Home Blog Page 304

خیبر پختونخوا: ماربل انڈسٹری کی ترقی اور میکانائز مائننگ کے لیے مشینری کے امور پر اجلاس

وزیر اعلی خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے صنعت وحرفت اور فنی تعلیم عبدالکریم تورڈھیر کی زیر صدارت جمعرات کے روز محکمہ صنعت کے کمیٹی روم سول سیکریٹریٹ پشاور میں صوبائی حکومت کی جانب سے صوبے میں ماربل انڈسٹری کی ترقی اور میکانائز مائننگ کیلئے پاکستان سٹون ڈویلپمنٹ کمپنی(پاسڈک) کو دی گئی مشینری کے امور کے حوالے سے محکمہ ہائیصنعت اور معدنیات کا ایک اجلاس منعقد ہوا جس میں سیکریٹری صنعت سید ذوالفقار علی شاہ،سپیشل سیکریٹری صنعت محمد انور خان،ایڈیشں ل سیکریٹری معدنیات مسرت زمان،چیف ایگزیکٹیو آفیسر کے پی ایزڈمک جاوید اقبال خٹک،ڈائریکٹر ٹیوٹا منیر گل،ڈائریکٹر ٹیکنیکل معدنیات مجاہد علی کے علاؤہ دیگرمتعلقہ حکام نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران ”کمپیٹیٹیو انڈسٹریز پراجیکٹ فار خیبر پختونخوا” کے تحت حاصل کی گئی مائننگ مشینری جو محکمہ معدنیات کے ذریعے وفاقی کمپنی پاسڈک کو صوبے میں ماربل سیکٹر کے اندر میکانائز مائننگ کو فروغ دینے کیلئے حوالے کی گئی تھی اس کی پرگراس کا جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں بتایا گیا کہ متعلقہ کمپنی کو ایک معاہدے کے تحت صوبائی حکومت نے 185 ایکڑ اراضی ماربل سٹی بنانے کیلئے فراہم کی تھی جسکے اندر کمیونٹی فیسلٹیشن سنٹر اور میکانائزمائننگ مشینری کیلئیایک پول قائم کرنا تھا تاکہ صوبے میں ماربل سیکٹر کو ترقی دی جا سکے اور روایتی مائننگ میں قیمتی معدنیات کے ضیاع کو روک کر میکانائز کان کنی کو فروغ دیا جائے۔اجلاس میں بتایا گیا کہ مذکورہ معاہدے کی رو سے 13 بھاری مشینیں حکومت نے کمپنی کو فراہم کیں جبکہ پول کو وسعت دینے کی غرض سے 13 مشینیں کمپنی نے ہی فراہم کرنی تھیں۔اجلاس میں بتایا گیا کہ مبینہ طور پر معاہدے کے مندرجات کے مطابق کمپنی اپنی جانب سے کئے جانے والے عمل پر مکمل طور پر عمل نہیں کرسکی ہے۔اس موقع پر معاون خصوصی نے کہا کہ مذکورہ کمپنی کو دی جانے والی مشینری اور معاہدے کی رو سے کمپنی کی جانب سے پول کوفراہم کرنے والی مشینری کا بغور جائزہ لیا جائے اور کمپنی کی جانب سے معاہدے کی روسے اگر کسی بھی قسم کی ممکنہ خلاف ورزی ہو چکی ہو تواس سلسلے میں قواعد وضوابط اور قانون کے تحت اس معاملے پر آگے عملدرآمد کیا جائے۔

خیبر پختونخوا کی طلباء کو با عزت روزگار کے مواقع مہیا کرنے کی ضرورت، خیبر پختونخوا کے وزیر برائے اعلیٰ تعلیم

خیبر پختونخوا کے وزیر برائے اعلیٰ تعلیم مینا خان آفریدی نے کہا ہے کہ موجودہ ترقی کے اس دور میں طلبا کے ساتھ ساتھ طالبات کو بھی سکلڈ ایجوکیشن سے آراستہ کرنا وقت کا تقاضا ہے تاکہ ڈگری مکمل ہونے سے پہلے پہلے مارکیٹ میں طلبہ کو باعزت روزگار کے مواقع مل سکیں اور ان کی مانگ بڑھے جس سے بیروزگاری پر کافی حد تک قابو پایا جاسکتا ہے صوبائی وزیر نے۔ ان خیالات کا اظہار فرنٹیئر وومن گرلز کالج پشاور میں محکمہ اعلیٰ تعلیم اور دوستی فاؤنڈیشن کے مشترکہ تعاون سے منعقدہ دو روزہ نیشنل وومن یوتھ کیرئیر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا کالج کی پرنسپل روش ظہرا نے صوبائی وزیر کو کالج کے احاطے میں مختلف لگائے گئے سٹالز کا دورہ کرایا جبکہ ایونٹ کی چیف آرگنائزر سیدہ مہوش بخاری نے صوبائی وزیر کو دو روزہ تقریب کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اس تقریب کے انعقاد کا بنیادی مقصد طالبات کی کیریئر کونسلنگ کرانا ہے جس میں تقریبا 20 ڈیپارٹمنٹس کے ایمپلائرز آئے ہیں تاکہ ان طلبہ کو بتائیں کہ تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہ کہاں پر اپنی خدمات انجام دے سکتی ہیں کیونکہ ہماری زیادہ تر طالبات کو ٹیچنگ کے علاوہ کسی دوسرے شعبے کے بارے میں معلومات نہیں اس کے علاوہ کانفرنس میں مختلف مقابلے ہونگے جن میں پینٹنگ، سکلز، دستکاری، نعت، مہندی، کوکنگ اور بااختیار خواتین پر مبنی شاعری کے مقابلے شامل ہیں۔انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ دنیا کے اندر جتنی خودار قومیں ہیں اور جن قوموں کے اندر خودی ہے وہ اونچی اڑان اڑتی ہیں انہوں نے طلبہ سے کہا کہ اپنے اندر کے ٹیلنٹ کو تلاش کریں اور اسے سامنے لائیں آپ میں ڈاکٹرز، سائنسدان، بیوروکریٹ، سیاستدان وغیرہ سب موجود ہیں آپکو اپنے اوپر اعتماد پیدا کرنا ہوگا کیونکہ مستقبل میں پاکستان کی باگ ڈور اور قیادت آپ نے سنبھالنی ہے پاکستان کا سب سے بڑا اثاثہ نوجوان ہیں جو ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔صوبائی وزیر نے منتظمین کی جانب سے کانفرنس کے انعقاد کے اقدام کو سراہا اور امید ظاہر کی کہ یہ کانفرنس طلبہ کی کیرئیر کونسلنگ میں مددگار ثابت ہوگی۔

چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا کی زیر صدارت شندور پولو فیسٹیول کے انتظامات کے حوالے سے اجلاس کا انعقاد۔

چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا ندیم اسلم چوہدری کی زیر صدارت شندور پولو فیسٹیول کے انتظامات کے حوالے سے جمرات کے روز پشاور میں ایک اجلاس منعقد ہوا جس میں ایڈیشنل چیف سیکرٹری محکمہ داخلہ، سیکرٹری محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ، سیکرٹری ایڈمنسٹریشن، سیکرٹری کلچر اینڈ ٹورزم، ڈائریکٹر جنرل انفارمیشن، سول ایویشن،چترال پولو ایسوسی ایشن، چیمبر آف کامرس،ٹریول ایجنٹ ایسوسی ایشن کے نمائندوں اور دیگر افسران نے شرکت کی۔ جبکہ کمشنر ملاکنڈ ڈویژن، ریجنل پولیس افسر ملاکنڈ ڈویژن، کمانڈنٹ چترال سکاؤٹس، ڈپٹی کمشنر، ڈی پی او اپر اور لوئر چترال نے بذریعہ ویڈیو لنک شرکت کی۔ اجلاس میں چیف سیکرٹری کو شندور پولو فیسٹیول کے انعقاد کے حوالے سے اب تک کئے جانے والے انتظامات پر تفصیلی بریفننگ دی گئی۔ اس موقع پر چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا ندیم اسلم چوہدری نے انتظامات کو حتمی شکل دینے کی کوششیں تیز کرنے اور فیسٹیول کے تمام سٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر ایک جامع اور مکمل پلان ترتیب دینے کی ہدایت کی۔ انھوں نے کہا کہ شندور پولو فیسٹیول سے عالمی سطح پر نہ صرف خیبرپختونخوا بلکہ پاکستان کا ایک مثبت تاثر جائے گا۔ اس موقع پر چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا ندیم اسلم چوہدری نے نیشنل ہائی وے اتھارٹی کو فیسٹیول سے پہلے سیاحوں کی آمدروفت کے لیے سڑکوں پر جاری کام کو تیز کرنے اور لینڈ سلائیڈنگ ا رو دیگر حالات کے دوران ہنگامی اقدامات کے تحت بھاری مشینری کی دستیابی کو یقینی بنانے کی ہدایت کی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ دنیا کے سب سے بلند مقام پر واقع پولو گراؤنڈ میں منقعد ہونے والے ٹورنامنٹ کیلئے تاریخوں کا اعلان موسمی حالات کو دیکھ کر مشاورت کے بعد جلد کردیا جائیگا۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ فیسٹیول کے انعقاد کے لیے تمام تر انتظامات کو جلد سے جلد مکمل کرنے کے لیے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔ مقامی و غیر ملکی سیاحوں، میڈیا نمائندوں و دیگر مہمانوں کی رہائش کے لیے تمام تر انتظامات کو مزید بہتر بنایا جارہا ہے۔ اس موقع پر چیف سیکرٹری نے فیسٹیول کے لیے بہترین انتظامات کی ہدایت کی تاکہ لوگوں کو زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کی جاسکیں۔ چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا ندیم اسلم چوہدری نے کہا کہ چترال کی دستکاری اور مقامی طور پر تیار شدہ مصنوعات کو فروغ دینے کے لئے فیسٹول میں خصوصی سٹالز کا اہتمام کیا جائے۔ شندور پولو فیسٹیول کے کامیاب انعقاد سے چترال کی مقامی معشیت پر بھی مثبت اثرات مرتب ہونگے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ اسلام آباد سے چترال پی آئی اے کی خصوصی فلائٹس ہوں گی جن سے سیاح استفادہ کرتے ہوئے شندور پولو فیسٹیول میں شرکت کرسکیں گے۔

خیبر پختونخوا کے مشیربرائے اطلاعات و تعلقات عامہ سے وزیرستان کے تاجر برادری نے ان کے دفتر پشاور میں ملاقات۔

خیبر پختونخوا کے مشیربرائے اطلاعات و تعلقات عامہ بیرسٹر ڈاکٹر سیف سے شمالی وزیرستان کے تاجر اوردکاندار برادری اور قبائلی عمائدین نے ان کے دفتر پشاور میں ملاقات کی اور مشیر اطلاعات کو بتایا کہ شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب کے دوران میران شاہ بازار کو ملیامیٹ کیا گیا تھا تو ان کی دکانیں بمعہ سامان جنگ کی نذر ہوگئیں۔ وفد نے بیرسٹر ڈاکٹر سیف کو بتایا کہ تحریک انصاف کی پچھلی حکومت نے متاثرہ دکانداروں کے نقصان کے ازالے اور معاوضے کیلئے فنڈ ریلیز کر دیئے تھے لیکن کئی سال گزرنے کے باوجود انہیں مذکورہ رقم موصول نہیں ہوئی۔ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے وفد کو ان کے معاوضے کے مسئلے کے حل کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہاکہ وزیر اعلیٰ علی امین خان گنڈاپور کو اس معاملے میں آگاہ کریں گے۔ مشیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت قبائلی اضلاع میں دکاندار و تاجر برادری کے مسائل سے باخبر ہے اور ان کے حل کے لیے سنجیدہ کوششوں میں بھی مصروف ہے۔ دکانداروں نے مشیر اطلاعات بیرسٹرڈاکٹر سیف کو بتایا کہ انتہاپسندوں کے خلاف آپریشن میں ساڑھے چھ ہزار سے زائد دکانیں مکمل طورپر تباہ ہوگئی تھیں جن کے نقصانات کا تعین کرنے کیلئے قائم کمیٹی نے ساڑھے اکیس ارب سے زائد نقصانات کا تخمینہ لگایا، جس پر حکام نے ساڑھے چھ ارب تک کا معاوضہ دینے کی حامی بھرلی، تاہم آج دس سال گزر نے کے باوجود نقصانات کا ازالہ نہیں ہوسکا۔

وزیر صحت نے فاؤنڈیشن میں جدید مشینری کے ذریعے محفوظ انتقال خون فراہمی اور سکریننگ کوسراہا۔

حمزہ فاونڈیشن ویلفیئر تھیلیسیمیا اینڈ ہیموفیلیا سنٹر پشاور نے 8مئی تھیلیسیمیا کا عالمی دن منایا۔ اس حوالیسے منعقدہ تقریب میں مہمان خصوصی وزیرصحت سید قاسم علی شاہ تھے جنہوں نے کیک بھی کاٹا۔ اس موقع پر حمزہ فاؤنڈیشن کے بانی اعجازعلی خان، میڈیکل ڈائریکٹرڈاکٹر طارق نے وزیرصحت کو تفصیلی بریفنگ دی اوربتایاکہ تھیلیسیمیا میجر مریضوں کو ہر15روزبعدتازہ خون کی ضرورت ہوتی ہے اور حمزہ فاؤنڈیشن 1500رجسٹرڈ مریضوں کو ڈونیشن کے ذریعے انکیتمام اخراجات برداشت کررہی ہے تاہم اس میں حکومتی تعاون کی بھی سخت ضرورت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت صوبہ کے مختلف علاقوں سمیت دور درازاضلاع سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں غریب و مستحق تھیلیسیمیا کے مریض حمزہ فاؤنڈیشن کے ساتھ رجسٹرڈ ہیں جہاں ادارے کی جانب سے ان مریضوں کوپلازما، ضروری ادویات اور خوراک مفت فراہم کی جارہی ہے۔ وزیر صحت قاسم علی شاہ نے حمزہ فاؤنڈیشن میں تمام سیکشنز و شعبوں کا تفصیلی معائنہ کیاجہاں انہوں نے جدید مشینری کیذریعی مریضوں کو محفوظ انتقال خون کی فراہمی اور محفوظ سکریننگ کے اقدامات کوسراہا اور فاؤنڈیشن انتظامیہ کویقین دہانی کرائی کہ انکے ساتھ ہرقسم کا تعاون کرینگے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تھیلیسیمیا کی روک تھام کیلئے وہ حکومتی سطح پرقدامات کرینگے تاکہ اس مرض کو مزید پھیلنے سے روکا جائے۔ آخر میں تھییسیمیا کی روک تھام سے متعلق آگاہی پیدا کرنے کیلئے واک کا بھی اہتمام کیا گیاجس میں تھیلیسیمیا بچوں انکے والدین اورمختلف مکاتب فکرکے لوگوں نے شرکت کی۔

خیبر پختونخوا کے وزیر برائے اعلیٰ تعلیم نے طلباء کو کھیلوں میں شرکت کی سرگرمیوں کے لئے حوصلہ افزائی کی۔

خیبر پختونخوا کے وزیر برائے اعلیٰ تعلیم میناخان آفریدی نے کہا ہے کہ تعلیمی اداروں میں نصابی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ غیرنصابی سرگرمیاں ضروری ہیں طلباء کو کھیلوں میں بڑھ چڑھ کرحصہ لینا چاہیے کھیل سے انسان کے اعصاب مضبوط اور ہر قسم کے حالات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت پیدا ہوتی ہے کھیل کے میدان اور عملی زندگی میں انصاف کیلیے لڑنا ہوتا ہے صوبے میں ایک ہزار گراؤنڈز بنانے کے کام کے سلسلے کو دوبارہ وہیں سے کام شروع کرینگے جہاں پر روکا تھا۔ وہ محکمہ اعلیٰ تعلیم کے زیر اہتمام انٹرزونل صوبائی سپورٹس مقابلوں کی تقریب تقسیم انعامات کے موقع پر بطورمہمان خصوصی خطاب کررہے تھے تقریب گورنمنٹ سپرئیر سائنس کالج پشاور میں منعقد ہوئی جس میں ڈائریکٹر ہائیرایجوکیشن، ڈپٹی ڈائریکٹر سپورٹس ہائیر ایجوکیشن، کالج پرنسل، مختلف کالجز کے پروفیسرز، اساتذہ اور سپورٹس کے مختلف مقابلوں میں اول، دوسری اور تیسری پوزیشن لینے والے ٹیموں کے کھلاڑیوں اور طلباء نے کثیر تعداد میں شرکت کی صوبائی وزیر انے خطاب میں کہا کہ محکمہ کھیل کے ساتھ مل کر کھیلوں کی سرگرمیاں جاری رکھیں گے خیبر پختونخوا میں کافی ٹیلنٹ موجود ہے۔ کے پی کے کھلاڑیوں کو پالش کرنے اور سہولیات دینے کی ضرورت ہے خیبر پختونخوا نے کھیل کی دنیا میں اچھے کھلاڑی پیدا کئے ہیں کے پی کے کھلاڑیوں نے دنیا بھر میں پاکستان کا نام روشن کیا ہے اس وقت قومی کرکت ٹیم میں 7 کھلاڑیوں کا تعلق خیبر پختونخوا سے ہے جبکہ ولی بال ٹیم کے 12کھلاڑیوں میں سے 11 کا تعلق کے پی سے ہے انہوں نے مذید کہا کہ انڈر16, 19, 21, اور انڈر 23 گیمز کو بہت جلد دوبارہ شروع کررہے ہیں کھلاڑیوں کے انعامات اور وظائف کو دگناہ کرینگے انہوں نے سپرئیر سائنس کالج کے پرنسپل کے مطالبہ پر ڈائریکٹر ہائیرایجوکیشن کو موقع پر ہدایت جاری کی کہ کالج میں سٹاف کی کمی کو فوری طور پر پورا کریں جبکہ انہوں نے یقین دلایا کہ کالج سے پولیس چوکی کو دوسری جگہ پر منتقل کرینگے انہوں کہا کہ ہماری حکومت کا مشن ہے کہ صوبے کے سرکاری کالجز اور جامعات کو سولرائزیشن، آٹومیشن اور ڈیجیٹالائزیشن کی طرف لے جارہے ہیں جبکہ بہت جلد محکمہ کو پیپرلیس کی طرف لے جارہے ہیں جس سے نہ صرف شفافیت ہوگی بلکہ وقت اور وسائل دونوں کی بچت ہوگی انہوں نے کہا کہ طلبہ ہمارا قیمتی اثاثہ ہیں پروفیسرز اور اساتذہ کو ایمانداری سے خدمات سر انجام دینی ہیں نظام میں بہتری لانے کیلیے ہر ایک نے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا تقریب کے اختتام پر صوبائی وزیر نے انٹرزونل صوبائی سپورٹس کے مختلف مقابلوں میں اول، دوسری اور تیسری پوزیشن حاصل کرنے ٹیموں اور کھلاڑیوں میں ٹرافیاں، سرٹیفیکیٹس اور انعامات تقسیم کئے۔

ری ماڈلنگ آف ورسک کینال سسٹم کا منصوبہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور اسے بروقت مکمل کرنے کے لئے تمام وسائل برئے کا ر لائیں گے۔

خیبر پختونخوا کے وزیر آبپاشی عاقب اللہ خان نے کہا ہے کہ ری ماڈلنگ آف ورسک کینال سسٹم کا منصوبہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور اسے مقررہ مدت میں مکمل کرنے کے لئے تمام تر اقدامات اٹھائیں گے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ری ماڈلنگ آف ورسک کینال سسٹم کی کانسٹریکشن فرم کے وفد سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ وفدنے بدھ کے روز پشاور میں وزیر آبپاشی عاقب اللہ خان سے ملاقت کی اور مذکورہ منصوبے کی تکمیل کے حوالے سے تبادلہ خیا ل کیا۔ وفد میں پراجیکٹ مینجر رین اور ڈپٹی ٹیم لیڈ وانگ سمیت پروجیکٹ ڈائریکٹر روح الامین اور ڈپٹی ڈائریکٹر پروجیکٹ محمد عامر شامل تھے۔وفد نے صوبائی وزیر سے ری ماڈلنگ آف ورسک کینال سسٹم کے پراجیکٹ میں پیش رفت اور دیگر امور پر تفصیلی گفتگو کی۔عاقب اللہ خان نیاس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ری ماڈلنگ آف ورسک کینال سسٹم پروجیکٹ صوبے میں آبپاشی اور آبنوشی کے حوالے سے نہایت اہم منصوبہ ہے اور اس منصوبے کو بروقت مکمل کرنے کے لئے اقدامات تیز ترکردیئے گئے ہیں، انہوں نے کہا کہ منصوبے کے لئے بلا تعطل فنڈ کی فراہمی یقینی بنانے کے لئے مشیر خزانہ، چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا اور سیکرٹری خزانہ سے انہوں نے بات کی ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پی ایس پی پروجیکٹ ہے جس میں پانچ کلومیٹر طویل ٹنل بھی شامل ہے، جس کے ذریعے 700 کیوسک پانی لے جایا جائے گا اور اس میں سے 300 کیوسک پینے اور 400 کیوسک آبپاشی کے لئے استعمال میں آئے گا انہوں نے کہا کہ ماہ مارچ سے شروع ہونے والا یہ منصوبہ چھ ارب 67 کروڑ روپے کی لاگت سے چار سالوں میں مکمل ہوگا۔

وزیر ایکسائز کی زیر صدارت محصولات کی وصولیوں، کارکردگی اور محکمہ ایکسائز میں جاری اصلاحات کے بارے میں اجلاس کا انعقاد

خیبر پختونخوا کے وزیر ایکسائز، ٹیکسیشن اور نارکاٹکس کنٹرول میاں خلیق الرحمن کی زیر صدارت بدھ کے روزمالی سال 24-2023 کے محصولات کی وصولیوں، محکمہ کی کارکردگی اور جاری اصلاحات کے بارے میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس پشاورمیں منعقد ہوا جس میں سیکریٹری محکمہ ایکسائز سید فیاض علی شاہ،ڈائریکٹر جنرل ایکسائز اکمل خان خٹک، ڈائریکٹر ریوینوصلاح الدین، ڈائریکٹر لیٹیگیشن ڈاکٹر انجینئر عید بادشاہ، ریجنل ڈائریکٹرز اور آفیسرز نے شرکت کی. اس موقع پر صوبائی وزیر کو ریجنل اور ضلعی دفاتر کے محصولات کی وصولیوں، مقررہ اہداف اور کارکردگی پر تفصیلی بریفنگ دی گئی، وزیر ایکسائز نے اچھی کارکردگی دکھانے والے ڈائریکٹرز اور ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن آفیسرز کے کردار کو سراہا اور دیگر کو کارکردگی بہتر بنا نے کی ہدایات جاری کیں اور کہا کہ عوام کی سہولت کے پیش نظر پراپرٹی ٹیکس اور ٹوکن ٹیکس سے متعلق آنلائن نظام کے تحت تمام معلومات اور ٹیکس کالکولیٹر کے علاوہ ٹیکسز آنلائن جمع کرنے کی سہولت بھی جلد سے جلد فراہم کی جائے تاکہ نظام میں شفافیت پیدا ہو،انہوں نے کہا کہ ایک ٹیم بن کر محکمہ ایکسائز کو ایک ماڈل محکمہ کے طور پر پیش کرنا ہے۔ ریجنل ڈائریکٹرز ایکسائز اور ضلعی ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن آفیسرز محکمہ کی کارکردگی اور محاصل ریکوری مزید بہتر بنانے کیلئے خصوصی اقدامات اٹھائیں، اور مقررہ محاصل کاہدف پورا کرنے کے لئے محنت ولگن کے ساتھ کام کریں، انہوں نے کہا کہ منشیات خاص طور پر آئس نوجوانوں اور طلباء میں تیزی سے پھیل رہا ہے جس کا تدارک ناگزیر ہے، صوبائی حکومت منشیات کی لعنت کو معاشرے سے ختم کرنے کے لئے پر عزم ہے، منشیات کے خلاف کارکردگی مزید بہتر بنانے کیلئے اینٹیلیجنس کا دائرہ کار بڑھانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو ہر ممکن سہولت فراہم کی جائے اور کسی قسم کی شکایت کا موقع نا دیا جائے۔اس موقع پر وزیر ایکسائز کو انتظامی اور قانونی امور میں درپیش مسائل سے بھی آگاہ کیا گیا، صوبائی وزیر نے تمام ضلعی افسران کو درپیش مسائل بارے سفارشات مرتب کرنے کی ہدایات جاری کیں۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ پراپرٹی ٹیکس کے شفاف سروے اور محاصل ریکوری مزید بہتر بنانے کیلئے جدید ٹیکنالوجی پر کام تیز کیا جائے، انہوں نے کہا کہ ایپکس کمیٹی کی جاری کردہ ہدایات پر پیش رفت اور کام کو یقینی بنایا جائے، اور کارکردگی رپورٹ مرتب کر کے صوبائی حکومت کو پیش کی جائے۔ وزیر ایکسائز نے مزید کہا کہ ٹیکس دہندگان پر اضافی ٹیکس کی بجائے نئے ریٹنگ ایریاز ٹیکس نیٹ میں شامل کیئے جائے۔

وزیر اعلی خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے صنعت وحرفت اور فنی تعلیم عبدالکریم تورڈھیر کی ملاقات

وزیر اعلی خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے صنعت وحرفت اور فنی تعلیم عبدالکریم تورڈھیر سے بدھ کے روز پشاور میں صرافہ زرگران جیمز اینڈ جیولری ٹریڈرز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن خیبر پختونخوا کے ایک نمائندہ وفد نے ملاقات کی اور انکے ساتھ پشاور میں مجوزہ جیمز پروسسنگ اینڈ ایکسپورٹ سنٹر کے قیام کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا اور انھیں اس ضمن میں اپنی ایسوسی ایشن کی جانب سے آرا پیش کیں۔ معاون خصوصی نے وفد کو یقین دلایا کہ مذکورہ سنٹر کے قیام کا مقصد صوبے میں جیمز سٹون کو فروغ دینا ہے اور اس منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے میں تمام ایسوسی ایشنز کو اعتماد میں لیکر اپنے اہداف کو حاصل کریںنگے۔انھوں نے کہا کہ جدید جیمز سنٹر کا قیام ملک اور صوبے کی معاشی ترقی کیلئے ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔اس سے ہماری ایکسپورٹ بھی بڑھے گی جبکہ اس شعبے سے وابسطہ ہزاروں افراد کو روزگار کے موقع میسر آسکیں گے اور ملک کو روینیو کی مد میں خاطر خواہ اضافہ میسر آسکے گا۔انھوں نے کہا کہ پشاور اس خطے میں قیمتی پتھروں کے کاروبار کیلئے نہایت اہمیت کا حامل ہے اور اس نئے مرکز کے قیام سے یہ شعبہ مزید ترقی کرے گا جو ہمارے صوبے کی معاشی ترقی کیلئے ایک اہم ذریعہ بنے گا۔

خیبرپختونخوا کے وزیر خوراک نے گندم خریداری مراکز کی نگرانی کے لئے قائم کنٹرول روم کا دورہ کیا۔

خیبرپختونخوا کے وزیر خوراک ظاہر شاہ طورو نے بدھ کے روز گندم خریداری مراکز کی نگرانی کے لئے قائم کنٹرول روم کا دورہ کیا، اس موقع پر انھیں متعلقہ حکام نے سی سی ٹی وی کنٹرول روم پر تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے آگاہ کیا کہ صوبے کے22 خریداری مراکز نے سی سی ٹی وی کیمرے نصب کیے گئے ہیں،کیمرے جو نائٹ وژن بھی ہیں، سے 24/7 خریداری مراکز کی نگرانی کی جا رہی ہے، صوبائی وزیر کو بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ کسی بھی شکایت کیلئے ٹیلی فون نمبر 091-9225379 پر شکایات سیل بھی قائم کیا گیا ہے، بعد ازاں ظاہر شاہ طورو نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ صوبائی حکومت نے تقریباً 29 ارب روپے کی لاگت سے 3 لاکھ میٹرک ٹن گندم خریداری 7 مئی سے شروع کی ہے جو دو ماہ تک جاری رہی گی، پہلے دس دن یعنی 7 مئی سے 17 مئی تک خیبرپختونخوا کے مقامی کسانوں سے گندم کی خریداری کی جائیگی، انھوں نے صوبائی حکومت کی جانب سے مقامی کاشتکاروں سے گندم کی خریداری کے فیصلے کو کسان دوست قرار دیا اور کہا کہ اس فیصلے سے صوبائی حکومت کو12 ارب روپے کی بچت بھی ہوگی، ظاہر شاہ طورو کا مزید کہنا تھا کہ پہلے آئیں پہلے پائیں کے اصول پر کاشتکاروں سے خریداری جاری ہے،آٹا مہنگا نہیں ہوگا گندم کی کافی مقدار موجود ہے، انھوں نے گندم کی خریداری کے عمل میں ٹیکنالوجی کے استعمال کو سراہا اور کہا کہ اس حوالے سے خریداری ایپ بھی متعارف کرایا گیا ہے جس سے موقع ہی پر پر تمام ریکارڈ کا اندراج آنلائن کیا جا رہا ہے، 24 گھنٹے کے اندر بینک آف خیبر کے ذریعے کاشتکاروں کو ادائیگی کی جا رہی ہے، ظاہر شاہ طورو نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے وژن کے مطابق صوبے میں معاشی مشکلات کے باوجود عوام کو ریلیف دے رہے ہیں، گندم خریداری میں شفافیت اور کسی بھی قسم کی خرد برد روکنے کے لئے تمام ممکنہ اقدامات اٹھائیں گئے ہیں، انھوں نے تنبیہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ بدعنوانی میں ملوث ہونے پر متعلقہ افراد کو مثالی سزا دی جائے گی۔