دریافت کیا صوبائی وزیر کو ای ایس ایس آئی پر تفصیلی بریفنگ دی گئی بریفنگ میں صوبائی وزیر کو ادایات کی خریداری اور دوسرے امور پر تفصیلی طور پر آگاہ کیا صوبائی وزیر کو بریفنگ میں بتایاگیا کہ میڈیسن کے شعبے کے لیے 355 ملین روپے کی منظوری ہوئی ہے جسمیں 340 ملین روپے خرچ ہوئے ہے صوبائی وزیر کو مذیدبتایا گیا کہ پورے ادارے میں ایک مہینے کے اندر اندر بائیو میٹرک سسٹم فعال ہوجائیگا اس موقع پر صوبائی وزیر نے متعلقہ افسران کو ہدایت جاری کی کہ ڈیرہ اسماعیل خان، سوات اور نوشہرہ میں فوری طور پر میڈیسن سٹور کا قیام عمل میں لایا جائے تا کہ مزدوروں کے فوری اور جلد علاج معالجے کو یقینی بنایاجاسکے۔