Home Blog Page 332

نگران وزیر اعلیٰ کا خیبر میڈیکل کالج اور ایوب میڈیکل کالج کو یونیورسٹیوں میں اپ گریڈ کرنے پر عملی کام کا اعلان۔

نگران وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا جسٹس(ر) سید ارشد حسین شاہ نے کہا ہے کہ خیبر میڈیکل کالج اور ایوب میڈیکل کالج کو یونیورسٹیوں میں اپ گریڈ کرنے پر عملی کام شروع کر دیا گیا ہے، بہت جلد صوبائی کابینہ کا اجلاس بلا کر باقاعدہ منظوری لی جائے گی۔ صوبے میں طلبہ کو طبی تعلیم کی سہولیات مقامی سطح پر فراہم کرنے کے لیے میڈیکل کالجوں کی تعداد بڑھانے کے لیے بھی اقدامات کیے جائیں گے۔ اس سلسلے میں وزیر اعظم پاکستان سے بات ہوگئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ صوبے کے نرسنگ کالجوں میں نشستوں کی تعداد بڑھانے پر بھی کام جاری ہے۔سالانہ50 ہزار نرسنگ گریجویٹس کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کے روز خیبر میڈیکل کالج پشاور میں منعقدہ کانونشن کی افتتاحی تقریب سے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔ نگران وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ صوبے میں نوجوانوں کو عصر جدید کی ضروریات سے ہم آہنگ تربیت فراہم کرنے کے لیے خوشحال پختونخوا پروگرام ترتیب دیا ہے جس کے تحت سالانہ پانچ لاکھ نوجوانوں کو مختلف سکلز سکھائے جائیں گے۔ اُنہوںنے خیبر میڈیکل کالج کی خدمات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہاکہ یہ کالج نامور اور معتبر تعلیمی ادارہ ہے جس نے میڈیکل اور ہیلتھ کیئر کے شعبے میں گراں قدر خدمات سرانجام دی ہیں، ہم کالج کی شاندار تاریخ پر بجا طور فخر محسوس کرتے ہیں اور اس کی شبانہ روز کاوشوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ سید ارشد حسین شاہ نے اس موقع پر کنونشن کا انعقاد یقینی بنانے کیلئے تعاون فراہم کرنے پر ایسوسی ایشن آف فزیشنز آف پاکستان ڈیسنٹ آف نارتھ امریکہ کا خصوصی طور پر شکریہ ادا کیا اور کہاکہ بلا شبہ  شمالی امریکہ میں اپنی نوعیت کی اہم ترین میڈیکل سوسائیٹز میں سے ایک ہے جو پاکستانی نژاد ڈاکٹرز کی کثیر تعداد کی نمائندگی کر رہی ہے ۔ یہ تمام لوگ پاکستان کا قیمتی اثاثہ ہیں جو قومی ترقی میں بہترین کردار ادا کر رہے ہیں۔ اُمید ہے کہ یہ لوگ زرمبادلہ، سرمایہ کاری اور انسان دوست اقدامات کے ذریعے پاکستان کی سماجی و معاشی ترقی کیلئے اپنی خدمات جاری رکھیں گے۔ نگران وزیراعلیٰ نے کہاکہ ہم نے خوشحال خیبر پختونخوا پروگرام کا آغاز کر دیا ہے،ہم چاہتے ہیں کہAPPNAاس میں ہماری رہنمائی کریں اور ہمارا پارٹنر بنیں۔ وزیراعلیٰ کے مشیر برائے صحت ڈاکٹر ریاض انور بھی اس موقع پر موجود تھے ۔ ڈین خیبر میڈیکل کالج پروفیسر ڈاکٹر محمد اورنگزیب،  کے صدر ڈاکٹر ارشد ریحان اور دیگر نے بھی کنونشن سے خطاب کیا۔

خیبر پختونخوا کے نگران وزیر کا سمال انڈسٹریل اسٹیٹ میں نیا کاروباری مرکز کا افتتاح کیا۔

خیبر پختونخوا کے نگران وزیر برائے صنعت وحرفت،فنی تعلیم اور امور ضم اضلاع ڈاکٹر عامر عبداللہ نے بدھ کے روز سمال انڈسٹریل اسٹیٹ پشاور میں نئے تعمیر شدہ کاروباری مرکز کا افتتاح کیا۔اس منصوبے کی تکمیل پر تقریبا ساڑھے چار کروڑ روپے کی لاگت آئی ہے جسے کمرشل بنیادوں پر استعمال میں لاکر بورڈ کو اس سیماہانہ خطیر آمدنی حاصل ہو سکے گی۔ کوہاٹ روڈ پشاور میں واقع مذکورہ جدید مارکیٹ میں سمال انڈسٹریل اسٹیٹ کے کارخانہ داروں کیلئے نمائش گاہیں اور شوروم بھی تیار کئے گئے ہیں جہاں پر وہ اپنے کارخانوں کی پیداواری اشیا کی مارکیٹنگ کرسکیں گے۔ دوران افتتاح منیجنگ ڈائریکٹر سمال انڈسٹریز ڈویلپمنٹ بورڈ غضنفر علی،ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹرز صاحب زادہ ذوالفقار اور نعمان فیاض سمیت دیگر افسران،اہلکار اور ملازمین یونین کے عہدیدار موجود تھے۔اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے نگران وزیر نے اس منصوبے کو انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے ہدایت کی کہ ایس آئی ڈی بی اپنے مالی استحکام اور ترقی کیلئے اپنے بزنس ماڈل کو تبدیل کرکے اس میں جدید ضروریات کے مطابق بہتری لائے۔انھوں نے کہا کہ کسی بھی ادارے کیلئے نیا کام کرنا ایک مشکل مرحلہ ہوتا ہے۔ بورڈ نے یہ مرحلہ طے کرکے ایک بڑی کامیابی حاصل کی ہے جو قابل تعریف ہے اور اب اس ادارے کی پائیدار ترقی کے لیے اس کی منیجمنٹ کو اس طرح کے مزید مفید اقدامات اٹھانے چاہئے۔انھوں نے کہا کہ ادارہ اپنے مستقل اخراجات پر قابو پانے کیلئے منافع بخش اور کاروباری سوچ میں آگے کی طرف بڑھے اور قلیل مدت میں بہتر نتائج کے حامل بزنس ماڈل کو بروئے کار لائے۔نگران وزیر نے کہا کہ یہ کمرشل سنٹر کاروبار کرنے والے لوگوں کیلئے حلال رزق کی کمائی اور خوشحالی کا سبب بنے گا۔انھوں نے اس موقع پر بورڈ کے ذمہ داروں کو ہدایت کی کہ وہ اس مرکز میں صفائی کے رہنما اصولوں کے مطابق بہتر نظام کا بندوبست کریں تاکہ صارفین کو یہاں پر اعلی معیار کی تمام سہولیات میسر ہوں۔ اس موقع پر ایم ڈی ایس آئی ڈی بی نے بتایا کہ پلازہ کو نگران وزیر کی خصوصی ہدایات کے تحت مقررہ وقت سے کئی ماہ قبل مکمل کرلیا گیا۔ دریں اثنا نگران وزیر نیایس آئی ڈی بی کے مرکزی دفتر کا دورہ کرکے وہاں پر بورڈ کے افسران اور ملازمین یونین کے عہدیداروں سے ملاقات کی۔نگران وزیر کو اس موقع پر بورڈ کی طرف سے توصیفی شیلڈ سے نوازا گیا۔

چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا ندیم اسلم چوہدری سے پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس کے زیر تربیت افسران کی ملاقات

چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا ندیم اسلم چوہدری سے پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس کے زیر تربیت افسران نے چیف سیکرٹری کانفرنس روم پشاورمیں ملاقات کی۔ اس موقع پر سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ، سیکرٹری پی اینڈ ڈی اور ممبر بورڈآف ریونیو بھی موجود تھے۔ چیف سیکرٹری نے زیر تربیت افسران سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سول افسران کی سروس کا مقصد عوام کو بہترین خدمات فراہم کرنا ہے۔ انھوں نے تاکید کی کہ تمام افسران اپنی صلاحیتوں اور پروفیشنل تربیت کو بروئے کار لاتے ہوئے اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے انجام دیں۔ انھوں نے کہا کہ سول سروس ریاستی مشینری میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے اور بطورِ سول سرونٹ کام کرنا ایک اعزاز کے ساتھ ساتھ ذمہ داری بھی ہے جس کے لیے آپ لوگوں کو بہترین انداز میں تربیت دی جاری ہے تاکہ مستقبل میں آنے والی ذمہ داریوں کو ملک و عوام کے بہترین مفاد میں سر انجام دے سکیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ صاف اور شفاف انتخابات کا انعقاد کروانا ہماری ذمہ داری ہے جس کے لیے تمام تر دستیاب وسائل کو بروئے کار لایا جائے گا۔ ملاقات کے اختتام پر شرکاء نے خدمات کی انجام دیہی میں بہتر رہنمائی پرچیف سیکرٹری خیبرپختونخوا کا شکریہ ادا کیا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ اپنی تمام تر توانائیاں بروئے کار لاتے ہوئے بہترین انداز میں اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کی کوشش کریں گے۔

محکمہ خوراک خیبر پختونخوا اور خیبرپختونخوا فوڈ سیفٹی اتھارٹی کی جانب سے آنلائن کھلی کچہری کا انعقاد

خیبر پختونخوا فوڈ سیفٹی اتھارٹی کے زیرِ اہتمام پشاور ہیڈ کوارٹر میں آج آنلائن کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا جس میں خیبرپختونخوا کے نگران وزیر برائے خوراک، زراعت، لائیو سٹاک اور جنگلات آصف رفیق، سیکرٹری محکمہ خوراک ظریف المعانی سمیت محمکہ خوراک اور فوڈ اتھارٹی کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ آنلائن کھلی کچہری میں شہریوں کی شکایات براہ راست وزیر خوراک سمیت دیگر متعلقہ افسران نے سنیں اور موقع پر حل کرنے کی یقین دھانی کروائی،ان لائن کھلی کچہری محکمہ خوراک خیبرپختونخوا اور خیبرپختونخوا فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھارٹی کے فیس بک پیجز پر لائیو دکھائی گئی،آنلائن کھلی کچہری کے دورانِ دو سو سے زائد شکایات، فوڈ اتھارٹی کے فون نمبر اور وٹس ایپ نمبر، ٹول فری نمبر اور فیس بک کمنٹس پر موصول ہوئیں جس میں عوام نے خوارکی اشیاء کی قیمتوں اور مضر صحت و غیر معیاری خوراک کے بارے میں اپنی شکایات درج کروائیں اور مختلف تجاویز بھی پیش کیں۔وزیر خوراک آصف رفیق نے تمام شکایات کے ازالے کے لئے موقع پر ہی متعلقہ افسران کو خوراک سے وابستہ کاروباروں کے معائنے کرنے اور مضر صحت و غیر معیاری اشیائے خوردنوش کی فروخت میں ملوث عناصر کا قلع قمع کرنے کی ہدایات جاری کیں۔ اس موقع پر انکا کہنا تھا کہ خوراک کی شکل میں زہر بیچنے کی بلکل اجازت نہیں دی جائے گی۔ سیکرٹری فوڈ نے متعلقہ ٹیموں کو اگلے ہفتے سے دودھ، فش اور کباب میں ملاوٹ کے خلاف خصوصی مہم شروع کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ مضر صحت خوراک کی سپلائی لائن، مینوفیکچرنگ اور سیل پوائنٹس کے خلاف کاروائیاں تیز کی جائیں تا کہ غیر معیاری خوراک کا تدارک ممکن ہو سکے ان کا مزید کہنا تھا کہ کھلی کچہری کا سلسلہ مستقبل میں بھی جاری رکھا جائے گا جس کا مقصد ملاوٹ کا خاتمہ اور محکمانہ خدمات کی فراہمی کو مزید بہتر بنانا ہے۔

۔ڈائریکٹر جنرل لائیوسٹاک کی زیر صدارت اجلاس میں ضلعی افسران کی ماہانہ کارکردگی اور لائیوسٹاک کے منصوبوں پر بحث

ڈائریکٹر جنرل محکمہ لائیوسٹاک توسیع خیبر پختونخوا ڈاکٹر عالمزیب مہمند کی زیر صدارت لائیوسٹاک کے ضلعی افسران کا ماہانہ کارکردگی،منصوبوں کی تکمیل اور دیگر امور کے حوالے سے ایک جائزہ اجلاس پشاور میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں لائیوسٹاک کے ضلعی افسران نے اضلاع کے اندر اپنی کارکردگی کے بارے میں ڈائریکٹر جنرل محکمہ لائیوسٹاک کو تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے لائیوسٹاک کی سرگرمیوں اورمویشی پال کسانوں کی بہتری کے لئے اٹھائے گئے اقدامات سے آگاہ کیا۔ اجلاس میں موجودہ نگران صوبائی حکومت کے خوشحال خیبر پختونخوا پروگرام پر بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اس موقع پر ڈی جی لائیوسٹاک نے تمام ضلعی افسران کو ہدایت کی کہ صوبے میں دودھ کی پیداوار کے مکمل ریکارڈ پر توجہ دیں کہ صوبے کے کونسے سے ضلع سے دودھ کی کتنی مقدار برآمد اور درآمد ہوتی ہے جبکہ صوبے میں سے باہر جانے اور داخل ہونے والے جانوروں سمیت ڈیری فارمز کا ریکارڈ بھی ہر وقت درست کریں۔ انہوں نے تمام ضلعی افسران کو تاکید کی کہ زمینداروں کے ساتھ مکمل رابطہ اور تعاون رکھیں اور فیلڈ ورک کے دوران زمینداروں میں آگاہی مہم کا باقاعدگی سے اہتمام کریں اور زمینداروں میں کوآرڈینیٹرز منتخب کریں اور انکی باقاعدہ میپنگ کریں اس کے علاوہ لائیوسٹاک کے قائم کردہ پولٹری اورڈیری فارمز میں زمینداروں کو بھر پور خدمات مہیا کرنے کے ساتھ ساتھ ان میں آگاہی پیدا کریں اور انکا ریکارڈ اپنے پاس محفوظ رکھیں۔ڈائریکٹر جنرل نے تمام افسران کوہدایت کی کہ جانوروں کو لمپی سکن بیماری سے بچانے اور محفوظ رکھنے کے لیے ان کی بروقت ویکسینیشن کریں اسی طرح تمام افسران اپنے اپنے ضلع میں فیلڈ کے دنوں کا جلد سے جلد انعقادکرکے ڈی وارمنگ اور ویکسینیشن آگاہی مہم چلانے کیلیے بینرز اور دیگر اقدامات کو یقینی بنائیں۔

چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا کا ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ عابد مجید کے ہمراہ سنٹرل جیل پشاور کا دورہ

چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا ندیم اسلم چوہدری نے ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ عابد مجید کے ہمراہ سنٹرل جیل پشاور کا دورہ کیا، آئی جی جیل خانہ جات عثمان محسود، ایڈیشنل آئی جی جیل خانہ جات حامد الرحمان اور سپرنٹنڈنٹ جیل وسیم خان نے چیف سیکرٹری اور ایڈیشنل سیکرٹری کا پرتپاک استقبال کیا۔دورے کے موقع پر چیف سیکرٹری اور ایڈیشنل سیکرٹری داخلہ نے جیل کے مختلف حصوں کا تفصیلی معائنہ کیا، قیدیوں سے ملاقات کی اور قیدیوں سے انکے مسائل کے بارے میں دریافت کیا آئی جی جیل خانہ جات نے چیف سیکرٹری کو جیل کی سیکیورٹی انتظامات اور قیدیوں کو فراہم کی جانے والی دیگر سہولیات کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ جیل کے قیدیوں کو ہنر سکھانے کے لئے جیل انڈسٹریز قائم ہے تاکہ قید کے دوران قیدی جیل میں کچھ ہنر سیکھ کر رہائی کے بعد اپنے کنبے کی کفالت کرسکیں جیل میں قائم ویڈیو لنک کی سہولیات کے بارے میں بھی چیف سیکرٹری کو تفصیل سے بتایاگیا کہ ویڈیو لنک کے ذریعے قیدی کورٹ میں پیش کئے جائینگے، اس کے علاوہ چیف سیکرٹری نے سنٹرل جیل پشاور کے احاطے میں واقع سرحد مینٹل ہسپتال کا بھی دورہ کیا جہاں انہوں نے متعلقہ حکام کو سرحد مینٹل ہسپتال کو فوری طور پر اپنی مقررہ جگہ پر منتقل کرنے کی ہدایت کی انہوں نے آئی جی جیل خانہ جات کی جانب سے صوبے بھر کی جیلوں میں قیدیوں کی فلاح و بہبود اور مثبت سرگرمیاں شروع کرانے کے اقدامات کو بھی سراہا اور ہدایت جاری کی کہ جیلوں میں صفائی ستھرائی کا خاص خیال رکھا جائے اور قیدیوں کو تمام تر سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنائی جائے۔

نگران وزیر صنعت وحرفت خیبرپختونخوا کی مقامی اسلحہ سازی کمپنی شاہین آرمز انجینئرنگ کے نمائندے سے ملاقات

خیبر پختونخوا کے نگران وزیر برائے صنعت وحرفت،فنی تعلیم اور امور ضم اضلاع ڈاکٹر عامر عبداللہ سے سپورٹنگ ہنٹنگ آرمز مینوپکچرنگ”شکار کیلئے اسلحہ ساز صنعت” کی مقامی کمپنی شاہین آرمز انجینئرنگ کے نمائندے شاہین خان نے انکے دفتر میں ملاقات کی اور انکو مقامی سطح پر شکار کیلئے بنائے جانے والے اسلحہ کی صنعت اور اس کی ترقی کیلئے ممکنہ تجاویز پر تبادلہ خیال کیا۔اس موقع پر خیبر پختونخوا اکنامک زونز ڈویلپمنٹ اینڈ منیجمنٹ کمپنی کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر جاوید اقبال خٹک بھی موجود تھے۔ملاقات کے دوران مزکورہ اسلحہ ساز صنعت کے نمائندے نے بتایا کہ ان کی کمپنی کوہاٹ روڈ پشاور میں شکار کیلئے استعمال کی جانے والیں بندوقیں اور دیگر متعلقہ ساز وسامان تیار کرتی ہے جس کی برآمدات تنزانیہ ،نائجیریا،کینیڈا،،فلپائن اور کویت پہنچتی ہیں۔انھوں نے بتایا کہ بہترین کوالٹی اور جدیدیت کی بدولت بین الاقوامی مارکیٹ میں ان کی مصنوعات کو پزیرائی مل رہی ہے تاہم اس سلسلے میں اس صنعت کے ذریعے ملکی برآمدات کے فروغ کیلئے بین الاقوامی اسلحہ نمائشوں میں انکے مصنوعات کو پہنچانے کیلئے انکے ساتھ وزارت تجارت کے ذریعے حکومتی تعاون کی ضرورت ہے۔انھوں نے مزید بتایا کہ حکومت اس صنعت کے فروغ کیلئے جدید مشینری کی درآمد میں ٹیکسوں میں چھوٹ اور خام مال و متعلقہ پرزہ جات کی درآمد میں معاونت فراہم کرے تاکہ یہاں پر مقامی سطح پر بین الاقوامی سطح کی سپورٹنگ ہنٹنگ آرمز کی تیاری ممکن ہوسکے اور اس کے زریعے زیادہ زرمبادلہ لایا جاسکے ۔اس موقع پر نگران وزیر نے شکار کیلئے اسلحہ سازی کی مقامی کمپنی کی کوششوں کو سراہتے ہوئےکہا کہ وہ اس سلسلے میں مزکورہ صنعت کے ایسوسی ایشن کو اپنی جانب سے ممکن تعاون فراہم کریں گے۔انھوں نے کمپنی کی جانب سے متعد اقسام کی جدید اور ٹیکنالوجی پر منحصر سپورٹنگ ہنٹنگ اسلحہ سازی میں کمپنی کی کارکردگی کو سراہا۔

نگران وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے ٹرانسپورٹ و ہاؤسنگ، اور ایف سی کمانڈنٹ کی ملاقات

نگران وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے ٹرانسپورٹ و ہاؤسنگ ظفراللہ خان عمرزئی سے ایف سی کمانڈنٹ معظم جاہ انصاری نے انکے دفتر میں ملاقات کی ملاقات میں دیگر امور سمیت صوبے میں امن و امان کے حوالے سے تفصیلی گفتگو ہوئی دوران گفتگو صوبے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے سیکورٹی فورسز کی قربانیوں اور کردار کو بھی سراہا گیا۔اس موقع پر نگران معاون خصوصی نے کہا کہ صوبے میں مستقل قیام امن میں عوام کاتعاون بھی نہایت ضروری ہے سیکورٹی فورسز اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے نبھا رہی ہیں اور ان کی لازوال قربانیوں کی بدولت امن کا قیام ممکن ہوا ہے لیکن سیکورٹی فورسز کے ساتھ ساتھ لوگوں کے تعاون کے بغیر پائیدار امن ممکن نہیں انہوں نے کہا کہ پرامن ماحول کو خراب کرنے والے عناصر ملک و قوم کے دشمن ہیں ایسے سازشی عناصر کو بے نقاب کرنے اور انکو منطقی انجام تک پہچانے میں عوام سیکورٹی فورسز کے ساتھ مکمل تعاون کریں کیونکہ امن و امان کے قیام کے بغیر ترقی ناممکن ہے۔انہوں نے کہا کہ ترقی اور خوشحالی کیلیے پرامن فضاء ناگزیر ہے۔ ایف سی کمانڈنٹ معظم جاہ انصاری نے ظفراللہ خان عمرزئی کو یقین دہانی کرائی کہ مستقل امن و امان کے قیام اور امن کو برقرار رکھنے کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائیگااور امن کی خاطر سیکورٹی فورسز کی قربانیاں کسی سے پوشیدہ نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ضم اضلاع اور جنوبی اضلاع میں امن کے قیام کے لیے ضروری ہے کہ خیبر پختونخوا کی پلاٹون جو ملک کے مختلف حصوں میں خدمات سرانجام دے رہی ہے ان میں سے 8 یا 10 پلاٹون کو اگرقبائلی علاقوں میں تعینات کیا جائے تو وہاں امن کے مسئلہ پر کافی حد تک قابو پایا جاسکتا ہے۔ نگران معاون خصوصی نے کہا کہ وہ صوبائی کابینہ کے اجلاس میں اس مسئلے کو منظوری کے لیئے پیش کریں گے۔

خیبر پختونخوا میں سرکاری انتظامی ڈھانچے میں شفافیت کے اندر اور جوابدہی کو فروغ دینے پر اعلیٰ سطحی اجلاس۔

خیبر پختونخوا میں سرکاری انتظامی ڈھانچے کے اندر شفافیت اور جوابدہی کے عمل کو مزید فروغ دینے کے حوالے سے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس سول سیکرٹریٹ پشاور میں منعقد ہوا جس میں قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ نظیر احمد بٹ،چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا ندیم اسلم چوہدری، آئی جی پولیس اختر حیات خان، ڈی جی نیب خیبرپختونخوا وقار احمد چوہان، انتظامی سیکرٹریز اور دیگر متعلقہ حکام شریک ہوئے۔اجلاس میں سرکاری انتظامی ڈھانچے کے اندر شفافیت اور جوابدہی کے عمل کو مزید فروغ دینے اور احتساب کے عمل کو تقویت دینے اور کرپشن کے خاتمے کیلئے نیب اور خیبر پختونخوا کے محکموں کے درمیان باہمی تعاون کی مربوط کوششوں کو مزید مضبوط کر نے پر زور دیا گیا۔قومی احتساب بیورو (نیب)کے چیئرمین نے اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ بیوروکریسی ملک کیلئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے، بیوروکریسی کا ملکی ترقی اور خوشحالی میں اہم کردار ہے،انہوں نے کہا ہمیں وطن عزیزپاکستان کی خدمات میں نمایاں فرائض ادا کرنے کا موقع ملا ہے اس لیئے یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اپنی یہ خدمات پوری دیانت داری سے سر انجام دیتے ہوئے عوام کو ان کی امنگوں کے مطابق بہتر انداز میں شفاف طریقے سے سہولیات فراہم کریں۔ انہوں نے کہا کہ ملک نے جو کچھ ہمیں دیا ہے وہ ہم پر ایک قرض ہے اور ہمیں یہ قرض اپنی خدمات پیش کرتے ہوئے اتارنا ہے۔ ہمیں ملک کی ترقی اور بدعنوانی کے خاتمے کیلئے مل کر کام کرنا ہے۔ پاکستان کو کرپشن سے پاک بنانے کیلئے ہم سب کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ بیوروکریسی حکومت کی مشینری ہے نیب کا کردار اس مشینری کو بہترین اور شفاف انداز سے چلانے میں مدد کرنا ہے۔ چیئرمین نیب کا کہنا تھا کہ بدنیتی اور بے نامی شکایات کا ازالہ کرنے کیلئے کام کررہے ہیں اور کسی کا بھی میڈیا ٹرائل نہیں ہونا چاہیے۔ افسران عوامی مسائل کیلئے کھلی کچہریوں کا انعقاد کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے کی خاطرکاروباری طبقے کیلئے سازگار ماحول فراہم کرنا ہوگا تاکہ وہ ملکی معیشت کو مضبوط بنانے میں اپنا مثبت کردار ادا کرسکیں۔ نیب بطور ادارہ خود احتسابی کے اصول پر کاربند ہے اور ضرورت کے مطابق اصلاحات لائی جا رہی ہیں۔ اس موقع پر چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا ندیم اسلم چوہدری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ اجلاس صوبے میں گڈ گورننس کو فروغ دینے، جوابدہی اور شفاف انتظامی ڈھانچہ بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔انہوں نے کہا کہ بیوروکریسی آئین وقانون اور قواعد و ضوابط پر عمل کرتے ہوئے اپنے فرائض سر انجام دے رہی ہے اور اس طرح کے اجلاسوں کے انعقادکے بدولت افسران کو اپنی ذمہ داریاں خوش اسلوبی اور شفافیت سے انجام دینے میں مدد ملے گی اور انکا حوصلہ مزید بڑھے گا۔شرکاء اجلاس نے چیئرمین نیب سے مختلف امور کے بارے میں آگہی بھی حاصل کی اور اوربدعنوانی کے خاتمے اور شفاف نظام کے قیام کے لئے اپنی آرا ء و تجاویز بھی پیش کیں اور شرکاء نے دیانتداری کے اعلیٰ ترین معیار کو برقرار رکھنے کے اپنے عزم کا اظہار کرتے ہوئے بدعنوانی کے خاتمے کے لیے اجتماعی کوششوں کو مزید تیز تر کرنے پر اتفاق کیا۔چیئرمین نیب لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ نظیر احمد بٹ نے بعد ازاں چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا کو 904.34 ملین ریکوری کاچیک بھی پیش کیا

نگران وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کا ہزارہ ڈویژن میں امن و امان اور ترقیاتی منصوبوں پر اجلاس۔

نگران وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا جسٹس ریٹائرڈ سید ارشد حسین شاہ نے اپنے دورہ ایبٹ آباد کے دوران کمشنر ہزارہ ڈویژن کے دفتر میں ایک اجلاس کی صدارت کی جس میں وزیر اعلیٰ کو ہزارہ ڈویژن کے امن و امان کی مجموعی صورتحال، انتظامی امور اور عوامی مفاد کے جاری ترقیاتی منصوبوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی ۔ نگران وزیر اعلیٰ کے مشیر برائے پلاننگ و ڈویلپمنٹ ڈاکٹر سید سرفراز علی شاہ، کمشنر ہزارہ ڈویژن ظہیر الاسلام، ریجنل پولیس آفیسر اعجاز خان کے علاؤہ ضلعی محکموں کے سربراہان نے اجلاس میں شرکت کی۔ وزیر اعلیٰ ارشد حسین شاہ نے پولیس حکام کو ہزارہ ڈویژن میں امن و امان کی صورتحال کو مزید بہتر بنانے کی ہدایت کی ہے اور کہا ہے کہ پولیس فورس کی تمام ضروریات کو بروقت پورا کیا جائیگا۔ وزیر اعلیٰ نے ہزارہ ڈویژن میں جاری ترقیاتی منصوبوں کی سکیورٹی کو مزید بڑھانے جبکہ قراقرم ہائی وے پر مسافروں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ٹھوس اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے اور کہا ہے کہ صوبے میں امن و امان کو بہتر بنانا حکومت کی ترجیحات میں سر فہرست ہے، نگران صوبائی حکومت اس مقصد کے لئے وسائل کی کمی کو کسی صورت آڑے نہیں آنے دے گی اور پولیس کو ہر لحاظ سے مستحکم کیا جائے گا۔
وزیر اعلیٰ نے ہزارہ ڈویژن میں منشیات کے خاتمے کے لیے نتیجہ خیز اقدامات کی بھی ہدایت کی ہے اور کہا ہے کہ منشیات فروش ہماری نوجوان نسل کے دشمن ہیں ان کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔ منشیات تیار اور سپلائی کرنے والے بڑے مگر مچھوں کے خلاف کریک ڈاون کیا جائے اور انہیں عدالتوں سے سزا دلوانے کے لیے کیسز کی موثر پیروی کی جائے۔ اجلاس میں نگران وزیر اعلیٰ کو ہزارہ ڈویژن میں مختلف شعبہ جات میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر اب تک پیشرفت پر بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی ۔ ارشد حسین شاہ نے ہزارہ ڈویژن میں عوامی خدمات کی فراہمی کے عمل کو مزید آسان اور عوام دوست بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری افسران و اہلکار اس امر کو یقینی بنائیں کہ عوام کو خدمات کے حصول میں کسی قسم کی مشکل پیش نہ آئے، سرکاری دفاتر کے سربراہان خود فیلڈ وزٹ کریں اور صورتحال کا جائزہ لیں۔ وزیر اعلیٰ نے متعلقہ حکام کو ایبٹ آباد سٹی کے نکاس آب لیے بھی پلان مرتب کرنے کی ہدایت کی ہے ۔