Home Blog Page 297

مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے کہا ہے کہ بدقسمتی سے پی ڈی ایم حکومت کے پاس ٹیکس بڑھانے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے

مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے کہا ہے کہ بدقسمتی سے پی ڈی ایم حکومت کے پاس ٹیکس بڑھانے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے،ستم ظریفی یہ ہے ٹیکس دینے والوں سے مزید ٹیکس لیا جا رہا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے یہاں سے جاری اپنے ایک بیان میں کیا۔انہوں نے کہا کہ افسوس کہ آئی ایم ایف بھی ایسی پالیسیاں تھوپ رہا ہے،آئی ایم ایف اور حکومتی مذاکرات میں سٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں نہیں لیا جاتا۔مزمل اسلم نے کہا کہ حکومت کو صوبائی اور وفاقی ممبران پر مشتمل بورڈ تشکیل دینا چاہیئے اور بورڈ ممبران کو آئی ایم ایف سے مذاکرات کا اختیار دیا جائے۔مشیر خزانہ مزمل اسلم نے کہا کہ سخت پالیسی اقدامات اٹھانے سے پہلے اتفاق رائے ضروری ہے۔

پیراپلیجک سنٹر پشاور میں ورلڈ کلب فٹ ڈے کے حوالے سے پُروقار تقریب کا انعقاد ڈی جی پی ڈی اے کیپٹن (ر) خالد محمود نے بحیثیت مہمان خصوصی بچوں میں تحائف تقسیم کئے

پیراپلیجک سنٹر حیات آباد پشاور میں ورلڈ کلب فٹ ڈے کے حوالے سے ایک پروقار تقریب کا اہتمام کیا گیا اور کلب فٹ بچوں میں تحائف تقسیم کئے گئے۔ پشاور ترقیاتی ادارہ کے ڈائریکٹر جنرل کیپٹن (ر) خالد محمود نے تقریب میں بحیثیت مہمان خصوصی شرکت کی۔ اس موقع پر وہ سنٹر میں زیرعلاج اور صحت یاب کلب فٹ چلڈرن (پیدائشی ٹیڑھے پاؤں والے بچوں) اور انکے والدین میں گھل مل گئے اور ان سے بات چیت کی۔ انہوں نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ پیراپلیجک سنٹر میں کلب فٹ بچوں کا بالکل مفت اور کامیاب علاج ہوتا ہے۔ یہاں پیدائشی ٹیڑھے پاؤں والے بچے عملے کی دن رات محنت کے سبب محض چند سالوں میں صحتیاب ہو کر کھیل کود اور حصول تعلیم میں مشغول ہو جاتے ہیں اور والدین کے ساتھ ہنسی خوشی نارمل زندگی بسر کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ کلب فٹ بچوں کا علاج کافی صبرآزما اور مہنگا ہے جس کی وجہ سے غریب والدین کے پھول جیسے بچے ہمیشہ کیلئے معذوری کا شکار ہو جاتے ہیں۔ انہوں نے پیراپلیجک سنٹر پشاور میں کلب فٹ کے علاج کیلئے کی جانے والی بہترین خدمات کو سراہا اور تمام سٹاف ممبرز کو اس کامیاب کاوش پر مبارکباد دی۔ ڈائریکٹر جنرل پی ڈی اے نے سنٹر میں کلب فٹ کلینک کے علاوہ پیراپلیجکس یعنی ریڑھ کی ہڈی کے امراض میں مبتلا مریضوں کے مفت علاج و بحالی، انکے مصنوعی اعضا اور آلات کی تیاری کیلئے ورکشاپ اور بول چال میں مشکلات کے شکار افراد اور آٹزم سے متاثرہ بچوں کیلئے کلینک کے قیام کے علاوہ ڈاکٹر آف فزیوتھراپی اور اکوپیشنل تھراپی کی ڈگری کلاسز کے اجراء سمیت مختلف شعبوں میں منفرد طبی خدمات پر پیراپلیجک سنٹر کی انتظامیہ بالخصوص اس کے چیف ایگزیکٹیو ڈاکٹر سید محمد الیاس کی مخلصانہ خدمات کو سراہا اور اپنے ادارے کی جانب سے بھرپور تعاون کا یقین دلایا۔ پیراپلیجک سنٹر کے چیف ایگزیکٹیو ڈاکٹر سید محمد الیاس، ڈائریکٹر ریہیب و کلب فٹ پروگرام کوآرڈینیٹر امیر زیب نے کلب فٹ کے علاج پروگرام اور اسکی مزید توسیع پر تفصیلی روشنی ڈالی اور اپنا عزم دہرایا کہ مستقبل میں ڈویژنل سطح پر جدید پونسیٹی کلب فٹ کلینک بھی قائم کئے جائیں گے۔ ڈاکٹر الیاس کا کہنا تھا کہ پیراپلیجک سنٹر پشاور 2018ء سے کلب فٹ بچوں کا بالکل مفت علاج کر رہا ہے جس میں ان بچوں کی ابتدائی کاسٹنگ سے لے کر چار پانچ سال کے اندر مکمل بحالی شامل ہے۔ بچوں کے مفت علاج کے علاوہ مستحق زکوٰۃ خاندانوں کو آمدورفت کا کرایہ بھی دیا جاتا ہے تاکہ کوئی کلب فٹ بچہ غربت کی وجہ سے لاعلاج نہ رہے۔ سنٹر میں اب تک 3666 کلب فٹ بچوں کا بالکل مفت علاج ہوچکا ہے جبکہ خیبر پختونخوا کے تین بڑے ہسپتالوں یعنی خیبر ٹیچنگ ہسپتال، سیدوٹیچنگ ہسپتال اور ایوب ٹیچنگ ہسپتال میں بھی کلب فٹ کلینکس قائم کئے گئے ہیں۔ اسی طرح اسلام آباد میں نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ری ہیبلیٹیشن میڈیسن میں بھی کلب فٹ کلینک قائم کیا گیا ہے۔ ڈاکٹر الیاس سید کا مزید کہنا تھا کہ ہر سال دنیا بھر میں ورلڈ کلب فٹ ڈے اس عزم سے منایا جاتا ہے کہ معاشرے میں اس موذی پیدائشی نقص کے حوالے سے بیداری پیدا کی جائے۔ یہ ایسی بیماری ہے جو دنیا بھر میں لاکھوں لوگوں کو متاثر کرتی ہے تاہم بروقت تشخیص سے اس کا مکمل علاج ممکن ہے۔ یہ عالمی دن منانے کا مقصد اُن بچوں کی حوصلہ افزائی ہے جن کا علاج ہوچکا یا زیر علاج ہیں اور اُن میڈیکل پروفیشنلز کو بھی خراج تحسین پیش کرنا ہے جو اس لمبے اور صبر آزما علاج میں پوری تندہی سے کردار ادا کرتے ہیں۔ دُنیا میں 89 لاکھ لوگ کلب فٹ کے ساتھ پیدا ہوتے ہیں جن میں 78 لاکھ علاج نہ ہونے کی وجہ سے مستقل معذوری کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں سالانہ دو لاکھ یعنی 800 میں ایک بچہ کلب فٹ کے ساتھ پیدا ہوتا ہے تاہم بروقت علاج سے 95 فیصد سے زیادہ بچے مکمل صحتیاب ہو جاتے ہیں۔ ڈاکٹر محمد الیاس کا مزید کہنا تھا کہ میریکل فیٹ جیسی بڑی عالمی تنظیم مکمل طور پر کلب فٹ بچوں کے علاج کیلئے وقف ہے۔ میریکل فیٹ نے مقامی طبی اداروں کے ساتھ ملکر کلب فٹ سے متاثرہ بچوں کا مفت علاج کرنے کی ذمہ داری لی ہے اور انکی کوشش ہے کہ کلب فٹ کے علاج کو مقامی ہیلتھ کیئر سسٹم میں شامل کرے۔ یہ ادارہ کلب فٹ کا علاج انتہائی موثر اور جدید طریقے یعنی پونسیٹی تکنیک سے کرتا ہے جس میں بچوں کے پیروں کو نرمی سے اصل حالت میں لانے کیلئے ہفتہ وار پلاسٹرز اور اچیلیس ٹینڈن ٹیناٹمی کا ایک سادہ طریقہ کار شامل ہے اس کے بعد پاؤں کیلئے خاص جوتوں کا استعمال بھی چار پانچ سال تک سوتے وقت کیا جاتا ہے تاکہ پاؤں دوبارہ مُڑنے کے امکانات کم کئے جا سکیں۔ بچپن میں بروقت علاج ہونے پر پاؤں کی پوزیشن عام طور پر چھ سے آٹھ ہفتوں کے اندر درست ہو جاتی ہے تاہم مکمل علاج چار پانچ سال پر محیط ہو تا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 2010ء میں قائم میریکل فیٹ نے اب تک 37 ممالک میں 433 کلینکس کھولے ہیں جن میں 95,000 سے زائد کلب فٹ بچوں کا علاج کرکے ان کی زندگیوں کو تبدیل کیا ہے۔ تقریب میں مہمان خصوصی کیپٹن (ر) خالد محمود، چیف ایگزیکٹیو ڈاکٹر سید محمد الیاس اور ڈائریکٹر ریہیب امیر زیب کلب فٹ بچوں اور انکے والدین میں گھل مل گئے، سیلفیاں بنائیں اور ان میں تحائف اور سویٹس بھی تقسیم کئے۔

صوبائی وزیر برائے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ پختون یار خان نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا کی حکومت امن و امان کے قیام اور عوام کی فلاح و بہبود کیلئے کوشاں ہے

صوبائی وزیر برائے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ پختون یار خان نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا کی حکومت امن و امان کے قیام اور عوام کی فلاح و بہبود کیلئے کوشاں ہے، عوام کی بہتری،ترقی وخوشحالی اور امن و امان کی فضا کی بحالی کیلئے تمام تر ممکنہ اقدامات اٹھائیں گے، عوام کی فلاح و بہبود کو یقینی بنائیں گے اور اپنی قوم کو امن و ترقی کی طرف لے جانے کیلئے اپنا کردار ادا کریں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بنوں قوم کی طرف سے بلائے گئے امن جرگے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہاکہ خدا کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ ہم نے قوم کی ترجمانی میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے۔پختون یار خان نے کہا کہ امن و امان کا مسئلہ کسی ایک فرد کا نہیں بلکہ ہم سب کا مشترکہ مسئلہ ہے،عنقریب صوبائی سطح پر متعلقہ حکام بالا سے موجودہ صورت حال پر بات کی جائے گی اور موجودہ حالات سے آگاہ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ امن و امان کی فضا برقرار رکھنے سے ہی ترقیاتی کاموں سے مستفید ہوا جا سکتا ہے اسلئے پہلا کام امن و امان کے قیام کیلئے تگ ودو کرنا ہے۔صوبائی وزیر نے کہا کہ ہمیں آج سے یہ عہد کرنا ہے کہ ہم سب مل کر اتحاد و اتفاق کی فضاء کو بحال اور قائم و دائم رکھیں گے۔

سیکرٹری توانائی کاسیلاب سے متاثرہ درال خوڑبجلی گھر سوات کا ہنگامی معائنہ بجلی گھر کے حصوں کا باریک بینی سے جائزہ،سیلاب بچاؤکیلئے حفاظتی دیوارکی تعمیرمکمل کرنے پرزور

درال خوڑصوبے کا قیمتی اثاثہ، سالانہ 1ارب 30کروڑکی آمدن ہورہی ہے،نثاراحمدخان کی گفتگو
ہینڈ آؤٹ نمبر۔1823۔پشاور۔انور خان۔ساجد۔9 جون،2024ء
خیبرپختونخوامیں سال 2022اوررواں سال 2024کے دوران میں آنے والے تباہ کن سیلاب نے ضلع سوات میں توانائی کے منصوبے 36.6میگاواٹ درال خوڑپن بجلی گھر کوشدیدنقصان پہنچایاجس کے بعدمحکمہ توانائی وبرقیات اوراسکے ذیلی ادارے پختونخواانرجی ڈیویلپمنٹ آرگنائزیشن (پیڈو) نے ہنگامی بنیادوں پرمتاثرہ بجلی گھر کو بحال کرکے دوبارہ نیشنل گرڈ کے ساتھ منسلک کردیاتاہم مذکورہ بجلی گھر کو مستقبل میں سیلابی صورتحال سے محفوظ رکھنے کے لئے Protection Wallیعنی حفاظتی دیوارکی تعمیر کاکام بھی جلد مکمل کرلیا جائے گا۔اس سلسلے میں سیکرٹری توانائی وبرقیات نثاراحمدخان نے درال خوڑبجلی گھرسوات کا ہنگامی دورہ کیا۔اس موقع پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ پیڈوکے زیرنگرانی درال خوڑبجلی گھر2021میں چینی اورمقامی انجینئرزکی ٹیم نے کامیابی کے ساتھ مکمل کیا جس سے صوبے کو سالانہ 1ارب 30کروڑروپے خطیرآمدن ہورہی ہے تاہم سال 2022 اوربعدازاں اپریل 2024کوآنے والے تباہ کن سیلاب سے بجلی گھر کو شدید نقصان ہوا۔سیکرٹری توانائی نثاراحمدخان جو کہ قائمقام چیف ایگزیکٹو پیڈوکی حیثیت سے بھی خدمات سرانجام دے رہے ہیں نے درال خوڑپاورہاؤس کے سپل وے،سینڈٹریپ،پاورچینل،سوئچ یارڈ اوردیگرحصوں کاباریک بینی سے معائنہ کیااوربجلی گھر کوآئندہ سیلابی صورتحال سے محفوظ رکھنے کے لئے ضروری ہدایات بھی جاری کیں۔انہوں نے متعلقہ حکام کو بجلی گھر میں ٹیکنیکل سٹاف کی کمی دورکرنے کیلئے فوری طورپر بھرتی کے عمل کو پوراکرنے پر زوردیا۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے سیکرٹری توانائی نثاراحمد خان نے کہا کہ درال خوڑبجلی گھرصوبے کا ایک منافع بخش اثاثہ ہے جس سے صوبے کو سالانہ اربوں کی آمدن ہورہی ہے اس لئے آئندہ مون سون سے پہلے سیلاب سے بچاؤکے لئے حفاظتی دیوارکی تعمیر کا کام جلد مکمل کیاجائے کیونکہ تھوڑی سے بھی تاخیر بجلی گھر کی پیداوارکو متاثرکرسکتی ہے۔

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی زیر صدارت ترقیاتی منصوبوں کے جائزے کا اجلاس

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سردار علی امین خان گنڈاپورکی زیر صدارت ترقیاتی منصوبوں سے متعلق ایک اجلاس گزشتہ روز وزیراعلیٰ ہاوس پشاور میں منعقد ہوا جس میں ڈسٹرکٹ ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت جاری ترقیاتی منصوبوں پر پیشرفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ۔ ایڈیشنل چیف سیکرٹری پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ سید امتیاز حسین شاہ، وزیراعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری امجد علی خان، سیکرٹری پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ شاہد اللہ اور متعلقہ محکموں کے حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔ اجلاس میں وزیراعلیٰ کو متعلقہ حکام کی جانب سے ڈسٹرکٹ ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت مختلف شعبہ جات میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر اب تک کی پیشرفت کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ وزیراعلیٰ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جاری ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل موجودہ صوبائی حکومت کی اولین ترجیح ہے تاکہ ان منصوبوں کے ثمرات بلا تاخیر عوام تک پہنچ سکیں۔ انہوں نے کہا کہ نئی عمارتوں کی تعمیر پر پیسہ خرچ کرنے کی بجائے عوام کو خدمات اور سہولیات کی فراہمی پر توجہ موکوز کی جائے گی ۔ پینے کے صاف پانی سمیت دیگر بنیادی سہولیات کی دستیابی کےلئے ٹھوس اقدامات اٹھائے جائیں گے ۔ وزیراعلیٰ نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ جن علاقوں میں پینے کے پا نی کا مسئلہ ہے ، وہاں فوری طور پر ٹیوب ویلز کی تنصیب پر کام شروع کیا جائے ۔ وزیراعلیٰ نے مذکورہ ٹیوب ویلز کو شمسی توانائی کی فراہمی پر بھی بیک وقت کام شروع کرنے کی ہدایت کی ہے اور کہا ہے کہ ٹیوب ویلز کی تنصیب میں اس بات کا خاص خیال رکھا جائے کہ ٹیوب ویلز کسی کی نجی ملکیتی زمین پر نہ ہو ں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ترقیاتی منصوبوں کے معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا ، ناقص کام ہونے کی صورت میں متعلقہ محکمے کے ذمہ دار حکام کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی تمباکو کے کاشتکاروں کے مسائل کے حل کے لیے فوری اقدامات کی یقین دہانی

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سردار علی امین خان گنڈاپورسے جمعرا ت کے روزرکن قومی اسمبلی اسد قیصر کی سربراہی میں ضلع صوابی سے تعلق رکھنے والے ممبران قومی و صوبائی اسمبلی کے ایک وفد نے وزیراعلیٰ ہاوس پشاور میں ملاقات کی۔ ملاقات میں ضلع صوابی میں تمباکو کے کاشتکاروں کو درپیش مسائل پر تبادلہ خیال کیا گیا ۔ وفد نے وزیراعلیٰ سے تمباکو کے کاشتکاروں کو درپیش مسائل کے حل کےلئے اقدامات کا مطالبہ کیا اور کہا کہ بجلی کے بلوں میں ہوشربااضافے اور مہنگائی کی وجہ سے تمباکو کے کاشتکاروں کو مسائل کا سامنا ہے ۔ وزیراعلیٰ نے تمباکو کے کاشت کاروں کو درپیش مسائل کے حل کےلئے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات اٹھانے کی یقین دہانی کرائی ہے اور متعلقہ حکام کو اس سلسلے میں ضروری اقدامات کی ہدایت بھی کی ہے ۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ کاشت کاروں کے مسائل کے حل کےلئے ٹھوس اقدامات کئے جائیں گے اس سلسلے میں تمباکو پر عائد صوبائی ٹیکسوں میں ضروری رد و بدل کیا جائے گا ۔ وزیراعلیٰ سے ملاقات کرنے والے وفد کے دیگر اراکین میں رکن قومی اسمبلی شہرام خان ترکئی، صوبائی وزراءعاقب اللہ خان، ظاہرشاہ طورو، فیصل خان ترکئی اور رکن صوبائی اسمبلی رنگیز خان بھی شامل تھے۔ وزیراعلیٰ کے مشیر برائے خزانہ مزمل اسلم بھی اس موقع پر موجود تھے۔

وزیر صحت سید قاسم علی شاہ نے پختونخوا میں نریش ماں مہم کا افتتاح کردیا ہے، نریش ماں کمپین صوبے کے تین اضلاع، ڈی آئی خان، مردان اور بٹگرام میں بچے پیدا کرنے والی ماوئں کی غذائی ضروریات کو پورا کرنے پر کام کریگی: وزیر صحت سید قاسم علی شاہ کا افتتاحی تقریب سے خطاب

وزیر صحت سید قاسم علی شاہ نے پختونخوا میں نریش ماں مہم کا افتتاح کردیا ہے۔ اس سلسلے میں منعقدہ افتتاحی تقریب میں وزیر صحت کے علاہ ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسز ڈاکٹر محمد سلیم، ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل پبلک ہیلتھ ڈاکٹر شاہد یونس، ڈائریکٹر نیوٹریشن ڈاکٹر فضل مجید، پروگرام مینجر نیوٹریشن انٹرنیشنل امتیاز علی شاہ و دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ وزیر صحت سید قاسم علی شاہ نے افتتاح کے بعد میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نریش ماں کمپین صوبے کے تین اضلاع، ڈی آئی خان، مردان اور بٹگرام میں بچے پیدان کرنے والی ماوں کی غذائی ضروریات کو پورا کرنے پر کام کرے گی۔ نریش ماں کمپین نیوٹریشن سیل، ڈائریکٹوریٹ جنرل ہیلتھ سروسز اور نیوٹریشن انٹرنیشنل کی باہمی کاوش ہے۔ نریش کمپین کیلئے نیوٹریشن انٹرنیشنل کے تعاون کا مشکور ہوں۔ ماں اور بچے کی صحت، صحت مند معاشرے کی پہلی کڑی ہے۔وزیر صحت کا مزید کہنا تھا کہ حاملہ خواتین کی غذائی ضروریات کو پورا کرنا، ماں اور بچے کی صحت کا ضامن ہے۔ وقتی اور دیرپا غذائی کمی اور عدم توازن بچوں میں سٹنٹنگ اور ویسٹنگ کا باعث بنتے ہیں۔ نیشنل نیوٹریشن سروسے 2018 کے مطابق بچے پیداکرنی والی مائیں غذائیت کی کمی کے باعث مسائل کا شکار ہیں۔ 14% مائیں وزن کی کمی جبکہ 41.7% خون کی کمی کا شکار ہیں۔ان مسائل کو حل کرنے کیلئے حکومت خواتین کی غذائی کمی پر توجہ مرکوز کئے ہوئے ہے۔ آج کی یہ نریش ماں کمپین بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔میری تمام ڈونر ایجنسیز اور ہیلتھ میں کام کرنے والے پارٹنرز سے التماس ہے کہ آئیں ماں اور بچے کی صحت کی بہتری میں ہمارا ساتھ دیں۔ڈائریکٹر نیوٹریشن ڈاکٹر فضل مجید کا اس موقع پر کہنا تھا کہ اس پروگرام کے تحت ماں اور بچے کی دیکھ بھال بارے ہیلتھ کئیر پروفیسشنلز کی استعداد کار کو بڑھایا جائے گا۔اس بابت ذرائع ابلاغ کے مختلف پہلووں کو بھی بروئے کار لایا جائے گا تاکہ عوام میں اس بابت آگاہی پھیلائی جاسکے۔اس کمپین میں ہیلتھ کئیر پروفیشنلز، ان کے ایسوسی ایشنز اور ابلاغ عامہ تینوں کو حاملہ خواتین کی غذائیت کی اہمیت کی خاطر یکجا کیا گیا ہے

تمباکو پر ایکسائز ڈیوٹی صوبے کا حق ہے۔ جو وفاق فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی مد میں حاصل کر رہا ہے مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم

مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم کی فیلپ موریس پاکستان لمیٹڈ کے وفد سے ملاقات

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے خزانہ مزمل اسلم سے فیلپ موریس پاکستان لمیٹڈ کے وفد نے انکے دفتر سول سیکریٹریٹ پشاور میں ملاقات کی۔ وفد میں فیلپ موریس پاکستان لمیٹڈ کے ہیڈ آف لیف ارشاد خان اور منیجر مالیاتی افیئرز معین احمد خان نے شرکت کی۔ اس خصوصی ملاقات میں مشیر خزانہ خیبرپختونخوا اور فیلپ موریس پاکستان لمیٹڈ کے حکام نے ٹوبیکو سیس ڈیویلپمنٹ بڑھانے پر اتفاق کیا جبکہ صوبائی ایکسائز ڈیوٹی لگانے پر وفد نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی ایکسائز ڈیوٹی لگانے سے کمپنیوں پر ڈبل ٹیکسیشن ہو جائے گی جس پر مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے کہا کہ تمباکو پر ایکسائز ڈیوٹی صوبے کا حق ہے جو وفاق کو فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی مد میں حاصل ہو رہا ہے اسلئے صوبے نے صوبائی ایکسائز ڈیوٹی لگانے کا فیصلہ کرلیا ہے مشیر خزانہ خیبرپختونخوا کا اس موقع پر کہنا تھا کہ رواں سال وفاق کو تمباکو فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی مد میں ڈھائی سو ارب روپے کی آمدنی حاصل ہو رہی ہے جو پول میں لے جاکر دیگر صوبوں سندھ اور پنجاب میں تقسیم کی جا رہی ہے جبکہ 80 فیصد تمباکو پیداوار خیبرپختونخوا سے ہے۔ مزمل اسلم نے کہا کہ تمباکو سیس ڈیویلپمنٹ اضافے سے حاصل آمدنی متعلقہ علاقوں میں خرچ کی جائیگی انہوں نے کہا کہ کمپنیوں اور کاروبار کی ترقی چاہتے ہیں لیکن صوبے کا حق کسی کو نہیں دینگے۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا نے وضاحت دیتے ہوئے بتایا کہ خیبرپختونخوا کے تمباکو کے پیسے دیگر صوبوں میں خرچ کیے جا رہے ہیں جو کہ ناانصافی ہے اور اٹھارویں ترمیم کے بعد وفاق نے تمباکو کو اپنے پاس رکھا ہے جو صوبے کا حق ہے اور باقی تمام زراعت سے وابستہ چیزیں صوبوں کو منتقل ہوئی ہیں۔ایک سوال کے جواب میں مشیر خزانہ خیبرپختونخوا نے کہا اگر ڈبل ٹیکسشن کیس عدالت میں بھی جاتا ہے تو صوبائی حکومت اپنے کیس کی پیروی بھرپور انداز میں کرے گی تاکہ پتہ چلے کہ صوبے کے ساتھ ناانصافی کیوں اور کس لیول پر ہو رہی ہے۔

صوبائی وزیر خوراک ظاہر شاہ طورو اور مشیر اطلاعات بیرسٹر ڈاکٹر سیف کی زیر صدارت گندم خریداری کا مقررہ ہدف مکمل ہونے پر جائزہ اجلاس

صوبائی وزیر برائے خوراک ظاہر شاہ طورو نے کہا کہ حکومت خیبرپختونخوا نے تاریخ میں پہلی مرتبہ اعلیٰ معیاری گندم کی خریداری کی ہے اور معیارومقدار پر سمجھوتہ نہ کرنے پر کرپٹ ٹولے کی چیخیں نکل گئیں ہیں، ان خیالات کا اظہار کا انہوں نے بیرسٹر ڈاکٹر سیف کے ہمراہ گندم خریداری برائے سال 2024کے لئے مقررہ ہدف مکمل ہونے کے حوالے سے منعقدہ تفصیلی بریفنگ اجلاس کی مشترکہ صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں وزیر اعلیٰ کے مشیر برائے اطلاعات و تعلقاتِ عامہ بیرسٹر ڈاکٹر سیف، سیکرٹری محکمہ خوراک ظریف المعانی،ڈائریکٹر فوڈ یاسر حسن سمیت دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس کو سیکرٹری محکمہ خوراک نے تفصیلات بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ محکمہ خوراک خیبرپختونخوا نے گندم خریداری کا مقررہ ہدف انتہائی خوش اسلوبی اور شفافیت کے ساتھ انجام دینے کیلئے آنلائن ایپ متعارف کرائی جس سے مقامی اور ملک کے دیگر صوبوں خصوصی طور پر پنجاب کے کاشتکاروں نے رجسٹریشن کرائی اور پھر ان سے پہلے آئیں پہلے پائیں کے اصولوں پر گندم خریدی گئی، بریفنگ دیتے ہوئے اجلاس کو بتایا گیا کہ آنلائن ایپ پر 18 لاکھ میٹرک ٹن گندم خریداری کا اندراج ہوا تھا جبکہ صوبے کا ٹارگٹ 3 لاکھ میٹرک ٹن تھا، اجلاس کو یہ بھی بتایا گیا کہ صوبہ بھر میں 22 خریداری مراکز کی سی سی ٹی وی کیمروں سے نگرانی کی گئی اور گندم کے معیار کو جانچنے کے لئے پانچ رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی تھی جو ڈسٹرکٹ و اسسٹنٹ فوڈ کنٹرولر، ضلعی انتظامیہ،ایگریکلچر،ریوینو ڈیپارٹمنٹ، فلور ملز ایسوسی ایشن کے نمائندوں سمیت محکمہ نیب اور اینٹی کرپشن کے اہلکار وں کی بحیثیت آبزرور پر مشتمل تھی، ظریف المعانی نے مزید بتایا کہ قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی پر 9 افسران  معطل ہیں جنکے خلاف انکوائری کی جا رہی ہے جس کی حتمی رپورٹ متعلقہ حکام کوجلد پیش کی جائے گی، اس موقع پر صوبائی وزیر خوراک نے کامیاب خریداری پر متعلقہ اہلکار وں کو شاباش دی اور کہا کہ گندم خریداری مہم سے خیبرپختونخوا میں فوڈ سکیورٹی اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملاہے، ظاہر شاہ طورو نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ رواں سال خریداری مہم کی روشنی میں مستقبل میں گندم خریداری کیلئے محکمہ خوراک خریداری کے حکمت عملی مرتب کرے تاکہ آئندہ کیلئے گندم خریداری کا ایک معقول لائحہ عمل موجود ہو۔مشیر اطلاعات بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے وزیر خوراک ظاہر شاہ طورو اور محکمہ خوراک کے افسران کی جانب سے گندم خریداری کے عمل کو شفاف طریقے سے مکمل کرنے کے لئے تمام اٹھائے گئے اقدامات کو سراہا اور کہا کہ خریداری مہم سے خیبرپختونخوا میں گندم اور آٹا سستا ہوگیا اور کمزور طبقے کو فائدہ ہوا ان کا کہنا تھا کہ پنجاب کی راج کماری نے کسانوں پر ڈنڈے برسائے جبکہ خیبر پختون خوا حکومت نے پنجاب کے کسانوں کو  معاشی سہارا دیا، گندم خریداری مہم پر وفاق اور پنجاب کی حکومتیں منظم پروپیگنڈا کر رہی ہیں، بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا کہ اگر کسی کے پاس بدعنوانی کے ثبوت ہیں توانہیں منظر عام پر لائیں جو بھی ملوث ہوگا بلا تفریق کارروائی کی جائے گی۔

خیبر پختونخوا کے وزیر زراعت میجر ریٹائرڈ سجاد بارکوال نے کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کی ہدایت کے مطابق چاول کی کاشت اور ان کی پیداوار بڑہانے کے لئے زمینداروں کو ہر قسم کی سہولت فراہم کی جائے گی

خیبر پختونخوا کے وزیر زراعت میجر ریٹائرڈ سجاد بارکوال نے کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کی ہدایت کے مطابق چاول کی کاشت اور ان کی پیداوار بڑہانے کے لئے زمینداروں کو ہر قسم کی سہولت فراہم کی جائے گی۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے ڈیرہ اسماعیل خان کے کسانوں کے ایک نمائندہ وفد سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔وفد نے جمال بلوچ اورطفیل بلوچ کے سربراہی میں پشاور میں ان سے ملاقات کی اور صوبائی وزیر زراعت سے سیڈ کی فراہمی،کسانوں کو درپیش مسائل اور فصلوں خاص کر چاول، گندم، مکئی اور زعفران وغیرہ کی پیداوار بڑھانے کے امور پر تبادلہ خیال کیا۔ صوبائی وزیر نے وفد کی معروضات انتہائی توجہ سے سنیں اور ترجیح بنیادوں پر انہیں حل کرنے کی یقین دہانی کرائی۔وزیر زراعت نے کہا کہ شعبہ زراعت انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور صوبائی حکومت اس کی ترقی پر خاص توجہ دے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسانوں اور زمینداروں کے مسائل سے وہ بخوبی آگاہ ہیں اور ان کے حل کے لئے تمام تر توانائیا اور وسائل بروئے کار لا رہے ہیں۔انہوں نے سیڈ فارم راکھ منگھن، بندکورائی اور رتہ کلاچی میں چاول اور زعفران اور دیگر فصلوں میں اضافے کے لئے بھر پور تعاون کا یقین دلایا اور کہا کہ زمیندروں کی فلاح کے حوالے سے کوئی سستی نہیں برتی جائے گی۔