خیبر پختونخوا کے وزیر برائے قانون، انسانی حقوق و پارلیمانی امور آفتاب عالم کی زیر صدارت چار ایجنڈاز پر مبنی قانون ساز کمیٹی کا ایک اہم اجلاس پشاور میں منعقد ہوا جس میں صوبے میں مختلف قوانین میں ترامیم اور اصلاحات سے متعلق امور پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔اجلاس میں وزیر خزانہ خیبر پختونخوا مزمل اسلم ، سیکرٹری محکمہ قانون ، ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل ، محکمہ سماجی بہبود کے حکام ، بورڈ آف ریونیو کے حکام ، محکمہ صحت کے حکام ، محکمہ قانون کے حکام، محکمہ ٹرانسپورٹ سمیت دیگر متعلقہ محکموں کے حکام نے شرکت کی ۔اجلاس کے دوران خیبر پختونخوا کمیشن برائے وقارِ نسواں ایکٹ 2016 میں مجوزہ ترامیم، موٹر وہیکل آرڈیننس 1965 (ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشن وہیکلز) میں ڈرافٹ ترامیم، خیبر پختونخوا ریور پروٹیکشن (ترمیمی) ایکٹ 2026 اور کے پی میڈیکل ٹیچنگ انسٹی ٹیوشنز ریفارمز ایکٹ 2025 میں مجوزہ ترامیم پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔پہلے ایجنڈے کے تحت خیبر پختونخوا وقار نسواں ترمیمی بل کے سیکشن 15اے میں مجوزہ ترامیم کے حوالے سے غور خوض کیا گیا ۔اجلاس کے تیسرے ایجنڈے میں کے پی ریور پروٹیکشن آرڈیننس میں مجوزہ ترامیم پر بھی غور خوض کیا گیا اور سیکشن 11 میں ترامیم کے حوالے سے مختلف آراء پیش کی گئیں ۔وزیر قانون نے ریور انکروچمنٹ اور نہروں کے کنارے قانون شکنی کو بائفرکیٹ کرنے کی تجویز دی ۔ اس کے علاؤہ انہوں نے کے پی کے 15 نوٹی فائڈ دریاؤں کو آرڈیننس کے شیڈول میں شامل کرنے پر زور دیا۔اجلاس کے چوتھے ایجنڈے میں پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے زیر استعمال گاڑیوں کے محفوظ استعمال اور کسی بھی نقصان کے تدارک کیلئے پراونشل موٹر وہیکل آرڈیننس کی مختلف شقوں میں ضروری ترامیم پر غور خوض کیا گیا ۔آفتاب عالم نے مجوزہ قانون سازی میں برساتی نالوں کو بھی بیک اپ دینے کی اہمیت پر زور دیا ۔
وزیر قانون نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت عوامی فلاح و بہبود کے لیے قانون سازی کے عمل کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ خواتین کے حقوق کے تحفظ، ماحولیاتی بہتری، تعلیمی اداروں کی ٹرانسپورٹ سے متعلق قواعد و ضوابط اور صحت کے شعبے میں اصلاحات کو ترجیح دی جا رہی ہے تاکہ عوام کو بہتر سہولیات فراہم کی جا سکیں۔انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ زیر غور تمام مجوزہ ترامیم کو جلد از جلد حتمی شکل دے کر کابینہ اور صوبائی اسمبلی میں پیش کیا جائے تاکہ قانون سازی کے عمل کو مزید تیز اور مؤثر بنایا جا سکے۔ اجلاس میں اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ قانون سازی کے عمل میں شفافیت، باہمی مشاورت اور عوامی مفاد کو ہر صورت مقدم رکھا جائے۔
اجلاس کے اختتام پر وزیر قانون نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ صوبے میں قانون کی حکمرانی کو مضبوط بنانے اور ادارہ جاتی اصلاحات کے ذریعے گورننس کے نظام کو مزید بہتر بنانے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات اٹھائے جائیں گے
خیبر پختونخوا کے وزیر برائے قانون، انسانی حقوق و پارلیمانی امور آفتاب عالم کی زیر صدارت چار ایجنڈاز پر مبنی قانون ساز کمیٹی کا ایک اہم اجلاس پشاور میں منعقد ہوا
The state-of-the-art Peshawar General Bus Terminal, being developed over 323 kanals of land, is a major infrastructure project in the history of Khyber Pakhtunkhwa.
The state-of-the-art Peshawar General Bus Terminal, being developed over 323 kanals of land, is a major infrastructure project in the history of Khyber Pakhtunkhwa.
Constructed at a cost of Rs. 4.2 billion, this project will provide the public with world-class travel facilities, an organized transport system, and a modern, well-equipped environment.
Watch Khyber Pakhtunkhwa moving towards progress through the words of Special Assistant for Information Shafi Jan — this is just a glimpse, the full documentary will be presented soon.
Imran Khan’s Khyber Pakhtunkhwa — where dreams are turning into reality. The New Peshawar General Bus Terminal, equipped with modern facilities and an efficient transport system, will soon be available to the public.
#KPDevelopment #PeshawarBusTerminal #ShafiJan
بانی چیئرمین عمران سے اڈیالہ جیل میں فیملی کی ملاقات کا دن/ معاون خصوصی برائے اطلاعات شفیع جان کا بیان
بانی چیئرمین عمران خان سے عدالتی احکامات کے مطابق ان کی بہنیں اور پارٹی وکلاء آج اڈیالہ جیل میں ملاقات کے لیے جائیں گے،شفیع جان
عمران خان سے فیملی اور وکلاء کی ملاقات آئین و قانون کے تحت بنیادی حق ہے،جسے کسی صورت سلب نہیں کیا جا سکتا، شفیع جان
کئی ماہ سے فیملی اور وکلاء کو ملاقات سے روکنا عدالتی احکامات، آئین و قانون اور انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے، شفیع جان
عدالتی احکامات کے باوجود وفاقی اور پنجاب حکومتیں عمران خان سے ملاقات میں مسلسل رکاوٹیں ڈال رہی ہیں، شفیع جان
بانی چیئرمین عمران خان کو قید تنہائی میں رکھنا سیاسی انتقام کی بدترین مثال ہے، شفیع جان
وفاق اور پنجاب حکومتوں کی آمرانہ طرز حکمرانی قوم کے سامنے بے نقاب ہو چکی ہے،شفیع جان
وفاقی حکومت سیاسی انتقام میں اندھی ہو چکی ہے،ملک کو بحرانوں کی طرف دھکیلا جا رہا ہے، شفیع جان
پاکستان تحریک انصاف ایک پُرامن اور جمہوری سیاسی جماعت ہے جو آئین و قانون کی بالادستی پر یقین رکھتی ہے، شفیع جان
بدقسمتی سے وفاق اور پنجاب میں بغیر عوامی مینڈیٹ کے مسلط حکومتوں نے آئین، قانون اور جمہوری اقدار کو بری طرح پامال کیا ہے، شفیع جان
ملک میں آئین و قانون کی بالادستی اور عمران خان کی رہائی کے لیے قانونی و پُرامن سیاسی جدوجہد جاری رہے گی، شفیع جان
چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا شہاب علی شاہ کی زیرِ صدارت سیکرٹریز کمیٹی اجلاس کا انعقاد
چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا شہاب علی شاہ نے تمام انتظامی سیکرٹریز کو ہدایت کی ہے کہ وہ آئندہ مالی سال کے بجٹ کی تیاری اور سالانہ ترقیاتی پروگرام (اے ڈی پی) کی تشکیل کے عمل کی خود نگرانی کریں اور قبل از بجٹ منصوبہ بندی کو مزید مؤثر بنائیں تاکہ کارکردگی اور مالی نظم و ضبط میں بہتری لائی جا سکے۔سیکرٹریز کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے چیف سیکرٹری نے کہا کہ پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ اور محکمہ خزانہ اس عمل میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، تاہم تمام محکموں کو بھی اپنی شعبہ جاتی منصوبہ بندی کی مکمل ذمہ داری لینا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ مالی سال کے دوران مالی امور اور منصوبوں میں تبدیلیوں پر وقت ضائع ہوتا ہے، جسے بہتر پیشگی منصوبہ بندی کے ذریعے کم کیا جا سکتا ہے۔انہوں نے محکموں کو ہدایت کی کہ عوامی اہمیت کے حامل منصوبوں پر بروقت عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے اور تمام دفتری و انتظامی کارروائیاں تیزی سے مکمل کی جائیں تاکہ عوام کو بہتر سہولیات فراہم کی جا سکیں۔اجلاس میں بتایا گیا کہ صوبائی حکومت نے گڈ گورننس روڈ میپ 2.0 کا آغاز کیا ہے، جس کے تحت مزید 10 محکموں کو شامل کیا گیا ہے اور 88 نئے اقدامات متعارف کرائے گئے ہیں تاکہ عوامی خدمات کی فراہمی کو بہتر بنایا جا سکے۔ چیف سیکرٹری نے کہا کہ عوام کا اعتماد محکموں کی کارکردگی سے جڑا ہوا ہے، اس لیے ترقیاتی اور فلاحی منصوبوں میں بہتر نتائج دینا ضروری ہے۔ انہوں نے سیکرٹریز کو ہدایت کی کہ وہ مقررہ اہداف کی کڑی نگرانی کریں اور ہر محکمے میں اصلاحاتی عملدرآمد کمیٹیوں کے باقاعدہ اجلاس منعقد کریں۔چیف سیکرٹری نے عندیہ دیا کہ رواں مالی سال کے اختتام تک محکموں کی کارکردگی رپورٹس شائع کی جائیں گی اور اس سلسلے میں کارکردگی کو بہتر بنانے پر زور دیا۔ انہوں نے بتایا کہ گڈ گورننس روڈ میپ کے منصوبوں کی فنڈنگ کے لیے ایک ڈیش بورڈ بھی متعارف کرایا گیا ہے، جو سروس ڈلیوری کو بہتر بنانے کے لیے ایک تیز رفتار اقدام ہے۔اجلاس میں تبادلوں کی پالیسی اور پلیسمنٹ کمیٹیوں کے قیام و فعالیت کا بھی جائزہ لیا گیا۔ چیف سیکرٹری نے ہدایت کی کہ تمام تقرریاں اور تبادلے مکمل طور پر میرٹ اور قواعد کے مطابق کیے جائیں تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔اجلاس میں ضلعی سطح پر سروس ڈلیوری، انٹیگریٹڈ پرفارمنس مینجمنٹ سسٹم (آئی پی ایم ایس) اور دیگر اصلاحات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ بتایا گیا کہ یکم جنوری 2026 سے 31 مارچ 2026 تک بورڈ آف ریونیو اور ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی کارکردگی 100 فیصد رہی، جبکہ دیگر محکموں کی کارکردگی 80 فیصد سے زائد رہی، جو مجموعی بہتری کی نشاندہی کرتی ہے۔اجلاس میں ایڈیشنل چیف سیکرٹریز، انتظامی سیکرٹریز اور دیگر اعلیٰ حکام نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی
خدمات تک رسائی کمیشن میں چار شہریوں کی شکایات کی شنوائی ہوئی
رائٹ ٹو پبلک سروسز کمیشن میں چار عوامی شکایات کی شنوائی ہوئی۔ چیف کمشنر محمد علی شہزادہ اور کمشنر ذاکر حسین آفریدی نے شہریوں کے درخواستوں پر سماعت کی۔ اسلحہ لائسنس اجراء کی مختلف شکایات میں متعلقہ آفیسر اسلحہ برانچ پیش ہوئے۔ کمیشن نے تیرہ شکایات کو فوراً حل کرنے کے احکامات دئیے۔ چارسدہ سے تعلق رکھنے والے فضل دین نے زمین کی حد براری کے لیے کمیشن کو درخواست دی تھی۔ کمیشن نے حلقہ پٹواری کو ایک مہینے کے اندر حد براری کر کے کمیشن کو آگاہ کرنے کے احکامات جاری کیے تھے۔ جواب نہ آنے پر کمیشن نے ڈی سی چارسدہ سے چودہ دنوں کے اندر رپورٹ طلب کرلی۔ سوات سے نبیحہ خان نے ڈرائیونگ لائسنس کے اجراء کے لیے کمیشن سے رجوع کیا تھا۔ ڈائریکٹر ٹرانسپورٹ نے کمیشن کو بتایا کہ کمیشن کے احکامات کے مطابق چھ شکایت کنندگان کو لائسنس جاری کر چکے ہیں۔ فوزیہ رازی کا تعلق راولپنڈی سے ہے اور انہوں نے لوئر دیر میں ایف آئی آر کے اندراج کے لیے کمیشن کو درخواست دی تھی۔ خاتون کو سننے کے بعد کمیشن نے فیصلہ دیا کہ جائے وقوعہ راولپنڈی میں ایف آئی آر درج ہو چکی ہے اور عدالت احکامات بھی جاری کرچکا ہے۔ خاتون پچھلی ایف آئی آر کے تناظر میں اپنی متعلقہ تھانے میں درخواست دے۔
کمیشن نے سرکاری افسران کو عوام کی ضروریات کو مؤثر طریقے سے پورا کرنے اور خدمات کی فراہمی کے عمل کو بہتر بنانے پر زور دیا۔ بنیادی خدمات کا حصول عوام کا حق ہے اور ان کا بروقت اور مؤثر طریقے سے مہیا کرنا سرکاری اداروں کی اہم ذمہ داری ہے جس میں کوئی کوتاہی نہ بھرتی جائے
ریڈیو پاکستان پشاور سے متعلق خیبر پختونخوا اسمبلی کی قائم کی گئی خصوصی کمیٹی کا تیسرا اجلاس پیر کے روز اسمبلی سیکرٹریٹ پشاور میں منعقد ہوا
ریڈیو پاکستان پشاور سے متعلق خیبر پختونخوا اسمبلی کی قائم کی گئی خصوصی کمیٹی کا تیسرا اجلاس پیر کے روز اسمبلی سیکرٹریٹ پشاور میں منعقد ہوا، جس کی صدارت چیئرمین خصوصی کمیٹی اور صوبائی وزیر برائے قانون و پارلیمانی امورافتاب عالم نے کی۔ اجلاس میں کمیٹی کے اراکین سمیع اللہ، ڈاکٹر اسرار، فضل الہی، شیر علی آفریدی، ادریس خٹک، ریاض خان، احمد کنڈی اور طارق سعید نے شرکت کی، جبکہ ایڈووکیٹ جنرل، محکمہ داخلہ، پولیس اور اسمبلی سیکرٹریٹ کے متعلقہ حکام بھی موجود تھے۔یہ خصوصی کمیٹی سپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی کی ہدایت پر قائم کی گئی ہے، جس کا بنیادی مقصد 9 اور 10 مئی 2023 کو پیش آنے والے ریڈیو پاکستان پشاور واقعے کی شفاف، غیر جانبدارانہ اور جامع تحقیقات کو یقینی بنانا ہے۔ کمیٹی اس امر کے لیے کوشاں ہے کہ واقعے کے تمام پہلوؤں کو سامنے لایا جائے تاکہ حقائق کی روشنی میں ذمہ داران کا تعین کیا جا سکے اور کسی بے گناہ فرد کے ساتھ ناانصافی نہ ہو۔اجلاس کے دوران کمیٹی اراکین نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا کہ پولیس کی جانب سے درج تمام ایف آئی آرز، تفتیشی ریکارڈ اور متعلقہ دستاویزات کی مصدقہ نقول آئندہ اجلاس سے کم از کم تین روز قبل اراکین کو فراہم کی جائیں۔ اس اقدام کا مقصد اراکین کو کیس کے تمام پہلوؤں سے مکمل آگاہی دینا ہے تاکہ وہ دستیاب شواہد کا باریک بینی سے جائزہ لے کر اپنی حتمی رپورٹ ٹھوس اور ناقابلِ تردید بنیادوں پر مرتب کر سکیں۔اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل نے بریفنگ دیتے ہوئے زور دیا کہ کیس میں مؤثر پیشرفت کے لیے مستند ریکارڈ اور درست شناختی معلومات کا حصول ناگزیر ہے، کیونکہ ان کے بغیر تحقیقات کو منطقی انجام تک پہنچانا ممکن نہیں۔ اجلاس کے اختتام پر چیئرمین خصوصی کمیٹی افتاب عالم نے پولیس حکام کو ہدایت جاری کی کہ تمام ریکارڈ کو مکمل، منظم اور قابلِ رسائی شکل میں مرتب کر کے مقررہ وقت سے قبل کمیٹی کے حوالے کیا جائے، تاکہ تحقیقات کا عمل شفاف، مؤثر اور تیز رفتار انداز میں آگے بڑھایا جا سکے۔
مشیر برائے کھیل خیبر پختونخوا تاج محمد خان ترند کی زیر صدارت سپورٹس ڈیپارٹمنٹ کا اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں ڈائریکٹر ورکس، ڈائریکٹر پلاننگ اور چیف پلاننگ آفیسر (سی پی او) نے شرکت کی
مشیر برائے کھیل خیبر پختونخوا تاج محمد خان ترند کی زیر صدارت سپورٹس ڈیپارٹمنٹ کا اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں ڈائریکٹر ورکس، ڈائریکٹر پلاننگ اور چیف پلاننگ آفیسر (سی پی او) نے شرکت کی۔اجلاس میں ضلع بونیر کے معروف “ٹوٹالئی گراؤنڈ” سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر گراؤنڈ کی ترقی، بہتری، سہولیات کی فراہمی اور جاری منصوبوں پر پیش رفت پر غور کیا گیا۔مشیر کھیل نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ ٹوٹالئی گراؤنڈ کو جدید تقاضوں کے مطابق ترقی دی جائے تاکہ مقامی کھلاڑیوں کو بہتر سہولیات میسر آسکیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کھیلوں کے فروغ کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے اور نوجوانوں کو صحت مند سرگرمیوں کی طرف راغب کرنا اولین ترجیح ہے۔اجلاس میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ تمام ترقیاتی کام بروقت اور شفاف طریقے سے مکمل کیے جائیں تاکہ عوام کو جلد از جلد سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیر برائے کھیل و امورِ نوجوانان تاج محمد خان ترند سے پشاور میں ان کےحلقہ نیابت سے آئے ہوئے مختلف وفود نے ملاقات کی
وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیر برائے کھیل و امورِ نوجوانان تاج محمد خان ترند سے پشاور میں ان کےحلقہ نیابت سے آئے ہوئے مختلف وفود نے ملاقات کی۔ وفود نے مشیر کو اپنے درپیش مسائل اور مشکلات سے تفصیل کے ساتھ آگاہ کیا۔مشیر تاج محمد خان ترند نے وفود کے مسائل نہایت توجہ اور سنجیدگی سے فرداً فرداً سنے اور موقع پر ہی متعلقہ حکام کو ان کے فوری اور مؤثر حل کے لیے ہدایات جاری کیں۔
اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے تاج محمد خان ترند نے کہا کہ عوامی خدمت ہماری سیاست کا بنیادی مشن ہے اور صوبائی حکومت عوام کی خدمت پر کامل یقین رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف امیر و غریب سب کے لیے یکساں فلاح و بہبود، میرٹ اور انصاف کے اصولوں پر کاربند ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ قائد عمران خان اور وزیر اعلیٰ محمد سہیل افرئدی کا وژن ہی ہمارا نصب العین ہے، اور اسی وژن کے مطابق عوامی مسائل کے حل کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں
Prompt resolution of public issues, regional development and public service remain top priorities: Minister Excise Syed Fakhar Jehan
Khyber Pakhtunkhwa Minister for Excise, Taxation and Narcotics Control, Syed Fakhar Jehan, has said that the development of underdeveloped areas, provision of basic facilities and timely resolution of public issues are among the foremost priorities of the current provincial government.
In line with the vision of Pakistan Tehreek-e-Insaf founder chairman Imran Khan, every possible step will be taken to ensure public welfare and service delivery through the principles of transparency, justice, merit and equitable development.
He expressed these views during a Public Day held at his hujra in PK-26 Buner, where he met public delegations from the constituency and addressed various joining ceremonies.
The provincial minister held detailed discussions with the delegations regarding regional development, ongoing welfare schemes, provision of basic civic facilities and the resolution of issues being faced by the local population.
The delegations apprised him of certain concerns related to basic infrastructure and public services, discussed key development schemes, and requested immediate redressal of issues of public importance.
He said that timely resolution of public issues and equal development across all areas form the core vision of Imran Khan, which the provincial government is actively translating into practical measures.
He added that empowering youth, ensuring transparency in development projects and bringing less development regions into the mainstream of progress are important pillars of the government’s policy.
The minister directed the relevant authorities to take immediate steps for the resolution of public grievances and further accelerate progress on development and welfare initiatives so that relief could be provided to the people at the earliest.
He further stated that maintaining continuous public engagement, directly understanding people’s issues, and adopting an effective strategy for their prompt resolution are among the key priorities of the present government. He made it clear that no negligence in projects of public welfare would be tolerated.
On this occasion, Altaf Hussain, an important political worker from Jamaat-e-Islami belonging to Tehsil Chagharzai, Union Council Sorey Village Landai Bazar Kot, along with his relatives and associates, resigned from Jamaat-e-Islami and joined Pakistan Tehreek-e-Insaf. Former Tehsil Nazim Haji Muhammad Sharif Khan, known as Baba-e-Chagharzai, along with party workers, was also present at the joining ceremony.
Meanwhile, the provincial minister also met local elders and notables in Union Council Shalbandai and later attended another joining ceremony as chief guest in Mohalla Band Kalay. On the occasion, Bakht Zareen Shah, Zamrud Shah, Rohamin Shah, Tariq, Ismail Shah, Saqib Zareen, Suhail, Asif, Faisal, Razi Mand Shah, Shafiq, Salman, Bilal, Samad, Mehran Syed, Bakht Munir, Bakht Nazir Shah, Syed Wazir Shah, Luqman Shah, and Zahir announced their joining of Pakistan Tehreek-e-Insaf.The provincial minister welcomed the new members into the party, congratulated them on their decision, and expressed his best wishes for their future political role.
محکمہ اعلیٰ تعلیم خیبرپختونخوا کا طلبہ کے لیے نئے مواقع پیدا کرنے کا اہم اقدام، پانچ اداروں کے ساتھ مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط
محکمہ اعلیٰ تعلیم خیبرپختونخوا نے طلبہ کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ مہارتیں فراہم کرنے اور انہیں ڈیجیٹل دنیا کے مواقعوں سے جوڑنے کے لیے ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے ملک کی پانچ نمایاں تنظیموں کے ساتھ مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیئے ہیں۔ان معاہدوں کے تحت خیبرپختونخوا آئی ٹی بورڈ، ٹائی، سکیل سکواڈ، مائیگرنٹ ریسورس سنٹر اور سرکل وویمن طلبہ کی صلاحیتوں میں اضافے اور انہیں مارکیٹ کی ضروریات سے ہم آہنگ بنانے کے لیے مختلف پروگرامز پر عملدرآمد کریں گے۔
معاہدوں کے مطابق خیبرپختونخوا آئی ٹی بورڈ طلبہ کو ڈیجیٹل اسکلز اور آئی ٹی اکانومی سے متعلق تربیت فراہم کرے گا، جبکہ ٹائی کی جانب سے خواتین کی ڈیجیٹلائزیشن اور معاشی خودمختاری کے تحت 6000 طالبات کو مواقع فراہم کیے جائیں گے۔ سکیل سکواڈ کالجز کے طلبہ کو ای کامرس اور انٹرپرینیورشپ کی تربیت دے گا۔اسی طرح مائیگرنٹ ریسورس سنٹر طلبہ اور تدریسی عملے کی محفوظ اور باخبر مائیگریشن کے حوالے سے استعداد کار بڑھانے میں معاونت فراہم کرے گا، جبکہ سرکل وویمن کالجز میں طالبات کے لیے ڈیجیٹل لٹریسی پروگرامز پر کام کرے گی۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے صوبائی وزیر برائے اعلیٰ تعلیم مینا خان آفریدی نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ انڈسٹری اور اکیڈیمیا کے درمیان روابط کو مزید مضبوط بنایا جائے تاکہ طلبہ کو عملی دنیا کے تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ طلبہ کو ڈیجیٹل دنیا میں موجود مواقعوں سے روشناس کرانے کے لیے تمام ممکنہ وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں، جبکہ خیبرپختونخوا میں سکلڈ بیسڈ ایجوکیشن کو فروغ دینا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ یہ شراکت داریاں صوبے کے طلبہ کے لیے نئے مواقع پیدا کریں گی اور انہیں مستقبل کے چیلنجز سے نمٹنے کے قابل بنائیں گی۔
