یونیسیف کے ریجنل ڈائریکٹر (جنوبی ایشیا) سنجے وجیسیکرا کی صدارت میں ایک وفد نے بدھ کے روز چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا ندیم اسلم چوہدری سے پشاور میں ملاقات کی اور مختلف شعبوں میں تعاون سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا۔چیف سیکرٹری نے اہم شعبوں میں یونیسیف کی تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ یونیسیف نے ہر مشکل وقت میں خیبرپختونخوا حکومت کا ساتھ دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت خدمات کی فراہمی میں بہتری لانے کے لئے کوشاں ہے۔ صوبے کے تمام اضلاع میں چائلڈ پروٹیکشن یونٹس کے قیام، ابتدائی وثانوی تعلیم بالخصوص لڑکیوں کی تعلیم اور اساتذہ کی استعداد کار بڑھانے کے لیے حکومت کو یونیسیف کی مدد کی ضرورت ہے۔چیف سکرٹری نے کہا کہ نوجوانوں کے لیے ٹیکنیکل ایجوکیشن متعارف کرنے کی ضرورت ہے تاکہ انہیں تعلیم سے روشناس کرانے کے ساتھ ساتھ ہنرمند بھی بنایا جا سکے۔چیف سیکرٹری نے صحت کے شعبے خصوصاً غذائیت، حفاظتی ٹیکوں اور انسداد پولیو میں یونیسیف کے کردارکی بھی تعریف کی۔اس موقع پرریجنل ڈائریکٹر یونیسیف نے بچوں کی تعلیم، ان کے حقوق کے تحفظ اور دیگر اہم شعبوں میں حکومت خیبرپختونخوا کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات کو سراہا۔ انہوں نے صوبائی حکومت کو صحت، تعلیم، بچوں کے تحفظ اور دیگر شعبوں میں ہر ممکن تعاون فراہم کرنے کی بھی یقین دہانی کرائی۔ ملاقات میں نگران صوبائی وزراء، انتظامی سیکرٹریز اور دیگر متعلقہ حکام بھی موجود تھے۔
بولو ہیلپ لائن اور پولیس ہیلپ لائن کا انضمام خیبرپختونخوا حکومت کا معاشرتی تبدیلی کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
خیبرپختونخوا کے نگراں وزیر برائے محکمہ خزانہ، مال ایکسائز ٹیکسیشن اینڈ نارکوٹکس کنٹرول احمد رسول بنگش نے بولو ہیلپ لائن اور پولیس ہیلپ لائن کے انضمام اور ایک مشترکہ ہیلپ لائن کے اجراء کا بدھ کے روز باقاعدہ افتتاح کیا جو کہ اسلامک ریلیف پاکستان کے تعاون سے ممکن ہوا ہے، نگراں وزیر برائے خزانہ احمد رسول بنگش نے اس حوالے سے منعقدہ تقریب میں بطور مہمان خصوصی شرکت کی جبکہ تقریب میں سیکرٹری زکوٰۃ، عشر،سماجی بہبود و ترقی نسواں،مس انیلا ناز اے آئی جی پولیس، آصف شیرازی کنٹری ڈائریکٹر اسلامک ریلیف پاکستان، انڈیپینڈنٹ کنسلٹنٹ محمد حسیب خان سالارزئی، اقوام متحدہ کے نمائندے و دیگر حکومتی افسران نے شرکت کی اور تقریب سے خطاب کیا۔ تقریب میں بولو ہیلپ لائن080022227/1097 اور پولیس ہیلپ لائن 15 کا باقاعدہ انضمام کر دیا گیا جبکہ اس موقع پر تقریب میں نگران وزیر نے ایک عام شہری کی طرح مذکورہ ہیلپ لائن کا نمبر ملا کر باقاعدہ افتتاح کیا۔بعد ازاں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نگراں وزیر برائے محکمہ خزانہ احمد رسول بنگش نے کہا کہ بولو ہیلپ لائن اور پولیس ہیلپ لائن کا انضمام خیبرپختونخوا حکومت کا معاشرتی تبدیلی کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے ”بولو ہیلپ لائن اور پولیس ہیلپ لائن 15 کے انضمام کے اقدام کی بدولت معاشرے میں واضح تبدیلی آئیگی جس سے پولیس اور بولو ہیلپ لائن ٹول فری نمبر پر شکایات متعلقہ حکام تک پہنچائی جاسکیں گی۔انہوں نے کہا کہ بولو ہیلپ لائن اورپولیس ہیلپ لائن صنفی امتیاز کے خاتمے میں بھی بڑی مدد دیگا اس وقت مظلوم لوگوں کے علاوہ دیگر طبقات بالخصوص خواتین اور معذور افراد کے حقوق کے تحفظ کے لئے مشترکہ ہیلپ لائن وقت کی ضرورت ہے،انہوں نے کہا کہ اس اقدام سے خواتین کو قانونی مدد، معلومات اور مشاورت فراہم کرنے میں بھی مدد ملے گی، اس موقع پراظہار خیال کرتے ہوئے سربراہ اسلامک ریلیف پاکستان آئی آر پی،آصف علی شیرازی نے کہاکہ بولو ہیلپ لائن اور پولیس ہیلپ لائن پر مشترکہ اقدامات کے تحت معاشرتی انصاف کی فراہمی یقینی بنائیں گے انہوں نے بتایا کہ ہیلپ لائن کا اجراء محکمہ سماجی بہبود اور اسلامک ریلیف (آئی آر پی) کے تعاون سے کیاگیاہے اور مشترکہ ہیلپ لائن کا مقصدمعاشرتی ناانصافی کو روکنا ہے، ہیلپ لائن پر حقوق سے محرومی اورصنفی تشدد کے خلاف مدد فراہم کی جائیگی۔ بعد ازاں نگراں وزیر نے مذکورہ اوقدام میں تعاون فراہم کرنے پر اسلامک ریلیف پاکستان کا خصوصی شکریہ ادا کیا ہے۔
ایران کے قونصل کی خیبر پختونخوا کے نگران وزیر اطلاعات، ثقافت اور سیاحت سے پشاور میں ملاقات۔
اسلامی جمہوریہ ایران کے قونصل جنرل علی بنافشہ خواہ نے بدھ کے روز خیبر پختونخوا کے وزیر اطلاعات، ثقافت اور سیاحت بیرسٹر فیروز جمال شاہ کاکاخیل سے تفصیلی ملاقات کی۔ پشاور میں ہونے والی اس ملاقات میں ایران اور صوبہ خیبر پختونخوا کے عوام کے درمیان گہرے تاریخی، ثقافتی اور مذہبی رشتوں پر بات چیت کی گئی. اجلاس میں عوامی روابط اور ثقافتی تبادلوں کو فروغ دینے اور خیبر پختونخوا اور ایرانی شہروں کے مابین موجود سیاحت کے امکانات کو پرکھنے کی اہمیت پر زور دیا گیا جبکہ ملاقات میں ایران اور خیبرپختونخوا کے درمیان اقتصادی تعلقات کو مضبوط بنانے کے مقصد کے تحت تجارت کو بڑھانے کے طریقوں پر بھی بات چیت ہوئی۔ وزیر اطلاعات اور قونصل جنرل نے ثقافت، ورثے، خوراک اور روایات کو اجاگر کرنے کے لئے مشترکہ سرگرمیوں کی اہمیت پر زور دیا۔ میٹنگ کا مرکزی محور ایرانی شہروں اور خیبر پختونخوا کے درمیان سڑک، سمندری اور ہوائی راستوں کے استعمال کے ذریعے سفر کو آسان بنانے کے اقدامات کرنا تھا۔ اس میں خیبرپختونخوا کے سیاحوں اور تاجروں کو ایرانی شہروں تک رسائی دینے کے لئے اسلام آباد یا پشاور سے براہ راست ہوائی پروازوں پر بات چیت بھی شامل تھی۔ خیبرپختونخوا کے وزیر اطلاعات نے ایران اور خیبرپختونخوا میں مذہبی اور ماحولیاتی سیاحت کے منفرد مواقع پر زور دیتے ہوئے مشترکہ تقریبات اور تہوار منانے کی ضرورت کو اجاگر کیا۔ قونصل جنرل علی بنافشہ خواہ نے پرتپاک استقبال کے لیے وزیر اطلاعات کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے ایرانی سیاحوں کو خیبرپختونخوا کی طرف راغب کرنے کے لئے اقدامات کی اہمیت پر بھی بات کی. صوبائی وزیر بیرسٹر فیروز جمال شاہ کاکاخیل نے سفارتی، ثقافتی اور اقتصادی تعلقات کو مضبوط بنانے کے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا. ملاقات میں قونصل جنرل علی بنافشہ خواہ نے وزیراطلاعات خیبر پختونخوا کو ایران میں ہونے والی نمائش میں شرکت کی دعوت دی جو انہوں نے قبول کر لی. ملاقات میں دونوں نے مسئلہ فلسطین پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ قونصل جنرل علی بنفشہ خواہ نے کہا کہ فلسطینی عوام کی آواز کو مضبوط کرنے کے لیے پاکستان کا کردار خصوصی اہمیت کا حامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اس سلسلے میں مثالی کردار ادا کر رہا ہے۔ نگران وزیر اطلاعات خیبر پختونخوا نے کہا کہ مسئلہ فلسطین کیلئے ہر فورم پر آواز بلند کی جائے گی جبکہ منطقی انجام تک فلسطین کی حمایت جاری رکھی جائے گی۔
نگران وزیر نے ضم اضلاع میں نوجوانوں کے لئے مختلف ہنر اور پیشہ ورانہ تربیت فراہم کرنے کے لئے ایک اہم پروگرام کا آغاز کیا۔
خیبر پختونخوا کے نگران وزیر برائے امور ضم اضلاع،فنی تعلیم اورصنعت وحرفت ڈاکٹر عامر عبد اللہ نے ہدایت کی ہے کہ ضم اضلاع میں نوجوان طبقے کو مختلف ہنر اور پیشہ ورانہ تربیت کی فراہمی کیلئے شروع کردہ خصوصی منصوبے ایکسیلریٹڈ سکل ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت مختلف ٹریڈز میں تربیت دینے کیلئے شعبہ فنی تعلیم کے اداروں کے دستیاب وسائل سے استفادہ اٹھایا جائے اور اس سلسلے میں ٹیکنیکل ایجوکیشن اینڈ ووکیشنل ٹریننگ اتھارٹی سے باقاعدہ مفاہمت عمل میں لائی جائے۔ نگران وزیر نے مزکورہ خصوصی پروگرام میں اورکزئی، باجوڑ اور وزیرستان کے علاقوں کیلئے زیتون کی پیوندکاری اور اس سے جڑے دیگر ضروری تربیتی کورسز بھی شامل کرنے کی ہدایت کی جبکہ اس منصوبے کے متعلقہ حکام سے اس پروگرام کے تحت فارغ التحصیل اور باروزگار ہنرمندوں کا مکمل ڈیٹا بھی طلب کیا۔ یہ ہدایت انہوں نے بدھ کے روز ضم اضلاع کیلئے محکمہ صنعت وحرفت کے زیر انتظام شروع کردہ خصوصی منصوبے ایکسیلریٹڈ سکلڈ ڈویلپمنٹ پروگرام کے حوالے سے انہیں دی جانے والی بریفنگ کے دوران دیں۔ پراجیکٹ ڈائریکٹر خالد عثمان وزیر اور کوآرڈینیٹر طفیل نے اس اہم منصوبے کے اغراض ومقاصد،ابتک اس کے ذریعے کامیاب ہونے والے طلبہ وطالبات کی تفصیلات اور فراہم کئے جانے والے تربیتی کورسز کے حوالے سے تفصیلات فراہم کیں۔ نگران وزیر کو بتایا گیا کہ پراجیکٹ کے تحت مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق ہنرمندانہ تربیت کے مختلف شعبوں جیسے مائننگ، ٹیکسٹائل،مینوپیکچرنگ وتعمیرات،ٹورزم،لائیوسٹاک وزراعت،انجینئرگ،آئی ٹی و ٹیلی کام کے بنیادی شعبوں سے جڑے ضروری تربیتی کورسز فراہم کئے جارہے ہیں۔ ان کو بتایا گیا کہ مذکورہ پروگرام کے پہلے مرحلے میں ضم اضلاع کے 302 مرد وخواتین ہنرمندوں کی تربیت مکمل ہوچکی ہے جبکہ دوسرے تربیتی مرحلے میں 445 افراد کی تربیت جاری ہے۔اس موقع پر نگران وزیر نے ہدایت کی کہ پروگرام کے تحت جیمز اینڈ جیمولوجیکل کورس کیلئے محکمہ فنی تعلیم کا حیات آباد میں واقع انسٹی ٹیوٹ کواستعمال میں لانے کیلئے ٹیوٹا کیساتھ ایم او یو سائن کیا جائے جبکہ ایسے ٹریڈز جن کے لئے فنی تعلیم کے مقامی کالجوں میں درکار سہولتیں اور انفراسٹرکچر پہلے سے موجود ہیں کو استفادہ میں لایا جائے۔نگران وزیر نے ان نجی اداروں جن سے پروگرام کے تحت تربیت کی خدمات حاصل کی جارہی ہیں کی فیس کے نرخ کی تفصیلات بھی انہیں فراہم کرنے کی ہدایت کی۔انھوں نے کہا کہ فارغ التحصیل ہنرمندوں کا روزگار شرع کرنے کیلئے ان کی مالی ضروریات کیلئے مختلف مائیکرو فنانس قرضہ سکیموں سے استفادہ اٹھانے کیلئے ان کا ڈیٹا سمال انڈسٹریز ڈویلپمنٹ بورڈ کے ذریعے اخوت فاؤنڈیشن اور بینک آف خیبر کو فراہم کیا جائے تاکہ وہ تربیت حاصل کرنے کے بعد بلا کسی تعطل باعزت روزگار شروع کرسکیں۔
نگران وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے نیب کو ترقیاتی منصوبوں میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا۔
نگران وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا جسٹس (ر) سید ارشد حسین شاہ نے ترقیاتی منصوبوں میں کام کرنے والے افسران کو پر اعتماد بنانے، ترقیاتی منصوبوں کو بروقت مکمل کرنے اور شفافیت یقینی بنانے کے سلسلے میں ایک اہم اقدام کے طور پر نیب کو پراجیکٹس سائیکل میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس مقصد کے لئے نیب کے اعلیٰ حکام کو باضابطہ مراسلہ ارسال کرنے کی ہدایت کی ہے۔ یہ فیصلہ انہوں نے منگل کے روز وزیراعلیٰ ہاو¿س پشاور میں خیبر پختونخوا اربن موبیلیٹی اتھارٹی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے 15ویں اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا ۔ نگران صوبائی وزیر برائے سائنس ٹیکنالوجی اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی ڈاکٹر نجیب اللہ کے علاوہ متعلقہ محکموں کے انتظامی سیکرٹریز، ڈی آئی جی ٹریفک پولیس، ایم ڈی اربن موبیلیٹی اتھارٹی، چیف ایگزیکٹو آفیسر ٹرانس پشاور اور دیگر بورڈ اراکین نے اجلاس میں شرکت کی۔وزیراعلیٰ نے پراجیکٹس سائیکل میں نیب کو نمائندگی دینے کے فیصلے کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ اس عمل سے ترقیاتی کاموں میں شفافیت یقینی ہوگی اور کام کرنے والے افسران کو اعتماد بھی ملے گا۔وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ کام کرنے والے افسران کو پورا اعتماد دیا جائے گا تاکہ وہ عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں پر عملدرآمد میں ہچکچاہٹ یا ڈر محسوس نہ کریں۔ وزیر اعلیٰ نے ہدایت کی کہ ترقیاتی منصوبوں سے متعلق تمام امور کو ابتدا ہی سے صاف اور شفاف رکھا جائے تاکہ مستقبل میں احتساب کے ڈر سے ترقیاتی کاموں پر عملدرآمد تاخیر کا شکار نہ ہو،اس سارے عمل سے ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل یقینی ہوگی اور ان کے ثمرات بلاتاخیر عوام تک پہنچانے میں مدد ملے گی۔اجلاس میں رواں مالی سال کے لیے اتھارٹی کے بجٹ تخمینہ جات، بی آر ٹی کے کمرشل پلازوں کی تعمیر پر پیش رفت اور دیگر اہم امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور اہم فیصلے کیے گئے۔اجلاس میں بورڈ کے غیر سرکاری ممبران کے نام تجویز کرنے کے لئے مجوزہ نامینیشن کمیٹی کی منظوری دی گئی۔ مذکورہ کمیٹی بورڈز ممبرشپ میں ضروری تبدیلیاں لانے کیلئے سفارشات پیش کرے گی اور اس مقصد کے لئے متعلقہ قانون میں ترامیم بھی تجویز کرے گی۔ اجلاس میں رواں مالی سال کے لئے خیبر پختونخوا اربن موبیلیٹی اتھارٹی کے بجٹ کی مشروط منظوری دی گئی۔
صوبائی وزیر برائے ابتدائی وثانوی اور اعلیٰ تعلیم کی زیر صدارت پی پی ایس اینڈ کالج کے بورڈ آف گورنرز کا اجلاس
صوبائی وزیر برائے ابتدائی وثانوی اور اعلیٰ تعلیم پروفیسر ڈاکٹر محمد قاسم جان نے کہا ہے کہ خصوصی منصوبہ بندی کے تحت محدود وسائل کے اندر رہتے ہوئے تعلیمی اداروں کی کارکردگی میں مزید بہتری لانے کے ساتھ ساتھ غیر ضروری احراجات کو کنٹرول کر کے کفایت شعاری کی پالیسی کے تحت تمام تر توجہ نوجوانوں کی اعلیٰ تعلیم پر دینا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ماڈل سکولز اور کالجز میں ملازمین کی ریٹائرمنٹ کے بعد نئی بھرتیاں کنٹریکٹ اور فکسڈ پے پالیسی کے تحت عمل میں لائی جائیں نیزغیر ضروری بھرتیوں کو کنٹرول کرنا ہوگا اور ضرورت کے تحت سخت فیصلے کرنے ہوں گے تاکہ اداروں کے بجٹ خساروں کو کنٹرول کیا جا سکے۔ یہ ہدایات انہوں نے پشاور پبلک سکول اینڈ کالج کے بورڈ آف گورنرز کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے جاری کیں۔ اجلاس میں سیکرٹری تعلیم معتصم باللہ شاہ، سپیشل سیکرٹری شریف حسین اور دیگر بورڈ ممبران نے شرکت کی۔ اجلاس میں کالج کے طلباء و طالبات کی فیس سٹرکچر میں اضافے کا فیصلہ بھی کیا گیا جو کہ نرسری سے کلاس پانچویں تک 3820 روپے ماہانہ، کلاس ششم سے دہم تک 4250 روپے اور گیارہویں اور بارہویں کے لیے 7150 روپے ماہانہ فیس مقرر کی گئی ہیں۔ اسی طرح کالج کے معاشی حالت کو مدنظر رکھ کر گریڈ ایک سے گریڈ 16 تک کے ملازمین کی تنخواہوں میں 20 فیصد ایڈہاک ریلیف اور گریڈ 17 اور اس سے اوپر کے لیے 25 فیصد ایڈہاک ریلیف کا اضافہ کیا گیا۔ اسی طرح فکسڈ پے اساتذہ کے لیے 30 ہزار روپے ماہانہ اور کلاس فور ملازمین کے لیے 24 ہزار روپے ماہانہ تنخواہ مقرر کی گئی۔ جبکہ حکومت کی پالیسی کے مطابق کمپیوٹر الاؤنس بھی کمپیوٹر آپریٹرز کے لیے منظور کیا گیا جبکہ شیرعالم سابقہ اسسٹنٹ سینیئر ماسٹر کے لیے میڈیکل کی مد میں 3 لاکھ 50 ہزار روپے ادائیگی کی منظوری بھی دی گئی۔ اجلاس میں یہ بھی فیصلہ ہوا کہ پوزیشن ہولڈر طلبہ و طالبات کے لیے سکالرشپس اور فیسوں میں معافی کی پالیسی بھی شروع کر دی جائے گی۔ پرنسپل کو ہدایت دی گئی کہ طلبہ اور والدین کو راغب کرنے کے لیے جامعہ داخلہ مہم اور خصوصی میڈیا مہم بھی چلائی جائے۔
نگران وزیر کی زیر صدارت ضم اضلاع میں ترقیاتی پروگرام کی تجویزات پر غور۔
خیبر پختونخوا کے نگران وزیر برائے امور ضم اضلاع،صنعت وحرفت اورفنی تعلیم ڈاکٹر عامر عبداللہ کی زیر صدارت منگل کے روز انکے دفتر میں ضم اضلاع میں محکمہ ہائے اعلی تعلیم،بحالی وآبادکاری،سماجی بہبود،صنعت، توانائی،صحت،بہبود آبادی،ہاوسنگ،سیاحت،معدنیات،قانون وانصاف،اطلاعات،اقلیتی امور اور کثیر الشعبہ جاتی ترقی کے شعبوں کیلئے ایکسلریٹڈ ایمپلمنٹیشن پروگرام کے تحت فنڈز مختص کرنے کی تجاویز کے حوالے سے اجلاس منعقد ہوا جس میں مذکورہ خصوصی ترقیاتی پیکج کے تحت آئندہ فروری تک چار مہینوں کے ترجیحی منصوبوں کیلئے مجوزہ ایلوکیشن پر غوروخوض ہوا۔اجلاس میں خیبر پختونخوا کی نگران وزیر برائے سماجی بہبود،بحالی وآبادکاری اور جیل خانہ جات جسٹس ریٹائرڈ ارشاد قیصر اور نگران وزیر اعلی کے مشیر برائے معدنیاتترقی و منصوبہ سازی اور توانائی ڈاکٹر سرفراز علی شاہ کے علاوہ سپیشل سیکر ٹری محکمہ داخلہ و قبائلی امور محمد زبیر،ڈی جی ایس ڈی یو محکمہ ترقی و منصوبہ سازی عادل سعید صافی اور تمام متعلقہ محکموں کے پلاننگ و دیگر افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں نگران وزیر کو مذکورہ شعبوں میں ضم اضلاع میں انتظامی و ترقیاتی اخراجات کیلئے مجوزہ مختص کردہ فنڈ اور اس سلسلے میں ترجیحی منصوبوں کی افادیت و اہمیت کے حوالے سے تفصیلی پریزنٹیشن دی گئی۔اس موقع پر نگران وزیر نے ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ضم اضلاع میں محکمہ سماجی بہبود کے تحت خواتین کی فلاح وبہبود کیلئے قائم مراکز کا ایک ایک سنٹر ہر تحصیل میں ہونا چاہیئے۔انھوں نے نشئی افراد کی بحالی کیلئے جاری منصوبے کیلئے بھی مناسب فنڈ مختص کرنے کی ہدایت کی۔نگران وزیر نے جنوبی وزیرستان لوئر کے صدر مقام وانا میں ریسکیو 1122 سنٹرکے ملکیتی معاملے کو حل کرنے کیلئے بھی متعلقہ حکام سے معاملہ اٹھانے کی ہدایت کی جبکہ شمالی وزیرستان میں متاثرہ کاروبار کے سلسلے میں متاثرین کی معاشی بحالی کے منصوبے کے تحت معاوضے کی جلد ادائیگی کیلئے ضروری عمل تیز کرنے کی ہدایت کی۔انھوں نے کہا کہ شاہ کس خیبرمیں ریسکیو 1122 کے مجوزہ اکیڈمی کے قیام کے سلسلے میں مجوزہ سائٹ کی اراضی کی تفصیلات وہاں پر دیگر شعبوں کے ترقیاتی منصوبوں کے حکام کیساتھ بھی واضح کئے جائیں۔نگران وزیر نے ضم اضلاع میں سب جیلوں کی ترقی اور انھیں ضروری آلات کی فراہمی کیلئے بھی مناسب رقم مختص کرنے کی ہدایت کی۔اسی طرح محکمہ اعلی تعلیم کے حکام کو ہدایت کی گئی کہ ضم اضلاع میں موزوں کالجز خصوصی طور پر زنانہ کالجز میں بی ایس پروگرام کے اجرا کیلئے رقم مختص کی جائے جبکہ باجوڑ ناوگئی کے زنانہ کالج میں کمپیوٹر سائنس سمیت تین مزید مضامین شروع کرنے کی بھی ہدایت کی گئی۔
نگران وزیر اطلاعات،ثقافت و سیاحت کی نشتر ہال پشاور میں آرٹ اینڈ ڈیزائن نمائش میں شرکت۔
خیبر پختونخوا کے نگران وزیر اطلاعات،ثقافت و سیاحت بیرسٹر فیروز جمال شاہ کاکاخیل نے کہا ہے کہ سوشل میڈیا پر منفی رویوں کا پرچار، ثقافتی اقدار پر یلغار اور اداروں کی کردار کشی نے معاشرے کو بڑا نقصان پہنچایا ہے، سوشل میڈیا کے غیر ذمہ دارانہ کردار اور سوشل میڈیا پر پروان چڑھنے والے منفی رویوں کی نفی کرنا ہوگی، ہماری تہذیب، اقدار اور معاشرے کے مثبت پہلووں کو اجاگر کرنے کی ضرورت ہے، ایسے میں نوجوانوں کا کردار نہایت اہم ہے، نوجوانوں کو ایسے منفی رویوں کا راستہ روکنا ہوگا اور دنیا کو ہماری معاشرتی اقدار اور روایات سے روشناس کرانا ہوگا، گزشتہ کئی سالوں سے سوشل میڈیا کے غلط استعمال سے نفرت کی فضاء بنائی گئی ہے، ہماری اقدار، اسلوب اور اداروں کے امیج پر حملے ہورہے ہیں، نفرت پھیلانے والوں اور ہماری تہذیب اور روایات پر یلغار کرنے والوں کو سخت سزا دینی ہے، کوہستان واقعہ میں سوشل میڈیا کا جو منفی کردار سامنے آیا ہے، تصاویر بنا کر وائرل کی گئیں جس سے اتنا بڑا واقعہ رونما ہوا، اس پر سخت کارروائی ہوگی، ایسے لوگوں کو کیفرکردار تک پہنچائیں گے، مجرموں کو سخت سزا دی جائے گی. ان خیالات کا اظہار انہوں نے نشتر ہال پشاور میں منعقدہ آرٹ اینڈ ڈیزائن نمائش کے افتتاح کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کیا۔ایک روزہ نمائش کا اہتمام خیبرپختونخوا کلچر و ٹوورزم اتھارٹی اور پشاور یونیورسٹی کے آرٹ اینڈ ڈیزائن شعبے نے مشترکہ طور پر کیا تھا. نمائش میں صوبائی نگران وزیر خزانہ احمد رسول بنگش نے بھی شرکت کی جبکہ نمائش میں طالبات کے ساتھ ساتھ شہریوں نے بھی بڑی تعداد میں شرکت کی اور یونیورسٹی طالبات کی جانب سے بنائے گئے آرٹ اور ڈیزائن کا مشاہدہ کیا. خطاب میں نگران وزیر اطلاعات و تعلقات عامہ خیبرپختونخوا بیرسٹر فیروز جمال شاہ کاکاخیل نے کہا کہ نگران وزیر برائے ضم اضلاع عامر عبداللہ ضم اضلاع کی ترقی خصوصاً نوجوانوں کے لئے بھرپور اقدامات کررہے ہیں اور فنڈ کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے کے لئے نگران صوبائی حکومت وفاقی نگران حکومت سے بھی معاملات طے کررہی ہے. انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو مواقع فراہم کرنا اولین ترجیح ہے، اور ضم اضلاع کے نوجوانوں کے لئے خصوصی اقدامات کئے جا رہے ہیں، نشتر ہال کو فعال رکھنا اس کی ایک کڑی ہے تاکہ نوجوان اس پلیٹ فارم کا استعمال کرتے ہوئے اپنی صلاحیتیں دنیا کو دکھا سکیں. کلچر و ٹوورزم اتھارٹی اور پشاور یونیورسٹی کی طالبات نے بہترین آرٹ اینڈ ڈیزائن نمائش منعقد کی جس کے لئے وہ داد کی مستحق ہیں۔
خیبر پختونخوا فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھارٹی ٹیم کوہاٹ کی لاچی بازار،ہائی وے،مین سٹی اور ملحقہ علاقوں میں کاروائیاں
فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھارٹی کے ڈپٹی ڈائریکٹر کی خصوصی ہدایات پر ٹیم کوہاٹ نے مختلف بازاروں میں خورا کی اشیاء کی انسپیکشن کی۔صفائی کے ناقص صورتحال پر دو ہوٹلوں اور گوشت شاپس پر جرمانہ عائد کیا گیاجبکہ مین سٹی میں مختلف فوڈ پوائنٹس کی چیکنگ کی گئی۔صفائی کا خیال نہ رکھنے پر کئی فوڈ پوائنٹس کو وارننگ دی گئی جبکہ ایک فوڈ پوائنٹ کو جرمانہ کیا گیا۔کوہاٹ یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں مختلف کینٹینوں کی انسپیکشن کی گئی۔صفائی کا خیال نہ رکھنے پر ایک کنٹین کو سیل کر کے جرمانہ عائد کیا گیا۔کاروائیوں کا مقصد عوام کو صاف اور محفوظ خوراک کی فراہمی یقینی بنانا ہے۔اس کے علاوہ عوامی شکایات بھی نمٹا دی گئیں۔
اینٹی بائیوٹک ادویات کے خلاف مزاحمت پر توجہ، عوام میں اگاہی کمپین کا آغاز
اینٹی بائیو ٹک ادویات کے خلاف مزاحمت یا اینٹی مائیکرو بئیل ریزسٹنس کی ا گا ہی کا ھفتہ دنیا بھر میں 18 نومبر سے 24 نومبر تک منایا گیا- اس سلسلے میں سیکرٹری لائیوسٹاک، فشریز اینڈ کوآپریٹو خیبر پختونخوا محمد اسرارکی سربراہی میں لائیو سٹاک اینڈ ڈیری ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ خیبر پختونخوا پشاورنے فلیمنگ فنڈ کنٹری گرانٹ کے اشتراک سے پشاور میں ایک سیمینار کا انعقاد کیا۔ سیمینار میں ڈاکٹر عالمزیب، ڈائر یکٹر جنرل لائیوسٹاک (توسیع)، ڈاکٹر محمد اعجاز علی ڈائریکٹر لائیو سٹاک ریسرچ اور محکمے کے دیگر سنیئر افسران نے شرکت کی۔ ڈاکٹر سید اسد علی شاہ اپیڈمیالوجسٹ نے اینٹی مائیکرو بئیل ریزسٹنس اور اس سے پیدا ہونے والے خطرات کے حوالے سے شرکاء کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ انسانوں اور جانوروں میں بے تحاشہ اور غیر معتدل اینٹی بائیوٹک ادویات کا استعمال جراثیمی بیماریوں کے علاج کو مشکل بنا دیتا ہے اور ان ادویات کی افادیت میں کمی کا باعث بنتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق اس وقت تقریبا دنیا میں سات لاکھ انسانی اموات اینٹی مائیکرو بئیل ریزسٹنس کے باعث ہو رہی ہیں۔ اس بریفنگ میں ملکی اور صوبائی سطح پراینٹی مائیکرو بئیل ریزسٹنس کے کنٹرول کرنے کے سلسلے میں کی جانے والی کوششوں پر بھی تفصیل سے روشنی ڈالی گئی۔اس موقع پر سیکرٹری لائیوسٹاک محمد اسرار نے ویٹرنری ڈاکٹروں کو اینٹی بائیوٹک ادویات کے غیر ضروری استعمال سے پرہیز کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے جانوروں کی نگہداشت کے بہتر طریقہ اور صفائی کے بہترین انتظام پر بھی زور دیا تاکہ بیماریوں میں کمی کی وجہ سے اینٹی بائیوٹک ادویات کے استعمال میں کمی لائی جاسکے۔ انہوں نے محکمہ لائیوسٹاک کے افسروں کو کسانوں میں اینٹی مائیکرو بئیل ریزسٹنس کے متعلق اگاہی دینے کی ہدایت کی۔اس حوالے سے انہوں ں نے فلیمنگ فنڈ کی جانب سے جاری کوششوں اورتکنیکی تعاون کو سراہا۔سیمنار کے آخر میں عوام الناس میں اینٹی مائیکرو بئیل ریزسٹنس کی اگاہی کے لئے آگہی واک بھی منعقد کی گئی۔
