نگراں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے معدنیات و معدنی ترقی، منصوبہ سازی و ترقی اور توانائی و برقیات ڈاکٹر سید سرفراز علی شاہ نے کان کنی سے متعلق تمام لوازمات یقینی بنانے سمیت سیفٹی امور میں غفلت برتنے والوں کیخلاف سخت اقدامات اٹھانے کیلئے ہدایات جاری کی ہیں۔یہ ہدایات انہوں نے گزشتہ روز ضلع نوشہرہ کے مختلف دیہاتوں بختی، بدرشئی اور شاہ کوٹ میں قائم کوئلے کی کانوں کا اچانک دورہ کرتے ہوئے موقع پر موجود حکام کو جاری کیں۔ اس موقع پر ضابطہ اخلاق پر عملدرآمد نہ کرنے اور بالخصوص درکار حفاظتی اقدامات سے غفلت برتنے والے متعدد لیز مالکان کو باقاعدہ نوٹسز بھی جاری کئے گئے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر سید سرفراز علی شاہ کا کہنا تھا کہ سینکڑوں فٹ گہری کوئلے کی کانوں میں کام کرنے والے مزدورں کا تحفظ بہت ضروری ہے، یہ تحفظ نہ صرف ان کے خاندانوں کے لیے ضروری ہے بلکہ اس لئے بھی کہ ان ہی کی بدولت مائننگ سیکٹر کو بھی فروغ مل رہا ہے۔ انہوں نے خیبرپختونخوا مائنز اینڈ منرلز ایکٹ پر عملدرآمد یقینی بنانے پر بھی زور دیا۔
کے ا یم یو کے زیر اہتمام ایم ڈی کیٹ ٹیسٹ خیبر پختونخوا کے 7 شہروں کے 11مراکز میں منعقد کیا گیا۔
خیبر میڈیکل یونیورسٹی پشاورکی جانب سے صوبے کے تمام سرکاری اور نجی میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں داخلے کے لیے میڈیکل اینڈ ڈینٹل سینٹرلائزڈ داخلہ ٹیسٹ ایم ڈی کیٹ صوبے کے سات مختلف شہروں پشاور،ایبٹ آباد، کوہاٹ، چکدرہ،مردان، سوات اور ڈیرہ اسماعیل خان میں کامیابی کے ساتھ منعقد کیا گیا۔ ٹیسٹ میں مجموعی طور پر 46220 طلباء و طالبات کے لیے انتظامات کیے گئے تھے۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا جسٹس)ر(ارشاد قیصر اور گورنر حاجی غلام علی نے بذات خود امتحانی مراکز کا دورہ کیا اور مکمل اطمینان کا اظہار کیا۔ انہوں نے کے ا یم یو، صوبائی حکومت اور سیکورٹی ایجنسیوں کے درمیان اب تک کی بہترین مربوط کوششوں کو سراہا۔چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا ندیم اسلم چودھری، مشیر برائے صحت، ایڈیشنل چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا عابد مجید، کمشنر پشاور مسٹر زبیر اور ڈپٹی کمشنر پشاور نے تمام امتحانی مراکز اور کے ایم یو کنٹرول سنٹر کا دورہ کیا۔ انہوں نے ٹیسٹ کے انعقاد کے لیے بنائے گئے پورے انتظامات پر مکمل اطمینان کا اظہار کیا۔
ڈاکٹر ریاض انور نے ڈاکٹر ضیاء الحق وی سی کے ایم یو، کے ایم یو کے تمام سٹاف ممبران، چیف سیکرٹری خیبر پختون خوا، ایڈیشنل چیف سیکرٹری ہوم، ڈویژنل اور اسسٹنٹ کمشنرز، آر پی اوز، ڈی پی او اور سیکیورٹی ایجنسیوں کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ٹیسٹ کا صاف اور شفاف طریقے سے انعقاد صوبے کے لئے چیلنج تھا۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ داخلہ اور دیگر اداروں کے فول پروف انتظامات اور سیکورٹی پلان کے باعث امتحان انتہائی پرامن ماحول میں منعقد ہوا اور کہیں سے بھی کسی قسم کے ناخوشگوار وقوعہ یا شکایت موصول نہیں ہوئی۔ تمام مراکز کے داخلی راستوں پر واک تھرو گیٹ لگائے گئے تھے اور میٹل ڈیٹیکٹر کے ذریعے باقاعدہ تلاشی لی گئی۔ بم ڈسپوزل سکواڈز اور سیکیورٹی ایجنسیوں نے بھی تمام مراکز پر فرائض سرانجام دیئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ مرحوم وزیر اعلیٰ کے پی اور موجودہ وزیر اعلیٰ کے پی کی منظوری اور رہنمائی کے بغیر کبھی ممکن نہیں تھا۔
صوبے کے ہر امتحانی مرکز کے لیے صوبائی سیکریٹری بھی تفویض کیے گئے تھے، جن میں اصغر علی، محمود حسن، عامر سلطان ترین، محمد داؤد خان، نذر حسین، ذوالفقار علی شاہ اور مسعود احمد اورمحمد طاہر اورکزئی شامل ہیں۔ ایڈیشنل چیف سیکرٹری ہوم کے پی نے پورے صوبے میں ایم ڈی کیٹ کی پوری تیاری کی سربراہی کی۔ واضح رہے کہ ہر امتحانی سنٹر میں بیس طلبہ کے لیے ایک نگراں تعینات کیا گیا تھا۔ طلباء کی تین جگہوں پر تلاشی لی گئی تاکہ امتحان کے اندر کوئی موبائل فون یا کوئی اور الیکٹرانک ڈیوائس نہ لے جائے۔ ہر امتحانی مرکز پر موبائل فون کے سگنل بند کر دیے گئے تھے اور امتحانی مرکز سے کچھ فاصلے پر بچوں کے والدین کو بیٹھنے اور پارکنگ کی سہولت فراہم کی گئی تھی۔ امتحانی مراکز کے پرچے کے ایم یو کے دو پروفیسرز اور ایک اسسٹنٹ کمشنر کی نگرانی میں امتحانی مرکزمنتقل کیے گئے۔ مذکورہ ٹیسٹ کے نتائج کا اعلان ایک انتہائی شفاف طریقہ کار کے تحت دو سے تین دن کے اندر کر دیا جائے گا، جبکہ متعلقہ طلباء کی جوابی بلبل شیٹ کاپی کے ساتھ پیپر کی ساتھ 24 گھنٹے کے اندر کے ا یم یو کی ویب سائٹ پر اپ لوڈ کر دی جائے گی جہاں سے طلباء اپنا نتیجہ خود چیک کر سکتے ہیں۔
قبل ازیں پاکستان اور میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کے افسران نے امتحانی مراکز کا دورہ کیا اور کے ایم یو اور صوبائی حکومت کی جانب سے کیے گئے انتظامات پر اطمینان کا اظہار کیاگیا۔ گورنر خیبرپختونخوا نے بھی پشاور کے امتحانی مراکز کا دورہ کیا اور امتحان کے کامیاب انعقاد پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کے ایم یو انتظامیہ اور صوبائی حکومت کے انتظامات اور اقدامات کی تعریف کی۔
نگران وزیر خیبرپختونخوا کا بلک واٹر سپلائی پراجیکٹ کا دورہ، میگا پراجیکٹ کا اہم اعلان
خیبرپختونخوا کے نگران وزیر برائے آبنوشی وبلدیات انجینئر عامر ندیم درانی نے گزشتہ روز بلک واٹر سپلائی پراجیکٹ شکر درہ اوررحمان آباد کوہاٹ کا دورہ کیا۔سیکرٹری پی ایچ ای شاہد سہیل خان،چیف انجینئرپی ایچ ای (ساؤتھ) ولایت اللہ،سپرنٹنڈنگ انجینئر خان محمدخان، ایکسیئن فیصل نعمان،ایکسیئن پی ایچ ای کرک انجینئر افتخار احمداورچیف ایگزیکٹیو آفیسر انجینئر سلیم برگ کے علاوہ دیگر متعلقہ حکام بھی صوبائی وزیر کے ہمرا تھے۔ واضح رہے کہ اس میگا پراجیکٹ کی کل تخمینہ لاگت 2085 ملین روپے ہے جوکہ مالی سال18-2017 میں شروع ہو ااورجس سے مجموعی طورپر تقریباً ایک لاکھ آبادی کو پینے کا صاف پانی گھروں کی دہلیز پر فراہم ہوگا۔ منصوبے کی مرکز ی پائپ لائن کی لمبائی تقریباً 60 کلومیٹر ہے۔ منصوبے کے کل 8 سولرائزڈ ڈسٹریبیوشن پوائنٹس ہیں اوراس میگا پراجیکٹ کی تکمیل آئندہ جون2024 تک متوقع ہے۔ مختلف ڈسٹریبیوشن پوائنٹس کے دور ے کے موقع پر متعلقہ ایکسیئن نے نگران صوبائی وزیر کو منصوبے سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔ آخر میں رحمان آباد سورس پمپنگ سٹیشن میں مقامی لوگوں نے صوبائی وزیر کا پرتپاک استقبال کیا اورمنصوبے سے متعلق عوام کی ضروریات سے انہیں آگاہ کیا۔ نگران صوبائی وزیر نے اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے یقین دلایا کہ یہ ایک میگا پراجیکٹ ہے اوراس پر علاقے کے تمام لوگوں کا برابر حق ہے جس سے انہیں کسی صورت محروم نہیں رکھا جائیگا۔ علاوہ ازیں نگران صوبائی وزیر نے متعلقہ حکام کو تاکید کی کہ حکومت عوام کو پانی جیسی بنیادی نعمت کی فراہمی کیلئے اس منصوبے پر خطیر رقم خرچ کررہی ہے۔لہٰذا اس کی بروقت تکمیل متعلقہ افسران کی اہم ذمہ داری ہے۔صوبائی وزیر نے مختلف ڈسٹریبیوشن پوائنٹس پر پودے بھی لگائیں۔
صنعتی ترقی اور بحالی کیلئے فنڈز کا اجرا جاری، 20 ہزار افراد کو روزگار کی فراہمی کیلئے اقدامات جاری۔
خیبر پختونخوا کے نگران وزیر برائے صنعت وحرفت،فنی تعلیم اور امور ضم اضلاع ڈاکٹر عامر عبد اللہ نے جمعرات کے روز اسلام آباد میں نگران وفاقی وزیر تجارت اورصنعت و پیداوار گوہر اعجاز سے ملاقات کی اور انکے ساتھی باہمی دلچسپی کے امور خصوصی طور پر صنعتی ترقی اور صوبے میں وفاقی حکومت کے بعض غیر فعال صنعتی مراکز کی دوبارہ بحالی کے امور پر تبادلہ خیال کیا۔نگران صوبائی وزیر نے ملاقات کے دوران وفاقی وزیر سے سوات میں سمیڈا کے تحت وفاقی حکومت کے قائم کردہ شہد کی پروسسنگ پلانٹ کے مالی مسائل کو حل کرکے اسے دوبارہ فعال کرنے کا معاملہ اٹھایا۔انھوں نے اس موقع پر سوات میں فروٹس کو دیرپا محفوظ اور خشک کرنے کیلئے وفاقی حکومت کے قائم کردہ بند پلانٹ کی بحالی کیلئے اقدامات اٹھانے کی بھی گزارش کی جبکہ اسلام پور سوات میں اونی کپڑے کی تیاری کے بند سنٹر کو بھی چالو کرنے کیلئے فنڈ کے اجرا کیلئے بندوبست کرنے کا معاملہ اٹھایا۔نگران وزیر نے اس موقع پر وفاقی وزیر سے ان منصوبوں کی دوبارہ فعالیت جو فنڈز کی عدم دستیابی کی وجہ سے بند پڑے ہیں کیلئے درکار فنڈ جاری کرنے کی استدعا کی تاکہ یہ دوبارہ بحال ہوکر اپنی پروڈکشن شروع کریں۔انھوں نے اس موقع پر کہا کہ اگر وفاقی حکومت اس سلسلے میں فنڈ کا اجرا نہیں کرسکتی تو ان مراکز کو صوبے کے حوالے کیا جائے تاکہ ان کو جلد از جلد بحال کرکے پیداوار شروع کرنے کیلئے کار آمد بنایا جاسکے۔واضح رہے کہ ان منصوبوں کی بحالی سے تقریبا 20 ہزار افراد کو روزگار مہیا ہوسکے گا۔
رائٹ ٹو پبلک سروسز کمیشن میں جمعرات کے روز چھ عوامی شکایات کی شنوائی ہوئی
رائٹ ٹو پبلک سروسز کمیشن میں جمعرات کے روز چھ عوامی شکایات کی شنوائی ہوئی. تین رکنی بینچ نے عوامی شکایات سنیں. حسن ناصر نامی شہری نے کمیشن کو درخواست دی تھی کہ حلقہ پٹواری احمد خیل, انعام اللہ نہ صرف جائیداد کی فرد دینے سے انکاری ہے بلکہ رشوت بھی مانگ رہا ہے اور اس نے بزرگ والد کی بے عزتی بھی کی ہے جس پر کمیشن نے اسسٹنٹ کمشنر, تحصیلدار اور حلقہ پٹواری کو تمام ریکارڈ سمیت کمیشن کے سامنے پیش ہونے کے احکامات جاری کر دیئے۔72 سالہ ریٹائرڈ بزرگ شہری جمیل افریدی نے کمیشن کو شکایت کی تھی کہ ڈبلیو ایس ایس پی پانی کا کنکشن منقطع کرنے کے باوجود بار بار پیسے وصول کر رہی ہے. منیجر فائنانس کمیشن کے سامنے پیش ہوئے. کمیشن نے احکامات جاری کر دیئے کہ غفلت برتتے والے اہلکار کو شوکاز نوٹس جاری کر دئے جائے اور ایسی جگہ تعینات کر دیا جائے جہاں عوام کے ساتھ ڈیل کرنا نہ ہو. مزید برآں شہری کو 2020 کے بعد تمام بلز واپس کر دئیے جائیں اور سی یی او اگلی سنوائی پر کمیشن کے سامنے پیش ہو جائے. ایبٹ آباد سے سردار علی نامی شہری نے گاڑی کی چوری کی ایف آئی آر درج نہ کرنے کے خلاف درخواست دائر کی تھی. شہری نے تمام ثبوت بشمول سی سی ٹی وی فوٹیج کمیشن کے سامنے پیش کر دیئے. کمیشن نے ڈی پی او کو چودہ دنوں کے اندر ایف آئی آر درج کر کے کمیشن کو آگاہ کرنے کے احکامات دیئے. حنیف اللہ نامی افغان شہری اور یاسر خان نے لوئر دیر سے ایس ایچ او تھانہ خال کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ بننے کی شکایت کی تھی. کمیشن نے ڈی ایس پی انوسٹیگیشن کو طلب کیا تھا جو کہ سرکاری مصروفیات کے باعث پیش نہیں ہو سکے. ایس ایچ او تھانہ خال تمام ریکارڈ سمیت کمیشن کے سامنے حاضر ہوئے. کمیشن نے اگلی سنوائی پر متعلقہ ڈی ایس پی کو طلب کر لیا. چترال سے محمد واجد نے فرد کے حصول کیلئے کمیشن کو درخواست دی تھی. حلقہ تحصیلدار اور نائب تحصیلدار کمیشن کے سامنے پیش ہوئے اور بتایا کہ ریکارڈ درستگی کا کیس عدالت میں چل رہا ہے. کمیشن نے تمام موجودہ ریکارڈ کی کاپیاں شہری کو مہیا کرنے کے احکامات دیئے. ایاز علی نے صوابی سے ہسپتال کے سیکورٹی آفیسر کے خلاف ایف آئی آر درج نہ کرنے کی شکایت کمیشن کو کی تھی. شہری کا کہنا ہے کہ آفیسر نے انہیں تشدد کا نشانہ بنایا جبکہ پولیس ایف آئی آر درج نہیں کر رہی. کمیشن نے ڈی پی او مردان کو ایک مہینے کے دوران شہری کو سننے اور ایف آئی ار رجسٹر کروانے کی ہدایت جاری کر دیں. کمیشن نے اپنے اعلامیہ میں کہا کہ خدمات تک بروقت رسائی ہر شہری کا بنیادی حق ہے. نوٹیفایڈ خدمات تک بروقت رسائی میں کسی بھی سرکاری اہلکارکی کوتاہی قانون کے تحت قابل تعزیرجرم ہے۔ بنیادی خدمات کی حصول کیلئے شہری کمیشن سے رجوع کرے۔
خیبر پختونخوا انفارمیشن کمیشن اور بلیو وینز کے درمیان مفاہمت کی یاداشت پر دستخط ہو گئے۔
خیبر پختونخوا انفارمیشن کمیشن اور بلیو وینز کے درمیان مفاہمت کی یاداشت پر دستخط ہو گئے۔ دونوں اداروں کے درمیان معاشرے کے پسماندہ اور نظر انداز طبقے خاص کر خواتین، خواجہ سراؤں، اور اقلیتوں کو معلومات تک رسائی کے قانون اور اس کے فوائد سے متعلق آگاہی دینے اور تعاون کو آگے بڑھانے پر اتفاق ہوا۔ مفاہمت کی یاداشت پر خیبر پختونخوا انفارمیشن کمیشن کی چیف انفارمیشن کمیشنر محترمہ فرح حامد خان، اور بلیو وینز کے ڈائریکٹر جناب قمر نسیم نے دستخط کئے۔ اس موقع پر خیبر پختونخواہ انفارمیشن کمیشن کے سیکرٹری انیس الرحمٰن، ڈپٹی ڈائریکٹڑ کمیونیکیشن سید سعادت جہاں، ڈپٹی رجسٹرار ناظم شہاب قمر، ڈپٹی ڈائریکٹر آئی ٹی طاہر اور ایڈمینسٹریٹیو آفیسر نور سید کے ساتھ ساتھ بلیو وینز کی مانیٹرینگ اینڈ ایولوشن آفیسر زرتاشہ عابد اور لیزان آفیسر ایوب خان بھی موجود تھے۔ مفاہمت کی یاداشت کے تحت، خیبر پختونخوا انفارمیشن کمیشن اور بلیو وینزکے مشترکہ تعاون کے ساتھ خیبر پختونخوا کے مخصوص اضلاع یعنی پشاور،مردان، ہری پور، نوشہرہ، چارسدہ، صوابی، ملاکنڈ، دیر لوئر،چترال، ڈی آئی خان، خیبر اور کرم میں معلومات تک رسائی کے قانون سے متعلق عوام کی آگاہی کیلئے اقدامات اٹھائے جائینگے۔ جن میں اس اقانون سے متعلق آگاہی سیمینارز،ٹریننگز، آگاہی بینرز کی تنصیب،اور سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز پر آگاہی ویڈیوز چلانا شامل ہیں۔ اس کے علاوہ بلیو وینز دیگر شراکت داروں کے ساتھ میٹنگ کرنے کے لیے کمیشن کی مدد بھی کرے گی تاکہ معلومات تک رسائی کے پیغام کو صوبے کے کونے کونے تک پہنچایا جا سکے۔مفاہمت کے تحت دونوں ادارے توقع کرتے ہیں کہ معلومات کے آزادانہ بہاؤ سے شفاف اور جوابدہ طرز حکمرانی کو یقینی بنانے میں مدد ملے گی، جو خیبر پختونخوا میں لوگوں کو بااختیار بنانے کا باعث بنے گی۔
نگران وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کی کابینہ اجلاس تعلیم، ملازمتیں، اور عوامی سہولتوں میں ترقی کے لیے اہم فیصلے
خیبر پختونخوا کی نگران کابینہ کا اجلاس وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا جسٹس(ر) سید ارشد حسین شاہ کی زیر صدارت جمعرات کے روز پشاورسول سیکرٹریٹ میں منعقد ہوا جس میں نگران کا بینہ کے اراکین اور چیف سیکرٹری، ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ کے علاوہ متعلقہ انتظامی سیکرٹریوں اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔اجلاس کے آغازمیں سابق نگراں وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا مرحوم محمد اعظم خان کے لئے فاتحہ خوانی کی گئی اور صوبے، ملک ا ور قوم کے لئے ان کی خدمات کو خراج عقیدت پیش کیا گیا۔صوبائی کابینہ نے نئے ضم شدہ اضلاع میں ششم سے بارویں جماعت تک کی طالبات کے لیے ماہانہ وضائف کے پروگرام کی سال 2025 تک توسیع کی منظوری دی۔ منصوبے کے تحت سال 2023 میں 32833 طالبات، سال 2024 میں 37758 اور سال 2025 میں 43422 طالبات کو وظائف دیے جائیں گے۔ منصوبے کی کل تخمینہ لاگت 940.5 ملین روپے ہوگی۔صوبائی کابینہ نے وظائف کی ادائیگی کو طالبات کی کارکردگی اور امتحانات کے نتائج سے مشروط کرنے کی تجویز کی بھی منظوری دی۔وظائف کے حصول کے لیے طالبات کی 70 فیصد حاضری ضروری ہوگی۔اجلاس میں نگران کابینہ نے ضلع خیبر کی تحصیل جمرود کی تحصیل بلڈنگ کے احاطے میں 2 کنال اراضی کو وفاقی حکومت کے اداروں کے دفاتر اور رہائشی عمارت بنانے کے لئے وفاقی ادارے کو فراہم کرنے کی منظوری بھی دی۔ کابینہ نے قیدیوں اور جیل خانہ جات کے ملازمین کے لیئے بہبود فنڈ قائم کرنے کی بھی منظوری دی۔ کابینہ نے مذکورہ فنڈ کیلئے رولز کی بھی منظوری دی۔اس اقدام کے تحت قیدیوں کو ہنر سکھلانے اور انہیں مالی طور پر خوشحال بنانے کے لئے جیلوں میں بنائی گئی مصنوعات کی آمدن سے قیدیوں کو 30فیصد حصہ دیا جائے گا جس سے وہ جیل سے رہائی کے بعد کاروبار شروع کرسکیں گے۔ فنڈ قیدیوں اور جیل خانہ جات کے ملازمین کی رقوم سے قائم ہوگا اور اس پر حکومت کا کوئی خرچہ نہیں ہوگاجبکہ اس کیلئے سیکرٹری داخلہ کی سربراہی میں ایک ایگزیکٹیو کمیٹی بنائی جائیگی جو سال میں 2 دفعہ اجلاس منعقدکرے گی۔کابینہ نے رواں سال کے لیئے شوگر کین اور شوگر بیٹ کنٹرول بورڈ میں کاشتکاروں کی نمائندگی کے لئے ضلع پشاور، مردان اور ڈی آئی خان کے اضلاع سے نمائندوں کے ناموں کی بھی منظوری دی۔
نگران وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے آسٹریلین ہائی کمشنر کی قیادت میں وفد کی پاکستان میں ملاقات
نگران وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا جسٹس (ر)سید ارشد حسین شاہ سے جمعرات کے روز پاکستان میں تعینات آسٹریلین ہائی کمشنر نیل ہاکنز کی قیادت میں ایک وفد نے وزیراعلیٰ ہاوس پشاور میں ملاقات کی ۔ ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور اور دو طرفہ تعلقات و تعاون پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا ۔ آسٹریلین ہائی کمشنر نے سید ارشد حسین شاہ کو صوبے کی نگران وزرات اعلیٰ کا منصب سنبھالنے پر مبارکباد پیش کی اور نیک خواہشات کا اظہار کیا ۔ نگران وزیراعلیٰ نے آسٹریلین کرکٹ ٹیم کے ورلڈ کپ جیتنے پر آسٹریلین ہائی کمشنر نیل ہاکنز کو مبارکباد دی ۔نگران وزیراعلیٰ نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صوبے کے عوام کی زیادہ سے زیادہ خدمت اور بہتر طرز حکمرانی نگران صوبائی حکومت کی ترجیحات میں سرفہرست ہے ، عوامی خدمات کی فراہمی کے عمل کو بہتر بنانے کے لئے اقدامات کئے جارہے ہیں اور اس مقصد کے لئے نگرانی کے نظام کو مو¿ثر بنایاجارہا ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ اقلیتی کمیونٹی ہمارے معاشرے کا ایک اہم حصہ ہے ، خیبرپختونخوا میں بسنے والی اقلیتوں کی فلاح و بہبود اور ان کے تحفظ کے لئے ترجیحی بنیادوں پر کام کر رہے ہیں۔نگران وزیراعلیٰ نے صوبے میں غیر قانونی غیر ملکیوں کے انخلاءکے بارے میں بتایا کہ خیبرپختونخوا سے غیر قانونی غیر ملکیوں کے انخلاءکا عمل خوش اسلوبی سے جاری ہے جبکہ صوبائی حکومت اپنے وطن واپس جانے والے غیر ملکیوں کو ہر قسم کی معاونت اور سہولیات فراہم کر رہی ہے۔ ارشد حسین شاہ کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا حکومت صوبے کے مختلف سماجی شعبوں میں آسٹریلین حکومت کے تعاون کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے ، امید ہے کہ دونوں حکومتوں کے درمیان تعاون کا یہ سلسلہ آئندہ بھی جاری رہےگا۔ آسٹریلین ہائی کمشنر نیل ہاکنز نے اپنی گفتگو میں کہا کہ آسٹریلیا اور پاکستان کے مابین دیرینہ اور دوستانہ تعلقات قائم ہےں ۔ آسٹریلین حکومت پاکستان میں استحکام ، ترقی اور خوشحالی کی خواہاں ہے۔ چیف سکرٹری خیبرپختونخوا ندیم اسلم چوہدری اور دیگر متعلقہ حکام بھی اس موقع پر موجود تھے۔
نگران وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے لیڈی ریڈنگ ہسپتال اور علاقہ فقیر آباد کا اچانک دورہ
نگران وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا جسٹس( ر) سید ارشد حسین شاہ نے منگل کے روز لیڈی ریڈنگ ہسپتال پشاوراور علاقہ فقیر آباد کا اچانک دورہ کیا۔ وزیراعلیٰ نے ایل آر ایچ کے دورہ کے دوران ہسپتال میں زیر علاج مریضوں کی عیادت اورتیمارداروں سے ملاقات کی اور ہسپتال میں فراہم کی جانے والی سہولیات کے بارے میں دریافت کیا۔ نگران صوبائی وزراءانجنیئر احمد جان، انجنیئر عامر ندیم درانی ، چیف سیکرٹری ندیم اسلم چوہدری، کمشنر پشاور محمد زبیر ، سی سی پی او پشاورسید اشفا ق انوربھی وزیراعلیٰ کے ہمراہ تھے۔ وزیراعلیٰ ایل آر ایچ کے جنرل اوپی ڈی ، سرجیکل اور میڈیکل یونٹس گئے جہاں انہوں نے زیر علاج مریضوں کے تیمارداروں کی شکایات سنیں اور ان کے فوری ازالے کے لئے ہسپتال انتظامیہ کو احکامات جاری کئے۔ نگران وزیراعلیٰ نے ہسپتال انتظامیہ کو مریضوں کو بلاتعطل ادویات کی فراہمی یقینی بنانے کی ہدایت کی اور کہا کہ ہسپتال میں زیر علاج مریضوں کے علاج معالجے میں کوئی کسر نہ چھوڑی جائے۔ بعد ازاں وزیراعلیٰ نے صوبائی دارالحکومت پشاور کے علاقہ فقیر آباد کے دورہ کے دوران نہر کی ناقص صفائی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ذمہ داران کے خلاف انکوائری کا حکم دیا ۔وزیراعلیٰ نے دورے کے فوری بعدہنگامی اجلاس منعقد کیا جس میں انہوں نے نہروں کی دیکھ بھال اور صفائی صورتحا ل پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ صوبائی وزیراور انتظامی سیکرٹری کو نہروں کی دیکھ بھال اور مرمت کے کاموں کی خود نگرانی کرنے کی ہدایت کی اور کہا کہ تمام وزراءاورانتظامی سیکرٹریز اپنے اپنے محکموں سے متعلق امور کی نگرانی کے لئے باقاعدگی سے فیلڈ وزٹ کریں ۔ نگران وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ صوبائی محکموں کے معاملات میں بد انتظامی اور غفلت کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائیگا، وہ خود باقاعدگی سے وزٹ کرکے معاملات کا جائزہ لیں گے، اس سے پہلے سیکرٹریز فیلڈ میں جاکر اپنے متعلقہ محکموں کے معاملات ٹھیک کر لےں اگر وزٹ کے دوران کوئی غلطی یا کوتاہی سامنے آئی تو متعلقہ محکمے کا سیکرٹری ذمہ دار ہوگا۔
نگران صوبائی وزیر کی سابق نگران وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا مرحوم کی قبر پر فاتحہ خوانی
خیبر پختونخوا کے نگران صوبائی وزیربیرسٹر فیروز جمال شاہ کاکاخیل نے سابق نگران وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا مرحوم اعظم خان کی قبر پر فاتحہ خوانی کے لئے چارسدہ کا دورہ کیا. چارسدہ کے قدیم ترین قبرستان میں مرحوم اعظم خان کی قبر پر حاضری دیتے ہوئے انہوں نے رب العالمین کے حضور مرحوم کے ایصال ثواب اور درجات کی بلندی کے لئے خصوصی دعا کی. انہوں نے مرحوم کے قبر پر پھولوں کی چادر بھی چڑھائی. چارسدہ کے دورے کے موقع پر ڈپٹی کمشنر چارسدہ عدنان فرید بھی ان کے ہمراہ تھے. قبر پر فاتحہ خوانی کے بعد سابق نگران وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد اعظم خان مرحوم کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مرحوم اعظم خان وہ شخصیت تھے جنہوں نے مملکت پاکستان اور خیبرپختونخوا صوبے کی نصف صدی پر محیط عرصے تک بے لوث خدمت کی، انہوں نے کہا کہ نگران حکومت کے قیام سے لے کر فانی دنیا سے انتقال تک وہ نہایت متحرک رہے، اپنی قائدانہ صلاحیتوں اور دانش و فہم کی بنیاد پر صوبے کا انتظام احسن طریقے سے انجام دیا، قلیل عرصے میں صوبے کے مالی و انتظامی امور میں شفافیت لے کر آئے اور میرٹ کی بالادستی قائم کی. انہوں نے کہا کہ مرحوم اعظم خان ایک بہترین انسان تھے اور ملک اور صوبے کے لئے ان کے گراں قدر خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گ
