Home Blog Page 308

ورلڈ بینک کے کثیر رکنی وفد کی صوبائی حکومت کے اعلی حکام سے ملاقات

ورلڈ بینک کے ایک کثیر رکنی وفد نے منگل کے روز صوبائی حکومت کے اعلی حکام سے ملاقات کی۔ ملاقات میں خیبر پختونخوا میں عالمی بینک کے تعاون سے چلنے والے عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں سے متعلق امورپر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا ملاقات میں مختلف سماجی شعبہ جات بشمول ایجوکیشن ، روڈز انفرا سٹرکچر ، ہیومن کیپیٹل، کلائمٹ چینج و دیگر شعبوں میں باہمی اشتراک کار پر گفتگو کی گئی۔ اس موقع پر تعلیم ، صحت، سماجی بہبود، زراعت، سیاحت، روڈز انفرا سٹرکچر ، ٹیکنیکل ایجوکیشن کے شعبوں میں مزید تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔ عالمی بینک کے وفد کی قیادت ورلڈ بینک کے ریجنل وائس پریزیڈنٹ برائے ساؤتھ ایشیاء مارٹن ریزر کر رہے تھے۔وفد کے دیگر اراکین میں ورلڈ بینک کے کنٹری ڈائریکٹر نجی بن حسن بھی شامل تھے۔ صوبائی حکومت کی طرف سے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر سید فخر جہان اور ایم این اے فیصل امین گنڈاپور کے علاؤہ ایڈیشنل چیف سیکرٹری، متعلقہ انتظامی سیکرٹریز اور دیگر سرکاری حکام ملاقات میں موجود تھے۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے صوبائی حکومت کے حکام نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت ترقیاتی منصوبوں میں ورلڈ بینک کے تعاون کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے اور مستقبل میں صوبے کے سماجی شعبوں میں عوامی فلاح و بہبود کے اقدامات کے سلسلے میں عالمی بینک کے تعاون کی خواہاں ہے۔ حکام کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت عالمی شراکت دار اداروں کی سرمایہ کاری کا خیر مقدم کرے گی، چونکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں خیبر پختونخوا سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے اس لئےخیبر پختونخوا کو عالمی شراکت دار اداروں کی خصوصی توجہ کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ضم اضلاع میں انفراسٹرکچر کی تعمیر، کاروباری سرگرمیاں اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنا صوبائی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے اس لئے نوجوانوں کو مارکیٹ کی ضروریات سے ہم آہنگ ٹیکنیکل سکلز سکھانے کے لئے اقدامات اٹھائے جارہے ہیں اور چونکہ خیبرپختونخوا کی زیادہ آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے اس لئے صوبائی حکومت نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے اور انہیں مالی طور پر بااختیار بنانے کے لئے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات کر رہی ہے اور اس حوالے سے نوجوانوں کو خود روزگاری کے مواقع فراہم کرنے کے لیے آسان شرائط پر قرضے دینے کا منصوبہ بھی زیر غور ہے۔ وفد کو بتایا گیا کہ صوبائی حکومت موسمیاتی تبدیلیوں کے نقصانات کو کم سے کم کرنے کے لئے اگلے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں بلین ٹری پلس کا منصوبہ شامل کرنے جارہی ہے جبک آمدن کا ذریعہ بننے والے شعبوں کی ترقی پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وفد کے اراکین نے صوبے میں عالمی بینک اور صوبائی حکومت کے اشتراک سے چلنے والی عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں کی بروقت تکمیل ہر ممکن تعاون فراہم کرنے اور اشتراک کار کو مزید وسعت دینے کی یقین دہانی کرائی۔

وزیر صحت کا انتخابی حلقہ کا دورہ، عوام کی خدمت کی ترجیحات ترقیاتی منصوبے شروع کرنے کا اعلان۔

صوبائی وزیر صحت سید قاسم علی شاہ نے اپنے حلقہ پی کے 81 لنڈی ارباب کا دورہ کیا جہاں انہوں نے رباب نثار کی رہائش گاہ پر ناظمین، کونسلرز اور عہدیداروں سے ملاقات کی۔ خیبرپختونخوا کے وزیر صحت سید قاسم علی شاہ نے کہا کہ عام انتخابات میں آپ لوگوں نے منتخب کیا،2024-25 کے بجٹ کی منظوری کے بعد حلقہ پی کے 81 میں ترقیاتی منصوبے شروع کروں گا۔ خیبرپختونخوا کے وزیر صحت سید قاسم علی شاہ نے کہا کہ آپ لوگ میری ٹیم ہیں، ٹیم ورک سے حلقہ پی کے 81 میں ترقیاتی کاموں کا آغاز ہوگا۔وزیر صحت خیبرپختونخوا سید قاسم علی شاہ نے کہا کہ سڑکوں اور گلیوں کی تعمیر کو بھی جلد شروع کریں گے۔ وزیر صحت نے مزید کہا کہ میرا مقصد عوام کی خدمت کرنا ہے، آپ کو جو بھی مسائل ہوں مرحلہ وار تمام مسائل حل کریں گے۔ مساجد اور مدارس میں سولر سسٹم لگائے جائیں گے اور سرکاری سکولوں کو اپ گریڈ کیا جائے گا تاکہ ہمارے طلباء اچھے ماحول میں تعلیم حاصل کر سکیں۔ صحت سے متعلق حلقہ پی کے 81 میں مطلوبہ کام میری اولین ترجیح ہے۔وزیر صحت خیبرپختونخوا سید قاسم علی شاہ نے گیس سے متعلق کہا کہ مجھے علم ہے گیس کی لوڈشیڈنگ بھی کی جارہی ہے اس حوالے سے گیس کے اعلیٰ حکام سے بات چیت ہوگی، ہم اپنے حلقہ کا حق ہر صورت ان سے لیں گے۔خیبرپختونخوا کے وزیر صحت سید قاسم علی شاہ نے گیس کے حوالے سے کہا کہ گرمیوں میں گیس کی لوڈشیڈنگ کسی صورت قبول نہیں۔

طلبہ میں کھیل اور ہم نصابی سرگرمیوں کا جذبہ ہونا ایک زندہ قوم کی نشانی ہے۔

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے کھیل اور امور نوجوانان سید فخر جہان نے کہا ہے کہ تعلیمی اداروں میں طلبہ کو نصابی سرگرمیوں کیساتھ ساتھ تفریحی مواقع کی فراہمی انتہائی ضروری ہے۔انھوں نے کہا کہ طلبہ میں کھیل اور ہم نصابی سرگرمیوں کا جذبہ ہونا ایک زندہ قوم کی نشانی ہے اور ذہنی نشونما کیلئے بچوں کو کھیلوں کے موقع فراہم کرنے چاہئیں۔ان خیالات کا اظہار انھوں نے لاہور گرائمر سکول پشاور میں منعقدہ کرکٹ ٹورنامنٹ کے فائنل میچ میں بطور مہمان خصوصی شرکت کے موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے کیا۔مشیر کھیل نے تعلیمی ادارے میں منعقدہ ٹورنامنٹ میں فائنل جیتے والی ٹیم اور رنر آپ ٹیم میں میڈلزاور انعامات تقسیم کئے اور انھیں انکی کامیابی پر حوصلہ افزائی کی۔مشیر کھیل نے اس موقع پر اپنے خطاب میں کہا کہ یہ امر انتہائی خوش آئند ہے کہ ہمارے بچوں میں کھیلوں اور دیگر ہم نصابی سرگرمیوں کا جزبہ بدرجہ اتم موجود ہے جو زندہ قوموں کی نشانی ہے۔انھوں نے کہا کہ کھیلوں میں حصہ لینا ذہنی نشونما اور تندرستی کیلئے انتہائی ضروری ہوتا ہے اسلئے ہمارے تعلیمی اداروں میں اس طرح کے مقابلوں کا انعقاد ایک خوش آئند بات ہے۔انھوں نے طلبہ سے کہا کہ تعلیمی اداروں میں کھیلوں کی سرگرمیوں میں شرکت ہی آگے نیشنل اور انٹرنیشنل سطح پر مقام حاصل کرنے کیلئے پہلی سیڑھی ہے لہذا وہ اپنی کوششیں جاری رکھیں، انکا مستقل انتہائی شاندار ہوگا۔انھوں نے کہا کہ صوبائی حکومت صوبے میں کھیلوں کے فروغ کو انتہائی اہمیت دیتی ہے تاکہ یہاں ہمارے کھلاڑی آگے آئیں اور صوبے کے نوجوانوں کو تفریحی سرگرمیوں کے موقع میسر آسکیں۔دریں اثنا مشیر کھیل نے لاہور گرائمر سکول کے مختلف حصوں کامعائنہ بھی کیا اور وہاں پر تدریسی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔

وزیر جنگلات و ماحولیات نے کہا کہ عوام کی خدمت، ترقی اورحقیقی خوشحالی ہماری اولین ترجیح ہے۔

خیبرپختونخوا کے وزیرجنگلات وماحولیات فضل حکیم خان یوسفزئی نے کہا ہے کہ عمران خان کے وژن کے مطابق لوگوں کی خدمت کرنااولین ترجیح ہے کیونکہ عمران خان کے وژن میں عوام الناس کی بلاتفریق خدمت، ترقی اورحقیقی خوشحالی کاراز پوشیدہ ہے، تحریک انصاف پر لوگوں نے جس بھرپور اعتماد کااظہارکیاہے ان کے اعتماد کوٹھیس نہیں پہنچائیں گے اورہم سمجھتے ہیں کہ عوامی اعتماد ہی ہمارے لئے باعث اطمینان ہے، عوام کاپیسہ عوام پر خرچ کرناہی عوامی اعتماد پر پورااُترناہے، ان خیالات کااظہارانہوں نے میڈیا کے نمائندوں اورلوگوں سے باتیں کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہاکہ ترقی اورخوشحالی کی راہ میں کوئی رکاوٹ برداشت نہیں کریں گے، ترقی وخوشحالی کے لئے ٹھوس حکمت عملی ترتیب دی ہے، انشاء اللہ علاقائی خوشحالی اور عام لوگوں کی حالت بہتر بنائی جائیگی اورجن مقاصد کے لئے عوام نے تحریک انصاف پر اعتماد کیاہے ان مقاصد کے حصول کو یقینی بنائیں گے، انہوں نے کہا کہ عوام نے تحریک انصاف سے کافی توقعات وابستہ کررکھی ہیں انشاء اللہ لوگوں کے اعتماد کے مطابق اقدامات اٹھائیں گے، انہوں نے کہا کہ پارٹی کارکنوں اوراہل علاقہ کو عزت واحترام دیناہماری ترجیحات میں شامل ہے،ہم حاکم نہیں بلکہ خادم بن کر لوگوں کی خدمت میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کریں گے، خودکو عوام کی خدمت کیلئے وقف کررکھا ہے اورلوگوں کی خدمت کومدنظر رکھتے ہوئے تمام تروسائل عوام کے بہتر مفادکیلئے بروئے کار لائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ وقت کاتقاضہ ہے کہ عوام موجودہ حکومت کا دست وبازو بن کر فلاح وبہبود کیلئے اٹھائے گئے اقدامات میں اپناکرداراداکریں۔

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کی رہنمائی میں پولیو اور سائیٹ بورڈ کے اعلی سطح وفد کی ملاقات۔

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سردار علی امین گنڈاپور سے ڈاکٹر کرسٹوفر الیئیس کی سربراہی میں پولیو اورسائیٹ بورڈ کے اعلی سطح وفد نے گزشتہ روز وزیر اعلیٰ ہاؤس پشاور میں ملاقات کی۔ عالمی ادارہ صحت اور یونیسف سمیت دیگر عالمی شراکت دار اداروں کے نمائندے وفد میں شامل تھے جبکہ صوبائی وزیر صحت اور محکمہ صحت کے دیگر حکام کے علاوہ نیشنل ایمرجنسی آپریشن کے حکام بھی ملاقات میں موجود تھے۔ ملاقات میں خیبر پختونخوا سے پولیو وائرس کے خاتمے کے لئے اقدامات، درپیش چیلنجز اور مستقبل کے لائحہ عمل پر تفصیلی غوروخوص کیا گیا اور پولیو وائرس کے خاتمے کے لئے مل جل کر مربوط اقدامات جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔ اس موقع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ سردار علی امین گنڈاپور نے کہا کہ پولیو وائرس کا خاتمہ مشکل ضرور ہے لیکن ناممکن نہیں، ہماری خواہش اور کوشش ہے کہ صوبے سے پولیو وائرس کے خاتمے کا سہرا موجودہ صوبائی حکومت کے سر سجے۔وزیر اعلی کا کہنا تھا کہ پولیو وائرس کے خاتمے کے لیے موجودہ صوبائی حکومت ایک نئے عزم کے ساتھ کام کررہی ہے۔ علی امین گنڈاپور نے کہا کہ صوبائی حکومت اس سلسلے میں شراکت دار اداروں کے تعاون کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے اور مقررہ اہداف کے حصول کے لئے شراکت دار اداروں کو ہر ممکن سپورٹ فراہم کرے گی۔ وزیر اعلی نے مزید واضح کیا کہ پولیو کے خاتمے کے لئے شراکت دار ادارے اگر ایک قدم لیں گے تو صوبائی حکومت تین قدم لے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ بچوں کو انسداد پولیو کے قطرے پلانے سے انکاری والدین کو آگہی دینے کی ضرورت ہے، اس مقصد کے لئے مقامی منتخب عوامی نمائندوں، علمائے کرام اور علاقہ عمائدین کی خدمات سے استفادہ کریں گے، منتخب عوامی نمائندے اپنے اپنے علاقوں میں پولیو مہم کا حصہ بنیں گے۔ وزیر اعلی نے کہا کہ اس حوالے سے صوبے کے حساس علاقوں پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ تاہم انہوں نے
حساس علاقوں میں مقامی انتظامیہ اور شراکت دار اداروں کی باہمی مشاورت اور کوآرڈینیشن کو مزید بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ اس سلسلے میں ہر علاقے کے مخصوص حالات کے مطابق لائحہ عمل دے کر اس پر عملدرآمد کرنے سے بہتر نتائج حاصل ہو سکتے ہیں۔ وزیر اعلی کا مزید کہنا تھا کہ صوبائی دارالحکومت میں پولیو وائرس کے خاتمے کے لئے دیگر اقدامات کے ساتھ سیوریج نظام کو مکمل طور پر انڈر گراونڈ کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں کہا کہ صوبائی حکومت پولیو ویکسینیشن کے ساتھ ساتھ دیگر حفاظتی ٹیکہ جات پر بھی خصوصی توجہ دے رہی ہے۔ وفد نے خیبر پختونخوا میں انسداد پولیو مہم کو کامیاب بنانے کے لئے وزیر اعلی کے قائدانہ کردار کو سراہا اور یقین دلایا کہ وہ اس سلسلے میں بھرپور تعاون فراہم کریں گے۔

خیبر پختونخوا کی حکومت نے یوتھ انٹر پرینورشپ پروگرام کا اجراء کرنے کا فیصلہ۔

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سردار علی امین خان گنڈاپور نے صوبے میں خود روزگاری کو فروغ دینے کے سلسلے میں ایک اہم اقدام کے طور پر ” یوتھ انٹر پرینورشپ پروگرام” کے اجراءکا فیصلہ کیا ہے جس کے ذریعے اپنا کاروبار شروع کرنے کے خواہشمند نوجوانوں کو سافٹ لون فراہم کیا جائے گا۔ یہ فیصلہ انہوں نے گزشتہ روز وزیراعلیٰ ہاو¿س پشاور میں محکمہ کھیل و امور نوجوانان کے پہلے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ مجوزہ پروگرا م ابتدائی طور پر ایک ارب روپے کی خطیر لاگت سے شروع کیا جارہا ہے ۔ واضح رہے کہ یہ قرضہ کسی فرد واحد کو نہیں بلکہ اپنا ذاتی کاروبار شروع کرنے میں دلچسپی اور مہارت رکھنے والے نوجوانوں کے کلسٹر ز کو فراہم کیا جائے گا۔ پروفیشنلز کا ایک کلسٹر 20 لاکھ روپے سے ایک کروڑ روپے تک کا قرضہ حاصل کرسکے گا۔ وزیراعلیٰ نے مجوزہ پروگرام پر عملدرآمد کیلئے حکمت عملی کو جلد حتمی شکل دینے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ پروگرام کااصل مقصد باصلاحیت نوجوانوں کو اپنا کاروبار شروع کرنے کیلئے معاونت فراہم کرنا ہے۔ وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ صوبے میں روزگار کا فروغ موجودہ صوبائی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے، اس مقصد کیلئے ذاتی کاروبار میں دلچسپی لینے والے ہنر مند نوجوانوں کی بھرپور معاونت کی جائے گی۔ اسی طرح وزیراعلیٰ نے یوتھ سکل ڈویلپمنٹ اینڈ ایمپلائمنٹ کے مجوزہ پروگرام سے اتفاق کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ اس تربیتی پروگرام کےلئے تمام اضلاع سے نوجوانوں کو مواقع فراہم کئے جائیں اور اس مقصد کیلئے آبادی کے تناسب سے ہر ضلع کا کوٹہ مختص کیا جائے۔ اس پروگرام کے تحت بنیادی طور پر 20 ہزار نوجوانوں کو سپیشلائزڈ ٹریننگ دی جائے گی۔ تربیت حاصل کرنے والے نوجوانوں کو ملک اور بیرون ملک روزگار کے مواقع کی فراہمی یقینی بنانا بھی پروگرام کا لازمی حصہ ہے۔ علاوہ ازیں وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور نے یوتھ ایجوکیشن پروگرام کے تحت مجوزہ اقدامات پر عملدرآمد کی بھی منظوری دی ہے۔ پروگرام کے تحت جدید مارکیٹ کی ڈیمانڈ کے مطابق نوجوانوں کو ٹیکنیکل اور ڈیجیٹل شعبوں میں میرٹ بیسڈ سکالر شپس فراہم کی جائیں گے۔ اس کے علاوہ انکیوبیشن سنٹر کا قیام ، ای لرننگ، کیرئیر کونسلنگ ، ڈیجیٹل اسکلز ایڈوانس کورسز میں سرٹیفیکیشن اور میرٹ بیسڈ انٹر شپ کی فراہمی بھی اس پروگرام میں شامل ہے۔ وزیراعلیٰ نے جدید مارکیٹ کی ڈیمانڈ سے ہم آہنگ شعبوں میں میرٹ بیسڈ انٹر شپ کی فراہمی کے مجوزہ اقدام کو وقت کی ضرورت قرار دیتے ہوئے اس مقصد کیلئے باضابطہ پالیسی وضع کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیراعلیٰ نے اس موقع پر متعلقہ حکام کو تحصیل ہیڈ کوارٹر ز کی سطح پر پلے گراو¿نڈ ز کے قیام کے منصوبے کو عملی جامہ پہنانے اور اس مقصد کےلئے دستیاب سرکاری اراضی کو بروئے کار لانے کی ہدایت کی ہے اور واضح کیا ہے کہ جہاں جہاں اراضی دستیاب ہے، اسے فوری طور پر پلے گراونڈ ڈیکلیئر کیا جائے۔ باقی ماندہ تحصیلوں میں گراو¿نڈ ز کےلئے موزوں اراضی کی نشاندہی کےلئے ڈپٹی کمشنر ز کو مراسلے جاری کئے جائیں۔ اسی طرح وزیراعلیٰ نے صوبے میں پولو سمیت دیگر روایتی کھیلوں کے فروغ کےلئے پلان مرتب کرنے اور بلا تاخیر صوبائی پولو ٹیم تشکیل دینے کی ہدایت کی ہے اور تائید کی ہے کہ آنے والے پولو ایونٹ میں صوبائی پولو ٹیم کی شرکت یقینی بنائی جائے۔ وزیراعلیٰ نے رواں سال پشاور میں ہارس اینڈ کٹیل شو منعقد کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو اس سلسلے میں انتظامات مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے نیزہ بازی ، تیراندازی، گھڑ سواری، تیراکی اور دیگر روایتی کھیلوں کے فروغ کیلئے ٹھوس اقدامات اٹھانے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا ہے کہ ہمارے پاس تمام روایتی کھیلوں میں بھرپورٹیلنٹ موجود ہے، صرف منظم انداز میں اس ٹیلنٹ کی برانڈنگ کی ضرورت ہے۔

وزیر اعلی کے معاون خصوصی نے ٹیکنیکل ایجوکیشن اور صنعت و حرفت کی بہتری کیلئے اقدامات کی ہدایت۔

وزیر اعلی خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے فنی تعلیم اور صنعت و حرفت عبدالکریم تورڈھیر نے خیبر پختونخوا ٹیکنیکل ایجوکیشن اینڈ ووکیشنل ٹریننگ اتھارٹی میں ڈیجیٹائزیشن کے امور کو تیز کرنے،مالی خود انحصاری کیلئے عملی اقدامات اٹھانے اور سکلڈ ڈویلپمنٹ کیلئے فنی تربیتی اداروں کی کارکردگی کو بہتر بنانے کی ہدایت کی ہے۔اس حوالے سے جمعرات کے روز معاون خصوصی کی زیر صدارت ایک اعلی سطحی اجلاس ہوا جس میں سیکریٹری صنعت وحرفت اور فنی تعلیم سید ذوالفقار علی شاہ،ایم ڈی ٹیوٹا عامر آفاق،ڈائریکٹر فنانس ٹیوٹا منیر گل اور کے پی ایزڈمک کے نمایندے نے شرکت کی۔اجلاس میں ٹیوٹا کے آپریشنل اور تدریسی امور کا عمومی جائزہ لیا گیا اور اس سلسلے میں ادارے کی کارکردگی میں بہتری لانے اور اسے صوبے میں مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق ہنرمندانہ تعلیم کا آئینہ دار ادارہ بنانے کیلئے کئی تجاویز پر غور کیا گیا۔اجلاس میں ٹیوٹا کے تحت صوبے میں فنی تعلیم کے مختلف ذرایع سے منظور شدہ ترقیاتی منصوبوں کا بھی جائزہ لیا گیا اور اس ضمن میں معاون خصوصی نے متعلقہ حکام کو اہمیت کے حامل منصوبوں کے تعمیراتی عمل میں تیزی لانے کی ہدایات کی۔ معاون خصوصی نے اس موقع پر پر فنی تعلیم کے شعبے کو مالی طور پر مستحکم بنانے اور اسے خود انحصاری کی طرف لے جانے کیلئے بھی ہدایات جاری کئے جبکہ اس حوالے سے تمام پرنسپل حضرات کو پروڈکشن و سروسز کے مشترکہ ماڈل پر عملدرامد کرنے کی ہدایات کی۔انھوں نے ہدایت کی کہ ٹیوٹا کے اخراجات کو کم کرنے کیلئے معقول اقدامات اٹھائے جائیں اور ادارے کے ذرایع آمدن کو بڑھانے کیلئے ادارے کے وسائل کو بروئے کار لایا جائے۔انھوں نے ہدایات کی کہ تمام پرنسپل حضرات کو مالی خود انحصاری کیلئے اپنے تعلیمی اداروں میں موثر اقدامات اٹھانے کا ٹاسک دیا جائے۔

خیبر پختونخوا کے وزیر صحت سید قاسم علی شاہ کی سربراہی میں محکمہ صحت کا آپریشنل ریویو اجلاس

اجلاس میں سیکرٹری ہیلتھ محمود اسلم وزیر، ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل ایڈمنسٹریشن ڈاکٹر سراج، سی ای او صحت کارڈ ڈاکٹر ریاض تنولی، پروجیکٹ ڈائریکٹر پرائمری ری ویمپ پروگرام ڈاکٹر اکرام اللہ، ڈائریکٹر آئی ایم یو ڈاکٹر اعجاز، سٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن کے نمائندے و دیگر متعلقہ اہلکاروں نے شرکت کی۔ اجلاس کے ایجنڈے میں ادویات ضروریہ کی دستیابی، پرائمری ہیلتھ کئیر ری ویمپ، میڈیسن سپلائی چین، صحت کارڈ اور ہیلتھ انفارمیشن اینڈ سروس ڈلیوری یونٹ شامل تھے۔ ڈائریکٹر آئی ایم یو ڈاکٹر اعجاز نے مراکز صحت کی مختلف امور پر کارکردگی کا جائزہ پیش کیا۔ وزیر صحت نے تمام مراکز صحت میں ادویات کی موجودگی اور جہاں جہاں ادویات کی ترسیل باقی ہے وہاں پر بروقت ادویات کی موجودگی کو یقینی بنانے کی ہدایات کیں۔ سید قاسم علی شاہ نے پرائمری ہیلتھ کئیر ری ویمپ پروجیکٹ پر کام مزید تیز کرنے اور سپلائی چین کیلئے مجوزہ اقدامات کو عملی بنانے کیلئے ہدایات جاری کیں۔ وزیر صحت کی صحت کارڈ کاونٹر پر سٹیٹ لائف کے عملے کی رات گئے وقت موجودگی کی ہدایات جاری کیں۔

صوبائی حکومت ملازمین کی فلاح و بہبود کے لیے متعدد آپشنز پر غور کر رہی ہے، وزیر اوقاف خیبر پختونخوا

خیبرپختونخوا کے وزیر اوقاف و مذہبی امور صاحبزادہ محمد عدنان قادری نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت تمام دستیاب وسائل کو بروئے کار لا کر سرکاری ملازمین کی فلاح و بہبود کے لیے متعددآپشنز پر غور کر رہی ہے. ملازمین کو سہولیات و آسانیاں فراہم کرنا ترجیح ہے. ان خیالات کا اظہار صوبائی وزیر نے محکمہ اوقاف و مذہبی امور کے آل پاکستان کلرک ایسوسی ایشن محکمہ اوقاف کی نو منتخب کابینہ سے اپنے دفتر میں حلف لیتے ہوئے کیا. اس موقع پر سیکریٹری اوقاف ڈاکٹر اسد علی اور ایڈمنسٹریٹر حامد علی گیلانی بھی موجود تھے. صوبائی صدر نے ایپکا محکمہ اوقاف کے نو منتخب چیئرمین ایپکا ظفر مقصود، صدر شیر افضل، جنرل سیکرٹری ملک اسفند یار خان سمیت دیگر ممبران سے حلف لیا۔تقریب کے مہمان خصوصی صوبائی وزیر اوقاف مذہبی عدنان قادری نے خطاب کر تے ہوئے کہا کہ ایپکا محکمہ اوقاف کے نو منتخب عہدیداران کو مبارکباد پیش کرتا ہوں اور امید ہے وہ اپنے محکمہ کے ملازمیں اور محکمہ کی ترقی کے لئے اپنا بھر پور کردار ادا کریں گے. انہوں نے کہا کہ میں آپ کا خادم ہوں اور آپ کے پیش کئے گئے تمام مسائل کو حل کرنے کی کوشش کروں گا ۔انہوں نے کہا کہ کسی بھی محکمہ کا ملازم اس محکمہ کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ھے اگر ملازم مضبوط ہوگا تو محکمہ مضبوط ہوگا، جبکہ حکومت کی مضبوطی محکمہ جات کی مضبوطی سے جڑی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ تب ممکن ھے کہ محکمہ کے ملازمین ایمانداری اور خلوص نیت سے اپنے اپنے فرائض منصبی احسن طریقے سے ادا کریں گے ۔انہوں نے ملازمین کی جانب سے سپاسنامہ میں پیش کئے گئے مسائل پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ملازمین کے تمام مطالبات جائز ہیں اور اس پر عملدرآمد ممکن بنائیں گے۔

خیبر پختونخوا کے حقوق کی جدوجہد میں صوبائی حکومت کا ساتھ دیں۔ وزیر اعلی خیبر پختونخوا

وزیر اعلی خیبر پختونخوا سردار علی امین خان گنڈاپور نے صوبے کے آئینی اور قانونی حقوق پر سمجھوتہ نہ کرنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے صحافی برادری سے کہا ہے کہ وہ صوبے کے حقوق کی جدوجہد میں صوبائی حکومت کا ساتھ دیں ۔اُنہوںنے کہاکہ یہ صوبہ ہم سب کا ہے اور ہم سب نے مل کر اس کی ترقی کیلئے کام کرنا ہے اور صوبہ تب ہی ترقی کرے گا جب وفاق سے صوبے کو اس کے جائز حقوق مل جائیں گے ۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ ہمارے لئے فخر اور اعزاز کی بات ہے کہ خیبرپختونخوا کے وسائل ملک کی ترقی کیلئے استعمال ہو رہے ہیں تاہم ہمیں بھی ہمارا جائز حق ہر صورت ملنا چاہیے ۔ ان خیالات کا اظہار اُنہوںنے جمعرات کے روز پشاور پریس کلب کے دورہ کے دوران پریس کلب کی نو منتخب کابینہ کی تقریب حلف برداری سے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیر اعلی نے اس موقع پر پریس کلب کی نو منتخب کابینہ اور گورننگ باڈی ممبران سے ان کے عہدوں کا باضابطہ حلف لیا۔اُنہوںنے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مسلسل دوسری مرتبہ صدر منتخب ہونے پر ارشد عزیز ملک اور ان کی کابینہ کو مبارکباد پیش کی اور کہاکہ خیبرپختونخوا کے صحافی گزشتہ کئی دہائیوں سے انتہائی نامساعد حالات میں اپنے پیشہ وارانہ فرائض انجام دے رہے ہیں۔ خصوصی طور پر دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فورسز اور عوام کے ساتھ ساتھ صوبے کے صحافیوں نے بھی بڑی قربانیاں دی ہیں۔وزیراعلیٰ نے یقین دلایا کہ صوبائی حکومت صحافیوں کو درپیش مسائل کے حل اور ان کی فلاح کے لیے ہر ممکن اقدامات کرے گی۔ علی امین خان گنڈا پور نے اس موقع پر مرکز سے جڑے صوبے کے حقوق اور واجبات کے حوالے سے واضح کیا کہ وہ کسی صورت بھی اپنے جائز حقوق سے دست بردار نہیں ہوں گے ، ہمارے حقوق ہمیں حقوق کی طرح ملنے چاہئیے بھیک کی طرح نہیں۔ اُنہوںنے مزید کہاکہ اگر ہمیں ہمارے حقوق نہ دیئے گئے تووہ حق لینا جانتے ہیں ۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ میں عمران خان کا سپاہی ہوں، مجھے ہلکا نہ لیا جائے،عمران خان نے ہمیں یہ سکھایا ہے کہ اپنے نظریے سے کبھی نہیں ہٹنا۔ اُنہوںنے وفاقی حکومت کو واضح پیغام دیتے ہوئے کہا کہ اگر صوبے کو حقوق نہ دیئے گئے تو وفاقی حکومت بھی سکون سے نہیںرہ سکے گی ۔اُنہوںنے کہا کہ اگر میں اپنے حقوق لینے نکلوں گا تو عوام کو ساتھ لے کر نکلوں گا اور اگر میں صوبے کے حقوق نہ بھی لے سکا تو آئندہ نسلوں کے لئے مثال قائم کروں گا جس کے لئے میں کوئی بھی قربانی دینے کے لئے تیار ہوں۔وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ ہمارے بہت سے اضلاع اور شعبے ترقی کے میدان میں پیچھے رہ گئے ہیں، ہم نے عمران خان کے وژن کے مطابق تمام علاقوں اور شعبوں کو برابری کی بنیاد پر ترقی دینا ہے جس کے لئے مرکز سے صوبے کو اس کے جائز حقوق اور وسائل کی فراہمی ناگزیر ہے ۔ صوبائی حکومت کی ترجیحات کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہاکہ قانون کی بالادستی ہماری اولین ترجیح ہے، ہم ایسا نظام بنائیں گے جس میں کسی بے گناہ کے ساتھ کوئی بھی زیادتی نہ ہو۔ علی امین گنڈ پور کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے ہمارے ہاں کچھ ادارے سیاسی انتقام کے لئے بنائے گئے ہیں،لیکن ہم نے اصلاح کرنی ہے اور نظام کو ٹھیک کرنا ہے،ہم تنقید برائے اصلاح کا خیر مقدم کریں گے اور ہم ہمیشہ زیادتی کے شکار لوگوں کا ساتھ دیں گے ۔کبھی زیادتی کرنے والوں کا ساتھ نہیں دیں گے۔