خیبر پختونخوا کے وزیر قانون آفتاب عالم آفریدی نے کہا ہے کہ بشمول ضلع کوہاٹ تمام اضلاع میں بنیادی تعلیم کی فراہمی کی راہ میں حائل روکاوٹیں دور کرنا صوبائی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ کوہاٹ میں بچوں اور بچیوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے کے لئے وہ محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم خیبر پختونخوا سے مسلسل رابطے میں ہیں اور بہت جلد ان کی کاوشیں رنگ لائیں گی۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے سول سیکرٹریٹ پشاور میں منگل کے روز محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم کے اعلیٰ حکام کے ساتھ ضلع کوہاٹ میں ابتدائی و ثانوی تعلیم کے سالانہ ترقیاتی پروگرام کے تحت جاری منصوبوں کے جائزہ اجلاس کے دوران کیا۔اجلاس میں ڈائریکٹر ابتدائی و ثانوی تعلیم ثمینہ الطاف سمیت متعلقہ اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم کے حکام نے اجلاس کو ضلع کوہاٹ میں تعلیمی شماریات سمیت سالانہ تریاقی پروگرام2024-25 کے تحت جاری منصوبوں کے حوالے سے بریفننگ دی۔وزیر قانون نے تعلیمی میدان میں محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم کے کردار کو سراہا تاہم ان کا کہنا تھا کہ تعلیم کے فروغ کے سلسلے میں اٹھائے گئے اقدامات میں کوہاٹ سمیت تمام اضلاع کے ساتھ منصفانہ اور متوازن پالیسی اپنانا ناگزیر ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ محکمہ تعلیم ضلع کوہاٹ کے سکولوں میں ضلع کے افراد کی ہی تعیناتی یقینی بنائے جو کہ پالیسی کے تحت مقامی افراد کا حق بنتا ہے۔ آفتاب عالم آفریدی نے کہا کہ محکمہ تعلیم کوہاٹ میں بچیوں کو تعلیم کی زیور سے آراستہ کرنے کے لئے منصوبہ بندی وضع کرے تاکہ وہ صنفی امتیاز کے بغیر ملک و قوم کی تعمیر و ترقی میں اپنا کردار ادا کرسکیں۔ انہوں نے محکمہ تعلیم ضلع کوہاٹ کے حکام کو ہدایات دیں کہ علاقے کے تعلیمی منصوبوں کی شفافیت اور بروقت تکمیل کو یقینی بنایا جائے۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیر سیاحت، ثقافت، آثارقدیمہ و عجائب گھر خیبرپختونخوا زاہد چن زیب کی ہدایات پر وادی
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیر سیاحت، ثقافت، آثارقدیمہ و عجائب گھر خیبرپختونخوا زاہد چن زیب کی ہدایات پر وادی اپرچترال میں ہرچین کے مقام پر شندور ونٹر سپورٹس مقابلوں کا آغاز ہوگیا۔ مقابلوں میں پہلے مرحلے میں چترال لوئر اور چترال اپر سے 100 سے زائد لڑکے اور لڑکیاں شریک ہیں جن میں مابین پہلے روزمختلف تربیتی سیشنز کا انعقاد کیا گیا۔ شندور ونٹر سپورٹس چیلنج مقابلے خیبرپختونخوا کلچراینڈٹورازم اتھارٹی، ونٹر سپورٹس فیڈریشن، چترال سکاؤٹس اور ضلعی انتظامیہ اپرچترال کے باہمی اشتراک سے منعقد کئے جارہے ہیں۔ مشیر سیاحت و ثقافت زاہد چن زیب کا اس موقع پر کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا میں سیاحت کے فروغ کیلئے ونٹر سپورٹس مقابلوں کا آغاز کیا گیا ہے۔ شندور گراؤنڈ موسم گرما میں صرف شندور پولو فیسٹیول کیلئے بین الاقوامی سطح پر جانا جاتا ہے تاہم صوبے کی تاریخ میں پہلی مرتبہ موسم سرما میں شندور کی منجمد جھیل پر آئس ہاکی، کرلنگ اور سپیڈ سکیٹنگ کے مقابلوں کا انعقاد کررہے ہیں تاکہ شندور گراؤنڈ پورا سیزن سیاحت کے فروغ کیلئے جانا جائے۔ شندور آئس سپورٹس مقابلوں میں 45 سے زائد خواتین کھلاڑی بھی شریک ہیں جبکہ پہلی بارچترال کی مختلف وادیوں گبورگرم چشمہ، کیلاش، مداقلشت،بونی،پرواک، یارخونلشٹ، ہرچین اور دیگر علاقوں سے 100 سے زائد کھلاڑی شریک ہیں۔ پہلے مرحلے میں ان کھلاڑیوں کیلئے ہرچین میں تربیتی سیشنز رکھے گئے ہیں جس کے بعد ان کے مابین آئس ہاکی، کرلنگ اور سپیڈ سکیٹنگ کے میچز منعقد کئے جائینگے جن سے فائنل ٹیم کا انتخاب کیا جائے گاجس کے دوسرے مرحلے میں شندور ٹاپ پر 28 دسمبر کو فائنل میچز میں یہ کھلاڑی ایکشن میں نظر آئینگے۔ خیبرپختونخوا کلچراینڈٹورازم اتھارٹی ونٹر سپورٹس فیڈریشن کے ساتھ گزشتہ تین سالوں سے نہ صرف انہیں ونٹر سپورٹس سامان فراہم کررہا ہے بلکہ ان کھلاڑیوں کیلئے تربیتی سیشنز اور گیمز کا بھی باقاعدگی سے انعقاد کرتا رہا ہے۔
خیبر پختونخوا کے صوبائی وزیر برائے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ پختون یار خان نے بنوں پریس کلب کے نومنتخب صدر پیر نیاز علی شاہ
خیبر پختونخوا کے صوبائی وزیر برائے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ پختون یار خان نے بنوں پریس کلب کے نومنتخب صدر پیر نیاز علی شاہ کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ بنوں پریس کلب کے نومنتخب صدر کی حیثیت سے انتخاب صحافی برادری کا ان پر بھرپور اعتماد کا اظہار ہے صوبائی وزیر نے اظہارِ رائے کی آزادی کیلئے صحافی برادری کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ اظہارِ رائے کی آزادی ہر شہری کا بنیادی حق ہے اور صحافی برادری نے اس ضمن میں بے شمار قُربانیاں دی ہیں انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ بنوں پریس کلب کے نو منتخب صدر اپنی تمام ترصلاحیتوں کو صحافی برادری کو درپیش مسائل کو حل کرنے،ملک میں اظہارِ رائے کی آزادی کیلئے صرف کریں گے اور صحافی برادری کی امیدوں پر پورا اتریں گے انہوں نے کہا کہ موجودہ پارلیمان آزادی اظہار رائے پر یقین رکھتا ہے اور صحافی برادری کو درپیش مسائل سے بخوبی آگاہ ہے انہوں نے بنوں پریس کلب کے نو منتخب صدر کی کامیابی کیلئے اپنی نیک خواہشات کا اظہار بھی کیا۔
خیبرپختونخوا حکومت صوبے کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے کوشاں ہے، معاون خصوصی برائے جنگلات و جنگلی حیات پیر مصور خان
خیبرپختونخوا حکومت صوبے کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے عملی اقدامات اٹھائے جارہے ہیں،صوبے میں اربوں روپے کے ترقیاتی منصوبے شروع کیے گئے ہیں جن کی تکمیل سے لوگوں کی زندگیوں میں مثبت تبدیلی آئے گی،ان خیالات کا اظہار وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے جنگلات، جنگلی حیات، ماحولیات و موسمیاتی تبدیلی پیر مصور خان نے گزشتہ روز اپنے دفتر سول سیکرٹریٹ پشاور میں پاکستان تحریک انصاف کے رکن صوبائی اسمبلی میاں عمر کاکاخیل سے بات چیت کے دوران کیا، اس موقع پر رکن صوبائی اسمبلی میاں عمر کاکاخیل نے معاون خصوصی کے ساتھ اپنے حلقے کے مسائل سمیت دیگر امور کے حوالے سے تفصیلی گفتگو کی،معاون خصوصی پیر مصور خان کا اس موقع پر کہنا تھا کہ صوبائی حکومت بانی چیئرمین عمران خان کے ویژن کے مطابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی قیادت میں فلاحی حکومت کے قیام کے لیے بھرپور طریقے سے پرعزم ہے، صوبے کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے بلا تفریق کام کیا جارہا ہے، میرے دفتر کے دروازے ہر خاص و عام کے لیے ہر وقت کھلے ہوتے ہیں، صوبے کے عوام کی خدمت اولین ترجیح ہے، معاون خصوصی برائے جنگلات نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی حکومت میں ہر ضلع میں ترقیاتی منصوبوں پر کام جاری ہے، اجتماعی نوعیت کے ان منصوبوں کی تکمیل سے لوگوں کی زندگیوں میں مثبت تبدیلی آئے گی، پیر مصور خان کا مزید کہنا تھا کہ عوام کو بہتر خدمات کی فراہمی کی غرض سے محکمہ جنگلات سمیت دیگر محکموں میں اصلاحات کا سلسلہ شروع دن سے جاری ہے جس کے دوررس نتائج مرتب ہونگے، آخر میں رکن صوبائی اسمبلی میاں عمر کاکاخیل نے عوام کی فلاح و بہبود اور ترقی کے لیے صوبائی حکومت کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات کو سراہا
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے اطلاعات و تعلقات عامہ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا ہے کہ صوبائی کابینہ نے پیر کے
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے اطلاعات و تعلقات عامہ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا ہے کہ صوبائی کابینہ نے پیر کے روز اپنے اجلاس میں ضلع کرم میں بعد از واقعہ ریلیف ایمرجنسی کی باقاعدہ منظوری دے دی ہے۔بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے ضلع کرم میں ایمرجنسی کے بارے میں تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ کابینہ اجلاس میں کرم میں ہنگامی بنیادوں پر ہونے والی امدادی سرگرمیوں کو قانونی توثیق دی گئی ہے،انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ صوبائی حکومت نے متعلقہ حکام کو امدادی کاروائیاں تیز کرنے کے لئے بھی ہدایات جاری کی ہیں جبکہ ریلیف ایمرجنسی میں ادویات اور اشیاء خوردونوش کی فراہمی کو یقینی بنایا جا رہا ہے، لیکن چند نجی میڈیا چینلز خبر کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کر رہے ہیں،انہوں نے مزید بتایا کہ ریلیف ایمرجنسی میں ادویات اور خوراک کی فراہمی اور ائیر سروس کے ذریعے آمدورفت بھی شامل ہے، کُرم میں صورتحال پُرامن ہونے تک ریلیف سرگرمیاں جاری رہینگی جبکہ کُرم کشیدگی کے باعث متاثر ہونے والے افراد سے مالی تعاون بھی جاری رہے گا۔
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے اطلاعات و تعلقات عامہ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا ہے
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے اطلاعات و تعلقات عامہ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا ہے کہ کرم کے معاملے پر رواں ہفتے اہم پیشرفت متوقع ہے، دو دن کے وقفے کے بعد جرگہ دوبارہ شروع ہوگا اور تنازعہ کے پائیدار امن کے لئے معاہدہ کرے گا، انہوں نے کہا کہ دونوں فریقین اور کرم کے عوام امن دشمن عناصر کی سازشوں سے خبردار رہیں،انہوں نے عوام سے اپیل کہ ہے کہ سوشل میڈیا پر امن دشمن عناصر کے پروپیگنڈے پر کان نہ دھریں جبکہ راستے کھولنے کے حوالے سے بھی جلد خوشخبری ملے گی،انہوں نے مزید کہا کہ علاقے میں ادویات پہنچانے اور وہاں سے مریضوں کو نکالنے کے لیے وزیراعلیٰ کا ہیلی کاپٹر وقف ہے، ہیلی کاپٹر کے ذریعے 180 سے زائد افراد پہنچائے گئے ہیں،اس سلسلے میں خواتین، بچوں، مریضوں اور بیرون ملک سفر کرنے والوں کو ترجیحی بنیادوں پر سہولت دی جا رہی ہے، انہوں نے کہا کہ مزید پروازوں کا سلسلہ بھی جاری رہے گا، جبکہ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی ہیلپ لائن 1700 مکمل طور پر فعال ہے،
وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کی ہدایت پر ایمرجنسی ادویات کی وافر مقدار کرم پہنچائی گئی ہیں: مشیر صحت احتشام علی
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر صحت احتشام علی نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کی ہدایت پر ایمرجنسی ادویات کی وافر مقدار کرم پہنچائی گئی ہیں۔ 4 دسمبر سے لیکر اب تک پاڑہ چنار میں کروڑوں مالیت کی 11710 کلوگرام ادویات فراہم کی جاچکی ہیں انہوں نے کہا کہ اب تک 4500 کلوگرام وزنی ادویات صدہ پہنچائی گئی ہیں۔ ٹل اور صدہ تک ادویات کی رسد ممکن بنانے کیلئے ڈی ایچ او ہنگو کو بھی ایمرجنسی ادویات سپلائی کی گئی ہیں اور اب تک درجنوں مریضوں کو علاج کی غرض سے کرم سے پشاور پہنچایا گیا ہے۔
خیبر پختونخوا کے وزیر کھیل اور امور نوجوانان سید فخر جہان نے پیر کے روز
خیبر پختونخوا کے وزیر کھیل اور امور نوجوانان سید فخر جہان نے پیر کے روز ضلع بونیر کے مرکزی تجارتی مرکز سواڑی میں واقع گورنمنٹ ڈگری کالج ڈگر میں نئے تیار کیے گئے ہاکی اسٹرو ٹرف کا افتتاح کیا۔یہ ترقیاتی منصوبہ ہاکی گراؤنڈ کے جامع ترقیاتی منصوبے کا حصہ ہے جس کا مجموعی تخمینہ 120.8ملین روپے ہے۔صوبائی وزیر نے اس موقع پر پشاور زلمی کے تعاون سے مذکورہ مقام پر زلمی فاؤنڈیشن کرکٹ اکیڈمی کے قیام کا بھی اعلان کیا جس پر اگلے ہفتے سے کام بھی شروع کیا جائے گا۔اس طرح اس مقام پر جوان مرکز کا قیام بھی عمل میں لایا جارہا ہے،یہاں پرانڈورجمنازیم ہونے کیساتھ ساتھ سوئمنگ پول کے قیام کیلئے بھی پی سی ون جمع کیا گیا ہے۔سپورٹس کی اجتماعی سہولیات کی دستیابی سے یہ ضلع بونیر کیلئے ایک سپورٹس کمپلیکس ہوگا جو ڈگر کالج اور یونیورسٹی آف بونیر کے سنگھم پر واقع ہے۔ دوران افتتاح ڈائریکٹر جنرل سپورٹس خیبر پختونخوا عبدالناصر خان،ڈپٹی کمشنر بونیر کاشف قیوم خان،ڈائریکٹر ورکس سپورٹس احمد زیب افریدی،ہیڈ آف مارکیٹنگ پشاور زلمی احد خان،تحصیل گاگرہ کے اسسٹنٹ کمشنر نور نواز خان ناظمین،علاقہ عمائدین اور پارٹی ورکرز نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔اس موقع پر افتتاحی تقریب سے بطور مہمان خصوصی اپنے خطاب میں صوبائی وزیر سید فخر جہان نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کا یہ وژن ہے کہ وہ اپنے عوام کو ضروری سہولیات کی فراہمی میں اپنی ذمہ داریاں پوری کرے۔انھوں نے کہا کہ صوبہ بھر میں سپورٹس کی سہولیات بہم پہنچانا ہمارے اس وژن کا اہم حصہ ہے اور ہم اس کو عملی طور پر ثابت کر کے دکھارہے ہیں۔انھوں نے کہا کہ سپورٹس کو اہمیت دینا کسی بھی معاشرے کی صحت مندی کا مظہر ہوتا ہے کیونکہ جن قوموں کے سپورٹس کے میدان آباد ہوتے ہیں تو وہاں کے ہسپتال ویران ہوتے ہیں۔صوبائی وزیر کا مزید کہنا تھا کہ بونیر میں ترقیاتی کاموں کے سلسلے میں مزید بھی منصوبے لائیں گے اور جاری منصوبوں کو مکمل کیا جائے گا۔انھوں نے کہا کہ بونیر کے عوام کی خدمت ان کا فریضہ ہے کیونکہ یہاں کے عوام نے پاکستان تحریک انصاف کو بھاری مینڈیٹ دیا ہے اور ہم انہیں مایوس نہیں کریں گے۔انھوں نے کہا کہ یہاں پر کھیلوں کے حوالے سے بھی مزید کام کیا جائے گا تاکہ علاقے میں نوجوانوں کو ہر طرح کے سہولیات میسر ہوں۔صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ پشاور زلمی کے تعاون سے نئی کرکٹ اکیڈمی میں ہر طرح کے سہولیات میسر ہوں گے اور اس سے ضلع کی قدرتی ٹیلنٹ کو نکھارنے میں مدد ملے گی۔دریں اثنا صوبائی وزیر نے محکمہ سپورٹس کے حکام کے ہمراہ سپورٹس کمپلیکس کا تفصیلی معائینہ کیا اور وہاں پر جاری ترقیاتی کاموں کو جلد از جلد مکمل کرنے کی ہدایت کی۔
ممبر خیبر پختونخوا اسمبلی و چیرمین قائمہ کمیٹی برائے سیاحت، ثقافت، آثار قدیمہ و عجائب گھر میاں شرافت علی نے کہا
ممبر خیبر پختونخوا اسمبلی و چیرمین قائمہ کمیٹی برائے سیاحت، ثقافت، آثار قدیمہ و عجائب گھر میاں شرافت علی نے کہا ہے کہ کار سرکار کو بہتر انداز میں تکمیل تک پہنچانے کے لیے محکمہ جات کے درمیان تعاون ناگزیر ہے۔ منصوبوں پر عملدرآمد کے دوران مختلف محکمہ جات کا آپس میں پیش آنے والے معاملات کو وقت اور پیسہ کے ضیاع کے بغیر خوش اسلوبی سے حل کرنا نہایت ضروری ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے خیبر پختونخوا اسمبلی پشاور میں منعقدہ محکمہ سیاحت، ثقافت، آثار قدیمہ و عجائب گھر کی قائمہ کمیٹی کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے سیاحت و ثقافت زاہد چن زیب سمیت کمیٹی اراکین ا ور ایم پی ایز تاج محمد ترند، نیلوفر بابر، عجب گل وزیر، سمیع اللہ، زرعالم خان، زبیر خان، ریحانہ اسماعیل اور محکمہ سیاحت و ثقافت، محکمہ قانون، محکمہ بلدیات و دیہی ترقی کے سینئر حکام نے شرکت کی۔ اس موقع پر سیکرٹری محکمہ سیاحت و ثقافت ڈاکٹر محمد بختیار خان نے صوبے میں جاری سیاحت و ثقافت کے منصوبوں کے حوالے سے بریفننگ دی۔ اجلاس کے دوران وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے سیاحت و ثقافت زاہد چن زیب نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں لاگو ریور ایکٹ صوبہ پنجاب سے نقل کیا گیا ہے اور صوبائی سطح پر اس قسم کا کوئی قانون نہیں جو انتہائی افسوناک ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ محکمہ سیاحت و ثقافت اور دوسرے محکمہ جات خصوصاً محکمہ بلدیات اور محکمہ جنگلات کے درمیان خلیج کوپر کرنا اور معاملات کا خوش اسلوبی سے حل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ زاہد چن زیب نے کہا کہ بعض معاملات کے باعث سرمایہ کاروں کا اعتماد حاصل کرنے میں مشکلات درپیش ہیں جس کی وجہ سے سروس ڈیلیوری اور محصولات کی حصولی میں ناکامی ہورہی ہے۔ کمیٹی اراکین نے سرمایہ کاری کو پروان چڑھانے اور سرمایہ کاروں کی آسانی کے لئے این او سی مرحلے کو ون ونڈو آپریشن کے تحت آسان سے آسان تر بنانے کی اہمیت پر زور دیا۔
خیبر پختونخوا کابینہ کا 19 واں اجلاس پیر کے روز وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈاپور کی زیر صدارت پشاور
خیبر پختونخوا کابینہ کا 19 واں اجلاس پیر کے روز وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈاپور کی زیر صدارت پشاور میں منعقد ہواجس میں صوبائی کابینہ اراکین کے علاؤہ چیف سیکرٹری، ایڈیشنل چیف سیکرٹریز اور متعلقہ انتظامی سیکرٹریز شریک ہوئے۔ کابینہ اجلاس کو ضلع کرم کی صورتحال اور اس سلسلے میں صوبائی حکومت کے اقدامات پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ وزیر اعلیٰ علی امین خان گنڈاپور کی ہدایت پر ضلع کرم کے شہریوں کو آمدورفت کے درپیش مسائل کے حل کے لئے ہیلی کاپٹر سروس شروع کی گئی ہے اور گذشتہ دو دنوں کے دوران 220 افراد کو صوبائی حکومت کے ہیلی کاپٹر کے ذریعے ٹرانسپورٹ سروس فراہم کی گئی ہے۔ علاقے میں ادویات کی کمی دور کرنے کے لئے ہیلی کاپٹر کے ذریعے اب تک تقریباً دس ٹن ادویات پہنچائی گئی ہیں اور یہ ادویات کرم کے تمام علاقوں کو فراہم کی گئی ہیں۔ علاقے میں غذائی اجناس کی دستیابی کے لئے رعایتی نرخوں پر گندم فراہم کی جارہی ہے جبکہ ضلع میں ہونے والے جانی و مالی نقصانات کے ازالے کے لئے ادائیگیاں کی جاچکی ہیں۔ کابینہ اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ گذشتہ روز کرم کے مسئلے پر صوبائی ایپکس کمیٹی کا اجلاس منعقد کیا گیا جس میں ضلع کرم تک زمینی رابطے کی بحالی کے سلسلے میں پاڑہ چنار روڈ کو محفوظ بنانے کے لیے اسپیشل پولیس فورس کے قیام کا فیصلہ کیا گیا ہے اور اس مقصد کے لیے مجموعی طور پر 399 اہلکار بھرتی کئے جائیں گے جبکہ سڑک کو محفوظ بنانے کے لئے ابتدائی طور پر عارضی پوسٹیں جبکہ مستقبل میں مستقل پوسٹیں قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔مزیدبتایا گیا کہ دونوں فریقین کے درمیان معاہدہ ہونے کے بعد سڑک کھولی جائے گی جبکہ علاقے میں فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے والے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو بند کرنے کے لئے ایف آئی اے کا پورا سیل قائم کیا جائے گا۔شرکاء کو آگاہ کیا گیا کہ کرم کے مسئلے کے پائیدار حل کے لیے مختلف سطح پر متعدد جرگے منعقد کئے گئے ہیں۔ گذشتہ روز ہونے والے ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں یکم فروری تک تمام غیر قانونی ہتھیاروں کو جمع کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ ضرورت کی بنیاد پر قانونی ہتھیاروں کے لیے لائسنس کے اجراء کے لئے محکمہ داخلہ میں خصوصی ڈیسک قائم کرنے کا فیصلہ ہوا ہے۔ اسی طرح یکم فروری تک علاقے میں قائم مورچوں کو بھی مسمار کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کا بینہ اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کرم کا مسئلہ دہشتگردی کا نہیں بلکہ دو گروپوں کے درمیان تنازعہ ہے،علاقے کے لوگ امن چاہتے ہیں لیکن کچھ عناصر فرقہ وارانہ منافرت کے ذریعے حالات کو خراب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، یہ عناصر مسئلے کو دوسرا رنگ دینے کے لئے غلط بیانیہ بنا رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ علاقے میں غیر قانونی بھاری ہتھیاروں کی بھر مار ہے، اتنے بھاری ہتھیار رکھنے اور مورچے بنانے کا کوئی جواز نہیں۔ وزیر اعلیٰ نے واضح کیا کہ حکومت کی کوئی ایسی پالیسی نہیں کہ کسی بھی مسلح گروپ کو غیر قانونی بھاری ہتھیار رکھنے کی اجازت دے۔ صوبائی حکومت مذاکرات اور جرگوں کے ذریعے مسئلے کا پرامن حل نکالنے کے لئے ہر ممکن کوشش کر رہی ہے۔ علاقے کے لوگوں کی جان و مال کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لئے حکومت اپنی عملداری پر سمجھوتہ نہیں کرے گی۔ وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ تیراہ اور جانی خیل میں آپریشن کا کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔کابینہ نے ضلع کرم کے عوام کی فوری غذائی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے گندم پر سبسڈی کی فراہمی کی منظوری دے دی ہے۔ اس فیصلے کے تحت، محکمہ خزانہ کو 1,119 میٹرک ٹن گندم کی ترسیل کے لیے 4 کروڑ 71 لاکھ 10 ہزار روپے کی سبسڈی مختص کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔مزید برآں، کابینہ نے ضلع کرم میں نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ (خیبر پختونخوا) ایکٹ 2019 کے تحت پہلے سے نافذ ہنگامی حالت کے اعلان کی پوسٹ فیکٹو منظوری دی۔ ایمرجنسی جو کہ پہلے سے ہی ضلع کرم میں لاگو ہے کا مقصد متاثرہ آبادی کے لئے ضروری امداد اور بحالی کے اقدامات اٹھانے ہیں۔کابینہ نے کرسمس کے تحفے کے طور پر صوبے کے تقریباً 80 گرجا گھروں کے لیے 4 کروڑ روپے منظور کیے ہیں جس کے تحت ہر چرچ کو 5 لاکھ روپے دئیے جائینگے، اجلاس کو بتایا گیا کہ صوبائی حکومت نے اپنے مسیحی ملازمین کو پہلے ہی تنخواہیں ایڈوانس میں جاری کر دی ہیں۔ خیبر پختونخوا حکومت نے امن، استحکام، اور تمام کمیونٹیز کے لیے مساوی مواقع فراہم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔کابینہ نے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت 365 کلومیٹر پشاور-ڈی آئی خان موٹر وے کی تعمیر کی منظوری دی اور محکمہ خزانہ کو اس منصوبے کے لیے زمین کے حصول کے فنڈز کا بندوبست کرنے کی ہدایت کی۔کابینہ نے پاک-آسٹریا فخا شولے انسٹیٹیوٹ آف اپلائیڈ سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی ہری پور میں میڈیکل اور ڈینٹل کالج کے لیے 30 کروڑ روپے کے فنڈز کی منظوری دی۔ یہ فنڈ انفراسٹرکچر کی ترقی، ساز و سامان کی خریداری، اور فیکلٹی کی بھرتی کے لیے دو اقساط میں فراہم کیے جائیں گے۔کابینہ نے خیبر پختونخوا کی پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں کو پنشن اور پنشن کے بقایا جات اور تنخواہوں کی ادائیگی کے لیے گرانٹ کی منظوری دی۔ صوبائی کابینہ نے سابقہ فاٹا ڈویلپمنٹ کارپوریشن کے ملازمین کو ذاتی حیثیت میں ایک گریڈ اپ گریڈ کرنے کی منظوری دی، ان ملازمین نے 36 سال سے زائد خدمات انجام دیں لیکن انہیں کوئی ترقی نہیں ملی۔کابینہ نے خیبر پختونخوا اسمبلی کے قرارداد نمبر 118 کو وفاقی حکومت کو بھیجنے کی منظوری دی۔قرار داد میں آرٹیکل 33 جو کہ شہریوں کے درمیان تصب، نسلی، قبائلی، فرقہ وارانہ اور صوبائی تعصبات کی حوصلہ شکنی کرتا ہے کا حوالہ دے کے کہا گیا ہے کہ اسلام آباد پولیس خیبر پختونخوا کے لوگوں، خاص طور پر پشتونوں کے ساتھ ظلم کر رہی ہے اور پشتون تاجروں کو ہراساں کر رہی ہے۔ خیبر پختونخوا کے شہریوں کے ساتھ ایسا سلوک کیا جا رہا ہے جیسے وہ اس ملک کے شہری نہیں ہیں۔ وفاقی حکومت کی جانب سے پشتون کمیونٹی کے خلاف کیے جانے والے مظالم غیر قانونی اور غیر آئینی ہیں۔ لہذا خیبر پختونخوا اسمبلی صوبائی حکومت کو سفارش کرتی ہے کہ وہ وفاقی حکومت سے پرزور سفارش کرے کہ اسلام آباد پولیس خیبر پختونخوا کے لوگوں، خاص طور پر پشتونوں، کے خلاف ظلم و بربریت کا خاتمہ کرے اور انہیں اسلام آباد میں کاروبار کرنے کے دوران غیر ضروری طور پر ہراساں نہ کرے۔”کابینہ نے خیبر پختونخوا سول سرونٹس (تعیناتی، ترقی اور تبادلہ) قواعد 1989 کے قاعدہ 12(2) میں ترامیم کی منظوری دی۔ ان ترامیم کے مطابق، ضلع کیڈر میں بی ایس-3 سے بی ایس-15 کی آسامیوں کو صرف متعلقہ ضلع کے ڈومیسائل ہولڈرز سے پُر کیا جائے گا۔پابندی میں نرمی کرتے ہوئے، کابینہ نے محکمہ صحت میں مختلف کیٹیگریز کی 221 آسامیوں کی تخلیق کی اجازت دی۔ کابینہ نے خیبر پختونخوا یونیورسٹیز ایکٹ 2012 کی دفعہ 12(2)(e) کے تحت ایکیڈیمک سرچ کمیٹی کے دو ممبران کی تقرری کی بھی منظوری دی۔ ڈی آئی خان گرلز کیڈٹ کالج کو فعال بنانے کے لیے کابینہ نے خیبر پختونخوا حکومت کے تعلیمی و تربیتی اداروں کے آرڈیننس 1971 کو کیڈٹ کالج ڈی آئی خان تک توسیع دینے اور اس کے لیے 30 کروڑ روپے کے گرانٹ کی منظوری دی۔دیگر صوبوں کے ساتھ قانون سازی میں یکسانیت لانے اور صوبائی خودمختاری کو برقرار رکھنے کے لیے، کابینہ نے خیبر پختونخوا پبلک فنانشل مینجمنٹ ایکٹ نمبر XXIX 2022 کی دفعات 13(2) اور (3)، دفعہ 18 اور دفعہ 20(2) میں ترامیم کی منظوری دی۔ یہ ترامیم صوبائی محکمہ خزانہ کے منسلک ادارے، ٹریژری اینڈ اکاؤنٹس اسٹیبلشمنٹ کے بہترین استعمال کو یقینی بنانے کے لیے ہیں۔کابینہ نے پشاور میں چائنہ ونڈو کے لیے 35 لاکھ روپے کی گرانٹ ان ایڈ کی منظوری دی۔ چائنہ ونڈوعوامی جمہور یہ چین کے اسلام آباد میں سفارت خانے کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کے نتیجے میں قائم کی گئی تھی اور دونوں ممالک کے عوام کو قریب لانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔کابینہ نے سیاحتی علاقوں میں کمیونٹی بیسڈ رہائشی سہولت متعارف کرنے کے لئے مقامی افراد کو بنک آف خیبر کے ذریعے قرضے کی فراہمی کی منظوری دی۔ اس منصوبے کے تحت ہر فرد کو 3 ملین روپے تک قرضہ دیا جائیگا، منصوبے میں دیر، چترال، سوات اور مانسہرہ اضلاع جہاں سیاحوں کا رش زیادہ ہے کو ترجیح دی جائیگی۔کابینہ نے صوبے کے مختلف اضلاع میں ترقیاتی سرگرمیوں اور اسکیموں کے لیے فنڈز جاری کرنے کی منظوری دی۔ جاری کردہ فنڈز کا 60% میونسپل سروسز بشمول ڈبلیو ایس ایس پر اور 40% سوشل سروسز پر خرچ کیا جائے گا۔کابینہ نے واٹر اینڈ سینیٹیشن سروسز کمپنی، ہری پور کے قیام کے ساتھ ساتھ اس کے لیے 25 کروڑ روپے کے فنڈز ضمنی گرانٹ کے ذریعے فراہم کرنے کی منظوری دی۔کابینہ نے رواں مالی سال کے دوران حکومت کے خزانے سے 30 ارب روپے ڈیبٹ مینجمنٹ فنڈ میں منتقل کرنے کی بھی منظوری دی۔کابینہ نے پولیس پبلک سکول کے چھ کنٹریکٹ ملازمین کے لیے 14,338,864 روپے کی خصوصی گرانٹ کی بھی منظوری دی۔
