خیبرپختونخوا کے وزیر آبپاشی ریاض خان کی زیر صدارت پیہور ہائی لیول کینال ایکسٹینشن پراجیکٹ اور ضلع صوابی میں آبپاشی سے متعلق مسائل کے حل اور دیگر اہم امور کے حوالے سے اجلاس پشاور میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں ممبر صوبائی اسمبلی عبدالکریم تورڈھیر، سیکرٹری محکمہ آبپاشی عبدالباسط اور متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران متعلقہ حکام نے صوبائی وزیر کو پیہور ہائی لیول کینال ایکسٹینشن پراجیکٹ پر اب تک کی پیش رفت کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ بریفنگ میں منصوبے کے مختلف مراحل، درپیش چیلنجز اور آئندہ کے لائحہ عمل پر روشنی ڈالی گئی۔ حکام نے بتایا کہ پراجیکٹ کے لاٹ ٹو (Lot-II) پر کام تیزی سے جاری ہے اور اسے 31 مئی تک مکمل کر لیا جائے گا۔ صوبائی وزیر ریاض خان نے منصوبے پر کام کی رفتار مزید تیز کرنے اور معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کرنے کی ہدایت جاری کی۔ انہوں نے کہا کہ پیہور پراجیکٹ کی بروقت تکمیل سے ضلع صوابی اور ملحقہ علاقوں میں آبپاشی کے نظام میں نمایاں بہتری آئے گی، زرعی پیداوار میں اضافہ ہوگا اور کسانوں کو درپیش دیرینہ مسائل کا خاتمہ ممکن ہو سکے گا۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کے وژن کے مطابق صوبے میں آبپاشی کے نظام کو مزید جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے تاکہ زراعت کے شعبے کو مستحکم بنیادوں پر ترقی دی جا سکے۔ وزیراعلیٰ کی خصوصی ہدایات کی روشنی میں محکمہ آبپاشی میں ضلع صوابی سمیت صوبے بھر میں جاری منصوبوں کی بروقت تکمیل کو یقینی بنا رہا ہے۔ اجلاس میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ ضلع صوابی کے کاشتکاروں کو درپیش آبپاشی مسائل کے حل کے لیے مربوط حکمت عملی اپنائی جائے اور تمام جاری منصوبوں کی مسلسل نگرانی کی جائے تاکہ عوام کو جلد از جلد ریلیف فراہم کیا جا سکے۔
محکمہ ایکسائز و ٹیکسیشن اور نارکوٹکس کنٹرول کا انسداد منشیات کے حوالے سے ایک اور اہم قدم
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل افریدی کے انسداد منشیات کے حوالے سے زیروٹالرنس پالیسی اور منشیات سے پاک خیبر پختونخوا کے عزم کے تحت محکمہ ایکسائز و ٹیکسیشن اور نارکوٹکس کنٹرول خیبرپختونخوا نے مقامی انتظامیہ اور دیگر متعلقہ اداروں کیساتھ مشترکہ گرینڈ آپریشن میں ضلع مہمند اور صوابی میں بڑے رقبے پر کاشت کی گئی غیر قانونی پوست فصل تلف کر دی۔ضلع ممند کے تحصیل امبار میں پوست کی کاشت کے خلاف مشترکہ گرینڈ آپریشن کے دوران 37 ایکڑ فصل کو موقع پر ہی تلف کر دیا گیا۔مذکورہ آپریشن ای ٹی او مہمند،ضلعی انتظامیہ،ایکسائز تھانہ پشاور ریجن اور محکمہ پولیس و ایکسائز کے دیگر افسران و اہلکاروں نے مشترکہ طور پر کیا۔بیر گلی صوابی میں بھی محکمہ ایکسائز نے انتظامیہ اور دیگر متعلقہ اداروں اور محکموں کیساتھ مشترکہ آپریشن میں بڑے رقبے پر کاشت کی گئی غیر قانونی پوست فصل کو تلف کیا۔کارروائیوں کے دوران آپریشن ٹیموں نے متعلقہ مقامات پر پہنچ کر فصل کی موجودگی کی تصدیق کی اور متعلقہ ضابطہ کار کے مطابق پوست فصل کو تلف کیا گیا تاکہ اس کی مزید پیداوار، ذخیرہ اندوزی یا ترسیل کو روکا جا سکے۔اس حوالے سے صوبائی وزیر ایکسائز و ٹیکسیشن اور نارکوٹکس کنٹرول سید فخرجہان نے واضح کیا ہے کہ حکومت منشیات کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل پیرا ہے۔انھوں نے کہا کہ ہم کہیں پر بھی منشیات نہیں چھوڑیں گے خواہ اسکے ڈیلرز ہوں یا سمگلرز، انکے خلاف ہماری کاروائی جارہی رہیں گی۔انھوں نے ہدایات جاری کی ہیں کہ منشیات کے خلاف کھیتوں میں بھی ہمارا آپریشن جاری رہے گا اور اسکی ٹرانسپورٹیشن میں بھی ملوث مافیا اور عناصر کے خلاف بے رحم کاروائیاں تسلسل کیساتھ جاری رہیں گی جبکہ غیر قانونی کاشت، پیداوار اور ترسیل میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کی جائیں گی۔مہمند آپریشن میں سجاد خان ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن آفیسر ضلع ممند، سیف اللہ آفریدی سرکل آفیسر، عماد خان ایس ایچ او تھانہ ایکسائز پشاور ریجن اور دیگر افسران و اہلکاروں اور انتظامیہ و متعلقہ اداروں کے افسران نے حصہ لیا۔اسی طرح ضلع صوابی آپریشن میں اسسٹنٹ کمشنر ٹوپی ڈاکٹر یاسمین ثنا، شکیل خان ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن آفیسر ضلع صوابی، عاکف نواز خان سرکل آفیسر، شکیل خان ایس ایچ او تھانہ ایکسائز مردان ریجن اور دیگر ایکسائز افسران و اہلکاروں،اے این ایف اور دیگر اداروں کے افسران نے حصہ لیا۔
صوبائی وزیر برائے ابتدائی و ثانوی تعلیم خیبر پختونخوا، ارشد ایوب خان نے کہا ہے کہ قوموں کی ترقی کا راز تعلیم میں مضمر ہے
صوبائی وزیر برائے ابتدائی و ثانوی تعلیم خیبر پختونخوا، ارشد ایوب خان نے کہا ہے کہ قوموں کی ترقی کا راز تعلیم میں مضمر ہے۔ دنیا تیزی سے ڈیجیٹل دور میں داخل ہو رہی ہے اور کامیاب قومیں ڈیجیٹل لٹریسی اور جدید علوم میں آگے بڑھ رہی ہیں۔ ہمیں تعلیم کے شعبے میں مزید اصلاحات اور سرمایہ کاری کی ضرورت ہے تاکہ ہمارے بچے مستقبل میں ترقی یافتہ ممالک کا مقابلہ کر سکیں۔وہ فضل حق کالج مردان میں منعقدہ 36ویں سالانہ سپورٹس ڈے اور تقریب تقسیم انعامات سے خطاب کر رہے تھے۔ تقریب نہایت پروقار، رنگا رنگ اور منظم انداز میں منعقد کی گئی جس میں سیکرٹری ابتدائی و ثاوی تعلیم محمد خالد خان، ڈپٹی کمشنر مردان واصف الرحمن، ضلعی انتظامیہ کے افسران، والدین اور طلباء و طالبات نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔تقریب کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا جبکہ کالج کی پرنسپل میڈم حفصہ اشفاق نے ادارے کی سالانہ کارکردگی پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ مہمان خصوصی نے گارڈ آف آنر کا معائنہ کیا، مارچ پاسٹ کی سلامی لی اور طلباء کی شاندار کارکردگی کو سراہا۔تقریب میں پی ٹی شو، ثقافتی رقص (ہزارہ، چترالی اور خٹک)، جمناسٹکس، فائر رنگز، ہارس رائیڈنگ، نیزہ بازی اور مارشل آرٹس کے مظاہرے پیش کیے گئے جنہیں حاضرین نے بے حد سراہا۔صوبائی وزیر نے اپنے خطاب میں کہا کہ اس نوعیت کی تقریبات سے اساتذہ اور ادارہ جاتی کارکردگی کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فضل حق کالج صوبے کا ایک ممتاز ادارہ ہے اور مرحوم فضل حق کی خدمات قابلِ تحسین ہیں۔ اب یہ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ اس ادارے کو مزید ترقی دیں۔انہوں نے بتایا کہ محکمہ تعلیم میں اس وقت تقریباً 2 لاکھ 45 ہزار اہلکار خدمات انجام دے رہے ہیں اور سیکرٹری تعلیم محمد خالد خان محکمہ کی بہتری کے لیے دن رات کوشاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ای-ٹرانسفر پالیسی کے نفاذ سے ٹرانسفر اور پوسٹنگ کا عمل مکمل طور پر شفاف اور میرٹ پر مبنی ہو چکا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ مصنوعی ذہانت (AI) کو فروغ دیا جا رہا ہے اور صوبائی کابینہ کی منظوری سے چھٹی سے بارہویں جماعت تک اے آئی کلاسز متعارف کرائی جا رہی ہیں۔ اس مقصد کے لیے مارکیٹ سے 7 ہزار اساتذہ کی بھرتی کی جا رہی ہے اور یکم مارچ 2026 سے اس پروگرام کا باضابطہ آغاز کیا جائے گا۔انہوں نے طلباء کو نصیحت کی کہ والدین اور اساتذہ کا احترام کریں، نظم و ضبط اور اخلاقیات کو اپنائیں اور عزت و وقار کے ساتھ زندگی گزارنے کا ہنر سیکھیں۔آخر میں صوبائی وزیر نے پوزیشن ہولڈرز میں انعامات تقسیم کیے جبکہ کالج انتظامیہ کی جانب سے سیکرٹری تعلیم محمد خالد خان کو شیلڈ پیش کی گئی۔ انہوں نے کالج انتظامیہ کو یقین دلایا کہ انفراسٹرکچر سے متعلق تمام مسائل حل کیے جائیں گے۔
خیبر پختونخوا کے وزیر برائے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ فضل شکور خان نے محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے ڈیجیٹائزڈ بلنگ سسٹم کا باقاعدہ افتتاح کر دیا
خیبر پختونخوا کے وزیر برائے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ فضل شکور خان نے محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے ڈیجیٹائزڈ بلنگ سسٹم کا باقاعدہ افتتاح کر دیا۔ افتتاحی تقریب میں سیکرٹری پبلک ہیلتھ انجینئرنگ مسعود یونس، ایڈیشنل سیکرٹری، چیف انجینئرز اور محکمہ کے دیگر متعلقہ افسران بھی موجود تھے۔افتتاح کے بعد تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر فضل شکور خان نے کہا کہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ کا روایتی بلنگ نظام اب جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرتے ہوئے مکمل طور پر ڈیجیٹل کیا جا رہا ہے، جس سے نہ صرف شفافیت کو فروغ ملے گا بلکہ کارکردگی میں بہتری اور ریونیو میں بھی نمایاں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام صوبائی حکومت کے وژن کے مطابق ای گورننس کے فروغ اور عوام کو جدید، سہل اور مؤثر سہولیات کی فراہمی کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔صوبائی وزیر نے بتایا کہ ڈیجیٹائزیشن کے پہلے مرحلے میں صوبے کے 23 میں سے 10 ڈویژنز کو ڈیجیٹائزڈ بلنگ سسٹم پر منتقل کیا جا رہا ہے، جبکہ دوسرے مرحلے میں باقی تمام ڈویژنز کو بھی جلد از جلد ڈیجیٹل نظام سے منسلک کر دیا جائے گاجن 10ڈویژن میں ڈیجیٹائزڈ بلنگ نظام متعارف کیاگیا ان میں پشاور ون اور ٹو، سوات ون اور ٹو، مردان، چارسدہ، صوابی ملاکنڈ، دیر لوئر اور ہری پور شامل ہے انہوں نے کہا کہ اس نئے نظام کے تحت واٹر سپلائی صارفین کو بروقت، درست اور شفاف بلوں کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی، جس سے شکایات میں کمی اور اعتماد میں اضافہ ہوگا۔فضل شکور خان نے کہا کہ صارفین کو بلوں کی ادائیگی کے لیے جدید اور آسان ذرائع فراہم کیے جا رہے ہیں۔ اب صارفین اپنے بل جاز کیش، ایزی پیسہ اور ون لنک کے ذریعے آن لائن جمع کرا سکیں گے، جس سے وقت اور وسائل کی بچت ہوگی اور ادائیگی کا عمل مزید سہل ہو جائے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ محکمہ آئندہ ماہ مارچ سے اپنا باقاعدہ موبائل ایپ بھی متعارف کروا رہا ہے۔ اس ایپ کے ذریعے صارفین اپنے بل آن لائن دیکھ سکیں گے، ادائیگی کی تفصیلات حاصل کر سکیں گے اور اپنی شکایات بھی درج کرا سکیں گے۔ صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ موبائل ایپ کے اجرا سے صارفین کو دفاتر کے چکر لگانے کی ضرورت نہیں رہے گی اور شکایات کے ازالے کا عمل مزید تیز، شفاف اور مؤثر ہوگا۔صوبائی وزیر نے کہا کہ آن لائن مانیٹرنگ سسٹم کے نفاذ سے مالی امور میں احتساب کا نظام مزید مضبوط ہوگا اور بلنگ کے عمل میں انسانی مداخلت کم ہونے سے غلطیوں، بے ضابطگیوں اور بدعنوانی کے امکانات کا خاتمہ ممکن ہو سکے گا۔ انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل بلنگ سسٹم سے نہ صرف محکمہ کی آمدن میں اضافہ ہوگا بلکہ وسائل کے بہتر استعمال کو بھی یقینی بنایا جا سکے گا۔انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کو مزید فروغ دیا جائے گا تاکہ عوام کو معیاری، بروقت اور شفاف خدمات فراہم کی جا سکیں۔ صوبائی وزیر نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ ڈیجیٹل نظام کے نفاذ کے دوران صارفین کی مکمل رہنمائی، آگاہی مہم اور عملے کی تربیت کو یقینی بنایا جائے تاکہ نظام کی کامیابی اور مؤثر عملدرآمد ممکن بنایا جا سکے۔ڈیجیٹائزڈ بلنگ سسٹم کے افتتاح سے قبل صوبائی وزیر کو نظام کی خصوصیات، ڈیٹا مینجمنٹ، آن لائن مانیٹرنگ اور ادائیگی کے طریقہ کار سے متعلق تفصیلی بریفنگ بھی دی گئی۔ انہیں بتایا گیا کہ نئے نظام کے ذریعے بلنگ ریکارڈ محفوظ، منظم اور با آسانی قابلِ رسائی ہوگا۔صوبائی وزیر فضل شکور خان نے اس اقدام کو محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ میں ای گورننس کے فروغ اور شفاف طرزِ حکمرانی کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت عوام کو سہولیات کی فراہمی کے لیے جدید اصلاحات کا عمل جاری رکھے گی انہوں نے نئے بلنگ نظام کی کامیابی میں عوام سے بھی درخواست کی کہ وہ محکمہ کے اس اچھے اقدام میں حکومت کے ساتھ مکمل تعاون کریں۔
معاون خصوصی شفیع جان کی ڈیرہ اسماعیل خان میں پولیس اہلکاروں پر فائرنگ کی مذمت
وزیراعلی خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و تعلقات عامہ شفیع جان نے ڈیرہ اسماعیل خان میں پولیس کانوائے پر دہشتگردوں کی فائرنگ کے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے ایس ایچ او سمیت چار پولیس اہلکاروں کی شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے،یہاں سے جاری مذمتی بیان میں انہوں نے کہا کہ یہ واقعہ نہایت افسوسناک ہے،شہید ہونے والے پولیس افسران اور اہلکاروں نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر فرض شناسی اور بہادری کی عظیم مثال قائم کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہداء کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی،شفیع جان نے کہا کہ خیبرپختونخوا پولیس دہشتگردی کے خلاف فرنٹ لائن پر سیسہ پلائی دیوار بنی ہوئی ہے اور صوبے میں قیام امن کے لیے بے مثال قربانیاں دے رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس قسم کی بزدلانہ کارروائیاں حکومت اور پولیس کے عزم کو متزلزل نہیں کر سکتیں،دہشتگردی کا مکمل قلع قمع کیا جائے گا،معاون خصوصی نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پوری قوم اور پولیس کے حوصلے بلند ہیں اور شہداء قوم کا فخر ہیں۔ صوبائی حکومت پولیس کو جدید اسلحہ، آلات اور وسائل فراہم کرنے سمیت ان کی استعداد کار میں اضافے کے لیے مؤثر اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے،انہوں نے شہداء کے درجات کی بلندی اور زخمی پولیس آفیسر اور ڈرائیور کی جلد صحتیابی کے لیے دعا کی اور کہا کہ صوبائی حکومت اس مشکل گھڑی میں شہداء کے لواحقین کے غم میں برابر کی شریک ہے اور انہیں تنہا نہیں چھوڑا جائے گا۔
معاون خصوصی برائے اطلاعات و تعلقات عامہ شفیع جان نے باچا خان یونیورسٹی چارسدہ میں یوتھ فیسٹیول کا افتتاح کیا
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و تعلقات عامہ شفیع جان نے باچا خان یونیورسٹی چارسدہ میں یوتھ فیسٹیول کے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ نوجوان ملک کا اثاثہ ہیں اور انہوں نے ملک کو آگے لے جانا ہے۔ ترقی یافتہ ممالک نے نوجوانوں پر سرمایہ لگایا جس سے انہوں نے ترقی کی۔ ملک کی ترقی کے لئے بھاگ دوڑ نوجوانوں کو سپرد کرنا ہوگی۔بانی چیئرمین عمران خان نے صوبے کی بھاگ دوڑ نوجوانوں وزیراعلیٰ کو سونپ دی ہے۔ نوجوان وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی ملکی سطح پر ابھر رہے ہیں۔شفیع جان نے نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جو خواب آپ دیکھے ہیں وہی آپ حاصل کرسکتے ہیں۔آپ کو ثابت قدم رہنا ہے مشکلات کا مقابلہ کرنا ہے۔ بانی چیئرمین عمران خان نوجوانوں کو آگے لائے۔ عام انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف کو ہرانے کی کوششوں کو نوجوانوں نے ناکام بنایا۔ 8 فروری کو نوجوانوں نے اپنے مینڈیٹ کو چوری ہونے سے بچایا۔ انہوں نے مزید کہا کہ نوجوان سوشل میڈیا کے مثبت استعمال سے معاشرے میں تبدیلی لا سکتے ہیں۔معاون خصوصی شفیع جان نے باچا خان یونیورسٹی چارسدہ میں دو روزہ یوتھ فیسٹیول کا باقاعدہ افتتاح بھی کیا۔ یوتھ فیسٹیول کا انعقاد باچا خان یونیورسٹی چارسدہ ا و رمحکمہ امور نوجوانان ضلع چارسدہ نے کیا تھا۔اس موقع پریوتھ فیسٹیول میں طلباء و طالبات کے لگائے گئے سٹالز کا معائنہ بھی کیا او ر ان میں گہری دلچسپی لی۔بعد ازاں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و تعلقات عامہ شفیع جان نے چارسدہ پریس کلب کا دورہ بھی کیا جہاں پر انہوں نے چارسدہ پریس کلب کی نومنتخب کابینہ و گورننگ باڈی کے ممبران سے حلف لیا۔ معاون خصوصی شفیع جان نے چارسدہ پریس کلب کی نئی کابینہ و گورننگ باڈی کو مبارکباد دی۔ معاون خصوصی شفیع جان نے حلف برداری کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صحافت ریاست کا چوتھا ستون ہے۔ صحافتی برداری ذمہ داری کے ساتھ سچائی عوام کے سامنے لائے جبکہ جانبداری سے پرہیز کرے۔ صوبائی حکومت پریس کلبز کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں حکومت عام لوگوں کی ہے جو عوام کی جیت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پیکا کے کالا قانون کے ذریعے صحافتی برادری کو نشانہ بنایا جارہا ہے اور نامور صحافیوں کو بے جا تنگ کیا گیا ہے اب میڈیا بدترین سنسرشپ کا شکار ہے اور سخت صحافتی پابندی عائد ہے۔ شفیع جان نے صحافتی برادری سے کہا کہ وہ مصدقہ خبروں آگے بھیجے اور زرد صحافت کا سدباب کریں۔شفیع جان نے وزیراعظم پاکستان اوروزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے درمیان ملاقات کے حوالے سے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم سے ملاقات انکی خواہش پر ہوئی جس میں بقایاجات ا ور دہشتگردی پر بات ہوئی جبکہ گزشتہ روز منعقدہ اجلاس میں بھی دہشتگردی و امن و امان پر بات چیت کی گئی۔انہوں نے مزید کہا پاکستان تحریک انصاف مسلسل تیسری بار صوبے میں برسر اقتدار ہے جو اس پر عوامی اعتماد کا اظہار ہے۔ عمران خان کے حوف سے انکے ساتھ ملاقاتیں بند کی گئی ہیں اورتصویر کو سنسر کیا جارہا ہے۔منگل و جمعرات کے دن دنیا کی نظر اڈیالہ جیل پر ہوتی ہے۔ حلف برداری کی تقریب کے موقع پر رکن صوبائی اسمبلی افتخار اللہ جان نے اظہار خیال کرتے ہوئے چارسدہ پریس کلب کی سولرائزیشن کا اعلان بھی کیا۔
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے کھیل و امور نوجوانان تاج محمد خان ترند نے کہا ہے کہ ضم اضلاع میں کھیلوں کی سرگرمیوں کی بحالی خوش آئند اقدام ہے
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے کھیل و امور نوجوانان تاج محمد خان ترند نے کہا ہے کہ ضم اضلاع میں کھیلوں کی سرگرمیوں کی بحالی خوش آئند اقدام ہے۔ ایسے ایونٹس کے انعقاد سے نوجوانوں کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے اور ان کا ٹیلنٹ نکھر کر سامنے آتا ہے۔انہوں نے کہا کہ بانی چیئرمین عمران خان کے وژن اور وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل خان آفریدی کی قیادت میں صوبائی حکومت کھیلوں کے فروغ اور نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں کی جانب راغب کرنے کیلئے عملی اقدامات کر رہی ہے۔ ضم اضلاع اور خیبر پختونخوا میں ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں، ضرورت صرف مواقع اور سہولیات کی فراہمی کی ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کے روز جمرود سپورٹس کمپلیکس میں منعقدہ انڈر 16 گیمز کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مشیر کھیل نے مزید کہا کہ ضم اضلاع اور صوبے کے دور دراز علاقوں میں کھیلوں کی جدید سہولیات فراہم کی جائیں گی تاکہ نوجوانوں کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے یکساں مواقع میسر آ سکیں۔انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ رواں سال خیبر پختونخوا کے عوام کیلئے خوشخبری ہے کہ پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے میچز پشاور میں منعقد ہوں گے، جس سے نہ صرف کھیلوں کو فروغ ملے گا بلکہ صوبے کا مثبت تشخص بھی اجاگر ہوگا۔
دیامر بھاشا ڈیم،ہربن بھاشا کے متاثرین میں 2 ارب 46 کروڑ روپے کے معاوضہ چیکس تقسیم
واپڈا کے زیرِ انتظام دیامر بھاشا ڈیم پراجیکٹ کے تحت ضلع اپر کوہستان کی تحصیل ہربن بھاشا میں ایکوائر کی گئی اراضی کے معاوضوں کی ادائیگی کے سلسلے میں کمشنر ہاؤس ایبٹ آباد میں ایک تقریب منعقد ہوئی۔تقریب کے دوران دیامر بھاشا ڈیم پراجیکٹ کے لیے درکار زمینوں کے معاوضے کی مد میں 2 ارب 46 کروڑ روپے سے زائد مالیت کے چیک واؤچرز کمشنر ہزارہ، واپڈا اور ضلعی انتظامیہ اپر کوہستان کی موجودگی میں مقامی عمائدین کے حوالے کیے گئے۔تقریب میں کمشنر ہزارہ ڈویژن فیاض علی شاہ، آر پی او ہزارہ ناصر محمود ستی، چیف انجینئر (ڈائی ورژن ورکس) دیامر بھاشا ڈیم انجینئر ممتاز قاضی، ڈی جی سوشل سیف گارڈ میجر (ر) طارق محمود، ڈپٹی کمشنر اپر کوہستان طارق علی خان، واپڈا اور ضلعی انتظامیہ کے افسران سمیت تحصیل ہربن بھاشا کے مقامی عمائدین نے شرکت کی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کمشنر ہزارہ ڈویژن فیاض علی شاہ نے میگا منصوبے کی بروقت تکمیل کے لیے انتظامیہ اور مقامی عمائدین کے باہمی تعاون کو سراہا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ عمائدین آئندہ بھی مسائل کے حل کے لیے مذاکرات اور مربوط باہمی تعاون کو فروغ دیں گے۔کمشنر ہزارہ نے مزید کہا کہ اراضی کے حصول کا عمل حکومت کے بنائے گئے قوانین کے مطابق مکمل کیا جاتا ہے، جس میں قانونی تقاضوں کے باعث وقت درکار ہوتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ آئندہ بھی اگر کوئی مسائل درپیش ہوں تو انہیں قانون کے مطابق اور مقررہ وقت کے اندر حل کیا جائے گا اور اس سلسلے میں بلاجواز تاخیر نہیں ہونے دی جائے گی۔ انہوں نے مقامی عمائدین پر زور دیا کہ وہ مستقبل میں بھی انتظامیہ کے ساتھ تعاون جاری رکھیں تاکہ تمام امور خوش اسلوبی اور باہمی مشاورت سے پایہ تکمیل تک پہنچ سکیں۔آر پی او ہزارہ ناصر محمود ستی نے عمائدین پر زور دیا کہ وہ مسائل کے حل کے لیے واپڈا اور ضلعی انتظامیہ کے ساتھ تعاون جاری رکھیں تاکہ درپیش امور کو بروقت متعلقہ فورمز پر حل کیا جا سکے۔چیف انجینئر (ڈائی ورژن ورکس) انجینئر ممتاز قاضی نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ واپڈا نے ہمیشہ مقامی آبادی کے جائز مطالبات کو ترجیح دی ہے اور معاوضوں کی بروقت ادائیگی کو یقینی بنایا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ علاقائی، معاشی اور سماجی ترقی کے لیے ایک جامع پروگرام کے تحت مختلف فلاحی اور ترقیاتی منصوبوں پر خطیر فنڈز خرچ کیے جا رہے ہیں۔ڈپٹی کمشنر اپر کوہستان طارق علی خان نے لینڈ ایکوزیشن کے عمل اور اس ضمن میں اٹھائے گئے اقدامات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ پراجیکٹ سے متعلق مسائل کو مقامی عمائدین کی مشاورت سے حل کیا جائے گا۔سابق چیئرمین تحصیل ہربن بھاشا عبدالعزیز نے مقامی عمائدین کی نمائندگی کرتے ہوئے معاوضوں کی ادائیگی پر کمشنر ہزارہ، واپڈا اور ضلعی انتظامیہ اپر کوہستان کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ پراجیکٹ ایریا میں درپیش مسائل کے حل اور سماجی و اقتصادی ترقی کے اقدامات کے لیے مقامی عمائدین اپنا مثبت تعاون جاری رکھیں گے۔تقریب کے اختتام پر لینڈ ایکوزیشن اور دیگر مسائل کے حل میں مثبت کردار ادا کرنے پر کمشنر ہزارہ ڈویژن کی جانب سے ہربن بھاشا کے عمائدین میں اعزازی شیلڈز تقسیم کی گئیں۔
خیبر پختونخوا اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انتظامیہ کا اجلاس بدھ کے روز صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ میں منعقد ہوا، جس کی صدارت چیئرمین قائمہ کمیٹی و رکن صوبائی اسمبلی عبدالمنعم نے کی
خیبر پختونخوا اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انتظامیہ کا اجلاس بدھ کے روز صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ میں منعقد ہوا، جس کی صدارت چیئرمین قائمہ کمیٹی و رکن صوبائی اسمبلی عبدالمنعم نے کی۔ اجلاس میں اراکین قائمہ کمیٹی و ممبران صوبائی اسمبلی محمد عارف، شرافت علی، عبدالسلام آفریدی، اکرام غازی، محترمہ افشاں حسین، محترمہ ایمن جلیل جان اور محترمہ عارفہ بی بی نے شرکت کی۔ اس کے علاوہ سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ، محکمہ قانون، محکمہ اینٹی کرپشن، پبلک سروس کمیشن اور صوبائی اسمبلی کے متعلقہ افسران بھی موجود تھے۔اجلاس میں ممبر قائمہ کمیٹی ورکن صوبائی اسمبلی عبدالسلام آفریدی کی جانب سے پیش کردہ توجہ دلاؤ نوٹس پر تفصیلی غور کیا گیا، جس میں سیکرٹریٹ ملازمین کے لیے پی ایم ایس میں مختص 10 فیصد کوٹے کا معاملہ زیر بحث آیا۔ اراکین نے اپنی آراء دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ چونکہ پی ایم ایس ایک مسابقتی امتحان ہے، اس لیے اس میں ملحقہ محکموں کے اہلکاروں کو بھی یکساں موقع فراہم کیا جانا چاہیے۔ سیکرٹری انتظامیہ نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ 2007 کے رولز کے تحت ملحقہ محکموں کے اہلکار اس کوٹے میں شامل ہوتے رہے، تاہم بعد ازاں قواعد میں ترمیم کے بعد یہ کوٹہ صرف سیکرٹریٹ ملازمین تک محدود کر دیا گیا۔ کمیٹی نے محکمہ انتظامیہ کو ہدایت کی کہ آئندہ اجلاس میں اس حوالے سے جامع تجاویز پیش کی جائیں۔اجلاس میں 31 دسمبر2024 کے اجلاس میں دی گئی ہدایات پر پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی اراکین نے متفقہ طور پر تجویز دی کہ ڈیپوٹیشن کی مدت تین سال سے کم کر کے دو سال مقرر کی جائے اور اس میں مزید توسیع نہ دی جائے۔ اس ضمن میں محکمہ انتظامیہ کو اگلے اجلاس میں سفارشات پیش کرنے کی ہدایت کی گئی۔قائمہ کمیٹی نے پبلک سروس کمیشن کے حکام کو ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ کمیشن اپنی تمام خالی اسامیوں کو پر کرے۔ اسی طرح انٹی کرپشن کے محکمہ کو بھی ہدایت کی کہ محکمے میں مستقل بنیادوں پر بندے بھرتی کرے اور ڈیپوٹیشن کہا سہارا نہ لیا جائے
خیبرپختونخوا کے صوبائی وزیر آبپاشی ریاض خان کی زیر صدارت محکمہ آبپاشی کے کمیٹی روم پشاور میں اہم اجلاس منعقد ہوا
خیبرپختونخوا کے صوبائی وزیر آبپاشی ریاض خان کی زیر صدارت محکمہ آبپاشی کے کمیٹی روم پشاور میں اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ممبر صوبائی اسمبلی ارباب جہانداد خان، ممبر صوبائی اسمبلی خالد خان، سیکرٹری محکمہ آبپاشی عبدالباسط اور متعلقہ افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں نہروں کی صفائی، پانی کی منصفانہ تقسیم، حفاظتی پشتوں کی تعمیر اور جاری ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر ممبر صوبائی اسمبلی ارباب جہانداد خان نے پشاور کے علاقے جوئی زرداد کینال، میاں گجر کینال اور اسلام آباد کورونہ میں آبپاشی سے متعلق مسائل سے صوبائی وزیر کو آگاہ کیا۔ انہوں نے ممکنہ سیلابی صورتحال کے پیش نظر اسلام آباد کورونہ کے تحفظ، حفاظتی پشتوں کی تعمیر اور نہری نظام کی بہتری کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ صوبائی وزیر آبپاشی ریاض خان نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ شاہ عالم، اسلام آباد کورونہ اور دیگر حساس علاقوں میں نہری نظام کی صفائی اور حفاظتی پشتوں پر کام کا فوری آغاز کیا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ عوام کی جان و مال کا تحفظ صوبائی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ ریاض خان نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کی قیادت میں صوبائی حکومت آبپاشی نظام کی بہتری، نہری ڈھانچے کی مضبوطی اور کسانوں کو بروقت پانی کی فراہمی کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ متاثرہ علاقوں میں جاری کاموں کو مؤثر، شفاف اور بروقت مکمل کیا جائے تاکہ کاشتکاروں کو کسی قسم کی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت زرعی شعبے کی ترقی اور آبپاشی نظام کی مضبوطی کے لیے سنجیدہ اور نتیجہ خیز اقدامات اٹھا رہی ہے اور اس سلسلے میں کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ محکمہ آبپاشی صوبے بھر میں نہری نظام کی بہتری اور کسانوں کو ریلیف کی فراہمی کے لیے اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے انجام دیتا رہے گا۔
